Ayahs 32:1–2آیت الم تنذیل الکتاب، تنذیل الکتاب کے رفع پر سب کا اجماع ہے اگر یہ مفعول مطلق ہونے کی بنا پر منصوب ہو تو یہ بھی جائز ہے ؛ جس طرح کو فیوں نے اسے پڑھا آیت انک لمن المر سلین۔ علی صراط مستقیم۔ تنذیل العزیز الرحیم۔ (یسین) تنذیل مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اور اس کی خبر لاریب فیہ ہے۔ یا یہ خبر ہے اور اس کا مبتدا مضمر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ھذا تنذیل یا المتلو تنذیل یا ھذہ الحروف تنذیل۔ الم یہ حروف کے ذکر پر دال ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ لاریب فیہ یہ الکتاب سے حال ہے۔ من رب العالمین خبر ہے۔ مکی نے کہا : یہ ان میں سے احسن ہے۔ لا ریب فیہ من رب العالمین اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ہے یہ جادو، شعر، کہانت اور پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔
Ayah 32:3آیت ام یقولون افتراہ یہ ام منقطعہ ہے بل اور ہمزہ استفہام کے ساتھ اس کی تقدیر بیان کی جاتی ہے یعنی بل ایقولون یہ اس پر دال ہے کہ ایک بات سے دوسری بات کی طرف نکلا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کو ثابت کیا کہ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، پھر اس سے اس ارشاد کی طرف کلام کو پھیرا آیت ام یقولون افتراہ یعنی خود اسے گھڑا ہے۔
آیت بل ھو الحق من الربک افترا کے دعوی میں ان کو جھٹلایا۔ لتنذر قوما قتادہ نے کہا : قوم سے مراد قریش ہے (1) ۔ وہ ایک امی امت تھی حضرت محمد ﷺ سے پہلے انہیں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ لتنذر یہ ماقبل سے متعلق ہے اس لیے من ربک پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محذوف کے متعلق ہو۔ تقدیر کلام یہ ہے انزلہ لتنذر قوما تو اس صورت میں من ربک پر وقف کرنا جائز ہے۔ ما آتاھم میں ما نافیہ ہے۔ من نذیر من زائدہ ہے اور نذیر محل رفع میں ہے۔ اس سے مراد آگاہ کرنے والا اور ڈرانے والا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : قوم سے مراد حضرت محمد ﷺ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان دور فترہ ہے، یہ حضرت ابن عباس اور مقاتل کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر مکمل ہوچکی تھی کہ جو رسول پہلے گزرے ان کے ساتھ انہیں خبر دار کردیا گیا اگرچہ انہوں نے رسول کو نہ دیکھا۔ یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔
Ayah 32:4آیت اللہ الذی خلق الخ انہیں اپنی کمال قدرت سے آگاہ کیا تاکہ وہ قرآن کو سنیں اور اس میں غور و فکر کریں۔ خلق کا معنی عدم اور کوئی چیز نہ ہونے کے بعد نئے سرے سے بنانا اور وجود عطا کرنا ہے۔ فی ستۃ ایام اتوار کے دن سے لے کر جمعہ کے دن تک۔
حضرت حسن بصری نے کہا : دنیا کے دنوں سے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان چھ دنوں میں سے ایک دن جس میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس کی مقدار دنیا کے سالوں میں سے ہزار سال کے برابر تھا۔ ضحاک نے کہا : چھ ہزار سالوں میں، آخرت کے دنوں میں سے چھ دنوں میں۔
آیت ثم استوی علی العرش اس کی بحث سورة الاعراف، بقرہ وغیرہما میں گزرچکی ہے۔ علماء کا اس بارے میں جو نقطہ نظر ہے وہ میں نے الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں ذکر کردیا ہے۔ یہاں ثم کا لفظ ترتیب کے لیے نہیں بلکہ یہ وائو کے معنی میں ہے۔ آیت مالکم من دونہ من ولی ولا شفیع یعنی کافروں کا کوئی ایسا دوست نہیں ہوگا جو ان سے عذاب کو روک سکے اور نہ ہی ان کا کوئی سفارشی ہوگا۔ محل کے اعتبار سے رفع جائز ہے۔ افلا تتذکرون اس کی قدرت اور اس کی مخلوقات میں غورو فکر نہیں کرتے۔
Ayah 32:5حضرت ابن عباس نے فرمایا قضاء اور قدر کو نازل کیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : جبریل کے ذریعے وحی نازل کی جاتی ہے۔ عمرو بن مرہ نے عبدالرحمن بن سابط سے روایت کیا ہے : امر دنیا کی چار فرشتے تدبیر کرتے ہیں۔
حضرت میکائل، ملک الموت اور حضرت اسرفیل صلوات اللہ علیہم اجمعین۔ جہاں تک حضرت جبریل کا تعلق ہے ان کی ذمہ داری ہوائیں اور لشکر ہیں۔ جہاں تک حضرت میکائل کا تعلق ہے وہ بارش اور پانی کے ذمہ دار ہیں۔ جہاں تک ملک الموت کا تعلق ہے ان کے ذمہ روحوں کا معاملہ ہے۔ جہاں تک حضرت اسرافیل کا تعلق ہے وہ اللہ تعالیٰ کا امر نازل کرے گا (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عرش تدبیر کا محل ہے جس طرح عرش کے نیچے والی جگہ تفصیل کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ثم استوی علی العرش الخ (الرعد : 2) آسمانوں سے نیچے والی جگہ تصرف کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولقد صرفنہ بینھم لیذکروا (الفرقان : 50 )
آیت ثم یعرج الیہ یحییٰ بن سلام نے کہا : فعل کی ضمیر سے مراد حضرت جبریل امین ہیں یہ وحی کے نزول کے بعد آسمانوں کی طرف بلند ہوتے ہیں۔ نقاش نے کہا : مراد وہ فرشتہ ہے جو آسمانوں سے زمین تک امور کی تدبیر کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اہل زمین کی خبریں ہیں جو اس کی بارگاہ کی طرف بلند ہوتی ہیں جب کی ساتھ ساتھ فرشتے ہوتے ہیں جو ان خبروں کو اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں ؛ یہ ابن شجرہ کا قول ہے (2) ۔
آیت فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون ایک قول یہ کیا گیا ہے : ثم یعرج الیہ کا معنی ہے دنیا کے ختم ہونے کے بعد امرو تدبیر اس کی طرف لوٹتا ہے آیت فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ اس سے مراد یوم قیامت ہے۔ متقدم اقوال کی صورت میں یعرج کی ضمیر فرشتے کے لیے ہے اس کی پہلے ذکر نہیں ہوا کیونکہ یہ معنی سے سمجھا جا رہا ہے سورة سال سائل میں آیت تعرج الملئکۃ والروح الیہ (المعارج : 4) میں اس کا صراحۃ ذکر ہے۔ الیہ میں ضمیر اس کے قول کے مطابق جو السماء کو مذکر خیال کرتا ہے السماء کی طرف لوٹے گی اور فرشتے کے مکان کی طرف لوٹے گی جس جگہ کی طرف وہ لوٹتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے اسم کی طرف لوٹے گی مراد وہ جگہ ہے جس میں اسے قرار عطا کیا۔ جب تو ضمیر کو اللہ کی طرف لو ٹائے تو تو نے اسے السماء کی طرف لو ٹایا یعنی سدرۃ المنتہی کیونکہ زمین سے جو چیز بلند ہوتی ہے وہ اس کی طرف بلند ہوتی ہے اور جو چیز نازل ہوتی ہے وہ اس سے ہی نیچے آتی ہے۔ یہ معنی صحیح مسلم میں ثابت ہے۔ مقدارہ کی ضمیر تدبیر کی طرف راجع ہے۔ معنی ہے اس تدبیر کی مقدار دنیا کے سالوں میں سے ہزار سال ہے، یعنی وہ ہزار سال کے امور کی تدبیر ایک دن میں کردیتا ہے، یعنی وہ ایک دن میں ہزار سال کے امور کا فیصلہ کردیتا ہے پھر اسے اپنے فرشتوں کی طرف القا فرماتا ہے۔ جب ایک ہزار سال گزرجاتا ہے تو ایک اور ہزار سال کا فیصلہ فرماتا ہے، پھر ہمشہ اسی طرح سلسلہ چلتا رہتا ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہا ضمیر عروج کے لیے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قیامت کے قائم ہونے تک امور دنیا کی تدبیر فرماتا ہے۔ پھر وہ امر اس کی طرف لوٹ جاتا ہے، تو وہ ایک ایسے دن میں امور کا فیصلہ کرے گا جس کی مقدار ہزار سال کے برابر ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ سورج کے امر یعنی اس کے طلوع، غروب اور طلوع کی جگہ کی طرف لوٹنے کے معاملہ کی تدبیر کرتا ہے ایسے دن میں جس کی مسافت کی مقدار ایک ہزار سال ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے اگر فرشتے کے علاوہ کوئی اور چلتا تو اسے ایک ہزار سال لگ جاتے، کیونکہ اترنے میں پانچ سو سال اور چڑھنے میں پانچ سو سال کا عرصہ لگتا ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت سے یہ مروی ہے ؛ یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے ؛ مہدوی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ پہلے قول کا معنی ہے۔ حضرت جبریل امین اپنی تیز رفتاری کے باعث ایک ہزار سال کی مسافت تمہارے دنوں میں سے ایک دن میں طے کرلیتا ہے ؛ زمحشری نے اسے ذکر کیا ہے۔ ماوردی نے حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک سے ذکر کیا ہے کہ فرشتہ ایک دن میں ہزارسال کی مسافت طے کرلیتا ہے (2) ۔ قتادہ سے مروی ہے : فرشتہ ایک ایسے دن میں نیچے اترتا ہے اور اوپر چڑھتا ہے جس کی مقدار ہزار سال ہے۔ اس کے اترنے کی مقدار پانچ سو سال اور اس کے اوپر چڑھنے کی مقدار پانچ سو سال ہے ؛ یہ قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے : اترنے میں ہزار سال اور اوپر چڑھنے میں بیس سال۔
مما تعدون دنیا کہ ایام میں سے جن کو تم شمار کرتے ہو۔ اس دن سے مراد وہ زمانہ ہے جس کا اندازہ جہاں کے سالوں میں سے ہزار سال کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ دن نہیں جو دو راتوں کے درمیان کا احاطہ کیے ہوتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں ہوتا۔ عرب بعض اوقات زمانہ کے عرصہ کو یوم سے تعبیر کرتے ہیں ؛ جس طرح شاعر نے کہا :
یومان یوم مقامات واندیۃ ویوم سیر الیالاعدائتاویب
دو دن ہیں ایک دن ٹھرنے اور مجلس کا ہے اور ایک دن دشمنوں کی طرف سارادن چلنے کا ہے۔
یہاں شاعر نے دو مخصوص دنوں کا ارادہ نہیں کیا۔ اس نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ان کا زمانہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ دونوں حصوں کو اس نے یوم سے تعبیر کیا ہے (1) ۔ ابن ابی عبلہ نے اسے یعرج مجہول کے انداز میں پڑھا ہے۔ اسے یعدون یا کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کا فرمان : فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ کا تعلق ہے تو اس آیت کے ساتھ اس کی تعبیر میں اشکال ہے۔ عبد اللہ بن فیروز ویلمی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں اور اس آیت فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ کے بارے میں پوچھا۔ فرمایا : یہ دن ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ نام دیا ہے اور میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہیں ؟ میں اسے ناپسند کرتا ہوں کہ ان کے بارے میں وہ کہوں جسے میں جانتا بھی نہیں (2) ۔ پھر حضرت سعید بن مسیب سے اس کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا : میں نہیں جانتا تو میں نے انہیں حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے بارے میں آگاہ کیا۔ ابن مسیب نے سائل سے فرمایا : یہ حضرت ابن عباس ؓ ہیں جو اس سے ڈرے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ کہیں جب کہ وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ پھر علماء نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو کہا گیا : آیت سال سائل اس میں یوم قیامت کی طرف اشارہ ہے جب کہ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ نہیں۔ معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اس دن کے مشکل ہونے کی وجہ سے کفار پر اسے پچاس ہزار سال کی طرح بنادیا ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ عرب ناپسندیدہ دنوں کو لمبے ہونے اور خوشی کے دنوں کو چھوٹے ہونے سے تعبیر کرتے ہیں۔ شاعر نے کہا :
ویوم کظلالرمح قصر طولہدم الزق عناواصطفاق المزاھر
اور دن جو نیزے کے سائے کے برابر ہے جس کی طوالت کو شراب اور سارنگی کے نغموں نے ہمارے لیے چھوٹا کردیا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے دن میں کئی ایام ہیں ان میں سے ایک دن ایسا ہے جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے۔ ایک دن ایسا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے اوقات مختلف ہیں۔ کافر کو ایک ہزار سال تک ایک قسم کا عذاب دیا جائے گا پھر اسے دوسری قسم کے عذاب کی طرف منتقل کردیا جائے گا جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے مواقف کی تعداد پچاس ہیں۔ موقف ہزار سال کا ہوگا۔ آیت یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ کا معنی ہے وقت کی مقدار یا یوم قیامت کے موقف کی مقدار ہزار سال ہے۔ نحاس نے کہا : یوم کا لفظ لغت میں وقت کے معنی میں ہے۔ معنی ہے فرشتے اور روح اس کی طرف ایسے وقت میں عروج کرتے ہیں جس کی مقدار ہزار سال ہے اور ایک دوسرے وقت جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ وہب بن منبہ سے مروی ہے آیت فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ کہا : یہ مقدار زمین کی پستی سے لے کر عرش تک ہے۔ ثعلبی نے مجاہد، قتادہ اور ضحاک سے اس آیت تعرج الملئکۃ الخ (المعارج) کی تعبیر میں قول نقل کیا ہے۔ زمین سے سدرۃ المنتہی کا ارادہ کیا جہاں حضرت جبریل امین ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : حضرت جبریل امین اور فرشتے جو ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور اس جگہ رہتے ہیں جو حضرت جبریل امین کا مقام ہے تو وہ ایک دن میں اتنا سفر کرلیتے ہیں جو دنیا کے پچاس ہزار سالوں میں کیا جاتا ہے۔ الیہ یعنی اس مکان کی طرف جس کی طرف بلند ہونے کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا۔ یہ قول بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول کی طرح ہے : انی ذاھب الی ربی سیھدین (الصافات) اس میں بھی مراد شام کا علاقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و من یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ (النسائ : 100) یہاں بھی الی اللہ سے مراد مدینہ طیبہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میرے رب کی جانب سے ایک فرشتہ پیغام لے کر آیا پھر اس نے اپنا پائوں اٹھایا تو اس نے اسے آسمان کے اوپر رکھا دوسرا قدم زمین پر رکھا اسے بعد میں نہ اٹھایا “۔
Ayah 32:6اس سے مراد ہے مخلوق سے جو غائب ہے اور جو اس کے لیے حاضر ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ذلک، انا کے معنی میں ہے، جس طرح اس کی وضاحت سورة بقرہ کے آغاز میں گزرچکی ہے۔ کلام میں تہدید اور وعید کا معنی موجود ہے۔ یعنی اپنے افعال اور اقوال میں اخلاص سے کام لو کیونکہ میں تمہیں ان پر بدلہ دینے والا ہوں۔
Ayahs 32:7–9آیت الذی احسن کل شیء خلقہ ابن کثیر، ابو عمر و اور ابن عامر نے اسے رحمۃ اللہ علیہخلقہ لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے سہولت کی وجہ سے اسے اختیار کیا ہے۔ یہاں فعل ماضی ہے محل جر میں ہے کیونکہ یہ شی کی صفت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے جو معنی مروی ہے وہ یہ ہے : اللہ تعالیٰ نے جس شی کو بھی پیدا کیا اس کو محکم بنایا، یعنی جو ارادہ کیا اس کو لے آیا اس کے ارادہ میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا (1) ۔
ایک دوسرا قول ہے : اللہ تعالیٰ نے جس شی کو بھی پیدا کیا وہ خوبصورت ہے کیونکہ کوئی دوسرا بھی اس کی مثل لانے پر قادر نہیں۔ یہ اس کے خالق ہونے پر دال ہے۔ جس نے لام کو ساکن کیا وہ سیبویہ کے نزدیک مصدر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : احسن کل شی خلقہ اس امر پر دال ہے خلق کل شی خلقا یہ اس کلام کی مثل ہے طبع اللہ (النحل : 108) کتاب اللہ علیکم (النسائ : 24) دوسرے علماء کے نزدیک کل سے بدل ہونے کی بنا پر منصوب ہے یعنی ہر شے کی تخلیق کو اچھا کیا۔ بعض نحویوں کے نزدیک یہ مفول ثانی ہے، اس تاویل کی صورت میں کہ احسن کا معنی افھم اور اعلم ہے تو یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوگا تو تقدیر کلام یہ ہوگی : افھم کل شی خلقہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ تفسیر کی بنا پر منصوب ہے۔ معنی ہے افھم کل شی خلقا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حرف جر گرانے کی وجہ سے منصوب ہے اصل میں کلام یوں تھی احسن کل شی فی خلقہ، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : احسن اس کا معنی پختہ کرنا ہے (1) ، یعنی اس سے جس مقصد کا ارادہ کیا گیا اس اعتبار سے یہ احسن ہے۔ اسی اعتبار سے حضرت ابن عباس اور عکرمہ نے کہا : بندر کی سرین خوبصورت نہیں لیکن متقن اور محکم ہے۔ ابن ابی نجیع نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے احسن کل شی خلقہ کا معنی ہے ہر شے کی تخلیق کو پختہ کیا (2) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : الذی اعطی کل شی خلقہ (طہ : 50) انسان کو حیوان کی شکل پر پیدا نہیں کیا اور حیوان کو انسان کی شکل پر پیدا نہیں کیا۔ خلقہ کو رفع دینا بھی جائز ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی : ذلک خلقہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لفظ میں عام اور معنی میں خاص ہے۔ اس نے ہر اچھی چیز کی صورت کو اچھا بنایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لفظ اور معنی میں عام ہے۔ جس شے کو بنایا اس کو اچھا بنایا، یہاں تک کہ کتے کو اس کی صورت میں اچھا بنایا ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا کہ بندر کی سرین میں حسن ہے (3) ۔
آیت وبدا خلق الانسان من طین انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ آیت ثم جعل نسلہ الخ سورة مومنون اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ زجاج نے کہا : مھین کا معنی کمزور ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : مھین سے مراد ہے لوگوں کے ہاں اس کی کوئی قدرو منزلت نہیں ہوتی۔ ثم سواہ ضمیر حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی قد و قامت کو درست کیا۔ آیت ونفخ فیہ من روحہ اس میں اپنی روح پھونکی، پھر ان کی اولاد کی طرف رجوع کیا۔ فرمایا : آیت وجعل لکم السمع والابصار۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پھر اس حقیر پانی سے خوبصورت مخلوق بنا دی۔ اس میں روح کو ملایا اور اس کے شرف کو ظاہر کرنے کے لیے اپنی طرف سے منسوب کیا۔ اور اس لیے بھی کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے واقع ہوا، جس طرح بندے کی نسبت اس ارشاد عبدی میں اپنی ذات کی طرف کی اسے نفخ کے ساتھ تعبیر کیا کیونکہ روح ہوا کی جنس میں سے ہے۔ سورة النساء اور دوسری سورتوں میں یہ بحث مفصل گزرچکی ہے۔ آیت قلیلا ما تشکرون یعنی تم شکر نہیں کرتے بلکہ ناشکری اور کفر کرتے ہو۔
Ayah 32:10آیت وقالو ءاذا ضللنا فی الارض یہ بعث کے منکروں کا قول ہے یعنی ہم ہلاک ہوجائیں اور مٹی ہوجائیں۔ اس کی اصل عربوں کا قول ہے : ضل الماء فی البن جب پانی دودھ میں نا پید ہوجائے۔ عرب اس شے کے بارے میں کہتے ہیں جس پر کوئی دوسری چیز ایسی غالب آجائے کہ اس میں اس کا اثر بھی چھپ جائے : قد ضل۔ ا طل نے کہا :
کنتالقذی فیموجاکدر مذیدقذفالاتیبہ فضلضلالا (1)
تو مٹیالے رنگ کی جھاگ والی موج میں ایک تنکا تھا جس میں اجنبی کو پھینک دیا گیا اور وہ موج اس پر غالب آگئی۔
قطرب نے کہا : ضللنا کا معنی ہے ہم زمین میں غائب ہوجائیں اور نابغہ ذبیانی کا شعر پڑھا :
فآبمضلوہبعین جلیۃ وغودربالجولانحزم ونائل (2)
اس کو غائب کرنے والے روشن آنکھ کے ساتھ لوٹے اور حزم اور نائل کے ساتھ جولان کے مقام پر دھوکہ ہوا۔
ابن محصین اور یحییٰ بن یعمر نے ضللنا لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ بھی ایک لغت ہے۔ جوہری نے کہا : قد ضللت اضل یہ اس کا باب ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی (سبا : 50) یہ نجد کی لغت ہے اور یہ فصیح لغت ہے۔ اہل عالیہ کہتے ہیں : ضللت، اضل فھو ضال وتال یہی ضلالۃ وتلا لۃ ہے اضلہ اس کو ضائع کردیا اور اسے ہلاک کردیا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اضل المیت جب اسے دفن کیا جائے گا۔ فاب مضلوہ اسے دفن کرنے والے لو ٹے۔
ابن سکیت نے کہا : اضللت بعیری جب وہ اونٹ تجھ سے چلا گیا۔ ضللت مسجد والدار جب تو مسجد اور اس کے گھر کو نہ پہچانتا ہو۔ اس طرح ہر وہ چیز موجودہو لیکن اس تک پہنچا نہ جاسکے۔ حدیث میں ہے لعلی اضل اللہ یہ ارادہ کیا ہے ممکن ہے میں اس پر مخفی ہوں (3) ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ء اذا ضللنا فی الارض جب ہم زمین میں چھپ جائیں۔ اضلہ اللہ فضل اللہ تعالیٰ نے اسے چھپایا تو وہ چھپ گیا۔ تو جملہ بولتا ہے : انک لا تھدی الضال ولا تھدی المتضال تو چھپنے والے تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا اور تو جان بوجھ کر چھپنے والے تک نہیں پہنچ سکتا۔ اعمش اور حضرت حسن بصری نے کہا : صللنا صاد کے ساتھ قراءت کی۔ جب ہم بدبو دار ہوجائیں ؛ یہ حضرت علی ابن ابی طالب ؓ کی قراءت ہے۔ نحاس نے کہا : لغت میں صللنا معرف نہیں لیکن یہ جملہ کہا جاتا ہے : صل الحم واصل، خم واخم جب ہو بدبو دار ہوجائے۔ جوہری نے کہا : صل الحم یصل، صلولا، گوشت کا بدبو دار ہونا۔ وہ پکا ہوا ہو یا کچا ہو۔ حطیئہ نے کہا :
ذاتفتییبذل ذاقدرہلایفسدالحملدیہالصلول
وہ ایسا نوجوان ہے جو اپنی ہنڈیا میں موجود چیز کو خرچ کرتا ہے اس کے ہاں کچا یا پکا گوشت خراب نہیں ہوتا۔ اصل اس کی مثل ہے۔
آیت انا لفی خلق جدید ہم اس کے بعد جدید مخلوق پیدا کرتے ہیں۔ اسے ائنا بھی پڑھا جاتا ہے۔ نحاس نے کہا : اس میں عربی کا مشکل سوال ہے۔ سوال کیا جاتا ہے : اذا میں کون عامل ہے ؟ اور ان کا مابعد، اس کے ماقبل میں عامل نہیں ہوتا۔ استفہام میں سوال اس سے شدید تر ہے کیونکہ استفہام کا مابعد ان کے ماقبل میں بدرجہ اولی عمل نہیں کرنا چاہیے۔ جب دونوں اکٹھے ہوجائیں تو مابعد، ماقبل میں کیسے عامل ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس نے انا پڑھا ہے تو اس میں عامل ضللنا ہوگا جس نے ائنا پڑھا اس میں عمل مضمر ہوگا۔ تقدیر کلام یہ ہوگی انبعث اذا متنا اس میں ایک اور سوال ہے، سوال یہ کیا جاتا ہے : پہلی قراءت کی صورت میں اذا کا جواب کہاں ہے کیونکہ اس میں شرط کا معنی موجود ہے ؟ اس میں قول یہ ہے کہ اس کا مابعد فعل ماضی ہے اسی وجہ سے یہ جائز ہے آیت بل ھم بلقائی ربھم کافرون وہ دوبارہ لوٹانے کی اس کی قدرت کا انکار نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کی قدرت کو پہچانتے ہیں لیکن وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان پر کوئی حساب نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات نہیں کریں گے۔
Ayah 32:11اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت قل یتوفکم ملک الموت جب اس امر کو ذکر کیا کہ وہ دوبارہ اٹھا نے کو بعید خیال کرتے ہیں تو ان کی وفات اور دوبارہ اٹھائے جانے کے امر کو ذکر کیا۔ یتوفکم یہ توفی العدود الشی سے مشتق ہے۔ جب وہ پورا پورا سے لے اور پورے کے پورے پر قبضہ کرلے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے (رح) (رح) : توفاہ اللہ یعنی اس کی روح کو پورا پورا لیا پھر اس پر قبضہ کرلیا۔ توفیت مالی من فلان یعنی میں نے اس سے پورا پورا مال لے لیا۔ ملک الموت اس کا نام عزرائیل ہے جس کا معنی اللہ کا بندہ ہے۔ جس طرح سورة بقرہ میں پہلے گزرچکا ہے اس کا سارے کا سارا تصرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی تخلیق واختراع سے ہوتا ہے۔ حدیث طیبہ میں مروی ہے : ” ملک الموت کے بجائے اللہ تعالیٰ تمام چو پائوں کی روحوں کو قبضہ میں لے گا، گویا ان کی زندگی کو ختم کرے گا “ (1) ۔ ابن عطیہ نے اس کا ذکر کیا۔
میں کہتا ہوں : اس کے برعکس بھی مروی ہے ملک الموت تمام مخلوقات کی روحوں کو قبض کرے گا یہاں تک کہ پسو اور مچھر کی روحوں کو بھی قبض کرے گا۔ جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری کے سر کے پاس ملک الموت کو دیکھا تو نبی کریم ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا : ” میرے صحابی کے ساتھ نرمی کرو کیونکہ وہ مومن ہے “ ملک الموت نے کہا : اے محمد ﷺ خوش ہوجائیے اور آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں میں ہر مومن کے ساتھ نرمی کرنے والا ہوں۔ یہ چیز ذہن نشین کرلیجئے مٹی کا گھر ہو یا بالوں سے بنا خیمہ وہ خشکی پر ہو یا سمندر میں اس کے رہنے والوں میں سے کوئی فرد نہیں مگر میں ہر روز پانچ دفعہ اس سے مصافحہ کرتا ہوں یہاں تک کہ میں ان میں سے چھوٹے بڑے ہر فرد کو اس کی ذات کے اعتبار سے پہچان لیتا ہوں اللہ کی قسم ! اے محمد ﷺ اگر میں یہ ارادہ کرتا کہ میں ایک مچھر کی روح کو قبض کروں تو میں اس پر قادر نہ ہوتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی روح کو قبض کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جعفر بن علی نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے وہ نماز کے اوقات کے مواقع پر ان سے مصافحہ کرتا ہے (1) ؛ ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابوبکر بن علی بن ثابت بغدادی نے ذکر کیا مجھے ابو محمد حسن بن محمد خلال نے انہیں ابومحمد عبداللہ بن صفار نے انہیں ابوبکر حامد بصری نے انہیں یحییٰ بن ایوب علاف نے انہیں سلمان بن مہیر کلابی نے رویت کی کہ میں حضرت مالک بن انس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ایک آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے پوچھا : اے ابا عبداللہ ! کیا پسوئوں کی روحوں کو ملک الموت قبض کرتا ہے ؟ امام مالک نے طویل عرصہ تک سر جھکائے رکھا پھر پوچھا : کیا اس کا نفس (روح) ہوتا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں۔ فرمایا : ملک الموت ان کی روحوں کو قبض کرتا ہے آیت اللہ یتوفی الانفس حین موتھا (الزمر : 42 )
ابن عطیہ نے حدیث ذکر کرنے کے بعد کہا : انسان میں بھی معاملہ اسی طرح ہے، مگر یہ ایک ایسی نوع ہے اسے ملک الموت کے تصرف کے ساتھ شرف بخشا گیا ہے جب یہ ان کی روحوں کو قبض کرتا ہے تو اس کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو پیدا کیا اور اس کے ہاتھ پر روحوں کو قبض کرنے، جسموں سے انہیں کھینچنے اور ان سے نکالنے کے امر کو بھی پیدا کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لشکر کو پیدا فرمایا جو اس کے ساتھ ہوتا ہے وہ اس کے حکم پر عمل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت ولو تری اذ الخ (الانفال : 50) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : توفتہ رسلنا (الانعام : 61) یہ معنی سورة الانعام میں گزرچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات تمام کی خالق ہے وہی ہر فعل کا حقیقت میں خالق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت اللہ یتوفی الانفس الخ (الزمر : 42) آیت الذی خلق الموت والحیوۃ (ملک : 2) آیت یحییٰ ویمیت (البقرہ : 258) ملک الموت قبض کرتا ہے مددگار تگ و دو کرتے ہیں اللہ تعالیٰ روح کے لے جاتا ہے۔ آیات اور احادیث میں تطبیق کی صورت یہی ہے لیکن جب ملک الموت اس امر کا ذمہ دار ہے خواہ یہ عمل وہ واسطہ کے ساتھ کرے یا براہ راست کرے تو موت کو اسی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جس طرح خلق کی نسبت فرشتے کی طرف کی جاتی ہے جس طرح سورة حج میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ مجاہد سے مروی ہے : دنیا ساری کی ساری ملک الموت کے سامنے اس طرح ہے جس طرح انسان کے سامنے ایک تھال ہو جہاں سے وہ چاہتا ہے کوئی چیز لے لیتا ہے (2) ۔ یہ معنی مرفوع حدیث میں بھی مروی ہے۔ ہم نے اس کا ذکر کتاب ” التذکرہ “ میں کیا ہے۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے : اللہ تعالیٰ نے جس وقت ملک الموت کو روحیں قبض کرنے کی ذمہ داری سونپی ملک الموت نے عرض کی : اے میرے رب ! تو نے مجھے یوں بنادیا کہ لوگ میرا ذکر برائی کا ساتھ کریں گے اور مجھے گالیاں دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسے فرمایا : میں موت کے لیے امراض میں سے علتیں اور اسباب بنادوں گا لوگ موت کو اس کی طرف منسوب کریں گے کوئی آدمی بھی تیرا ذکر خیر کے بغیر نہیں کرے گا (3) ۔ ہم نے اس کا ذکر ” تذکرہ “ میں مفصل کردیا ہے۔ ہم نے یہ ذکر کیا ہے کہ وہ روحوں کو دعوت دیتا ہے روحیں اس کے پاس آتی ہیں اور وہ انہیں قبض کرلیتا ہے۔ پھر وہ انہیں رحمت یا عذاب کے فرشتوں کے سپرد کردیتا ہے۔ کتاب ” تذکرہ “ میں ایسی بحث موجود ہے کہ جو آدمی حقیقت حال پر آگاہی حاصل کرنا چاہے وہ اس کے لیے کافی وشافی ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ علماء میں سے بعض نے اس آیت سے وکالت کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ وکل بکم اسے تمہاری روحیں قبض کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ یہ اس کے لفظ سے استنباط ہے اس کی معنی میں استنباط نہیں مگر یہ حکم عام ہوتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ کے فرمان : قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ علیکم جمیعا (الاعراف : 158) کے بارے میں کہتے : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نیابت ہے اور اس کی رسالت کی تبلیغ میں وکالت ہے۔ تو ہم اس ارشاد : واتوالذکوۃ (البقرہ : 43) کے بارے میں کہتے : یہ بھی وکالت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے رزق کی ضمانت اٹھائی ہے اغنیاء کو غذائوں کے ساتھ خاص کیا اور انہیں اشارہ کیا کہ فقراء کا رزق ان کے پاس ہے اور معلوم وقت میں معلوم مقدار ان کے سپرد کرنے کا حکم دیا، اپنے علم سے اس کی تدبیر فرمائی، اپنے حکم سے اسے نافذ فرمایا اور اپنی حکمت کے ساتھ اسے مقدر کیا۔ احکام الفاظ کے ساتھ متعلق نہیں ہوتے ہاں اس صورت میں متعلق ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد مطلوبہ میں موضوعات اصلیہ پر وارد ہوں۔ اگر وہ اپنے مقصد کے علاوہ میں ظاہر ہوں تو یہ ان پر متعلق نہیں ہوتے۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ بیع و شراء کا لفظ اور معنی معلوم ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ (التوبہ : 111) یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ آیت دلیل ہے کہ آقا اپنے غلام سے بیع و شراء کرسکتا ہے کیونکہ دونوں مقصد مختلف ہیں مگر جب معانی کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس آیت میں دلیل ہے کہ قاضی ایسے آدمی کے نائب بنائے جو سختی سے اس آدمی سے حق لے جس پر وہ حق لازم ہے اس کے بغیر کہ اس کا اس میں کوئی عمل ہو یا اس کی رضا شامل ہو جب کہ ایسی صورت پائی جائے۔
Ayah 32:12آیت ولو تری اذالمجرمون ناکسو رء وسھم عند ربھم یہ جملہ اذالمجرمون مبتدا اور خبر ہے۔ زجاج نے کہا : نبی کریم ﷺ کے خطاب، امت کو خطاب ہے۔ معنی ہے اے محمد ! ﷺ کاش آپ بعث کے منکروں کو قیامت کے روز دیکھتے تو عجیب و غریب بات دیکھتے۔ ابوالعباس کا مذہب اس کے علاوہ ہے۔ معنی ہے اے محمد ! ﷺ مجرم سے کہیے : کاش تم دیکھتے جب مجرم اپنے رب کے حضور سر جھکاتے ہوں گے تو تجھ سے افعال سرزد ہوتے اس پر شرمندگی کا اظہار کرتا۔ آیت ناکسو رء وسھم شرمندگی، رسوائی، حزن، ذلت اور غم کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے ہوتے۔ عند ربھم جب ان کا رب ان کا محاسبہ کرے گا اور انہیں ان کے اعمال کی جزادے گا۔ ربنا وہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! ابصرنا ہم جو جھٹلاتے رہتے تھے اس کو ہم نے دیکھ لیا۔ وسمعنا جو انکار کیا کرتے تھے اس کو سن لیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے تیرے وعدہ کی صداقت کو دیکھ لیا اور تیرے رسولوں کی تصدیق کو سن لیا۔ ابصروا انہوں نے اس کو اس وقت دیکھا جب دیکھنا انہیں نفع نہیں دے گا اور انہوں نے اس وقت سنا جب سننا انہیں نفع نہیں دے گا۔ فارجعنا ہمیں دنیا کی طرف بھیج دو ، آیت نعمل صالحا انا موقنون ہم دوبارہ اٹھانے کی تصدیق کرنے والے ہیں ؛ یہ نقاش کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم اس کی تصدیق کرنے والے ہیں جو حضرت محمد ﷺ لائے کہ وہ حق ہے، یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے۔ سفیان ثوری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انہیں جھٹلایا۔ فرمایا : آیت ولو ردو لعادو لمانھوا عنہ وانھم لکاذبون (الانعام : 1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : انا موقنون کا معنی ہے اب ہم سے شکوک زائل ہوچکے ہیں وہ دنیا میں دیکھا اور سنا کرتے تھے لیکن وہ تدبر نہیں کیا کرتے تھے تو وہ اس آدمی کی طرح ہوتے ہیں جو نہ دیکھتا اور نہ سنتا ہے جب وہ آخرت میں متنبہ ہوئے اس وقت گویا وہ ہوگئے کہ وہ سن اور دیکھ رہے ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اے ہمارے رب ! حجت و دلیل تو تیری ہی ہے ہم نے تیرے رسولوں اور دنیا میں تیری مخلوقات کے عجائب کو دیکھا اور ہم نے ان کی کلام کو سنا تو ہمارے لیے کوئی دلیل نہیں۔ یہ ان کی طرف سے اعتراف ہے پھر انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے تاکہ وہ ایمان لے آئیں۔
Ayah 32:13محمد بن کعب قرظی نے کہا، جب انہوں نے کہا : آیت ربناابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون تو اس قول کے ساتھ اس کا رد فرمایا : آیت ولو شئنا لا تینا کل نفس ھداھا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اگر میں چاہتا تو سب لوگوں کو ھدایت عطا فرما دیتا ان میں سے کوئی بھی ھدایت سے پیچھے نہ رہتا۔ آیت ولکن حق القول منی ابن مبارک نے رقائق میں طویل حدیث ذکر کی ہے ہم نے اس کا ذکر ” التذکرہ “ میں کیا (2) ۔
نحاس نے کہا : آیت ولو شئنا لاتینا کل نفس ھد ھا کے معنی میں دو قول ہیں : (1) دنیا میں (2) سیاق کلام دلالت کرتا ہے کہ یہ آخرت میں ہوگا۔ اگر ہم چاہتے کہ ہم انہیں دنیا اور امتحان کی طرف لوٹا دیتے جس طرح انہوں نے سوال کیا۔ آیت ولکن حق القول منی لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین میری طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے کہ جس نے میری نافرمانی کی میں اسے آگ کا عذاب دوں گا۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اگر وہ انہیں لوٹاتا تو وہ لوٹ جاتے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت ولو ردو لعادو لما نھو عنہ (الانعام : 28 )
اس ہدایت سے مراد دل میں معرفت پیدا کرنا ہے اور معتزلہ اس سے یہ مراد لیتے ہیں : اگر ہم چاہتے تو خوفناک نشانیوں کو ظاہر کر کے ہم انہیں ہدایت پر مجبور کردیتے لیکن ایسا کرنا اس کی جانب سے اچھا نہ ہوتا کیونکہ یہ اس مقصد کے خلاف ہوتا جو اس بندے کو احکام کا مکلف بنانے سے حاصل ہوتا ہے وہ ثواب ہے اور اس ثواب کا مستحق نہیں بن سکتا مگر وہی شخص جو اپنے اختیار سے کوئی فعل کرتا ہے۔ امامیہ نے اس کی تاویل میں کہا ہے : یہ جائز ہے کہ اس سے وہ ہدایت مراد لے جو آخرت میں جنت کے راستہ کی طرف اور کسی کو سزا نہ دے لیکن اس کی جانب سے یہ قول ثابت ہے کہ وہ جہنم کو بھر دے گا۔ ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ پر کوئی لازم نہیں کہ سب کو جنت کی طرف ہدایت دے۔ علماء نے کہا : بلکہ واجب معصومین کو ہدایت دینا ہے۔ جس کا گناہ ہو تو اس کی جہنم کا طرف راہنمائی جائز ہوگی یہ ان کے افعال پر جزا ہے، اس کو جائز قرار دینا درست نہیں، کیونکہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں ہدایت سے مراد ایمان کی طرف ہدایت ہے۔ علماء نے ان کے بارے میں ان دو تاویلوں کے متعلق ایسی گفتگو کی ہے جو دین کے اصول میں کفایت کرتی ہے۔ جواب میں سب سے مناسب وموزوں یہ ہے کہ کہا جائے : ہمارے اور تمہارے نزدیک یہ باطل ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جبروکراہ کے ساتھ ہدایت نصیب فرمائے کیونکہ اگر اسے تسلیم کیا جائے تو یہ جبریہ کے مذہب کی طرف لے جاتا ہے وہ مذہب ہمارے اور تمہارے نزدیک بےوقعت ہے تو کوئی چیز باقی نہیں بچتی مگر یہ ہے کہ مومنوں میں سے ہدایت یافتہ کو اللہ تعالیٰ بندے کے اختیار کی بنا پر انہیں ایمان وطاعت کی طرف دعوت دیتا ہے یہاں تک کہ اسے مکلف بنانا صحیح ہوجاتا ہے۔ وہ جو چاہے وہ اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ایمان وطاعت اپنا لے بطور جبر ایسا نہ کرے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت لمن شاء منکم ان یستقیم (التکویر) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت فمن شاء اتخذالی ربہ سبیلا (المزمل) پھر اس کے پیچھے ان دو آیتوں کو بیان کیا آیت وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ (الانسان : 30) مومنوں کا ایمان اس کی مشیت سے واقع ہوا اور اس امر کی نفی کردی کہ وہ کوئی چیز چاہ سکتے ہیں وہ اس وقت کوئی چیز چاہیں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ اسی وجہ سے جبریہ نے مزید تفریط سے کام لیا جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ایمان اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے ساتھ متعلق ہے۔ انہوں نے کہا : مخلوق اپنے تمام تر امور میں مجبور ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو دیکھتے : آیت وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ (الانسان : 30) اور قدریہ نے بھی حد سے تجاوز کیا جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ان کی ایمان کی طرف ہدایت بندوں کی مشیئت کے ساتھ متعلق ہے۔ انہوں نے کہا : مخلوق اپنے افعال کی خود خالق ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف توجہ کی : آیت لمن شاء منکم ان یستقیم (التکویر)
ہمارا مذہب دونوں کے درمیان میانہ روی پر مشتمل ہے۔ ہمارا مذہب جبریہ اور قدریہ کے درمیان ہے اور بہترین امر درمیانہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل حق نے کہا : ہم جس کی طرف مجبور کیے جائیں اور جس میں ہمیں اختیار ہوتا ہے اس میں ہم فرق کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ ہم فرق کا ادراک کرتے ہیں، اس رعشہ کی حرکت میں جو انسان کے ہاتھ میں بغیر کسی حیلہ اور ارادہ کے ہوتی ہے اور اس کے ساتھ اس کی قدرت شامل نہیں ہوتی، اور اس اختیاری حرکت کے درمیان جب وہ اپنے ہاتھ کو حرکت دیتا ہے جو رعشہ کی حرکت کے مماثل ہوتی ہے۔ جو دونوں حرکتوں یعنی رعشہ کی حرکت اور اختیاری حرکت میں فرق نہیں کرتا جب کہ وہ دونوں اس کی ذات میں موجود ہوتی ہیں۔ اس کے ہاتھ میں محسوس کی جاتی ہیں وہ اس کا مشاہدہ بھی کرتا ہے اور اس کا حاسہ، ادراک بھی کرتا ہے تو ایسا شخص پاگل ہے، اس کے حس میں خلل ہے اور عقلاء کی جماعت سے خارج ہے یہی وہ واضح حق ہے۔ یہی افرط وتفریط کے طریقوں کے درمیان اعتدال کا راستہ ہے۔
کلا طرفی قصد الامور میم
میانہ روی کی دونوں جانبیں مذموم ہیں۔ اسی اعتبار سے علماء میں سے اہل نظر نے پسند کیا کہ دو منزلوں کے درمیان اس منزل کو کسب کا نام دیں۔ انہوں نے یہ نام کتاب اللہ سے اخذ کیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت (البقرہ : 286)
Ayah 32:14آیت فذوقوبما نسیتم لقاء یومکم ھذا اس میں دو قول ہیں : (1) یہ اس نسیان سے ماخوذ ہے جس کے ساتھ کوئی یاد نہ ہو۔ یعنی انہوں نے اس دن کے لیے کوئی عمل نہ کیا تو وہ بھولنے والوں کے قائم مقام ہوگئے۔ (2) جو تم چھوڑآئے اس کو تم نے بھلا دیا۔ اسی طرح انا نسینکم ہے۔ محمد بن یزید نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت ولقد عھدنا الی ادم من قبل فنسی (طہ : 115) سے استدلال کیا ہے۔ کہا : اس امر پر دلیل کہ یہ ترک کے معنی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں بتایا فرمایا : آیت ما نھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین (الاعراف (رح) : 20) اگر حضرت آدم (علیہ السلام) بھول گئے تھے تو شیطان نے تو آپ کو یاد دلایا تھا۔ اور یہ شعر پڑھا :
کا نہ خارجامنجنب صفحتہ سفود شرب نسوہ عندمفتاد
اس شعر میں بھی نسو ہ، ترکوہ کے معنی میں ہے۔ اگر یہ نسیان میں سے ہوتا تو انہوں نے اس پر ایک دفعہ عمل کیا ہوتا۔
ضحاک نے کہا : نسیتم تم نے میرے امر کو ترک کردیا۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : تم نے اس دن میں دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان کو ترک کردیا۔ نسینکم ہم نے تمہیں بھلائی کے معاملہ میں ترک کردیا ؛ یہ سعدی کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : ہم نے تم کو عذاب میں چھوڑدیا (1) ۔ انا نسینکم سے کلام کو شروع کرنے اور فعل کی بناء ان کے اسم پر رکھنے میں ان سے انتقام لینے میں شدت ہے۔ معنی ہے اسے چکھو، یعنی جس میں تم ہو جیسے مر چکے ہوتے، رسوائی اور غم یہ سب اللہ تعالیٰ کو بھولنے کے سبب ہیں۔ یعنی دائمی عذاب چکھو یہ ایسا دائمی ہے جو جہنم میں کبھی ختم نہ ہوگا۔
آیت بما کنتم تعملون یعنی دنیا میں جو تم گناہ کرتے رہے ہو۔ بعض اوقات ہو چیز جو نفس پر طاری ہوتی ہے اسے ذوق سے تعبیر کرتے ہیں اگرچہ وہ چیز کھائی جانے والی نہیں ہوتی کیونکہ اس کا احساس اسی طرح کا ہوتا ہے جس طرح کھائی جانے والی چیز کو چکھنے سے احساس ہوتا ہے۔ عمر بن ابی ربیعہ نے کہا :
فذقھیرھا انکنتتزعم انھافسادالایاربما کذب الزعم
طفیل نے کہا :
فذوقو اکما ذقناغداۃ محجر منالغیظفی اکبادناوالتحوب
پس تم چکھو جس طرح ہم نے محجر کی صبح اپنے جگروں میں غصہ اور گناہ کو چکھا تھا۔
تذوقتہ میں نے اسے تھوڑا تھوڑا چکھا۔ اور امر مستذاق معلوم اور تجربہ شدہ امر۔ شاعر نے کہا :
وعھد الغانیاتکعھد قینونت عنہ الجعائلمستذاق
نغمہ گانے والیوں کا وعدہ غلاموں کے وعدہ کی طرح ہے جس سے تجربہ شدہ اور معلوم اجرتیں تھک جاتی ہیں۔ ذواق کا معنی اکتایا ہوا۔
Ayah 32:15یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے یعنی وہ کفر سے محبت کی بنا پر تم پر ایمان نہیں رکھتے۔ تجھ پر اور قرآن پر وہ لوگ ایمان لائیں گے جو تدبر کرنے والے ہوں گے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے والے ہوں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جب ان پر قرآن پڑھا جائے گا تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ آیت خرواسجدا کا معنی ہے رکعا۔ مہدوی نے کہا : یہ اس کے نقطہ نظر کے مطابق ہے جو سجدہ تلاوت رکوع میں کرنے کو جائز سمجھتا ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے۔ آیت وخر راکعاواناب (ص) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد سجدہ ہے ؛ اکثر علماء کی یہی رائے ہے۔ وہ اپنے مونہوں کے بل سجدہ میں گر پڑے وجہ آیت کی تعظیم اور اس کے سطوت و عذاب سے خوف ہے۔
آیت وسبحو بحمد ربھم انہوں نے حمد کے ساتھ تسبیح کو ملا دیا، یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی اور اس کی حمد بیان کی۔ انہوں نے اپنے سجدوں میں کہا : سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان ربی الاعلی وبحمدہ یعنی وہ مشرکوں کے قول سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔
سفیان نے کہا : انہوں نے اپنے رب کی حمد بیان کرتے ہوئے نماز پڑھی (1) ۔ آیت وھم لا یستکبرون وہ اس کی عبادت میں تکبر نہیں کرتے ؛ یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے۔ نقاش نے کہا : وہ اہل مکہ کی طرح سجدہ کرنے سے تکبر نہیں کرتے (2) ۔
Ayah 32:16آیت تتجافی جنوبھم عن المضاجع بستروں سے ان کے پہلو جدا اور دور رہتے ہیں۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہے یعنی متجا فیہ جنوبھم، مضاجع یہ مضجع کی جمع ہے۔ اس سے مراد نیند کی جگہیں ہیں۔ اس سے مراد لیٹنے کے اوقات بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ مجاز ہے حقیقی معنی اولی ہے (3) ۔ اسی معنی میں حضرت عبداللہ بن رواحہ کے اشعار ہیں :
وفینا رسول اللہ یتلو کتاب ہذا انشق معروفمن الصبحساطع (4)
یبیتیجافی جنبہ عن فراشہ اذا استثقلت بالمشرکین المضاجع
ہمارے درمیان اللہ کا رسول ہے جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے جب معروف یعنی صبح پھیلتی ہے وہ رات گذارتا ہے جب کہ آپ کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے جب مشرکوں کے بستر ان سے بوجھل ہوتے ہیں۔
زجاج اور رمانی نے کہا : تجافی سے مراد اوپر کی جانب سے الگ ہونا۔ یہ اسی طرح ہے جب کوئی آدمی خطا کار سے در گذر کرے جب وہ گالی وغیرہ دے۔ جنوب یہ جنب کی جمع ہے۔ ان کے پہلو بستر سے کیوں جدا رہتے ہیں اس میں دو قول ہیں : (1) اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے وہ نماز میں ہوں یا غیر نماز میں ؛ یہ حضرت ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے (2) نماز کے لیے۔ وہ نماز جس کے لیے ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں اس کے بارے میں چار قول ہیں : (1) رات کے وقت نفل پڑھنا ؛ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے ؛ یہی اکثر لوگوں کا قول ہے، اسی میں مدح ہے ؛ یہ مجاہد، اوزاعی، مالک بن انس، حسن بن ابی الحسن، ابوالعالیہ وغیرہم کا قول ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین (السجدہ : 17) کیونکہ انہیں ایسے امور پر جزا دی گئی ہے جس کو انہوں نے مخفی رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اس کی وضاحت بعد میں آئے گی۔
رات کے وقت قیام کرنے کے بارے میں بیشمار احادیث ہیں ان میں سے ایک حضرت معاذ بن جبل کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں فرمایا : ” کیا میں تمہاری خیر کے دروازوں کی طرف رہنمائی نہ کروں روزہ ڈھال ہے، صدقہ خطا کو ناپید کرتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور رات کے وسط میں آدمی کی نماز پھر ان آیات کا آیت تتجا فی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعاومما رزقناھم ینفقونفلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزآء بما کانوا یعملون کی تلاوت کی “ (1) ابو دائود طیالسی نے اپنی سند میں، قاضی اسماعیل بن اسحاق اور ابو عیسیٰ ترمذی نے اسے نقل کیا ہے اس کے بارے میں کہا : حدیث حسن صحیح ہے۔ (2) اس سے مراد عشاء کی نماز ہے جسے عتمہ کہتے ہیں (2) ؛ یہ حضرت حسن بصری اور عطا کا قول ہے۔ ترمذی نے حضرت انس بن مالک سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت اس نماز کے انتظار کرنے کے بارے میں نازل ہوئی جسے عتمہ کہتے ہیں (3) ۔ کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (3) مغرب اور عشاء کے درمیان نفل پڑھنا ؛ یہ قتادہ اور عکرمہ کا قول ہے۔ ابو دائود نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ اس آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں (4) جو مغرب اور عشاء کے درمیان نفل پڑھتے ہیں (4) ضحاک نے کہا : تجافی الجنوب سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی عشاء اور صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے ؛ یہ قول حضرت ابو دائود اور حضرت عبادہ نے کیا۔
میں نے کہا : یہ اچھا قول ہے۔ یہ معنوی طور پر تمام اقوال کو جامع ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عشاء کی نماز کا انتظار کرنے والا یہاں تک کہ وہ نماز پڑھے نماز اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہوتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ایک آدمی ہمیشہ نماز میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کا انتظار کرتا ہے “ (5) ۔ حضرت انس ؓ نے کہا : آیت سے مراد عشاء کی نماز کا انتظار کرنا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ رات کے ایک تہائی تک اسے موخر کیا کرتے تھے۔ ابن عطیہ نے کہا : جاہل لوگ غروب آفتاب کے ساتھ ہی سو جاتے ہیں اور اس وقت سوتے ہیں جس وقت انسان چاہتا ہے تو عشاء کے وقت کا انتظار مشکل ہوجاتا ہے۔ صبح کی نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے والا خصوصا اول وقت میں جس طرح نبی کریم ﷺ یہ نماز پڑھا کرتے تھے۔ نادر اور مشکل ہوچکا ہے۔
عبادت یہ ہے جو آدمی اول وقت میں اس نماز کی محافظت کرتا ہے وہ سحری کے وقت اٹھتا ہے وضو کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوتی ہے۔ پھر بستروں سے دوری رات کے اول اور آخر میں ثابت ہوجاتی ہے۔ اس سے اضافہ وہ روایت کرتی ہے جو امام مسلم نے حضرت عثمان بن عفان سے نقل کی ہے، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے فرمایا : ” جس نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا اس نے نصف رات کا قیام کرلیا “۔ ترمذی اور ابو دائود کی اس حدیث میں الفاظ یہ ہیں۔ ” جو آدمی جماعت کے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر ہوا تو اس کو نصف رات کا قیام ثابت ہوگیا اور جس نے عشاء اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی تو اس کے لیے پوری رات کا قیام ثابت ہوگیا “ (6) ۔ سورة النور میں حضرت کعب ؓ سے اس آدمی کے بارے میں روایت مروی ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد چار رکعات پڑھیں تو وہ چار رکعات اس کے لیے لیلۃ القدر کے قائم مقام ہوں گی۔
مغرب اور عشاء کے درمیان نماز کی فضیلت اور رات کے قیام کے بارے میں بہت اچھے آثار آئے ہیں۔ ابن مبارک نے ذکر کیا۔ کہا : یحییٰ بن ایوب، محمد بن حجاج سے یا ابن ابی الحجاج سے وہ عبد الکریم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعات پڑھیں اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جائے گا “۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ پھر تو ہمارے محلات اور گھر زیادہ ہوجائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر و افضل۔ یا فرمایا : اطیب۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے فرمایا : ” اوابین کی نماز وہ خلوت ہے جو مغرب اور عشاء کے درمیان ہوتی ہے یہاں تک کہ لوگ نماز کی طرف لوٹتے ہیں “۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اس وقت نماز پڑھا کرتے تھے اور کہتے : صلوۃ الغفلۃ یہ مـغرب اور عشاء کے درمیان ہوتی ہے ؛ ابن مبارک نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عمر ؓ سے اسے مرفوع نقل کیا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جس کے پہلو مغرب اور عشاء کے درمیان بستر سے دور رہے اس کے لیے جنت میں ایسے محل بنائے جائیں گے جو ایک سال کی مسافت تک پھیلے ہوں گے۔ ان دونوں میں ایسے درخت ہوں گے اگر اہل مشرق اور اہل مغرب اس کے نیچے اتریں تو پھل ان کو کافی ہوجائے گا “ یہ اوابین کی نماز اور غافلین کی غفلت ہے۔ بیشک دعاء مستجاب میں سے جسے رد نہیں کیا جاتا وہ دعا ہے جو مغرب اور عشاء کے درمیان ہوتی ہے۔
فصل تجا فی کی فصلیت میں
حضرت عبد اللہ بن مبارک نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے : جب قیامت کا دن ہوگا ایک منادی کرنے ولا نداکرے گا آج عنقریب تم جان لو گے کہ اصحاب کرم کون لوگ ہیں ؟ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے والے اٹھ کھڑے ہوں، وہ اٹھیں گے تو انہیں جنت کی طرف لطف اٹھانے کے لیے بھیج دیا جائے گا۔ پھر دوبارہ وہ ندا کرے گا آج تم جان لو گے، اصحاب کرم کون ہیں ؟ وہ اـٹھ کھڑے ہوں جن کے پہلو بستروں سے الگ رہے، جو خوف و طمع میں اپنے رب کی عبادت کیا کرتے تھے اور ہم نے جو رزق دیا اس میں سے خرچ کرتے۔ وہ اٹھیں گے اور انہیں جنت کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ پھر وہ تیسری دفعہ ندا کرے گا آج تم جان لو گے کہ اصحاب کرم کون ہیں ؟ وہ اٹھ کھڑے ہوں جنہیں تجارت اور بیع اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے، نماز کے قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتے تھے، وہ اس دن سے ڈرتے تھے جس میں دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہوجاتے ہیں۔ وہ اٹھیں گے اور جنت کی طرف انہیں بھیج دیا جائے گا۔
ثعلبی نے اس حدیث کو حضرت اسماء بنت یزید سے مرفوع نقل کیا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ اگلوں اور پچھلوں کو جمع کردے گا تو ایک ندا کرنے والا آئے گا وہ بلند آواز سے اعلان کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی : آج اہل محشر جان لیں گے کون کرم کا زیادہ مستحق ہے ؟ وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوں جن کے پہلو بستروں سے الگ رہتے تھے۔ وہ اٹھیں گے وہ تعداد میں تھوڑے ہوں گے، وہ دوبارہ ندا کرے گا : آج تم جان لو گے کون کرم کا زیادہ مستحق ہے ؟ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں جنہیں تجارت اور بیع اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہیں کرتے تھے وہ اٹھیں گے پھر وہ تیسری دفعہ اعلان کرے گا : آج تم جان لوگے کون کرم کا زیادہ مستحق ہے ؟ ہر حال خوشحالی اور تنگ دستی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے والے اٹھ کھڑے ہوں۔ وہ اٹھ کھڑے ہوں گے وہ تعداد میں تھوڑے ہوں گے ان سب کو جنت کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ پھر باقی لوگوں کا حساب ہوگا۔
ابن مبارک نے ذکر کیا ہے معمر نے ایک آدمی سے وہ ابو العلا بن شخیر سے وہ حضرت ابو ذر ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں : تین قسم کے لوگ ایسے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دیکھ کر ہنسے گا اور ان کو دیکھ کر خوش ہوگا : (1) وہ آدمی جو رات کو اٹھا اپنے بستر اور گر مائش کو ترک کیا، پھر اس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا پھر نماز کے لئے کھڑا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا :” میرے بندے نے جو کچھ کیا ہے اس پر کس چیز نے اسے بر انگیختہ کیا ؟ “ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! تو ہماری بنسبت اسے بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : ” میں بہتر جانتا ہوں لیکن تم مجھے خبر دو “۔ وہ عرض کریں گے : تو نے اسے کسی چیز کی امید دلائی تو اس نے اس کی امید کی اور تو نے اسے ڈرایا تو وہ اس سے ڈرا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : ” میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ جس چیز سے یہ ڈرا میں نے اس سے اسے امن دیا اور جو اس نے امید رکھی میں نے اسے اس کے لیے ثابت کردیا “۔ کہا : ایک آدمی ایک چھوٹے لشکر میں تھا وہ دشمن سے ملا، اس کے ساتھی شکست کھا گئے اور وہ ثابت قدم رہا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا گیا یا اللہ تعالیٰ نے ان پر اسے فتح دے دی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے اسی واقعہ کی طرح ارشاد فرمائے گا۔ ایک آدمی رات بھر چلتا رہا یہاں تک کہ جب رات کا آخری پہر تھا وہ بھی اترا اور اس کے ساتھی بھی اترے اس کے ساتھی سو گئے اور وہ اٹھ کر نماز پڑھنے لگا۔ اللہ تعالیٰ اس کی مثل فرشتوں سے فرمائے گا۔ قصہ کا ذکر کیا۔
آیت یدعون ربھم حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے، یہ بھی جائز ہے کہ صفت مستانفہ ہو، یعنی آیت تتجافی جنوبھم وھم ایضا فی کل حال یدعون ربھم لیلھم ونھارھم یعنی ان کے پہلو جدا رہتے ہیں اور وہ ہر حال میں رات اور دن اپنے رب سے دعا کرتے رہتے ہیں۔ خوفا یہ مفعول لاجلہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ مفعول مطلق ہو وطمعا یہ بھی مفعول لاجلہ ہے۔ یعنی عذاب سے ڈرتے ہوئے اور ثواب کی طمع میں۔ آیت ومما رزقنھم ینفقون، ما، الذی کے معنی میں ہوگا۔ مصدری معنی میں ہوگا۔ دونوں صورتوں میں یہ من سے الگ ہوگا۔ ینفقون اس کا معنی فرض زکوٰۃ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نفل صدقہ ہے۔ یہ قول زیادہ مناسب ہے۔