31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 31:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں

آیت الم تلک ایت الکتب الحکیم سورتوں کے آغاز میں کلام گزر چکی ہے۔ تلک یہ محل رفع ہے کیونکہ مبتدا مضر ہے تقدیر کلام یہ ہے ھذہ تلک۔ یہ بھی پڑھا جاتا ہے آیت تلک ایت الکتاب الحکیم یہ تلک کا بدل ہے۔ کتاب سے مراد قران اور حکیم سے مراد محکم ہے، یعنی اس میں کوئی خلل اور کوئی تناقض نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حکمت والا ہے۔ اور ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حاکم ہے۔
Ayah 31:3

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکو کاروں کے لئے ہدایت اور رحمت

ھدی ورحمۃ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اس کی مثل ھذہ ناقۃ اللہ لکم ایۃ (اعراف : 73) یہ دونوں مدنیوں، ابو عمرو، عاصم اور کسائی کی قراءت ہے۔ حمزہ نے ھدی ورحمۃ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیـ: (1) مبتدا مضمر ہے کیونکہ یہ پہلی آیت ہے (2) یہ تلک کی خبر ہے۔ محسن وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہو، اگر بندہ اسے نہ دیکھ رہا ہو تو اللہ تعالیٰ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ـ: وہ دین میں محسن ہیں۔ دین سے مراد اسلام ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للہ (النسائ : 125) الذین یقیمون الصلوۃ یہ صفت ہے موصوف سے الگ ہونے کی بنا پر یہ محل رفع میں ہے جو اس معنی میں ہے ھم الذین۔ نصب اعنی مضمرہونے کی وجہ سے ہے اس آیت اور اس کے بعد والی آیات میں گفتگو سورة بقرہ وغیرہ میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 31:4–6

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بےہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے راستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزا کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت ومن الناس من یشتری لھوالحدیث من محل رفع میں مبتدا ہے لھوالحدیث اس سے مراد غنا ہے ؛ یہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس وغیرہما کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : یہ کتاب وسنت سے ممنوع ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے آیت من یشتری ذالھو او ذات لھو یعنی مضاف محذوف ہے یا تقدیر کلام یہ ہے : آیت لما کان انما اشترا ھا یشتریھا ویبا بدع فی ثمنھا کا نہ اشتراھا للھو۔ میں کہتا ہوں : یہ ان تین آیات میں سے ایک ہے جن سے علماء نے استدلال کیا کہ غنا مکروہ ہے اور اس سے علماء نے منع کیا ہے۔ دوسری آیت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : آیت وانتم سامدون (النجم) حضرت ابن عباس ؓ عنھما نے کہا : قبیلہ حمیر کی زبان میں اس سے مراد غنا ہے یعنی غنی لنا یعنی ہمارے لیے گاناگا۔ تیسری آیت واستفزز من استطعت منھم بصوتک (الاسرائ : 64) مجاہد نے کہا : غنا اور مزامیر ہے۔ سورة الاسراء میں اس کے بارے میں یہ بات گزر چکی ہے۔ امام ترمذی نے حضرت ابو امامہ سے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا : لا تبیعوا القینات ولا تشتروھن ولا تعلموھن ولا خیر فی تجارۃ فیھن و ثمنھن حرام (1) اسی کی مثل میں یہ آیت نازل ہوئی۔ گانا بجانے والی لونڈیاں نہ بیچو، انہیں نہ خریدو اور انہیں اس کی تعلیم نہ دو ان کی تجارت میں کوئی بھلائی نہیں ان کی قیمت حرام ہے۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث غریب ہے، یہ قاسم سے وہ حضرت ابو امامہ سے روایت نقل کرتے ہیں قاسم، ثقہ ہے علی ابن یزید کو حدیث میں کمزور قراردیا جاتا ہے، یہ محمد بن اسماعیل کا قول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس اور حضرت جا بر بن عبداللہ سے یہی تفسیر مروی ہے اور مجاہد نے بھی یہی بیان کیا ہے، ابوالفرح جوزی نے حضرت حسن بصری، سعید بن جبیر، قتادہ اور نخعی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ میں کہتا ہوں، اس آیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے یہ قول ان سب سے اعلی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود نے تین دفعہ بااللہ الذی لا الہ الا ھو کے ساتھ قسم اٹھائی کہ اس سے مراد غنا ہے (2) ۔ سعید بن جبیر نے ابو صہباء بکری سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت ومن الناس من یشتری لھوالحدیث کے بارے میں پوچھا گیا : فرمایا : اس سے مراد غنا ہے اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! اس قسم کو تین دفعہ دہرایا۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ اس سے مراد گانا ہے۔ عکرمہ، میمون بن مہران اور مکحول سے اسی طرح مروی ہے۔ شعبہ اور سفیان نے حکم سے اور حماد نے ابراھیم سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے کہا : غنا (گانا) دل میں نفاق کو جنم دیتا ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے اور یہ اضافہ کیا کہ آیت میں لھوالحدیث سے مراد گانا سننا اور اسی طرح کی باطل چیزوں کو سننا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : لھوالحدیث سے مراد گانا بجانے کے آلات اور گانا ہے (1) ۔ قاسم بن محمد نے کہا : غنا باطل ہے اور باطل جہنم میں ہے۔ ابن قاسم نے کہا : میں نے امام مالک سے اس بارے میں پوچھا، فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت فماذابعدالحق الا الضلل (یونس 32) یہ حق ہے (2) ۔ امام بخاری نے یہ عنوان باندھا ہے باب کل لھو باطل اذا شغل عن طاعۃ اللہ ومن قال لصاحبہ تعال اقامرک (3) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت ومن الناس من یشتری لھوالحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ویتخذھا ھذوا امام بخاری کا قول : اذا شغل عن طاعۃ اللہ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : لیضل عن سبیل اللہ سے ماخوذ ہے۔ حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے اس سے مراد : کفر اور شرک ہے۔ ایک قوم نے ایسی باتوں کی بھی تاویل کی ہے جن کے ساتھ اہل باطل اور اہل لعب، لہو ولعب کا شکار رہتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت نضربن حارث کے حق میں نازل ہوئی (4) ۔ اس نے عجمیوں کی کتابیں رستم اور اسفند یار خریدیں۔ وہ مکہ مکرمہ میں بیٹھا کرتا جب قریش اسے کہتے : محمد ﷺ نے یہ کہا ہے، تو وہ اس سے ہنستا اور قریش کو فارس کے بادشاہوں کے قصے بیان کرتا اور وہ کہتا : میری یہ کہانی (حضرت) محمد ﷺ کی بات سے اچھی ہے۔ فراء، کلبی اور دونوں کے علاوہ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ گانا گانے والی لونڈیاں خرید تاوہ کسی ایسے آدمی کو نہ پاتا جو اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے اپنی لونڈی کی طرف لے جاتا وہ لونڈی سے کہتا : اسے کھانا کھلاؤ، اسے مشروب پلائو اور اسے نغمہ سنائو۔ اور وہ کہتا : یہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف حضرت محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں یعنی نماز، روزہ اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ؛ یہ قول اور پہلا قول شراء میں ظاہر ہے۔ ایک طائفہ کا کہنا ہے : اس آیت میں شراء مجازی معنی میں ہے۔ یہ آیت قریش کی باتوں، اسلام کے بارے میں ان کے لہو و لعب اور باطل میں ان کے داخل ہونے کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عطیہ نے کہا : جس فعل کا کرنا واجب تھا اس کو ترک کرنا اور ان منکرات کو بجا لانا ان کا شراء ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت اولئک الذین اشتروا الضلالۃ باالھدی (البقرۃ : 16) انہوں نے ایمان کے بدلے میں کفر حاصل کیا یعنی کفر کو ایمان سے بدل لیا اور کفر کو ایمان پر تر جیح دی۔ مطرف نے کہا : شراء لھوالحدیث سے مراد لہوالحدیث کو پسند کرنا ہے۔ قتادہ نے کہا : ممکن ہے وہ اس میں اپنا مال خرچ نہ کرے لیکن اس کا سننا اس خریدنا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس باب میں جو کچھ کہا گیا ہے پہلا قول زیادہ اچھا ہے کیونکہ اس کے بارے میں حدیث مرفوع ہے صحابہ اور تابعین کا قول ہے۔ اس میں ثعلبی اور واحدی نے حضرت ابو امامہ کی حدیث میں اضافہ کیا ہے : ـــ” جو آدمی گانے کے ساتھ اپنے آواز بلند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر شیطانوں کو بھیج دیتا ہے۔ ان میں سے ایک ایک کندھے پر ہوتا ہے اور دوسرا دوسرے کندھے پر ہوتا ہے وہ لگا تار اسے اپنے پائوں مارتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ خاموش ہوجاتا ہے “ (1) ۔ امام ترمذی اور دوسرے محدثین نے حضرت انس ؓ عنہوغیرہ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ فرمایا : دو ملوون اور فاجر آوازیں ہیں میں ان دونوں سے منع کرتا ہوں صوت مذمار ورنۃ شیطان عند نغمۃ و مرح ورنۃ عند مصیبۃ لطم خدددوشق جیوب۔ (2) بانسری کی آواز اور شیطانی آوازوہ نغمہ اور اترانے کے وقت آواز نکالنا اور مصیبت کے وقت آواز نکالنا ہے رخساروں پر طمانچہ مارنا اور گریبان پھاڑنا ہے۔ جعفر بن محمد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے وہ حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھے آلات لہو لعب کے توڑنے کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے “ (3) ۔ اسے ابو طالب غیلانی نے نقل کیا ہے۔ ابن بشران عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاــ:” مجھے لہو و لعب اور طبل کو توڑنے کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے “ (4) ۔ امام ترمذی نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب میری امت پندرہ عمل کرے گی تو اس پر آزمائش اترے گی۔ ان میں سے یہ امور ذکر کیے : جب وہ گانا بجانے والی لونڈیوں اور آلات لہو و لعب کو اپنا لیں گے “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے وظہرت القیان والمعازف گانے بجانے والی لونڈیاں اور آلات لہو و لعب غالب آجائیں گے (5) ۔ ابن مبارک نے مالک بن انس سے وہ محمد بن منکدر سے وہ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جو کسی لونڈی کے پاس بیٹھا تاکہ اس سے گانا سنے تو قیامت کے روز اس کے کان میں سیسہ ڈال دیا جائے گا “ (6) ۔ اسد بن موسیٰ ، عبدالعزیز بن سلمہ سے وہ محمد بن منکدر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا :” میرے وہ بندے کہاں ہیں جو اپنی ذاتوں اور کانوں کو لہو و لعب اور شیطان کے آلات سے بچاتے تھے، انہیں کستوری کے باغ میں اتار دو اور انہیں خبر دو کہ میں نے ان پر اپنی رضا اتار دی ہے “ (7) ۔ ابن وہب نے مالک سے وہ محمد بن منکدر سے اس کی مثل روایت نقل کرتے ہیں۔ اور المسلک کے قول کے بعد یہ اضافہ کیا ” پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا “ انہیں میری حمد، میرا شکر اور میری ثنا سنائو اور انہیں بتائو کہ ان پر کوئی خوف نہیں اور وہ غمگیں نہ ہوں گے “۔ یہی معنی حضرت ابو موسیٰ اشعری سے مروی حدیث مرفوع سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے مغنی کی آواز کو توجہ سے سنا تو اسے اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ رو حانیوں کو سنیں۔ عرض کی گئی : روحانیوں کون ہیں ؟ یا رسول اللہ ! ﷺ نے فرمایا :” اہل جنت کے قاری “ (1) ۔ اسے ترمذی حکیم ابو عبداللہ نے ” نوادر الاصول “ میں نقل کیا ہے، ہم نے اسے کتاب ” التذکرہ “ میں امثلہ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ” جس نے دنیا میں شراب پی آخرت میں اس کو نہیں پیے گا “ (2) ۔ ” جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا “ (3) ۔ اس کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں جس طرح ہم نے انہیں بیان کیا ہے۔ مکحول نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جو آدمی مر جائے اور اس کے پاس مغنیہ لونڈی ہو تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو “۔ ان آثار وغیرہا کی وجہ سے علماء نے کہا : گانا گانا حرام ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ عام علماء کے نزدیک اس سے مراد معتاد غنا ہے جو نفوس کو حرکت دے اور ان نفوس کو خواہش نفس، غزل، مخول اور بےحیائی پر بر انگیختہ کرے جو ساکن کو حرکت دے اور پوشیدہ جذبہ کو بڑھا دے۔ جب یہ نوع شعر میں ہو تو اس میں عورتوں کا ذکر ان کے محاسن کا ذکر، شراب کا ذکر اور محرمات کا ذکر کرے اس کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ سب کا اتفاق ہے کہ یہ لہو ہے اور غنا مذموم ہے مگر جو اس سے محفوظ ہو تو خوشی کے اوقات میں تھوڑا بہت جائز ہے جس طرح شادی، عید، اور اعمال شاقہ پر چستی دلانا، جس طرح غزوہ خندق کے موقع پر ہوا، اونٹوں کو تیز چلانے کے موقع پر ہوا اور حضرت سلمہ بن اکوع کا واقعہ ہے۔ جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جسے صوفیاء نے آج اپنا لیا ہے کہ ہمیشہ آلات لہو ولعب سے سنتے ہیں جن میں مختلف قسم کے آلات استعمال ہوتے ہیں تو وہ حرام ہے۔ ابن عربی نے کہا : جہاں تک جنگ کی طبل کا تعلق ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ نفوس کو مضبوط کرتا ہے اور دشمن کو خوفزدہ کرتا ہے۔ چرواہے کے مزمار میں تردد ہے۔ دف مباح ہے۔ جوہری نے کہا : بعض اوقات چرواہے کی بانسری جس کے ساتھ گانا گاتا ہے اسے ہیرعہ اور ہر اعہ کہتے ہیں۔ قشیری نے کہا : نبی کریم ﷺ جس روز مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے تو نبی کریم ﷺ کے سامنے دف بجایا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عنہنے جبرا روکنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے ابا بکر ! انہیں چھوڑ دو تاکہ یہودی جان لیں کہ ہمارا دین وسعت والا ہے “ (4) ۔ بچیاں دف بچاتیں اور کہتیں : ہم بنی نجار کی بچیاں ہیں حضرت محمد ﷺ کتنے اچھے پڑوسی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نکاح کے موقع پر طبل دف کی طرح ہے اسی طرح وہ آلات جو نکاح کے اعلان کا باعث ہوں ان کا استعمال اس میں جائز ہے جب کہ کلام اچھی ہو اس میں رفث نہ ہو۔ مسئلہ نمبر 3۔ ہمیشہ کے لیے غنا میں مصروف رہنا بےوقوفی ہے اس کے ساتھ شہادت رد کردی جائے گی۔ اگر وہ گانے میں ہمیشہ مشغول نہ رہتا ہو تو اس کی شہادت رد نہیں کی جائے گی۔ اسحاق بن عیسیٰ طباع نے ذکر کیا۔ کہا : میں نے امام مالک بن انس سے پوچھا : اہل مدینہ غنا میں سے کسی چیز کی رخصت دیا کرتے تھے۔ فرمایاـ: ہمارے ہاں فاسق لوگ یہ کام کیا کرتے تھے۔ ابو طبیب بن عبداللہ طبری نے ذکر کیا کہا : جہاں تک امام مالک بن انس کا تعلق ہے آپ نے گانا گانے اور اس کے سننے سے منع فرمایا ہے۔ فرمایا : جب کوئی آدمی لونڈی خریدے اور اسے گانا گانے والا پائے تو عیب کی وجہ سے اسے لوٹا دے ؛ یہ عام اہل مدینہ کا مذہب ہے مگر ابراہیم بن سعد، ان سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان سے ذکریا ساجی نے ذکر کیا ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہ دیکھا کرتے تھے۔ ابن خویزمنداد نے کہا : جہاں تک امام مالک کا تعلق ہے ان کے بارے میں کیا جاتا ہے کہ آپ صناعت (فن) کو جانتے تھے جب آپ کا مذہب یہ ہے کہ وہ حرام ہے، ان سے مروی ہے کہ آپ نے کہا : میں نے اس صناعت (فن) کو جب کہ میں نوجوان تھا، میری ماں نے مجھے کہا : اے بیٹے ! یہ فن اس کے لیے مناسب ہوتا ہے جو خوبصورت چہرے والا ہو اور تو اس طرح نہیں ہے لہذا تم تو علوم دینیہ کو حاصل کرو تو میں نے حضرت ربیع کی صحبت اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں خیر رکھ دی۔ ابو طبیب طبری نے کہا : جہاں تک امام اعظم ابوحنیفہ کا تعلق ہے آپ نبیذ کے پینے کو مباح جاننے کے باوجود غنا کو مکروہ جانتے تھے۔ اور غنا کے سماع کو گناہ شمار کرتے تھے، اہل کوفہ کا مذہب بھی یہی ہے، جیسے ابرہیم، شعبی، حماد اور ثوری وغیرہ۔ اس مسئلہ میں ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس کے مکروہ ہونے اور اس سے منع کرنے کے بارے میں اہل بصرہ کے درمیان میں کوئی اختلاف معروف نہیں، مگر وہ روایت جو عبیداللہ بن حسن عنبری سے مروی ہے کہ آپ اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے۔ جہاں تک امام شافعی کا تعلق ہے فرمایا : غنا مکروہ ہے اور باطل کے مشابہ ہے۔ جس نے اس عمل کو کثرت سے کیا تو وہ بیوقوف ہے اس کی گواہی کو رد کردیا جائے گا۔ ابو فرج جوزی نے امام احمد بن حنبل سے تین روایات نقل کی ہیں : (1) ہمارے اصحاب نے ابوبکر خلال اور ان کے صاحب عبدالعزیز سے غنا کی اباحت کا ذکر کیا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ان کے دور میں جو زہدیہ قصائد پڑھے جاتے تھے امام احمد اسے مکروہ نہیں کہتے تھے اسی قول کے اس پر محمول کیا جائے گا۔ اس پر یہ واقعہ بھی دلالت کرتا ہے کہ آپ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو مرگیا اس نے اپنے پیچھے ایک بچہ اور مغنیہ لونڈی چھوڑی بچہ اس لونڈی کو بیچنے کا محتاج ہوا فرمایا : اسے بیچا جائے گا کہ وہ سادہ لونڈی ہے نہ کہ اس شرط پربیچا جائے گا کہ وہ مغنیہ ہے۔ آپ سے عرض کی گئی : وہ تیس ہزار کے ہم پلہ ہے اگر اسے سادہ عام لونڈی کی حیثیت سے بیچا جائے تو وہ بیس ہزار کے برابر ہے ؟ فرمایا : اسے نہ بیچا جائے مگر اس شرط پر کہ وہ سادہ لونڈی ہے۔ ابوالفرج نے کہا : امام احمد نے یہ قول اس لیے کیا کیونکہ یہ لونڈی زہد والے قصائد نہیں پڑھا کرتی تھی بلکہ ایسے اشعار پڑھا کرتی تھی جو عشق و محبت کے جذبات کو بڑھانے والے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ گاناگاناممنوع ہے اگر یہ عمل ممنوع نہ ہوتا یتیم پر اس کے مال کو ضائع کرنا جائز نہ ہوتا، یہ اسی طرح ہوگیا جس طرح حضرت ابو طلحہ ؓ عنہنے نبی کریم ﷺ سے عرض کی : عندی خمر لایتام ؟ میرے پاس یتیموں کا شراب پڑا ہوا ہے ؟ فرمایا : ” اسے بہادو “ (1) ۔ اگر اس کو درست کرنا جائز ہوتا تو یتیموں کے مال کو ضائع کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ طبری نے کہا : مختلف شہروں کے علماء نے غنا کی کراہت اور اس سے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ ابراہیم بن سعد اور عبیداللہ عنبری نے جماعت سے اختلاف کیا ہے جب کی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : علیکم بالسوادالاعظم (2) ومن فارق الجماعۃ مات میتۃ جاھلیۃ سواد اعظم کو لازم پکڑو جو جماعت سے الگ ہوا جاہلیت کی موت مرا۔ ابوالفرج نے کہا : ہمارے اصحاب میں سے قفال نے کہا : مغنی اور رقاص کی شہادت قبول نہ کی جائے گی۔ میں کہتا ہوں : یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ امر جائز نہیں تو اس پر اجرت جائز نہیں۔ ابو عمر بن عبداللہ نے اس عمل (گاناگانے) پر اجرت لینے کو حرام قرار دیا ہے۔ سورة الانعام میں وعندہ مفاتح الغیب (59) کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے تیرے لیے وہ کافی ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : جہاں تک لونڈیوں کے گانے کے سننے کا تعلق ہے تو مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی لونڈی کا نغمہ سنے کیونکہ اس پر اس کی کوئی چیز حرام نہیں نہ اس کے ظاہر سے اس کی کوئی چیز حرام ہے نہ اس کے باطن میں سے کوئی چیز حرام ہے تو اس کی آواز سے لذت حاصل کرنا کیسے حرام ہوگا ؟ مگر عورتوں کا مردوں کے سامنے آنا، ان کے پردہ کو پامال کرنا اور بےحیائی کی بات سننا جائز نہیں جب وہ ایسی چیز کی طرف نکلے جو حلال نہ ہو تو اس کو ابتداء سے منع کردیا جائے گا اور اس کی جڑ سے اکھیڑ دیا جائے گا (3) ۔ ابو الطیب طبری نے کہا : ایسی عورت سے جو محرم نہ ہو تو اصحاب شافعی نے کہا : یہ جائز نہیں ؛ وہ عورت آزاد وہ یا لونڈی ہو۔ کہا : امام شافعی نے فرمایا : لونڈی کا مالک اگر گانا سننے کے لیے عورتوں کو بھی جمع کرے تو وہ سفیہ ہوگا اور اس کی شہادے رد کردی جائے گی۔ پھر اس میں سخت گفتگو کی۔ فرمایا : وہ بدکاری ہے اس کے مالک کو بیوقوف قرار دیا جائے گا کیونکہ اس نے لوگوں کو باطل کی طرف دعوت دی ہے اور جو لوگوں کو باطل کی طرف بلائے تو وہ سفیہ ہوگا۔ مسئلہ نمبر 5۔ لیضل عن سبیل اللہ عام قراءت یاء کے ضمہ کے ساتھ ہے یعنی غیر کو صراط مستقیم سے گمراہ کر دے جب دوسروں کو گمراہ کریتو خود بھی گمراہ ہو۔ ابن کثیر، ابن محیص، حمید، ابو عمرو، ردیس اور ابن ابی اسحاق نے یاء کے فتحہ کے ساتھ لازم پڑھا ہے تاکہ خود صراط مستقیم سے گمراہ ہو۔ ویتخذھا ھذوا دو مدنی قراء، ابو عمر اور عاصم کی قراءت رفع کی صورت میں ہے اس کا عطف من یشتری پر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہو۔ اعمش، حمزہ اور کسائی نے اسے ویتخذھا نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس کا عطف لیضل پر ہے دونوں صورتوں میں بغیر علم پر وقف مستحسن نہیں اور ھذوا پر عطف ہوگا۔ یتخذھا میں ہاء ضمیر آیات سے کنایہ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ السبیل سے کنایہ ہو کیونکہ السبیل کا لفظ مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اولئک لھم عذاب مھین سخت عذاب ہوگا جو انہیں ذلیل ورسوا کر دے گا۔ شاعر نے کہا : ولقدجذعتالیالنصاریبعدمالقی الصلیب من العذابمھینا میں نے نصاری کی پناہ لی بعد اس کے کہ صلیب نے ذلت والا عذاب پایا۔
Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

ایاتنا سے مراد قرآن ہے۔ ولی کا معنا اس نے اعراض کیا۔ مستکبرا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ وقرا بوجھ اور گرانی ہے۔ اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 31:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

جب کفار کے عذاب کا ذکر کیا تو مومنون کے لیے نعمتوں کا بھی ذکر کیا۔ خلدین کا معنی ہے ہمیشہ ہمیشہ۔ وعداللہ یہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ یہ ایسا سچا وعدہ ہے جس میں کوئی خلاف ورزی نہ ہوگی۔
Ayahs 31:9–10

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دئیے تاکہ تم کو ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے اور ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر (اس سے) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں

خلق السموت بغیر عمد ترونھا، ترونھا یہ محل جر میں ہے جو عمد کی صفت ہے ممکن ہے وہاں ستون تو ہوں لیکن دکھائی نہ دیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ السموت سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہو اور وہاں کوئی ستون نہیں۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو کہتے سنا، بہتر یہ ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہو اور وہاں کوئی ستون نہ ہو ؛ یہ مکی کا قول ہے اور بغیر عمد تتمہ کے طور پر کلام ہو۔ اس بارے میں گفتگو سورة الرعد میں گزرچکی ہے۔ والقی فی الارض رواسی سے مراد مضبوط پہاڑ ہیں۔ ان تمید یہ محل نصب میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی کراھیۃ ان تمید کو فیہ یہ کلام مقدر کرتے ہیں معنی ہے لئلا تمید۔ آیت وبث فیھا من کل دابۃ وانزلنا من السماء ماء فانبتنا فیھا من کل زوج کریم حضرت ابن عباس ؓ عنھما سے مروی ہے۔ من کل زوج کریم کا معنی ہے من کل لون حسن ہر اچھی قسم۔ امام شعبی نے اسے لوگوں پر محمول کیا ہے کیونکہ وہ زمین سے پیدا کیے گئے ہیں۔ اور ان میں سے جو جنت کی طرف جائے گا وہ کریم ہے اور ان میں سے جو آگ کی طرف جائے گا وہ لئیم (کمینہ) ہوگا، دوسرے علماء نے یہ تاویل کی کہ نطفہ مٹی سے پیدا کیا گیا ہے قرآن کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

ھذا خلق اللہ یہ مبتدا اور خبر ہے اور خلق مخلوق کے معنی میں ہے یہ جس میں نے ذکر کیا ہے تم آنکھوں سے اس کا معائنہ کرتے ہو۔ خلق اللہ یعنی اللہ کی مخلوق، یعنی اللہ تعالیٰ نے شریک کے بغیر اس کو پیدا کیا۔ فارونی اے مشرکوں کو جماعتو ! ماذا خلق الذین من دونہ یعنی بتوں نے کسے پیدا کیا ؟ بل الظالمون فی ضلل مبین بلکہ مشرک واضح خسارے میں ہیں۔ ما استفہامیہ ہے جو محل رفع میں ہے اور اس کی خبرذا ہے جو الذی کے معنی میں ہے اور خلق کا مفعول ضمیر محذوف ہے جو ھاء محذوفہ ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے فارونی ای شیء خلق الذین من دونہ، جملہ ارونی کی وجہ سے محل نصب میں ہے خلق کے ساتھ ھاء ضمیر مضمر کی ہے جو الذین کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مراد ہے مجھے ایسی اشیاء دکھائوجن کو غیر اللہ نے پیدا کیا۔ اس قول کی بنا پر تو کہتا ہے : ماذاتعملت انحوام شعر تو نے کیا سیکھا علم نحو یا علم شعر۔ یہ بھی جائز ہے کہ ما محل نصب میں ہے جس کو نصب ارونی دے رہا ہے اور ذا زائدہ ہے۔ اس تاویل کی بنا پر تو کہتا ہے : ماذا تعلمت انحو ام شعر تو نے کیا سیکھا علم نحو یا شعر کا علم ؟۔
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ خدا کا شکر کرو اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے

آیت ولقد اتینا لقمان الحکمۃ لقمان اور الحکمۃ دونوں مفعول ہیں۔ لقمان منصرف نہیں کیوں کہ اس کے آخر میں الف، نون زائدتان ہے، تو یہ اس فعلان کے مشابہ ہوگیا جس کی مونث فعلی ہے تو یہ معرفہ میں منصرف نہ ہوگا کیونکہ یہ دوسرا ثقل ہوگا۔ نکرہ کی صورت میں یہ منصرف ہوگا کیونکہ دو ثقلوں میں سے ایک زائل ہوچکا ہے، یہ نحاس کا قول ہے۔ یہ لقمان بن با عوراء بن ناحور بن تارح وہی آذر ہے جو حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کا باپ (1) تھا۔ محمد بن اسحاق نے یہی نسب ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ لقمان بن عنقاء بن سرون ہے وہ نوبیا تھا جو اہل ایلہ سے تعلق رکھتا تھا ؛ سہیل نے اسے ذکر کیا ہے۔ وہب نے کہا : وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بھانجے تھے۔ مقاتل نے کہا : یہ ذکر کیا گیا کہ وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے خالہ زاد تھے (1) زمحشری نے کہا : وہ لقمان بن باعوراء ہیں جو حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بھانجے یا خالہ زاد ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ حضرت دائود سے پہلے فتوی دیا کرتے تھے۔ جب حضرت دائود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو آپ نے فتوی دینا چھوڑ دیا تو آپ سے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا : الا اکتفی اذ کفیت جب معاملہ مجھے کفایت کرتا ہے تو میں اکتفا کیوں نہ کروں۔ واقدی نے کہا : وہ بنی اسرائیل میں قاضی تھے۔ سعید بن مسیب نے کہا : حضرت لقمان مصر کے حبشیوں میں سے تھے بڑے ہونٹوں والے تھے اللہ تعالیٰ نے اسے حکمت سے نوازا اور نبوت سے محروم رکھا (3) ؛ جمہور اہل تاویل کا یہی نقطہ نظر ہے۔ وہ ولی تھے نبی نہ تھے۔ عکرمہ اور شعبی نے ان کے نبی ہونے کا قول کیا ہے اس تعبیر کی بنا پر حکمت کا معنی نبوت ہے۔ صحیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ساتھ حکیم تھے۔ یہی قول اعتقاد، دین وعمل میں سمجھ کے اعتبار سے درست ہے وہ بنی اسرائیل میں قاضی تھے، سیاہ رنگ کے تھے، پائوں پھٹے ہوئے تھے، بڑے ہونٹوں والے تھے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ عنھما کی حدیث ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” حضرت لقمان نبی نہیں تھے وہ ایسے بندے تھے جو بہت زیادہ غورو فکر کرنے والے اور اچھا یقین رکھنے والے تھے اس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس سے محبت کی۔ اس پر حکمت کا احسان کیا اور اسے اختیار دیا کہ اسے خلیفہ بنادے جو حق کے ساتھ فیصلہ کرے۔ حضرت لقمان نے عرض کی : اے میرے رب ! اگر تو نے مجھے اختیار دیا ہے تو میں عافیت کو قبول کرتا ہوں اور آزمائش کو ترک کرتا ہوں اگر تو نے میرے بارے میں حتمی فیصلہ فرمادیا ہے تو سر تسلیم خم ہے بیشک تو مجھے معصوم رکھے گا ‘(4) ۔ ابن عطیہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ثعلبی نے اس کا اضافہ کیا ہے۔ فرشتوں نے اسے آواز دی حضرت لقمان انہیں دیکھ رہے تھے، اے لقمان کیوں ؟ کہا : حاکم سخت ترین منزل پر ہوتا ہے مظلوم ہر جانب سے اسے ڈھانپے ہوتا ہے اگر اس کی مدد کی جائے تو وہ نجات پانے کے لائق ہے اگر خطا کرے تو جنت کے راستہ کو بھول جائے۔ جو دنیا میں ذلیل ہو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ دنیا میں معززہو جو آخرت پر دنیا کو اختیار کرتا ہے دنیا اس پر غضب ناک ہوجاتی ہے اور وہ آخرت کو بھی نہیں پاتا۔ فرشتے اس کی اچھی گفتگو سے متعجب ہوتے وہ سوئے تو انہیں حکمت دی گئی وہ بیدار ہوئے تو حکمت کی باتیں کررہے تھے۔ ان کے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) کو اس امر کے بارے میں ندا کی گئی تو انہوں نے خلافت کو قبول کرلیا۔ حضرت لقمان نے جو شرط لگائی اس شرط کا ذکر حضرت دائود (علیہ السلام) نے نہ کیا تو آپ سے کئی دفعہ خطا ہوئی۔ سب خطائوں کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔ حضرت لقمان (علیہ السلام) اپنی حکمت کے ساتھ ان کی مدد کرتے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے انہیں کہا : اے لقمان ! تیرے لیے مبارک ہو تجھے حکمت سے نوازا گیا اور تجھ سے آزمائش دور کردی گئی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو خلافت عطا کی گئی اور انہیں بلا اور فتنہ سے آزمایا گیا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کو نبوت اور حکمت میں اختیار دیا تو آپ نے نبوت پر حکمت کو ترجیح دی۔ حضرت جبریل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے جب وہ سوئے ہوئے تھے حضرت جبریل امین نے ان پر حکمت کو بکھیر دیا۔ آپ نے صبح کی تو حکمت کی باتیں کر رہے تھے۔ آپ سے عرض کی گئی : تو نے نبوت پر حکمت کو کیسے اختیار کیا جب کہ تیرے رب نے تجھے اختیار دیا تھا ؟ فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ مجھے نبوت کو بطور فرض لازم کرتا تو میں اس معاملہ میں اس سے مدد کا طالب ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا تو مجھے خوف ہوا کہ میں نبوت کے فرائض کی ادائیگی میں کمزور نہ پڑ جائوں تو حکمت مجھے زیادہ محبوب تھی (1) ۔ ان کے پیشہ میں اختلاف کیا گیا ہے۔ وہ درزی تھے ؛ یہ سعد بن مسیب کا قول ہے۔ آپ نے ایک حبشی سے کہا : تو اس پر غم نہ کر کہ تو حبشی ہے (2) ، لوگوں میں سے بہترین تین حبشی تھے۔ حضرت بلال، حضرت مہجع جو حضرت عمر ؓ کے غلام تھے اور حضرت لقمان۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہر روز اپنے آقا کے لیے لکڑیوں کا ایک گٹھا لاتے تھے۔ آپ نے ایک ایسے آدمی سے کہا جو آپ کو دیکھ رہا تھا : اگر تو مجھے اس لیے دیکھ رہا ہے کہ میرے ہونٹ موٹے ہیں ان کے درمیان سے نرم گفتگو نکلتی ہے۔ اگر تو مجھے اس لیے دیکھتا ہے کہ میں سیاہ رنگ کا ہوں تو میرا دل سفید ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ چرواہا تھا ایک آدمی نے اسے دیکھا جو اسے پہلے سے جانتا تھا اس نے اسے کہا : تو فلاں کا غلام نہیں ؟ حضرت لقمان نے کہا : کیوں نہیں ؟ اس نے کہا : جو میں دیکھتا ہوں وہ تجھ تک کیسے پہنچا ؟ فرمایا : اللہ کی تقدیر، میرا امانت کو ادا کرنا، سچی بات کرنا اور لا یعنی باتوں کو ترک کرنا ؛ یہ قول عبدالرحمن بن زید نے حضرت جابر سے نقل کیا ہے۔ خالد ربعی نے کہا : وہ بڑھی تھے۔ ان کے آقا نے کہا : میرے لیے ایک بکری ذبح کرو اور میرے پاس اس میں سے دواچھے ٹکڑے لے کر آئو۔ حضرت لقمان اس کے پاس زبان اور دل لائے۔ آقا نے اسے کہا : اس بکری میں ان دو چیزوں سے اچھی چیز نہیں تھی ؟ حضرت لقمان خاموش رہے پھر آقا نے اسے ایک اور بکری ذبح کرنے کا حکم دیا اور کہا : اس میں سے خبیث ترین ٹکڑے پھینک دو تو حضرت لقمان نے اس میں سے زبان اور دل کو پھینک دیا۔ آقا نے آپ سے کہا : میں نے تجھے حکم دیا کہ تو میرے پاس اس میں سے عمدہ ترین ٹکڑے لے آ تو تو میرے پاس زبان اور دل لایا اور میں تجھے حکم دیا کہ تو ان میں سے خبیث ترین ٹکڑے پھینک دے تو تو نے زبان اور دل کو پھینک دیا۔ حضرت لقمان نے آقا سے کہا : جب یہ پاکیزہ ہوں تو ان دونوں سے پاکیزہ تر چیز کوئی نہیں اور جب یہ خبیث ہوں تو ان دونوں سے بدتر کوئی خبیث نہیں (3) ۔ میں کہتا ہوں : یہ معنی کئی مرفوع احادیث سے ثابت ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” خبر دار جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے جب وہ درست ہوجائے تو تمام جسم درست ہوجاتا ہے اور جب فاسد ہوجائے تو تمام جسم فاسد ہوجاتا ہے۔ خبر دار ! وہ دل ہے “ (1) ۔ زبان کے بارے میں بیشمار صحیح اور مشہور آثار آتے ہیں۔ ان میں سے ایک حضور ﷺ کا ارشاد ہے :” جسے اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کے شر سے بچایا وہ جنت میں داخل ہوگیا جو دو جبڑوں کے درمیان ہے اور جو دو ٹانگوں کے درمیان ہے “ (2) ۔ حضرت لقمان کی حکمت کی بیشمار باتیں مروی ہیں ان میں سے یہ ہے آپ سے پوچھا گیا : لوگوں میں سے کون سب سے برا ہے ؟ فرمایا : جو اس کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا خیال کریں۔ میں کہتا ہوں : اس کے ہم معنی مرفوع روایت بھی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں سے ہر ایک سلامتی میں ہے مگر جو اعلانیہ بدکاری کرے اعلانیہ بدکاری میں سے یہ ہے کہ ایک آدمی رات کے وقت کوئی عمل کرے پھر وہ صبح کرتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی ہو تو وہ کہتا ہے : اے فلاں ! میں نے گذشتہ رات یہ یہ کیا۔ اس نے رات گذاری جب کہ اس کا رب اس کی پردہ پوشی کر رہا تھا وہ صبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے پردہ کو چاک کرنے ولا تھا (3) ؛ اسے حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے ؛ امام بخاری نے اسے نقل کیا ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : میں نے حضرت لقمان کی حکمت کی اتنی باتیں پڑھی ہیں جو دس ہزار باب سے بڑھ کر ہیں۔ روایت بیان کی جاتی ہے : حضرت لقمان، حضرت دائود (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ حضرت دائود (علیہ السلام) زرہ بن رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو یوں نرم کردیا تھا جس طرح مٹی ہوتی ہے ارداہ کیا کہ آپ سے پوچھیں تو حکمت نے انہیں آلیا اور خاموش ہوگئے جب دائود (علیہ السلام) نے اسے مکمل کرلیا اور زرہ کو پہنا کہا : تو جنگ کا کتنا اچھا لباس ہے۔ حضرت لقمان نے کہا : خاموشی حکمت ہے اور اس پر عمل کرنے والے کم ہی ہیں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے انہیں کہا : تجھے جو حکیم کہا گیا وہ درست ہے۔ ان اشکر للہ اس میں دو تقدیریں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ان مفسرہ ہو، معنی ہوگا ہم نے اسے کہا کہ تو شکر بجا لا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ محل نصب میں ہے اور فعل اس کے صلہ میں داخل ہے جس طرح سیبویہ نے بیان کیا ہے : کتبت الیہ ان قم مگر یہ توجیہ اس کے نازدیک بعید ہے۔ زجاج نے کہا : معنی ہے تحقیق ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے پس اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ وہ ہمارا شکر بجا لانے کی وجہ سے حکیم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کے شکر سے مراد اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہو اس کی طاعت کرنا (4) ۔ اس کی لغوی اور معنوی حقیقت کے بارے میں قول سورة بقرہ وغیرہ میں گزرچکا ہے۔ آیت ومن یشکر فانمایشکر لنفسہ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے تو وہ اپنے لیے ہی عمل کرتا ہے کیونکہ ثواب کا نفع اسی طرف لوٹتا ہے۔ آیت ومن کفرفان اللہ غنی حمید جس نے نعمتوں کا انکار کیا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو بیان نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی عبادت سے غنی ہے اور مخلوق کے ہاں حمد کیا گیا ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : اپنی مخلوق سے غنی اور اپنے افعال میں محمود ہے (1) ۔
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے

آیت واذقال لقمن لابیہ وھو یعظہ سہیلی نے کہا : ان کے بیٹے کا نام ثاران تھا ؛ یہ طبری اور قتبی کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : اس کا نام شکم تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام انعم تھا (2) ؛ یہ نقاش نے حکایت بیان کی ہے۔ قشیری نے کہا : ان کا بیٹا اور ان کی بیوی دونوں کافر تھے آپ ان دونون کو لگا تار نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگئے۔ میں کہتا ہوں : اس امر پر اللہ تعالیٰ کا فرمان لاتشرک بااللہ ان الشرک لظلم عظیم بھی دلالت کرتا ہے۔ صحیح مسلم اور دوسری کتب میں حضرت عبداللہ ؓ سے روایت مروی ہے کہا (3): جب یہ آیت الذین آمنوولم یلبسو ایمانھم بظلم (الانعام : 82) نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر بڑا شاق گذرا انہوں نے کہا : ہم میں سے کون ایسا شخص ہے جو اپنے آپ پر ظلم نہیں کرتا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جیسا تم گمان کرتے ہو بات اس طرح نہیں بلکہ ظلم سے مراد ہے جو حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا : اے میرے بیٹے ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو بیشک شرک ظلم عظیم ہے “۔ آیت ان الشرک لظلم عظیم کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت لقمان (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خبر ہے حضرت لقمان (علیہ السلام) کی کلام سے منقطع ہے اور ظاہری طور پر متصل ہے تاکہ معنی کی تاکید کا فائدہ دے، اس چیز کی تائید وہ حدیث بھی کرتی ہے کہ جب یہ آیت الذین آمنو ولم یلبسو ایمانھم بظلم نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ڈر گئے انہوں نے عرض کی : ہم میں سے کس نے ظلم نہیں کیا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا ان الشرک لظلم عظیم ان کے خوف کو سکون ہوگیا۔ ان کے خوف کو سکون اس لیے ہوا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خبر ہے۔ بعض اوقات خوف کو سکون اس لیے حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کے بارے میں ذکر کرے جس کی صفت حکمت اور سداد سے لگائے۔ اذ محل نصب میں ہے اس سے پہلے اذکر فعل محذوف ہے۔ زجاج نے اپنی کتاب جو قرآن کے متعلق ہے میں یہ کہا : اذ آتینا کی وجہ سے محل نصب میں ہے معنی ہوگا تحقیق ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی جب اس نے کہا۔ نحاس نے کہا : میں اسے غلط گمان کرتا ہوں کیونکہ کلام میں وائو ہے جو اس سے مانع ہے۔ اور کہا : یا بنی یاء کے کسرہ کے ساتھ اسے پڑھا ہے کیونکہ یہ یاء محذوفہ پر دال ہے۔ جس نے اسے فتحہ دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک فتحہ خفیف ترین حرکت ہے۔ سورة ہود میں اس بارے میں قول گزرچکا ہے۔ یبنی کا قول حقیقت میں مصغر نہیں اگرچہ لفظ میں اس کے وزن پر ہے۔ یہ نرمی پیدا کرنے کے لیے ہے جس طرح ایک آدمی کو کیا جاتا ہے : یا اخی اور بچے کو کہتے ہیں : یا کو یس۔
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کے آنا ہے

اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ ووصیناالانسان بوالدیہ یہ دونوں آیات حضرت لقمان (علیہ السلام) کی وصیت کے درمیان جملہ معترضہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بھی ان چیزوں میں شامل ہے جو حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو وصیت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی، یعنی حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو اور شرک کرنے میں اپنے والدین کی اطاعت نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طاعت کی وصیت کی ان تمام امور میں جو شرک نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا : ہم نے حضرت لقمان (علیہ السلام) سے کہا ان چیزوں میں جو ہم نے حضرت لقمان (علیہ السلام) کو حکمت عطا کی۔ اور ہم نے انسان کو والدین کے حسن سلوک کی وصیت کی یعنی ہم نے اسے کہا : اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو اور ہم نے اسے کہا : ہم نے انسان کو وصیت کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا : تو شرک نہ کرنا اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی یعنی ہم نے لوگوں کو اس کا حکم دیا۔ اور حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اس کا حکم دیا، قشیری نے ان اقوال کا ذکر کیا۔ صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں آیات حضرت سعد بن ابی وقاص کے حق میں نازل ہوئیں، جس طرح سورت عنکبوت میں گزرا ہے ؛ مفسرین کی ایک جماعت کا یہی نقطہ نظر ہے۔ اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین کی طاعت کو گناہ کبیرہ کے ارتکاب اور فرض عین کو ترک کرنے میں ملحوظ خاطر نہیں رکھا جائے گا ہاں مباح امور میں ان دونوں کی طاعت لازمی ہوگی اور ان کی وجہ سے مندوب طاعات کو ترک کرنا مستحسن ہے۔ اسی میں جہاد کفایہ کا امر ہے۔ حالت نماز میں ماں بلائے تو اس کی آواز پر لبیک کہنا یہ بھی ٹھیک ہے کیونکہ نماز کا اعادہ ممکن ہے جب کہ یہ مندوب سے قوی ہے، لیکن اس امر کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ ماں کی ہلاکت کا خوف ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دوسرے ا مور جو نماز کے قطع کرنے کو مباح کردیتے ہیں۔ یہ ندب سے اقوی نہیں۔ حضرت حسن بصری نے اس تفصیل میں مخالفت کی ہے فرمایا : اگر اس کی ماں شفقت کی وجہ سے عشاء کی نماز میں حاضر ہونے سے روکے تو اس کی اطاعت نہ کرے۔ مسئلہ نمبر 2۔ جب اللہ تعالیٰ نے ماں کو، حمل کا ذکر کرنے کے ساتھ اور رضاعت کا ذکر کرنے کے ساتھ اس کے درجہ کو خاص کیا تو اس طرح ماں کو تین درجے حاصل ہوگئے اور باپ کے لیے ایک درجہ ہوگیا۔ اسی کے مشابہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ جب ایک آدمی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میں کس کے ساتھ نیکی کروں ؟ فرمایا :” اپنی ماں کے ساتھ “۔ عرض کی : پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا :” اپنی ماں کے ساتھ “۔ عرض کی : پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا :” اپنی ماں کے ساتھ “ عرض کی : پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا :” اپنے باپ کے ساتھ “ (1) ۔ تو حضور ﷺ نے نیکی میں سے چوتھا حصہ باپ کے لیے بنایا جس طرح اس آیت میں ہے۔ یہ سب باتیں سورة سبحان میں گزرچکی ہیں۔ مسئلہ نمبر 3۔ وھنا علی وھن ماں نے اسے اپنے پیٹ میں اٹھایا اسی طرح ہر روز اس کی کمزوری میں اضافہ ہوتا جاتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عورت خلقت میں کمزور ہے پھر حمل اس کو کمزور کردیتا ہے۔ عیسیٰ ثقفی نے اسے پڑھا وھنا علی وھن دونوں جگہ ہا پر فتحہ ہے حضرت ابو عمرو سے مروی ہے دونوں ایک ہی معنی میں ہیں۔ قعنب جو ام صاحب کا بیٹا ہے نے کہا : ھل للعواذل من ناہفیزجرھا انالعواذلفیھا الاین والوھن (2) کیا ملامت کرنے والیوں کو کوئی روکنے والا ہے کہ وہ انہیں جھڑکتا ان ملامت کرنے والیوں میں تھکن اور کمزوری ہے۔ محل استدلال الوھن ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : وھن یھن، وھن یوھن، وھن یھن جس طرح ورم یرم ہوتا ہے۔ وھنا مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے ؛ قشیری نے اسے ذکر کیا۔ نحاس نے کہا : مفعول ثانی کی حیثیت سے منصوب ہے حرف جر ساقط ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے حملتہ بضعف علی ضعف جمہور نے پڑھا وفصالہ حضرت حسن بصری اور یعقوب نے پڑھا وفصلہ یہ دونوں لغتیں ہیں، یعنی دودھ چھڑانا دو سالوں میں ہے۔ فصال سے مقصود دودھ چھڑانا ہے اس کی غایت اور انتہا کا ذکر کیا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : انفصل عن کذاوہ ممتاز ہوگیا ؛ اسی وجہ سے فصیل کہتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 4۔ احکام اور خرچہ میں تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ رضاعت کی مددت دو سال ہے جہاں تک دودھ کی حرمت کا تعلق ہے ایک فرقہ نے ایک سال مقرر کیا ہے نہ کم اور نہ زیادہ، ایک فرقہ کا خیال ہے دو سال اور جو اس کے ساتھ مہینے ملے ہوتے ہیں جب دودھ پلانے میں اتصال ہو۔ ایک جماعت کا خیال ہے : اگر بچے کو دو سال سے قبل دودھ چھڑادیا گیا اور اس بچے نے دودھ چھوڑ دیا اگر اس نے اس کے بعد دوسالوں کے دوران دودھ پیا تو یہ دودھ حرمت ثابت نہیں کرے گا۔ سورة بقرہ میں یہ بحث مفصل گزرچکی ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ ان اشکرلی، ان زجاج کے قول کے مطابق محل نصب میں ہے۔ اس کی معنی ہے ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی کہ میرا شکر بجا لائو۔ نحاس نے کہا : ان میں سے سب سے عمدہ قول ہے کہ ان مفسرہ ہو معنی ہے ہم نے اسے کہا : میرا شکر بجالائو اور اپنے ولدین کا شکر بجا لائو۔ ایک یہ قول کیا گیا ہے : نعمت ایمان پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو اور تربیت کی نعمت پر والدین کا شکر بجالائو۔ سفیان بن عینیہ نے کہا : جس نے پانچ نمازیں پڑھیں تو اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور جس نے نمازوں کے بعد اپنے والدین کے لیے دعا کی اس نے ان کا شکر ادا کیا (1) ۔
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے راستے پر چلنا پھر تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

مسئلہ نمبر 6۔ آیت وان جاھدک علی الخ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ آیت اور اس سے قبل والی آیت حضرت سعد بن ابی وقاص نے حق میں نازل ہوئیں جب آپ اسلام لائے ان کی والدہ جو حمنہ بنت ابی سفیان بن امیہ تھی اس نے قسم اٹھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائے گی جس طرح ماقبل آیت کی تفسیر میں گزرا ہے۔ مسئلہ نمبر 7 وصاحبھما فی الدنیا معروفا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہے مصاحبا معروفا یہ جملہ بولا جاتا ہے : صاحبتہ مصاحبۃ و مصاحبا، معروفا سے مراد جو اچھا ہو۔ آیت اس امر پر دلیل ہے کہ کافر والدین اگر وہ فقیر ہوں تو مال سے جتنا ممکن ہو ان کی مدد کرنی لازم ہے نرم گفتگو اور نرمی سے اسلام کی طرف دعوت دینا لازم ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی جب ان کے پاس ان کی خالہ یا رضاعی ماں آئی تھی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری ماں میرے پاس آئی ہے جب کہ وہ راغبہ ہے کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ فرمایا :” ہاں “ ، راغبہ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ اسلام سے اعراض کرنے والی ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : میرے نزدیک ظاہر معنی یہ ہے وہ صلہ رحمی میں رغبت رکھتی ہے اگر اس کو حاجت نہ ہوتی تو حضرت اسماء کی خدمت میں حاضر نہ ہوتی۔ حضرت اسماء کی والدہ کا نام قتیلہ بنت عبدالعزی بن عبد اسد تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت عبد الرحمن کی والدہ قدیمی مسلمان تھیں (2) ۔ مسئلہ نمبر 8۔ واتبع سبیل من اناب الی تمام عالم کے لیے وصیت ہے، گویا مامور انسان ہے۔ اناب اس کا معنی مائل ہونا اور کسی شے کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ انبیاء اور صالحین کا راستہ ہے۔ نقاش نے حکایت بیان کی ہے : جن کو حکم دیا گیا ہے وہ حضرت سعد ہیں۔ والذی اناب سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ کہا : جب حضرت ابوبکر صدیق مسلمان ہوئے تو حضرت سعد، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت سعید، اور حضرت زبیر ؓ ان کے پاس آئے اور پوچھا : آپ ایمان لے آئے ہیں ؟ فرمایا : ہاں۔ تو آپ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی امن ھو قانت الخ (الزمر : 9) جب ان چھ افراد نے یہ سنا تو وہ بھی ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی۔ والذین اجتنبوالطاغوت الخ (الزمر : 17) (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : الذی اناب سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ حضرت ابن سعد ؓ نے کہا : جب حضرت سعد اسلام لائے تو ان کے ساتھ ان کے دو بھائی عامر اور عویمر بھی اسلام لے آئے ان میں صرف عتبہ مشرک رہ گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کیا کہ جو قبور میں ہیں ان کو دوبارہ اٹھائے گا، جزا کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہوگا اور اللہ تعالیٰ چھوٹے بڑے اعمال پر آگاہ ہے (2) ۔
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں خدا اس کو (قیامت کے دن) لا موجود کرے گا کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے

حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا : اے بیٹے ! یہ قول حضرت لقمان (علیہ السلام) کا ہے اس قول کے ذریعے حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آگاہ کرنا چاہا (3) ۔ یہ وہ آخری حد تھی جس کو سمجھانا ممکن تھا، کیونکہ خردلہ کے بارے میں کہا جاتا ہے : حس اس کے وزن کا ادراک نہیں کرسکتی، کیونکہ یہ ترازو کو نہیں جھکاتا، یعنی اگر ان مواقع پر رائی کے دانہ کے برابررزق ہو اللہ تعالیٰ اسے لے آتا ہے اور وہاں تک پہنچاتا ہے جس کا یہ رزق ہوتا ہے، یعنی رزق کا ایسا اہتمام نہ کر یہاں تک کہ تو اس کے ساتھ فرائض سے غافل ہوجائے اور جس نے میری طرف رجوع کیا ہے اس کے راستہ کی اتباع سے غافل ہوجائے۔ میں کہتا ہوں : اس معنی میں نبی کریم ﷺ کا حضرت عبداللہ بن مسعود کو ارشاد ہے : لاتکثر ھمک ما یقدر یکون وما ترزق یاتیک (4) اپنی کدو کاوش کو زیادہ نہ کرو جو مقدر میں ہے وہ ہو کر رہے گا اور جو تیرے حق میں رزق مقدر کیا گیا ہے وہ تجھ تک پہنچ جائے گا۔ اس آیت نے اس امر کو بیان کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کا اپنے علم سے احاطہ کیے ہوئے ہے، اس نے ہر شے کو شمار کر رکھا ہے، وہ پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت لقمان کے بیٹے نے اپنے باپ سے اس دانہ کے بارے میں پوچھا جو سمندر کی تہہ میں پڑا ہوتا ہے کیا اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے ؟ تو حضرت لقمان نے اس آیت کے معنی میں جواب دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اس نے اعمال، معاصی اور طاعات کا ارادہ کیا، یعنی اگر نیکی یا خطا دانہ برابر ہو اللہ تعالیٰ اسے بھی لے آئے گا یعنی جس انسان سے اس کا وقوع مقدر ہے وہ اس فوت نہ ہوگی۔ اس معنی کے اعتبار سے موعظہ میں امید اور خوف حاصل ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وضاحت کی طرف منسوب ہے پہلے قول میں امید اور خوف نہیں ہے۔ مثقال حبۃ اس سے مراد ہے جو جواہر کے مناسب ہے یعنی دانہ کی مقدار اور اعمال کے مناسب ہو، یعنی جسے دانہ کے برابر مماثلت کے طریقہ پر وزن کیا جاتا ہے۔ جس نے کہا : یہ جواہر میں سے ہے اس کی تائید اس کا قول کرتا ہے جو عبدالکریم جزری کی قراءت ہے فتکن کاف کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے یہ کن سے مشتق ہے جس سے مراد ڈھانپی ہوئی چیز ہے اس کا اسم مضمر ہے اس کی تقدیر یوں ہوگی ان تک تاء کے ساتھ مثقال سے اوپر جو کہ کان کی جر کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا اسم مضمر ہے اس کی تقدیر مسالتک ہے جس طرح روایت کی گئی ہے یا اس کا اسم المعصیہ والطاعۃ ہے ؛ یہ دوسرے قول کے اعتبار سے ہے۔ اس کی صحت پر ابن لقمان کا اپنے باپ کے لیے قول دلالت کرتا ہے : اے میرے باپ ! اگر میں ایسی جگہ کوئی غلطی کروں جہاں مجھے کوئی نہ دیکھ رہا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے کیسے جانے گا ؟ حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اسے کہا : یبنی انھا الخ ان کا بیٹا مضطرب ہی رہا یہاں تک کہ وہ مرگیا ؛ یہ مقاتل کا قول ہے۔ انھا کی ضمیر ضمیر قصہ ہے، جس طرح تو کہتا ہے : انھا ھند قائمۃ یعنی اگر وہ عمل دانہ برابر ہو۔ بصری اسے جائز خیال کرتے ہیں : انھا زید ضربتہ یعنی ہاء ضمیر سے مراد قصہ ہو۔ کوفی اسے مونث میں ہی جائز سمجھتے ہیں جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ نافع نے پڑھا : مثقال یعنی مرفوع پڑھا ہے۔ اس اعتبار سے تک، خردلہ کے معنی کی طرف لوٹے گی، یعنی ان تک حبۃ من خردل۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مثقال کی طرف ایسا فعل منسوب کیا جس میں تانیث کی علامت ہے اس حیثیت سے کہ وہ مثقال مونث کی طرف مضاف ہے وہ مثقال اسی کی جنس سے ہے لان مثقال الجنۃ الخ کیونکہ رائی کے دانہ کے وزن کے برابر یا تو برائی ہوگی یا نیکی ہوگی جس طرح فرمایا فلہ عشر امثالھا (الانعام : 160) یہاں عشر کو مونث ذکر کیا (کیونکہ یہ اپنی تمیز کے خلاف استعمال ہوتا ہے) اگرچہ مثل کا لفظ مذکر ہے کیونکہ یہاں امثال سے حسنات کا ارادہ کیا ؛ جس طرح شاعر کا قول ہے۔ مشین کما اھتزت رماح تسفھتاعا لیھا مرالر یاح النواسم (1) جب وہ چلتی ہیں تو اپنی چال میں جھومتی ہیں اور دہری ہوتی ہیں گویا وہ نیزے ہیں جن کو کھڑا کیا گیا ہے جن پر ہوائیں چل رہی ہیں تو وہ جھول رہے ہیں اور دہرے ہو رہے ہیں۔ محل استدلال تسفھت ہے جس کا فاعل مر مصدر ہے، یہاں تک تقع کے معنی میں ہے اس لیے یہ خبر کا تقاضا نہیں کرتا۔ فتکن فی صخرۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام کا معنی تفہیم میں مبالغہ کرنا اور انتہا کو پہنچنا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت ایسی چیز تک پہنچتی ہے جو تہہ در تہہ چٹانوں میں ہو، جو آسمانوں میں ہو اور جو زمین میں ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہاں صخرہ سے مراد سات زمینوں کے نیچے چٹان ہے جس پر زمین ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ایسی چٹان ہے جو حوت مچھلی کی پشت پر ہے (1) ۔ سدی نے کہا : یہ ایسی چٹان ہے جو آسمان اور زمین میں نہیں، بلکہ سات زمینوں سے ماوراء ہے اس پر ایک فرشتہ کھڑا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اوفی السموت او فی الارض ان آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : فتکن فی صخرۃ سے کفایت ہوجاتی ہے۔ یہ ایسا قول ہے جو ممکن ہے یہ کہنا بھی ممکن ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان فتکن فی صخرۃ تاکید ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اقراء باسم ربک الخ (العلق) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سبحان الذی الخ (الاسرائ : 1)
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ یابنی اقم الصلوۃ اپنے بیٹے کو طاعات میں سے عظیم طاعت کی وصیت کی وہ نماز، معروف کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ اس سے یہ ارادہ کرتا ہے کہ پہلے خود اس کو بجا لائے اور منکر سے رکے یہاں یہ لفظ تمام طاعات اور فضائل کو جامع ہے۔ جس نے بھی کہا، بہترین کہا : وابدربنفسکفانھاعن غیھافاذا انتھتعنہ فانت حکیم اپنی ذات سے شروع کرو اور اسے سر کشی سے روکو جب نفس اس سے رک گیا تو تو حکیم ہے۔ ان اشعار کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ واصبر علی ما اصابک یہ ارشاد تقاضا کرتا ہے کہ تجھے منکر کو ختم کرنے پر برانگیختہ ہونا چاہیے اگرچہ تجھے ضرر پہنچے۔ یہ اس امر کا شعور دلانا ہے کہ منکر کو ختم کرنے والے کو بعض اوقات اذیت دی جاتی ہے۔ یہ مقدار ندب اور استحباب کے طریقہ پر ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قوت کے اعتبار سے ہے جہاں تک اس کے لزوم کا تعلق ہے تو ایسا نہیں (2) ۔ یہ بحث سورة آل عمران اور سورة مائدہ میں گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں آپ کو دنیا کے مصائب پر صبر کا حکم دیا گیا ہے جس طرح امراض وغیرہ ہوتی ہیں اور یہ حکم دیا گیا کہ گھبراہٹ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی معصیت کی طرف نہ نکلیں، یہ اچھا قول ہے کیونکہ یہ عام ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ ان ذالک من عزم الامور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ مشکلات پر صبر کیا جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نماز قائم کرنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے، یعنی یہ ان امور میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ؛ یہ ابن جریح کا قول ہے۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ مراد ہو یہ مکارم اخلاق اور محتاط لوگوں جو نجات کے راستے پر چلنے والے ہیں ان کے امور میں سے ہیں۔ ابن جریح کا قول زیادہ صحیح ہے۔