Ayah 33:11ھنا یہ ظرف مکان قریب کے لیے ہے اور ھنالک ظرف مکان بعید کے لیے ہے۔ ھناک ظرف مکان درمیانی کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ وقت کی طرف بھی اشارہ کیا جاتا ہے یعنی اس موقع پر مومنوں کو آزمایا گیا تاکہ مخلص منافق سے ممتاز ہوجائے۔ یہ آزمائش خوف، قتال، بھوک، محصوری اور دشمنوں کے آنے کی صورت میں تھی۔ آیت وزلزلو زلزالا شدیدا یعنی انہیں حرکت دی گئی۔ زجاج نے کہا : مضاعف کا مصدر ضلال کے وزن پر ہوتا ہے۔ اس میں فاء کلمہ پر فتحہ اور کسرہ دونوں جائز ہیں، جس طرح یہ جملہ ہے : قلقلتہ قلقالا وقلقالا زلزلوا زلزالا وزلزالا کسرہ زیادہ مناسب ہے، کیونکہ غیر مضاعف کا مصدر کسرہ کے ساتھ آتا ہے۔ جس طرح دحرجتہ دحراجا عام قراءت راء کے ساتھ ہے۔ عاصم اور حجدری نے راء کے فتحہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ زلزالا ابن سیبویہ نے کہا : معنی ہے انہیں خوف کے ساتھ سخت حرکت دی گئی۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد انہیں اپنی جگہوں سے ہلانا ہے، یہاں تک کہ ان کے لیے کوئی چیز باقی نہ رہی مگر خندق کی جگہ (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس حالت پر وہ تھے اس سے ان کا مضطرب ہونا ہے۔ ان میں سے کچھ وہ تھے جو اپنی ذات کے بارے میں مضطرب ہوئے اور کچھ اپنے دین کے بارے میں مضطرب ہوئے (2) ۔ ھنالک یہ جائز ہے کہ اس میں ابتلی عامل ہے ھنالک پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس میں عامل آیت وتظنون باللہ الظنونا ہو اور ھنالک پر وقف کیا جائے گا۔
Ayah 33:12مرض سے مراد شک اور نفاق ہے۔ آیت غرورا سے مراد باطل قول ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ طعمہ بن ابیرق، معتب بن قشیر اور ایک جماعت جن کی تعداد ستر کے قریب تھی انہوں نے غزوئہ خندق کے موقع پر کہا تھا : آپ ﷺ ہم سے کسری اور قیصر کے خزانوں کا کیسے وعدی کرتے ہیں جب کہ ہم میں سے کوئی قضائے حاجت بھی نہیں کرسکتا ؟ انہوں نے یہ بات اس وقت کی جب صحابہ اکرام میں یہ بات عام ہوئی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے چٹان پر ضرب لگائی تھی جس طرح امام نسائی کی حدیث میں یہ پہلے گزرچکا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
Ayah 33:13آیت واذ قالت طائفۃ منھم یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا طائفہ کا لفظ ایک اور اس سے زائد افراد پر صادق آتا ہے یہاں اس سے مراد اوس بن قیظی ہے جو عرابہ بن اوس کا والد تھا جس کے بارے میں شماح کہتا تھا :
اذامارایۃ رفعتلمجدتلقاھا عرابۃ بالیمین
بزرگی کے لیے جب بھی کوئی جھنڈا اٹھایا جاتا ہے تو عرابہ اسے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے۔
یثرب سے مراد مدینہ طیبہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام طیبہ اور طابہ رکھا۔ ابو عبید نے کہا : یثرب ایک علاقہ کا نام ہے مدینہ اس کی ایک جانب واقع تھا (1) ۔ سہیل نے کہا : اس کو یثرب نام اس لیے دیا گیا کیونکہ عمالقہ میں سے جو یہاں آکر اترا اس کا نام یثرت بن عمیل بن مہلائیل بن عوض بن عملاق بن لاوز بن ارم تھا۔ ان اسماء میں سے بعض میں اختلاف ہے۔ بنو عمیل وہ ہیں جو جحفہ میں سکونت پزیر ہوئے تھے۔ اور سیلاب انہیں بہالے گیا تھا اسی وجہ سے اسے جحفہ کا نام دیا گیا۔
آیت لامقام لکم عام قراءت میم کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ حفص، سلمی، حجدری اور ابو حیوہ نے میم کے ضمہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ یہ اقام یقیم سے مصدر میمی ہے، یعنی یہاں کوئی اقامت نہیں یا یہاں کوئی جگہ نہیں جس میں تم ٹھہر سکو۔ جس نے میم کو فتحہ دیا اس کے نزدیک یہ اسم مکان ہے یعنی یہاں کوئی جگہ نہیں جس میں تم ٹھہر سکو۔ آیت فارجعوا اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ جائو۔ انہیں حکم دیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے لشکر سے بھاگ جائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہودیوں نے عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے منافق ساتھیوں سے کہا : کون سی چیز تمہیں بر انگیختہ کرتی ہے کہ تم اپنے آپ کو ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں سے ہلاک کرو ؟ مدینہ کی طرف لوٹ جائو۔ بیشک ہم ان احزاب کے ساتھ ہیں پس تم امان میں ہو (1) ۔
آیت ویستاذن فریق منھم النبی ایک فریق نے مدینہ میں اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ جانے کی اجازت طلب کی۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول میں وہ بنو حارثہ بن حارث تھے (2) ۔ یزید بن رومان نے کہا : یہ بات اوس بن قیظی نے اپنی قوم کے سرداروں سے کی تھی۔ آیت یقولون ان بیوتنا عورۃ الگ تھلگ اور ضائع ہونے والے ہیں وہ قلعہ میں نہیں۔ یہ اس گھر کو کہتے ہیں جو دشمنوں کے سامنے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : چوروں کے لیے وہاں چوری کرنا ممکن ہے کیونکہ وہ گھر مردوں سے خالی تھے۔ یہ کہا جاتا ہے : دار معورۃ وذات عورۃ ایسے گھر کے لیے بولتے ہیں جب اس میں داخل ہونا آسان ہو جملہ کہا جاتا ہے : عور المکان عورافھو عور، بیوت عورۃ واعور فھو معور ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عورۃ ہے جس کا معنی ذات عورۃ ہے ہر وہ مکان جہاں جانے میں رکاوٹ نہ ہو اور کوئی پردہ نہ ہو تو وہ عورۃ کہلاتا ہے ؛ یہ ہر وی کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، عکرمہ، مجاہد اور ابو رجا عطاروی نے پڑھا (3) عورۃ یعنی جس کی دیواریں چھوٹی اور ان میں سوراخ ہوں۔ عرب کہتے ہیں : دار فلان عورۃ جب وہ قلعہ نمانہ ہو۔ قد اعورالفارس جب تلوار کا وار کرنے اور نیزہ مارنے میں کوئی نقص ظاہر ہو۔ شاعر نے کہا :
متیتلقھملمتلقفی البیت معورا ولا الضیفمفجوعا والا الجامرملا
جب تو انہیں ملے گا تو تو انہیں گھر میں معور نہیں ملے گا، یعنی اس کے دار میں کچھ نقص نہ ہوگا۔
جوہری نے کہا : عورۃ اس کجی کو کہتے ہیں جس سے ڈرا جاتا ہو خواہ وہ سرحد میں ہو یا جنگ میں ہو۔ نحاس نے کہا : یہ جملہ بولا جاتا ہے اعورالمکان جب اس میں کوئی خلل واقع ہو۔ اعور الفارس جب اس میں نقص کی جگہ واضح ہو۔ مہدوی نے کہا : جس نے عورۃ میں وائو کو کسرہ دیا تو یہ شاذ ہے۔ اس کی مثل ان کا قول ہے رجل عور یعنی اس کے لیے کوئی چیز نہیں۔ قیاس تو یہ تھا کہ اس میں تعلیل کی جاتی تو کہا جاتا : عار، کیوم راح، ورجل مال یہ اصل میں روح اور مول تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت وماھی بعورۃ انہوں نے جو کچھ ذکر کیا ان کو جھٹلانے اور ان کا رد کرنے کے لیے یہ کہا۔ آیت ان یریدون الا فرارا وہ بھاگ جانے کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہیں کرتے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قتل سے بھاگنا چاہتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دین سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ نقاش نے کہا : یہ آیت انصار کے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی، بنو حارثہ اور بنو سلمہ (4) ۔ انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ وہ غزوہ خندق کے موقع پر اپنے مراکز کو ترک کردیں۔ انہیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا آیت اذ ھمت طاء فتان منکم ان تفشلا (آل عمران : 122) جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے کہا : ہم نے جو ارادہ کیا تھا وہ ہمیں کوئی دکھ نہیں دیتا جب اللہ تعالیٰ ہمارا ولی ہے۔ سدی نے کہا : جن لوگوں نے اجازت طلب کی تھی ان میں دوآدمی انصار میں سے بنو حارث سے تعلق رکھتے تھے (1) ابو عرابہ بن اوس (2) اوس بن قیظی۔ ضحاک نے کہا : اسی آدمی بغیر اجازت کے لوٹ آئے تھے (1) ۔
Ayah 33:14آیت ولودخلت علیہم من افطارھا، ہا ضمیر سے مراد بیوت ہیں یا مدینہ ہے یعنی ان کی اطراف اور جوانب سے۔ واحد قطر ہے جس کا معنی جانب اور ناحیہ ہے۔ اسی طرح قتریہ بھی قطر میں ایک لغت ہے۔ آیت ثم سئلوا الفتنۃ لاتوھا تو وہ اس میں آپڑے۔ یہ نافع اور ابن کثیر کی قراءت قصر کے ساتھ ہے باقی قراء نے اسے جر کے ساتھ پڑ ھا ہے یعنی اپنی جانب سے وہ اسے دیتے۔ یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا گیا اور ان سے شرک کا مطالبہ کیا گیا ہر کسی نے وہ بات مان لی جس کا اس سے مطالبہ کیا گیا مگر حضرت بلال۔ اس میں مد کی قراءت کی دلیل ہے۔ جس کا معنی عطا کرنا ہے قصر کی قراءت پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : آیت ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل لا یولون الادبار (الاحزاب : 15) یہ لا توھا میں ہمزہ کے مقصور ہونے پر دال ہے۔ فتنہ کی یہاں دو توجیہیں ہیں : (1) ان سے عصبیت کی وجہ سے سوال کیا جائے تو وہ اس میں جلدی کرتے ہیں ؛ یہ ضحاک کا قول ہے (2) ان سے یہ شرک کا مطالبہ کیا جائے تو وہ جلدی سے اسے قبول کرلیتے ہیں، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے (2) ۔
آیت وما تلبثو بھا وہ کفر کے بعد مدینہ طیبہ میں تھوڑا ہی ٹھہرتے یہاں تک کہ ہلاک ہوجاتے ؛ یہ سدی، قتیبی، حضرت حسن بصری اور فراء کا قول ہے (3) ۔ اکثر مفسرین نے کہا : فتنہ شرک سے تھوڑے ہی بچتے اور شرک کی دعوت کو بہت جلد قبول کرتے۔ یہ ان کی نیتوں کے ضعف اور نفاق کی زیادتی کی وجہ سے تھا۔ اگر دشمن کے لشکر ان کے ساتھ خلط ملط ہوجاتے تو وہ کفر کو ظاہر کردیتے۔
Ayah 33:15آیت ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل غزوئہ خندق سے پہلے اور غزوئہ بدر کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا۔ قتادہ نے کہا : اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوئہ بدر سے غائب رہے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو جو کرامات اور نصرت عطاکی تھی اس کو انہوں نے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا تھا : اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں جنگ کا موقع دیا تو ہم ضرور جنگ کریں گے (1) ۔ یزید بن رومان نے کہا : وہ بنو حارثہ تھے انہوں نے غزوئہ احد کے موقع پر بنو سلمہ کے ساتھ مل کر بزدلی کا ارادہ کیا تھا۔ جب ان کے بارے میں نازل ہوا جو نازل ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ وہ دوبارہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس چیز کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنی طرف سے پیش کیا تھا (2) ۔
آیت وکان عھد اللہ مسئولا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ مقاتل اور کلبی نے کہا : وہ ستر افراد تھے انہوں نے لیلہ العقبہ کو نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ انہوں نے عرض کی : اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے شرطیں لگالو جو بھی آپ چاہیں۔ فرمایا : ” میں اپنے رب کے لیے شرط لگاتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کر وگے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائو گے۔ اور میں اپنے لیے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تممیری حفاظت اس طرح کرو گے جس طرح تم اپنی عورتوں، اپنے اموال اور اپنی اولاد کی حفاظت کرتے ہو “۔ انہوں نے عرض کی : یا نبی اللہ ! اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارے لیے کیا ہوگا۔ فرمایا : ” تمہارے لیے دنیا اور آخرت میں جنت ہوگی “ (3) ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان سے یہی مراد ہے : آیت وکان عھد اللہ مسئولا یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس بارے میں پوچھے گا۔
Ayah 33:16جس کی اجل آجائے گی وہ مر جائے گا یا قتل ہوجائے گا تو بھاگنا اسے کوئی نفع نہیں دے گا۔ پس بھاگنے کے بعد تم دنیا میں تھوڑا عرصہ ہی لطف اندوز ہو گے یہاں تک کہ تمہاری آجال پوری ہوجائیں گی۔ ہر وہ چیز جو آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ ساجی نے یعقوب حضرمی سے روایت نقل کی ہے آیت واذالا یمتعون یاء کے ساتھ ہے۔ بعض روایات میں ہے آیت واذا لا تمتعو، اذا کے ساتھ منصوب ہے رفع اس معنی میں ہے ولا تمتعون اور اذا ملغی ہے۔ اس کو عامل بنانا بھی جائز ہے۔ یہ اس کا حکم اس وقت ہوگا جب اس سے پہلے وائو اور فاء ہو۔ جب اس سے کلام شروع ہو تو تو اس کے ساتھ نصب دے گا تو تو کہے گا : اذا اکرمک۔
Ayah 33:17یعنی اللہ تعالیٰ سے تمہیں کون بچائے گا ؟ اگر وہ تمہارے بارے میں ہلاکت کا ارادہ کرلے۔ رحمۃ سے مراد خیر، مدد اور عافیت ہے۔ آیت ولیا و لا نصیرا یعنی نہ وہ ایسا قریبی پائیں گے جو انہیں نفع دے اور نہ ایسا مددگار پائیں گے جو ان کی مدد کرے۔
Ayah 33:18آیت قد یعلم اللہ المعوقین منکم تم میں سے جو لوگ آڑے آتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نبی کریم ﷺ سے روکیں یہ عاقنی من کذا سے مشتق ہے یعنی اس نے مجھے فلاں سے پھیر دیا۔ عوق یہ کثرت اظہار کے لیے آتا ہے۔ آیت والقائلین لاخوانھم ھلم الینایہ اہل حجاز کی لغت کے مطابق ہے۔ دوسرے کہتے ہیں : ھلموا یہ جماعت کے لیے ہے۔ ھلمی یہ عورت کے لیے ہے۔ کیونکہ اصل میں ہا تنبیہ کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ لم ملا دیا گیا ہے پھر تخفیف کے لیے الف کو حذف کردیا گیا ہے۔ اور اسے مبنی بر فتحہ بنایا گیا ہے اس میں کسرہ اور ضمہ جائز نہیں کیونکہ یہ منصرف نہیں۔ ھلم کا معنی اقبل ہے یعنی آئو۔ یہ دو گروہ تھے یعنی تم میں سے وہ لوگ ہیں جو روکتے ہیں۔ عوق کا معنی روکنا اور پھیرنا ہے یوں باب ذکر کیا جاتا ہے عاقہ یعوقہ عوقا، عوقہ اعقاقۃ سب ایک معنی میں ہیں۔ مقاتل نے کہا : وہ عبدا للہ بن ابی اور اس کے ساتھی تھے جو سب منافق تھے۔
آیت والقائلین لاخوانھم ھلم ان کے بارے میں تین قول ہیں : (1) وہ منافق تھے انہوں نے مسلمانوں سے کہا : حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ بہت ہی تھوڑے ہیں آپ ﷺ اور آپ کے ساتھی ہلاک ہونے والے ہیں۔ پس ہماری طرف آجائو (2) وہ بنو قریظہ کے یہودی تھے۔ انہوں نے اپنے منافق بھائیوں سے کہا : ہمارے پاس آجائو اور حضرت محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ دو کیونکہ وہ تو ہلاک ہونے والے ہیں اگر ابو سفیان کامیاب ہوگیا تو تم میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ (3) ابن زید نے جو بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک نیزوں اور تلواروں کے درمیان تھے اس کے حقیقی بھائی نے اسے کہا : میری طرف آجائو۔ تیرے اور تیرے ساتھی کو گھیر لیا گیا ہے اس صحابی نے کہا : تو نے جھوٹ بولا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں آپ ﷺ کو تیرے بارے میں آگاہ کروں گا۔ وہ صحابی رسول ﷺ کی طرف گیا تاکہ آپ کو بتائے تو اس نے پایا کہ حضرت جبریل امین رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام لا چکے ہیں : قد یعلم اللہ المعوقین منکم والقائلین لاخوانھم ھلم الینا۔ ماوردی اور ثعلبی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ (1) ۔ اس کے الفاظ ہیں : ابن زید نے کہا : یہ احزاب کا دن ہے نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک صحابی چلا تو اس نے اپنے بھائی کو پایا کہ اس کے سامنے روٹی، بھنا ہوا گوشت اور نبیذ ہے۔ اس صحابی نے کہا : تو اس حال میں ہے جب کہ ہم نیزوں اور تلواروں کے درمیان وقت گزار رہے ہیں ؟ اس نے کہا : میرے پاس آجائو تحقیق تجھے اور تیرے ساتھیوں کو گھیر لیا گیا ہے وہ ذات جس کی تو قسم اٹھاتا ہے حضرت محمد ﷺ کا معاملہ اب کبھی بھی مستحکم نہ ہوگا۔ فرمایا (رح) : تو نے جھوٹ بولا۔ وہ صحابی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ سب کچھ بتائے تو حضرت جبریل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ آیت ولا یاتون الباس الا قلیلا وہ موت کے ڈر سے جنگ میں بہت ہی کم شامل ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ جنگ میں ریا کاری اور شہرت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔
Ayah 33:19آیت اشحۃ علیکم تم پر بخیل ہیں خندق کھودنے میں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں ؛ یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہاری معیت میں جنگ کرنے میں بخیل ہیں (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے فقراء اور مساکین پر خرچ کرنے میں بخیل ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے (2) : جب وہ غنیمت کا مال پاتے ہیں تو اس کے بارے میں بڑے بخیل ہوتے ہیں، یہ سدی کا قول ہے۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ زجاج نے کہا : فراء کے نزدیک اس پر نصب چار وجوہ سے ہے : (1) یہ مذمت کے طور پر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کے نزدیک نصب یعوقون اشحۃ کے معنی میں ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ تقدیر کلام ہو القائلین اشحۃ اس کے نزدیک یہ بھی جائز ہے کہ کلام یوں ہو : آیت ولا یاتون الباس الا قلیلا اشحۃ یعنی وہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو وہ غنیمت کے مال کے بارے میں فقراء پر بخل کرنے والے ہوتے ہیں۔ نحاس نے کہا : اس میں المعوقین کا عامل ہونا جائز نہیں اور نہ ہی القائلین کا عامل ہونا جائز ہے تاکہ صلہ اور موصول کے درمیان فاصلہ نہ کیا جائے۔ ابن انباری نے کہا : الا قلیلا غیر تام ہے۔ کیونکہ اشحۃ اول کے متعلق ہے یہ چار وجوہ سے منصوب ہے : (1) یہ المعوقین سے الگ ہونے کی وجہ سے منصوب ہو۔ گویا فرمایا : آیت قد یعلم اللہ الذین یعوقون عن القتال ویشحون عن الانفاق علی فقراء المسلمین۔ یہ بھی جائز ہے کہ القائلین سے الگ ہونے کی وجہ سے منصوب ہو، یعنی وھم اشحۃ۔ یہ بھی جائز ہے کہ ذم کے طریقہ پر اشحۃ منصوب ہو۔ اس چوتھی وجہ سے الا قلیلا، اشحۃ علیکم پر وقف کرے یہ اچھا وقف ہے اس کی مثل آیت اشحۃ علی الخیر، سلقوکم میں جو ضمیر ہے اس سے حال ہے یہی اس میں عامل ہے۔
آیت فاذا جاء الخوف رایتھم ینظرون الیک تدور اعینھم کالذی یغشی علیہ من الموت ان کی صفت جبن (بزدلی) سے لگائی ہے۔ بزدل کا یہی طریقہ ہوتا ہے وہ دائیں بائیں اپنی نظر کو تیز کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ بعض اوقات اس پر غشی طاری ہوجاتی ہے۔ الخوف میں دو وجوہ ہیں : (1) جب دشمن آگے بڑھے تو دشمن سے جنگ کرنے کی وجہ سے (1) ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ (2) نبی کریم ﷺ سے خوف کی وجہ سے جب آپ ﷺ غالب آئیں ؛ یہ ابن شجرہ کا قول ہے (2) ۔ آیت رایتھم ینظرون الیک پہلے قول کے مطابق جنگ سے خوف کھانے کی بنا پر۔ اور دوسرے قول کی بنا پر نبی کریم ﷺ سے خوف کی وجہ سے۔ آیت تدور اعینھم ان کی آنکھیں گھومتی ہیں کیونکہ ان کی عقلیں جا چکی ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ کسی طرف بھی صحیح نہیں دیکھتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں شدید خوف لاحق ہوتا ہے وہ ڈرتے ہیں کہ انہیں ہر جانب سے قتل کا وار ہوسکتا ہے (3) ۔ آیت فاذا ذھب الخوف سلقوکم بالسنۃ حداد فراء نے کہا : یہ صلقوکم ہے یعنی صاد کے ساتھ ہے۔ جب خطیب بلیغ ہو تو اس کو خطیب مسلاق اور مصلاق بولتے ہیں صلق کا اصل معنی آواز ہے۔ اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : لعن اللہ الصالقۃ والحالقۃ والشاقۃ (4) اللہ تعالیٰ کی ایسی عورت پر لعنت ہو جو مصیبت کے وقت چلا کر روئے، بال منڈائے اور گریبان پھاڑے۔ اعشی نے کہا :
فیھم المجد والسماحۃ والنج دۃ فیھموالخاطب السلاق (5)
ان میں بزرگی۔ سخاوت اور شرافت ہے اور بلند آواز والا خطیب ہے۔
قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے انہوں نے غنیمت کا مال تقسیم ہوتے وقت۔ تمہارے بارے میں اپنی زبانوں کو لمبا کیا۔ وہ کہتے ہیں : ہمیں عطا کیجئے، ہمیں عطا کیجئے ہم بھی تمہارے ساتھ تھے۔ غنیمت کے وقت لوگوں میں سب سے بخیل اور سب سے زیادہ زبان دراز ہیں اور جنگ کے وقت لوگوں میں سب سے بزدل اور سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں۔ نحاس نے کہا : یہ اچھا قول ہے، کیونکہ اس کے بعد آیت اشحۃ علی الخیر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ تمہارے ساتھ جھگڑنے اور دلیل قائم کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں۔ قتبی نے کہا : وہ شدید کلام کے ساتھ تمہیں اذیت دیتے ہیں سلق کا معنی اذیت ہے۔ اس معنی میں شاعر کا قول ہے :
ولقد سلقناھوازنا بنواھلحتیانجینا (6)
تحقیق ہم نے ہوازن کو اذیت دی جو بنو اہل ہیں یہاں تک ہم مڑ آئے۔
آیت اشحۃ علی الخیر مال غنیمت پر بخیل ؛ یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے (7) ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل کرنے والے ہیں ؛ یہ سدی کا قول ہے (8) ۔ آیت اولئک لم یوء منوا وہ اپنے دلوں سے ایمان نہیں لائے تھے، اگرچہ بظاہر مومن تھے۔ منافق حقیقت میں کافر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفر کے ساتھ اس کی صفت ذکر کی ہے۔ آیت فاحبط اللہ اعمالھم یعنی اللہ تعالیٰ انہیں بدلہ عطا نہیں فرمائے گا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد نہیں کیا تھا۔ آیت وکان ذالک علی اللہ یسیرا اس میں بھی دو احتمال ہیں : (1) ان کا نفاق اللہ تعالیٰ پر آسان ہے (2) ان کے اعمال ضائع کرنا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے (1) ۔
Ayah 33:20آیت یحسبون الاحزاب لم یذھبوا وہ اپنی بزدلی کی وجہ سے گمان کرتے ہیں کہ لشکر نہیں گئے جب کی لشکر جاچکے ہیں لیکن وہ دور نہیں گئے۔ آیت وان یات الاحزاب اگر لشکر قتال کے لیے ان کی طرف لوٹ آئیں۔ آیت یودو لو انھم بادون فی الاعراب وہ آرزو کریں گے کہ اگر وہ بدوئوں کے ساتھ ہوتے تو وہ قتل سے بچتے ہیں اور حادثات زمانہ کا انتظار کرتے ہیں۔ طلحہ بن مصرف نے پڑھا لو انھم بدی فی الاعراب یوں کہا جاتا ہے : باد، بدی۔ جس طرح غازی کی جمع غزی اس کی تائید میں ہے صائمہ، او صوام۔
بدا فلان یبدو اس وقت بولتے ہیں جب کوئی آدمی جنگل کی طرف نکل جائے۔ یہ لفظ بداوۃ اور بداوۃ کسرہ اور فتحہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے کلمہ کا اصل بدو ہے جس کا معنی ظاہر ہونا ہے : آیت یسالون یعوب نے رویس کی قراءت میں آیت یتساء لون عن انباء کم قراءت کی ہے، یعنی وہ نبی کریم ﷺ کی خبروں کے بارے میں پوچھتے ہیں (2) ، وہ باتیں کرتے ہیں : کیا حضرت محمد اور آپ کے صحابہ ہلاک نہیں ہوئے ؟ کیا ابو سفیان اور لشکر غالب نہیں آئے ؟ یعنی وہ پسند کرتے ہیں کہ جنگ میں ہوتے وہ تمہاری خبروں کے بارے میں پوچھتے اور جنگ میں حاضر نہ ہوتے۔ یہ ان کی بزدلی کی زیادتی کی وجہ سے ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی بزدلی کی وجہ سے ہمیشہ مسلمانوں کی خبروں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کیا انہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچی ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان میں سے کچھ لوگ مدینہ کی اطراف میں تھے جو غزوہ خندق میں حاضر نہ ہوئے۔ وہ تمہارے خبریں پوچھتے ہیں اور مسلمانوں کی شکست کی تمنا کرتے ہیں۔
آیت ولو کانوا فیکم ما قتلوا الا قلیلا وہ تیر پھینکتے اور پتھر پھینکتے یہ ریا اور شہرت کے طریقہ پر کرتے اگر یہ عمل اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا تو قلیل بھی کثیر ہوتا۔
Ayah 33:21اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ قتال سے چھوڑ کر گھر بیٹھے رہنے والوں ہی کے لیے عتاب ہے یعنی تمہارے لیے نبی کریم ﷺ کی ذات میں بہترین اسوہ ہے کیونکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے جان کو صرف کر رہے ہیں کہ آپ غزوئہ خندق کے لیے گھر سے باہر تشریف لے گئے۔ اسوہ کا معنی قدوہ اور نمونہ ہے۔ عاصم نے اسوۃ ہمزو کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے اسے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں۔ فراء کے نزدیک دونوں کی جمع ایک ہی ہے۔ جس کے واحد میں کسرہ دیا اس کے نزدیک ضمہ کی علت یہ ہے کہ ناقص واوی اور یائی میں یہ فرق ہے وہ کہتے ہیں : کسوۃ کسا، لحیۃ، لحا۔ جوہری نے کہا : اُسوۃ اور اِسوۃ دو لغتیں ہیں۔ اس کی جمع اسی اور اسی ہے۔ عقب بن حسان ہجری نے امام مالک بن انس سے وہ نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ فرمایا : یہ نبی کریم ﷺ کی بھوک کے بارے میں ہے (1) ؛ خطیب ابوبکر احمد نے اسے ذکر کیا ہے۔ کہا : عقبہ بن حسان امام مالک سے منفرد ہیں۔ میں نے اسے اسی سند سے ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ آیت اسوۃ اس کا معنی نمونہ ہے۔ اسوۃ اسے کہتے ہیں جس سے تسلی حاصل کی جائے اور اس کے تمام افعال میں اقتدا کی جائے، اور تمام احوال میں اس سے تسلی حاصل کی جاتی ہے۔ حضور ﷺ کے چہرے کو زخمی کیا گیا، آپ کی رباعیہ (سامنے والے دانت) کو توڑا گیا، آپ کے چچا کو قتل کیا گیا، آپ کا پیٹ بھوکا رہا اور آپ کو نہ پایا گیا مگر صابر اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے والا شکر کرنے والا اور راضی برضا رہنے والا۔
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے وہ حضرت ابو طلحہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں بھوک کی شکایت کی اور ہم نے اپنے پیٹوں سے کپڑا اٹھایا جس پر ایک ایک پتھر تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا جب کہ آپ کے پیٹ پر دو پتھر تھے۔ حضرت عیسیٰ ترمذی نے اسے نقل کیا ہے اس بارے میں فرمایا : یہ حدیث غریب ہے (3) ۔ جب حضور ﷺ کی زخمی کیا گیا تو آپ نے یوں دعا کی : اللھم اغفر لقومی فانھم لا یعلمون اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے وہ نہیں جانتے (4) ۔ یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ آیت لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر سعید بن جبیر نے کہا : معنی ہے جو ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے اور اس بعث کی تصدیق کرتا ہے جس میں اعمال کی جزا ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو یوم آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ثواب کی امید رکھتا ہے۔ نحویوں میں سے حاذق نحویوں کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ یرجو کو لکھا جائے مگر الف کے بغیر جب وہ واحد کے لیے ہو، کیونکہ جمع میں جو علت ہے وہ واحد میں نہیں۔ آیت وذکر اللہ کثیرا وہ اللہ تعالیٰ کے عقاب سے ڈر کر اور ثواب کی امید میں اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : لمن یہ لکم سے بدل ہے۔ بصریوں نے اسے جائز قرار نہیں دیا، کیونکہ غائب، مخاطب سے بدل نہیں ہو سکتا۔ لمن کا لام حسنۃ کے متعلق ہے۔ اُسوۃ کان کا اسم ہے لکم اس کی خبر ہے۔ اس خطاب کے ساتھ جس کا ارادہ کیا گیا ہے اس میں اختلاف ہے اس کے بارے میں دو قول ہیں : (1) منافق۔ ان سے پہلے جو خطاب کیا گیا ہے اس پر عطف ہے (2) مومن، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر۔
رسول اللہ ﷺ کے اس اسوہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ کیا یہ واجب ہے یا مستحب ہے ؟ (1) واجب ہے یہاں تک کہ استحباب پر دلیل قائم ہوجائے۔ (2) مستحب ہے یہاں تک کہ وجوب پر کوئی دلیل قائم ہوجائے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ امور دین میں وجوب پر محمول کیا جائے اور دنیا کے امور میں استحباب پر محمول کیا جائے (2) ۔
Ayah 33:22آیت ولما را المومنون الاحزاب عربوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں : راء اس کا اطلاق دل پر ہوتا ہے۔ آیت قالوا ھذا ماوعدنا اللہ اس سے مراد سورة بقرہ کی یہ آیت ہے آیت ام حسبتم ان تد خلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم ( البقرہ : 214)
جب غزوہ خندق کے موقع پر احزاب کو دیکھا تو انہوں نے کہا : آیت ھذا ماوعدنا اللہ ورسولہ، یہ قتادہ کا قول ہے (3) ۔
دوسرا قول وہ ہے جسے کثیر بن عبد اللہ بن عمرو مزنی نے اپنے باپ سے وہ اپنے داد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سال خطبہ دیا جس میں احزاب کا ذکر ہوا ہے۔ فرمایا : ” حضرت جبریل امین نے مجھے خبر دی کہ میری امت اس پر غلبہ پانے والی ہے۔ یعنی حیرہ اور مدائن کسری کے محلات پر، پس تمہیں فتح کی بشارت ہو “۔ مسلمان خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا : الحمد للہ۔ سچاوعدہ ہے کیونکہ محاصرہ کے بعد ہم سے فتح کا وعدہ کیا گیا ہے لشکر سامنے آگئے تو مومنوں نے کہا : آیت ھذا ماوعدنا اللہ ورسولہ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے (1) ۔ آیت ماوعدنا میں ما کو اگر تو الذی کے معنی میں بنائے تو ضمیر عائد محذوف ہوگی۔ اگر تو اسے مصدر بنائے تو یہ ضمیر کی محتاج نہ ہوگی۔
آیت وما زادھم الا ایماناوتسلیمافراء نے کہا : احزاب کو دیکھنا ان میں اضافہ نہیں کرتا۔ علی بن سلیمان نے کہا : رای کا لفظ رئویت پر دلالت کرتا ہے اور رئویت کی تانیث غیر حقیقی ہے۔ معنی ہے رئویت نے اضافہ نہ کیا مگر رب پر ایمان میں اور قضا کے تسلیم کرنے میں ؛ یہ حضرت حسن بصری نے کہا (2) ۔ اگر وہ کہے : مازادوھم تو یہ بھی جائز ہے۔ جب مسلمانوں پر معاملہ شدید ہوگیا اور خندق میں قیام طویل ہوگیا تو نبی کریم ﷺ اس ٹیلے پر ایک رات کھڑے ہوئے جس پر مسجد فتح ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس مدد کا وعدہ کیا تھا اس کی امید کی۔ فرمایا : ” کون جائے گا تاکہ ان کی خبر لائے تو اس کے لیے جنت ہے “۔ کسی نے جواب نہ دیا۔ حضور ﷺ نے دوسری یا تیسری دفعہ فرمایا تو کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ حضور ﷺ نے ایک جانب دیکھا۔ پوچھا ” یہ کون ہے ؟ “ عرض کی حذیفہ۔ فرمایا : ” کیا تو وہ بات نہیں سن رہا جو میں آج رات سے کہہ رہا ہوں ؟ “ حضرت حذیفہ نے کہا : میں نے عرض کی یارسول اللہ ! ﷺ بد حالی اور ٹھنڈک نے مجھے جواب دینے سے روکا۔ فرمایا : ” جائو یہاں تک کہ قوم میں داخل ہو۔ اس کی گفتگو سنے اور ان کی خبر میرے پاس لائے۔ اے اللہ اس کی اس کے سامنے سے، اس کے پیچھے سے، اس کی دائیں جانب سے اور اس کی بائیں جانب سے حفاظت فرما یہاں تک کہ یہ میری طرف لوٹ آئے۔ جائو، کوئی نیا کام نہ کرنا یہاں تک کہ تو میرے پاس آئے “ حضرت حذیفہ ؓ اپنا اسلحہ لے کر نکلے تو رسول اللہ ﷺ نے یوں کہتے ہوئے اپنا ہاتھ اٹھایا : ” اے غمزدوں کی آوازسننے والے ! اے مجبوروں کی دعا قبول کرنے والے ! میری مصیبت، میرے غم اور کرب کو دور فرمادے تو میرا اور میرے صحابہ کا حال دیکھ رہا ہے “۔ حضرت جبریل نازل ہوئے، عرض کی : اللہ تعالیٰ نے تیری دعا کو سن لیا ہے، اور تیرے دشمن کی جانب سے پیدا ہونے والے خوف کو کافی ہے۔
رسول اللہ ﷺ اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑے، اپنے ہاتھوں کو پھیلادیا۔ اپنی آنکھوں کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور یوں کہہ رہے تھے۔ ” شکر شکر تو نے مجھ پر رحم فرمایا اور تو نے میرے صحابہ پر رحم فرمایا “۔ حضرت جبریل امین نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف ہوا کو بھیجنے والا ہے تو حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کو بشارت دی۔ حضرت حذیفہ نے کہا : میں ان تک پہنچا، ان کی آگیں جل رہی تھیں تیز ہوا آئی اس میں سنگریزے تھے۔ اس نے ان کی آگ کو نہ چھوڑا مگر اسے بجھا دیا کوئی خیمہ نہ چھوڑا مگر اسے گرادیا وہ سنگریزوں سے بچنے کے لیے چیزوں کو ڈھال بنا رہے تھے۔ ابو سفیان اپنی سواری کی طرف اٹھا اور قریش میں چیخا۔ النجاء النجاء بچائو بچائو۔ عیینہ بن حصن، حارث بن عوف اور اقرع بن حابس نے بھی اسی طرح کہا، لشکر بکھر گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی اور مدینہ طیبہ کی طرف لوٹ آئے۔ آپ کے بال پراگندہ اور جسم گرد آلود تھا۔ حضرت فاطمہ ؓ پانی لائیں اور سر دھونے لگیں۔ حضرت جبریل امین آئے اور عرض کی (رح) : آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے جب کہ اہل سماء نے اسلحہ نہیں اتارا میں لگا تار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ میں انہیں روحاء سے آگے چھوڑآیا۔ پھر عرض کی : بنو قریظہ کی طرف اٹھو۔ ابو سفیان نے کہا : میں اسلحہ کی جھنکار لگاتار سنتا رہا یہاں تک کہ میں روحاء سے آگے نکل آیا۔
Ayahs 33:23–24آیت من المومنین رجال رجال مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے نکرہ ہونے کے باوجود مبتدا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ آیت صدقوا اس کی صفت ہے۔ آیت فمنھم من قضی نحبہ، من محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ اسی طرح آیت ومنھم من ینتظر میں من ہے اور خبرجار مجرور ہے۔ نحب کا معنی نذر اور عہد ہے تو اس باب کا یوں ذکر کرتا ہے : نحبت انحب یعنی عین کلمہ پر ضمہ ہے۔ شاعر نے کہا :
واذانحبت کلب علیالناس انھم احق بتاج الماجد المتکرم (1)
جب بنو کلب لوگوں پر عہد کریں تو وہ بزرگی اور کرم کے تاج کے زیادہ حقدار ہیں۔
ایک اور شاعر نے یہ لفظ یوں استعمال کیا۔
قد نحب المجدعلینا نحبا
بزرگی نے ہمارے ساتھ عہد کیا۔ ایک اور شاعر نے کہا :
انحب فیقضی ام ضلال وباطل
کیا کوئی وعدہ ہے جو پورا کیا جائے یا یہ قول باطل ہے۔
امام بخاری، امام مسلم اور امام ترمذی نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے (2) کہا : میرے چچا حضرت انس بن نضر نے کہا ان کا بھی یہی کام تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ان پر یہ معاملہ بڑا شاق گزرا تھا۔ انہوں نے کہا : پہلی جنگ جس میں رسول اللہ ﷺ شامل ہوئے تھے میں اس سے غائب رہا۔ خبردار ! اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بعد میں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں غزوہ دکھایا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ کہا : وہ اس سے ڈرے کہ اس کے علاوہ کوئی اور کلمہ کہیں۔ اگلے سال وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احد میں شامل ہوئے۔ حضرت سعد بن مالک انہیں ملے۔ پوچھا : اے ابو عمر و کہاں ؟ جواب دیا : جنت کی ہوا کیا ہی خوب ہے۔ میں اسے احد کی جانب سے پاتا ہوں۔ انہوں نے جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ ان کے جسم پر اسی سے زائد زخم، تلوار، نیزہ اور تیر کے پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے کہا : میں نے اپنے بھائی کو اس کے پوروں سے پہچانا اور یہ آیت رجال صدقو ماعاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلا نازل ہوئی (1) ۔ الفاظ ترمذی کے ہیں۔ کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ہیں وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ڈٹے رہے یہاں تک کہ ان کا ہاتھ شل ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اوجب طلحہ الجنۃ (2) حضرت طلحہ نے ایسا کام کیا ہے جس کے بدلہ میں حضرت طلحہ کے لیے جنت ثابت ہوگئی ہے۔ ان سے ترمذی شریف میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ایک جاہل بدو سے کہا : نبی کریم ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھئے جس نے اپنا وعدہ پورا کیا ؟ صحابہ کرام حضور ﷺ سے سوال کرنے کی جرأت نہیں کیا کرتے تھے۔ صحابہ حضور ﷺ کے وقار کا لحاظ رکھتے تھے اور ڈرا کرتے تھے۔ اس بدو نے حضور ﷺ سے سوال کیا تو حضور ﷺ نے اس سے اعراض کیا۔ اس نے پھر سوال کیا تو حضور ﷺ نے اعراض کیا۔ پھر میں مسجد کے دروازے سے ظاہر ہوا جب کہ میرے جسم پر سبز لباس تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا : ” وہ سائل کہاں ہے جو یہ پوچھ رہا تھا کہ کس نے وعدے کا حق ادا کیا ہے ؟ “ بدو نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میں حاضر ہوں۔ فرمایا : ” یہ ان میں سے ہے جس نے اپنا وعدہ پورا کیا “۔ کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے یونس بن بکیر کی حدیث سے جانتے ہیں (3) ۔
بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب احد سے واپس لوٹے تو حضرت مصعب بن عمیر کے پاس سے گزرے جب کہ وہ آپ ﷺ کے راستہ میں شہید پڑے تھے۔ آپ ﷺ ان پر کھڑے ہوئے اور ان کے حق میں دعا کی، پھر اس آیت کو تلاوت کیا : آیت من المومنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہ پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں گواہی دیتا ہوں کہ قیامت کے روز یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید ہوں گے ان کے پاس آئو اور ان کی زیارت کرو مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! قیامت تک ان پر کوئی سلام پیش نہیں کرے گا مگر یہ اس کا جواب دیں گے “ (4) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نحب کا معنی موت ہے (5) جس پر عید کیا اسی پر موت آئی۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : نحب کا معنی وقت اور مدت ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : قضی فلان نحبہ جب وہ فوت ہوجائے۔ ذورمہ نے کہا :
عشیہ فر الحارثیون بعدما قضی نحبہ فی ملتقی الخیلہوبر (6)
اس شام حارثی بھاگ گئے بعد اس کے کہ ہوبر گھوڑوں کی جنگ کے دوران فوت ہوا۔
نحب کا معنی حاجت ہے۔ ایک قائل کہتا ہے۔ مالی عندھم نحب ان کے ہاں میرا کوئی کام نہیں۔ آیت سے یہ مراد نہیں۔ یہاں نحب سے مراد نذر ہے جس طرح ہم نے پہلے کہا، یعنی ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنا وعدہ نبھانے کے لیے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کرلیں یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے جس طرح حضرت حمزہ، حضرت سعد بن معاذ، حضرت انس بن نضر وغیرہ۔ ان میں سے کچھ اپنی شہادت کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے عہد اور نذر میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے قراءت کی : آیت فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر ومنھم من بدل تبدیلا۔ ابوبکر انباری نے کہا : اہل علم کے نزدیک یہ حدیث مروی ہے کیونکہ اجماع اس کے خلاف ہے کیونکہ اس میں ان مومنوں اور لوگوں پر لعن ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے مدح کی، صدق اور وفا سے شرف بخشا۔ ان میں کوئی تبدیلی والا معروف نہ ہوا اور نہ ان کی جماعت میں تبدیلی کرنے والا پایا گیا۔ آیت لیجزی اللہ الصادقین بصدقھم۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تاکہ آخرت میں سچوں کے ان کے سچ پر جزادے آیت ویعذب المنفقین اور آخرت میں منافقوں کو عذا ب دے۔ ان شاء اگر چاہے گا کہ انہیں عذاب دے تو انہیں توبہ کی توفیق نہیں دے گا۔ اگر ان کو عذاب دینا نہیں چاہے گا تو موت سے قبل ان پر نظر کرم فرمائے گا۔ آیت ان اللہ کان غفورا رحیما بیشک اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔
Ayah 33:25محمد بن عمرو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ یہاں آیت الذین کفرو سے مراد ابو سفیان اور عیینہ بن بدر ہے، ابو سفیان تہامہ کی طرف اور عیینہ نجد کی طرف لوٹ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لشکروں پر ہوا اور لشکروں کو بھیجا یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اور بنو قریظہ اپنے قلعوں کی طرف لوٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ قریظہ پر رعب ڈالنے کے ساتھ کافی ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا امر قوی ہے اس پر غلبہ نہیں پایا جاسکتا۔
Ayahs 33:26–27آیت وانزل الذین ظاھروھم من اھل الکتاب من صیاصیھم یہاں اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے لشکروں کی مدد کی، لشکروں سے مراد قریش اور غطفان ہیں یہ بنو قریظہ تھے۔ ان کا وقعہ گزرچکا ہے۔ آیت من صیاصیھم ان کے قلعوں میں ؛ اس کا واحد صیصہ ہے۔ شاعر نے کہا :
فاصبحت الثیران صرعی واصبحت نسائتمیمیبتدرن الصیاصیا (1)
بیل مردہ پڑے تھے اور تمیم قبیلہ کی عورتیں قلعوں کی طرف جلدی جلدی جا رہی تھیں۔
ان سے یہ بھی مروی ہے کہ جولا ہے کا کانٹا جس کے ساتھ وہ تانے اور بانے کو درست کرتا ہے اسے صیصہ کہا جاتا ہے۔
درید بن صمہ نے کہا :
فجئت الیہوالرماحتنوشہ کو قعالصیاصی فیالنسیجالممدد (2)
میں اس کی طرف آیا جب کہ نیزے اسے نوچ رہے تھے جس طرح کانٹے بنے جانے والے کپڑے میں پڑتے ہیں۔ اسی سے صیصۃ الدیک ہے جو مرغ کے پائوں میں ہوتا ہے۔ صیاصی البقر سے مراد ان کے سینگ ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ وہ اپنا دفاع کرتے ہیں۔ بعض اوقات لوہے کا پھل کی جگہ ان کو نیزے پر لگایا جاتا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : جذ اللہ صئمئہ اللہ تعالیٰ نے اس کی جڑ کاٹ دی۔
آیت وقذف فی قلوبھم الرعب فریقا تقتلون تم مردوں کو قتل کرتے ہو۔ آیت وتا سرون فریقا یہاں فریق سے مراد عورتیں اور بچے ہیں، جس طرح پہلے گزرا ہے۔ آیت واورثکم ارضھم ودیارھم واموالھم وارضا لم تطئو ھاجس زمین کو تم نے ابھی تک نہیں روندا۔ یزید بن رومان، ابن زید اور مقاتل نے کہا : مراد غزوہ حنین ہے۔ ابھی تک انہوں نے اس کا موقع نہیں پایا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ان سے وعدہ فرمایا تھا۔ قتادہ نے کہا : ہم یہ باتیں کرتے تھے اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے (3) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد فارس وروم ہے (4) ۔ عکرمہ نے کہا : مراد وہ تمام علاقے ہیں جو قیامت تک فتح ہونگے (5) ۔ آیت وکان اللہ علی کل شیء قدیرا اس کی دو توجیہیں ہیں : (1) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بارے میں انتقام یا عفو جس کا بھی ارادہ کرے اس پر قادر ہے ؛ یہ محمد بن اسحاق کا نقطہ نظر ہے (6) ۔ (2) جن قلعوں اور بستیوں کو فتح کرنے کا ارادہ کرے اس پر قادر ہے ؛ یہ نقاش کا قول ہے (7) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت وکان اللہ علی کل شیء قدیرا اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ جن چیزوں کا وعدہ کیا ان پر قادر ہے اس کی مدد کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے عجز کا ثابت کرنا جائز نہیں۔ یہ کہا جاتا ہے : تاسرون، تاسرون یعنی سین کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ؛ فراء نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔