33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مومنو ! تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو (عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے

جب اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور کفار کا ذکر کیا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو اذیت دی مقصود مومنوں کو ایسی چیزوں سے خبردار کرنا تھا جو اذیت کا باعث ہوتی ہیں اور بنی اسرائیل کے ساتھ مشابہت سے مومنوں کو منع کیا جنہوں نے اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دی تھی۔ علماء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کس طرح اذیت دیتے تھے ؟ نقاش نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو ان کی اذیت یہ تھی کہ وہ یہ قول کرتے تھے : زید بن محمد۔ ابو وائل نے کہا : حضور ﷺ کو اذیت دی گئی کہ حضور ﷺ نے مال تقسیم کیا تو ایک انصاری نے کہا : یہ ایسی تقسیم ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ کے لیے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ ناراض ہوئے۔ فرمایا : ” اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے انہیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی تو انہوں نے صبر کیا “ (1) ۔ جہاں تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دینے کا تعلق ہے تو حضرت ابن عباس اور ایک جماعت نے کہا : اس سے مراد وہ ہے جسے حضرت ابوہریرہ کی حدیث اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بنو اسرائیل ننگے غسل کیا کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پردہ کا بہت زیادہ اہتمام کرتے اور اپنے بدن کو چھپاتے۔ کچھ لوگوں نے کہا : ان کے خصیتین سوجے ہوئے ہیں، انہیں برص کا مرض ہے یا کوئی اور آفت ہے ایک روز آپ شام کے علاقہ میں ایک چشمہ پر غسل کرنے کے لیے گئے اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے وہ پتھر آپ کے کپڑوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےلباس اس کے پیچھے دوڑے آپ کہتے : اے پتھر ! میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں جاپہنچا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا جب آپ کی بناوٹ میں خوبصورت ترین اور سب سے معتدل صورت پر تھے۔ آپ میں ایسا عارضہ نہیں تھا جس کا انہیں نے تذکرہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : (آیت) فبراہ اللہ مما قالوا کا یہی مفہوم ہے “ امام بخاری اور امام مسلم نے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ الفاظ مسلم شریف کے ہیں۔ ” بنو اسرائیل ننگے غسل کیا کرتے تھے وہ ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھا کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) الگ تھلگ غسل کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی چیز نہیں روکتی کہ ہمارے ساتھ غسل کریں مگر یہ کہ ان کو ادرہ (خصیتین کا سوج جانا) کی بیماری ہے۔ ایک روز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے کے لیے گئے آپ نے اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے تیزی سے دوڑے آپ کہتے : اے پتھر ! میرے کپڑے، اے پتھر ! میرے کپڑے، یہاں تک کہ بنو اسرائیل نے آپ کی شرمگاہ کو دیکھ لیا۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں تو کوئی بیماری نہیں۔ پتھر ٹھہر گیا یہاں تک کہ آپ کو دیکھ لیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے لے لیے اور پتھر کو مارنے لگے “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مارنے سے پتھر میں چھ یا سات نشان تھے۔ یہ ایک قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہا : بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دی کہ انہوں نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے (2) ۔ وہ واقعہ یوں ظاہر ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) تیہ کے ذرعی علاقہ سے پہاڑی علاقہ کی طرف نکلے حضرت ہارون (علیہ السلام) وہاں ہی فوت ہوگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آئے بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : آپ نے اسے قتل کردیا ہے۔ وہ آپ کی بنسبت ہمارے لیے نرم اور زیادہ محبت کرنے والے تھے۔ اس طرح بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی لاش کو ان پر گھمائیں۔ انہوں نے ایک عظیم نشانی دیکھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت پر ان کی راہنمائی کی۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی لاش میں قتل کی کوئی علامت نہ تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فرشتوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی موت کے بارے میں کلام کی ان کی قبر کی جگہ کو رخم (گدھ) کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے اسے بہرہ اور گونگا بنادیا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تیہ میں فوت ہوگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تیہ کا عرصہ گزرنے سے دو ماہ پہلے ہی فوت ہوگئے تھے۔ قشیری نے کہا : حضرت علی شیر خدا سے روایت نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو زندہ کیا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے انہیں خبر دی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں قتل نہیں کیا۔ پھر وہ فوت ہوگئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی اذیت یہ تھی کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو اور جنون کا الزام لگایا (1) ۔ صحیح پہلاقول ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے یہسب کام کیے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سب امور سے بری کیا۔ مسئلہ : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پتھر پر کپڑے رکھنا اور پانی میں ننگے داخل ہونے میں اس امر کے جائز ہونے کی دلیل ہے ؛ یہ جمہور کا مذہب ہے۔ ابن ابی لیلی نے اس سے منع کیا ہے اور ایسی حدیث سے استدلال کیا ہے جو صحیح نہیں۔ وہ یہ ارشاد ہے ـ:” پانی میں داخل نہ ہو مگر تہبند کے ساتھ کیونکہ پانی میں بھی رہنے والا ہوتا ہے “۔ قاضی عیاض نے کہا : یہ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے۔ میں کہتا ہوں : پردہ کرنا مستحب ہے کیونہ اسرائیل عبد الاعلی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی ؓ ایک جوہڑ میں داخل ہوئے جب کہ آپ کے جسم پر چادر تھی جس کو آپ لپیٹے ہوئے تھے۔ جب آپ باہر نکلے تو ان سے اس بارے میں عرض کی گئی، فرمایا : میں نے اس پردہ کیا ہے جو مجھے دیکھتا ہے اور میں اسے نہیں دیکھتا، یعنی اپنے رب اور فرشتوں سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو ایسی نداکیوں کی جو ذوالعقول کو ندا کی جاتی ہے ؟ ایک جواب یہ دیا جاتا ہے : پتھر سے ایسا عمل صادر ہوا تھا جو ذوالعقول سے صادر ہوتا ہے۔ حجر یہ منادی مفرد ہے جس کا حرف ندامحذوف ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (آیت) یوسف اعرض عن ھذا (یوسف : 29) ثوبی فعل مضمر کے ساتھ منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے اعطنی ثوبی، اترک ثوبی فعل کو حذف کردیا گیا کیونکہ حال اس پر دلالت کرتا ہے۔ (آیت) وکان عند اللہ وجیھا، وجیہ سے مراد عظیم ہے۔ عربوں کے ہاں وجیہ سے مراد وہ ہوتا ہے جو عظیم قدر والا اور بلند مقام والا ہوتا ہے۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمادیتے۔ حضرت ابن مسعود نے یہ قراءت کی وکان عبد اللہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وجیھا کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام کیا۔ ابو بکر انباری نے کتاب الرد میں کہا : جنہوں نے قرآن میں طعن کیا ہے انہوں نے کہا : مسلمان نے قرآن میں تصحیف کی (آیت) وکان عند اللہ وجیہاجب کہ صحیح یہ ہے وکان عبد اللہ وجیہا یہ چیز اس کے مقصد کے ضعف، فہم کے نقصان اور قلت علم پر دال ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت کو اگر اس کے قول پر محمول کیا جائے اور اسے پڑھا جائے : وکان عبدا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ثنا میں نقص واقع ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وجیہا اہل دنیا، اس کے اہل زمان اور اہل آخرت کے ہاں ذیشان ہوتا ہے۔ یہ مکاں مدح پر آگاہ نہ کرے گا، کیونکہ اگر وہ دنیا کے لوگوں کے ہاں ذیشان ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعام ہے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ثناواضح نہیں ہوتی۔ جب اللہ تعالیٰ نے مدح کے محل کو اپنے اس ارشاد کے ساتھ واضح کیا : (آیت) وکان عنداللہ وجیہا آپ شرف اور عظیم رفعت کے مستحق ہوئے کیونکہ ان کی وجاہت اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے۔ جس نے ایک لفظ میں تبدیلی کی اس نے اللہ تعالیٰ کے نبی سے سب سے قابل فخر ثنا اور سب سے عظیم مدح کو دور کردیا۔
Ayahs 33:70–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

وہ تمہارے سب اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک بڑی مراد پائے گا

(آیت) قولاسدیدا یعنی ایسا قول جو اعتدال پر ہو اور حق پر ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : درست۔ قتادہ اور مقاتل نے کہا : حضرت زینب اور حضرت زید کے بارے میں درست قول کرو۔ اور نبی کریم ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب نہ کرو جو حلال نہ ہو۔ عکرمہ اور حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : قول سدید لا الہ الا اللہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس کا ظاہر اس کے باطن کے موافق ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا گیا ہو اس کے علاوہ کا ارادہ نہ کیا گیا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد دو جھگڑنے والوں کے درمیاں صلح کی کوشش کرنا ہے۔ یہ تسدید السھم (1) سے ماخوذ ہے تاکہ اس کے ساتھ ٹارگٹ پر تیر مارا جائے۔ قول سداد تمام بھلائیوں کو عام ہے، جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اسے اور غیر کو عام ہے۔ آیت کا ظاہریہ معنی دیتا ہے کہ اشارہ اس قول کی طرف ہے جو اس اذیت کے خلاف ہو جو اذیت کا قول رسول اللہ ﷺ کے متعلق ہو اور مومنین کے متعلق ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ وہ قول سدید پر اعمال کو درست کرکے اور گناہوں کو بخش کر جزادے گا۔ تیرے لیے درجہ اور رفعت منزلت کے اعتبار سے یہ کافی ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ان امور میں اطاعت کی جن کا اسے حکم دیا گیا اور جن سے اسے منع کیا گیا تو اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمینوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا

جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں احکام کو بیان کیا جن احکام کو بھی بیان کیا تو اوامر کے التزام کا حکم دیا۔ امانت صحیح قول کے مطابق دین کے تمام فرائض کو عام ہے ؛ یہ جمہورکا قول ہے۔ ترمذی حکیم ابو عبداللہ نے اسماعیل بن نصر سے وہ صالح بن عبداللہ سے وہ محمد بن یزیدبن جوہر سے وہ ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے فرمایا : اے آدم ! میں نے آسمانوں اور زمین پر امانت کو پیش کیا تو وہ اس کو نہ اٹھاسکے کیا تو اس کو اٹھا سکتا ہے جو کچھ اس میں ہے ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے رب ! اس میں کیا ہے ؟ فرمایا : اگر تو نے اس کو اٹھالیاتو تمہیں اجر دیا جائے گا اور اگر تو نے ضائع کردیا تو تجھے عذاب دیا جائے گا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسے اٹھالیا اس چیز کے ساتھ جو اس میں ہے۔ تو حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں اتنے عرصہ ہی ٹھہرے جتنا عرصہ پہلی نماز سے لے کر عصر کی نماز کا وقت ہوتا ہے، یہاں تک کہ شیطان نے آپ کو جنت سے نکال دیا “ (1) ۔ امانت سے مراد وہ فرائض ہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جن پر امین بنایا۔ ان میں سے بعض کی تفاصیل اقوال ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : یہ اموال کی امانتیں ہیں جس طرح ودیعت وغیرہ (2) ۔ ان میں یہ بھی روایت مروی ہے کہ یہ تمام فرائض ہیں ان میں سے شدیدترین مال کی امانت ہے۔ حضرت ابی بن کعب نے کہا : یہ بھی امانت میں سے ہے کہ عورت اپنی شرمگاہ پر امین رہے۔ حضرت ابو درداء ؓ نے کہا : جنابت کا غسل بھی امانت ہے (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے دین میں سے اس کے علاوہ کسی اور امر پر امین نہیں بنایا۔ حدیث مرفوع میں ہے : ” امانت سے مراد نماز ہے اگر تو چاہے تو کہے میں نے نماز پڑھ لی ہے اگر تو چاہے تو تو کہے میں نے نماز نہیں پڑھی۔ روزے اور غسل جنابت بھی اسی طرح ہے “۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انسان کے اعضاء میں سب سے پہلے اس کی شرمگاہ بنائی۔ فرمایا : یہ امانت ہے جو میں تجھے ودیعت کرتا ہوں۔ اسے استعمال نہ کر مگر حق کے ساتھ۔ اگر تو نے اس کی حفاظت کی تو یہ تیری حفاظت کرے گی۔ شرمگاہ امانت ہے، کان امانت ہے، آنکھ امانت ہے، زبان امانت ہے، بطن امانت ہے، ہاتھ امانت ہے، پائوں امانت ہے۔ جس میں صفت امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔ سدی نے کہا : اس سے مراد ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے قابیل کو اپنی اولاد اور اہل پر امین بنایا۔ قابیل کی حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ یہ خیانت تھی کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے فرمایا : (رح) اے آدم ! کیا تو جانتا ہے کہ زمین میں میرا ایک گھر ہے ؟ عرض کی : اے میرے اللہ ! نہیں۔ فرمایا : میرا مکہ مکرمہ میں ایک گھر ہے۔ اس میں آئو۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے آسمان سے کہا : امانت کے طور پر میرے بچے کی حفاظت کرو، تو اس نے انکار کردیا۔ زمین سے کہا : امانت کے طور پر میرے بچے کی حفاظت کیجئے۔ اس نے انکار کردیا۔ پہاڑوں سے فرمایا : انہوں نے بھی انکار کردیا، قابیل سے فرمایا : امانت کے طور پر میرے بچے کی حفاظت کرو۔ قابیل نے کہا : ٹھیک ہے آپ جائیں، آپ واپس آئیں تو آپ بچے کو پائیں گے جس طرح وہ تجھے خوش کرے گا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) لوٹے تو اس پایا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : (آیت) اناعرضناالامانۃ علی السموات والارض والجبال فابین ان یحملنھاکا یہی مقصود ہے۔ معمر نے حضرت حسن بصری (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ امانت آسمان، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی گئی انہوں نے پوچھا : اس میں کیا ہے ؟ انہیں کہا گیا : اگر تو نے اچھا کیا تو تجھے جزا دی جائے گی اور اگر تو نے برائی کی تو تجھے سزادی جائے گی۔ انہوں نے کہا : نہیں (2) ۔ مجاہد نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو امانت اس پر پیش کی حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کی : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : اگر تو اچھا کرے گا تو میں تجھے اگر دوں گا اور اگر تو برا عمل کرے گا تو میں تجھے عذاب دوں گا۔ عرض کی : اے میرے رب ! میں نے اس کو اٹھا لیا ہے۔ مجاہد نے کہا : جس وقت حضرت آدم (علیہ السلام) نے امانت اٹھائی تو اتنا وقت بھی نہیں گزرا تھا کہ انہیں جنت سے نکال دیا گیا جتنا وقت ظہر اور عصر کی نماز کے درمیان ہوتا ہے۔ علی بن طلحہ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ امانت سے مراد فرائض ہیں (3) ، اللہ تعالیٰ نے جن کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا۔ اگر وہ فرائض کو ادا کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں بدلہ عطا فرمائے گا اگر وہ ضائع کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا۔ انہوں نے معصیت کے بغیر اسے ناپسند کیا اور ڈر گئے بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کی تعظیم کی خاطر انہوں نے ایسا کیا کہ وہ اس کو بجانہ لاسکیں گے پھر اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم (علیہ السلام) پر پیش کیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسے قبول کر لیاجو کچھ اس میں تھا۔ نحاس نے کہا : یہ ایسا قول ہے جس پر اہل تفسیر کا اتفاق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت آدم (علیہ السلام) پر وفات کا وقت آیا تو آپ نے ارادہ کیا کہ امانت کو مخلوق پر پیش کریں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے امانت پیش کردی تو آپ کے بیٹوں کے سوا کسی نے بھی اس کو قبول نہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ وہ امانت ہے جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، زمین، پہاڑوں اور مخلوق میں اپنی ربوبیت پر دلائل کی صورت میں ودیعت کی ہے کہ وہ ان دلائل کو ظاہر کریں تو انہوں نے ان کو ظاہر کردیامگر انسان نے ان دلائل کو چھپایا اور ان کا انکار کردیا ؛ یہ قول بعض متکلمین کا ہے۔ عرضنا کا معنی اظھرنا ہے جس طرح تو کہتا ہے : عرضت الجاریۃ علی البیع میں نے لونڈی کو بیع کے لیے پیش کیا۔ معنی ہے ہم نے امانت اور اس کے ضیاع کو اہل آسمان اور اہل زمین جو فرشتے، انسان اور جن ہیں ان پر پیش کیا۔ (آیت) فابین ان یحملنھاتو انہوں نے اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (آیت) ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم (العنکبوت : 13) (آیت) وحملھا الانسان حضرت حسن بصری نے کہا : الانسان سے مراد کافر اور منافق ہے (1) (آیت) انہ کان ظلوما جھولاوہ اپنی ذات پر ظلم کرنے ولا اور اپنے رب سے جاہل تھا۔ اس تعبیر کی بنا پر جواب مجازا ہوگا، جس طرح (آیت) وسئل القریۃ (یوسف : 82) ہے۔ اس میں ایک جواب بھی ہے کہ یہ کلام اپنے حقیقی معنی میں ہو کہ واقعی امانت اور اس پر ثواب و عقاب کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے س امر کو ان کے لیے ظاہر کیا ہو۔ انہوں نے اس کا بوجھ نہ اٹھایا اور ڈر گئے اور عرض کی : ہم ثواب اور عقاب کو نہیں چاہتے۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا : ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے، ہم تیرے حکم کو سنتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا گیا اور جس کے لیے انہیں مسخر کیا گیا ؛ یہ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے کہا۔ علماء نے کہا : یہ بات تو معلوم ہے کہ جمادات نہ سنتے ہیں اور نہ ہی جواب دیتے ہیں۔ دوسرے قول کی بنا پر ان میں زندگی کو مقدر کرنا ضروری ہے۔ یہ پیشی اختیاری تھی لازمی نہیں تھی۔ انسان پر پیشی لازمی تھی۔ قفال اور دوسرے علماء نے کہا : اس آیت میں پیشی ضرب المثل ہے۔ آسمان اور زمین اپنی بڑی جسامت کے باوجود اگر انہیں مکلف بناناجائز ہوتا تو انہیں شریعتوں کا مکلف بنا دیا جاتا کیونکہ ان میں ثواب و عقاب ہے، یعنی مکلف بنانا ایسا امر ہے جس کا حق یہ ہے کہ اس سے آسمان، زمین اور پہاڑ عاجز آگئے۔ انسان کو اس کا مکلف بنایا گیا اگر یہ سمجھتا تو یہ ظلوم جہول ہوتا، یہ ارشاد اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (آیت) لوانزلناھذالقرآن علی جبل (الحشر : 21) پھر فرمایا : (آیت) وتلک الامثال نضربھا للنا۔ قفال نے کہا : جب یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرب الامثال بیان فرماتا ہے اور ہم پر ایسی خبر وارد ہو جو ضرب المثل کے طور پر آتی ہے تو اس کا حمل ضرب المثل پر کرنا ضروری ہے۔ ایک قوم نے کہا : آیت مجاز میں سے ہے۔ جب ہم نے امانت کے بوجھ کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کی قوت کے ساتھ موزنہ کیا تو ہم نے دیکھا کہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ اگر یہ چیزیں کلام کرتیں تو انکار کر دیتیں اور ڈر جاتیں۔ اس معنی کو اپنے اس ارشاد کے ساتھ تعبیر کیا (آیت) انا عرضنا الامانۃ یہ اسی طرح ہے جس طرح تیرا قول ہے : عرضت الحمل علی البعیرفاباہ میں نے بوجھ اونٹ پر پیش کیا تو اس نے اٹھانے سے انکار کردیا، جب کہ تو یہ ارادہ رکھتاہو کہ تو نے اس کی قوت کو سامان کے بوجھ کے ساتھ موازنہ کیا تو تو نے دیکھا کہ وہ اس سے قاصر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عرضنا یہ عارضنا الامانۃ بالسموات والارض والجبال کے معنی میں ہے۔ یہ اشیاء امانت سے ضعیف ہوگئیں۔ اور امانت اپنے ثقل کی وجہ سے ان پر راجح ہوگئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر امانت کا پیش کرنا حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف سے تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ان کی اولاد پر خلیفہ بنایا اور زمین میں جو بھی جانور، پرندے اور وحشی ہیں سب پر ان کو مسلط کردیا اور ان سے عہد لیا جس میں انہیں حکم دیا، انہیں منع کیا، کچھ چیزوں کو حرام کیا اور کچھ چیزوں کو حلال کیا حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسے قبول تو کرلیا اور ہمیشہ اس پر عامل رہے جب ان کی وفات کا وقت آیا اللہ تعالیٰ نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ آگاہ کریں کس کو وہ بعد میں خلیفہ بنائے گا اور کس کو امانت سپرد کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس امانت کو اسی شرط کے ساتھ آسمانوں پر پیش کرے جو شرط اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ لگائی ہے اگر اطاعت کرے تو ثواب حاصل ہوگا اگر نافرمانی کرے گا تو سزا ملے گی تو انہوں نے عذاب کے ڈر سے اسے قبول کرنے سے انکار کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ وہ امانت زمین پر پیش کرے اور تمام پہاڑوں پر پیش کرے تو دونوں نے انکار کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس امانت کو اپنی اولاد پر پیش کرے تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے امانت اپنی اولاد پر پیش کی تو اولاد نے شرط کے ساتھ اسے قبول کرلیا، ابن آدم اس چیز سے خوفزدہ نہ ہوا جس چیز سے آسمان، زمین اور پہاڑ خوفزدہ ہوئے۔ وہ اپنی ذات پر ظلم کرنے والا اور اپنے رب کے لیے جس امر کو قلادہ بنانے ولا تھا اس کے انجام سے جاہل تھا۔ ترمذی حکیم ابو عبداللہ محمد بن علی نے کہا : میں اس قول کرنے والے پر تعجب کا اظہار کرتا ہوں، وہ یہ قصہ کہاں سے لے آیا۔ اگر ہم آثار کو دیکھیں تو اس نے جو کہا تھا ہم اس کے برعکس پاتے ہیں۔ اگر ہم اس کے ظاہر کو دیکھیں تو ہم اسے اس کے برعکس پاتے ہیں جو اس نے کہا، اگر ہم اس کے باطن کو دیکھیں تو جو اس نے کہا اس سے بہت ہی بعید پاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امانت کے ذکر کو مکرر ذکر کیا اور یہ ذکر نہیں کیا کہ امانت کیا ہے مگر وہ اپنے مقام میں اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں جو کچھ ہے اس پر مسلط کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سے عہد لیا ہے جس میں امر، نہی، حلت اور حرمت کے احکام ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ اسے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کرے۔ آسمان، زمین اور پہاڑحلال و حرام سے کیا کریں گے ؟ چوپائیوں، پرندوں اور وحشیوں پر اس کے تسلط کا کیا معنی ہے ؟ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس امانت کو اپنی اولاد پر پیش کیا اس نے اسے قبول کیا اور مابعد کی ذریت پر اسے نافذ کردیا ؟ قرآن کریم میں واقعہ کی ابتدا میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا یہاں تک کہ ان سے انکار ظاہر ہوا۔ پھر اس کا ذکر کیا کہ انسان نے اس کو اٹھالیا، یعنی اپنی جانب سے اس کو اٹھا لیا نہ کہ اس پر اسے لازم کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ظلوما کا نام دیا کیونکہ وہ اپنی ذات پر ظلم کرنے والا ہے اور جھولانام دیا کیونکہ جو اس امانت میں تھا اس سے ناواقف تھا۔ جہاں تک ان آثار کا تعلق ہے جو اس کے برعکس ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ میرے والد فیض بن فیض کو فی سے وہ سری بن اسماعیل سے وہ عامرشعبی سے وہ مسروق سے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے امانت کو پیدا کیا تو اسے چٹان سے تشبیہ دی پھر جہاں چاہا اسے رکھ دیا۔ پھر اس کو اٹھانے کے لیے آسمان، زمین اور پہاڑوں کو دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : یہ امانت ہے اس پر ثواب و عقاب ہے۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے رب ! ہم میں اس کے اٹھانے کی کوئی طاقت نہیں۔ انسان دعوت دیئے جانے سے قبل ہی متوجہ ہوا اس نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں سے کہا : تم کیوں رک گئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : ہمارے رب نے ہمیں دعوت دی کہ ہم اس کو اٹھا لیں ہم اس سے ڈر گئے ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ انسان نے اپنے ہاتھ سے اسے ہلایا اور کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں چاہوں کہ میں اس کو اٹھا ئوں تو میں اس کو اٹھا سکتا ہوں۔ انسان نے اس کو اٹھایا یہاں تک کہ اسے اپنے گھٹنوں تک لے گیا، پھر اسے رکھ دیا۔ عرض کی : اللہ کی قسم ! میں چاہوں کہ میں اس سے زائد اٹھائوں تو میں اس کو مزید اٹھا سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا : اٹھائو۔ انسان نے اس کو اٹھایا یہاں تک کہ اسے ڈھاکوں تک پہنچایا۔ پھر اسے رکھ دیا کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں چاہوں کہ میں اس کو مزید اٹھائوں تو میں اس کو مزید اٹھا سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا : اٹھائو۔ انسان نے اس کو اٹھایا یہاں تک کہ اسے اپنے کندھے پر رکھا۔ جب انسان اسے رکھنے کے لیے جھکاتو انہوں نے کہا : اپنی جگہ پر ہی رہو۔ یہ امانت ہے اس پر ثواب بھی ہے اور عقاب بھی ہے۔ ہمارے رب نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو ٹھائیں تو ہم اس سے ڈر گئے، تو نے اس کو اٹھا لیا جب کہ تجھے اس کی دعوت بھی نہیں دی گئی تھی۔ اب یہ تیری گردن میں ہے اور قیامت تک تیری اولاد کی گردن پر ہے۔ بیشک تو ظلوم و جہول ہے۔ اور کئی واقعات صحابہ اور تابعین سے نقل کیے جن میں سے اکثر کا ذکر پہلے گزرچکا ہے۔ (آیت) وحملھا الانسان اس کے حقوق بجالانے کو لازم کرلیا وہ اس میں اپنے آپ پر ظلم کرنے والا تھا۔ قتادہ نے کہا : وہ امانت کے بارے میں ناواقف تھا کہ اس میں کیا کچھ داخل ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جبیر کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ اپنے رب کے بارے میں ناواقف ہے۔ کہا : حملھا کا معنی ہے اس میں خیانت کی۔ زجاج نے کہا : اس تاویل کی بنا پر یہ آیت کافر، منافق اور نافرمانوں کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، ان کے اصحاب، ضحاک وغیرہ نے کہا : انسان سے مراد حضرت آدمی (علیہ السلام) ہیں آپ نے امانت اٹھائی ایک دن بھی مکمل نہ ہوا یہاں تک کہ ایسی نافرمانی کی جس نے اسے جنت سے نکال دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : کیا تو اس امانت کو اٹھاتا ہے جو کچھ اس میں ہے۔ عرض کی : اس میں کیا ہے ؟ فرمایا : اگر تو نے اچھائی کی تو تجھے جزادی جائے گی اگر تو نے برائی کی تو تجھے سزادی دی جائے گی۔ عرض کی : اس میں جو کچھ ہے میں اسے اپنے کانوں اور کندھوں کے درمیان میں اٹھالیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ارشاد فرمایا : میں تیری مدد کروں گا، میں نے تیری آنکھ کے لیے حجاب بنایا ہے اسے اس کے لیے بند رکھنا جو تیرے لیے حلال نہ ہو اور تیری شرمگاہ کے لیے لباس بنایا ہے اسے نہ کھولنامگر اسی پر جو میں نے تیرے لیے حلال کیا ہے۔ ایک قوم نے کہا : انسان سے مراد تمام نوع ہے۔ یہ اچھی تعبیر ہے کہ امانت میں عموم پایا جاتا ہے، جس طرح ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ سدی نے کہا : انسان سے مراد قابیل ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

(آیت) لیعذب اللہ المنافقین والمنافقات، لیعذب کا لام حمل کے متعلق ہے۔ اس پر لازم کیا تاکہ عاصی کو عذاب دے اور مطیع کو ثواب دے۔ یہ لام تعلیل ہے، کیونکہ عذاب امانت اٹھانے کا نیتجہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عرضنا کے متعلق ہے یعنی ہم نے تمام پر امانت کو پیش کیا پھر ہم نے انسان کو اس کا مقلد بنادیاتا کہ مشرک کا شرک اور منافق کا نفاق ظاہر ہو تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے اور مومن کا ایمان ظاہر ہو تاکہ اللہ تعالیٰ اسے بدلہ دے۔ (آیت) ویتوب اللہ حضرت حسن بصری کی قراءت رفع کے ساتھ ہے یہ پہلی کلام سے الگ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر حال میں ان پر نظر کرم کرے گا۔ (آیت) وکان اللہ غفورارحیما، رحیمایہ کان کی خبر کے بعد خبر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ غفور کی صفت ہو۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ ضمیر سے حال ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی صحیح امر کو جانتا ہے۔