33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ جب نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے شادی کرلی تو لوگوں نے کہا : آپ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کی ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی حضرت زید رسول اللہ ﷺ کے بیٹے نہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ پر اس کی بیوی حرام ہوتی، بلکہ آپ اپنی امت کے باپ ہیں۔ یہ شان و عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ حضور ﷺ کی بیویاں ان پر حرام ہیں منافقوں اور دوسرے لوگوں کے دلوں میں جو کچھ واقع ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ساتھ سب کو دور کردیا۔ یہ چیز ذہن نشین کرلو کہ حضرت محمد ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، جو آپ ﷺ کے معاصر تھے۔ اس آیت سے یہ مقصد نہیں کہ حضور ﷺ کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ آپ کے مذکر بچے ہوئے حضرت ابرہیم، حضرت قاسم، حضرت طیب اور حضرت طاہر، لیکن کوئی بیٹا زندہ نہ رہا یہاں تک کہ وہ مرد کہلاتا۔ جہاں تک حضرت حسن اور حضرت حسین کا تعلق ہے وہ آپ کے ہم عصر مرد نہیں تھے۔ مسئلہ نمبر 2۔ آیت ولکن رسول اللہ اخفش اور فراء نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے ولکن کان رسول اللہ دونوں نے رفع کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبین اسی طرح ابن ابی عبلہ اور بعض لوگوں نے ولکن رسول اللہ رفع کے ساتھ قراءت کی ہے معنی ہوگا ھو رسول اللہ وخاتم النبین ایک جماعت نے ولکن نون کی تشدید کے ساتھ قراءت کی ہے۔ رسول اللہ کو نصب اس بنا پر دی کے لکن کا اسم ہے اور خبر محذوف ہے۔ عاصم نے صرف وخاتم تاء کے فتحہ کے ساتھ قراءت کی ہے معنی ہوگا آپ کے ساتھ ان پر مہر لگائی گئی۔ پس آپ خاتم اور طابع کی طرح ہوئے۔ جمہور نے تاء کے کسرہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ معنی ہے آپ نے ان کو ختم کردیا ہے یعنی آپ ان کے آخر میں آئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خاتم اور خاتم دو لغتیں ہیں جس طرح طابع اور طابع۔ دانق اور دانق، طابق اور طابق۔ آخری الفاظ گوشت کی کڑاہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 3۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ الفاظ علماء امت کی جماعت کے ہاں، وہ اسلاف میں سے ہوں یا بعد کے عموم تام کے لیے ہیں اور اس بیان کا تقاضہ کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں (1) ۔ قاضی ابو الطیب نے اپنی کتاب جو ” ہدایہ “ کے نام کے ساتھ موسوم ہے میں جو یہ ذکر کیا ہے اس آیت کے الفاظ میں احتمال کو جائز قرار دیا ہے، ضعیف ہے۔ اور اس آیت کی تفسیر میں امام غزالی نے جو ذکر کیا ہے یہ مفہوم ان کی اس کتاب میں ہے جسے انہیں نے ” الاقتصاد “ کا نام دیا ہے میرے نزدیک الحاد ہے۔ اور ختم نبوت کے بارے میں مسلمانوں کا جو عقیدہ ہے اس میں تشویش کرنے کی خبیث کوشش ہے۔ اس سے بچو، اس سے بچو۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ ہدایت دینے والا ہے۔ میں کہتا ہوں : نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا :” میرے بعد نبوت میں سے کوئی چیز نہیں مگر جو اللہ تعالیٰ چاہے “ (2) ابو عمرو نے کہا : جس کی استثنا کی وہ خواب ہیں ؛ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ سچے خواب نبوت کا جز ہیں۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی صرف سچے خواب “۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے قراءت کی : من رجالکم ولکن نبیا ختم النبین (3) رمانی نے کہا : نبی کریم ﷺ کے ساتھ اصلاح احوال کو ختم کردیا۔ جو آدمی آپ کے ذریعے اپنی اصلاح نہیں کرتا تو اس کی اصلاح سے قطعی مایوسی ہے۔ میں کہتا ہوں : اس معنی میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے : بعثت لاتمم مکارم الاخلاق (4) مجھے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کروں۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے : ” میرے اور انبیاء کی مثال ایسے آدمی جیسی ہے جس نے گھر بنایا اسے مکمل کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس گھر میں داخل ہوئے اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے اور کہتے اس اینٹ کی جگہ کو کیوں نہیں مکمل کیا “ (5) ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں اس اینٹ کی جگہ ہوں میں آیا اور انبیاء کے سلسلہ کو ختم کردیا “۔ اسی کی مثل حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے مگر یہ کہا :” میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبین ہوں “۔
Ayahs 33:41–42

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ اس کا ذکر کریں اور اس کا شکر بجا لائیں اور ذکر کثرت سے کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام کیا اللہ تعالیٰ نے بندے کی سہولت کی خاطر اسے بغیر کسی حد کے بنایا ہے۔ اور اس لیے بھی کیونکہ اس میں اجر عظیم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : اللہ کا ذکر ترک کرنے میں کوئی معذور نہیں مگر جس کا عقل مغلوب ہو (1) ۔ حضرت ابو سعید نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے : ” اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا کرو یہاں تک کہ لوگ کہیں کہ یہ مجنوں ہے “ (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذکر کثیر وہ ہے جو دل کے ارحمۃ اللہ علیہخلاص کے ساتھ ہو۔ اور قلیل ذکر وہ ہے جو نفاق کی صورت میں ہو جس طرح صرف زبان سے ذکر۔ یعنی اپنے احوال کے اکثر حصہ میں اپنی زبانوں کو تسبیح ( سبحان اللہ) تہلیل ( لا الہ الا اللہ) تحمید ( الحمد للہ) اور تکبیر ( اللہ اکبر) کے ساتھ مشغول رکھا کرو۔ مجاہد نے کہا : یہ وہ کلمات ہیں جنہیں پاکیزہ، جس کا وضو نہ وہ اور جنبی بھی کہہ سکتا ہے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اس کی بارگاہ میں دعا کیا کرو۔ جریر نے کہا : فلاتنس تسبیح الضحیانیوسفادعاربہ فاختارہحینسبحا (4) چاشت کی دعا نہ بھولو کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت چن لیا جب انہوں نے دعا کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے صبح شام اللہ کی نماز پڑھا کرو۔ نماز کو تسبیح کہتے ہیں۔ فجر، مغرب اور عشاء کا خصوصا ذکر کیا کیونکہ یہ برانگیختہ کیے جانے کے زیادہ لائق ہیں کیونکہ یہ رات کی اطراف کے ساتھ متصل ہیں۔ قتادہ اور طبری نے کہا : اشارہ صبح اور عصر کی نماز کی طرف ہے (5) ۔ الاصل سے مراد پچھلا پہر ہے اس کی جمع اصائل اور الاصل یہ اصیل کے معنی میں ہے اس کی جمع آصال آتی ہے ؛ یہ مبرد کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اصل یہ اصیل کی جمع ہے جس طرح رغیف کی جمع رغف آتی ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ : یہ آیت مدنی ہے۔ جس نے یہ گمان کیا کہ نماز اصل میں پہلے دو نمازوں کے طور پر فرض کی گئی یہ دن کی دونوں اطراف میں تھی۔ اس کے ساتھ اس آیت کا تعلق نہیں اس کے بارے میں روایت ضعیف ہے اس کی طرف توجہ نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ نماز کے فرض ہونے کی کیفیت کے بارے میں گفتگو اور علماء کا اس بارے میں جو نقطہ نظر ہے وہ سورة اسراء میں گزر چکا ہے۔ الحمد للہ۔
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اسکے فرشتے بھی تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور خدا مومنوں پر مہربان ہے

آیت ھو الذی یصلی علیکم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب یہ آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی نازل ہوئی تو مہاجرین اور انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو خا ص آپ ﷺ کے لیے ہے۔ اس میں ہمارے لیے تو کچھ بھی نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ اس امت پر سب سے بڑی نعمت ہے اور تمام دوسری امتوں پر فضیلت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت کنتم خیر امۃ اخرجت لناس ( آل عمران : 110) اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندے کے لیے صلوۃ یہ اس کی رحمت اور اس کے ہاں برکت ہے۔ ملئ کہ کی صلوۃ مومنوں کے لیے دعا اور ان کے لیے استغفار ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت ویستغفرون للذین آمنوا (غافر : 7) اس کی بحث بعد میں آئے گی۔ حدیث طیبہ میں ہے : ” بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا : کیا تیرا رب صلوۃ کا عمل کرتا ہے ؟ تو یہ امر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر گراں گزرا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی میری صلوۃ یہ ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے “۔ نحاس نے اسے ذکر کیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : ایک جماعت نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر صلوۃ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : ” سبوح قدوس میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے “ (1) ۔ اس قول کی تاویل میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی کلام میں سے کلمہ ہے یہی اس کے بندوں پر اس کی صلوۃ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سبوح قدوس حضرت محمد ﷺ کی کلام میں سے ہے حضور ﷺ نے ان الفاظ کو ادا کرنے سے پہلے ذکر کیا جو الفاظ اللہ تعالیٰ کی صلوۃ ہے وہ رحمتی سبقت غضبی ہے کیونکہ حضور ﷺ نے سائل سے یہ سمجھا کہ سائل نے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی صلوۃ سے ایسا معنی سمجھا ہے جو مناسب و موزوں نہیں تو حضور ﷺ نے اپنی جانب سے خبر دینے سے قبل تنزیہ اور تعظیم کا ذکر کیا۔ آیت لیخرجکم من الظلمت الی النور گمراہی سے ہدایت کی طرف تمہیں نکارحمۃ اللہ علیہلے۔ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت پر ثابت قدم کرتا ہے کیونکہ خطاب کے وقت وہ ہدایت پر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ مومنوں پر رحمت فرمانے والا ہے مقصود ان سے انس کا اظہار کرنا ہے۔ فرمایا : آیت وکان بالمومنین رحیما۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ اس سے ملیں گے انکا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے

آیت یلقونہ کی ضمیر جس اسم کی طرف لوٹ رہی ہے اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف لوٹ رہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں پر رحم فرمانے والا ہے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ اس دن وہ اس سے ملاقات کریں گے۔ آیت تحیتھم بعض کا بعض کے لیے سلام ہوگا۔ سلام یعنی ہماری اور تمہاری اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے سلام ہوگا۔ معنی ہے : اللہ تعالیٰ انہیں آفات سے محفوظ رکھے گا یا مختلف قسم کے خوفوں سے امن کی بشارت دے گا۔ آیت یوم یلقونہ قیامت کے روز جنت میں دخل ہونے کے بعد وہ اس سے ملاقات کریں گے۔ کہا : یہ زجاج نے معنی کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استشہاد کیا ہے۔ آیت وتحیتھم فیھا سلام (یونس : 10) ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت یوم یلقونہ مراد جس روز وہ ملک الموت سے ملیں گے۔ یہ وارد ہوا ہے کہ ملک الموت کسی مومن کی روح قبض نہیں کرتا مگر اسے سلام کہتا ہے۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے، کہا : آیت تحیتھم یوم یلقونہ سلام سے مراد ہے ملک الموت روح کے قبض کرنے کے وقت مومن کو سلام کرتا ہے۔ وہ مومن کی روح قبض نہیں کرتا یہاں تک کہ اسے سلام کرتا ہے۔
Ayah 33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

اس آیت میں نبی کریم ﷺ اور مومنوں کے لیے انس پیدا کیا جا رہا ہے اور ان سب کی تکریم کی جا رہی ہے۔ یہ آیت نبی کریم ﷺ کے چھ اسماء کے اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ اور ہمارے نبی کے کثیر اسماء ہیں اور جلیل القدر علامات ہیں۔ ان کا ذکر کتاب، سنت اور متقدم کتب میں وارد ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے اسماء میں سے محمد اور احمد کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے۔ ثقہ اور عادل لوگوں نے جو آپ سے روایات نقل کی ہیں ان میں ہے۔ ” میرے پانچ نام ہیں میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں اللہ میرے ساتھ کفر کو مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں لوگ میرے قدم پر اٹھیں گے اور میں عاقب ہوں “ (1) ۔ ٓصحیح مسلم میں حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام رئوف اور رحیم رکھا (2) ۔ اس میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے : حضور ﷺ میرے لیے اپنے ناموں کا ذکر کرتے۔ آپ فرماتے : ” میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں مقفی ہوں، میں حاشر ہوں، میں نبی توبہ ہوں اور میں نبی رحمت ہوں “ (3) ۔ قاضی ابو الفضل عیاض نے اپنی کتاب جس کا نام ” الشفاء “ ہے اس میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔ جو اسماء کتاب اللہ میں آتے ہیں، جو رسول اللہ کی سنت میں ہیں، جو کتب مقدمہ میں منقول ہوں اور امت نے جو کثیر اسماء اور مختلف صفات کا ذکر کیا ہے۔ یہ مسمیات حضور ﷺ پر صادق آتے ہیں اور آپ کی ذات میں ان کے معانی پائے گئے ہیں۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے احکام میں اس آیت کی تفسیر میں نبی کریم ﷺ کے 67 ناموں کا ذکر کیا ہے اور وسیلۃ المتعبدین ا کی متابعہ سید المرسلین کے مصنف نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ذکر کی ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے ایک سو اسی نام ہیں۔ جو ان کی طلب رکھتا ہے وہ ان کو وہاں پا لے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی اور حضرت معاذ کو بلایا اور دونوں کو یمن طرف بھیجا اور فرمایا : ” دونوں جائو دونوں بشارت دینا، متنفر نہ کرنا، سہولت پیدا کرنا، سختی نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ نازل کیا ہے اور اس آیت کی تلاوت کی “ (1) َ آیت شاھدا سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے : آپ اپنی امت پر شاہد ہیں کہ آپ نے انہیں تبلیغ کی اور تمام امتوں پر گواہ ہیں کہ ان کے انبیاء نے انہیں تبلیغ کی (2) ۔ اسی طرح دوسرے اقوال ہیں۔ آیت مبشرا اس کا معنی ہے مومنوں کو اللہ کی رحمت اور جنت کی بشارت دینے والے ہیں۔ آیت ونذیرا اس کا معنی ہے نافرمانوں اور جھٹلانے والوں کو آگ اور دائمی عذاب سے خبر دار کرنے والے ہیں۔ آیت وداعیا الی اللہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا مطلب یہ ہے توحید کی تبلیغ کرنا، اس کو اپنانا اور کفار سے جہاد کرنا۔ آیت باذنہ یہاں اس کا معنی ہے اس کا تجھے حکم دینا اور اس کا اس کے وقت اور اس کے حالات میں مقدر کرنا۔ آیت وسراجا منیرا یہاں یہ اس نور سے مجاز ہے جسے آپ کی شرع اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت وسراجا سے مراد گمراہی کی تاریکی سے ہدایت دینے والے ہیں جب کہ آپ روشن چراغ کی طرح ہیں۔ یہاں انارہ کے ساتھ صفت ذکر کی کیونکہ چراغوں میں سے کچھ وہ بھی ہوتے ہیں جو روشنی نہیں دیتے جب ان کا تیل کم ہو اور اس کی بٹ باریک ہو۔ ان میں سے بعض کی کلام میں ہے : تین چیزیں کمزور کردیتی ہیں سست قاصد، چراغ جو روشنی نہ دے اور ایسا دستر خوان جس کا آنے والا انتظار کرے، ان میں سے بعض سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا جس سے وحشت محسوس کی جاتی ہے۔ فرمایا : ایسی تاریکی جو ہر طرف سے ڈھانپے ہوئے ہو اور ایسا چراغ جو روشنی نہ دے (3) ۔ نحاس نے سند بیان کی۔ محمد بن ابراہیم رازی، عبدالرحمن بن صالح ازدی سے وہ عبد الرحمن بن محمد محاربی سے وہ شیبان نحوی سے وہ قتادہ سے وہ عکرمہ سے اور وہ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت نقل کرتے ہیں : جب یہ آیت یا ایھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشراو نذیراوداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی اور حضرت معاذ ؓ کو بلایا، فرمایا : ” دونوں جا ئو بشارت دینا اور سختی نہ کرنا، کیونکہ آج کی رات اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایک آیت نازل کی ہے۔ یا ایھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشراو نذیرا “ یعنی آگ سے ڈرانے والا
Ayah 33:46

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن

آیت وداعیا الی اللہ کہا : اس سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ باذنہ سے مراد اس کے امر سے آیت وسراجا منیرا کہا : اس سے مراد قرآن ہے۔ زجاج نے کہا : وسراجا یعنی ایسا سراج جو نور والا ہے۔ یعنی روشن کتاب۔ یہ بھی جائز قرار دیا کہ یہ اس معنی میں ہو وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرنے والے ہیں۔
Ayah 33:47

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑا فضل ہے

آیت وبشر المومنین وائو عاطفہ ہے جملہ کا عطف جملہ پر ہے۔ معنی ماقبل سے منقطع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے فضل کبیر کی بشارت دے۔ زجاج کے قول ذاسراج منیر وتالیاسراجا منیرا کے مطابق یہ کاف پر معطوف ہوگا مگر ارسلنک کے کاف پر معطوف نہیں ہوگا (1) ۔ ابن عطیہ نے کہا : ہمیں حضرت ابی ؓ نے کہا : میرے نزدیک کتاب اللہ میں یہ سب سے امید والی آیت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ مومنوں کو بشارت دے کہ اس کہ ہاں ان کے لیے فضل کبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فضل کبیر کی وضاحت اپنے اس ارشاد میں کی ہے : آیت والذین امنوا وعملوا الصالحات فی روضات الجنات لھم ما یشاء ون عند ربھم ذلک ھو الفضل الکبیر (الشوری :) اس سورت میں جو آیت ہے وہ خبر ہے اور سورت حم عسق میں جو آیات ہے وہ اس کی تفسیر ہے (2) ۔
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا اور خدا ہی کارساز کافی ہے

آیت ولا تطع الکافرین والمنافقین وہ ان کے معاملہ میں جس مداہنت کی طرف تمہیں دعوت دیتے ہیں اس معاملہ میں ان کی اطاعت نہ کیجئے اور ان کی طرف مائل نہ ہوجا ئیے۔ آیت الکافرین سے مراد ابو سفیان، عکرمہ، ابو اعور اسلمی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا : اے محمد ! ﷺ آپ ہمارے بتوں کو برا بھلا نہ کہا کریں، تو ہم آپ کی اتباع کریں گے۔ آیت والمنافقین سے مراد عبد اللہ بن ابی، عبد اللہ بن سعد اور طعمہ بن ابیرق ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس امر پر برانگیختہ کیا کہ وہ مصلحت کی غرض سے آپ کی اس پیشکش کو قبول کرلیں۔ آیت ودع اذاھم اس امر کو چھوڑ دیں کہ وہ جو آپ کو اذیتیں دیتے ہیں اس کے بدلے میں آپ بھی انہیں اذیتیں دیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ ان کو سزا دینے کا ارادہ ترک کردیں۔ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیں۔ اس تاویل کی صورت میں مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاعف ہوگا۔ اس تاویل کی بنا پر جو امر کافروں کے ساتھ خاص ہے وہ منسوخ ہے۔ اس کا ناسخ آیت سیف ہے۔ اس میں دوسرا معنی بھی ہے : ان کی باتوں اور جو وہ آپ کو اذیتیں دیتے ہیں ان سے اعراض کیجئے اور آپ ﷺ اس میں مشغول نہ ہوں۔ اس تاویل کی بنا پر مصدر فاعل کی طرف مضاعف ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ آیت، آیت سیف سے منسوخ ہے۔ آیت و توکل علی اللہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم دیا اور اپنے اس ارشاد کے ساتھ انس پیدا کیا۔ آیت وکفی باللہ وکیلا کلام کی قوت میں مدد کا وعدہ ہے۔ وکیل سے مراد معاملہ کی حفاظت کرنے والا اور اس کو بجا لانے والا ہے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

مومنو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کر کے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو

اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت یا ایھا الذین امنوا اذا نکحتم المومنات ثم طلقتموھن جب حضرت زید اور حضرت زینب کا طلاق کا واقعہ ہوا جب کہ وہ ایسی عورت تھیں جن کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کیے گئے تھے۔ ان کی عدت ختم ہونے کے بعد حضور ﷺ نے انہیں دعوت نکاح دی۔ جس طرح ہم وضاحت کرچکے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو خطاب کیا جب کہ انہوں نے پنی بیویوں کو حقوق زوجیت ادا کرنے سے قبل طلاق دے دی ہو۔ اور اس حکم کو امت کے لیے واضح کیا۔ مطلقہ اگر ایسی ہو کہ اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا نہ کیے گئے ہوں تو اس پر عدت لازم نہیں ہوگی۔ یہ کتاب اللہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اگر اس کے ساتھ خاوند نے دخول کیا ہو تو بالاتفاق اس پر عدت ہوگی۔ مسئلہ نمبر 2۔ نکاح کا حقیقی معنی وطی کرنا ہے۔ عقد کو نکاح اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کا عقد نکاح کے ساتھ گہر تعلق ہوتا ہے کیونکہ عقد نکاح وطی تک پہنچنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ علماء نے خمر کو اثم کا نام دیا کیونکہ یہ گناہ کا سبب ہے۔ کتاب اللہ میں لفظ نکاح عقد کے معنی میں ہے، کیونکہ اس کا حقیقی معنی وطی ہے۔ اس کو مختلف الفاظ کے ساتھ کنایۃ ذکر کرنا یہ قرآن کے آداب میں سے ہے۔ جیسے ملامسہ، مماسہ، قربان، تغشی اور اتیان۔ مسئلہ نمبر 3۔ بعض علماء نے آیت ثم طلقتموھن میں ثم کے لفظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ طلاق نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے۔ جس نے نکاح سے پہلے عورت کو طلاق دی اگر اس نے اس عورت کو معین کردیا تو یہ طلاق اسے لازم نہ ہوگی۔ یہ قول تقریبا تیس علماء کا ہے جن میں صحابہ، تابعین اور ائمہ شامل ہیں۔ امام بخاری نے بائیس افراد کا نام لیا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے بھی مروی ہے لا طلاق قبل نکاح نکاح سے قبل طلاق نہیں (1) ۔ اس کا معنی ہے طلاق واقع نہیں ہوتی یہاں تک کہ نکاح ہوجائے۔ حبیب بن ابی ثابت نے کہا : حضرت علی بن حسین ؓ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا : ان تزوجتک فانت طالق اگر میں تجھ سے شادی کروں تو تجھے طلاق ؟ آپ نے جواب دیا : کچھ بھی نہیں اللہ تعالیٰ نے طلاق سے پہلے نکاح کا ذکر کیا ہے۔ علماء کے ایک طائفہ نے کہا : معینہ عورت کو نکاح سے قبل طلاق دی جائے وہ ذات کے اعتبار سے معین ہو، قبیلہ کے اعتبار سے معین ہو اور شہر کے اعتبار سے معین ہو وہ طلاق لازم ہوجائے گی (2) ۔ ان میں امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کے تمام اصحاب ہیں اور امت کے عظیم علماء بھی یہی کہتے ہیں۔ سورة براءت میں اس بارے میں گفتگو اور فریقین کے دلائل گزرچکے ہیں۔ الحمد للہ جب اس نے کہا : کل امراۃ اتزوجھا فھی طالق وکل عبد اشتریتہ فھو حر میں جس عورت سے شادی کروں اسے طلاق ہے اور میں جس غلام کو خریدوں وہ آزاد ہے۔ تو کچھ بھی لازم نہ کرے گا۔ اگر اس نے کہا : اگر میں بیس سال تک جس عورت سے بھی شادی کروں یا کہا : اگر میں فلاں شہر یا فلاں قبیلہ سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے تو اس پر طلاق واقع ہوجائے گی جب تک اسے لمبے سالوں کی وجہ سے اپنے اوپر بدکاری کا خوف نہ ہو یا غالب طور پر اس کی عمر اس حد تک نہ پہنچی ہو تو اسے نکاح کرنے کا حق ہوگا، اس پر طلاق لازم نہ ہوگی جب اس نے یہ بات عموم کے اعتبار سے کی کیونکہ اس نے اپنے اوپر نکاح کے معاملہ کو تنگ کردیا ہے۔ اگر ہم اس کو روکیں کہ وہ شادی نہ کرے تو وہ حرج میں مبتلا ہوگا اور اس پر بدکاری کا خوف ہوگا۔ ہمارے بعض اصحاب نے کہا : اگر وہ کوئی لونڈی پائے تو نکاح نہ کرے یہ کوئی بات نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ضرورتیں اور عذر احکام کو اٹھا دیتے ہیں یہ ضرورت کے اعتبار سے اس آدمی کی طرح ہے جس نے قسم ہی نہیں اٹھائی ؛ یہ قول بن خویز منداد کا ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ دائود اور جو ان کے ہمنوا ہیں نے استدلال کیا ہے کہ مطلقہ رجعیہ سے جب اس کا خاوند رجوع کرے جب کہ اس کی عدت ختم نہ ہوئی ہو پھر اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کرنے سے پہلے طلاق دے دے تو اس پر عدت کو مکمل کرنا لازم نہیں اور نہ ہی اس پر نئی عدت گزارنا لازم ہے کیونکہ اسے حقوق زوجیت ادا کرنے سے قبل طلاق دے دی گئی، عطا بن ابی رباح اور ایک جماعت نے کہا : وہ پہلی طلاق کو عدت جاری رکھے گی امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک یہی قول ہے کیونکہ جب اس نے حقوق زوجیت ادا نہیں کیے تھے تو اس کی طلاق اس طلاق کے حکم میں ہے جو ایک آدمی اپنی عورت کو عدت میں طلاق دے جس کے ساتھ اس نے رجوع نہیں کیا اور جس نے اپنی بیوی کو ہر طہر میں ایک طلاق دی وہ عورت اس عورت کو پہلی عدت پر بنا کرے گی اور نئے سرے سے عدت شمار نہیں کرے گی۔ امام مالک نے کہا : جب اس نے حقوق زوجیت ادا کرنے سے پہلے طلاق دے دی تو وہ اپنی سابقہ عدت پر بنا نہیں کرے گی۔ جس روز سے اس نے اسے طلاق دی ہے اس روز سے وہ نئی عدت شمار کرے گی۔ اس کے خاوند نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اس نے غلطی کی اگر اس نے اس سے رجوع کیا جب کہ اس کو اس کی ضرورت نہ تھی ؛ اکثر علماء کا یہی نقطہ نظر ہے کیونکہ یہ عورت بھی ان بیویوں کے حکم میں ہے جن کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کیے گئے ہوں نفقہ میں، رہائش میں اور دوسرے امور میں، اسی وجہ سے جس روز اس نے اسے طلاق دی نئے سرے سے عدت شمار کرے گی ؛ یہ بصرہ، کوفہ، مکہ، مدینہ اور شام کے جمہور فقہاء کا نقطہ نظر ہے۔ ثوری نے کہا : ہمارے نزدیک فقہاء نے اس پر اجماع کیا۔ مسئلہ نمبر 5۔ اگر اسے طلاق بائنہ دی گئی مگر تین طلاقیں نہ دی گئی ہوں، تو خاوند نے اس عورت سے عدت میں نکاح کرلیا، پھر اسے حقوق زو جیت سے قبل طلاق دے دی تو اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ امام مالک، امام شافعی، امام زفر اور عثمان بتی نے کہا : اس کو نصف مہر ملے گا اور باقی ماندہ عدت پوری کرے گی ؛ یہ حضرت حسن بصری، عطا، عکرمہ اور ابن شہاب کا نقطہ نظر ہے۔ امام ابو حنیفہ، ابو یوسف، ثوری اور اوزاعی نے کہا : اس کے لیے نکاح ثانی کی وجہ سے کامل مہر اور نئی عدت ہوگی۔ اسے مدخول بہا کے حکم میں رکھا گیا ہے کیونکہ وہ اس کے پانی کو ہی شمار کر رہی تھی۔ دائود نے کہا : اس کو نصف مہر ملے گا۔ اس پر باقی ماندہ پہلی عدت نہ ہوگی اور نہ ہی نئی عدت ہوگی۔ اولی وہی ہے جو امام مالک اور امام شافعی نے کہا ؛ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 6۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء ( البقرۃ : 228) اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت والئی یئسن من المحیض من نساء کم ان ارتبتم فعدتھن ثلثۃ اشھر ( الطلاق : 4) کے لیے مخصوص ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزرچکی ہے اور متعہ کے باب میں بھی یہ گفتگو گزر چکی ہے۔ دوبارہ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ آیت وسرحوھن سراحا جمیلا اس میں دو توجیہیں ہیں : (1) خوشحالی اور تنگدستی کی بنا پر متعہ دیا جائے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (1) ۔ (2) اس سے مراد اسے طلاق دینا ہے جب کہ وہ طہارت کی حالت میں ہو اور اس سے جماع بھی نہ کیا گیا ہو ؛ یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : طلاق کے بعد انہیں ان کے اہل کی طرف بھیج دیا جائے مرد اور مطلقہ عورت ایک جگہ جمع نہ ہوں۔ مسئلہ نمبر 7۔ آیت فمتعوھن سعید نے کہا : یہ آیت اس آیت کے ساتھ منسوخ ہے (2) جو سورة بقرہ میں ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم (ابقرۃ : 237) یہاں متعہ کا ذکر نہیں۔ سورة بقرہ میں گفتگو گزر چکی ہے۔ آیت وسرحوھن کا معنی ہے انہیں طلاق دو امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک تسریح یہ طلاق سے کنایہ ہے کیونکہ یہ غیر حقیقی معنی میں استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے نیت کی ضرورت ہوتی ہے امام شافعی کے نزدیک یہ لفظ صریح ہے اس بارے میں گفتگو سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اس وجہ سے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ جمیلا یعنی سنت طریقہ پر نہ کہ بدعت کے انداز میں۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے انکے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے) بطور مال غنیمت دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہارے خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہیں لیکن) یہ اجازت (اے محمد ﷺ خاص تم کو ہی ہے سب مسلمانوں کو نہیں ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اس میں انیس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ سدی نے کہا ابو صالح سے وہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ عہنا سے روایت نقل کرتے ہیں (1) ۔ کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے دعوت نکاح دی تو میں نے آپ ﷺ سے معذرت کی تو آپ نے میری معذرت کو قبول کرلیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل کیا : آیت انا احللنا لک۔ کہا : میں آپ ﷺ کے حلال نہ تھی کیونکہ میں نے ہجرت نہ کی تھی میں طلقاء (جن کو چھوڑ دیا گیا) میں سے تھی۔ اسے ابو عیسیٰ ترمذی نے روایت کیا ہے۔ کہا : یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے اسی سند سے پہچانتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا : یہ بہت ہی ضعیف ہے۔ یہ حدیث کسی ایسی صحیح سند سے مروی نہیں جس سے استدلال کیا جاسکے (2) ۔ مسئلہ نمبر 2۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا اور عورتوں نے آپ کو پسند کرلیا تو ان سے زائد سے شادی کرنا آپ کے لیے حرام کردیا گیا اور ان کی جگہ کسی اور سے شادی کرنا بھی حرام کردیا گیا یہ اصل میں ان کے اس عمل کا بدلہ تھا جو ازواج مطہرات نے کیا تھا۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (رح) آیت لایحل لک النساء من بعد کیا یہ حلال تھا کہ اس کے بعد آپ کسی ایک کو طلاق دے دیں ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آپ کے لیے حلال نہیں تھا یہ اصل میں بدلہ تھا جو انہوں نے حضور ﷺ کو اختیار کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضور ﷺ کے لیے حلال تھا جس طرح دوسرے لوگوں کے لیے حلال تھا لیکن اس کے بدلہ میں آپ کسی سے شادی نہیں کرسکتے تھے۔ پس اس حرمت کو منسوخ کردیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مباح کردیا کہ جس عورت سے چاہیں شادی کرلیں۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : انا احللنا لک ازواجک احلال تقاضا کرتا ہے کہ اس سے قبل حرمت بھی ہو۔ آپ کی وہ بیویاں جو آپ کی زندگی میں تھیں وہ آپ پر حرام نہیں تھیں۔ آپ پر حرام عورتوں سے نکاح کرنا تھا تو احلال ان کی طرف پھر گیا، کیونکہ آیت کے سیاق میں فرمایا : بنات عمک وبنات عماتک یہ بات تو معلوم ہے کہ آپ ﷺ کے عقد میں آپ ﷺ کی چچا زاد، آپ ﷺ کی پھوپھی زاد، آپ ﷺ کی ماموں زاد اور آپ ﷺ کی خالہ زاد کوئی بھی نہ تھی اس سے ثابت ہوا کہ ابتداء ان کے ساتھ شادی کرنا حلال تھا۔ یہ آیت اگرچہ تلاوت میں مقدم ہے مگر نزول کے اعتبار سے متاخر ہے، اس وجہ سے اس نے اس آیت کو منسوخ کردیا جس کو بعد میں تلاوت کیا جاتا ہے، جس طرح سورة بقرہ میں وفات کے متعلق دو آیات ہیں۔ آیت انا احللنا لک ازواجک کی تاویل میں لوگوں کا اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے ہر ایسی عورت سے نکاح کرنا حلال کردیا ہے جس کو آپ ﷺ مہر دیں (3) ؛ یہ ابن زید اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر محرمات کے علاوہ تمام عورتوں کو یہ آیت آپ کے لیے حلال کرنے والی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : احللنا لک ازواجک سے مراد ہے جو بیویاں آپ کے پاس ہیں کیونکہ انہوں نے دنیا و آخرت پر آپ کو ترجیح دی ہے ؛ یہ علماء میں سے جمہور کا نقطہ نظر ہے، یہی ظاہر قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : اتیت اجورھن یہ فعل ماضی ہے اور فعل ماضی استقبال کے معنی میں چند شرطوں کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ اس تاویل کی بنا پر امر نبی کریم ﷺ کے لیے تنگ ہوجاتا ہے۔ اس تاویل کی تائید وہ قول بھی کرتا ہے جو حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ جس خاندان میں چاہتے شادی کرلیتے یہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں پر شاق گزرتا (1) ، جب یہ آیت نازل ہوئی اور اس وجہ سے آپ پر تمام عورتیں حرام ہوگئیں مگر جن کا نام لیا گیا تو اس وجہ سے آپ کی عورتیں خوش ہوگئیں۔ میں کہتا ہوں کہ : پہلا قول زیادہ صحیح ہے اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کی ہے۔ اس کی صحت پر وہ قول بھی دلالت کرتا ہے جسے امام ترمذی نے عطا سے روایت کیا ہے۔ کہا : حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ کا وصال نہیں ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں سے نکاح کرنا آپ کے لیے حلال کردیا (2) ۔ کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ آیت وما ملکت یمینک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ اور آپ کی امت کے لیے مطلقا لونڈیاں حلال کردیں۔ اور اپنے نبی کے لیے بیویاں بھی مطلقا حلال کردیں، باقی لوگوں کے لیے مخصوص تعداد کی صورت میں حلال کردیا۔ آیت مما افاء اللہ علیک کفار کی عورتوں میں سے جو تم پر لوٹائے۔ غنیمت کو بعض اوقات فی بھی کہتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جن عورتوں کی تم پر لوٹایا یعنی جو عورتیں قہرا اور غلبہ کی صورت میں پکڑی گئیں۔ مسئلہ نمبر 4۔ آیت وبنات عمک وبنات عماتک وہ بیویاں جن کو آپ نے مہر دے دیا اور جو آپ کی باندیاں ہیں ان سے زائد آپ کے لیے ہم نے عورتیں آپ کے لیے حلال کردی ہیں ؛ یہ جمہور کا قول ہے۔ کیونکہ اگر یہ ارادہ ہوتا کہ ہم نے آپ کے لیے وہ عورت حلال کردی ہے جس سے آپ نے نکاح کیا اور آپ نے مہر دے دیا تو اس کے بعد یہ نہ فرماتا : آیت وبنات عمک وبنات عماتک کیونکہ یہ تو ماقبل میں داخل ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ لازم نہیں آتا ان کا خصوصا ذکر کیا مقصد ان کی شرافت کا اظہار ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت فیھما فاکھۃ ونخل ورمان ( الرحمن) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ آیت التی ھاجرن معک اس میں دو قول ہیں : (1) آپ کے قریبی رشتہ داروں میں سے جس طرح تیرے چچا حضرت عباس کی بیٹیاں، اس کے علاوہ عبد المطلب کی اولاد، عبد المطلب کی بیٹیوں کی اولاد کی بیٹیاں، ماموں کی بیٹیاں، جو عبد مناف بن زہرہ کی بیٹیوں کی اولاد، حلال نہیں مگر جو مسلمان ہو کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمھاجر من ھجر مانھی اللہ عنہ (3) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اس کو چھوڑ دے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : والذین امنوا ولم یھاجرو مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجرو ( الانفال : 72) جس نے ہجرت نہ کی وہ کامل نہ ہوا اور جو کامل نہیں ہوا وہ اس نبی ﷺ کے لیے کامل نہیں جو کمال والا، شرف والا اور عظمت و شان والا ہے۔ مسئلہ نمبر 6۔ معک یہاں معیت سے مراد ہجرت میں اشتراک ہے صحبت میں اشتراک نہیں جس نے ہجرت کی وہ آپ کے لیے حلال ہوگیا۔ جب اس نے ہجرت کی اس وقت وہ آپ کی صحبت میں تھا یا نہیں تھا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : دخل فلان معی وخرج معی یعنی اس کا عمل میرے عمل کی طرح ہے، اگرچہ اس میں تم دونوں کا عمل ملا ہوا نہ ہو۔ اگر تو کہے : خرجنا معا اس نے دو معنوں کا اکٹھے تقاضا کیا : فعل میں اشتراک اور اس میں اقتران۔ مسئلہ نمبر 7۔ اللہ تعالیٰ نے عم کو مفرد اور عمات کو جمع ذکر کیا، اسی طرح فرمایا : خالک، وخالاتک اس میں حکمت یہ ہے کہ عم اور خال اطلاق میں اسم جنس ہے، جس طرح شاعر اور راجز۔ جب کہ عمہ اور خالہ اس طرح نہیں یہ عرف لغوی ہے۔ کلام اشکال کو دور کرنے کے لیے حد درجہ بلیغ انداز میں واقع ہوئی ہے۔ یہ دقیق ہے پس تم اس میں غورو فکر کرو ؛ یہ ابن عربی کا قول ہے (1) ۔ مسئلہ نمبر 8۔ آیت وامراۃ مومنۃ اس کا عطف احللنا پر ہے۔ معنی ہے اور ہم نے آپ کے لیے اس عورت کو بھی حلال کیا ہے جو بغیر مہر کے اپنا آپ آپ ﷺ کی ہبہ کرتی ہے۔ اس معنی میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی عورت بھی نہ تھی مگر اس کے ساتھ آپ نے عقد نکاح کیا ہوا تھا وہ آپ کی لونڈی تھی (2) ۔ جہاں تک ہبہ کا تعلق ہے تو ایسی کوئی عورت بھی آپ کے پاس نہیں تھی۔ ایک قوم کا نقطہ نظر ہے : آپ کے پاس ہبہ کرنے والی بھی عورت تھی (3) ۔ میں کہتا ہوں : صحیحین میں جو روایت ہے وہ اس قول کو قوت بہم پہنچاتی ہے اور اس کی تائید کرتی ہے۔ امام مسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں ان عورتوں پر غیرت کھاتی تھی جو اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ پر پیش کرتی تھیں اور میں کہا کرتی تھی : کیا کوئی عورت حیا نہیں کرتی کہ وہ اپنا آپ بطور ہبہ کسی مرد کو پیش کرے (4) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : ترجی من تشاء منھن وتوی الیک من تشاء میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں آپ کے رب کو دیکھتی ہوں کہ وہ آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی کرتا ہے۔ امام بخاری نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے کہا : حضرت خولہ بنت حکیم ان عورتوں سے تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ہبہ کیا (5) ۔ یہ روایت اس امر پر دال ہے کہ وہ کئی عورتیں تھیں ؛ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ زمحشری نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنے آپ کو ہبہ کرنے والیاں چار ہیں : حضرت میمونہ بنت حارث، حضرت زینب بنت خزیمہ ام المساکین انصاریہ، حضرت ام شریک بنت جابر، حضرت خولہ بنت حکیم ؓ (6) ۔ میں کہتا ہوں : ان میں سے بعض میں اختلاف ہے۔ قتادہ نے کہا : وہ میمونہ بنت حارث ہے (1) ۔ امام شعبی نے کہا : وہ زینب بنت خزیمہ ام المساکین جو انصار میں سے ایک ہے (2) ۔ علی بن حسین، ضحاک اور مقاتل نے کہا : وہ ام شریک بنت جابراسدیہ ہے۔ عروہ بن زبیر نے کہا : ام حکیم بنت اوقص سلمیہ ہے (3) ۔ مسئلہ نمبر 9۔ اپنا آپ ہبہ کرنے والی کے نام میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ام شریک انصاری ہے اس کا نام غزیہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ لیلی بنت حکیم تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت میمونہ بنت حارث تھی۔ جب نبی کریم ﷺ نے اسے دعوت نکاح دی ان کے پاس دعوت نکاح دینے والا آیا جب کہ آپ اونٹ پر تھیں۔ انہوں نے کہا : اونٹ اور جو اونٹ پر ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ام شریک عامریہ ہے۔ یہ ابو عکرازدی کے عقد میں تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ طفیل بن حارث کے عقد میں تھیں ان کے بطن سے ان کا بیٹا شریک پیدا ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی یہ امر ثابت نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اسے ابو عمر بن عبد العزیز نے ذکر کیا۔ امام شافعی اور عروہ نے کہا : وہ زینب بنت خزیمہ ام المساکین ہیں (4) ۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 10۔ جمہور نے ان وھبت ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ قراءت کی۔ یہ امر کے نئے سرے سے شروع ہونے پر دال ہے یعنی اگر یہ واقع ہو تو یہ اس کے لیے حلال ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد مروی ہے دونوں نے کہا : نبی کریم ﷺ کے پاس کوئی موہوبہ عورت نہ تھی۔ ہم نے اس کے خلاف پر دلیل قائم کردی ہے۔ ائمہ نے سہل اور دوسرے واسطوں سے صحاح میں روایت نقل کی ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم ﷺ سے کہا : میں اس لیے حاضر ہوئی کہ میں اپنا آپ آپ کو ہبہ کروں (5) ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ ایک آدمی اٹھا اس نے عرض کی : اگر آپ کو حاجت نہیں تو میری اس سے شادی کردیں۔ اگر یہ ہبہ جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ خاموش نہ رہتے کیونکہ آپ باطل پر قائم نہ رہتے جب اسے سنتے۔ مگر یہ احتمال موجود ہے کہ سکوت بیان کے انتظار میں ہو، تو یہ آیت تحلیل اور تخییر کے متعلق نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے اس کے ترک کو اختیار کیا اور اس کی شادی ایک اور مرد سے کردی۔ یہ بھی احتمال موجود ہے کہ حضور ﷺ نے خاموشی اس لیے اختیار کی ہوتا کہ اس بارے میں غور کریں یہاں تک کہ آدمی اس کی طلب میں کھڑا ہوگیا۔ حضرت حسن بصری، حضرت ابی بن کعب اور امام شعبی نے ان ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ اعمش نے وامراۃ مومنۃ ان وھبت قراءت کی، نحاس نے کہا : ان ہمزہ کا کسرہ معانی کو جامع ہے کیونکہ کہا گیا : وہ عورتیں ہیں۔ جب ہمزہ کو فتحہ دیا جائے تو معنی ہوگا ان میں سے ایک معین، کیونکہ فتحہ امراۃ سے بدل کے طور پر ہوگا یا یہ لان کے معنی میں ہوگا۔ مسئلہ نمبر 11۔ آیت مومنۃ یہ لفظ اس پر دال ہے کہ کافرہ آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں امام الحرمین نے کہا : آزاد کافرہ کے آپ پر حرام ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ ابن عربی نے کہا : میرے نزدیک صحیح یہی ہے کہ وہ آپ پر حرام ہے۔ اور اسی وجہ سے آپ ﷺ ہم سے ممتاز ہیں (1) ۔ جہاں تک فضائل اور کرامت کی جانب ہے تو اس میں آپ کا حصہ زیادہ ہے اور جو نقص والی جانب ہے تو آپ اس سے زیادہ پاکیزہ ہیں ہمارے لیے آزاد کتابی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ اور حضور ﷺ نے اپنی جلالت شان کی بنا پر مومنات تک اپنے آپ کو محدود رکھا۔ جب آپ کے لیے وہ عورت حلال نہیں جس نے ہجرت نہیں کی کیونکہ اس میں ہجرت کی فضیلت نہیں تو یہ زیادہ مناسب ہے کہ آپ کے لیے کافرہ وکتابیہ حلال نہ ہو کیونکہ اس میں کفر کا نقص موجود ہے۔ مسئلہ نمبر 12۔ آیت ان وھبت نفسھا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ نکاح صفات مخصوصہ پر عقد معاوضہ ہے۔ سورة النساء اور دوسری سورتوں میں یہ بات گزر چکی ہے۔ زجاج نے کہا : ان وھبت نفسھا للنبی کا معنی ہے حلت وہ حلال کرے۔ حضرت حسن بصری نے پڑھا ان وھبت ہمزہ پر فتحہ ہے۔ ان محل نصب میں ہے۔ زجاج نے کہا : اصل میں یہ لان تھا۔ دوسرے علماء نے کہا : ان وھبت یہ امراۃ سے بدل اشتمال ہے۔ مسئلہ نمبر 13۔ آیت ان اراد النبی ان یستنکحھا جب عورت نے اپنا آپ ہبہ کردیا اور نبی کریم ﷺ نے اسے قبول کرلیا تو وہ آپ کے لیے حلال ہوگئی اگر آپ نے اس کو قبول نہ کیا تو یہ چیز لازم نہ ہوگی، جس طرح اس نے کسی مرد کو کوئی چیز ہبہ کی تو اس کو قبول کرنا لازم نہیں ہوگا، مگر ہمارے نبی کریم ﷺ کے مکارم اخلاق میں سے یہ ہے کہ آپ واہب کا ہبہ قبول کریں اور کریم لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس کا رد کرنا عادت میں طیب ہے۔ واہب کے لیے ہبہ اور اس کے دل کے لیے اذیت کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں اسے واضح کیا، اسے قرآن بنایا جس کی تلاوت کی جاتی ہے تاکہ اس سے حرج دور ہو اور لوگوں کی عادت اور قول میں جو باطل چیزیں ہیں وہ باطل ہیں۔ مسئلہ نمبر 14۔ آیت خالصۃ لک عورتوں کا اپنے آپ کو ہبہ کرنا یہ ایسی خصلت ہے جو جائز نہیں۔ یہ جائز نہیں کہ عورت اپنے آپ کو مرد کے لیے ہبہ کرے۔ خاصیت کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ عورت دخول سے قبل مہر کے فرض کرنے کا مطالبہ کرے تو یہ اس کا حق نہ ہوگا۔ جہاں تک مفوضہ کے حق میں ہمارے ہاں حقوق زوجیت ادا کرنے سے قبل مہر کے مطالبہ کا حق ہے اور حقوق زوجیت کی ادائیگی کے بعد مہر مثل کے مطالبہ کا حق ہے۔ مسئلہ نمبر 15۔ علماء نے اس پر اجماع کیا ہے کہ عورت کا اپنی ذات کو ہبہ کرنا جائز نہیں اور لفظ ہبہ سے نکاح مکمل نہیں ہوتا۔ مگر امام ابوحنیفہ (2) اور صاحبین سے یہ مروی ہے انہوں نے کہا : جب اس نے ہبہ کیا اور مرد نے اپنے آپ پر مہر کی گواہی دی تو یہ جائز ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : ان کے قول میں نہیں مگر یہ عبارت اور لفظ ہبہ کا ذکر کرنا جائز ہے مگر افعال جس کی انہوں نے شرط لگائی ہے وہ بعینہ افعال نکاح ہیں (1) ۔ یہ مسئلہ سورة القصص میں مفصل گزر چکا ہے۔ الحمد للہ مسئلہ نمبر 16۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو احکام شریعت میں چند چیزوں میں خاص کیا ہے جن میں کوئی دوسرا فرد شریک نہیں۔ یہ فرض، حرمت اور حلت کے احکام ہیں یہ امت پر فضیلت کے طور پر ہے جو حضور ﷺ کو عطا کی گئی اور ایسا مرتبہ ہے جو آپ کے لیے خاص ہے۔ چند چیزیں آپ پر فرض کی گئیں جو دوسروں پر فرض نہیں۔ آپ ﷺ پر چند امور حرام کیے گئے جو دوسروں پر حرام نہیں تھے آپ کے لیے چند چیزیں حلال کی گئیں جو لوگوں کے لیے حلال نہ کی گئیں۔ ان میں سے کچھ متفق علیہ ہیں اور کچھ مختلف فیہ ہیں۔ جو چیزیں آپ پر فرض کی گئیں وہ نو ہیں : (1) رات کے تہجد۔ یہ کہا جاتا ہے کہ رات کا قیام آپ پر فرض تھا یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یا یھا المزمل قم الیل (المزمل : 1) منصوص یہ ہے کہ آپ پر یہ واجب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ منسوخ ہوگیا : ومن الیل فتھجد بہ نافلۃ لک ( الاسراء : 79) اس کی وضاحت آئے گی۔ (2) چاشت کے نفل (3) قربانی (4) وتر۔ ہی تہجد کی قسم میں داخل ہے (5) مسواک (6) جو تنگ دست مر جائے اس کا قرض دینا (7) شریعت کے علاوہ دیگر معاملات میں ذوی الارحام سے مشاورت کرنا (8) عورتوں کو اختیار دینا (9) جب عمل کریں تو اس پر دوام اختیار کریں اور اس کو ثابت رکھیں۔ دوسرے علماء نے کہا : آپ پر یہ بھی فرض تھا جب کوئی منکر دیکھیں تو اس کا انکار کریں اور انکار کو ظاہر کریں کیونکہ کسی کے عمل کو دیکھ کر اس سے منع نہ کرنا اس عمل کے جواز پر دال ہے۔ یہ بات صاحب البیان ذکر کی ہے۔ جو چیزیں آپ پر حرام ہیں ان کی تعداد دس ہے : (1) آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی آل کو زکوۃ لینا حرام ہے (2) آپ کے لیے نفل صدقہ لینا حرام اور آپ کی آل کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس میں تفصیل ہے (3) آنکھ کی خیانت۔ اس سے مراد ایسی چیز ظاہر کرنا جو پوشیدہ امر کے خلاف ہو یا جو چیز ثابت ہو اس سے دھوکہ کھانا جب کہ آپ نے اجازت لینے پر کفار کی مذمت کی پھر اس کے داخل ہونے پر ان کے لیے قول کو نرم کیا (2) ۔ (4) اللہ تعالیٰ نے ان پر اس امر کو حرام کردیا جب آپ زرہ پہن لیں کہ اسے اتاریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے ساتھ جنگ کرنے والے کے درمیان فیصلہ فرمادے (5) ٹیک لگا کر کھانا (6) ناپسندیدہ بدبو دار کھانے کھانا۔ (7) بیویوں میں تبدیلی کرنا یعنی پہلی کو طلاق دے کر دوسری عورت سے شادی کرنا۔ اس کی بحث آئے گی۔ (8) ایسی عورت سے نکاح کرنا جس کی صحبت کو ناپسند کرتے ہوں۔ (9) آزادکتابیہ عورت سے شادی کرنا (10) کسی لونڈی سے نکاح کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے بعض چیزیں آپ پر حرام کیں جنہیں اور لوگوں پر حرام نہیں کیا مقصود آپ کی طہارت اور پاکیزگی بیان کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر لکھنا، شعر کہنا اور اس کی تعلیم دینا حرام کردیا مقصود آپ کی حجت کی تاکید اور معجزہ کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت وما کنت تتلو من قبلہ من کتاب ولا تخطہ بیمینک ( العنکبوت : 48) نقاش نے اسے ذکر کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا وصال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ نے لکھا : پہلا قول زیادہ مشہور ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر اس امر کو حرام کردیا کہ آپ ﷺ اپنی نظریں ایسی چیز کی طرف اٹھائیں جن سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو متمتع کیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت لاتمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم ( الحجر : 88) وہ چیزیں جو آپ ﷺ کے لیے حلال کی گئیں ان کی تعداد سولہ ہیں : (1) مال غنیمت میں سے چنی ہوئی چیز (2) خمس کا خمس یا خمس (پانچواں حصہ) لینا (3) صوم وصال (4) چار عورتوں پر زیادہ عورتوں سے شادی کرنا (5) ہبہ کے لفظ سے نکاح کرنا (6) ولی کے بغیر نکاح کرنا (8) احرام کی حالت میں نکاح کرنا (9) بیویوں کے درمیان باری کا ساقط ہونا، اس کی بحث بعد میں آئے گی (10) جب آپ کی نظر کسی عورت پر پڑجائے اس عورت کے خاوند پر طلاق دینا واجب ہوجاتا ہے اور آپ کے لیے نکاح کرنا حلال ہوجاتا ہے۔ ابن عر بی نے کہا : امام الحرمین نے یہی کہا ہے اس کے متعلق حضرت زید کے قصہ میں علماء کی بحث گزر چکی ہے (1) (11) آپ ﷺ نے حضرت صفیہ کو آزاد کیا اور اس کی آزادی ہی اس کا مہر بنا دیا (12) احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونا۔ ہمارے بارے میں اس حکم میں اختلاف ہے (13) مکہ مکرمہ میں جنگ کرنا (14) آپ ﷺ کا کوئی وارث نہیں ہوگا اسے تحلیل کی قسم میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ جب کوئی آدمی مرض کی وجہ سے موت کے قریب ہوتا ہے تو اس کی اکثر ملکیت زائل ہوجاتی ہے۔ اور اس کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے لیے ملکیت باقی رہی جس طرح آپ کی مواریث میں اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ اور سورة مریم میں بھی اس کی وضاحت ہوچکی ہے (15) آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی زوجیت کا رشتہ باقی رہنا (16) جب آپ کسی عورت کا طلاق دے دیں تو آپ کی حرمت اس پر باقی رہے گی وہ نکاح نہیں کرسکے گی۔ یہ تینوں اقسام اپنی اپنی جگہ پر مفصل گزر چکی ہیں۔ حضور ﷺ سے یہ مباح ہے کہ آپ کھانا اور مشروب بھوکے اور پیاسے سے بھی لے لیں، اگرچہ وہ بھوکا پیاسا ایسا ہو جس کو اپنے ہلاک ہونے کا خوف ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : النبی اولی بالمومنین من انفسھم مسلمانوں میں سے ہر ایک پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی جان پر کھیل کے نبی کریم ﷺ کی حفاظت کرے۔ آپ کے لیے یہ مباح ہے کہ آپ اپنی جان کی حفاظت کریں۔ اللہ تعالیٰ نے غنیمتوں کو حلال کرنے کے ساتھ آپ کو عزت دی۔ زمین کو آپ کے لیے مسجد اور طہور بنادیا گیا جب کہ انبیاء میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن کی عبادت ان کی عبادت گاہ میں ہی صحیح ہوتی تھی۔ آپ کی رعب سے مدد کی گئی۔ آپ کا دشمن ایک ماہ کی مسافت سے آپ سے ڈرا کرتا تھا۔ آپ ﷺ کو تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا جب کہ آپ ﷺ سے قبل انبیاء بعض کی طرف مبعوث ہوئے اور بعض کی طرف مبعوث نہ ہوئے۔ آپ ﷺ کے معجزات سابقہ انبیاء کے معجزات کے برابر یا اس سے بھی زائد بنائے گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ عصا اور پتھر سے چشموں کا پھوٹنا تھا جب کہ نبی کریم ﷺ کے لیے چاند شق ہوا اور آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی نکلا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ مردوں کو زندہ کرنا، مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو درست کرنا تھا جب کہ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں کنکریوں نے تسبیح پڑھی اور تنا آپ کے لیے مشتاق ہوا۔ یہ بلیغ ترین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انبیاء پر پوری فضیلت عطا کی کہ قرآن آپ کے لئے معجزہ ہوگیا اور آپ کا معجزہ قیامت تک باقی رہنے والا بنادیا، اسی وجہ سے آپ کی نبوت ابدی بنا دی گئی جو قیامت تک منسوخ نہ ہوگی۔ مسئلہ نمبر 17۔ آیت ان یستنکحھا کہ آپ سے نکاح کریں۔ یہ کہا جاتا ہے : نکح، استنکح دونوں کا معنی ایک ہے جس طرح عجب اور استعجب، عجل اور استعجل کا معنی ایک ہی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ استنکاح سے مراد نکاح کو طلب کرنا ہو یا وطی کو طلب کرنا ہو۔ خالصۃ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے، یہ زجاج کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس ضمیر متصل سے حال ہے جو فعل مضمر کے ساتھ متصل ہے جس پر ظاہر فعل دلالت کرتا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : احللنا لک ازواجک واحللنا لک امراۃ مومنۃ اخللناھا خالصۃ بلفظ الھبۃ وبغیرصداق وبغیر ولی۔ مسئلہ نمبر 18۔ آیت من دون المومنین اس کا فائدہ یہ ہے کہ کفار اگرچہ ہمارے نزیک شریعت کے فروعی مسائل کے مخاطب ہیں مگر ان میں کوئی عمل دخل نہیں، کیونکہ احکام کا نفاذ ان میں اس وقت ہوگا جب وہ اسلام لائیں گے۔ آیت وقد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم یعنی جو ہم نے مومنوں پر واجب کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ شادی نہ کریں مگر صرف چار عورتوں سے وہ بھی مہر، گواہ اور ولی کی موجودگی میں۔ اس کا یہ معنی حضرت ابی بن کعب، قتادہ اور دوسرے علماء نے کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 19۔ آیت لکیلا یکون علیک حرج آپ کسی ایسے امر میں تنگی میں نہ پڑیں جس میں آپ ﷺ کشادگی کے محتاج ہوں، یعنی ہم نے اس کو بیان کردیا اور اس کی وضاحت کردی ہے تاکہ آپ پر کوئی حرج نہ ہو۔ لکیلا یہ انا احللنا لک ازوجک کے متعلق ہے، یعنی آپ کا دل تنگ نہ پڑے یہاں تک کہ آپ سے ایسا امر ظاہر ہو کہ آپ نے اپنے رب کے ہاں کسی معاملہ میں گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام مومنوں کے ساتھ غفران اور رحمت کے اظہار کے ساتھ اس کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وکان اللہ غفورا رحیما۔