33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو ! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو

یہ ایسی آیت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو آپ ﷺ کی حیات اور آپ کی موت کی حالت میں بھی شرف بخشا۔ اللہ کی بارگاہ میں آپ کا جو مقام و مرتبہ ہے اس کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ ہر اس آدمی کے برے فعل سے پاکیزہ بنا دیا جس نے آپ ﷺ کے متعلق کوئی سوچ اپنائی، آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے میں بری سوچ اپنائی یا اس طرح کا کوئی معاملہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف جب لفظ صلوۃ کی نسبت کی جائے تو اس سے مراد اس کی رحمت اور رضا ہے، فرشتوں کی طرف جب نسبت ہو تو مراد دعا اور استغفار ہے اور امت کی جانب سے ہو تو دعا اور آپ ﷺ کی امر کی تعظیم ہے۔ مسئلہ : یصلون کی ضمیر کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ ایک فرقہ کا خیال ہے : اس میں ضمیر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے لیے ہے (1) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قول ہے جس کے ساتھ اس نے اپنے فرشتوں کو شرف بخشا ہے۔ خطیب کے قول میں جو اعتراض ہے وہ اسے لاحق نہیں ہوتا۔ خطیب نے کہا تھا : من یطع اللہ ورسولہ فقد رشد ومن یعصھما فقد غوی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تو کتنا برا خطیب ہے (2) ، تو کہہ : ومن یعص اللہ ورسولہ “ اسے صحیح نے نقل کیا ہے۔ علماء نے کہا : کسی ایک کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کو ایک ضمیر میں غیر کے ساتھ جمع کرے اور اللہ تعالیٰ جیسے چاہے کرے۔ ایک جماعت نے کہا : کلام میں حذف ہے۔ اس کی تقدیر ہے : ان اللہ یصلی وملائکتہ یصلون آیت میں ضمیر کا اجتماع نہیں انسان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس معنی کی بنا پر بئس الخطیب انت نہیں فرمایا حضور ﷺ نے اسے یہ اس لیے فرمایا کیونکہ خطیب نے ومن یعصھما پر سکتہ کیا تھا۔ انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا جس ابو دائود نے حضرت عدی بن حاتم سے روایت نقل کی ہے کہ ایک خطیب نے نبی کریم ﷺ کے ہاں خطبہ دیا۔ اس نے کہا : من یطع اللہ ورسولہ ومن یعصھما فرمایا یا کہا :” جا تو کتنا بڑا خطیب ہے “ (3) مگر یہ احتمال رکھتا ہے کہ جب اس نے وقفہ میں خطا کی تو حضور ﷺ نے اسے فرمایا : بئس الخطیب اس کے بعد اس کی تمام کلام کی اصلاح کی، فرمایا : کہہ ومن یعص اللہ ورسولہ جس طرح مسلم کی کتاب میں ہے۔ یہ پہلے قول کی تائید کرتی ہے کہ اس نے ومن یعصھما پر وقف نہیں کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے پڑھا وملائکتہ یعنی رفع کے ساتھ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا عطف ان کے داخل ہونے سے پہلے لفظ اللہ اسم جلالت کے محل کے اعتبار سے ہے۔ جمہور نے اسے نصب دی ہے اس کا عطف لفظ اللہ اسم جلالت پر ہے جو مکتوب ہے۔ آیت یایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیما اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر درود پڑھیں دوسرے انبیاء کے بارے میں ایسا حکم نہیں مقصد آپ ﷺ کی شرافت کو ظاہر کرنا تھا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں زندگی میں ایک دفعہ درود شریف پڑھنا فرض ہے۔ اور ہر لمحہ ایسے واجبات میں سے ہے جو سنن موکدہ کی طرح واجب ہو۔ جس کے ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اور اس سے غافل نہیں ہوتا مگر وہی شخص جس میں کوئی خیر نہ ہو۔ زمحشری نے کہا : اگر تو کہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ پر درود پر ھنا واجب ہے یا مستحب ؟ میں جواب دوں گا : واجب۔ اس کے وجوب کے حال میں اختلاف ہے۔ ان میں سے کچھ علماء تو ایسے ہیں جو اس کو واجب قرار دیتے ہیں جب بھی آپ ﷺ کا ذکر ہو۔ حدیث طیبہ میں ہے : ” جس کے ہاں میر اذکر کیا گیا تو اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمتوں سے دور کرے “ (1) ۔ یہ روایت کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی کے بارے میں بتائیے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” یہ پوشیدہ علم میں سے ہے اگر تم مجھ سے اس بارے میں سوال نہ کرتے میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاتا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے دو فرشتے مقرر کیے ہیں کسی مسلمان کے ہاں میرا ذکر نہیں کیا جاتا مگر وہ مجھ پر درود پڑھتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ تجھے بخشے۔ اللہ اور اس کے فرشتے ان کے جواب میں کہتے ہیں : آمین۔ اور میرا کسی بندہ مسلم کے پاس ذکر نہیں کیا جاتا اور وہ مجھ پر درود نہیں پڑھتا مگر وہ دو فرشتے کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ تجھے نہ بخشے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان فرشتوں کے جواب میں کہتے ہیں : آمین “ (2) ۔ علماء میں سے کچھ نے کہا : ہر مجلس میں ایک دفعہ درود پڑھنا واجب ہے، اگرچہ آپ کا ذکرمکرر ہو، جس طرح آیت سجدہ اور چھینک مارنے والے کے جواب میں ہے، اسی طرح ہر دعا کے اول اور آخر میں درود پڑھنا واجب ہے (3) ۔ ان علماء میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے عمر میں اسے واجب کیا ہے، اسی طرح شہادتین کے اظہار میں بھی کہا۔ احتیاط جس امر کا تقاضا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی حضور ﷺ کا ذکر کیا جائے درود پڑھنا واجب ہے، کیونکہ اس بارے میں احادیث وارد ہیں۔ مسئلہ نمبر 2۔ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں درود پڑھنے کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ امام مالک نے حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے جب کہ ہم حضرت سعد بن عبادہ کی مجلس میں تھے حضرت بشیر بن سعد نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ ﷺ کی بارگاہ میں درود بھیجیں۔ ہم کس طرح آپ ﷺ کی بارگاہ میں درود بھیجیں ؟ حضور ﷺ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ کاش وہ سوال نہ کرتا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہو اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم فی العالمین انک حمید۔ سلام کو تم جانتے ہو (1) ۔ امام نسائی نے حضرت طلحہ سے اس کی مثل روایت نقل کی ہے اس میں فی العالمین کے الفاظ ساقط کیے ہیں۔ اسی طرح والسلام کما قد علمتم کو بھی ساقط کیا ہے۔ اس باب میں کعب بن عجرہ، ابی حمیدساعدی، حضرت ابو سعید خدری، حضرت علی شیر خدا ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، حضرت برید خزاعی، حضرت زید بن خارجہ، ابن حارث بھی کہا جاتا ہے سے روایت مروی ہے۔ ائمہ اہل حدیث نے ان روایات کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ امام ترمذی نے حضرت کعب بن ابی عجرہ کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابو حمید ساعدی کی روایت نقل کی ہے۔ ابو عمر نے کہا : شعبہ اور ثوری نے حکم بن عبد الرحمن بن ابی لیلی اور وہ حضرت کعب بن عجرہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا فرمان : یا یھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیما نازل ہوا۔ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کی بارگاہ میں سلام کرنے کو تو ہم نے پہچان لیا ہے تو درود کیسے ہے ؟ ﷺ فرمایا : کہو اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید (2) ۔ یہ الفاظ ثوری کی حدیث کے ہیں شعبہ کی حدیث کے نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیما کی تفسیر ہے۔ اس امر کو واضح کیا کہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں درود کیسے پڑھنا ہے اور التحیات میں انہیں سلام پڑھنا سکھایا وہ یہ قول ہے : السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ (3) ۔ مسعودی نے عون بن عبداللہ سے وہ ابو فاختہ سے وہ اسود سے وہ حضرت عبداللہ سے روایت نقل کرتے ہیں۔ کہ فرمایا : جب تم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں درود پڑھو تو اچھی طرح درود شریف پڑھو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے آپ کا بارگاہ میں پیش کیا جائے گا۔ لوگوں نے عرض کی : ہمیں اس کی تعلیم دو ، کہا : کہواللھم اجعل صلواتک ورحمتک وبرکاتک علی سید المرسلین و امام المتقین وخاتم النبیین محمد عبدک ونبیک ورسولک امام الخیر وقائد الخیر و رسول الرحمۃ اللھم ابعثہ مقاما محمودا یقبطہ بہ الاولون والاخرون۔ (4) ۔ اے اللہ ! اپنی عنایات، اپنی رحمت اور اپنی برکات سید المرسلین، متقین کے امام، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ جو تیرے بندے، تیرے نبی، تیرے رسول، خیر کے امام، خیر کے قائد اور رحمت کے رسول ہیں ان پر کر۔ اے اللہ ! آپ ﷺ کے مقام محمود پر مبعوث فرما جس کی وجہ سے اگلے پچھلے آپ پر رشک کریں۔ اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجیدہ میں قاضی عیاض کی کتاب ” الشفا “ (5) میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے متصل سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے کہا : انہیں رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاتھوں پر شمار کیا اور کہا : انہیں جبریل امین نے میرے ہاتھوں پر شمار کیا اور کہا اسی طرح رب العزت کے ہاں یہ نازل ہوئے۔ اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ اللھم وترحم علی محمد وعلی آل محمد کما ترحمت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید اللھم تحنن علی محمد وعلی آل محمد کما تحننت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ ابن عربی نے کہا : ان روایات میں سے کچھ صحیح ہیں اور کچھ کمزور ہیں۔ ان میں سے صحیح ترین روایت وہ ہے جسے امام مالک نے روایت کیا ہے اسی پر اعتماد کیا ہے اسی پر اعتماد کرو (1) ۔ امام مالک کے علاوہ روایت میں الصلوۃ کے علاوہ رحمت کے الفاظ زائد ہیں اور اس روایت کے علاوہ کوئی قوی روایت نہیں۔ لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی دینی امور میں غورو فکر کریں جس طرح وہ اپنے اموال میں غورو فکر کرتے ہیں وہ بیع میں عیب والا دینار نہیں لیتے، وہ پاکیزہ اور سالم دینار لیتے ہیں، اسی طرح نبی کریم ﷺ سے ایسی روایات ہی لینی چاہئیں جن کی سند صحیح ہو۔ تاکہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ کی کوئی صورت نہ بنے۔ بعض اوقات وہ فضیلت کا طالب ہوتا ہے تو وہ نقص کا پا لیتا ہے بلکہ بعض اوقات وہ واضح خسارہ پا لیتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ درود شریف کی فضیلت نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر اس کی وجہ سے دس دفعہ رحمتیں نازل فرماتا ہے “ (2) ۔ حضرت سہل بن عبد اللہ نے کہا : حضرت محمد ﷺ پر درود پڑھنا عبادت میں سے افضل عبادت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں نے اس امر کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے، پھر اس کے بارے میں مومنوں کو حکم دیا۔ تمام عبادات اس طرح نہیں۔ ابو سلیمان دارانی نے کہا : جو اللہ تعالیٰ سے کسی حاجت کے سوال کرنے کا ارادہ کرے تو وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں درود پڑھنے سے آغاز کرے پھر اپنی حاجت کا سوال کرے پھر اس کا اختتام بھی درود پر کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ دونوں درود قبول فرماتا ہے۔ وہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ درمیان والے کو رد کردے۔ سعید بن مسیب نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کی ہے فرمایا : دعا کو آسمان کے نیچے سے روک دیا جاتا ہے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ پر درود پیش کیا جائے (3) ۔ جب نبی کریم ﷺ پر درود آجاتا ہے تو دعا کو اوپر اٹھا لیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے کتاب میں مجھ پر درود شریف پڑھا تو فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے رہیں گے جب تک میرا نام اس کتاب میں موجود رہے گا “ (4) مسئلہ نمبر 4۔ نماز میں نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے۔ جس پر جم غفیر اور جمہور کثیر ہے وہ یہ ہے کہ یہ نماز کی سنت اور اس کا مستحب ہے۔ ابن منذر نے کہا : مستحب یہ ہے کہ کوئی آدمی نماز نہ پڑھے مگر اس میں رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھے۔ اگر کوئی درود کو ترک کردے تو امام مالک، اہل مدینہ، سفیان ثوری، اصحاب الرائے میں سے اہل کوفہ اور دوسرے علماء کے نزدیک نماز جائز ہے، اہل علم میں سے کثیر لوگوں کا یہ قول ہے۔ امام مالک اور سفیان سے یہ مروی ہے کہ آخری تشہد میں یہ مستحب ہے اور تشہد میں درود کو ترک کرنے والا گناہگار ہوگا۔ امام شافعی نے الگ رائے قائم کی آپ نے نماز میں درود ترک کرنے والے پر اعادہ کو واجب کیا ہے۔ اسحاق نے نماز کے اعادہ کو واجب کیا ہے جب کہ وہ جان بوجھ کر درود کو ترک کرے بھول کر نہ چھوڑے۔ ابو عمر نے کہا : امام شافعی نے کہا : جب نمازی آخری تشہد میں تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے درود نہ پڑھے تو وہ نماز کا اعاوہ کرے۔ کہا : اگر اس نے تشہد سے پہلے درود پڑھا تو یہ اس کے لیے جائز نہیں۔ یہ وہ قول ہے جو حرملہ بن یحییٰ نے ان سے نقل کیا ہے۔ اس قسم کی روایت امام شافعی سے نہیں پائی جاسکتی مگر حرملہ سے پائی جاسکتی ہے۔ یہ امام شافعی کے کبار شاگردوں میں سے ہیں جنہوں نے امام شافعی کی کتب لکھی ہیں۔ امام شافعی کے اصحاب نے اس کو اپنایا، اس کی طرف مائل ہوئے اور اس پر غور و فکر کیا ان کے نزدیک یہی ان کے مذہب کا خلاصہ ہے۔ امام طحاوی نے گمان کیا ہے : ان کے علاوہ کسی اہل علم نے ایسا قول نہیں کیا۔ خطابی نے کہا جب کہ وہ امام شافعی کے اصحاب میں سے ہے یہ نماز میں واجب نہیں۔ یہ فقہا کی جماعت کا قول ہے مگر امام شافعی اس میں شامل نہیں۔ اس امر پر دلیل کہ یہ نماز کے فرائض میں سے ہے وہ امام شافعی سے قبل سلف صالحین کا عمل اور ان کا اجماع ہے۔ اس مسئلہ میں امام شافعی پر سخت گرفت کی گئی ہے۔ یہ حضرت ابن مسعود ؓ کا تشہد ہے جسے امام شافعی نے اپنایا نبی کریم ﷺ نے اس کی تعلیم دی ہے۔ اس میں نبی ﷺ پر درود نہیں۔ اسی طرح ہر وہ راوی جس نے نبی کریم ﷺ سے تشہد روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : حضرت ابوبکر صدیق ؓ منبر پر بیٹھ کر تشہد کی تعلیم دیا کرتے تھے، جس طرح تم بچوں کو کتاب کی تعلیم دیتے ہو۔ حضرت عمر ؓ نے بھی منبر پر تشہد کی تعلیم دی۔ اس میں نبی کریم ﷺ پر درود کا ذکر نہیں۔ میں کہتا ہوں : ہمارے اصحاب میں سے محمد بن مواز نے نماز میں نبی کریم ﷺ پر درود کے واجب ہونے کا قول کیا ہے جو ابن قصار اور عبد الوہاب نے ذکر کیا ہے۔ ابن عربی نے حدیث صحیح کی وجہ سے اسے اختیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم آپ کی بارگاہ میں درود پڑھیں تو ہم کیسے آپ کی بارگاہ میں درود پڑھیں (1) ؟ حضور ﷺ نے درود اور اس کا وقت بتایا تو درود کیفیت اور وقت کے اعتبار سے متعین ہوگیا۔ دار قطنی نے ابی جعفر محمد بن علی بن حسین سے یہ قول ذکر کیا ہے : اگر میں ایسی نماز پڑھوں جس میں میں نبی کریم ﷺ پر درود نہ پڑھوں اور نہ ہی آپ کے اہل بیت پر درود پڑھوں تو میں یہ خیال کرتا ہوں کہ وہ نماز مکمل نہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے ایک مرفوع روایت مروی ہے ؛ صحیح یہ ہے کہ یہ ابو جعفر کا قول ہے یہ دارقطنی نے کہا ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ ( آیت) وسلم وا تسلیما قاضی ابوبکر بن بکیر نے کہا : یہ آیت نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ آپ کی بارگاہ میں سلام پیش کریں۔ اسی طرح جو بعد کے مسلمان ہیں ان کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ آپ کی بارگاہ میں سلام پیش کریں جب وہ آپ کی قبر پر حاضر ہوں اور جب آپ ﷺ کا ذکر کیا جائے۔ امام نسائی نے عبد اللہ بن ابی طلحہ سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن تشریف لائے جب کہ خوشی آپ کے چہرے سے عیاں تھی۔ میں نے عرض کی : ہم آپ کے چہرے پر خوشی دیکھتے ہیں۔ فرمایا : ” میرے پاس ایک فرشتہ آیا ہے، اس نے کہا : اے محمد ! آپ کا رب ارشاد فرماتا ہے کیا آپ کو یہ بات راضی نہیں کرتی کہ کوئی بندہ آپ پر درود نہیں پڑھے گا مگر میں اس پر دس دفعہ کرم فرمائوں گا۔ کوئی آپ پر ایک دفعہ سلام عرض نہیں کرے گا مگر میں اس پر دس دفعہ سلام بھیجوں گا “ (1) ۔ محمد بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (رح) : ” جب میرا وصال ہوجائے گا تو تم میں سے کوئی مجھ پر سلام پیش نہیں کرے گا مگر اس کا سلام جبریل امین کے ساتھ میرے پاس آئے گا۔ جبریل امین کہیں گے : اے محمد ! ﷺ یہ فلاں ابن فلاں ہے جو آپ ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہے۔ میں جواب میں کہوں گا : وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ امام نسائی نے حضرت عبد اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو زمین میں سیاحت کرتے ہیں، وہ میری امت کی جانب سے سلام عرض کرتے ہیں “ (2) ۔ قشیری نے کہا : سلام تیرا یہ قول ہے : سلام علیک۔
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اسکے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اذیت دینے سے کیا مراد ہے ؟ علماء میں سے جمہور نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے ساتھ کفر کرنا، بیوی، بچے اور شریک کو اس کی طرف منسوب کرنا اور اس کی ایسی صفت ذکر کرنا جو اس کے شایان نہ ہو (3) ، جس طرح یہودی نے کہا : اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ یہودیوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کے ہاتھ جکڑے ہوئے ہیں۔ نصاری نے کہا : حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ نعوذباللہ۔ مشرکوں نے کہا : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں اور بت اس کے شریک ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” ابن آدم نے مجھے جھٹلایا اسے یہ حق نہ تھا، اس نے مجھے گالی دی اور اسے یہ حق نہ تھا “ (4) ۔ سورت مریم میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔ ” اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے وہ کہتا ہے یاخیبۃ الدھر تم میں سے کوئی بھی یا خیبۃ الدھر نہ کہے بیشک میں ہی دھر ہوں، میں ہی اس کے دن اور رات کو لوٹاتا ہوں۔ جب میں چاہتا ہوں ان دونوں کو قبض کر لیتاہوں “ (1) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک موقوف حدیث اسی طرح آئی ہے۔ ان سے ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ ” ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے میں زمانہ ہوں میں ہی دن اور رات کو الٹتاہوں “ (2) ۔ اسے امام مسلم نے بھی نقل کیا ہے۔ عکرمہ نے کہا : اس کا معنی ہے وہ تصویر بناکر اور ایسا فعل کرکے جسے اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے جس طرح چھیل کر تصویریں بنانا اور اس کے علاوہ دوسرے امور۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ مصوروں پر لعنت کرے “ (3) ۔ میں کہتا ہوں : یہ ان چیزوں میں ہے جو مجاہد کے قول کو تقویت باہم پہنچاتی ہے کہ وہ درخت اور دوسری چیزوں کی تصویر بنانے سے منع کرتے، کیونکہ یہ سب اختراع کی صفت اور اللہ تعالیٰ کے فعل کے ساتھ تشبہ ہے جس فعل میں اللہ تعالیٰ کی ذات منفرد ہے۔ سورة نمل میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ الحمد للہ۔ ایک فرقہ نے کہا : یہ مضاف کی حذف کی بنا پر ہے۔ اس کی تقدیر یہ ہے یوذون اولیاء اللہ (4) ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے دوستوں کو اذیت دیتے ہیں۔ جہاں تک اس کے رسول ﷺ کو اذیت دینے کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ تمام اقوال ہیں جو آپ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں اور ایسے افعال بھی ہوسکتے ہیں جو آپ کو اذیت دیتے ہیں جہاں تک ان کو قول کا تعلق ہے : وہ ساحر، شاعر، کاہن، مجنوں۔ جہاں تک ان کے فعل کا تعلق ہے وہ غزوہ احد کے موقع پر آپ ﷺ کی رباعیہ کو توڑنا اور آپ کے چہرہ کو زخمی کرنا ہے۔ اور مکہ مکرمہ میں جب سجدہ کی حالت میں تھے اس وقت آپ پر اوجھ پھینک دینا، اس کے علاوہ دوسرے افعال۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ﷺ پر اس وقت طعن کیا تھا جب آپ نے حضرت صفیہ بنت حیی کو اپنے حرم میں لیا تھا (5) ۔ اللہ تعالیٰ کو اذیت اور اس کے رسول کی اذیت کو مطلق ذکر کیا اور مومنوں اور مومنات کی اذیت کو مقید کیا کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت ہمیشہ ناحق ہوتی ہے اور مومنوں اور مومنات کو اذیت کبھی ناحق اور کبھی حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ ہمارے علماء نے کہا : حضرت اسامہ بن زید ؓ کو جب حضور ﷺ نے لشکرکا امیر بنایا تو اس پر طعن یہ بھی حضور ﷺ کو اذیت ہے (6) ۔ صحیح نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا، اس پر حضرت اسامہ بن زید ؓ کو امیر مقرر کیا لوگوں نے ان کی امارت پر طعن کیا (7) ۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے فرمایا : ” اگر تم اس کی امارت پر طعن کرتے ہو تو تم نے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی طعن کیا تھا، اللہ کی قسم ! یہ امارت کا مستحق ہے یہ مجھے لوگوں میں سے محبوب ترین ہے یہ اس کے بعد مجھے لوگوں میں سے محبوب ترین ہوگا “۔ یہ لشکر اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے وہی تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسامہ کے لیے تیار کیا تھا ان پر حضرت اسامہ کو امیر بنایا تھا اور حضرت اسامہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ” ابنی “ پر حملہ کرے یہ وہ بستی تھی جو موتہ کے قریب تھی جہاں حضرت زید کو شہید کیا گیا تھا ساتھ ہی حضرت جعفر طیار اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ شہید ہوئے تھے۔ حضور ﷺ نے حضرت اسامہ کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے باپ کا بدلہ لے تو جس کے دل میں کچھ شک تھا اس نے آپ کی امارت پر طعن کیا تھا، کیونکہ یہ غلاموں میں سے تھے، یعنی غلام کے بیٹے تھے۔ اور اس لیے بھی کہ یہ چھوٹی عمر کے تھے، کیونکہ اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ نبی کریم ﷺ کا وصال ہوگیا جب کہ یہ لشکر مدینہ طیبہ سے باہر نکل چکا تھا لیکن ابھی دور نہیں گیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے بعد اس امر کو نافذ کیا۔ مسئلہ نمبر 3۔ اس حدیث میں یہ واضح دلیل موجود ہے کہ مولی اور مفضول کی امامت ان کے غیر پر جائز ہے مگر امامت کبری جائز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے قبا میں حضرت سالم جو ابو حذیفہ کے غلام تھے انہیں نماز کے لیے امام بنایا۔ حضرت سالم ان کی امامت کرتے جن کہ صحابہ میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور دوسرے کبار قریش ہوتے تھے۔ صحیح عامر بن واثلہ سے روایت کرتی ہے کہ حضرت نافع بن عبد الحارث حضرت عمر ؓ کو عسفان میں ملے حضرت عمر ؓ نے انہیں مکہ مکرمہ پر عامل بنایا ہوا تھا، پوچھا : تو نے اس وادی پر کس کو عامل بنایا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : ابن ابزی کو۔ پوچھا ابن ابزی کون ہے ؟ عرض کی : ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام۔ پوچھا : تو نے غلاموں میں سے ایک غلام کو ان پر عامل بنایا ہے ؟ عرض کی : وہ کتاب اللہ کا قاری ہے، وہ علم فرائض کو جانتا ہے۔ فرمایا : خبردار ! تمہارے نبی کا ارشاد ہے ” اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کئی لوگوں کو بلند فرماتا ہے اور کئی کو پست کرتا ہے “ (1) ۔ مسئلہ نمبر 4۔ حضرت اسامہ ؓ محبوب تھے محبوب کے بیٹے تھے۔ اسی لقب سے بلائے جاتے تھے۔ ان کا رنگ شدید سیاہ تھا ان کے والد روئی سے بھی زیادہ سفید تھے۔ ابو دائود نے احمد بن صالح سے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ احمد کے علاوہ نے کہا (رح) : حضرت زید چمکیلے رنگ والے تھے اور حضرت اسامہ شدید قسم کے گندم گوں تھے۔ یہ بھی روایت بیان کی جاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت اسامہ کو بناتے سنوارتے جبکہ وہ چھوٹے تھے ان کے ریشہ کو صاف کرتے اور ان کی ناک کو صاف کرتے اور فرماتے : ” اگر اسامہ بچی ہوتی تو ہم اس کو مزین کرتے، اس کا بنائو سنگھار کرتے اور ہم اسے مرد خاوندوں کے لیے محبوب بنادیتے “ یہ ذکر کیا گیا ہے نبی کریم ﷺ کے بعد عربوں کا ارتداد کا سبب ان کا یہ گستاخانہ کلام تھا۔ جب حضور ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر جبل عرفہ پر عرفہ کی شام روانگی کے وقت تھے حضرت اسامہ کی وجہ سے تھوڑا وقت رکے یہاں تک کہ حضرت اسامہ آگئے انہوں نے کہا : آپ صرف اس کے لیے رکے ہیں۔ انہوں نے یہ بات حضرت اسامہ کی حقارت بیان کرنے کے لیے کی تھی۔ ان کا یہی گستاخانہ قول ان کی حقارت کا سبب بنا۔ امام بخاری نے اس کا ہم معنی قول نقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ حضرت عمر ؓ حضرت اسامہ کے لیے عطیہ میں پانچ ہزار اور اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ کے لیے دو ہزار معین کیا کرتے تھے۔ حضرت عبد اللہ نے عرض کی : آپ ﷺ نے حضرت اسامہ کو فضیلت دی جب کہ میں ایسی جنگوں میں شریک ہوا ہوں جن میں حضرت اسامہ شریک نہیں ہوئے ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : حضرت اسامہ تیری بنسبت رسول اللہ ﷺ کو زیادہ محبوب تھے اور ان کے والد حضرت زید تیرے والد کی بنسبت رسول اللہ ﷺ کو زیادہ محبوب تھے۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے محبوب پر رسول اللہ ﷺ کے محبوب کو ترجیح دی۔ اسی طرح لازم ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس سے محبت کریں اس سے محبت رکھی جائے اور جس سے بغض رکھیں اس سے بغض کیا جائے (1) ۔ مروان نے اس محبت کے برعکس رویہ اپنایا اس کی صورت یہ ہوئی کہ مروان حضرت اسامہ بن زید کے پاس سے گزرا جب کہ حضرت اسامہ نبی کریم ﷺ کے گھر کے دروازے کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ مروان نے آپ سے کہا : تو نے ارادہ کیا کہ ہم تیرے مقام و مرتبہ کو دیکھیں پس ہم نے تیرے مقام و مرتبہ کو دیکھا ہے اللہ تعالیٰ نے جو تیرے ساتھ سلوک کیا ہے اور اس نے قبیح قول کیا۔ حضرت اسامہ نے اسے کہا : تو نے مجھے اذیت دی ہے تو فاحش متفحش ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ فاحش متفاحش کو ناپسند کرتا ہے “ دونوں رویوں کو دیکھو دونوں افراد کو دیکھو بنو امیہ نے حضور ﷺ کے محبوبوں میں نبی کریم ﷺ کو اذیت دی اور آپ ﷺ کے محبوبوں کی شان کم کرنے کی کوشش کی۔ (آیت) لعنھم اللہ انہیں ہر بھلائی سے دور کردیا گیا۔ لغت میں لعن سے مراد دور کرنا ہے اسی سے لعان ہے۔ (آیت) واعد لھم عذابا مھینا اس کا معنی کئی دفعہ گزرچکا ہے۔ (آیت) الحمد للہ رب العالمین
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

مومنوں اور مومنات کو اذیت بھی قبیح افعال اور قبیح اقوال کے ساتھ ہوتی ہے، جس طرح گھڑا ہوا بہتان اور فحش تکذیب اس آیت کی مثل ہے جو سورة نساء میں ہے (آیت) ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ بریئا فقد احتمل بھتانا واثمامبینا (النساء) جس طرح یہاں فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اذیت سے مراد یہ ہے کہ اسے مذموم حسب کی وجہ سے یا مذموم پیشہ کی وجہ سے یا ایسی چیز کی وجہ سے جس کو جب سنے تو اس کے لیے بوجھ بنے، کیونکہ اس کو اذیت دینا فی الجملہ حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور رسول اللہ ﷺ کی اذیت میں اور مومنوں کی اذیت میں فرق کیا ہے پہلے کو کفر اور دوسرے کو گناہ کبیرہ بنایا ہے مومنوں کو اذیت دینے کے بارے میں فرمایا : (آیت) فقد احتملوا بھتانا واثمامبیناہم نے اس کی وضاحت کردی ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا : میں نے گزشتہ رات یہ آیت پڑھی تو میں اس سے گھبرا گیا (آیت) والذین یوذون الموئمنین والمومنات بغیر ماکتسبوا اللہ کی قسم ! میں تو انہیں مارتا ہوں اور انہیں جھڑکتا ہوں۔ حضرت ابی نے عرض کی : اے امیرالمومنین ! آپ ان میں سے نہیں ہے۔ آپ تو معلم اور سیدھا کرنے والے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے انصار کی ایک بچی دیکھی اسے مارا اور اس نے جو زینت کی ہوئی تھی اس کو ناپسند کیا تو اس کے گھر والے نکل آئے انہوں نے حضرت عمر ؓ کو زبانی اذیت دی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت علی شیر خدا کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ منافق انہیں اذیت دیتے اور ان کی تکذیب کیا کرتے تھے (1) ۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 (آیت) قل لازواجک وبنتک حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کی ایک ایک فضیلت کے بارے میں کلام گزرچکی ہے۔ قتادہ نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہو اتو اس وقت آپ ﷺ کے حرم میں نو ازواج تھیں۔ پانچ قریش کے خاندان سے حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت حفصہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت سودہ اور حضرت ام سلمہ ؓ تین عام عربوں میں سے تھیں حضرت میمونہ، حضرت زینب بنت حجش اور حضرت جویریہ ؓ اور ایک حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھی حضرت صفیہ ؓ جہاں تک حضور ﷺ کی اولاد کا تعلق ہے تو نبی کریم ﷺ کی اولاد میں مذکر اور مونث بھی تھے۔ مذکر اولاد میں سے حضرت قاسم، ان کی والدہ حضرت خدیجۃ الکبری تھیں۔ آپ کے نام سے ہی سرور دوعالم ﷺ کی کنیت تھی حضور ﷺ کی اولاد میں سے سب سے پہلے یہی فوت ہوئے۔ آپ دو سال تک زندہ رہے۔ حضرت عروہ نے کہا : حضرت خدیجۃ الکبری سے حضور ﷺ کے چار بیٹے ہوئے : حضرت قاسم، حضرت طاہر، حضرت عبداللہ اور حضرت طیب۔ ابوبکر برقی نے کہا : یہ قول بھی کیا جاتا ہے طاہر سے مراد طیب ہے اور وہی عبد اللہ ہے حضرت ابرہیم ان کی والدہ ماجدہ حضرت ماریہ قبطیہ تھیں۔ حضرت ابراہیم کی ولادت آٹھ ہجری ذی الحجہ میں ہوئی۔ یہ سولہ ماہ کے تھے تو ان کا وصال ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی عمر اٹھارہ ماہ تھی (2) ۔ دار قطنی نے اسے ذکر کیا ہے۔ اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ان کی دودھ پلانے والی تھی جو ان کی رضاعت جنت میں پوری کرے گی “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے علاوہ آپ کی تمام اولاد حضرت خدیجۃ الکبری سے تھی آپ ﷺ کی تمام اولاد آپ ﷺ کی زندگی میں وصال کرگئی صرف حضرت فاطمہ ؓ باقی تھیں۔ جہاں تک آپ ﷺ کی اولاد میں بچیوں کا تعلق ہے ان میں حضرت فاطمہ زہرہ بنت خدیجہ ؓ ہیں۔ حضرت خدیجۃ الکبری کے ہاں ان کی ولادت ہوئی جب قریش بیت اللہ شریف کی تعمیر کر رہے تھے یعنی اعلان نبوت سے پانچ سال قبل ان کی ولادت ہوئی یہ حضور ﷺ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں حضرت علی شیر خدا ؓ نے 2 ھ میں رمضان میں ان سے شادی کی اور ذی الحجہ میں انہیں گھر لائے۔ ایک قول یہ کیا گیا : رجب میں ان سے شادی کی۔ اور رسول اللہ ﷺ کے وصال کے تھوڑا عرصہ بعد ان کا وصال ہوا اہل بیت میں سے سب سے پہلے حضور ﷺ کو لاحق ہونے والی تھیں۔ ان میں حضرت زینب تھیں جن کی والدہ حضرت خدیجۃ الکبری تھیں۔ ان سے ان کے خالہ زاد بھائی ابوالعاص بن ربیع نے شادی کی۔ عاص کی ماں ہالہ بنت خویلد تھیں جو حضرت خدیجۃ الکبری کی ہمشیرہ تھیں۔ ابو لعاص کا نام لقیط تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام ہاشم تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام ہشیم تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام مقسم تھا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی بڑی بیٹی تھیں ان کا وصال 8 ھ میں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ ان کی قبر میں خود اترے۔ ان میں حضرت رقیہ بھی تھیں۔ ان کی والدہ ماجدہ بھی حضرت خدیجۃ الکبری تھیں۔ اعلان نبوت سے قبل عتبہ بن ابی لہب سے ان کی نسبت ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا اور آپ ﷺ پر اس آیت کو نازل فرمایا : (آیت) تبت یدا ابی لہب (الہب : 1) ابو لہب نے اپنے بیٹے سے کہا : اگر تو نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کو طلاق نہ دی تو میرا سر تیرے سر پر حرام ہے۔ عتبہ نے حضرت رقیہ سے علیحدگی اختیار کرلی اور وہ آپ کو اپنے گھر نہیں لایا تھا۔ حضرت رقیہ اس وقت اسلام لے آئی تھیں جب ان کی والدہ حضرت خدیجۃ الکبری اسلام لائی تھیں۔ حضرت رقیہ اور ان کی بہنوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اس وقت بیعت کی جب عورتوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ حضرت عثمان بن عفان نے ان سے شادی کی۔ جب حضرت عثمان نے ان سے شادی کی تو قریش کی عورتیں کہتی تھیں : احسن شخصین رای انسان رقیۃ وبعلھاعثمان دونوں ذاتوں میں سے بہترین جسے کوئی انسان دیکھے وہ حضرت رقیہ ہیں اور ان کے خاوند حضرت عثمان ہیں۔ حضرت رقیہ ؓ نے حضرت عثمان کے ساتھ حبشہ کے علاقہ کی جانب دوہجرتیں کیں۔ حضرت عثمان سے ان کا ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا تھا۔ پھر اس کے بعد حضرت عبد اللہ کی ولادت ہوئی۔ حضرت عثمان ؓ حالت اسلام میں ان کے نام سے اپنی کنیت ذکر کرتے۔ ان کی عمر چھ سال ہوئی تو مرغ نے ان کے چہرے پر چونچ ماری تو ان کا وصال ہوگیا۔ اس کے بعد ان کے ہاں کوئی ولادت نہ ہوئی۔ انہوں نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی، بیمار ہوئیں جب کہ رسول اللہ ﷺ غزوئہ بدر کی تیاری کررہے تھے رسول اللہ ﷺ نے حضرت رقیہ کی خدمت کے لیے انہیں پیچھے چھوڑا ان کا وصال ہوگیا جب کہ رسول اللہ ﷺ بدر میں تھے۔ ہجرت کو ستر ماہ گزرچکے تھے۔ حضرت زید بن حارثہ بدر سے خوشخبری دینے کے لیے آئے یہ مدینہ طیبہ میں اس وقت پہنچے جب حضرت رقیہ کی قبرپرمٹی درست کی جارہی تھی۔ ان کے دفن پر رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے۔ ان میں حضرت ام کلثوم ؓ بھی تھیں، ان کی والدہ حضرت خدیجۃ الکبری تھیں عتیبہ بن ابی لہب کی ان سے نسبت ہوئی جو عتبہ کا بھائی تھا یہ اعلان نبوت سے قبل ہوا۔ اس کو ابو لہب نے حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کو چھوڑدے اسی مذکورہ سبب سے جس کی وجہ سے حضرت رقیہ کو عتبہ نے چھوڑا تھا۔ عتیبہ انہیں اپنے گھر نہیں لے گیا تھا یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں رہیں۔ جب ان کی والدہ حضرت خدیجۃ الکبری ایمان لائیں تو یہ بھی ایمان لے آئیں۔ جب عورتوں نے رسول اللہ ﷺ کی ہاتھ پر بیعت کی تو اپنی بہنوں کے ساتھ انہوں نے بھی بیعت کی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کی تو انہوں نے بھی ہجرت کی۔ جب حضرت رقیہ کا وصال ہوا تو حضرت عثمان نے ان سے شادی کی۔ اسی وجہ سے حضرت عثمان کا لقب ذوالنورین ہے یہ نو ہجری کو شعبان کے مہینہ میں فوت ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ ان کی قبر پر بیٹھے۔ ان کی قبر میں حضرت علی، حضرت فضل اور حضرت اسامہ اترے۔ زبیر بن بکار نے ذکر کیا ہے حضور ﷺ کے سب سے بڑے بیٹے حضرت قاسم پھر حضرت زینب پھر حضرت عبداللہ انہیں ہی طیب اور طاہر کہا جاتا تھا۔ یہ اعلان نبوت کے بعد پیدا ہوئے اور چھوٹی عمر میں ہی فوت ہوگئے تھے۔ پھر حضرت ام کلثوم، پھر حضرت فاطمہ، پھر حضرت رقیہ، حضرت قاسم مکہ مکرمہ میں فوت ہوئے پھر حضرت عبد اللہ فوت ہوئے۔ مسئلہ نمبر 2۔ عربی عورتوں کا معمول تھا کہ وہ وقار سے گری ہوئی حرکتیں کرتیں وہ اپنے چہرے کو کھلارکھتیں جس طرح لونڈیاں کھلارکھتی ہیں۔ یہ اس امر کا سبب تھا کہ مرد انہیں دیکھیں اور ان کے بارے میں فکر پراگندہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ ان عورتوں کو حکم دیں کہ وہ پنی چادروں کے پلو لٹکا کر رکھیں جب وہ اپنی ضروریات کے لیے نکلنے کا اردہ کریں۔ لیٹرینیں بنائے جانے سے قبل وہ صحراء میں قضائے حاجت کے لیے جایا کرتی تھیں۔ اس طرح آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے درمیان فرق ہوجاتا۔ آزاد عورتیں اپنے پردہ کی وجہ سے پہچان لی جاتی تھیں تو جو آوارہ یا نوجوان ہوتا وہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے رک جاتا۔ مومنوں کی عورتوں میں سے کوئی ایک اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے پنی ضرورت کے لیے نکلتی بعض فجار ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے وہ خیال کرتے کہ یہ لونڈیاں ہیں وہ عورت اس پر چلاتی تو وہ چلے جاتے۔ لوگوں نے اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے شکایت کی۔ یہ آیت اس سبب سے نازل ہوئی ؛ یہ معنی حسن بصری اور دوسرے علماء نے کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ (آیت) من جلابیبھن، جلابیب، جلباب کی جمع ہے۔ یہ اوڑھنی سے بڑا کپڑا ہوتا ہے (1) ۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسود ؓ سے مروی ہے : اس سے مراد ردا ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد قناع ہے (جس سے سر ڈھانپا جاتا ہے ) ۔ صحیح قول یہ کہ جلباب سے مراد ایسا کپڑا ہے جس کے ساتھ سارا بدن ڈھانپا جاتا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ام عطیہ ؓ سے مروی ہے میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! جلباب نہیں ہوتا فرمایا : ” اس کی بہن اسے اپنا جلباب (چادر) دے دے “ (3) ۔ مسئلہ نمبر 4۔ چادر کے لٹکانے میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عبیدہ سلمانی نے کہا : اس کی صورت یہ ہے کہ عورت اسے یوں لپیٹ لے کہ عورت کی صرف ایک آنکھ دکھائی کے جس کے ساتھ وہ دیکھے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کہا : اس کی صورت یہ ہے کہ پیشانی کے اوپر سے لپیٹے اور اسے باندھ دے پھر اسے اپنی ناک پر جھکا دے اگرچہ اس کی آنکھیں ظاہر ہوں، وہ سینہ اور چہرے کا اکثر حصہ چھپاکررکھے (2) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ اپنے نصف چہرے کو ڈھانپ کر رکھے۔ مسئلہ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ نے تمام عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا پردہ ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی جلد کو عیاں نہ کرے ہاں جب ہو اپنے خاوند کے پاس ہو تو جو چاہے لباس پہنے، کیونکہ مرد کو حق حاصل ہے کہ جیسے چاہے لطف اندوز ہو۔ یہ امر ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک رات بیدار ہوئے تو کہا : سبحان اللہ سبحان اللہ ماانزل اللیلۃ من الفتن وماذافتح من الخزائن من یوقظ صواحب لحجررب کا سیۃ فی الدنیاعاریۃ فی الاخرۃ “ سبحان اللہ آج رات کتنے فتنے نازل ہوئے اور آج رات کتنے خزانے کھولے گئے آج حجرے والوں کو کان بیدار کرے گا دنیا میں کچھ لباس زیب تن کرنے والے آخرت میں ننگے ہوں گے۔ یہ روایت کی گئی ہے کہ حضرت دحیہ کلبی جب ہرقل کے پاس سے واپس آئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں کتان سے بنا کپڑا عطا فرمایا۔ فرمایا : ” اس کے نصف سے قمیص بنالو اور اپنی بیوی کو نصف دے دو وہ اس سے اوڑھنی بنالے “ (3) ۔ پھر حضور ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا :” اپنی بیوی کو حکم دینا کہ وہ اس کے نیچے کوئی چیزلگالے تاکہ یہ کپڑا اسکے جسم کی بناوٹ کو ظاہر نہ کرے “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے عورتوں کے لیے باریک کپڑے کا ذکر کیا تو فرمایا : لباس پہننے والیاں، ننگے بدن والیاں، اور خوشحال عورتیں بدبخت عورتیں۔ بنو تمیم کی عورتیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس آئیں جن پر باریک لباس تھا، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنہانے کہا : اگر تم مومن ہو تو یہ لباس مومن عورتوں کا نہیں اگر تم غیر مومن ہو تو تم اس سے لطف اندوز ہولو۔ ایک دلہن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس پر کتان سے بنی اوڑھنی تھی جس کو عصفر سے رنگا گیا تھا۔ جب حضرت عائشہ صدیقہ نے اسے دیکھاتو فرمایا : تو سورة نور پر ایمان نہیں رکھتی۔ ایک عورت یہ لباس پہنتی ہے۔ نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت ہے : ” ایسی عورتیں جو لباس پہنتی ہیں ان کے جسم ننگے ہوتے ہیں وہ جھکنے والی ہوتی ہیں جھکانے والی ہیں ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوتے ہیں وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور اس کی خوشبو بھی نہیں پائیں گی “ (4) ۔ حضرت عمر نے کہا : مسلمان عورتوں کو کیا چیز روکتی ہے جب اسے کام ہو تو وہ بوسیدہ کپڑے میں نکلے یا اپنی پڑوسن کے بوسیدہ کپڑوں میں نکلے وہ اپنے آپ کو پوشیدہ رکھے ہوئے ہو اسے کوئی بھی نہ جانے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس آجائے۔ مسئلہ نمبر 6۔ (آیت) ذالک ادنی ان یعرفن یہ زیادہ مناسب ہے کہ آزاد عورتیں پہچانی جائیں تاکہ وہ لونڈیوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں۔ جب ان کو پہچان لیا جائے گا تو ادنی تعرض کے لیے ان کے سامنے نہ آیا جائے گا یہ ان کے مرتبہ حریت کو پیش نظر رکھنے کی وجہ سے ہوگا۔ تو ان سے ہر قسم کی طمع ختم ہوجائے گا۔ ان تعرف المراۃ کا معنی یہ نہیں کہ یہ جانا جائے کہ وہ کون ہے۔ حضرت عمر ؓ جب کسی لونڈی کو دیکھتے کہ اس نے پردہ کیا ہوا ہے تو اسے درہ سے مارتے اصل میں آپ آزاد عورتوں کے لباس کی حفاظت کے لیے اس طرح کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے (رح) : اب ہر آزاد اور لونڈی کے حق میں پردہ اور سر کا ڈھانپنا واجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد عورتوں کو مسجدوں سے روک دیا تھا جب کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد تھا : ” اللہ کی باندیوں کے اللہ تعالیٰ کی مساجد سے نہ روکو “ (1) ۔ یہاں تک کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنہانے کہا : اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے اس وقت تک زندہ رہتے تو آپ عورتوں کو مساجد میں داخل ہونے سے روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجدوں سے روک دیا تھا۔ (آیت) وکان اللہ غفورارحیما اس امر مشروع سے قبل عورتیں جو جلابیب کو ترک کرتی رہیں ان کے بارے میں عورتوں کو مانوس کیا جارہا ہے۔
Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر) میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو انکے پیچھے لگا دینگے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ (آیت) لئن لم ینتۃ المنافقون اہل تفسیر نے کہا : یہ تین اوصاف ایک شے کے ہیں۔ جس طرح سفیان بن سعید نے منصور سے وہ حضرت ابو رزین سے روایت نقل کرتے ہیں کہ (آیت) المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ سب ایک چیز ہیں یعنی انہوں نے ان اشیاء کو جمع کیا۔ وائو زائدہ ہے۔ جس طرح کہا : الیالملکالقرموابن الھامولیث الکتیبۃ فیامزدحم ملک، قرم، ابن ہمام، لیث الکتیبۃ سے ایک ہی ذات مراد ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان میں ایسے لوگ تھے جو افواہیں اڑایا کرتے تھے، کچھ لوگ ایسے تھے جو شک کی بنا پر عورتوں کا پیچھا کیا کرتے تھے اور کچھ لوگ ایسے تھے جو مسلمانوں میں شک ڈالا کرتے تھے۔ عکرمہ اور شہر بن حوشب نے کہا : (آیت) الذین فی قلوبھم مرض سے مراد ہے جن کے دلوں میں بدکاری کا میلان ہے۔ طائوس نے کہا : یہ آیت عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ سلمہ بن کہیل نے کہا : یہ بدکاروں کے بارے میں نازل ہوئی (1) ۔ معنی قریب قریب ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : المنافقون اور الذین فی قلوبھم مرض ایک ہی چیز ہیں۔ انہیں الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی دلیل سورة بقرہ کے آغاز میں منافقین والی آیت ہے۔ (آیت) المرجفون فی المدینۃ سے مراد ایسے لوگ ہیں جو مومنوں کو دشمنوں کے بارے میں بری خبریں دیا کرتے تھے جب رسول اللہ ﷺ کے چھوٹے لشکر باہر جاتے تو وہ کہتے : انہیں شہید کردیا گیا ہے یا انہیں شکست ہوگئی ہے اور دشمن تم تک پہنچا چاہتا ہے ؛ یہ قتادہ اور دوسرے لوگوں کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ کہا کرتے تھے اصحاب صفہ ایسے لوگ ہیں جن کی بیویاں نہیں، یہی لوگ عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مسلمانوں میں سے ایک جماعت تھی جو فتنہ کو پسند کرنے کی بنا پر جھوٹی خبریں پھلایا کرتے تھے۔ بہتان لگانے والوں میں سے مسلمان لوگ بھی تھے لیکن وہ فتنہ کو پسند کرنے کی بنا پر اس میں داخل ہوئے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : ارجاف سے مراد فتنہ کو تلاش کرنا ہے (2) ۔ ارجاف سے مراد غم میں مبتلا کرنے کے لیے جھوٹ اور باطل کو عام کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد دل کو حرکت دینا ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : رجفت الارض فرجف رجفازمین میں حرکت ہوئی اور اس میں زلزلہ برپا ہوا۔ رجفان سے مراد شدید اضطراب ہے۔ رجاف سے مراد سمندر ہے، سمندر کے موجزن ہونے کی بنا پر اسے یہ نام دیا گیا ہے۔ شاعر نے کہا : المطعمونالحم کلعشیۃ حتیتغیب الشمس فیالرجاف وہ ہر شام گوشت کھلاتے ہیں یہاں تک سورج سمندر میں غائب ہوجاتا ہے۔ ارجاف کی جمع اراجیف ہے اس کا معنی خبریں ہیں۔ قد ارجفوا فی الشی وہ اس میں داخل ہوئے۔ شاعر نے کہا : فانا وان عیرتمونا بقتلہوارجف بالاسلام باغوحاسد اگر تم ہمیں ان کے قتل پر عار دلاتے ہو اسلام میں باغی اور حاسد داخل ہوگیا ہے۔ ایک اور شاعرنے کہا : ابالاراجیف یابناللوم توعدنیوفیالاراجیف خلت اللوم والخور اے کمینے ! کیا تو مجھے اراجیف کی دھمکی دیتا ہے اور تو نے گمان کیا کہ اراجیف میں ملامت اور ذلت ہے۔ ارجاف حرام ہے کیونکہ اس میں اذیت ہوتی ہے۔ آیت اس امر پر دال ہے کہ ارجاف کے ذریعے اذیت دینا حرام ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ (آیت) لنغرینک بھم ہم تجھے ان پر مسلط کردیں گے تو آپ قتل کے ذریعے ان کی جڑیں کاٹ دیں گے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : وہ عورتوں کو اذیت دینے سے نہ رکے اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ان پر تسلط عطا کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ولاتصل علی احدمنھم مات ابداولاتقم علی قبرہ (التوبہ : 84) اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کرتے کا حکم دیا ہے۔ یہ ہی وہ اغراء ہے۔ محمد بن یزید نے کہا : اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ان پر اس آیت میں جو اس آیت کے بعد ہے تسلط عطا فرمایا جبکہ کلام اس کے ساتھ متصل ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (آیت) اینماثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلا اس آیت میں ان کو قتل کرنے اور ان کو پکڑنے کا امر ہے جب ہو نفاق اور ارجاف پر قائم رہیں تو یہ ان کا حکم ہے۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : خمس یقتلن فی الحل والحرام (2) پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کو حل اور حرم میں قتل کیا جائے گا۔ اس میں امر کا معنی ہے یہ حدیث آیت کی طرح حکم میں برابر ہے۔ نحاس نے کہا : اس آیت کی تعبیر میں جو اقوال کیے جاتے ہیں ان میں سے یہ سب سے خوبصورت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ارجاف سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آپ کو تسلط عطانہ کیا۔ لنغرینک کالام لام قسم ہے، قسم اسی پر واقع ہورہی ہے۔ ان پر لام داخل کیا گیا تاکہ قسم کا شعور دلائے۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے

مسئلہ نمبر 3۔ (آیت) ثم لایجاورون فیھا، ھاضمیر سے مراد مدینہ طیبہ ہے۔ لاقلیلایہ یجاورونک کی ضمیر سے حال ہے۔ اور اس طرح ہوگا جس طرح اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کیونکہ وہ تھوڑے ہی تھے۔ یہ فراء کے دو جوابوں میں سے ایک جواب ہے۔ اس کے نزدیک یہی اولی ہے۔ وہ آپ کے پاس نہیں رہتے مگر اپنے قلیل ہونے کی حالت میں۔ دوسرا جواب ہے معنی ہو الاوقتا قلیلا مگر تھوڑاوقت، یعنی تیرے ساتھ تھوڑاوقت ہی رہیں گے، یعنی وہ اس میں تھوڑا عرصہ رہیں گے یہاں تک کہ ہلاک ہوجائیں گے۔ تو یہ محذوف مصدر محذوف ظرف کی صفت ہوگا۔ یہ اس پر دال ہے کہ جو مدینہ طیبہ میں آپ کے ساتھ رہ رہا ہے تو وہ ” جار “ ہے۔ سورة النساء میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ (آیت) ملعونین محمد بن یزید کے ہاں اس پر کلام مکمل ہوتی ہے۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ ابن انباری نے کہا : (آیت) قلیلا ملعونین اس پر وقف کرنا اچھا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے کہ الا قلیلا پر کلام مکمل ہو اور ملعونین کو نصب شتم (گالی) کے طور پر ہو۔ جس طرح عیسیٰ بن عمر نے قراءت کی ہے۔ (آیت) وامراتہ حما لۃ الحطب (لہب) ایک نحوی سے یہ مروی ہے اس نے کہا : معنی ہے جہاں بھی ہوں گے ملعون ہونے کی حیثیت میں پکڑے جائیں گے یہ غلط ہے کیونکہ ما مجازات کا معنی رکھتے ہوئے ماقبل میں عمل نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت کا معنی ہے اگر وہ نفاق پر اصرار کرے تو انہیں مدینہ میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں اگر وہ رہیں گے تو دھت کارے ہوئے ملعون رہیں گے۔ ان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا، کیونکہ جب سورة براءت نازل ہوئی تو ہو جمع ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے فلاں ! اٹھ اور نکل جاکیون کہ تو منافق ہے، اے فلاں اٹھ “ ان کے مسلمان بھائی اٹھے اور مسجد سے انہیں نکالنے کے ذمہ داربنے۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے اور تم خدا کی عادت میں تغیر و تبدل نہ پاؤ گے

مسئلہ نمبر 5۔ (آیت) سنۃ اللہ یہ مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو انبیاء کے بارے میں غلط باتیں عام کرے اور اپنے نفاق کو ظاہر کرے کہ اسے پکڑلیاجائے اور اسے قتل کردیا جائے۔ (آیت) ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا تو اللہ تعالیٰ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا (1) ؛ نقاش نے یہ حکایت بیان کی ہے۔ سدی نے کہا : جس کو حق کی بنا پر قتل کیا گیا تو اس کے قاتل پر کوئی دیت لازم نہ ہوگی (2) ۔ مہدوی نے کہا : آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ وعید کے نفاذکو ترک کرنا جائز ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ منافق حضور ﷺ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ حضور ﷺ کا وصال ہوگیا۔ اہل فضل میں معروف یہ ہے کہ وعدہ کو پورا کیا جائے اور وعید کو موخر کردیا جائے۔ یہ بحث سورة آل عمران وغیرہ میں گزرچکی ہے۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو

(آیت) یسئلک الناس عن الساعۃ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینے والوں کو جب عذاب کی دھمکی دی گئی تو انہوں نے قیامت کے بارے میں سوال کیا، ان کے سوال کا مقصود اس امر کو بعید خیال کرنا اور اس کو جھٹلانا تھا، وہ یہ وہم دلانا چاہتے تھے کہ یہ امر وقوع پزیر نہیں ہوگا۔ (آیت) قل انماعلمھاعنداللہ ان کے سوال کا جواب دیجئے اور کہہ دیجئے : اس کا علم اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے وقت کو مخفی رکھا ہے تو یہ میری نبوت کو باطل کرنے والا نہیں اور نبی ہونے کی یہ شرط نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے بغیر غیب جانے۔ (آیت) ومایدریک کس نے آپ کو آگاہ کیا (آیت) لعل الساعۃ تکون قریبا ممکن ہے قیامت قریب ہی زمانہ میں ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بعثت انا والساعۃ کھاتین (3) میں اور قیا مت ان دو کی طرح مبعوث کیے گئے ہیں اور انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ اہل صحیح نے اسے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ترکیب یوں ہے لیست الساعۃ تکون قریبا اس کی ہاء تانیث حزف ہوگئی کہ الساعۃ کو یوم کی طرف لے جایا گیا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (آیت) ان رحمت اللہ قریب من المحسنین (الاعراف) قریبۃ نہیں فرمایا کیونکہ رحمت کو عفو کی طرف پھیر دیا گیا ہے، کیونکہ اس کی تانیث اصلی نہیں۔ یہ بحث مفصل گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے وقت کو مخفی رکھاتا کہ بندہ ہر وقت اس کے لیے مستعد رہے۔
Ayahs 33:64–65

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک خدا نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کر رکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ابدالآباد رہیں گے نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار

اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دھتکاردیا اور انہیں دور کردیا۔ لعن کا معنی دھتکارنا اور رحمت سے دور کرنا ہے۔ سورة بقرہ میں اس کی وضاحت گزرچکی ہے۔ فیھا میں ہاضمیر سعیرا کے لیے ہے سعیر کو مونث قرار دیا کیونکہ یہ النار کے معنی میں ہے وہ کوئی ایسا مددگار نہیں پائے گا جو انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس میں ہمیشہ رہنے سے نجات عطا فرمائے۔
Ayahs 33:66–67

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں کہیں گے اے کاش ہم خدا کی فرمانبرداری کرتے اور رسول (خدا) کا حکم مانتے

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو راستے سے گمراہ کردیا

(آیت) یوم تقلب وجوھھم فی النار عام قراءت تاء کے ضمہ اور لام کے فتحہ کو ساتھ ہے اور فعل مجہول ہے۔ عیسیٰ ہمدانی اور ابن اسحاق نے نقلب نون اور لام مکسور کے ساتھ قراءت کی ہے۔ وجوھھم منصوب ہے۔ عیسیٰ نے یہ قراءت کی ہے۔ تقلب تاء مضموم اور لام مکسور ہے معنی یہ ہے جہنم ان کے چہروں کو الٹ سے گی۔ یہ الٹنا آگ کی لپک کے ساتھ ان کے رنگوں کو بدل دینا ہے۔ کسی لمحہ وہ سیاہ ہوجائیں گے اور کسی لمحہ سبز ہوجائیں گے۔ جب ان کے جلدوں کو دوسری جلدوں سے بدل دیا جائے گا تو وہ اس وقت تمنا کریں گے کہ وہ کفر نہ کرتے۔ (آیت) یقولون یالیتنا یہ جائز ہے کہ معنی ہو جس روز ان کے چہرے آگ میں الٹے جائیں گے تو اس روز کہیں گے کاش !۔ (آیت) اطعنا اللہ واطعناالرسولایہ کفر نہ کرتے تو ہم اس عذاب سے نجات پاتے جس طرح مومن نجات پاگئے۔ یہ الف فواصل میں واقع ہوتا ہے اس پر وقف کیا جاتا ہے اور وصل نہیں کیا جاتا اسی طرح السبیلا ہے۔ سورت کے آغاز میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ حضرت حسن بصری نے اس کی قراءت کی انا اطعناسادتنا یعنی تاء کے نیچے کسرہ پڑھا ہے۔ یہ سادۃ کی جمع ہے۔ اس آیت میں تقلید سے جھڑک ہے۔ سادۃ یہ سید کی جمع ہے۔ یہ فعلۃ کا وزن ہے، جس طرح کتبۃ، فجرۃ، ساداتنایہ جمع کی جمع ہے۔ سادۃ اور کبراء دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ سردار ہیں جو غزوئہ بدر کے موقع پر مشرک فوج کو کھانا کھلایا کرتے تھے (1) ۔ اظہریہ ہے کہ یہاں شرک اور ضلالت میں جو قائدین اور سردار ہیں ان کو یہ لفظ عام ہے، یعنی ہم نے تیری نافرمانی کرکے ان کی اطاعت کی اور جس امر کی طرف بھی انہوں نے ہمیں دعوت دی ہم نے ان کی پیروی کی۔ (آیت) فاضلوناالسبیلا انہوں نے ہمیں السبیل یعنی توحید سے گمراہ کردیا۔ جب جار کو حذف کردیا گیا اور فعل کے ساتھ السبیل کو ملا دیا گیا تو اس پر نصب آئی، اضلال کا لفظ حرف جار کے واسطہ کے بغیر دو مفعولوں کی طرف متعدی نہیں ہوتا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (آیت) لقد اضلنی عن الذکر (الفرقان : 29 )
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر

(آیت) ربنااتھم ضعفین من العذاب قتادہ نے کہا : مراد عذاب دنیا اور عذاب آخرت ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفرکا عذاب اور گمراہ کرنے کا عذاب ہے (3) ، یعنی جس قدر تو ہمیں عذاب دیتا ہے انہیں اس کا دگنا عذاب دے کیونکہ وہ گراہ ہوئے اور انہوں نے گمراہ کیا۔ (آیت) والعنھم لعنا کبیرا حضرت ابن مسعود ؓ آپ کے اصحاب، یحییٰ اور عاصم نے باء کے ساتھ قراءت کی باقی قراء نے ثاء کے ساتھ قراءت کی۔ اسے ابو حاتم، ابو عبید اور نحاس نے اپنایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) اولئک یلعنھم اللہ ویلعنھم اللعنون (ابقرہ) یہ معنی اکثر واقع ہوتا ہے۔ محمد بن ابی سری نے کہا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں عسقلان کی مسجد میں ہوں گویا ایک آدمی مجھ سے اس آدمی کے بارے میں مناظرہ کررہا ہے جو حضرت محمد ﷺ کے صحابہ سے بغض رکھتا ہے۔ اس نے کہا : (آیت) والعنھم لعنا کبیرا اس نے یہ بات بار بار مجھ سے کی پھر وہ غائب ہوگیا۔ وہ اسے ثاء کے ساتھ ہی کہتا۔ باء کی قراءت ثاء کے معنی کی طرف ہی راجع ہے، کیونکہ جو چیز بڑی ہوتی ہے وہ کثیر اور عظیم قدروالی ہوتی ہے۔