32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے

حمزہ نے آیت مآ اخفی لھم کو یاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اس یا کو فتحہ دیا ہے۔ عبداللہ کی قراءت میں مانخفی نون مضموم کے ساتھ ہے۔ مفضل نے اعمش سے ما یخفی لھم یاء مضمومہ اور فاء مفتوحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے من قرات اعین پڑھا ہے جس نے ما اخفی کی یا کو سکون دیا ہے تو یہ فعل مضارع کا صیغہ ہوگا اس کا الف، متکلم کا الف ہوگا۔ ما، اخفی سے محل نصب میں ہوگا اور یہ استفہامیہ ہوگا اور جملہ محل نصب میں ہوگا کیونکہ یہ مفعولوں کے قائم مقام ہوگا اور ضمیر عائد محذوف ہوگی۔ جس نے یا کو فتحہ دیا تو یہ ماضی مجہول کا صیغہ ہوگا۔ ما یہ محل رفع میں مبتدا ہے اور اسکی خبر اخفی اور اس کا مابعد ہے اور اخفی میں ضمیر ما کی طرف لوٹ رہی ہے۔ زجاج نے کہا : اسے ما اخفی لھم کو ما اخفی اللہ لھم کے معنی میں پڑھا گیا ہے ؛ یہ محمد بن کعب کی قراءت ہے اور ما محل نصب میں ہے۔ مہدوی نے کہا : جس نے قرات اعین قراءت کی ہے یہ قرۃ کی جمع ہے اس میں جمع کا صیغہ اچھا ہے کیونکہ یہ جمع کی طرف مضاف ہے اور مفرد اس لیے پڑھتے ہیں کیونکہ یہ مصدر ہے اور یہ اسم جنس ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : یہ مصحف کے خلاف ہے کیونکہ قرۃ کی تاء اس کی لغت کے مطابق تاء سے لکھی جاتی ہے جو وقف پر بھی وصل کا قاعدہ جاری کرتا ہے، جس طرح انہوں نے رحمت اللہ کو تاء کے ساتھ لکھا ہے۔ قراءت سے خط میں الف کا ساقط ہونا جب کہ وہ بولنے میں موجود ہو کوئی عجیب نہیں، جس طرح السموات سے الف کا ساقط ہونا کوئی عجیب بات نہیں یہ زبان اور نطق میں ثابت ہے۔ معنی مراد ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں ان نعمتوں کے بارے میں بتایا جنہیں کوئی نفس، کوئی بشر اور کوئی فرشتہ نہیں جانتا۔ اسی آیت کے معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد بھی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : میں نے صالح بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جسے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور کسی بشر کے دل پر اس کا کھٹکا نہیں ہوا، پھر اسی آیت کو آیت بما کانو یعملون تک پڑھا۔ صحیح میں حضرت سہیل بن سعد ساعدی سے یہ حدیث مروی ہے (1) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : تورات میں لکھا ہوا ہے : وہ لوگ جن کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ایسی نعمتیں ہیں جنہیں کسی انسان نے نہیں دیکھا، کسی کان نے انہیں نہیں سنا اور کسی انسان کے دل پر ان کا گزر نہیں ہوا (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کی تفسیر جاننے سے معاملہ بڑا اور عظیم ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ کرامت ان لوگوں کے لیے ہے جو جنت میں سب سے بلند درجہ رکھتے ہیں جس طرح صحیح مسلم میں حضرت مغیرہ بن شعبہ سے واضح طور پر روایت آئی ہے حضرت مغیرہ، رسول اللہ ﷺ سے اسے مرفوع نقل کرتے ہیں۔ فرمایا : ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا عرض کی : اے میرے رب ! جنت میں سب سے کم مرتبہ کا کون ہوگا ؟۔ فرمایا : وہ شخص ہوگا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو وہ آئے گا تو اسے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہو جائو تو وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! کیسے جب کہ لوگ اپنی اپنی جگہوں پر اتر چکے ہیں اور اپنے اپنے حصے لے چکے ہیں ؟ تو اسے کہا جائے گا : کیا تو اس پر راضی نہیں کہ تیرے لیے دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر ملک ہو۔ وہ عرض کرے گا : میرے رب ! میں راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تیرے لیے وہ اس کے ساتھ اس کی مثل، اس کی مثل۔ اس کی مثل اور اس کی مثل۔ پانچویں دفعہ اس نے عرض کیا : اے میرے رب ! میں راضی ہوں۔ اسے کہا جائے گا : تیرے لیے یہ اور اس کے دس گنا اور تیرے لیے وہ کچھ ہے ہو تیرا نفس چاہے، تیری آنکھیں لذت حاصل کریں۔ وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں راضی ہوں۔ عرض کی : اے میرے رب ! ان میں سے سب سے بلند مرتبہ والا کون ہوگا ؟ فرمایا : وہ لوگ ہوں گے جن کو میں نے چن لیا اور ان کی کرامت کو اپنے ہاتھ سے لگایا یعنی میں نے خود اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور اس پر مہر لگائی۔ کسی آنکھ نے اس کو نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور کسی انسان کے دل پر ہو نہیں کھٹکا۔ فرمایا : کتاب اللہ میں اس کا مصداق یہ فرمان ہے : آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزاء بما کانویعملون (السجدہ) (1) حضرت مغیرہ بن شعبہ سے ان کا قول موقوفا مروی ہے۔ امام مسلم نے بھی اسے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کر رکھی ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، کسی کان نے سنا نہیں اور کسی کے دل پر اس کا کھٹکا نہیں ہوا (2) ۔ وہ ذخیرہ شدہ ہے اللہ تعالیٰ نے جس پر آگاہ کیا اس کو چھوڑدو۔ پھر پڑھا : آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین (السجدہ : 17) ابن سیرین نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کچھ لوگوں اپنے اعمال کو مخفی رکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسی چیز کے مخفی رکھا جسے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور کسی کان نے نہیں سنا (3) ۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لایستون یعنی مومن فاسق کی طرح نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے ہم نے ان مومنوں کو ثواب عظیم عطا فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عطار بن یسار نے کہا : یہ آیت حضرت علی شیر خدا اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ دونوں میں گفتگو ہوئی۔ ولید نے آپ سے کہا : میں تم سے اچھی گفتگو کرنے والا، تلوار چلانے میں ماہر اور جسمانی قوت کے اعتبار سے پورے لشکر کا منہ موڑنے والا ہوں۔ اردالکتیبۃ کی جگہ املا فی الکتیبۃ کے الفاظ ہیں، پورے لشکر میں امید کی کرن ہوں ( ستارہ) ۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے اسے منع فرمایا : خاموش ہوجا تو تو فاسق ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی (4) ۔ زجاج اور نحاس نے ذکر کیا : یہ آیت حضرت علی شیر خدا اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عطیہ نے کہا : اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آیت مکی ہو کیونکہ عقبہ مدینہ میں تو نہیں تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ بدر سے واپس آرہے تھے تو وہ مکہ کی طرف جاتے ہوئے مرگیا تھا۔ ولید پر فسق کے نام کے اطلاق پر دوسرا قول آڑے آرہا ہے اس کی وجہ یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں ولید میں کوئی ایسا عمل تھا جس کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا یا جو روایت کی گئی ہے کہ اس نے بنی مصطلق کے بارے میں ایسی بات کہی جو ان میں نہ تھی، یہاں تک کہ ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی : آیت ان جاء کم فاسق بنبافتبینوا (الحجرات : 6) جس کی وضاحت سورة الحجرات میں آئے گی۔ یہ احتمال بھی موجود ہے شریعت نے اس پر اسی نام کا اطلاق کیا ہو کیونکہ وہ بغاوت کے کنارے پر تھا یہی وہ شخص ہے جس نے حضرت عثمان غنی ؓ کے دور خلافت میں شراب پی تھی۔ اس نے صبح کی نماز لوگوں کو پڑھائی اور کہا : کیا تم ارادہ کرتے ہو کہ میں تمہیں کچھ زائد پڑھائوں۔ اس کے بارے میں گفتگو طویل ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ جب اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور ان فاسقوں کے درمیان تقسیم کردی وہ فاسق جنہیں کفر کی وجہ سے فاسق قرار دیا (کیونکہ آیت کا اختتام اس کا تقاضہ کرتا ہے) تو اس نے اس امر کا تقاضہ کیا کہ مومن اور کافر میں مساوات کی نفی کی جائے اس وجہ سے دونوں میں قصاص کا حکم جاری کرنے سے منع کیا کیونکہ قصاص واجب کرنے کے لیے قاتل اور مقتول کے درمیان برابری ضروری ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے علماء نے امام اعظم ابوحنیفہ کے خلاف استدلال کیا ہے کہ کسی مسلمان کو ذمی کے مقابلہ میں قتل کیا جائے۔ امام اعظم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ثواب میں مساوات کی نفی کا ارادہ کیا ہے اور دنیا میں عدالت کے اعتبار سے نفی کا ارادہ کیا ہے۔ ہم نے اسے اس کے عموم پر محمول کیا ہے۔ یہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ کوئی دلیل ایسی نہیں جو تحقیق پر دال ہو ؛ یہ ابن عربی کا قول ہے (1) ۔ مسئلہ نمبر 3۔ لایستو ون زجاج اور دوسرے علماء نے کہا : من واحد اور جمع کے لیے مناسب ہے۔ نحاس نے کہا : من کا لفظ جماعت کا معنی دیتا ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا : لایستو ون ؛ یہ کثیر نحویوں کا قول ہے۔ بعض نے کہا : لایستو ون دو افراد کے لیے ہے کیونکہ دو بھی جمع ہے کیونکہ یہ ایسا واحد ہے جو دوسرے کا ساتھ مل کر جمع ہوگیا ؛ یہ بھی زجاج کا قول ہے۔ حدیث اس قول پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے لوگوں سے مروی ہے فرمایا : آیت افمن کان مومنا حضرت علی شیر خدا کرم اللہ وجہ کے حق میں نازل ہوئی۔ آیت کمن کان فاسقا یہ ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے حق میں نازل ہوئی۔ شاعر نے کہا : الیس الموتبینھما سوائاذاماتوا وصاروافی القبور کیا موت ان دونوں میں برابر نہیں جب وہ مر گئے اور قبروں میں چلے گئے۔ محل استدلال ھما ضمیر اور فعل ماتوا اور صاروا جمع کے صیغے ہیں۔
Ayahs 32:19–20

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے (رہنے کے) لئے باغ ہیں یہ مہمانی ان کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو

آخرت میں دونوں فریقوں کا جو ٹھکانا ہوگا اس کے بارے میں خبر دی مومنین کے لیے جنات الماوی ہے وہ جنتوں کو ٹھکانہ بنائیں گے۔ جنات کو ماوی کی طرف مضاف کیا کیونکہ جگہ جگہ جنات کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ نزلا کا معنی ضیافت ہے۔ نزل اسے کہتے ہیں جو آنے والے اور مہمان کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ سورة آل عمران کے آخر میں یہ بحث گزرچکی ہے یہ جنات سے حال کے طور پر منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی لھم الجنات معدۃ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مفعول لہ ہو۔ جو ایمان سے کفر کی طرف نکلے ان کا مقام جہنم میں ہوگا۔ جب آگ کا شعلہ انہیں بلندی کی طرف لے جائے گا تو انہیں پھر جہنم میں ان کی جگہ کی طرف لوٹادیا جائے گا کیونکہ وہ اس سے نکلنے کی طمع رکھتے تھے۔ سورة حج میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ جہنم کے داروغے انہیں کہیں گے یا اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا : اس آگ کے عذاب کو چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ذوق کا لفظ محسوس چیز اور معنوی چیز لے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں اس کا بیان گزرچکا ہے۔
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں

آیت ولنذیقنھم من العذاب الادنی حضرت حسن بصری، ابوالعالیہ، ضحاک، ابی بن کعب اور ابراہیم نخعی نے کہا : آیت العذاب الادنی سے مراد دنیا کے مصائب اور اس کی بیماریاں ہیں جس کے ساتھ بندوں کو آزمایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ توبہ کریں گے (1) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد حدود ہیں ؛ حضرت ابن مسعود، حضرت حسن بن علی اور حضرت عبداللہ بن حارث سے مروی ہے۔ اس سے مراد غزوہ بدر کے روز قتل کرنا ہے۔ مقاتل نے کہا : مراد مکہ مکرمہ میں سات سال تک خشک سالی ہے یہاں تک کہ انہوں نے مردار کھائے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : آیت العذاب الادنی سے مراد عذاب قبر ہے۔ اس میں اعتراض کی گنجائش ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت لعلھم یرجعون کہا : جس نے عذاب کا اطلاق قتل پر کیا ہے تو اس نے آیت لعلھم یرجعون کا معنی کیا ہے ان میں سے جو باقی بچے وہ شاید لوٹ آئیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ عذاب اکبر سے مراد عذاب جہنم ہے، مگر جو امام جعفر بن محمد سے مروی ہے کہ اس سے مراد حضرت امام مہدی کا تلوار کے فیصلہ کے ساتھ نکلنا ہے۔ الادنی سے مراد بھائو کا زیادہ ہوجانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت لعلھم یرجعون کا معنی مجاہد اور براء کے قول کے مطابق ہے۔ شاید وہ رجوع کا ارادہ کریں اور اسے طلب کریں، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت فارجعنا نعمل صالحا (السجدہ : 12) رجوع کے ارادہ رجوع کا نام دیا جس طرح قیام کے ارادہ کے قیام کا نام دیا اللہ تعالیٰ کا فرمان : آیت اذا قمتم الی الصلوۃ (المائدہ : 6) اس پر اس کی قراءت بھی دلالت کرتی ہے جس نے اسے یرجعون مجہول کا صیغہ پڑھا ؛ زمحشری نے اسے ذکر کیا۔
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں

یعنی اس آدمی سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس کو اس کے رب کی آیات یعنی دلائل اور علامات کے ساتھ نصیحت کی گئی پھر اس نے قبول کو ترک کر کے ان سے اعراض کیا تو ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں کیونکہ انہوں نے جھٹلایا اور اعراض کیا۔
Ayahs 32:23–24

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو تم اس کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتاب) کو (یا موسیٰ کو) بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

آیت ولقد اتینا موسیٰ الکتاب فلا تکن فی مریۃ من لقاءہ اے محمد ! ﷺ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات میں شک میں مبتلا نہ ہو ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ نبی کریم ﷺ معراج کی رات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملے۔ قتادہ نے کہا : آپ اس بارے میں شک میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ معراج کی رات ان سے ملے ہیں۔ معنی ایک ہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے روز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات میں شک میں مبتلا نہ ہوں۔ آپ ضرور اس روز ان سے ملیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ اس میں شک میں مبتلا نہ ہوں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کتاب کو قبول کیا ؛ یہ مجاہد اور زجاج کا قول ہے (1) ۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے، انہوں نے اس کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا : انہیں اذیت دی گئی اور انہیں جھٹلایا گیا آپ کو اس شک میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ جیسی تکذیب ان کی کی گئی اور جو اذیتیں ان کو دی گئیں وہ آپ کو بھی ملیں گی۔ ہا ضمیر محذوف کی طرف لوٹ رہی ہے۔ لقاء کا معنی مالاقی ہے۔ نحاس نے کہا : یہ غریب قول ہے، مگر یہ عمرو بن عبید سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تا خیر ہے کہہ دیجئے : وہ ملک الموت تمہاری روحوں کو قبض کرے گا جسے تمہاری موتوں کا ذمہ دار بنایا گیا ہے اس کی ملاقات میں شک نہ کیجئے یہ کلام آیت ولقد اتینا موسیٰ الکتاب اور آیت وجعلنہ ھدی لبنی اسرآء یل کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر ہے۔ وجعلنہ کی ضمیر میں دو وجوہ ہیں : (1) ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہے ؛ یہ قتادہ کا قول ہے (2) ضمیر الکتاب کے لیے ہے۔ یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے (1) ۔ آیت وجعلنا منھم ائمۃ قائد اور مقتدی بنادیا جن کی دین میں اقتدا کی جاتی ہے۔ کوفی ائمۃ پڑھا کرتے تھے۔ نحاس نے کہا : تمام نحویوں کے نزدیک یہ مناسب نہیں کیونکہ ایک کلمہ میں دو ہمزے جمع ہیں اور یہ نحو کا دقیق مسئلہ ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے : اصل میں یہ اممۃ تھا پھر میم کی حرکت ہمزہ کی دی گئی اور میم میں ادغام کیا گیا اور دوسرے ہمزہ میں تخفیف کی گئی تاکہ دو ہمزے جمع نہ ہوں دوہمزوں کو دو حرفوں میں جمع کرنا بعید ہے، جہاں تک ایک حرف کا تعلق ہے تو دوسرے ہمزہ میں تخفیف کے بغیر کوئی صورت جائز نہیں، جس طرح تیرا قول ہے : آدم وآخر۔ یوں کہا جاتا ہے : ھذا اوم من ھذا وایم اسے وائو اور یا کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ سورة براءۃ میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ آیت بامرنا وہ مخلوق کو ہماری طاعت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ آیت بامرنا یعنی ہم نے انہیں اس کا حکم دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت بامرنا یہ لامرنا کہ معنی میں ہے یعنی وہ لوگوں کو ہمارے دین کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ پھر کہا گیا : مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد فقہاء اور علماء ہیں۔ آیت لما صبرو عام لوگوں کی قراءت لما ہے۔ یعنی لام مفتوح ہے، میم مشدد اور اس پر زبر ہے، یعنی جب انہوں نے صبر کیا۔ یحیی، حمزہ، کسائی، خلف اور اویس نے یعقوب سے لما صبرو قراءت نقل کی ہے، یعنی ان کے صبر کے باعث انہیں ہم نے ائمہ بنادیا۔ حضرت ابن مسعود کی قراءت بما صبروا کی وجہ سے ابو عبید نے لما صبرو ا کی قراءت کو پسند کیا ہے۔ یہ صبر ایسا صبر ہے جو دین اور آزمائش پر صبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے دنیا سے صبر کیا۔
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

آیت ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیامۃ یعنی وہ کافروں اور مومنوں کے درمیان فیصلہ فرماتا ہے۔ اور ہر ایک کو ایسابدلہ دیتا ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ انبیاء اور ان کے قوموں کے درمیان فیصلہ فرماتا ہے ؛ یہ نقاش نے بیان کیا ہے۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو اس (امر) سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کردیا بیشک اس میں نشانیاں ہیں تو یہ سنتے کیوں نہیں ؟

آیت اولم یھد لھم ابو عبدالرحمن سلمی، قتادہ اور ابو یزید نے یعقوب سے نھد لھم نون کے ساتھ قراءت کی ہے۔ یہ واضح قراءت ہے یاء کے ساتھ قراءت میں اشکال ہے کیونکہ یہ کہا جاتا ہے : فعل، فاعل سے خالی نہیں ہوتا تو یھد کا فاعل کیا ہے ؟ نحویوں نے اس بارے میں گفتگو کی ہے۔ فراء نے کہا : کم، یھد کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ یہ نحویوں کے اپنے اصول کے خلاف ہے کلمہ استفہام میں اس کا ماقبل عمل نہیں کرتا اور نہ ہی کم میں اس کا ما قبل عمل کرتا ہے۔ ابو العباس کا مذہب ہے کہ یھد الھدی پر دلالت کرتا ہے کلام کی صورت یہ بنے گی : آیت اولم یھد لھم الھدی ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نہیں دی تو پھر یاء اور نون دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہوگا، یعنی کیا ہم نے ان کے لیے واضح نہیں کردیا کہ ہم نے ان سے پہلے سابقہ قوموں کو ہلاک کیا۔ زجاج نے کہا : کم، اھلکنا کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ آیت یمشون فی مسکنھم فعل میں ضمیر مرفوع کا احتمال رکھتی ہے کہ وہ ان چلنے والوں کے لیے ہو جو ہلاک ہونے والوں کے مسکنوں میں گھومتے پھرتے ہیں، یعنی یہ چلتے ہیں اور عبرت حاصل نہیں کرتے۔ یہ احتمال موجود ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے لیے ہو تو فعل حال ہوگا معنی ہوگا : ہم نے انہیں ہلاک کیا جب کہ وہ اپنے مسکنوں میں چلتے پھرتے تھے۔ آیت ان فی ذالک لایت افلا یسمعون کیا وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور نصیحتوں کو نہیں سنتے کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ؟
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ بھی (کھاتے ہیں) تو یہ دیکھتے کیوں نہیں ؟

آیت اولم یرو انا نسوق الماء الی الارض الجرز کیا وہ ہماری کمال قدرت کو نہیں جانتے کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف کے گئے جس میں کوئی نباتات نہیں ہوتی تاکہ ہم اسے زندہ کریں۔ زمحشری نے کہا : جرز ایسی زمین کو کہتے ہیں جس کی نباتات کاٹ دی گئی ہو (1) ۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پانی ہی نہ ہو یا اسے چرا گیا اور اسے زائل کردیا گیا۔ وہ زمین جو کھیتی نہ اگائے جس طرح شوریدہ زمین ہوتی ہے اسے جرز نہیں کہتے، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : آیت فنخرج بہ زرعا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد یمن کا علاقہ ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ واضح ہے۔ عکرمہ نے کہا : اس سے مراد پیاسی زمین ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد مردہ اور پیاسی زمین ہے۔ فراء نے کہا : اس سے مراد وہ زمین ہے جس میں نباتات نہ ہو۔ اصمعی نے کہا : ایسی زمین کو کہتے ہیں جو کوئی چیز نہیں اگاتی۔ محمد بن یزید نے کہا : یہ بعید ہے کہ اس سے مراد معین سر زمین ہو کیونکہ اس پر الف، لام داخل ہے مگر یہ جائز ہے اس کے قول کے مطابق جو یہ کہتا ہے : العباس، الضحاک۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ اسناد صحیح ہے اس میں کوئی طعن نہیں۔ یہ نعت ہے۔ اسم معرفہ کی نعت الف، لام کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ عربوں کے اس قول سے مشتق ہے : رجل جردز اس آدمی کے لیے کہتے ہیں جو ہر چیز کھا جاتا ہے کوئی باقی نہیں چھوڑتا۔ راجز نے کہا : خب جردز واذا جاع بکی ویاکلالتمرولایلقیالنوی (1) یہ کمینہ ہے ہر چیز ہڑپ کرجاتا ہے جب بھوکا ہوتا ہے تو روتا ہے اور کھجور کھاتا ہے اور گٹھلی کو نہیں پھینکتا۔ اس طرح ناقۃ جروز ہوتی ہے جب وہ اونٹنی ہر اس چیز کو کھا جاتی ہے جسے وہ پاتی ہے۔ سیف جراز کاٹ دار تلوار جرزت الجراد الزرع مکڑی کھیت کو چٹ کرگئی۔ فراء اور دوسرے علماء نے کہا : یہ کہا جاتا ہے : ارض جرز، جرز، جرز، جرز اسی طرح الفاظ بخل، رعب، رہب ہے ؛ ان چاروں الفاظ میں چار لغتیں ہیں۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے : یہ ایسے علاقے ہیں جن میں دریا نہیں، یہ سمندر دار ہیں، ہر سال ان میں موـٹے قطرات والی بارش آتی ہے تو وہ سال میں تین دفعہ کاشت کرتے ہیں۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : یہ نیل کا علاقہ ہے۔ آیت فنخرج بہ ہاء ضمیر سے مراد پانی ہے۔ آیت تاکل منھم انعامھم یعنی گھاس وغیرہ۔ آیت وانفسھم یعنی دانہ، سبزیاں اور پھل۔ آیت افلا یبصرون کیا وہ یہ نہیں دیکھتے تو وہ جانتے کہ ہم ان کو لوٹانے پر قادر ہیں۔ آیت فنخرج یہ نسوق پر معطوف ہے یا اس کا ماقبل کلام سے تعلق نہیں۔ آیت تاکل منہ انعامھم نعت ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہے۔
Ayahs 32:28–29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

آیت ویقولون متی ھذا الفتح ان کنتم صدقین، متی محل رفع میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ظرف ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہو۔ قتادہ نے کہا : فتح کا معنی فیصلہ کرنا ہے۔ فراء اور قتبی نے کہا : مراد فتح مکہ ہے۔ ان سب سے اولی وہ ہے جو مجاہد نے کہا، یعنی یوم قیامت۔ یہ روایت بھی بیان کی گئی ہے کہ مومنوں نے کہا : عنقریب اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے گا، اللہ تعالیٰ محسن کو بدلہ عطا فرمائے گا اور گناہ گار کو سزادے گا۔ کفار نے بطور مذاق کہا : یوم فتح کب ہوگا ؟ یعنی یہ حکم کب ہوگا ؟ حکم کو فاتح اور مفتاح بھی کہتے ہیں کیونکہ اشیاء اس کے ہاتھ پر کھل جاتی ہیں اور جدا ہوجاتی ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے : آیت ربناافتح بیننا وبین قومنا بالحق (الاعراف : 89) یہ بحث سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں گزرچکی ہے۔ آیت قل یوم الفتح یوم ظرف کی بنا پر منصوب ہے اور فراء نے رفع بھی جا ئز قرار دیا ہے۔ آیت لا ینفع الذین کفروا ایمانھم ولا ھم ینظرون انہیں توبہ کے لیے مہلت نہیں دی جائے گی اگر یوم فتح سے مراد یوم بدر یا فتح مکہ ہو۔ غزوہ بدر میں وہ قتل کیے گئے اور فتح مکہ کہ روز وہ بھاگ گئے حضرت خالد بن ولید پیچھے اسے انہیں آکر ملے اور انہیں قتل کیا۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو ان سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

آیت فاعرض عنھم ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے ان کی بیوقوفی سے اعراض کیجئے اور انہیں جواب نہ دے دیجئے مگر جس چیز کا حکم دیا گیا۔ آیت وانتظر انھم منتظرون یوم فتح کا انتظار کیجئے جس روز اللہ تعالیٰ ان کا خلاف تمہارے حق میں فیصلہ فرمائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قریش مکہ میں سے مشرکوں سے اعراض کیجئے۔ آیت سیف کے ساتھ یہ منسوخ ہے جو سورت براءت میں ہے : آیت فاقتلوالمشرکین حیث وجدتموھم (توبہ : 5) آیت وانتظر میرا جو تجھ سے وعدہ ہے اس کا انتظار کیجئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد یوم بدر ہے۔ آیت انھم منتظرون وہ تمہارے بارے میں حادثات زمانہ کا انتظار کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ منسوخ نہیں کیونکہ کہ قتال کے حکم کے ہوتے ہوئے اعراض نہیں ہوسکتا جس طرح صلح وغیرہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ ان سے اعراض کرلیجئے بعد اس کے کہ آپ نے حجت پہنچادی آپ بھی انتظار کیجئے وہ بھی انتظار کررہے ہیں۔ اگر یہ سوال کیا جائے : وہ قیامت کا کیسے انتظار کرتے ہیں جب کہ وہ ایمان بھی نہیں رکھتے ؟ اس کے دو جواب ہیں (1) وہ موت کا انتظار کرتے ہیں جب کہ وہ قیامت کے اسباب میں سے ہے تو یہ مجاز ہوگا (2) ان میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو شک میں مبتلا تھے اور ان میں سے کچھ ایسے تھے جو قیامت پر ایمان رکھنے والے تھے۔ تو یہ ان دونوں قسموں کا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ابن سمقیع نے پڑھا آیت انھم منتظرون ظاء مفتوح ہے ؛ یہ مجاہد اور ابن محصین سے مروی ہے۔ فراء نے کہا : یہ اضمار کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے، معنی ہوگا : ان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ابو حاتم نے کہا : صحیح کسرہ ہے یعنی آپ ان کے عذاب کا انتظار کریں وہ تیری ہلاکت کا انتظار کرنے والے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ابن سمیقع کی قراءت ظاء کے فتحہ کے ساتھ ہے، اس کا معنی ہے : ان کی ہلاکت کا انتظار کیجئے بیشک وہ اس امر کے حق دار ہیں کہ ان کی ہلاکت کا انتظار کیا جائے (1) ، یعنی وہ ہر حال میں ہلاک ہونے والے ہیں۔ آپ اس کا انتظار کیجئے کیونکہ آسمان میں فرشتے اس کا انتظار کر رہے ہیں ؛ زمحشری نے اس کا ذکر کیا ہے ؛ یہ فراء کے قول کا معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔