31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 31:1–5

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکو کاروں کے لئے ہدایت اور رحمت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

سورة لقمان آیت نمبر : 1 ۔ 5 اللہ تعالیٰ ان (ایت الکتب الحکیم) ” حکمت والی کتاب کی آیات “ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف ‘ اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں : (1) یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ (2) یہ آیات تغیر و تبدل ‘ کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔ (3) ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی ‘ حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں ‘ جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔ (4) ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔ (5) قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ ‘ اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں ‘ اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت جزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ (6) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات ‘ اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے ‘ مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غور و فکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے ‘ اس کو یقین ہوجاتا ہے ‘ جس میں شک و ریب کا کوئی شائبہ نہیں ‘ کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ وہ حکمت سے لبریز ہے ‘ وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے ‘ مگر اکثر لوگ اس کی رہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کرکے روگردانی سے بچایا۔ وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ پس یہ قرآن انہی کے لیے (ھدی) ” ہدایت ہے “ راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انہیں بچاتا ہے (ورحمۃ) اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انہیں دنیا و آخرت کی سعادت ‘ خیر کثیر ‘ ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہوجاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان ” محسنین “ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا : وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں ‘ جو اخلاص ‘ اللہ تعالیٰ سے مناجات ‘ قلب و زبان اور جوارح کے تعبد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے ‘ نیز زکوٰۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکوٰۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے ‘ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ زکوٰۃ سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔۔۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ (اولئک) یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں (علی ھدی) ” ہدایت پر ہیں “ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ” ہدایت “ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ (من ربھم) ” اپنے رب کی طرف سے۔ “ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت ‘ جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے ‘ اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیا پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ (والئک ھم المفلحون) ” اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں “ جنہوں نے اپنے رب کی رضا ‘ اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پالیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے ‘ جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنہوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی ‘ تو اس کے بعد ‘ ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کرکے ‘ بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا ‘ اسی لیے فرمایا :
Ayahs 31:6–9

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بےہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے راستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزا کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

آیت نمبر : 6 ۔ 9 (ومن الناس من) ” اور لوگوں میں سے جو “ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے (یشتری) ” خریدتا ہے “ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے (لھو الحدیث) ” لغو باتیں “ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام ‘ ہر قسم کی لغویات ‘ ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں ‘ ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں ‘ غیبت ‘ چغلی ‘ جھوٹ ‘ سب و شتم ‘ شیطانی گانا بجانا اور غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں ‘ جن کا دین و دینا میں کوئی فائدہ نہیں ‘ داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ (لیضل) تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے (عن سبیل اللہ بغیر علم) ” بغیر علم کے اللہ کی راہ سے “ یعنی اپنے فعل میں خؤد گمراہی کا راستہ اختیار کرکے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے۔ اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد کا فائدہ مند بات ‘ عمل نافع ‘ حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔ جب ایسے شخص میں باطل کی مدح ‘ اس کی ترغیب ‘ حق میں جرح و قدح ‘ حق اور اہل حق کے ساتھ استہزاء و تمسخر اکٹھے ہوجاتے ہیں تو وہ بےعلم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے ‘ جس میں گمراہ شخص امتیاز کرسکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کرسکتا ہے (اولئک لھم عذاب مھین) ” ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے “ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے ‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی ‘ اس لیے فرمایا : (واذا تتلی علیہ ایتنا) ” جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں “ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے (ولی مستکبراً ) تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کرکے چل دیتا ہے (کان لم یسمعھا) ” جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو “ بلکہ (کان فی اذنیہ وقرا) ” گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو “ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو ‘ لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ (فبشرہ) ” پس اس کو بشارت دے دیجئے۔ “ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کردے اور اس کے چہرے پر بدحالی ‘ اندھیرا اور گرد و غبار چھا جائیں۔ (بعذاب الیم) ” دردناک عذاب کی “ جو قلب و بدن کے لیے بہت دردناک ہے جس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کو جانا جاسکتا ہے۔ یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا : (ان الذین امنوا وعملوا الصلحت) ” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے۔ “ یعنی جنہوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا (لھم جنت النعیم) ” ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔ “ انہوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ (خلدین فیھا) وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں ‘ جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں ‘ ہمیشہ رہیں گے۔ (وعداللہ حقا) ” اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ “ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدیل ممکن نہیں (وھو العزیز الحکیم) وہ کامل غلبے اور کامل حکمت کا مالک ہے یہ اس کا غلبہ اور حکتم ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا ‘ جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہوگیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔
Ayahs 31:10–11

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دئیے تاکہ تم کو ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے اور ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر (اس سے) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

آیت نمبر : 11 ۔ 10 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنی قدرت کے کچھ آثار ‘ اپنی حکمت کی کچھ انوکھی چیزیں اور اپنی رحمت کے آثار میں سے کچھ نعمتوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے : (خلق السموٰت) اس نے ساتوں آسمانوں کو ان کی عظمت ‘ ان کی وسعت ‘ ان کی کثافت اور ان کی ہولناک بلندیوں کے ساتھ پیدا کیا (بغیر عمد ترونھا) ان کو سہارا دینے کے لیے کوئی ستون نہیں۔ اگر کوئی ستون ہوتا تو ضرور نظر آتا۔ آسمان صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ (والقی فی الارض رواسی) ” اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے۔ “ یعنی بڑے بڑے پہاڑ ‘ جن کو زمین کے کناروں اور گوشوں میں گاڑ دیا تاکہ زمین (تمیدبکم) ” تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔ “ اگر یہ مضبوطی سے گاڑے ہوئے پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ڈھلک جاتی اور اپنے بسنے والوں کے ساتھ استقرار نہ پکڑتی۔ (وبث فیھا من کل دآبۃ) اس وسیع زمین میں تمام اصناف کے حیوانات پھیلائے جو انسانوں کے مصالح و منافع کے لیے مسخر ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر حیوانات پھیلائے تو اسے معلوم تھا کہ ان حیوانات کے زندہ رہنے کے لیے رزق بہت ضروری ہے اس لیے اس نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا۔ (فانبتنا فیھا من کل زوج کریم) ” اور زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگا دیے۔ “ یعنی خؤش منظر ‘ نفع مند نباتات جن میں زمین کے اندر پھیلے ہوئے حیوانات چرتے ہیں اور ان کے نیچے تمام حیوانات سکون حاصل کرتے ہیں۔ (ھذا) ” یہ “ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوق ‘ جمادات و حیوانات اور تمام مخلوقات کے لیے رزق رسانی (خلق اللہ) ” اللہ کی تخلیق ہے “ جو وحدہ لاشریک ہے ‘ جس کا سب اقرار کرتے ہیں حتیٰ کہ اے مشرکو ! تم بھی اقرار کرتے ہو۔ (فارونی ماذا خلق الذین من دونہ) ” پس مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو معبود (خود ساختہ شریک) ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ “ یعنی جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے ‘ جن کو تم اپنی حاجتوں میں پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ ان کی بھی کوئی تخلیق ہوجیسی اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے ‘ ان کے یہ خود ساختہ معبود بھی رزق عطا کرتے ہوں جیسے اللہ تعالیٰ رزق رسانی کرتا ہے۔ اگر تمہارے خود ساختہ معبودوں نے ان میں سے کوئی کام کیا ہے تو مجھے بھی دکھاؤ تاکہ تمہارا ان کے بارے میں یہ دعویٰ ثابت ہو کہ وہ عبادت کے مستحق ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں دکھا سکتے جو ان باطل معبودوں کی تخلیق ہو کیونکہ مذکورہ تمام اشیاء کے بارے میں وہ اقرار کرچکے ہیں کہ وہ اللہ وحدہ کی تخلیق کردہ ہیں اور ان اشیاء کے علاوہ وہاں کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ لہٰذا وہ کسی ایسی چیز کو ثابت کرنے سے عاجز ہیں جو عبادت کی مستحق ہو۔ ان کا ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا کسی علم اور بصیرت پر مبنی نہیں بلکہ جہالت اور گمراہی کی بنا پر ہے ‘ اس لیے فرمایا : (بل الظلمون فی ضلل مبین) ” بلکہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔ “ یعنی جو بالکل صاف ‘ ظاہر اور واضح ہے کیونکہ وہ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی نفع کی مالک ہیں نہ نقصان کی ‘ جن کے قبضۂ قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں۔۔۔ اور ان لوگوں نے اپنے خالق اور رازق کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیا جو تمام امور کا مالک ہے۔
Ayahs 31:12–19

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ خدا کا شکر کرو اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کے آنا ہے

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے راستے پر چلنا پھر تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں خدا اس کو (قیامت کے دن) لا موجود کرے گا کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی ہے

آیت نمبر : 12 ۔ 19 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ‘ ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے ‘ مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت ‘ تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ علم کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطا و بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے ‘ نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے ‘ جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بےنیاز اور قابل ستائش ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بےنیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے ‘ اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے۔ اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف ‘ صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔ اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اس نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انہوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا : (واذ قال لقمن لابنہ وھو یعظہ) ” اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا “ یا انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انہوں نے اسے امر و نہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انہوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا ‘ اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ‘ چناچہ فرمایا : (ان الشرک لظلم عظیم) ” یقیناً شرک ظلم عظیم ہے “ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے ‘ وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بےنیاز ہے ‘ وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کرسکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا ‘ آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کرسکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے ؟ کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفیس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں ؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے ‘ تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ‘ چناچہ فرمایا ؛ (و وصینا الانسان) ” اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔ “ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنادیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا ؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں ؟ ہم نے اسے (بوالدیہ) ” اس کے والدین کے بارے میں “ وصیت کی اور اس سے کہا : (اشکرلی) میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ (ولوالدیک) اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک ‘ یعنی نرم و لطیف قول ‘ فعل جمیل ‘ ان کے سامنے تواضع و انکسار ‘ ان کے اکرام و اجلال ‘ ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے ‘ ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا (الی المصیر) کہ اے انسان ! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کرکے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی : ” کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کردیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے ؟ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے ‘ لہٰذا فرمایا : (حملتہ امہ وھنا علی وھن) ” اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔ “ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقوں کا سامنا کرتی رہتی ہے ‘ مثلاً بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا ‘ بیماری ‘ کمزوری ‘ حمل کا بوجھ ‘ حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا (وفصلہ فی عامین) ” اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔ “ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش ‘ کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے ؟ (وان جاھدک) اگر تیرے والدین کوشش کریں (علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما) ” اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔ “ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا : (لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق) ” خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ “ یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فعقھما) ” اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر “ بلکہ فرمایا : (فلا تطعھما) یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ ‘ اس لیے فرمایا : (وصاحبھما فی الدنیا معروفا) ” اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔ “ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پر ہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر (واتبع سبیل من اناب الی) ” اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ‘ اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں ‘ اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے محرکات اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا ‘ پھر بدن کا ان ارادوں کی پیروی کرنا۔ (ثم الی مرجعکم) ” پھر میری طرف تمہارا لوٹنا ہے۔ “ اطاعت گزارنا ‘ نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے (فانبئکم بم کنتم تعملون) ” تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمہیں آگاہ کروں گا۔ “ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ (یبنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل) ” اے میرے بیٹے ! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو “ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے (فتکن فی صخرۃ) ” اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ “ یعنی چٹان کے درمیان (او فی السموٰت او فی الارض) ” یا آسمان یا زمین کے اندر ہو “ یعنی زمین و آسمان کی کسی بھی جہت میں ہو (یات بھا اللہ) اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع ‘ خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا ‘ اس لیے فرمایا : (ان اللہ لطیف خبیر) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطن امور اور اسرار نہاں ‘ بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے ‘ خواہ کم ہوں یا زیادہ ‘ ترہیب مقصود ہے۔ (یبنی اقم الصلوٰۃ) ” اے بیٹے ! نماز کی پابندی کر۔ “ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ (وامر بالمعروف وانہ عن المنکر) ” اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔ “ یہ حکم اوامرو نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے ‘ نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں ‘ مثلاً نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا : (واصبر علی مآ اصابک) ” اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔ “ یہ آیات کریمہ اس بات پر دال ہیں کہ نیکی پر عمل کرکے اور برائی کو ترک کرکے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ لہٰذا فرمایا : (واصبر علی مآ اصابک ان ذلک) ” اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا ‘ بیشک یہ بات “ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے (من عزم الامور) ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولولعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ (ولا تصعر خدک للناس) ” تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ ‘ لوگوں سے منہ نہ پھیر “ (ولا تمش فی الارض مرحا) اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کرکے ‘ اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل (ان اللہ لا یحب کل مختال) ” یقیناً اللہ کسی ‘ خود پسند سے محبت نہیں کرتا “ جو اپنے آپ میں ‘ اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ (فخور) یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ (واقصد فی مشیک) ” اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر۔ “ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی ‘ بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ (واغضض من صوتک) اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ (ان الکر الاصوات) یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز (لصوت الحمیر) ” گدھوں کی آواز ہے۔ “ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خصاست اور کم عقل مسلم ہے۔ یہ وصیتیں ‘ جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں ‘ حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ موجود ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہی اور اگر معاملہ ہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ” حکمت “ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام ‘ ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔ لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ‘ پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو ‘ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے ‘ بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہوگی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا ‘ اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا ‘ اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا ‘ اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیار کرنے کا حکم دیا اور ان کے متضاد امور سے روکا ‘ اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا ‘ جن کی مدد سے ہر کام آسان ہوجاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ) (البقرۃ : 2/54) ” اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔ “ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو ‘ اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔
Ayahs 31:20–21

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ؟ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی ؟ )

آیت نمبر : 21 ۔ 20 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور انہیں ان نعمتوں پر شکر کرنے ‘ ان کا مشاہدہ کرنے اور ان سے عدم غفلت کا حکم دیتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (الم تروا) کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا ؟ کیا تم نے اپنی ظاہری اور دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی ؟ (ان اللہ سخر لکم ما فی السموٰت) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (سورج ‘ چاند اور ستاروں میں سے) جو کچھ آسمان میں ہے اسے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ “ یہ سب بندوں کے فائدے کے لیے مسخر ہیں۔ (وما فی الارض) ” اور جو کچھ زمین میں ہے۔ “ یعنی تمام حیوانات ‘ درخت ‘ کھیتیاں ‘ دریا اور معدنیات وغیرہ کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے جیسا کہ فرمایا : (ھوالذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا) (البقرۃ : 2/92) ” وہی تو ہے جس نے زمین کی سب چیزیں تمہارے لیے پیدا کیں۔ “ (واسبغ علیکم) اور جس نے تمہیں دین و دنیا کی نعمتوں ‘ بہت سی منفعتوں کے حصول اور مضرتوں سے دور ہونے جیسی وافر ظاہری اور باطنی نعمتوں سے ڈھانپ لیا ہے ان میں سے بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو نہیں جانتے۔ تمہارا وظیفہ یہ ہونا چاہیے کہ تم منعم کی محبت کے ساتھ اور اس کے سامنے سرافگندہ ہو کر ان نعمتوں پر شکر کا اظہار کرو ‘ ان نعمتوں کو اس کی اطاعت میں صرف کرو اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لو۔ (و) ” اور “ ان نعمتوں کے پے درپے عطا ہونے کے باوجود (من الناس من) ” لوگوں میں ایسا آدمی بھی ہے جو “ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ ان نعمتوں پر ناشکری کرتا ہے۔ اس ہستی کا انکار کرتا ہے جس نے اسے ان نعمتوں سے نوازا اور اس نے اس کے اس حق کو تسلیم نہ کیا جس کے لیے اس نے کتابیں نازل کیں اور اپنے رسول بھیجے۔ (یجادل فی اللہ) اور اس نے باطل دلائل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں جھگڑنا شروع کیا تاکہ حق کو نیچا دکھائے اور اس دعوت کو جسے رسول لے کر آیا ہے ‘ یعنی اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت کو ٹھکرا دے اور یہ جھگڑنے والا شخص (بغیر علم) کسی علم اور کسی بصیرت کے بغیر جھگڑتا ہے۔ پس اس کا جھگڑا کسی علمی بنیاد پر مبنی نہیں ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے ساتھ بات چیت میں نرمی کی جائے (ولا ھدی) اور نہ کسی ہدایت پر مبنی ہے ‘ جس کی بنا پر ہدایت یافتہ لوگوں کی پیروی کی جاتی ہے (ولا کتب منیر) اور نہ اس کا مجادلہ کسی روشن اور حق کو واضح کرنے والی کسی کتاب پر مبنی ہے۔ پس اس کا مجادلہ کسی معقول یا منقول دلیل پر مبنی ہے نہ ہدایت یافتہ لوگوں کی اقتدا پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کی بحث وجدال تو صرف اپنے ان آباء و اجداد کی تقلید پر مبنی ہے جو کسی طرح بھی راہ راست پر نہ تھے ‘ بلکہ خود گمراہ اور گمراہ کنندہ تھے۔ (واذا قیل لھم اتبعوا مآ انزل اللہ) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کی اتباع کرو۔ “ یعنی جو کچھ اس نے رسولوں کے ذریعے سے نازل فرمایا ہے کیونکہ یہی حق ہے اور ان کے سامنے اسکے ظاہری دلائل بیان کیے ہیں (قالوا) تو وہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں : (بل نتبع ما وجدنا علیہ ابآء نا) ” بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ “ یعنی ہم کسی کی خاطر ‘ خواہ وہ کوئی بھی ہو ‘ ان عقائد و نظریات کو نہیں چھوڑ سکتے جن پر ہمارے باپ دادا عمل پیرا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان کے باپ دادا کا رد کرتے ہوئے فرمایا : (اولو کان الشیطن یدعوھم الی عذاب السعیر) ” خواہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو۔ “ یعنی ان کے آباء و اجداد نے شیطان کی آواز پر لبیک کہا اور اس کے پیچھے چل پڑے اور یوں وہ شیطان کے چیلوں میں شامل ہوگئے اور ان پر حیرت و تردد نے غلبہ پالیا۔ کیا یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ ان کی پیروی کی جائے اور ان کے طریقے پر چلا جائے یا یہ چیز ان کو ان کے آباء و اجداد کے لیے شیطان کی دعوت کسی محبت اور مودت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ تو ان کے ساتھ عداوت اور فریب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیروکار اس کے دشمن ہیں جن پر قابو پانے میں وہ کامیاب ہوا ہے۔ جب لوگ اس کی دعوت کو قبول کرکے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے مستحق بنتے ہیں تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
Ayahs 31:22–24

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کر دے اور نیکو کار بھی ہو تو اس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمہیں غمناک نہ کر دے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو جتائیں گے بیشک خدا دلوں کی بات سے واقف ہے

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے

آیت نمبر :22 ۔ 24 (ومن یسلم وجھہ الی اللہ) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے (وھو محسن) تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺ کی اتباع کرتا ہے ‘ یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کرسکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق قائم کرکے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے۔۔۔ تینوں معانی میں تلازم پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے اس پہلو سے کہ دونوں لفظوں کے مورد میں اختلاف ہے ورنہ قبول کرنے اور تکمیل کے لحاظ سے ‘ تمام معانی ‘ دین کے تمام قوانین اور اصولوں کو قائم کرنے پر متفق ہیں۔ جو کوئی ان امور پر عمل پیرا ہوا تو (استمسک بالعروۃ والوثقی) ” اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا۔ “ یعنی جس نے وہ سہارا تھام لیا جو بھروسے کے قابل تھا ‘ وہ نجات پا گیا اور ہلاکت سے بچ گیا اور ہر بھلائی سے بہرہ ور ہوا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا یا اس نے ” احسان “ سے کام نہ لیا تو اس نے بھروسے کے قابل سہارے کو نہ تھاما اور جب اس نے اس قابل اعتماد سہارے کو نہ تھاما تو وہاں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (والی اللہ عاقبۃ الامور) اور تمام معاملات کا مرجع و منتہا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ وہ ان کے اعمال کے تقاضوں اور ان کے انجام کے مطابق ان کو جزا و سزا دے گا ‘ لہٰذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ (ومن کفر فلا یحزنک کفرہ) ” اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمہیں غمگین نہ کردے “ کیونکہ آپ کے ذمہ توحید اور تبلیغ کا جو فرض تھا وہ آپ نے ادا کردیا اگر کوئی راہ راست اختیار نہیں کرتا ‘ (تو نہ سہی) اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ اجر کے مستحق ہوگئے ‘ لہٰذا ان کے راہ راست اختیار نہ کرنے پر آپ کے لیے حزن و غم کا کوئی مقام نہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت سے نواز دیتا۔ آپ اس بات پر بھی غم زدہ نہ ہوں کہ انہوں نے آپ کے ساتھ عداوت کی جسارت کی اور آپ کے خلاف اعلان جنگ کیا ‘ وہ اپنی گمراہی اور کفر پر جمے رہے نیز آپ کو اس بارے میں بھی غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان پر اس دنیا ہی میں عذاب بھیج دیا گیا۔ (الینا مرجعھم فننبءھم بما عملوا) ” ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے ‘ پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتادیں گے۔ “ ہم انہیں ان کے کفر ‘ عداوت ‘ اللہ کی روشنی کو بجھانے کے لیے ان کی بھاگ دوڑ کرنے اور اس کے رسولوں کو اذیت پہنچانے کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ (ان اللہ علیم م بذات الصدور) ” بیشک اللہ تعالیٰ سینے کے اسرار نہاں کو بھی جانتا ہے “ جن کے بارے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی تب ان معاملات کو کیسے نہیں جانے گا جو ظاہر اور سب کے سامنے ہیں ؟ (نمتعھم قلیلا) ” ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہیں “ اس دنیا میں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کرلیں اور یوں ان کے عذاب میں اضافہ ہوجائے۔ (ثم نضطرھم) ” پھر ہم انہیں جبرا کھینچ لائیں گے “ (الی عذاب غلیظ) ” ایک سخت عذاب کی طرف۔ “ یعنی وہ عذاب اپنی سختی ‘ بہت بڑا ہونے ‘ اپنی قباحت ‘ اپنی الم ناکی اور اپنی شدت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔
Ayahs 31:25–28

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو بول اٹھیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے بیشک خدا بےپرواہ اور سزاوار حمد (و ثنا) ہے

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اسکے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہوجائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اٹھانے) کی طرح ہے بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے

آیت نمبر : 25 ۔ 28 اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں (من خلق السموٰت والارض) ” آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے (قل) ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے ! (الحمدللہ) ” ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے “ جس نے نور کو واضح کردیا اور خود تمہاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کردیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انہیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن (اکثر ھم لایعلمون) ” ان میں اکثر نہیں جانتے۔ “ اسی لیے انہوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا ‘ بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہوگئے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت ‘ محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے۔۔۔ یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے۔۔۔ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کو فی و قدری “ احکام دینی و امری اور احکام جزای کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بےحد بےنیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ (مآ ارید منھم من رزق ومآ ارید ان یطعمون) (الذریت : 15/75) ” میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ “ نیز انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہدا اور صالحیں کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انہی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بےنیاز ہے۔ یہ اس کی بےنیازی ہے کہ اس نے انہیں ان کی دنیا و آخرت میں بےنیاز بنادیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد و ثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت و کمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامرو نواہی قابل ستائش ہیں وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا و آخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں ‘ ان پر وہ قابل حمد و ستائش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے ‘ جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں ‘ چناچہ فرمایا : (ولو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام) ” اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔ “ جن کے ساتھ لکھا جائے (والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر) ” اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور “ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہوجائے گی لیکن (کلمت اللہ) اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔ یہ مبالغہ نہیں ہے ‘ جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی ‘ بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انہیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انہیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں ‘ مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انہیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے ‘ اس چیز سے راہنمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا : (لا نحصی ثناء علیک أنت کما اثنیت علی نفسک) ” ہم تیری ثناء بیان نہیں کرسکتے ‘ تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثناء بیان کی۔ “ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔ یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کرلیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کرکے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں۔۔۔ رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام ‘ تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جاسکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ (و ان الی ربک المنتھی) (النجم : 35/24) ” اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔ “ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ” اولیت “ اور ” آخریت “ کا تصور کرے تو ‘ ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل و ذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کرلیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متاخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے ‘ کلام کرتا ہے ‘ وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کرلیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہوجائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا۔ فرمایا (ان اللہ عزیز حکیم) ” بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ “ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے ‘ وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے ‘ ان میں تصرف اور ان کی تدبیر کرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس کی تخلیق سے اس کی غرض وغایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے۔ اسی طرح امر و نہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں ‘ اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کرسکتی۔ پس فرمایا : (ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ) ” تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا) “ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کردیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق۔۔۔ ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا۔۔۔ ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت ‘ قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (ان اللہ سمیع بصیر) ” بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ “
Ayahs 31:29–30

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

آیت نمبر : 30 ۔ 29 اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے اپنے تصرف و تدبیر میں متفرد ہونے ‘ رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے میں اپنی قدرت و اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب دن اور رات میں سے کوئی داخل ہوتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے۔ وہ سورج اور چاند کو مسخر کرنے میں بھی متفرد ہے۔ سورج اور چاند اس کی تدبیر اور نظام کے تحٹ چل رہے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ‘ ان میں خلل واقع نہیں ہوا۔۔۔ تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دین و دنیا سے متعلق اپنے بندوں کے مصالح و منافع کو پورا کرے ‘ جس سے اس کے بندے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ (کل) ” ہر ایک “ یعنی سورج اور چاند دونوں (یجری الی اجل مسمی) ایک مدت مقرر تک چلے جا رہے ہیں۔ جب یہ مدت پوری ہوجائے گی تو ان کی گردش ختم اور ان کی قوت معطل ہوجائے گی اور یہ قیامت کا دن ہوگا جب سورج اور چاند سیاہ اور بےنور کردیے جائیں گے۔ دنیا کے گھر کی انتہا اور آخرت کے گھر کی ابتدا ہوجائے گی۔ (وان اللہ بما تعملون) اور تم جو نیکی اور بدی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے (خبیر) ” باخبر ہے۔ “ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ وہ عنقریب تمہیں ان اعمال پر جزا و سزا دے گا۔ وہ اطاعت کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔ (ذلک) ” یہ “ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے اپنی عظمت اور اپنی صفت کو بیان کیا ہے (بان اللہ ھو الحق) اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات وصفات میں حق ہے ‘ اس کا دین حق ہے ‘ اس کے رسول حق ہیں ‘ اس کا وعدہ حق ہے ‘ اس کی وعید حق ہے اور اس کی عبادت حق ہے۔ (وان مایدعون من دونہ الباطل) اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ‘ سب اپنی ذات وصفات میں باطل ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی امداد نہ کرے تو ان کی بقا ممکن نہیں۔ جب یہ خود باطل ہیں تو ان کی عبادت سب سے بڑا باطل ہے۔ (وان اللہ ھو العلی) ” اور بیشک اللہ تعالیٰ (بذاتہ) بلند ہے “ وہ تمام مخلوقات سے اوپر ہے۔ اس کی صفات اس سے بلند تر ہیں کہ ان پر مخلوق کی صفات کو قیاس کیا جائے۔ وہ مخلوق کے اوپر اور ان پر غالب ہے۔ (الکبیر) وہ اپنی ذات وصفات میں کبریائی کا مالک ہے اور زمین اور آسمان کی تمام مخلوق کے دل اس کی کبریائی سے لبریز ہیں۔
Ayahs 31:31–32

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں

آیت نمبر : 32 ۔ 31 کیا تو نے اللہ تعالیٰ کی قدرت ‘ اس کی رحمت اور اپنے بندوں پر اس کی عنایت کے آثار نہیں دیکھے ؟ اس نے سمندر کو مسخر کیا جس میں اس کے حکم قدری اور اس کے لطف و احسان سے کشتیاں چلتی ہیں۔ (لیریکم من ایتہ) ” تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے۔ “ ان نشانیوں میں نفع اور عبرت ہے۔ (ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور) ” بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔ “ پس یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ‘ وہ ہر تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور خوشی پر شکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اس کی اطاعت پر صبر کرتے ہیں۔ وہ اس کی قضا و قدر پر صبر کرتے اور اس کی دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اس کا شکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کا حال بیان کرتا ہے کہ جب لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں اور سمندر کی موجیں چھتری کی مانند ان پر چھا جاتی ہیں تب وہ اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ (فلما نجھم الی البر) ” پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے۔ “ تو وہ دو گروہوں میں منقسم ہوجاتے ہیں : ان میں سے ایک گروہ کے لوگ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں ‘ یعنی کامل طریقے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرکے اس کی نعمت کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں فرمایا : (وما یجحد بایتنآ الا کل ختار) ” اور ہماری آیتوں کا وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن ہیں۔ “ ان کی بدعہدی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے سمندر اور اس کی سختیوں سے انہیں نجات دی تو وہ اس کے شکرگزار بندے بنیں گے۔ اس فریق نے بدعہدی کی اپنے عہد کو پورا نہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ (کفور) وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سخت ناشکرے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ان سختیوں سے نجات دی ہو کیا اس کے لیے اس کا شکر ادا کرنے کے سوا کچھ اور لائق ہے ؟