Ayah 33:1آیت یایھا النبی اتق اللہ ای کے کلمہ کو ملایا گیا کیونکہ منادی مفرد ہے اور تنبیہ اسی کا لازم ہے لفظ النبی نحویوں کے نزدیک اس کی صفت ہے مگر اخفش کے نزدیک صفت نہیں، کیونکہ وہ کہتا ہے : یہ ای کا صلہ ہے۔ مکی نے کہا : کلام عرب میں یہ معروف نہیں کہ اسم مفرد کسی شی کا صلہ ہو۔ نحاس نے کہا : اکثر نحویوں کے نزدیک یہ غلط ہے کیونکہ صلہ جملہ ہوا کرتا ہے۔ اس نے جو کہا اس کی صحت کے لئے یہ حیلہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ نعت لازم ہے اسے صلہ کا نام دیا گیا۔ کوئی نکرہ کی نعت کو صلہ کا نام دیتے ہیں۔ اکثر نحویوں کے نزدیک محل کا اعتبار کرتے ہوئے نصب دینا جائز نہیں۔ مازنی نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ اس نے اسے تیرے اس قول کی طرح بنایا ہے : یا زیدالظریف زید کے محل کا اعتبار کرتے ہوئے الظریف کو نصب دی۔ مکی نے کہا : یہ ایسی نعت ہے جس سے موصوف غنی ہوتا ہے اور ای کی نعت سے موصوف غنی نہیں ہوتا اس وجہ سے محل کا اعتبار کرتے ہوئے اسے نصب دینا جائز نہیں ہوتا۔ نیز یہ بھی ہے کہ ای کی نعت معنی میں منادی ہوا کرتی ہے اس وجہ سے اسے نصب دینا جائز نہیں۔ یہ روایت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی آپ پسند کرتے تھے کہ یہودی اسلام قبول کرلیں۔ وہ بنو قریظہ، بنو نضیر اور بنو قینقاع تھے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے نفاق کی صورت میں آپ کی اتباع کی۔ آپ کے ان ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ان کے چھوٹے بڑے کی تعظیم کرتے جب ان میں سے کسی سے کوئی غلطی ہوجاتی تو آپ ان سے درگزر فرماتے، آپ ان کی باتیں سنتے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت ابو سفیان بن حرب، عکرمہ بن ابی جہل، ابو الاعور بن سفیان کے حق میں نازل ہوئی جس کا ذکر واحدی، قشیری، ثعلبی، ماوردی وغیرہ نے کیا۔ یہ غزوہ احد کے بعد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس آئے نبی کریم ﷺ نے انہیں امان دی تھی کہ وہ بات چیت کرلیں۔ ان کے ساتھ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور طعمہ بن ابیرق بھی آیا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی جب کہ آپ کے پاس حضرت عمر بن خطاب موجود تھے : ہمارے معبودوں لات، عزی اور مناۃ کا ذکر چھوڑدیں اور یہ کہ وہ جو ان کی عبادت کرے یہ ان کی شفاعت کریں گے اور ان کا دفاع کریں گے، ہم تجھے اور تیرے رب کو چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ نبی کریم ﷺ پر بڑا شاق گزرا حضرت عمرؓ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ مجھے ان کے قتل کی اجازت دیجئے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں نے انہیں امان دی ہوئی ہے “ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی لعنت اور غضب کے ساتھ نکل جائو۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں مدینہ طیبہ سے نکال دیا، تو یہ آیت نازل ہوئی۔
آیت یا ایھا النبی اتق اللہ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈریئے۔ آیت ولا تطع الکافرین اہل مکہ کے کافروں کی اطاعت نہ کیجئے۔ یہاں کافروں سے مراد ابو سفیان، ابو اعور اور عکرمہ ہیں۔ آیت والمنفقین اہل مدینہ کے منافق مراد عبداللہ بن ابی، طعمہ اور عبداللہ بن ابی سرح ہیں۔ ان تمام امور میں ان کی بات نہ مانیے جس سے آپ کو منع کیا گیا اور آپ ﷺ ان کی طرف مائل نہ ہوں۔ آیت ان اللہ کان علیما حکیما اللہ تعالیٰ ان کے کفر کو جانتا ہے اور ان کے ساتھ جو بھی معاملہ کرتا ہے اس میں حکیم ہے۔ زمحشری نے کہا : یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ ابو سفیان بن حرب، عکرمہ بن ابی جہل اور ابوالاعور اسلمی اس دور میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے جو باہم صلح کا دور تھا۔ ان کے ساتھ عبداللہ بن ابی، معتب بن قشیر اور جد بن قیس بھی حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : ہمارے معبودوں کا ذکر کرنا چھوڑ دیجئے۔ اور پھر ماقبل روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی۔ آیت اس عہد و پیمان کو توڑنے کے بارے میں نازل ہوئی (1) ۔ آیت ولا تطع الکفرین مراد مکہ مکرمہ کے کافر ہیں۔ آیت والمنفقین مراد اہل مدینہ کے منافق ہیں۔ ان امور میں ان کی بات نہ مانیے جن کا انہوں نے مطالبہ کیا ہے۔ یہ روایت کی گئی ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کے دعوت دی کہ وہ اپنا دین چھوڑدیں۔ وہ اپنے اموال کا ایک حصہ آپ کو دے دیں گے۔ شبیہ بن ربیعہ اپنی بیٹی کا رشتہ آپ کو دے دے گا۔ مدینہ کے منافقوں نے آپ کو ڈرایا اگر آپ ﷺ نے اپنے دین سے رجوع نہ کیا تو وہ آپ ﷺ کے قتل کردیں گے، تو یہ آیت نازل ہوئی (2) ۔ نحاس نے کہا : آیت ان اللہ کان علیما حکیما سے یہ دلیل ملتی ہے کہ آپ ﷺ ان کی طرف مائل تھے آپ ﷺ کا مقصود انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا تھا، یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ آپ کے ان کی طرف میلان میں کوئی منفعت ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے منع نہ کرتا کیونکہ وہ حکیم ہے، پھر یہ کہا گیا : خطاب آپ کو اور آپ کی امت کو ہے۔
Ayah 33:2آیت واتبع مایوحی الیک من ربک مراد قرآن حکیم ہے اس میں جاہلیت کے مراسم کی اتباع سے جھڑکنا ہے اور ان سے جہاد کرنے اور لا تعلق ہونے کا حکم ہے اس میں ایسی دلیل موجود ہے کہ اس کی موجودگی میں رائے کا اتباع کو ترک کردیا جائے۔ خطاب نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کو ہے۔
آیت ان اللہ کان بما تعملون خبیرا عام قراءت خطاب کی تاء کے ساتھ ہے ؛ یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ سلمی، ابو عمر و اور اسحاق کی قراءت یعملون ہے یعنی غائب کا صیغہ ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت بماتعملون بصیرا (الفتح) میں ہے۔
Ayah 33:3آیت و توکل علی اللہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے وہی تیرا دفاع کرے گا اور جو آدمی تیرا ساتھ چھوڑ جائے وہ تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔ آیت وکفی باللہ وکیلا، وکیل کا معنی نگہبان ہے۔ اہل شام کے ایک شیخ نے کہا : بنو ثقیف کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ایک سال تک لات سے انہیں متمتع ہونے دیں یہی وہ طاغیہ ہے جس کی بنو ثقیف عبادت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے عرض کی : تاکہ قریش ہمارے اس مقام و مرتبہ کو جان لیں جو ہمارا آپ کے ہاں ہے تو نبی کریم ﷺ نے اس کا ارادہ کرلیا، تو یہ آیت نازل ہوئی یعنی آپ جن باتوں میں خوف کھاتے ہیں ان تمام امور میں اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کافی ہے۔ باللہ محل رفع میں ہے کیونکہ یہ فاعل ہے وکیلا یہ بیان اور حال کے طریقہ پر منصوب ہے۔
Ayah 33:4اس میں پانچ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ مجاہد نے کہا : یہ آیت قریش کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی، اس کی ذہانت کی وجہ سے اسے ذا القلبین (دودلوں والا) کہا جاتا۔ وہ خود بھی کہتا : میرے پیٹ میں دو دل ہیں میں ان دونوں میں سے ہر ایک سے حضرت محمد ﷺ کی عقل سے بہتر سمجھتا ہوں۔ کہا : وہ فہر قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ واحدی، قشیری وؔغیرہما نے کہا : یہ آیت جمیل بن معمر فہری کے بارے میں نازل ہوئی وہ جو سنتا اسے یاد کرلیتا۔ قریش نے کہا : وہ اشیاء کو یاد نہیں رکھتا مگر اس کے دو دل ہیں۔ وہ کہتا : میرے دو دل ہیں میں ان دونوں کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کی سمجھ بوجھ سے بہتر سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ جب غزوہ بدر کے موقع پر مشرکوں کو شکست ہوئی ان کے ساتھ جمیل بن معمر بھی تھا ابو سفیان نے اسے اونٹوں کے قافلہ میں دیکھا جب کہ وہ ایک جوتا اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا اور دوسراجوتا اس کے پائوں میں تھا۔ ابو سفیان نے پوچھا : لوگوں کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا : لوگ بھاگ گئے ہیں۔ ابو سفیان نے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ تیرا ایک جوتا تیرے ایک ہاتھ میں ہے اور دوسراجوتا تیرے پائوں میں ہے ؟ اس نے کہا : میں نے یہی خیال کیا کہ یہ دونوں میرے پائوں میں ہیں۔ لوگوں کو اس روز پتہ چلا اگر اس کے دو دل ہوتے تو وہ اپنا جوتا اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے بھولا نہ ہوتا (1) ۔ سہیلی نے کہا : جمیل بن معمر جمحی یہ ابن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح تھا جمح کا نام تیم تھا اس کو ذوالقلبین کہا جاتا اس کے بارے میں آیت نازل ہوئی۔ اس کے بارے میں شاعر کہتا ہے :
وکیفثوالیبالمدینۃ بعدما قضی وطرامنھاجمیل بن معمر
مدینہ میں میرا ٹھکانہ کیسے ہوسکتا ہو جب کہ جمیل بن معمراپنا مطلب حاصل کرچکا ہے۔
میں نے کہا : جمیل بن معمر نے اس طرح کہا ہے۔ زمحشری نے کہا : جمیل بن اسد فہری۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا سبب یہ ہے کہ کسی منافق نے کہا : حضرت محمد ﷺ کے دو دل ہیں کیونکہ بعض اوقات وہ ایک امر میں ہوتے ہیں پھر دوسرے میں شروع ہوتے ہیں پھر پہلے امر کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت عبد اللہ بن خطل کے بارے میں نازل ہوئی۔ زہری اور ابن حبان نے کہا : یہ حضرت زید بن حارثہ میں تمثیل کے طور پر نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ نے انہیں متبنی بنایا۔ مطلب ہے جس طرح ایک آدمی کے دو دل نہیں ہو سکتے اسی طرح ایک بچہ دو مردوں کا نہیں ہوسکتا۔ نحاس نے کہا : یہ قول ضعیف ہے لغت میں صحیح نہیں یہ زہری کی منقطعات میں سے ہے معمر نے اسے اس سے روایت کیا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مثال ہے جو مظاہر کے لیے بیان کی گئی ہے یعنی جس طرح ایک آدمی کے دو دل نہیں ہوسکتے اسی طرح مظاہر کی بیوی اس کی ماں نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ اس کی دو مائیں ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : منافقوں میں سے ایک کہا کرتا تھا : میرا ایک دل ہے جو مجھے اس امر کا حکم دیتا ہے اور میرا دوسرا دل ہے جو مجھے اس امر کا حکم دیتا ہے۔ منافق دو دلوں والا ہوتا ہے مقصود منافق کا رد کرنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایمان اور کفر ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے، جس طرح دو دل ایک پیٹ میں جمع نہیں ہوسکتے۔ معنی ہے دو مختلف اعتقاد ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ آیت سے مجموعی طور پر چند ایسی اشیاء کی نفی ظاہر ہوتی ہے اس وقت عرب جن چیزوں کا اعتقاد رکھتے تھے اور حقیقت کا اظہار ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ قلب صنوبرہ کی شکل میں گوشت کا چھوٹا سا لوتھڑا ہے (2) ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا اور اسے علم کا محل بنایا۔ بندہ اس سے ایسے علوم جمع کرلیتا ہے جو کتابوں میں جمع نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ اس میں خط الہی میں لکھتا رہتا ہے اور حفظ ربانی کی صورت میں ضبط کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کو شمار کرلیتا ہے اور اس میں سے کسی چیز کے نہیں بھولتا۔ وہ دو لموں کے درمیان ہے ایک لمہ فرشتے کی جانب سے ہوتا ہے اور ایک لمہ شیطان کی جانب سے ہوتا ہے، جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، امام ترمذی نے اسے نقل کیا (3) ۔ سورة بقرہ میں اس کی بحث گزرچکی ہے۔ یہ خطرات، وساوس کا محل، کفرو ایمان کا مکان، اصرار اور باربار عمل کا محل، پریشانی اور طمانیت کا محل ہے اس میں ہر اس چیز کی نفی ہے جس کے بارے میں حقیقت و مجاز کا کوئی وہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ کسی کے بھی دو دل نہیں اس میں ان منافقین پر طعن ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے یعنی دل ایک ہی ہے یا تو اس میں ایمان ہوگا یا اس میں کفر ہوگا، کیونکہ نفاق کا درجہ گویا درمیانی درجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی کی اور اس امر کو واضح کی کہ یہ ایک دل ہے۔ اس طریقہ پر انسان اس آیت سے استدلال کرتا ہے جب وہ کسی چیز کو بھول جاتا ہے یا اسے وہم ہوتا ہے۔ وہ معذرت کے طریقہ پر کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے دل میں دو دل نہیں بنائے۔
مسئلہ نمبر 4۔ آیت وما جعل ازواجکم الی تظھرون منھن امھتکم مرد کا اپنی بیوی سے کہنا : انت علی کظہر امی یہ بحث سورة مجادلہ میں مذکور ہے۔ جس کی وضاحت بعد میں آئے گی۔
مسئلہ نمبر 5۔ آیت وما جعل ادعیاء کم ابناء کم علماء تفسیر نے اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت حضرت زید بن حارثہ کے حق میں نازل ہوئی۔ ائمہ نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : ہم حضرت زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہا کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی آیت ادعوھم لاباء ھم ھو اقسط عنداللہ (1) جس طرح حضرت انس ؓ وغیرہ سے مروی ہے : حضرت زید کو شام سے گرفتار کیا گیا تہامہ کے ایک گھڑ سوار دستہ نے اسے گرفتار کیا اور اسے حکیم بن حزام بن خویلد نے خریدا اس نے یہ غلام اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کو ہبہ کردیا۔ حضرت خدیجہ نے یہ غلام نبی کریم ﷺ کے ہبہ کردیا حضور ﷺ نے اسے آزاد کردیا اور اپنا متبنی بنا لیا۔ حضرت زید ایک عرصہ تک نبی کریم ﷺ کے پاس ہی رہے پھر ان کا چچا اور والد آئے وہ ان کا فدیہ دینا چاہتے تھے نبی کریم ﷺ نے دونوں سے فرمایا۔ یہ بعثت سے قبل کا واقعہ ہے : دونوں اس کو اختیار دے دو اگر وہ تم دونوں کو اختیار کرلے تو وہ فدیہ کے بغیر تمہارا ہے “ تو حضرت زید نے اپنی آزادی اور اپنی قوم پر حضور ﷺ کی خدمت میں رہنے کو ترجیح دی۔ حضرت محمد ﷺ نے اس موقع پر کہا : اے قریش کی جماعت ! گواہ رہنا یہ میرا بیٹا ہے، یہ میرا وارث بنے گا اور اس کا وارث بنوں گا “ نبی کریم ﷺ قریش کے حلقوں پر چکر لگاتے اور انہیں اس امر پر گواہ بناتے۔ اس پر اس کا چچا اور ان کا باپ راضی ہوگئے اور واپس چلے گئے۔ جب ان کو گرفتار کیا گیا تو ان کا باپ شام میں گھومتا اور کہتا (2):
بکیتعلیزیدولمادر مافعلاحی یرجی ام اتی دونہ الاجل
فو اللہ لا ادریوانی لسائلاغالک بعدی السھل ام غالکالجبل
فیا لیتشعریھل لک الدھراوبۃ فحسبی منالدنیا رجوعکلی بجل
تذکرنیہالشمس عندطلوعھا وتعرض ذکراہا ذاغربھا افل
وان ھبتالاریاح ھی ہجن ذکرہ فیاطول حزنی علیہوما وجل
ساعمل نص العیسفی الارض جاھداولا اسام التصوافاوتسام الابل
حیاتیاوتاتیعلی مضیتی فکل امرئفان وانغرہالامل
میں زید پر رویا میں نہیں جانتا اس کے ساتھ کیا ہوا کیا وہ زندہ ہے کہ اس سے امید کی جائے یا اسے موت آچکی ہے۔ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا میں تو سائل ہوں کیا میرے بعد ہموار زمین نے تجھے پکڑیا پہاڑ نے تجھے پکڑلیا ؟ کاش ! میں جانتا کہ زمانہ میں تیرا لوٹنا ہے۔ ہاں میرے لیے دنیا میں سے تیرا لوٹنا ہی کافی ہے۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کا طلوع مجھے اس کی یاد دلاتا ہے جب وہ غروب ہونے لگتا ہے تو اس کی یاد آجاتی ہے اگر ہوائیں چلیں تو اسی کے ذکر کو بھڑکا دیتی ہیں۔ ہائے اس پر طویل حزن اور خوف ! میں زمین میں کوشش کرتے ہوئے اونٹ کو کام میں لائوں گا۔ میں اس وقت تک نہیں اکتائوں گا یہاں تک کہ اونٹ اکتا جائے۔ میری زندگی کی قسم ! یا مجھ پر موت آجائے پس ہر آدمی فانی ہے اگرچہ امید اس دھوکہ میں ڈال دے۔
اسے بتایا گیا کہ وہ مکہ مکہ مکرمہ میں ہے وہ اپنے بیٹے کے پاس آیا اور اس کے پاس ہلاک ہوگیا۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے پاس آیا نبی کریم ﷺ نے اسے اختیار دیا جس طرح ہم نے ذکر کیا اور وہ وہیں چلا گیا (1) ۔ اس کے ذکر، فضل اور شرف میں سے ایسی بحث آئے گی کو کافی وشافی ہوگی۔ آیت فلما قضی زید منھاوطرا زوجنکھا (الاحزاب : 37) انشاء اللہ تعالی۔
حضرت زید بن حارثہ آٹھ ہجری میں شام کے علاقہ میں مئوتہ میں شہید ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے اس غزوہ میں انہیں امیر بنایا تھا۔ فرمایا : ” اگر حضرت زید شہید ہوجائیں تو حضرت جعفر اگر حضرت جعفر طیار شہید ہوجائیں تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ یہ تینوں جلیل القدر صحا بہ کرام اس غزوہ میں شہید ہوگئے “ (2) ۔ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حضرت زید اور حضرت جعفر کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ روئے۔ ، فرمایا : اخوای، مونسای ومحدثای۔ میرے دونوں بھائی، میرے دوغمگسار اور مجھ سے باتیں کرنے والے۔
Ayah 33:5اس میں چھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ آیت ادعوھم لابائھم یہ آیت حضرت زید بن حارثہ کے حق میں نازل ہوئی جس طرح پہلے وضاحت گزرچکی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے : ہم حضرت زید بن حارثہ ؓ کو زید بن محمد پکارا کرتے تھے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ متبنی بنانا دور جاہلیت اور دور اسلام کا معمول تھا۔ اس کے ذریعہ باہم وارث بنا جاتا اور باہم ایک دوسرے کی مدد کی جاتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ساتھ اس عمل کو منسوخ کردیا : آیت ادعوھم لابائھم ھو اقسط عنداللہ یعنی انصاف والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متبنی بنانے کا حکم ختم کردیا یہ لفظ بولنے سے منع کردیا اور اپنے اس ارشاد کے ساتھ اس کی طرف رہنمائی کی کہ اولی اور موزوں یہ ہے کہ مرد اسکے نصبی باپ کی طرف منصوب کیا جائے۔ یہ کہا جاتا ہے : دور جاہلیت میں جب کسی آدمی کو اس کی بہادری اور ظرافت اچھی لگتی تو وہ آدمی اسے اپنے ساتھ ملا لیتا اور اپنی میراث میں سے مذکر اولاد کے برابر اس کا حصہ مقرر کردیتا۔ اس لڑکے کو اس آدمی کی طرف منسوب کیا جاتا اور کہا جاتا : فلاں بن فلاں۔ نحاس نے کہا : یہ آیت اس متبنی بنانے کے حکم کو منسوخ کرنے والی ہے جو ان کہ ہاں پہلے سے رواج تھا۔ اس میں سنت کو آیت سے منسوخ کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ تو حکم دیا گیا کہ جس کو بھی بلائو اسے اس کے معروف باپ کی نسبت سے بلائو۔ اگر اس کا باپ معروف نہ ہو تو اس کو اس کی ولا (ستارہ) کی طرف منسوب کرو اگر اس کی ولا بھی معروف نہ ہو تو اسے کوئی بلائے تو یوں بلائے : یا اخی یعنی اے میرے اسلامی بھائی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت انما المومنون اخوۃ (الحجرات : 10)
مسئلہ نمبر 2۔ اگر کسی آدمی نے اسے ایسے باپ کی طرف منسوب کردیا جس کا وہ متبنی تھا اگر تو یہ غلطی سے ہوا یعنی بغیر ارادہ کے اس کی زبان پر آگیا تو اس پر کوئی گناہ اور کوئی مواخذہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت ولیس علیکم جناح فی ما اخطاء تم بہ ولکن ما تعمدت قلوبکم اسی طرح اگر تو کسی آدمی کو بلاتا ہے اور اس کی نسبت اس کے اپنے باپ کی طرف کرنے کی بجائے کسی اور کی طرف کرتا ہے جب کہ تو خیال کرتا ہے یہ اس کا باپ ہے تو تجھ پر کوئی حرج نہیں۔ ، یہ قتادہ کا قول ہے۔ یہ حکم اس پر جاری نہیں ہوگا جس کا متبنی ہونے کے اعتبار سے نام زیادہ مشہور ہوگیا ہو جس طرح حضرت مقداد بن عمرو، ان پر متبنی ہونے کے اعتبار سے نام غالب آگیا تھا۔ یہ حضرت مقداد بن اسود کے نام سے مشہور و معروف تھے کیونکہ اسود بن یغوث نے دور جاہلیت میں انہیں متبنی بنایا تھا اور اسی وجہ سے معروف و مشہور تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی مقداد نے کہا : میں ابن عمرو ہوں۔ اس کے باوجود اس پر اطلاق باقی رہا۔ جو علماء گزرچکے ہیں ان میں سے کسی سے یہ نہیں سنا گیا کہ اس پر اس نام کا اطلاق کرنے والے کو گناہ گار قرار دیا گیا ہو اگرچہ وہ جان بوجھ کر نام لے۔ اسی طرح حضرت سالم مولی ابی حذیفہ وہ مولی ابوحذیفہ کے نام سے پکارے جاتے ان کے علاوہ بھی کئی افراد ہیں جن کو متبنی بنایا گیا اور انہیں اپنے باپ کے علاوہ کی طرف منسوب کیا گیا، اس میں مشہور ہوئے اور وہ نام ان پر غالب آیا، لیکن حضرت زید بن حارثہ کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ انہیں اب زید بن محمد کہنا جائز نہیں اور اگر کسی نے جان بوجھ کر ایسا کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والا ہوگا۔ آیت ولکن ماتعمدت قلوبکم تو پھر تم پر گناہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اسی وجہ سے بعد میں فرمایا : آیت وکان اللہ غفورا الرحیما غفور یعنی جان بوجھ کر اس عمل کے کرنے والے کو بخشنے والا ہے اور رحیما خطا کے اثم کو ختم کرنے والا ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کا فرمان آیت ولیس علیکم جناح فی ما اخطاء تم یہ مجمل ہے یعنی تم نے جو غلطی کی ہے اس میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ ، یہ عطاء اور کثیر علماء کا فتوی تھا۔ اسی تعبیر کی بنا پر کہا گیا : جب کوئی آدمی قسم اٹھائے کہ وہ اپنے مقروض کا پیچھا نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ وہ اس سے اپنا پورا پورا حق لے لے، تو اس نے اس سے وہ دینار لے لیے جن کو وہ عمدہ خیال کرتا تھا پھر اس نے ان کو کھوٹے پایا تو اس پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی اسی طرح اس کے نزدیک یہ بھی ہے جب اس نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں کو سلام نہیں کرے گا اس نے اسے سلام کیا جب کہ وہ اسے پہچانتا نہیں تھا وہ حانث نہیں ہوگا کیونکہ اس نے اس میں قصد نہیں کیا۔ مامحل جر میں ہے (اس ما سے مراد وہ ما ہے جو ما تعمدت قلوبکم میں ہے) اس ما کو اس ما کی طرف لوٹایا گیا ہے جو اخطاء تم میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو کیونکہ مبتدا محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ولکن الذی تواخذون بہ ما تعمدت قلوبکم قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : جس آدمی نے کسی کو اس کے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جب کہ اس کا خیال ہو کے وہ اس کا باپ ہے اس نے یہ بات خطا کی تو یہ اس خطا سے ہوگی جس پر سے اللہ تعالیٰ نے گناہ کو اٹھا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ گفتگو کرتے ہوئے اسے یہ کہے : اے بیٹے ! جب کہ اس نے یہ گفتگو اس کے متعلق کی جو اس کے متبنی نہ ہو۔
مسئلہ نمبر 4۔ آیت ذالکم قولکم بافواھکم، (1) بافوھکم قول کے باطل ہونے کی تاکید ہے، یعنی یہ ایسا قول ہے جس کی وجود میں کوئی حقیقت نہیں، یہ صرف زبانی قول ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : انا امشی الیک علی قدمی میں قدموں پر چل کر تیرے پاس آئوں گا۔ اس سے مراد حسن معاملہ ہے، یہ کثرت سے واقع ہوتا ہے۔ یہ کئی مواضع پر بحث واقع ہوئی ہے۔ آیت واللہ یقول الحق، الحق یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی یقول القول الحق، یھدی اس کا معنی واضح ہو یہ فعل حرف جار کے واسطہ کے بغیر متعدی ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 5۔ الادعیاء یہ دعی کی جمع ہے۔ اس سے مراد ہو شخص ہے جو ایسے بیٹے کا دعوی کرے جس کا پہلے باپ معروف نہ ہو اور یا وہ اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے بیٹا ہونے کا دعوی کرے۔ مصدر دعوۃ دال کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ادعیاء کے اپنے صلبی باپوں کے ساتھ بلایا جائے۔ جو آدمی اس اعتبار سے مجہول ہو اور اس کے نصب مشہور نہ ہوں تو وہ مولی اور دینی بھائی ہوگا۔ طبری نے ذکر کیا کہ ابوبکر نے اس آیت کو پڑھا اور کہا : میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کا باپ معروف نہیں میں تمہارا دینی بھائی اور مولی ہوں۔ ان سے روایت کرنے والے نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر انہیں علم ہوتا کہ اس کا باپ گدھا ہے تو وہ اپنی نسبت اس سے کرلیتا۔ محد ثین ابوبکر کے بارے میں یوں ذکر کرتے ہیں : نفیع بن حارث
مسئلہ نمبر 6۔ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابو بکرہ دونوں کے بارے میں صحیح روایت مروی ہے کہا : میرے دونوں کانوں نے حضرت محمد ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا جب کہ میرے دل نے اسے یاد رکھا : ” جس نے اپنی نسبت اپنے غیر باپ کی طرف کی جب کہ وہ جانتا ہے کہ یہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے “ (2) ۔ حضرت ابو ذر ؓ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جس آدمی نے اپنے غیر باپ سے ہونے کا دعوی کیا جب کہ وہ اسے جانتا بھی ہو تو اس نے کفر کیا “ (3) ۔
Ayah 33:6اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت النبی اولی بالمومنین من انفسھم یہ وہ آیت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان احکام کو زائل فرمایا جو ابتدائے اسلام میں تھے۔ (1) نبی کریم ﷺ اس آدمی کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس کے ذ مہ کوئی قرض ہوتا جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتوحات سے نوازا فرمایا : ” میں مومنوں سے ان کی ذاتوں سے زیادہ قریب ہوں جو مومن فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو اس قرض کو ادا کرنا میں ذمہ داری ہے اور جو مال چھوڑ جائے تو اس کے وارثوں کا ہے “ (1) ۔ دونوں صحیحوں نے نقل کیا ہے۔ ان میں یہ بھی ہے : ” تم میں سے جو قرض یا بال بچے چھوڑجائے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں “۔ ابن عربی نے کہا : اب معاملہ گناہوں کی صورت میں پلٹ گیا ہے اگر وہ مال چھوڑ جائیں تو عصبات اس میں شریک ہوں گے اور اگر وہ بال بچے چھوڑ جائیں تو ان کو رسول اللہ ﷺ کے سپرد کردیا جائے گا۔ اس آیت میں ولایت مذکورہ کی یہ تفسیر اس تفسیر کی طرح ہے جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی اور تنبیہ کی۔ ولا عطر بعد عروس عروس کے بعد کوئی عطر نہیں (2) ۔
ابن عطیہ نے کہا : علماء عارفین میں سے ایک نے کہا : نبی کریم ﷺ ان کے نفسوں سے زیادہ خیر خواہ ہیں کیونکہ ان کے نفوس انہیں ہلاکت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور نبی کریم ﷺ انہیں نجات کی طرف بلاتے ہیں۔ اسی امر کی تائید نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد کرتا ہے : انا آخذ بحجزکم عن النار وانتم تقحمون فیھا تقحم الفراش (3) میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ کی جہنم سے بچارہا ہوں جب کہ تم اس میں یوں داخل ہونا چاہتے ہو جس طرح پتنگ آگ میں گرتا ہے۔
میں کہتا ہوں : اس آیت کے معنی اور تفسیر میں یہ اچھا قول ہے۔ وہ حدیث جو ذکر کی گئی ہے اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : انما مثلی ومثل امتی کمثل رجل استوقد نارا فجعلت الدواب والفراش یقعن فیہ وانا اخذ بحجزکم وانتم تقحمون فیہ (1) میری اور میری امت کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو آگ کو روشن کرتا ہے تو جاندار اور پتنگے اس میں گرنا شروع ہوجاتے ہیں میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ کر آگ سے بچا رہا ہوں جب کہ تم اس میں گرنا چاہتے ہو۔ حضرت جابر ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے : وانتم تفلتون من یدی جب کہ تم میرے ہاتھ سے نکلے جارہے ہو۔ علماء نے کہا : حجزہ پائجاموں کے لیے اور معقد تہبند کے لیے ہوتا ہے۔ مراد وہ جگہ ہے جہاں ان کی گرہ باندھی جاتی ہے۔ جب کوئی اس آدمی کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے جس کے گرنے کا خوف ہو تو اس کی یہی جگہ پکڑتا ہے۔ یہ اس میں مثال ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ ہماری نجات کے لیے تگ و دو کرتے ہیں اور وہ ہلاکتیں جو ہمارے سامنے ہیں ان سے ہمیں بچانے کے حریص ہیں۔ پس آپ ﷺ ہمارے ہماری جانوں سے زیادہ خیر خواہ ہیں۔ ہم اس سے ناواقف ہیں، ہم پر ہماری شہوتوں کا غلبہ ہے اور ہمارا لعین دشمن ہم پر کامیاب ہوجاتا ہے تو ہم فراش سے زیادہ حقیر اور پتنگ سے زیادہ ذلیل ہیں۔ ولا حول ولا قوۃ الابااللہ العلی العظیم۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت اولی بھم سے مراد ہے جب آپ کسی چیز کا حکم دیں اور نفس کسی اور چیز کی طرف دعوت دے تو نبی کریم ﷺ کا حکم اطاعت کے زیادہ لائق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اولی بھم سے مراد ہے آپ زیادہ حق رکھتے ہیں کہ مومنوں کو حکم دیں تو آپ ﷺ کا حکم ان کی ذاتوں میں نافذ ہو یعنی جو وہ اپنے بارے میں حکم دیتے ہیں اور وہ آپ کے حکم کے خلاف ہوتا ہے اس کی بجائے آپ کا حکم اطاعت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ بعض علماء نے کہا : امام پر لازم ہے کہ فقراء کا قرض بیت المال سے ادا کرے وہ اس امر میں نبی کریم ﷺ کی اقتدا کرے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس کے وجوب کی تصریح کی ہے۔ فرمایا : فعلی قضاء ہ، الضیاع یہ ضیاع کا مصدر ہے۔ پھر یہ لفظ ہر اس چیز کا نام بنادیا گیا جو ضائع ہوا چاہتی ہو خواہ وہ اس کے عیال سے تعلق رکھتی ہو یا وہ بیٹے ہوں، جن کا کوئی کفیل نہ ہو اور مال ہو جس کا کوئی نگہبان نہ ہو۔ زمین کو ضیعہ کا نام دیا کیونکہ وہ ضائع ہونے کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ اس کی جمع ضیاع ضاد کے کسرہ کے ساتھ ہوتی ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ آیت وازواجہ امھتھم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کی ازواج کو شرف سے نوازا کہ انہیں مومنوں کی مائیں بنا دیا، یعنی ان کی تعظیم، ان کے ساتھ حسن سلوک، ان کی تکریم اور مردوں کے ساتھ ان کے نکاح کی حرمت واجب ہے اسی طرح اپنی مائوں کے برعکس ان سے پردہ کرنا واجب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب ان کی شفقت مائوں کی شفقت جیسی ہے تو انہیں مائوں کے قائم مقام رکھا۔ پھر یہ ماں کا رشتہ میراث کو ثابت نہیں کرے گا جس طرح متبنی ہونے کی وجہ سے ماں کا رشتہ وراثت کو ثابت نہیں کرتا۔ ان کی بیٹیوں سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا جائز ہے انہیں لوگوں کی بہنیں نہیں بنایا جائے گا۔ آیت تطہیر میں نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کی تعداد کا ذکر آئے گا۔ انشاء اللہ
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ کیا وہ مردوں اور عورتوں کی مائیں ہیں یا صرف مردوں کی مائیں ہیں ؟ اس بارے میں دو قول ہیں : امام شعبی نے مسروق سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں ایک عورت نے آپ سے کہا : اے ماں ! حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا : میں تیری ماں نہیں ہوں۔ میں صرف تمہارے مردوں کی ماں ہوں (1) ۔ ابن عربی نے کہا : یہ صحیح ہے۔
میں کہتا ہوں : عورتوں کے سوا مردوں کے لیے اس حکم کی اباحت کے حصر کے اختصاص میں کوئی فائدہ نہیں میرے لیے جو امر ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ وہ مردوں اور عورتوں کی مائیں ہیں۔ مقصد اس حق کی عظمت کا اظہار ہے جو حق ان کا مردوں اور عورتوں پر ہے جس پر آیت کا ابتدائی حصہ دلالت کرتا ہے : آیت النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔ یہ حکم بدیہی طور پر مردوں اور عورتوں کو شامل ہوگا۔ اس پر حضرت ابوہریرہ اور حضرت جابر ؓ کی حدیث بھی دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان : آیت وازواجہ امہتھم سب کی طرف لوٹ رہا ہے۔ پھر حضرت ابی کے مصحف میں وازواجہ امہتھم وھو اب لھم کے الفاظ ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اسے پڑھا من انفسھم وھو اب لھم وازواجہ امھتھم یہ سب کچھ اس موقف کو کمزور کردیتا ہے جسے مسروق نے روایت کیا اگر ترجیح کی جہت سے وہ صحیح ہو۔ اگر وہ صحیح نہ ہو تو تخصیص میں اس سے استدلال ساقط ہوجاتا ہے اور ہم اس اصل پر باقی رہ جاتے ہیں جو عموم ہے وہ عموم جو ذہنوں کی طرف جلدی سبقت لے جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 4۔ آیت واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المومنین والمھاجرین ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مومنین سے مراد انصار اور مہاجرین سے مراد قریش ہیں اس میں دو قول ہیں : (1) ہجرت کی وجہ سے جو وراثت جاری تھی اس کو منسوخ کردیا۔ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ سورة الانفال میں یہ حکم نازل ہوا : آیت والذین آمنو ولم یھاجرو مالکم من ولا یتھم من شیء حتی یھاجروا (الانفال : 73) مسلمان باہم ہجرت کی وجہ سے وارث بننے لگے۔ کوئی بدو مسلمان اپنے قریبی مسلم مہاجر کا اس وقت تک وارث نہ بنتا یہاں تک کہ وہ ہجرت کرتا پھر اس سورت میں اس حکم کو منسوخ کردیا گیا آیت واو لوا الارحام بعضھم اولی ببعض۔
(2) یہ اس وراثت کے حکم کے لیے ناسخ ہے جو وراثت باہمی معاہدہ اور دینی مواخات کی وجہ سے جاری تھی۔ ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے وہ حضرت زبیر ؓ سے روایت کرتے ہیں آیت واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جماعت قریش جب مدینہ طیبہ آئے تو ہمارے پاس کوئی مال وغیرہ نہیں تھا۔ ہم نے انصار کو بہت ہی اچھا بھائی پایا ہم نے ان سے مواخات قائم کی انہیں نے ہمیں اپنا وارث بنایا اور ہم نے انہیں وارث بنایا۔ حضرت ابوبکر صدیق حضرت خارجہ بن زید کے ساتھ بھائی بنے اور میں حضرت کعب بن مالک سے بھائی بنا میں اس کے پاس پہنچا میں نے اسے پایا کہ اسلحہ نے اسے بوجھل کیا ہوا ہے اللہ کی قسم ! اگر وہ اس وقت دنیا سے فوت ہوتے تو میرے سوا ان کا کوئی وارث نہ ہوتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا تو ہم اپنی اپنی وراثتوں کی طرف لوٹ گئے (2) ۔
حضرت عروہ سے یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر اور حضرت کعب بن مالک کے درمیان مواخات قائم کی حضرت کعب غزوہ احد کے موقع پر مرتث ہوئے (وہ مجاہد جسے میدان جنگ سے باہر لایا جائے اور اس میں زندگی کے آثار ہوں) حضرت زبیر ؓ ان کی سواری کو لگام پکڑ کر لائے اگر اس روز حضرت کعب ضح اور ریح (کثیر مال) کے ساتھ فوت ہوجاتے تو حضرت زبیر ان کے وارث ہوتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
آیت واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کو واضح کیا کہ رشتہ داری باہمی معاہدہ سے اولی ہے۔ جو باہمی معاہدہ سے وراثت جاری ہوئی اس کو ترک کردیا گیا اور وہ قرابت سے وارث ہوئے۔ سورة الانفال میں ذوی الارحام کے وارث بننے کے احکام گذرچکے ہیں۔ آیت فی کتاب اللہ میں احتمال ہے کہ مراد قرآن حکیم ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ مراد لوح محفوظ ہو جس میں مخلوق کے احوال کا فیصلہ کردیا گیا۔ آیت من المومنین جار مجرور اولی کے متعلق ہے۔ اولوالارحام کے متعلق نہیں۔ یہی اجماع ہے کیونکہ یہ بعض مومنوں کی تخصیص کو ثابت کرتا ہے اس کے عموم میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہی اس کے اشکال کا حل ہے ؛ یہ ابن عربی کا قول ہے (1) ۔ نحاس نے کہا (رح) : آیت واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المومنین والمھاجرین یہ جائز ہے کہ من المومنین، اولو کے متعلق ہو تو تقدیر کلام یہ ہوگی واولوالارحام من المومنین والمھاجرین یہ جائز ہے کہ معنی ہو مومنین سے اولی۔ مہدوی نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے اولو الارحام ان میں سے بعض بعض سے کتاب اللہ میں قریبی ہیں مگر نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے یہ جائز ہے کہ انہیں امہات المومنین کے نام سے پکارا جائے۔
مسئلہ نمبر 5۔ اس میں اختلاف ہے کہ وہ مائوں کی طرح ہوں حرمت کے اعتبار سے اور انہیں دیکھنے کے اعتبار سے۔ اس بارے میں دو قول ہیں : (1) وہ محرم ہیں انہیں دیکھنا حرام نہیں (2) انہیں دیکھنا حرام ہے کیونکہ ان کے ساتھ نکاح کرنا اس لیے تھا کہ ان کے بارے میں جو نبی کریم ﷺ کا حق ہے اس کی حفاظت کی جائے۔ آپ ﷺ کے حق کی حفاظت اس میں ہے کہ ان کی طرف دیکھنا بھی حرام ہو، کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جب کسی بچے کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دینا چاہتیں تو آپ اپنی بہن اسماء کو کہتیں کہ وہ اسے دودھ پلادے تاکہ وہ ان کا بھانجا بن جائے تو وہ آپ کا محرم بن جاتا جس کے لیے آپ کو دیکھنا مباح ہوجاتا۔ جن عورتوں کو رسول اللہ ﷺ نے ظاہری زندگی میں طلاق دے دی ان کے لیے حرمت کے ثبوت میں تین اقوال ہیں : (1) رسول اللہ ﷺ کی حرمت کو غلبہ دیتے ہوئے ان کے لیے بھی یہ حرمت ثابت ہوجائے گی۔ (2) ان کے لیے یہ حرمت ثابت نہیں ہوگی، بلکہ وہ تمام دوسری عورتوں کی طرح ہوں گی، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ان کی عصمت کو ثابت کیا اور فرمایا : ” دنیا میں جو میری بیویاں ہیں وہی آخرت میں میری بیویاں ہوں گی “۔ (3) ان میں سے جن کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے حقوق زوجیت ادا کیے ان کی حرمت ثابت ہوگی اور اس کے ساتھ نکاح کرنا بھی حرام ہوگا اگرچہ آپ نے اسے طلاق دے دی۔ مقصد ان کی حرمت کی حفاظت اور آپ کی خلوت کی نگہبانی تھی۔
جس کے ساتھ دخول نہ کیا ان کے لیے یہ حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ حضرت عمر ؓ نے ایک عورت کا رجم کرنے کا ارادہ کیا جس سے رسول اللہ ﷺ نے جدائی اختیار کی تھی۔ اور اس عورت نے بعد میں شادی کی تھی۔ اس عورت نے کہا : یہ حکم کس وجہ سے ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر پردہ نہیں ڈالا اور نہ اس کو ام المومنین کا لقب دیا گیا، حضرت عمر اس پر رجم کرنے سے رک گئے (1) ۔
مسئلہ نمبر 6۔ ایک قوم کا نقطہ نظر ہے نبی کریم ﷺ کے لیے اب کا لفظ استعال کرنا جائز نہیں کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت ما کان محمد ابا احد من رجالکم (الاحزاب : 40) بلکہ کہا جائے گا : کمثل الاب للمومنین مومنوں کے لیے باپ کی طرح، جس طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے : انما انا لکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم (2) میں تمہارے والد کے قائم مقام ہوں میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ ابو دائود نے اسے نقل کیا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ کہنا جائز ہے : انہ اب للمومنین آپ کی حرمت و تکریم میں مومنوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم (الا حزاب : 40) یعنی حضرت محمد ﷺ تمہارے نسبی باپ نہیں۔ اس کی بحث بعد میں آئے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے پڑھا من انفسھم وھو اب لھم وازواجہ حضرت عمر ؓ نے اس قراءت کو سنا اور اس کا انکار کیا۔ فرمایا : اے بچے ! اس کا حکم۔ حضرت ابن عباس نے عرض کی : یہ حضرت ابی کے مصحف میں ہے۔ حضرت عمر حضرت ابی کی طرف گئے اور ان سے پوچھا۔ حضرت ابی نے آپ سے کہا : قرآن مجھے ہر چیز سے غافل رکھتا تھا اور آپ کو بازار میں تجارت ہر چیز سے بےنیاز رکھتی تھی۔ اور حضرت عمر ؓ کے لیے سخت جملے کہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنے قول سے کہا تھا : ھوء لاء بناتی (ہود : 78) مراد ان کی مومنات تھیں یعنی ان سے شادی کرو۔ یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔
مسئلہ نمبر 7۔ ایک قوم کا نقطہ نظر ہے : آپ کی بیٹیوں کو مومنوں کی بہنیں اور امہات المومنین کی بہنوں اور بھائیوں کے مومنوں کے خالو اور خالائیں نہیں کہا جائے گا۔ امام شافعی نے کہا : حضرت زبیر ؓ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے شادی کی جب کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ کی ہمشیرہ تھیں۔ انہیں مومنوں کی خالہ نہیں کہا گیا : ایک قوم نے اس لفظ کا اطلاق کیا اور کہا : حضرت معاویہ مومنوں کے خالو ہیں یعنی حرمت میں نہ کہ نسب میں خالو ہیں۔
مسئلہ نمبر 8۔ آیت الا ان تفعلو الی اولیاء کم معروفا مراد زندگی میں احسان اور موت کے وقت وصیت ہے یعنی یہ جائز ہے ؛ یہ قتادہ، حسن بصری اور عطا کا نقطہ نظر ہے۔ محمد بن حنفیہ نے کہا : یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی کہ کوئی مومن یہودی اور عیسائی کے حق میں وصیت کرے، یعنی مومن ولی اور قریبی رشتہ دار کے حق میں وصیت کرسکتا ہے اگرچہ وہ کافر ہو۔ مشرک نسب میں ولی ہے دین میں ولی نہیں پس وہ اس کے حق میں وصیت کرسکتا ہے۔ علماء کا اس میں اختلاف ہے کیا کافر کو وصی بنایا جاسکتا ہے ؟ بعض علماء نے اسے جائز قرار دیا ہے اور بعض نے اس سے منع کیا۔ بعض علماء نے اس معاملہ کو سلطان کی طرف لو ٹادیا۔ ان میں امام مالک (رح) ہیں۔ مجاہد، ابن زید اور رومانی اس طرف گئے ہیں کہ معنی ہے : مومن اولیاء کے حق میں وصیت کرو۔ آیت کے الفاظ اس مذہب کی تائید کرتے ہیں۔ ولی کو عام رکھنا یہ بھی اچھا ہے۔ نسب کی ولایت یہ کافر کو رد نہیں کرتی یہ اس امر کو رد کرتی ہے اس کے ساتھ محبت کا رشتہ قائم کیا جائے جس طرح اسلام کے اعتبار سے ولی سے محبت کی جاتی ہے۔
مسئلہ نمبر 9۔ آیت کان ذالک فی الکتاب مسطورا، الکتب انہیں دو وجوہ کا احتمال رکھتی ہے جن کا ذکر کتاب اللہ میں ہوچکا ہے۔ مسطورا یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے : سطرت الکتاب جب تو اسے سطروں کی صورت میں ثبت کرے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ کوئی کافر مسلمان کا وارث نہیں بنے گا۔ قتادہ نے کہا : یہ قراءت میں ہے آیت کان ذالک عنداللہ مکتوبا۔ قرظی نے کہا : مراد ہے تو رات میں یہ اس طرح ہے۔
Ayah 33:7آیت واذ اخذنا من النبین میثاقھم یعنی انبیاء کو جو ذمہ داریاں دی گئیں ان کو پورا کرنے کا وعدہ لیا گیا، یہ وعدہ لیا گیا کہ وہ ایک دوسرے کو بشارت دیں گے اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں گے یعنی وہ مسطور تھا جب اللہ تعالیٰ نے کہا جو کچھ ہونے والا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ لیا۔ تقدیر کلام یہ ہوگی : کان مسطورا حین کتاب اللہ ما ھو کائن حین اخذ اللہ تعالیٰ المواثیق من الانبیاء، ومنک ضمیر سے مراد حضور ﷺ کی ذات ہے۔ آیت ومن نوح و ابراہیم وموسی و عیسیٰ ابن مریم ان پانچ انبیاء ورسل کو خاص کیا اگرچہ یہ انبیاء کے زمرہ میں داخل تھے۔ یہ الو العزم رسولوں اور امتوں کے ائمہ میں سے تھے۔ یہ احتمال بھی موجود ہے یہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیاں ولایت کو ختم کرنے کی تعظیم کے لیے ہو یعنی یہ ایسی بات ہے جس میں انبیاء کی شریعتوں میں کوئی اختلاف نہیں یعنی اسلام کے ابتدائی دور میں ہجرت کی وجہ سے باہمی وراثت جاری تھی اور ہجرت دیانت میں قوی سبب تھا۔ پھر ایمان کے ہوتے ہوئے قرابت اور رشتہ داری کی وجہ سے وہ باہم وارث بنے یہ بھی بڑا مضبوط سبب ہے جہاں تک مومن اور کافر کے درمیان وراثت کا تعلق ہے تو یہ ان انبیاء میں سے کسی نبی کے دین میں نہیں جن سے پختہ وعدہ لیا گیا، اس لیے تم ان میں کمزوری نہ دکھائو اور کفار سے دوستی نہ اپنائو۔ اس کے نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : آیت شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابرہیم وموسی و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا (الشوری : 13) دین میں تفرق کو ترک کرنا اس کی ایک صورت کفار سے دوستی کو ترک کرنا بھی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نبی مومنوں کی ذاتوں پر ان پر زیادہ حق رکھتا ہے یہ کتاب میں لکھا ہو اتھا اور انبیاء سے اس کا پختہ وعدہ بھی لیا گیا تھا۔
آیت واخذنا منھم میثاقا غلیظا یعنی ہم نے ان سے پختہ وعدہ لیا تھا کہ انہوں نے رسالت کی تبلیغ کی ذمہ داری اٹھائی ہے اور یہ ذمہ داری اٹھائی کہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں گے۔ میثاق سے مراد اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھانا ہے۔ دوسرامیثاق یہ اللہ کے نام کی قسم کے ساتھ پہلے میثاق کی تائید ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پہلا میثاق یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی اقرار ہے اور دوسرا میثاق نبوت کے متعلق ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : آیت واذاخذاللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتوء منن بہ ولتنصرنہ قالء اقررتم واخذتم علی ذلکم اصری (آل عمران : 81) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان سے پختہ وعدہ لیا کہ وہ اعلان کریں گے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور حضرت محمد ﷺ یہ اعلان کریں گے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت محمد ﷺ کا پہلے ذکر کیا کیونکہ حضرت قتادہ نے حضرت حسن بصری سے وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس ارشاد کے بارے میں پوچھا گیا : آیت واذاخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح فرمایا : ” میں پیدائش میں ان سے اول ہوں اور بعثت میں سب سے آخری ہوں “ (1) ۔ مجاہد نے کہا : یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت میں ہوا (2) ۔
Ayah 33:8اس کی چار توجہین ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ انبیاء سے پوچھے کہ انہوں نے اپنی قوموں تک پیغام حق پہنچایا ہے ؛ نقاش نے یہ حکایت بیان کی ہے۔
اس میں تنبیہ ہے یعنی جب انبیاء سے پوچھا جائے گا تو دوسروں سے کیسے نہیں پوچھا جائے گا ؟ (3)
(2) انبیاء سے یہ پوچھا جائے گا کہ ان کی قوموں نے انہیں کیا جواب دیا ہے ؛ یہ علی بن عیسیٰ نے بیان کیا ہے۔ (4)
(3) اللہ تعالیٰ انبیاء سے اس وعدے کو پورا کرنے کے بارے میں پوچھے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ لیا تھا ؛ ابن شجرہ نے اسے بیان کیا ہے۔ (5)
(4) سچے مومنوں سے مخلص دلوں کے بارے میں پوچھے (6) قرآن حکیم میں ہے آیت فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین (الاعراف) یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان سے سوال کا فائدہ یہ ہے کہ کفار کو شرمندہ کیا جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت ءانت قلت لناس (المائدہ : 116) آیت واعد للکافرین عذابا الیما اس سے مراد عذاب جہنم ہے۔