33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

(اور تم کو بھی یہ اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو اسے لے کر سب خوش رہیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے

اس میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت ترجی من تشاء ترجی کو مہموز اور غیر مہموز دونوں طرح پڑھا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے ارجیت الامر، ارجاتہ۔ جب تو اسے موخر کردے۔ وتوی آپ ملائیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : آوی الیہ الف پر مد ہے اس کا معنی اپنے ساتھ ملانا ہے۔ آوی الف مقصورہ کے ساتھ۔ اس کے ساتھ ملنا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ اس آیت کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے۔ اس بارے میں جو اقوال ذکر کیے گئے ہیں ان میں سے صحیح ترین قول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ پر باری ترک کرنے کی سہولت ہے۔ آپ ﷺ پر بیویوں میں باری واجب نہیں۔ یہ قول اس کے مناسب ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ یہی وہ معنی ہے جو صحیح میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ثابت ہے۔ کہا : میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ہبہ کرتی تھیں (1) ۔ میں کہتی : کیا ایک عورت اپنے نفس کو مرد کے لیے ہبہ کرتی ہے ؟ جب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : آیت ترجی من تشاء وتوی الیک من تشا ئومن ابتغیت ممن عزلت تو حضرت عائشہ نے کہا : میں کہتی ہوں : اللہ کی قسم ! میں آپ کے رب کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ ﷺ کی خواہش کو پورا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔ ابن عتبی نے کہا : یہ ہی صحیح میں ثابت ہے اسی پر اعتماد کرنا چاہیے معنی مراد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اپنی بیویوں میں اختیار دیا گیا چاہیں تو باری مقرر کریں اور چاہیں تو باری کو ترک کردیں (2) ۔ نبی کریم ﷺ کو اس امر میں خاص کیا گیا کہ اس معاملہ میں امر آپ کے سپرد کردیا گیا، مگر آپ ﷺ اپنی جانب سے باری مقرر کرتے یہ آپ ﷺ پر فرض نہ تھا، یہ ازواج مطہرات کے دلوں کو پاکیزہ بنانے کے لیے اور انہیں غیرت کے لیے ان اقوال سے بچانے کے لیے ہوتا تھا جو انہیں ایسے امر تک پہنچا دیتے جو مناسب نہیں ہوتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ باری مقرر کرنا نبی کریم ﷺ پر بھی واجب تھا پھر اس آیت کے ساتھ آپ سے وجوب ساقط ہوگیا۔ ابو رزین نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعض بیویوں کا طلاق دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے عرض کی : ہمارے لیے جو چاہیں باری مقرر کردیں۔ جن کو حضور ﷺ نے ملایا وہ حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت حفصہ، حضرت ام سلمہ اور حضرت زینب ؓ تھیں۔ ان کی آپ کی جانب سے باری اور مال سب میں برابری تھی۔ جن کو آپ نے موخر کیا وہ حضرت سودہ، حضرت جویریہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت میمونہ اور حضرت صفیہ ؓ تھیں۔ آپ ان کے لیے جو چاہتے باری مقرر کردیتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہبہ کرنے والیاں ہیں۔ ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ترجی من تشاء منھن کے بارے میں یہ قول نقل کرتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : یہ ان عورتوں کے بارے میں ہے جنہوں نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا۔ امام شعبی نے کہا : اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو ہبہ کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے بعض سے نکاح کرلیا اور بعض کو ترک کردیا۔ زہری نے کہا : ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج میں سے کسی کو بھی موخر کیا ہو بلکہ سب کو اپنے ساتھ ملایا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کہا : ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں طلاق دیں اور جس کو چاہیں روکے رکھیں۔ اس کے علاوہ بھی قول کیا گیا ہے۔ ہر ایک کی توجیہ موجود ہے۔ یہ آیت ایسی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے سہولت اور اباحت کی گنجائش رکھی گئی ہے ہم نے جو معنی اور مفہوم اپنایا ہے وہ زیادہ صحیح ہے ؛ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ ھبۃ اللہ، الناسخ والمنسوخ میں اس طرف گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : ترجی من تشاء اللہ تعالیٰ کے فرمان : لا یحل لک النساء من بعد کے لیے ناسخ ہے، کہا : کتاب اللہ میں کوئی ناسخ اس کے سوا منسوخ سے پہلے نہیں (1) ۔ اس کی کلام کئی اعتبار سے کمزور ہے۔ سورة بقرہ میں متوفی عنہا کی عدت چار ماہ دس دن ہے یہ سال کو منسوخ کرنے والی ہے یہ بھی منسوخ سے پہلے ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ آیت ومن ابتغیت ممن عزلت، ابتغیت تو نے طلب کیا۔ الا بتغاء کا معنی طلب کرنا ہے عزلت تو نے اس کو زائل کردیا۔ العزلہ کا معنی ازالہ کرنا، الگ کرنا ہے، یعنی اگر آپ نے ارادہ کیا کہ آپ اپنے ساتھ اس عورت کو ملائیں جو ان عورتوں میں سے ہے جن کو آپ نے باری سے الگ کردیا ہے اور آپ ﷺ اسے ساتھ جمع کرنا چاہتے ہیں تو اس بارے میں آپ پر کوئی حرج نہیں اسی طرح ارجاء کا حکم ہے۔ دونوں طرفوں میں سے ایک دوسرے پر دلالت کرتی ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ آیت فلا جناح علیک کوئی جھکائو نہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : جنحت السفینۃ۔ یعنی کشتی زمین کی طرف جھک گئی، یعنی آپ پر ملامت اور توبیخ کا کوئی جھکائو نہیں۔ مسئلہ نمبر 6۔ آیت ذالک ادنی ان تقر اعینھن قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : یہ اختیار جو ہم نے آپ کو ان کی صحبت کے بارے میں دیا ہے یہ ان کو راضی کرنے کا زیادہ باعث ہے کیونکہ یہ ہماری جانب سے ہے کیونکہ جب وہ جانیں گی کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ احسان ہے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور وہ راضی ہوں گی کیونکہ انسان جب یہ جانے کہ اس کا کسی شے میں کوئی حق نہیں تو اسے جو بھی دیا جائے اس پر راضی ہوجاتا ہے اگرچہ وہ چیز تھوڑی ہی ہو۔ اگر اسے علم ہو کہ یہ اس کا حق ہے تو اسے جو کچھ عطا کیا جائے اس پر قانع نہیں ہوتا۔ اس کی غیرت شدید ہوجاتی ہے اور اس بارے میں اس کا حرص زیادہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو جو آپ کی بیویوں کا معاملہ سپرد کیا یہ ان کی زیادہ رضا کا باعث تھا اور زیادہ آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث تھا جو بھی آپ ان کے لیے کرم نوازی کریں چہ جائیکہ ان کا دل ان سے زیادہ کے ساتھ چمٹا رہے۔ اسے تقر اعینھن تاء کے ضمہ اور اعین کے نصب کے ساتھ بھی قراءت کی گئی ہے۔ اسے مجہول کے صیغہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ اس کے باوجود حضور ﷺ ان میں برابری کرنے کے لیے اپنے آپ پر سختی کیا کرتے تھے۔ مقصود ان کے دلوں کو پاکیزہ بنانا تھا، جس طرح ہم نے اسے پہلے ذکر کیا ہے۔ آپ فرماتے : ” اے اللہ ! یہ میری قدرت ہے جس کا میں مالک ہوں۔ اور مجھے اس بارے میں ملامت نہ کر جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں “ (1) ۔ مراد دل ہے کیونکہ حضور ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو ترجیح دیتے مگر اپنے افعال میں سے کسی فعل میں اس کو ظاہر نہیں کرتے تھے۔ حضور ﷺ اپنی اس بیماری میں بھی ازواج مطہرات کے گھروں میں تشریف لے جاتے، یہاں تک کہ آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ کے ہاں قیام کی اجازت مانگی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ کو ابتدا میں حضرت میمونہ کے ہاں تکلیف ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنی ازواج سے اجازت مانگی کہ آپ بیماری کے دن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر میں گزاریں تو انہوں نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی۔ صحیح نے اسے نقل کیا ہے (2) ۔ صحیح میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے : رسول اللہ ﷺ تلاش میں رہتے فرماتے : ” آج میں کہاں ہوں گا ؟ کل میں کہاں ہوں گا ؟ “ (3) ۔ گویا حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے دن آنے کو بعید سمجھتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : جب میرا دن تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی روح کو میرے پہلو اور میرے سینے کے درمیان قبض کرلیا۔ مسئلہ نمبر 7۔ مرد پر لازم ہے کہ اپنی عورتوں میں ایک دن اور ایک رات کے اعتبار سے مساوات کرے ؛ یہ عام علماء کا قول ہے۔ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ رات کے اعتبار سے واجب ہے دن کے اعتبار سے واجب نہیں عورت کا مرض اور اس کا حیض اس کے حق کو ساقط نہیں کرے گا۔ اس کے دن اور اس کی رات میں اس کے پاس ٹھہر نا لازم ہے مرد پر یہ بھی لازم ہے کہ جس طرح وہ اپنی صحت میں برابری کیا کرتا تھا وہ اپنی حالت مرض میں بھی برابری کرے ہاں جب وہ حرکت سے عاجز آجائے تو وہاں ہی مقیم ہوجائے جہاں اس پر مرض غالب آئی تھی۔ جب صحت مند ہو تو نئے سرے سے باری کا سلسلہ شروع کرے۔ لونڈی بیوی، آزاد بیوی، کتابی بیوی اور مسلمان بیوی اس حق میں برابر ہیں۔ عبد الملک نے کہا : آزاد بیوی کے لیے دو راتیں اور لونڈی بیوی کے لیے ایک رات ہوگی، جہاں تک لونڈیوں کا تعلق ہے ان میں اور آزاد بیویوں میں کوئی باری نہیں اور اپنی لونڈیوں کا اس میں کوئی حق نہیں۔ مسئلہ نمبر 8۔ ان سب کو ایک مکان میں جمع نہ کرے مگر ان کی رضامندی کے ساتھ اور ضرورت کے بغیر ایک کی باری میں اس کے دن اور رات میں کسی اور کے ہاں داخل نہ ہو۔ حاجت اور ضرورت کی بنا پر بھی اس کے ہاں جانے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ اکثر جواز کے قائل ہیں۔ امام مالک اور دوسرے علماء کا بھی یہی نقطہ نظر ہے۔ ابن حبیب کی کتاب میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ ابن بکیر، مالک سے وہ یحییٰ بن سعید سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل کی دو بیویاں تھیں جب ان میں سے ایک کی باری ہوتی تو دوسری بیوی کے گھر سے آپ پانی بھی نا پیتے تھے۔ ابن بکیر نے کہا : امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت معاذبن جبل کی دو بیویاں تھیں جو طاعون کی مرض میں مبتلا ہو کر مر گئی تھیں تو آپ نے دونوں میں قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے پہلے دفن کیا جائے گا۔ مسئلہ نمبر 9۔ امام مالک رحمت اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : دونوں میں نفقہ اور کسوہ کے اعتبار سے مساوات کرے جب کہ وہ سب ایک حال کی ہوں جب ان کی حیثیتیں مختلف ہوں تو یہ چیز لازم نہ ہوگی۔ امام مالک نے اس امر کی اجازت دی ہے کہ لباس میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دے مگر میلان کے طریقہ پر نہ ہو۔ جہاں تک محبت اور بغض کا تعلق ہے تو یہ انسان کے اختیار سے خارج ہیں ان میں عدل واقع نہ ہو سکے گا۔ حضور ﷺ کا باری معین کرنے کے بارے میں ارشاد کا یہی معنی ہے : ” اے اللہ ! جس کا میں مالک ہوں اس میں یہ میرا عمل ہے اور جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں اس میں مجھے ملامت نہ کر “ (1) ۔ امام نسائی اور ابو دائود نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے۔ ابو دائود کی کتاب میں ہے یعنی دل۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں اشارہ کیا ہے : آیت ولن تستطیعو ان تعدلو بین النساء ولو حرصتم ( النساء : 129) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت واللہ یعلم ما فی قلوبکم یہاں اس کے خصوصی ذکر کرنے کی یہی وجہ ہے۔ اس کی جانب سے ہمیں تنبیہ ہے کہ وہ ذات جانتی ہے کہ ہمارے دلوں میں ہماری عورتوں میں سے بعض کے لیے بعض کی بنسبت جو میلان ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ آیت لا یخفی علیہ شیء فی الارض ولا فی السماء ( آل عمران : 5) آیت یعلم السر واخفی (طہ) لیکن اس بارے میں اس نے درگزر سے کام لیا، کیونکہ بندہ طاقت نہیں رکھتا کہ بندہ اس میلان سے اپنے دل کو پھیر سکے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان متوجہ کرتا ہے : آیت وکان اللہ غفورارحیما۔ اس ارشاد میں یہ بھی ہے آیت ذالک ادنی ان تقر اعینھن یہی دسواں مسئلہ ہے۔ مسئلہ نمبر 10۔ یہ اس سے زیادہ مناسب ہے کہ وہ غمگین نہ ہوں جب وہ ان میں سے کسی کو دوسرے کے ساتھ جمع نہ کرے اور وہ ترجیح اور میلان کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھے۔ ابو دائود نے ابوہریرہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے کسی کی طرف مائل ہوجائے تو وہ قیامت کے روز آئے گا جب کہ اس کی ایک جانب جھکی ہوگی “ (2) ۔ آیت ویر ضین بما اتیتھن کلھن، کلھن یہ ضمیر کی تاکید ہے یعنی یرضین کلھن۔ ابو حاتم اور زجاج نے اسے اس مضمر کی تاکید بنانا بھی جائز قرار دیا ہے جو اتیتھن میں ہے۔ فراء اس کو جائز قرار نہیں دیتا کیونکہ معنی اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ معنی ہے ان میں سے ہر ایک راضی ہو۔ اس کا معنی یہ نہیں جو تم نے سب کو عطا کیا ہے۔ نحاس نے کہا : جو کچھ انہوں نے کہا وہ حسن ہے۔ مسئلہ نمبر 11۔ آیت واللہ یعلم ما فی قلوبکم یہ عام خبر ہے اور اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دل میں ایک شخص کی محبت ہے دوسرے کی نہیں، اسی طرح اس معنی میں مومن بھی داخل ہیں۔ بخاری شریف میں حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں جیش ذات سلاسل کا امیر بنا کر بھیجا میں نے عرض کی : لوگوں میں سے کون آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ فرمایا : ” حضرت عائشہ صدیقہ “ (3) ۔ میں نے عرض کی : مردوں میں ؟ فرمایا :“ ان کا باپ “۔ میں نے عرض کی : پھر کون ؟ فرمایا : ” عمر بن خطاب “ تو آپ نے چند مردوں کا ذکر کیا۔ سورة بقرہ اور اس سورت کے آغاز میں دل کے متعلق اس پر بحث گزر چکی ہے جو اس مسئلہ میں کفایت کر جاتی ہے۔ یہ روایت کی جاتی ہے کہ لقمان حکیم ایک بڑھئی تھے (1) ان کے آقا نے انہیں کہا : ایک بکری ذبح کرو اور اس میں سے جو سب سے پاکیزہ ٹکڑے ہیں وہ لے آئو تو وہ ان کے پاس زبان اور دل لے آئے۔ پھر آقا نے ایک اور بکری ذبح کرنے کا حکم دیا تو کہا : اس میں سے اس کے دو خبیث ترین جز پھینک دو تو اس نے زبان اور دل کو پھینک دیا۔ آقا نے کہا : میں نے تجھے حکم دیا کہ تو میرے پاس اس میں سے دو پاکیزہ ٹکڑے لے آ تو تو زبان اور دل لے آیا اور میں نے تجھے حکم دیا کہ تو ان میں سے دو ناپسندیدہ چیزیں پھینک دے۔ تو نے دل اور زبان کو پھینکا، لقمان حکیم نے کہا : جب پاکیزہ ہوں تو ان دونوں سے زیادہ کوئی پاکیزہ نہیں اور جب یہ دونوں خبث ہوں تو ان دونوں سے بڑھ کر کوئی اور خبیث نہیں۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے

اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ علماء کا اس ارشاد آیت لایحل لک النساء من بعد کی تاویل میں سات اقوال ہیں : (1) یہ آیت سنت سے منسوخ ہے اس کی ناسخ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث ہے : رسول اللہ ﷺ کا وصال نہیں ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے عورتوں کا حلال کردیا (2) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ یہ ایک اور آیت کے ساتھ منسوخ ہے۔ امام طحاوی نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال نہیں ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا کہ آپ عورتوں میں سے جس سے چاہیں شادی کرلیں مگر محرم کے ساتھ شادی نہیں کرسکتے (3) وہ آیت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے آیت ترجی من تشاء منھن وتوی الیک من تشاء نحاس نے کہا : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اس آیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ اولی ہے۔ نسخ کے بارے میں یہ اور حضرت عائشہ کا قول ایک ہی چیز ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے یہ ارادہ کیا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعے نکاح کرنا حلال قرار دیا ہو، ساتھ ہی ساتھ یہ حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابن عباس، حضرت علی بن حسین ؓ اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے۔ کوفہ کے بعض فقہاء نے اس سے معارضہ کیا ہے اور کہا : یہ محال ہے کہ یہ آیت ترجی من تشاء منھن۔ لایحل لک النساء من بعد کو منسوخ کرے کیونکہ ترجی من تشاء مصحف میں پہلے ہے تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے اور اس کے قول کو ترجیح دی جس نے یہ کہا کہ یہ آیت سنت سے منسوخ ہے۔ نحاس نے کہا : یہ معارضہ لازم نہیں آتا اور اس کا قائل غلط ہے، کیونکہ قرآن ایک سورت کے قائم مقام ہے، جس طرح حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : پورے کا پورا قرآن آسمان دنیا کی طرف رمضان شریف کے مہینے میں نازل ہوا۔ تیرے لیے یہ واضح ہے کہ اس معترض کا اعتراض لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : آیت والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ الازواجھم متا عا الی الحول غیر اخراج ( البقرہ : 240) ایل تاویل کے مطابق منسوخ ہے۔ ہم علماء میں باہم اختلاف سے آگاہ نہیں اس کی ناسخ وہ آیت ہے جو اس سے قبل ہے : آیت والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجایتربصن بانفسھن اربعہ اشھر وعشرا ( البقرہ : 234) مسئلہ نمبر 3۔ حضور ﷺ پر ممنوع کردیا گیا کہ آپ ان بیویوں کی موجودگی میں کسی اور عورت سے شادی کریں، کیونکہ انہوں نے اللہ تعالی، اس کے رسول اور دار آخرت کو اپنایا ہے ؛ یہ حضرت حسن بصری، حضرت ابن سیرین، ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ممکن ہے یہ قول اسی طرح ہو پھر منسوخ کردیا گیا ہو۔ مسئلہ نمبر 4۔ جب ازواج مطہرات پر حرام کردیا گیا کہ وہ حضور ﷺ کے بعد کسی سے شادی کریں تو حضور ﷺ پر بھی حرام کردیا گیا کہ آپ ﷺ ان کے علاوہ کسی سے شادی کریں ؛ یہ ابو امامہ بن سہل بن حنیف کا نقطہ نظر ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ آیت لا یحل لک النساء من بعد وہ اصناف جن کا ذکر کردیا گیا ہے ان کے بعد ؛ یہ حضرت ابی بن کعب، عکرمہ اور ابو رزین کا نقطہ نظر ہے (1) ؛ یہی محمد بن جریری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ جس نے کہا کہ آپ ﷺ کے لیے اباحت مطلق تھی اس نے کہا : آیت لایحل لک النساء سے مراد ہے آپ کے لیے یہودی اور نصرانی عورتوں سے شادی کرنا حلال نہیں (2) ۔ یہ ایسی تاویل ہے جس میں بعد ہے۔ مجاہد، سعیدبن جبیر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ یہ چھٹا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : تاکہ کافرہ مومنوں کی ماں نہ ہو۔ یہ قول بعید ہے کیونکہ اس صورت میں اس کلام کو مقدر ماننا پڑتا ہے۔ من بعد المسلمات یہاں تو مسلمات کا ذکر نہیں، اسی طرح اس نے مقدر کیا : آیت ولا ان تبدل بھن یعنی نہ یہ کہ آپ مسلمان عورت کو طلاق دیں اور اس کے بدلے میں کتابی عورت سے شادی کریں۔ مسئلہ نمبر 6۔ حضور ﷺ کے لیے یہ حلال تھا کہ جس سے چاہیں اس سے شادی کریں۔ پھر اسے منسوخ کردیا گیا۔ کہا : اسی طرح آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) تھے : یہ محمد بن کعب قرظی کا نقطہ نظر ہے۔ مسئلہ نمبر 7۔ آیت ولا ان تبدل بھن من ازواج ابن زید نے کہا : یہ عمل ایسا تھا جو عرب کہا کرتے تھے عربوں میں سے کوئی کہتا : میری بیوی لے لو اور اپنی بیوی مجھے دے دو ۔ دار قطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے (3) : دور جاہلیت میں بدل یوں ہوتا کہ ایک آدمی دوسرے کو کہتا : انزل لی عن امراتک وانزل لک عن امراتی اور میں کچھ زائد بھی تجھے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اسی آیت کو نازل فرمایا : آیت ولا ان تبدل بھن من ازواج ولو اعجبک حسنھن کہا : عیینہ بن حصن فزاری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ ﷺ کے پاس حضرت عائشہ صدیقہ ؓ موجود تھیں وہ بغیر اجازت کے اندر داخل ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے عیینہ ! اجازت کہاں گئی ؟ “ ( تو نے اجازت نہیں لی) اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب سے میں بالغ ہوا ہوں میں نے بنو مضر کے کسی فرد سے اجازت نہیں مانگی۔ اس نے عرض کی : یہ آپ کے پہلو میں حمیراء کون ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” یہ عائشہ ام المومنین ہے “۔ اس نے کہا : افلا انزل لک عن احسن الخلق کیا میں آپ کو مخلوق میں سے خوبصورت ترین پیش نہ کروں ؟ فرمایا : اے عیینہ ! اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کردیا ہے “ جب وہ باہر چلا گیا تو حضرت عائشہ صدیقہ نے عرض کی : یارسول اللہ ! یہ کون ہے ؟ فرمایا : ” احمق جس کی اطاعت کی جاتی ہے جس طرح تو دیکھ رہی ہے کہ یہ اپنی قوم کا سردار ہے “۔ طبری، نحاس اور دوسرے علماء نے اس کا انکار کیا ہے جس کی ابن زید نے عربوں سے حکایت بیان کی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو باہم بدلا کرتے تھے۔ طبری نے کہا : عربوں نے کبھی بھی ایسا عمل نہیں کیا (1) ۔ عیینہ بن حصن کے بارے میں جو روایت نقل کی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ ﷺ کے پاس حضرت عائشہ صدیقہ ؓ موجود تھیں یہ تبدیلی نہیں تھی اور نہ ہی اس نے اس کا ارادہ کیا تھا اس نے حضرت عائشہ صدیقہ کو حقیر جانا کیونکہ آپ بچی تھیں تو اس نے یہ بات کی۔ میں کہتا ہوں : میں نے جو زید بن اسلم کی حدیث ذکر کی ہے کہ وہ عطار بن یسار سے وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ دور جاہلیت میں بدل اس کے خلاف پر دلالت کرتا ہے جس کا انکار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مبرد نے کہا : لایحل کو یاء اور تاء کے ساتھ پڑ ھا گیا ہے، جس نے تاء کے ساتھ قراءت کی تو وہ عورتوں کی جماعت کے معنی میں ہے، جس نے یاء کے ساتھ قراءت کی تو تمام عورتوں کے معنی میں ہے۔ فراء نے گمان کیا کہا : قراء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ قراءت یاء کے ساتھ ہے، یہ غلط ہے۔ یہ کیسے کہا جاسکتا ہے : قراء کا اتفاق ہے جب ابو عمرو نے تاء کے ساتھ قراءت کی ہے ان سے اس بارے میں کوئی اختلاف مروی نہیں۔ (3) آیت ولو اعجبک حسنھن حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ کے سبب سے آیت نازل ہوئی (2) ۔ جب حضرت جعفر بن ابی طالب کی شہادت پر ان کے حسن نے رسول اللہ ﷺ کو متعجب کیا، تو حضور ﷺ نے اس سے شادی کا ارادہ کیا۔ یہ حدیث ضعیف ہے ؛ یہ قول ابن عربی نے کیا ہے۔ (4) اس آیت میں دلیل ہے کہ مرد جس عورت سے شادی کا ارادہ کرے وہ اسے دیکھ سکتا ہے حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا : ” اسے دیکھ لے کیونکہ انصار کی آنکھ میں کچھ نقص ہوتا ہے “ (4) ۔ صحیح نے اسے نقل کیا ہے۔ حمیدی اور ابو فرج جوزی نے کہا : یعنی پیلی یا نیلی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی آنکھ میں میل (کیچڑ) ہوتی ہے۔ (5) جس عورت کو دعوت نکاح دی جائے اس کو دیکھنے کا حکم مصلحت کے لیے ارشاد کے طریقہ پر ہے جب مرد اسے دیکھے گا تا ممکن ہے اس میں ایسی چیز دیکھے جو اسے نکاح میں رغبت دلائے۔ جو امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ امر ارشاد کے طریقہ پر ہے وہ وہ روایت ہے جسے ابو دائود نے ذکر کیا ہے۔ حضرت جابر ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : ” تم میں جب کوئی کسی عورت کو دعوت نکاح دے اگر اس کے لیے ممکن ہو کہ عورت کی ایسی خصلت دیکھے جو اسے اس کے ساتھ نکاح پر راغب کرے تو وہ ایسا کرے “ (1) ۔ حضور ْ ﷺ کا فرمان : فان استطاع فلیفعل اس قسم کا قول واجب کے بارے میں نہیں کیا جاتا۔ یہی بات جمہور فقہاء، امام مالک، امام شافعی، کوفہ کا فقہاء، دوسرے فقہاء اور اہل الظاہر نے کی ہے۔ ایک قوم نے اسے ناپسند کیا ہے۔ ان کے قول کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ احادیث صحیحہ میں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان : ولو اعجبک حسنھن سہل بن حثمہ نے کہا : میں نے محمد بن مسلمہ کو دیکھا جو ثبیتۃ بنت ضحاک کو مدینہ طیبہ کی بلند جگہوں سے ایک جگہ سے تاڑ رہے تھے (2) میں نے انہیں کہا : کیا آپ اس طرح کرتے ہیں، انہوں نے کہا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں کسی عورت کو دعوت نکاح کا خیال ڈالے تو اس کے لیے کوئی حرج نہیں کہ وہ اسے دیکھے “ (3) ۔ اجار کا معنی چھت یا بلند جگہ ہے، یہ اہل شام اور اہل حجاز کی لغت ہے۔ ابو عبید نے کہا : اجار کی جمع اجاجیر اور اجاجرہ ہے۔ (6) کس حصہ کو دیکھے اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام مالک نے کہا : اس کے چہرہ اور اس کی ہتھیلیوں کو دیکھے، اس کی اجازت کے بغیر اسے نہ دیکھے۔ امام شافعی اور امام احمد نے کہا : اس کی اجازت اور بغیر اجازت کے دیکھے جب وہ پردہ میں ہو۔ اوزاعی نے کہا : وہ اسے دیکھے، وہ کوشش کرے اور اس کے گوشت والی جگہوں کو دیکھے۔ دائود نے کہا : اس کے تمام جسم کو دیکھے۔ وہ لفظ کے ظاہر سے تمسک کرتے ہیں۔ شریعت کے اصول اس پر اس امر کو رد کرتے ہیں کیونکہ پردہ کی جگہوں پر آگاہی حاصل کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ (7) آیت الا ماملکت یمینک علماء نے اس معاملہ میں اختلاف کیا ہے کہ کیا کافرہ لونڈی نبی کریم ﷺ پر حلال ہے ؟ اس کے بارے میں دو قول ہیں : (1) وہ حلال ہے کیونکہ یہ ارشاد : آیت الا ماملکت یمینک عام ہے ؛ یہ مجاہد، سعید بن جبیر، عطا اور حکم کا قول ہے۔ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت لایحل لک النساء من بعد اس سے مراد ہے غیر مسلم عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں، جہاں تک یہودی، نصرانی اور مشرک عورتوں کا تعلق ہے وہ آپ پر حرام ہیں یعنی آپ کے لیے حلال نہیں کہ آپ کافرہ سے شادی کریں تو وہ مومنوں کی ماں بن جائے، اگرچہ اس کا حسن آپ کو خوش کرے مگر جو آپ کی مملوکہ ہو کیونکہ ایسی عورت کے ساتھ خواہش کرنا جائز ہے۔ (2) یہ حلال نہیں تاکہ آپ کی اس امر میں پاکیزگی بیان کی جائے کہ آپ کافرہ کے ساتھ مباشرت کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت ولا تمسکو بعصم الکوافر (الممتحنہ : 10) تو نبی کریم ﷺ کے لیے یہ کیسے جائز ہوگا : آیت الا ماملکت یمینک میں ما محل رفع میں ہے یہ النساء سے بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ استثناء کے طریقہ پر محل نصب میں ہو، اس میں ضعف ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مصدر یہ ہوتقدیر کلام یہ ہوگی الاملک یمینک ملک یہ ملوک کے معنی میں ہے۔ یہ محل نصب میں ہے کیونکہ یہ اس چیز سے استثناء ہے جو ماقبل کی جنس سے نہیں۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے تھے (اور کہتے نہیں تھے) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو یہ تمہارے اور انکے (دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے) اور تم کو یہ شایان نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ انکی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو بیشک یہ خدا کے نزدیک بڑا گناہ (کا کام) ہے

اس میں سولہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت لا تدخلو بیوت النبی الا ان یوذن لکم، ان محل نصب میں ہے۔ یہ اس معنی میں ہے آیت الا ان یوذن لکم یعنی جار کے حذف کے ساتھ منصوب ہے یہ استثناء اول یعنی بیوت النبی سے نہیں ( بلکہ لاتدخلو کی ضمیر سے ہے) آیت الی طعام غیر ناظرین اناہ غیر یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی تم اس حال میں دخل نہ ہو۔ غیر میں جر طعام کی صفت ہونے کے اعتبار سے درست نہیں کیونکہ اگر یہ نعت ہوتی تو فاعل کا ظاہر کرنا ضروری تھا تو ارشاد ہوتا : غیر ناظرین اناہ انتم اسی کی مثل علم نحو میں ہے ھذا رجل مع رجل ملازم لہ اگر تو چاہے تو کہے : ھذا رجل مع رجل ملازم لہ ھو۔ یہ آیت دو قصوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے : (1) کھانے اور بیٹھنے کا آداب (2) حجاب کا حکم۔ حماد بن زید نے کہا : یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ کو پریشان کیا تھا۔ پہلا قصہ جمہور مفسرین کے نزدیک یہ ہے، اس کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت زینب بنت جحش جو حضرت زید کی مطلقہ تھیں سے شادی کی تو اس پر دعوت ولیمہ کی۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو بلایا، جب وہ کھانا کھاچکے تو ان میں سے کچھ لوگ مختلف حلقے بنا کر بیٹھ گئے اور رسول اللہ ﷺ کے گھر میں باتیں کرنے لگے جب رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ اپنا منہ دیوار کی طرف کیے ہوئے تھی۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پریشان کردیا۔ حضرت انس نے کہا : میں نہیں جانتا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو بتایا کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ ﷺ نے مجھے خبر دی۔ کہا : آپ چلے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور حجاب کا حکم نازل ہوا (1) کہا : حضور ﷺ نے لوگوں کو نصیحت کی جن امور کے ساتھ نصیحت کی جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : آیت یا ایھا الذین امنوا لاتدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم ای طعام غیر ناظرین اناہ ولکن اذا دعیتم فادخلوا فا ذا طعمتم فانتشروا ولا مستانسین لحدیثان ذالکم کان یوذی النبی فیستحی منکم واللہ لا یستحیی من الحقواذا سالتموھن متاعا فسئلو ھن من وراء حجابذالکم اطھر لقلوبکم وقلوبھنوما کان لکم ان توء ذو رسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا ان ذالکم کان عنداللہ عظیما اسے صحیح نقل کیا ہے۔ قتادہ اور مقاتل نے کتاب الثعلبی میں کہا : یہ واقعہ حضرت ام سلمہ کے گھر میں واقع ہوا (2) جب کہ پہلا قول صحیح ہے جس طرح صحیح نے روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : یہ آیت مومنوں میں سے چند افراد کے بارے میں نازل ہوئی (3) ، وہ نبی کریم ﷺ کے کھانے کے وقت کا انتظار کرتے اور حضور ﷺ کے کھانا شروع کرنے سے قبل گھر میں داخل ہوجاتے وہ بیٹھ جاتے یہاں تک کہ آپ کھانا پاتے، پھر کھاتے اور گھر سے نہیں نکلتے تھے۔ اسماعیل بن حکیم نے کہا : یہ ادب ہے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو سکھایا جو پریشانی کا باعث بنا کرتے (4) ۔ ابن ابی عائشہ نے کتاب الثعلبی میں کہا : ثقلاء ( پریشانی کا باعث بننے والے) کے لیے یہی کافی ہے کہ شرع نے انہیں برداشت نہیں کیا (5) ۔ جہاں تک حجاب کے قصہ کا تعلق ہے تو حضرت انس بن مالک ؓ اور ایک جماعت نے کہا : اس کا سبب زینب کا ابھی گزرنے والا واقعہ ہے (6) ۔ حضرت عائشہ ؓ اور ایک جماعت نے کہا : اس کا سبب یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے کہا : میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ آپ کی ازواج مطہرات کے ہاں نیک اور برے لوگ آتے ہیں۔ کاش ! آپ انہیں حجاب کا حکم دیتے، تو یہ آیت نازل ہوئی (7) ۔ صحیح نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے اپنے رب سے تین امور میں موافقت کی ہے (8) ۔ مقام ابرہیم، حجاب اور بدر کے قیدیوں میں۔ حجاب کے بارے میں جو بھی اقوال ذکر کیے گئے ہیں ان میں سے یہ صحیح ترین ہے۔ ان دو اقوال کے علاوہ جتنے بھی اقوال ہیں سب کے سب کمزور ہیں، کوئی بھی اصل پر قائم نہیں۔ ان میں سے کمزور ترین وہ روایت ہے جو حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ کی بیویوں کو حجاب کا حکم دیا، تو حضرت زینب بنت جحش نے کہا : اے ابن خطاب ! تم ہمارے بارے میں غیرت کھاتے ہو جب کہ ہمارے گھروں میں وحی نازل ہوتی ہے (1) ، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : آیت واذا سالتموھن متاعا فسئلوھن من وراء حجاب یہ روایت باطل ہے کیونکہ حجاب کا حکم اس روز نازل ہوا جب نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب کو حرم میں داخل کیا۔ جس طرح ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی اور دوسرے علماء نے اس نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کہ رسول اللہ ﷺ کھانا کھا رہے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ چند صحابہ بھی کھانا کھا رہے تھے۔ ان صحابہ میں سے ایک کا ہاتھ حضرت عائشہ صدیقہ کے ہاتھ کو جا لگا۔ نبی کریم ﷺ نے اسے ناپسند کیا تو یہ آیت حجاب نازل ہوئی (2) ۔ ابن عطیہ نے کہا : قوم کا معمول یہ تھا جب ان کے لیے دعوت ولیمہ یا اس طرح کی کوئی دعوت ہوتی جو چاہتا جلدی پہنچ جاتا وہ کھانا پکنے کا انتظار نہ کرتا (3) ، اسی طرح جب کھانے سے فارغ ہوتے تو اسی طرح بیٹھے رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے گھر میں مومنوں کو اس قسم کا طرز عمل اپنانے سے منع کیا۔ اسی نہی میں سارے مومن داخل ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جو ادب سکھایا وہ تمام لوگوں کا لازم ہوگیا۔ انہیں گھر میں داخل ہونے سے منع کردیا مگر کھانے کے وقت جب اجازت دی جائے، نہ کہ اس سے قبل کہ تم کھانا پکنے کا انتظار کرو۔ مسئلہ نمبر 2۔ آیت بیوت النبی یہ اس امر پر دلیل ہے کہ بیت مرد کا ہوتا ہے۔ اور اس کا اسی کے حکم میں فیصلہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیت کی نسبت مرد کی طرف کی ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایات اللہ والحکمۃ ان اللہ کان لطیفا خبیرا ہم کہیں گے : بیوت کی نبی کریم ﷺ کی طرف نسبت ملکیت کے اعتبار سے ہے اور بیوت کی ازواج کی طرف نسبت محل کے اعتبار سے ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اجازت دینے کا اختیار نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہے، اجازت دینے کا حق مالک کو ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ نبی کریم ﷺ کے گھروں کے بارے میں اختلاف ہے جب آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کے اہل اس میں مقیم تھے کیا یہ گھر ان اہل کی ملکیت ہوں گے یا ملکیت نہیں ہوں گے ؟ اس کے بارے میں دو قول ہیں : (1) ایک طائفہ کا قول ہے : یہ گھر ان ازواج مطہرات کے ملکیت ہوں گے، اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ ازواج مطہرات نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد اپنی وفات تک ان میں سکونت پذیر رہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں یہ گھر اپنی حیات میں عطا کردیئے تھے۔ (2) یہ صرف رہائش رکھنے کے لیے تھے جس طرح کوئی آدمی اپنے گھر والوں کو اس میں رکھتا ہے، یہ ہبہ نہیں ہوتے، موت تک ان کی رہائش ان گھروں میں ہی رہی (4) ؛ یہ ہی صحیح قول ہے۔ یہی وہ قول ہے جسے ابو عمر بن عبد البر، ابن عربی اور دوسرے علماء نے پسند کیا ہے، کیونکہ ان کی ذمہ داریوں میں سے ایسی ذمہ داری تھی رسول اللہ ﷺ نے جن کی استثناء کردی تھی، جس طرح حضور ﷺ نے ان کے نفقات کو مستثنی کردیا تھا جب فرمایا : ” میرے ورثاء میرے ورثہ کو دینار اور درہم کی صورت میں تقسیم نہیں کریں گے جو کچھ میں نے چھوڑا ہے وہ میرے اہل کے نفقہ اور عامل کی مزدوری کے بعد صدقہ ہے “ (1) ۔ اہل علم نے اسی طرح کہا ہے۔ انہوں نے کہا : اس پر یہ امر بھی دلالت کرتا ہے کہ ان گھروں کے مالک ان ازواج مطہرات کے وارث مالک نہیں بنے تھے۔ انہوں نے کہا : اگر یہ گھر ان ازواج مطہرات کی ملکیت ہوتے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ازواج مطہرات کے ورثاء ان گھروں کے مالک بھی ہوتے۔ علماء نے کہا : جب ان کے وارثوں نے ان گھروں کا چھوڑ دیا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یہ ان کی ملکیت نہ تھی۔ یہ صرف ایسے گھر تھے جن میں وہ اپنی زندگی تک رہائش رکھ سکتی تھیں۔ جب ان کا وصال ہوگیا تو ان گھروں کو مسجد میں شامل کرلیا گیا جس مسجد کا نفع تمام مسلمانوں کو حاصل ہے، جس طرح رسول اللہ ﷺ کے ترکہ میں سے جسے ان کے نفقہ کے لیے مختص کیا گیا تھا جب ان ازواج کا وصال ہوگیا تو اسے واپس اصل مال میں شامل کرلیا گیا اور تمام مسلمانوں کے منافع کے لیے اسے صرف کیا گیا جس کا نفع تمام کو عام تھا۔ اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔ آیت غیر ناظرین اناہ وہ اس کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کر رہے ہوں۔ اناہ الف مقصورہ کے ساتھ ہے اس میں کئی لغتیں ہیں۔ انی ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ شیبانی نے کہا : وکسریاذاتقسمہبنوہیاسیافکما اقتماللحام تمخضت المنون لہبیوم انی ولکل حاملۃ تمام کسری، جب اس کے بیٹوں نے اس کی بادشاہت کو تلواروں سے تقسیم کیا جس طرح گوشت تقسیم کیا جاتا ہے لوگوں نے اسے اس دن کے قریب کردیا جو پہنچنے والا تھا اور ہر حاملہ کے لیے مکمل تھا۔ ابن ابی عبلہ آیت غیر ناظرین اناہ طعام کی صفت بناتے ہوئے غیر کو مجرور پڑھا ہے۔ زمحشری نے کہا : یہ توجیہ درست نہیں کیونکہ یہ صفت غیر حقیقی ہے۔ حقیقت میں یہ جس کی طرف منسوب ہے اس ضمیر کا لفظوں میں ظاہر ہونا ضروری ہے تو پھر کہا جاتا : غیر ناظرین اناہ انتم جس طرح تیرا قول ہے : ھند زید ضاربتہ ھی۔ انی ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ اور اناء ہمزہ کے فتحہ اور الف ممدودہ کے ساتھ بھی ہے۔ حطیہ نے کہا : واخرت العشاء الیسھیل اوالشعریفطالبیالاناء رات کے کھانے کو سہیل ستارہ یا شعری ستارہ کے طلوع ہونے تک موخر کیا گیا پس میرا فارغ ہونا طویل ہوگیا۔ مراد سہیل ستارہ کا طلوع ہونا ہے۔ انا یہ انی الشی یانی کا مصدر ہے جب وہ فارغ ہوجائے اس کا وقت ہوجائے اور پالے۔ مسئلہ نمبر 4۔ آیت ولکن اذا دعیتم فادخلوا فاذا طعمتم فانتشروا منع کرنے کو موکد کیا اور دخول کے وقت کو خاص کیا کہ یہ اجازت کے ساتھ ہونا چاہیے اور ادب کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور اس حاضری کو ناپسندیدہ طوالت سے بچایا جائے۔ ابن عربی نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے، لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے اور تمہیں داخل ہونے کی دعوت دی جائے تو داخل ہو جائو ورنہ صرف دعوت داخل ہونے کے لیے کافی اجازت نہیں۔ اذا کے جواب میں فاء ضروری ہے کیونکہ اس میں جزا کا معنی موجود ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ آیت فاذا طعمتم فانتشروا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کھانا کھانے کے بعد سب الگ الگ ہوجائیں اور منتشر ہوجائیں۔ مراد یہ ہے کہ جب کھانے کا مقصود پورا ہوجائے تو گھر سے نکل آنا ان پر لازم ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ داخل ہونا حرام ہے۔ داخل ہونا صرف اس وقت جائز تھا جب کھانا کھانا ہو۔ کب کھانا ختم ہوچکا تو اس کو مباح کرنے والا سبب زائل ہوگیا اور حرمت اپنے اصل کی طرف لوٹ آئی۔ مسئلہ نمبر 6۔ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ مہمان میزبان کی ملکیت کی بنا پر کھانا کھاتا ہے وہ کھانا اپنی ملکیت ہوتے ہوئے نہیں کھاتا کیونکہ فرمایا : آیت فاذا طعمتم فانتشروا اس مہمان کے لیے کھانے کے سوا کچھ نہیں اور کھانے کو ان کی طرف مضاف نہیں کیا اور ملکیت اپنے اصل پر باقی رہی۔ مسئلہ نمبر 7۔ آیت ولا مستانسین لحدیث اس کا عطف غیر ناظرین پر ہے۔ غیر، لکم ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی غیر ناظرین ولا مستانسین یعنی مقصود یہ ہے بات چیت میں دلچسپی رکھتے ہوئے وہاں نہ رک جائے جس طرح رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے حضرت زینب کے ولیمہ میں کیا تھا۔ آیت ان ذالکم کان یوذی النبی فیستحی منکم واللہ لا یستحیی من الحق یعنی حق کے بیان اور اس کے اظہار سے نہیں رہتا۔ جب یہ رکنا انسان سے حیا کی بنا پر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس علت کی نفی کردی جو انسان میں اس کا سبب تھی۔ صحیح میں حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلیم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی (رح) : یارسول اللہ ! ﷺ اللہ تعالیٰ حق سے حیا نہیں کرتا، جب عورت کو احتلام ہو تو کیا اس پر غسل کرنا لازم ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب وہ پانی دیکھے “ (1) ۔ مسئلہ نمبر 8۔ آیت واذا سالتموھن متاعا ابو دائود طیالسی نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : میں نے چار امور میں اپنے رب سے موافقت کی ہے (2) ۔ اس میں ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ کاش آپ اپنی ازواج پر حجاب کو لازم کرلیں، کیونکہ ان کے پاس نیک اور بدکار داخل ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ سامان کے بارے میں سوال کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسی چیز جس کو عام طور پر لیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فتوی پوچھا جاسکتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قرآن کا صحیفہ مانگا جاسکتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ اجازت ان تمام چیزوں کے بارے میں ہے جس کا مطالبہ کیا جاتا ہے خواہ وہ روز مرہ ضرورت کی چیز ہو یا دین و دنیا کے منافع کی چیز ہو۔ مسئلہ نمبر 9۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ ضرورت کے وقت پردہ کے پیچھے سے ان سے سوال کیا جاسکتا ہے یا ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاسکتا ہے۔ اس میں معنوی اعتبار سے تمام عورتیں داخل ہیں اور اصل شریعہ جس چیز کو اپنے ضمن میں لیے ہو اس اعتبار سے بھی تمام عورتیں شامل ہیں کہ عورت کا تمام بدن پردہ کرنے کا محل ہے۔ اس کا بدن اور اس کی آواز بھی، جس طرح پہلے گزرچکا ہے ضرورت کے بغیر اس کا ظاہر کرنا جائز نہیں جس طرح اس پر گوہی دینی ہو یا اس کے جسم میں کوئی بیماری ہو یا کوئی سوال جو عارض آجائے اور اس کے ہاں متعین ہوجائے۔ مسئلہ نمبر 10۔ بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ لوگ نبی کریم ﷺ کی ازواج سے پردہ کے پیچھے سے چیز لے سکتے ہیں کیونکہ اعمی (نابینا) کی شہادت جائز ہے اور نابینا آدمی اپنی بیوی سے وطی کرتا ہے محض اس کی گفتگو سے پہچان کرلیتا ہے۔ اور اکثر علماء نے نابینا کی شہادت کو جائز قرار دیا ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور دوسرے علماء نے اسے جائز قرار نہیں دیا۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : نسب میں شہادت جائز ہے۔ امام شافعی نے کہا : نابینا کی شہادت نہیں مگر اس کے بارے میں جس کو اس نے نظر جانے سے پہلے دیکھا ہو۔ مسئلہ نمبر 11۔ آیت ذلکم اطھر لقلوبکم وقلوبھن اس سے ان وساوس کا ارادہ کیا ہے جو مردوں کے دلوں میں عورتوں کے متعلق لاحق ہوتے ہیں اور عورتوں کے دلوں میں مردوں کے متعلق لاحق ہوتے ہیں۔ یہ شک کی زیادہ نفی کرنے والا، تہمت کو زیادہ دور کرنے والا اور حفاظت میں زیادہ قوی ہے۔ یہ اس امر پر دال ہے کہ کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ خلوت میں اپنی ذات پر اعتماد کرے جو عورت اس کے لیے حلال نہیں، کیونکہ ایسی عورت سے الگ تھلگ رہنا اس کی حالت کے لیے زیادہ اچھا، اس کے نفس کے لیے زیادہ حفاظت کرنے والا اور اس کی عصمت کے لیے زیادہ مکمل ہے۔ مسئلہ نمبر12۔ آیت وما کان لکم ان توء ذو رسول اللہ یہ علت کا تکرار ہے اور اس کے حکم کی تاکید ہے۔ علت کو موکد کرنا احکام میں زیادہ قوت کا باعث ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر 13۔ آیت ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا اسماعیل بن اسحاق، محمد بن عبید سے وہ محمد بن ثور سے وہ معمر سے وہ قتادہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا : اگر رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوگیا تو میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نکاح کروں گا، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور آیت وازواجہ امھاتھم کو نازل کیا۔ قشیری ابو نصر عبد الرحمن نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : قریش کے دس سرداروں میں سے ایک نے دل میں کہا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حراء پر تھے : اگر رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوگیا تو میں حضرت عائشہ سے نکاح کروں گا کیونکہ وہ میری چچا زاد ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ آدمی اس پر شرمندہ ہوا جو اس کے دل میں وسوسہ پیدا ہوا۔ وہ پیدل مکہ مکرمہ کی طرف گیا اور جہاد میں دس مجاہدین کو گھوڑے پر سوار کیا، ایک غلام کو آزاد کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی خطا کو بخش دیا۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ روایت کی گئی ہے (2) کہ یہ آیت اس لیے نازل ہوئی کہ کسی صحابی نے کہا : اگر رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا تو میں حضرت عائشہ صدیقہ سے عقد نکاح کروں گا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے صحابی کا کنایۃ ذکر کیا ہے۔ مکی نے معمر سے روایت نقل کی ہے کہ وہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے۔ میں کہتا ہوں : نحاس نے معمر سے روایت کی ہے کہ اس سے مراد حضرت طلحہ تھے، یہ صحیح نہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت ابن عباس کا بھلا کرے (1) ۔ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت طلحہ بن عبید اللہ لینا صحیح نہیں۔ ہمارے شیخ ابو العباس نے کہا : یہ قول بعض فاضل صحابہ سے مروی ہے، ان فاضل صحابہ سے ایسی بات واقع ہونا بہت ہی بعید ہے اور اس کا نقل کرنا سراسر جھوٹ ہے۔ اس قسم کا قول منافق اور جاہل ہی کرسکتا ہے۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک منافق نے کہا جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو سلمہ کے بعد حضرت ام سلمہ سے شادی کی اور خنیس بن حذافہ کے بعد حضرت حفصہ سے شادی کی : حضرت محمد ﷺ کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ہماری عورتوں سے شادیاں کرتے ہیں اللہ کی قسم ! اگر آپ کا وصال ہوا تو ہم بھی آپ کی ازواج سے شادیاں کریں گے۔ اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی اور ان کو ماں کا حکم دے دیا (2) ۔ یہ حضور ﷺ کے خصائص میں سے ہے مقصد آپ کی شرافت کو ممتاز کرنا اور آپ کے مرتبہ پر آگاہ کرنا ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا : وہ ازواج مطہرات جو اس وقت آپ ﷺ کے عقد نکاح میں تھیں جب حضور ﷺ کا وصال ہوا ان کے ساتھ نکاح کرنا کسی کے لیے بھی حلال نہیں، کیونکہ جنت میں بھی یہی آپ کی بیویاں ہیں۔ بیشک جنت میں ایک عورت اس کی بیوی ہوگی دنیا میں جس آخری مرد کے ساتھ اس کا نکاح ہوا تھا۔ حضرت حذیفہ نے اپنی بیوی سے کہا : اگر تجھے یہ بات خوش کرے تو جنت میں بھی میری بیوی ہو اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں جمع کرے تو میرے بعد کسی سے عقد نکاح نہ کرنا کیونکہ عورت اپنے آخری خاوند کے ساتھ ہوگی (3) ہم علماء کی جو اس بارے میں آراء ہیں وہ کتاب ” التذکرہ “ میں جنت کے ابواب میں ذکر کرچکے ہیں۔ مسئلہ نمبر 14۔ علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کیا آپ کی بیویاں رہی ہیں یا موت کے ساتھ نکاح زائل ہوچکا ہے ؟ جب موت کے ساتھ نکاح زائل ہوگیا کیا ان پر عدت ہوگی یا عدت نہیں ہوگی ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر کوئی عدت نہیں۔ عدت انتظار کی مدت ہوتی ہے عورت کے مباح ہونے کے لیے اس کا انتظار کیا جاتا ہے، یہی صحیح قول ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے :” جو میں نے چھوڑا ہے وہ میرے بعد میرے اہل و عیال کا نفقہ ہے “ (4) ۔ عیال کے لیے اہل کا لفظ بھی مذکور ہے۔ یہ لفظ زوجیت کے ساتھ خاص ہے۔ حضور ﷺ نے ازواج مطہرات کی زندگی تک ان کے لیے نفقہ اور سکنی باقی رکھا ہے، کیونکہ یہ تو قطعی بات ہے کہ یہ آخرت میں حضور ﷺ کی بیویاں ہیں باقی ماندہ لوگوں کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ کوئی آدمی یہ نہیں جانتا کہ وہ اپنے اہل کے ساتھ ایک ہی گھر میں ہوں گے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے ایک جنت میں ہو اور دوسرا جہنم میں ہو تمام مخلوق کے حق میں یہ سبب منقطع ہوچکا ہے اور نبی کریم ﷺ کے حق میں یہ سبب باقی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” دنیا میں جو میری بیویاں ہیں وہ آخرت میں بھی میری بیویاں ہیں “ (1) ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہر سبب اور نسب ختم ہوجائے گا مگر میرا سبب اور نسب باقی رہے گا کیونکہ یہ قیامت تک باقی ہے “ (2) ۔ فرع : جہاں تک ان ازواج کا تعلق ہے جن سے حضور ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی جدائی اختیار کرلی تھی جیسے کلبیہ اور دوسری عورتیں کیا کسی اور کے لیے ان سے نکاح کرنا جائز ہے ؟ اس میں اختلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ جائز ہے کیونکہ یہ روایت کی گئی ہے کہ کلبیہ سے رسول اللہ ﷺ نے علیحد گی اختیار کی تھی تو حضرت عکرمہ بن ابی جہل نے اس سے شادی کی جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اشعث بن قیس کندی نے اس سے شادی کی۔ قاضی ابو طیب نے کہا : اس سے مہاجر بن ابی امیہ نے شادی کی اور اس کا کسی نے انکار نہیں کیا جو اس بات پر دال ہے کہ یہ اجماع ہے۔ مسئلہ نمبر 15۔ آیت ان ذالکم کان عند اللہ عظیما یعنی رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینا اور آپ کی بیویوں سے نکاح کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم ہے۔ اسے گناہ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے اور اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ مسئلہ نمبر 16۔ ہم حضرت انس کی حدیث اور حضرت عمر ؓ کے قول سے حجاب کے نزول کا سبب بیان کرچکے ہیں۔ حضرت عمر، حضرت سودہ ؓ سے کہا کرتے جب وہ باہر نکلتیں جب کہ وہ طویل قد کی تھیں : اے سودہ ! ہم نے آپ کو دیکھ لیا ہے (3) ۔ آپ یہ بات اس امر کے حریص ہونے کے لیے کرتے کہ حجاب کا حکم نازل ہو تو اللہ تعالیٰ نے حجاب کا حکم نازل کردیا۔ یہ بات حقیقت سے کوئی بعید نہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے یہ سبب اسباب ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے مگر حضرت زینب بنت حجش کا وصال ہوا تو حضرت عمر نے فرمایا (رح) : اس کے جنازہ میں ذو محرم کے علاوہ کوئی حاضر نہ ہو (4) ۔ مقصود اس حجاب کو ملحوظ خاطر رکھنا تھا جن کی وجہ سے حجاب کا حکم نازل ہوا تھا۔ حضرت اسماء بنت عمیس نے حضرت عمر کی رہنمائی کی کہ ان کی چارپائی پر قبہ نما پردہ ڈالا جائے اور حضرت عمر کو یہ بھی بتایا کہ آپ نے حبشہ کے علاقہ میں اسے دیکھا تھا تو حضرت عمر نے ایسا ہی کیا۔ یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ جو نبی کریم ﷺ کی بیٹی تھی ان کے جنازہ میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو) کہ خدا ہر چیز سے باخبر ہے

اللہ تعالیٰ ہراس چیز کو جانتا ہے جو ظاہر ہے یا مخفی ہے۔ وہ اسے بھی جانتا ہے جو ہوچکا ہے اور جو ابھی تک واقع نہیں ہوا۔ اس پر کوئی گزرا ہوا مخفی نہیں اور نہ آنے والا مستقبل مخفی ہے۔ یہ اپنے عموم پر ہے اس کے ساتھ اس کی مدح کی جارہی ہے وہ مدح اور حمد کا مستحق ہے۔ یہاں اس سے مراد توبیخ اور اس کے لیے وعید ہے جس کی سابقہ آیت میں اشارۃ بات کی گئی تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جس کی طرف اس آیت کے ساتھ اشارہ کیا گیا تھا : آیت ذالکم اطھر لقلوبکم وقلوبھن اور جس کی طرف اس ارشاد میں اشارہ کیا گیا تھا : آیت وما کان لکم ان توء ذو رسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا انہیں اس آیت میں فرمایا : اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جن کو تم چھپاتے ہو وہ اعتقادات ہوں اور دل میں جو ناپسند یدہ وساوس ہوں اور ان پر تمہیں بدلہ عطا فرمائے گا۔ یہ آیت ماقبل آیت سے منقطع ہے اور اس کے لیے بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے اور (اے عورتو ! ) خدا سے ڈرتی رہو بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ جب حجاب والی آیت نازل ہوئی تو آباء، ابناء اور قریبی رشتہ داروں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : ہم بھی ان سے حجاب کے پیچھے سے بات کریں ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ مسئلہ نمبر 2۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان افراد کا ذکر کیا ہے جن کے سامنے عورت ظاہر ہو سکتی ہے چچا اور ماموں کا ذکر نہیں کیا کیونکہ دونوں والدین کے قائم مقام ہیں۔ چچا کو بھی اب کہہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت نعبد الھک والہ اباءک ابراھیم واسماعیل ( البقرہ : 133) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے چچا تھے۔ زجاج نے کہا : چچا اور ماموں بعض اوقات اپنی اولاد کے سامنے عورت کی صفت بیان کرتے ہیں، کیونکہ عورت چچا زاد اور ماموں زاد بھائی کے لیے حلال ہوتی ہے اسی وجہ سے دونوں کے لیے دیکھنا مکروہ ہے۔ امام شعبی اور عکرمہ نے اسے ناپسند کیا ہے کہ عورت اپنی اوڑھنی اپنے چچا اور ماموں کے ہاں اتارے۔ یہاں بعض محارم کا ذکر کیا اور سورة نور میں تمام محارم کا ذکر کیا (1) ۔ یہ آیت اس آیت کا بعض ہے۔ وہاں مفصل گفتگو گزر چکی ہے۔ الحمد للہ مسئلہ نمبر 3۔ آیت واتقین اللہ جب اللہ تعالیٰ نے ان اقسام رخصت عطا فرمائی اور اباحت قطعی ہوگئی تو تقوی کے امر کو ان پر عطف کیا جس طرح جملہ کا عطف جملہ پر ہوتا ہے یہ آیت حد درجہ کی بلاغت اور ایجاز میں ہے۔ گویا فرمایا : اسی پر اپنے آپ کو محدود کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس میں ڈرو کہ تم کسی اور کی طرف تجاوز کرو۔ عورتوں کا خصوصی ذکر کیا اور اس امر میں ان کی تعیین کی کیونکہ وہ کم تحفظ کرتی ہیں اور ان کی اوڑھنیاں اکثر ڈھلک جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ پھر اس ارشاد کے ساتھ دھمکی دی : آیت ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا