33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت (کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت وقرن جمہور قراء نے اسے وقرن قاف کے کسرہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ عاصم اور نافع نے قاف کے فتحہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ جہاں تک پہلی قراءت کا تعلق ہے تو یہ دو وجوہ کا احتمال رکھتی ہے : (1) یہ وقار سے مشتق ہو۔ تو کہتا ہے : وقر یقر وقارا اس کا معنی سکونت اختیار کرنا ہے۔ امر قر ہے اور نساء کے لیے قرن ہے۔ جس طرح عدن، زن ہے (2) یہ مبرد کا قول ہے یہ قرار سے مشتق ہو (3) ۔ تو کہتا ہے : قررت بالمکان یہ راء کے فتحہ کے ساتھ ہے اس سے امر کا صیغہ اقرء ہے اصل میں یہ اقررن راء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ پہلی راء تخفیف کی وجہ سے حذف ہے، جس طرح انہوں نے ظللت میں ظلت، مسست میں مست کیا اس کی حرکت کو قاف کی طرف نقل کیا قاف کے متحرک ہونے کی وجہ سے یہ ہمزہ وصلی سے مستغنی ہوگیا۔ ابو الاعلی نے کہا : بلکہ اس کی تعبیریوں ہوگی کہ راء کو یاء سے بدلا ایک جنس کے دو حروف اکھٹے ہونے کو ناپسند کرتے ہوئے جس طرح قیراط اور دینار میں کیا۔ باء کے لیے وہ حرکت ہوگی جو حرکت اس حرف کی تھی جس کو یاء سے بدلا گیا۔ تقدیر کلام یہ ہوگی : اقیرن پھر یاء کے کسرہ کے ناپسند ہونے کی وجہ سے یاء کی حرکت قاف کو دی گئی تو یاء اجتماع ساکنین کی وجہ سے ساقط وہ گئی۔ ہمزہ وصلی ساقط ہوجائے گا کیونکہ اس کا ما بعد متحرک ہے تو یہ قرن ہوگیا۔ جہاں تک اہل مدینہ اور عاصم کی قراءت ہے تو یہ عربوں کی لغت پر ہے : قررت فی المکان جب تو اس میں مقیم ہو (1) ۔ راء کے نیچے کسرہ ہے اقر قاف پر فتحہ ہے یہ حمد بحمد کا باب ہے۔ یہ اہل حجاز کی لغت ہے ابو عبید نے اسے الغریب المصنف میں کسائی سے ذکر کیا یہ ان کے اجل مشائخ میں سے ہے ؛ اسے زجاج اور دوسرے علماء نے ذکر کیا۔ اصل اقررن ایک جنس کے دو حروف اکھٹے ہونے کی وجہ سے ثقل واقع ہوا تو پہلی راء کو حذف کردیا۔ اس کی حرکت قاف کو دی تو تو کہے گا : قرن، فراء نے کہا : یہ اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : احست صاحبک یعنی ھل احسست ہے۔ بو عثمان ہزلی نے کہا : قررت بہ عینا اس کو راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا یہی درست ہے کوئی اور صورت نہیں یہ قرۃ العین سے مشتق ہے۔ قررت فی المکان میں کسرہ جائز نہیں یہ راء کے فتحہ کے ساتھ قررت ہے۔ جب نبی کریم ﷺ سے قراءت ثابت ہے تو اس کا ناپسند کرنا قراءت میں قدح کا باعث نہیں۔ نبی کریم ﷺ سے جو قراءت ثابت ہو اس کے ساتھ لغت کی صحت پر استدلال کیا جاتا ہے۔ ابو حاتم بھی اس طرف گئے ہیں کہ قرن کلام عرب میں اس کا کوئی مذہب نہیں۔ نحاس نے کہا : جہاں تک ابو حاتم کے قول کا تعلق ہے یہ اس کا مذہب نہیں۔ اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ اس میں دو مذہب ہیں : (1) جسے کسائی نے بیان کیا ہے (2) جو میں نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا۔ اس نے کہا : یہ قررت بہ عینا اقر سے مشتق ہے۔ معنی ہے : اپنے گھروں میں ٹھنڈی آنکھ سے رہو۔ یہ اچھی توجیہ ہے، مگر حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہ پہلے قول سے ماخوذ ہے، جس طرح یہ روایت کی گئی ہے حضرت عمار نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کہا : اللہ تعالیٰ نے تجھے حکم دیا ہے کہ تو اپنے گھر میں رہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا : اے ابا یقنطان ! تو ہمیشہ حق کہتا رہا (2) ۔ حضرت عمار نے کہا : اس اللہ کے لیے تمام تر تعریفیں ہیں جس نے مجھے اس طرح بنایا جو آپ کی زبان پر ہے۔ ابن ابی عبلہ نے واقررن الف وصلی اور دو رائوں کے ساتھ پڑھا اور پہلی راء مکسور ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ اس آیت کا معنی ہے گھر میں رہنے کا حکم ہے۔ اگرچہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے تاہم دوسری عورتیں بھی اس حکم میں داخل ہیں۔ یہ حکم لازم ہے اگرچہ کوئی ایسی دلیل وارد نہ ہو جو تمام عورتوں کو خاص کرے۔ یہ حکم کیسے نہ ہو جب کہ شریعت مطاہرہ تمام عورتوں کے لیے اس حکم کو لازم کرتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور وہ اپنے گھروں سے باہر ہونے سے رکی رہیں، مگر ضرورت کی بنا پر وہ باہر جاسکتی ہے، جس طرح کئی مواقع پر گزرچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی ازواج کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں اور انہیں خطاب فرمایا مقصود ان کو شرف عطا کرنا اور تبرج سے انہیں روکنا ہے۔ یہ چیز جان لو کہ یہ جاہلیت اول کا فعل ہے۔ اس کا حقیقی معنی یہ ہے کہ اس چیز کو ظاہر کیا جائے جس کو پردہ میں رکھنا اچھا تھا۔ یہ اس سے ماخوذ ہے جس میں وسعت کا معنی ہو جس طرح کہا جاتا ہے : فی اسنانہ برج جب وہ جدا جدا ہوں ؛ یہ مبرد کا قول ہے۔ آیت الجاھلیۃ الاولی میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ زمانہ ہے (1) جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی عورت موتیوں سے بنی قمیص پہنتی وہ راستہ کے درمیان میں چلتی اور اپنے آپ کو مردوں پر پیش کرتی۔ حکیم بن عیینہ نے کہا : آیت الجاھلیۃ الاولی سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا درمیانی عرصہ ہے (2) ۔ یہ آٹھ سو سال کا عرصہ ہے۔ ان کے بارے میں مذموم سیرتیں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کے درمیان کا زمانہ ہے (3) ۔ کلبی نے کہا : حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کے درمیان کا عرصہ ہے (4) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عورتیں موتیوں سے بنی قمیص پہنتیں جو دونوں جانب سے سلی ہوئی نہیں ہوتی تھیں وہ باریک کپڑے پہنا کرتی تھیں اور اپنے بدن کو نہیں چھپاتی تھیں۔ ایک جماعت کا کہنا ہے : یہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے درمیان کا عرصہ ہے (5) ۔ امام شعبی نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے درمیان کا عرصہ ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : یہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا زمانہ ہے (6) ۔ اس دور میں عورت کی موتیوں سے جڑی قمیص ہوتی جو دونوں جانب سے سلی ہوئی نہیں ہوتی تھی۔ ابو العباس مبرد نے کہا : آیت الجاھلیۃ الاولی اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : الجاھلیۃ الجھلاء کہا : الجاھلیۃ الجھلا میں عورتیں اس کو ظاہر کرتیں جس کا اظہار قبیح ہوتا، یہاں تک کہ عورت اپنے خاوند اور اپنے دوست کے ساتھ بیٹھتی اس کا دوست اس کے ازار بند سے لے کر جسم کے اوپر والے حصہ سے لطف اندوز ہوتا اور اس کا خاوند ازار بند سے نیچے والے حصہ سے لطف اندوز ہوتا بعض اوقات ان میں سے ایک دوسرے کے حصہ کا مطالبہ کردیتا۔ مجاہد نے کہا : عورتیں مردوں کے درمیان چلتیں۔ یہی تبرج تھا۔ ابن عطیہ نے کہا : جو چیز میرے نزدیک ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جاہلیت کی طرف اشارہ کیا ہے جو وہ اپنا چکی تھیں انہیں حکم دیا گیا کہ ان کی سیرت کو چھوڑ دیں وہ وہ سیرت تھی جو شریعت سے پہلے کافروں کی سیرت تھی، کیونکہ ان کے ہاں کوئی غیرت نہ تھی۔ عورتوں کا معمول حجاب کے بغیر تھا۔ اسے اولی بنانا اس اعتبار سے ہے جس میں تھیں۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ وہاں کوئی اور جاہلیت تھی۔ جاہلیت کا اسم اس مدت پر واقع کیا گیا جو اسلام سے قبل تھا۔ انہوں نے کہا : شعراء میں جاہلی۔ حضرت ابن عباس ؓ کا ایک قول بخاری میں ہے سمعت ابی فی الجاہلیۃ یقول میں نے اپنے باپ کو جاہلیت میں کہتے ہوئے سنا۔ اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں (7) ۔ میں نے کہا : یہ اچھا قول ہے۔ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ عرب تو بد حال اور تنگ دست تھے۔ دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے : خوش پوشی اور زینت کا اظہار یہ سابقہ زمانوں میں بھی جاری رہا : آیت الجاھلیۃ الاولی سے مراد یہی چیز ہے اور آیت کا مقصود یہ ہے کہ ان سے قبل جو عورتوں کا وطیرہ تھا اس کی مخالفت کی جائے، جیسے نازو نخرہ کرنا اور مردوں کے لیے محاسن کو ظاہر کرنا، اس کے علاوہ وہ تمام چیزیں جو شرعا جائز نہیں۔ یہ تمام اقوال کو شامل ہے اور انہیں عام ہے پس وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں۔ اگر انہیں گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت ہو تو وہ ترک زینت اور کامل پردہ کی حالت میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ ثعلبی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا (1) کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جب اس آیت کو پڑھتیں تو آپ روتیں یہاں تک کہ آپ کی اوڑھنی اتر جاتی۔ یہ ذکر کیا گیا کہ حضرت سودہ نے انہیں کہا : تو کیوں حج اور عمرہ نہیں کرتیں جس طرح تیری بہنیں (دوسری ازواج مطہرات) کرتی ہیں ؟ فرمایا : میں نے حج کرلیا اور میں نے عمرہ کرلیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے گھر میں ٹھہروں۔ راوی نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ اپنے حجرہ کے دروازے سے باہر نہ نکلیں یہاں تک کہ ان کا جنازہ نکالا گیا۔ ابن عربی نے کہا : میں تقریبا ایک ہزار دیہاتوں میں داخل ہوا۔ میں نے نابلس کی عورتوں سے بڑھ کر اپنے عیال کی حفاظت کرنے والی اور سب سے زیادہ پاک دامن کسی عورت کو نہیں دیکھا۔ جہاں حضرت خلیل (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا گیا میں وہاں رہا میں نے دن کے وقت کسی عورت کو رستہ میں نہیں دیکھا مگر جمعہ کے روز جمعہ کی نماز کے لیے نکلتیں یہاں تک کہ مسجد ان سے بھر جاتی۔ جب نماز ختم ہوتی اور وہ اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاتیں دوسرے جمعہ تک ان میں سے کسی پر بھی میری نظر نہ پڑتی۔ میں نے مسجد اقصی میں پاک دامن عورتوں کو دیکھا وہ اپنی اعتکاف والی جگہ سے نہ نکلتیں یہاں تک کہ ان کی وہاں شہادت ہوجاتی (2) ۔ مسئلہ نمبر 4۔ ابن عطیہ نے کہا : حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا رونا ایام جمل میں سفر کے سبب تھا (3) ۔ اسی موقع پر آپ سے حضرت عمار نے کہا تھا : اللہ تعالیٰ نے تجھے حکم دیا ہے کہ تو اپنے گھر میں رہے۔ ابن عربی نے کہا : رافضیوں (4) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے خلاف اس آیت سے استدلال کیا ہے۔ انہوں نے کہا : حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی جب وہ لشکروں کی قیادت کرتے ہوئے نکلیں، جنگوں میں براہ راست حصہ لیا، نیزوں اور تلواروں کے وار پڑنے کی جگہ داخل ہوئیں جو نہ ان پر فرض تھا اور نہ ان کے لیے جائز تھا۔ انہوں نے کہا : حضرت عثمان ؓ کا محاصرہ کیا گیا۔ جب آپ نے یہ منظر دیکھا تو آپ نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا تو سواری پیش کی گئی تاکہ آپ مکہ مکرمہ کی طرف جائیں، مردوں نے آپ سے عرض کی : اے ام المومنین ! یہاں ہی رہیں اور ان چرواہوں کو واپس کیجئے، کیونکہ لوگوں کے درمیان آپ کے حج کرنے سے بہتر ہے۔ ابن عربی نے کہا : ہمارے علماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے کہا : حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فتنہ سے قبل حج کی نذر مانی تو آپ نے نذر چھوڑنے کو مناسب خیال نہیں کیا۔ اگر اس شورش میں نکلتیں تو یہ آپ کے لیے صحیح ہوتا۔ جہاں تک جنگ جمل میں نکلنے کا تعلق ہے آپ جنگ کے لیے نہیں نکلیں تھیں لیکن لوگ آپ سے چمٹ گئے اور انہوں نے طمع کی کہ جب آپ مخلوق کے لیے کھڑی ہوں گی تو لوگ حیاء کریں گے۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے گمان کیا یہ اس طرح ہی ہوگا، تو آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اقتدا کرتے ہوئے نکل پڑیں اسلام کا یہ فرمان ہے : آیت لا خیر فی کثیر من نجوھم الا من امر بصدقۃ او معروف او اصلاح بین الناس (النساء : 114) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت وان طائفتن من المومنین اقتتلوا فاصلحو بینھما ( الحجرات : 9) اصلاح احوال کا امر ایسا ہے جس کے مخاطب تمام لوگ ہیں، وہ مرد ہوں، عورتیں ہوں، آزاد ہوں یا غلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قضاء سابق کی بنا پر اس کا ارادہ نہ کیا کہ اصلاح واقع ہو، لیکن نیزے پڑے اور زخم لگے یہاں تک کہ قریب تھا کہ دونوں فریق فنا ہوجاتے تو کسی نے اونٹ کا قصد کیا اس نے اونٹ کی کونچیں کاٹ دیں۔ جب اونٹ اس پہلو گرا تو محمد بن ابوبکر نے حضرت عائشہ صدیقہ کو تھام لیا اور انہیں بصرہ لے گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ تیس عورتوں کے ساتھ نکلیں جو عورتیں حضرت علی شیر خدا نے ان کے ساتھ ملائی تھیں، یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو مدینہ طیبہ، برہ، تقیہ اور مجتہدہ کی حیثیت سے پہنچایا جو بھی آپ نے تاویل کی اس میں مصیب اور ثواب کی مستحق تھیں جو بھی کیا اس پر ان کو اجر ملے گا، کیونکہ ہر مجتہد احکام میں مصیب ہوتا ہے۔ سورة النحل میں اس اونٹ کا نام گزرچکا ہے اسی کی مناسبت سے وہ دن معروف ہے۔ آیت واقمن الصلوۃ واتین الزکوۃ واطعن اللہ ورسولہ جو ان کو امر کیا گیا اور جس سے منع کیا گیا اس کی اطاعت کرتی ہیں۔ آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اھل البیت زجاج نے کہا : اس سے مراد نبی کریم ﷺ کی ازواج ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد آپ ﷺ کی ازواج اور آپ کے وہ اہل ہیں جو اہل بیت شمار ہوتے ہیں۔ جس کی وضاحت بعد میں آئے گی۔ آیت اھل البیت مدح کے طور پر منصوب ہے۔ کہا : اگر تو چاہے تو کہے یہ بدل کے طور پر منصوب ہے کہ رفع اور جر دونوں جائز ہیں۔ نحاس نے کہا : اگر اسے کم سے بدل بناتے ہوئے جر دی جائے تو ابو العباس محمد بن یزید کے نزدیک جائز نہیں۔ کہا : مخاطبہ اور مخاطب سے بدل نہیں بنایا جاتا کیونکہ کہ دونوں بیان کے محتاج نہیں ہوتے۔ آیت ویطھرکم تطھیرا، تطھیر مفعول مطلق ہے اور اس میں تاکید کا معنی پایا جاتا ہے۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو بیشک خدا باریک بین اور باخبر ہے

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ یہ الفاظ یہ معنی دیتے ہیں کہ اہل بیت سے مراد حضور ﷺ کی ازواج ہیں۔ اہل علم نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ اہل بیت کون ہیں ؟ (1) ۔ عطا، عکرمہ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد صرف آپ کی ازواج ہیں ان کے ساتھ کوئی مرد اہل بیت میں شامل نہیں۔ وہ اس طرف گئے ہیں کہ بیت سے مراد حضور ﷺ کے مسکن ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت واذکرن مایتلی فی بیوتکن، ایک فرقہ نے کہا : جن میں کلبی ہیں : مراد حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ ہیں (1) ۔ اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے کئی احادیث مروی ہیں۔ انہوں نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے آیت لیذہب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم اگر یہ خاص کر عورتوں کے لیے حکم ہوتا تو یوں ارشاد ہوتا عنکن ویطھر کن مگر یہ احتمال موجود ہے کہ کم ضمیر لفظ اہل کے اعتبار سے ہو، جس طرح ایک آدمی اپنے ساتھی سے کہتا ہے : کیف اھلک مراد ہوتا ہے تیری بیوی یا تیری بیویاں کیسی ہیں ؟ وہ کہتا ہے : ھم بخیر وہ اچھی ہیں۔ محل استدلال ھم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اتعجبین من امر اللہ رحمت اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت ( ہود : 73) آیت سے جو ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ آیت تمام اہل بیت کو عام ہے، وہ بیویاں ہوں یا اور۔ فرمایا : آیت ویطھرکم کیونکہ رسول اللہ ﷺ حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ ان میں شامل تھے۔ جب مذکر اور مونث جمع ہوجائیں تو مذکر کو غلبہ دیا جاتا ہے۔ آیت تقاضا کرتی ہے کہ بیویاں اہل بیت سے ہیں، کیونکہ انہیں کے متعلق ہے اور ان کو ہی خطاب کیا جا رہا ہے۔ اسی پر سیاق کلام بھی دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک ام سلمہ کا تعلق ہے انہوں نے کہا : یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو بلایا رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ خیبر کی بنی چادر میں داخل ہوگئے۔ فرمایا : ” یہ میرے اہل بیت ہیں “۔ اور آیت کو پڑھا۔ دعا کی۔ ” اے اللہ ! ان سے رجس کو دور کردے اور انہیں پاکیزہ بنا دے “۔ حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی ان کے ساتھ ہوں ؟ فرمایا : انت علی مکانک وانت علی خیر تو اپنے مرتبہ پر ہے اور تو بھلائی پر ہے۔ امام ترمذی اور دوسرے محدثین نے اسے نقل کیا ہے۔ کہا : یہ حدیث غریب ہے (2) ۔ قشیری نے کہا : حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا : میں نے اپنا سر چادر میں داخل کیا اور عرض کی : یارسول اللہ ! میں ؟ فرمایا : ” ہاں “۔ ثعلبی نے کہا : اہل بیت سے مراد بنو ہاشم ہیں (3) ۔ یہ تعبیر دلالت کرتی ہے کہ بیت سے مراد نسب کا بیت ہے تو حضرت عباس، حضور ﷺ کے چچے اور ان کی اولاد اس میں شامل ہوں گے، اس کی مثل حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے۔ کلبی کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ کا فرمان : آیت واذکرن اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ابتدا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے امر کا خطاب نبی کریم ﷺ کی بیویوں کو ہو رہا ہے (4) ۔ یہ نصیحت کے انداز میں اور اس نعمت کو شمار کرنے کے انداز میں ہے وہ نعمت جو ان کے گھروں میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور حکمت کی باتیں کی جاتی ہیں۔ علماء تاویل کہتے ہیں کہ آیات اللہ سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد سنت ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : آیت واذکرن ماقبل کے ساتھ متعلق ہے۔ عنکم اھل کی وجہ سے فرمایا پس اہل مذکر ہے، اگرچہ وہ مونث ہیں پھر بھی انہیں مذکر کے ساتھ یاد کیا اس وجہ سے عنکم ہوگیا کلبی اور اس جیسے لوگوں کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس تفسیر میں ایسی اشیاء پائی جاتی ہیں اگر سلف صالحین کے زمانہ میں پائی جاتیں تو وہ اسے اس سے روک دیتے اور اس پر حجر کا حکم لگا دیتے۔ تمام آیات یایھا النبی قل لازواجک سے لے کر آیت ان اللہ کان لطیفا خبیرا تک سب ایک دوسرے سے وابستہ ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ درمیان میں کوئی ایسی کلام ہو جو منفصل ہو اور غیر کے لیے ہو۔ بیشک یہ احادیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو بلایا تو نبی کریم ﷺ نے ایک چادر کا قصد کیا۔ اسے ان پر لپیٹا، پھر اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا : ” اے میرے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں، اے اللہ ! ان سے رجس کو دور فرما دے اور انہیں پاکیزہ کر دے “ (1) ۔ آیت کے نازل ہونے کے بعدنبی کریم ﷺ نے انہیں بلایا، تو آپ نے پسند کیا کہ انہیں بھی اس آیت کے حکم میں داخل کردیں جس کے ساتھ ازواج کو خطاب کیا گیا تھا۔ کلبی اور ان کی موافقت کرنے والے اس طرف گئے ہیں اور اس آیت کو ان کے لیے خاص کیا ہے جب کہ ان کے حق میں دعا کرنا تنزیل کے حکم سے خارج ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ ذکر کا لفظ تین معانی کا احتمال رکھتا ہے : (1) وہ نعمت کے محل کو یاد کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسے گھروں والا بنادیا جن میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور حکمت کو تلاوت کیا جاتا ہے۔ (2) وہ اللہ تعالیٰ کی آیات یاد کریں اور ان کی قدر پہچانیں اور ان میں غورو فکر کریں یہاں تک کہ تم میں سے ہر ایک ایسی حالت پر ہو تم اللہ تعالیٰ کی نصیحتوں سے نصیحت حاصل کرو جس کا یہ حال ہو اس کے لیے مناسب ہے کہ اس کے افعال اچھے ہوں۔ مسئلہ نمبر 3۔ آیت واذکرن کا معنی ہے تم یاد کرو، انہیں پڑ ھو اور زبانوں پر اسے لازم کرو۔ گویا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی کو یاد رکھو۔ یہی وہ چیز ہے جن کی تمہارے گھروں میں اللہ تعالیٰ کی آیات کی صورت میں تلاوت کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ جو قرآن حکیم ان کے گھروں میں نازل ہوتا ہے اس کی خبر دیں اور جو نبی کریم ﷺ کے افعال دیکھتی ہیں اور آپ ﷺ کے جو اقوال سنتی ہیں اس کی خبر دیں تاکہ یہ لوگوں تک پہنچیں تو لوگ ان پر عمل کریں اور اس کی اقتدا کریں۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ دین کے معاملہ میں مردوں اور عورتوں کی جانب سے خبر واحد قبول کی جائے گی۔ (3) ابن عربی نے کہا : اس آیت میں عمدہ مسئلہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ ﷺ پر جو قرآن نازل کیا جائے اس کی تبلیغ کریں اور دین میں سے جن امور سے آگاہ ہوں اس کی تعلیم دیں (2) ۔ جب آپ ﷺ کسی ایک پر آیت پڑھ دیتے یا کوئی اتفاقا اس کو سن لیتا تو آپ ﷺ سے فرض ساقط ہوجاتا تو اسے جو سنتا اس پر لازم تھا کہ اسے دوسروں تک پہنچائے۔ آپ ﷺ پر یہ لازم نہیں تھا کہ آپ ﷺ سب صحابہ کو یہ ذکر کریں۔ اسی طرح جب آپ کی بیویاں اس کو جان لیں تو حضرت علی ؓ پر یہ لازم نہیں تھا کہ لوگوں کی طرف نکلیں اور انہیں کہیں : فلاں حکم نازل ہوا اور یہ نازل نہیں ہوا اسی وجہ سے ہم یہ کہتے ہیں : شرمگاہ کے چھونے سے وضو کے وجوب کے حکم پر عمل کرنا جائز سمجھتے ہیں (3) وہ بسرہ بنت صفوان سے مروی ہے کیونکہ انہوں نے وہی روایت کیا جو انہوں نے سنا اور اسی کو آگے پہنچایا جو انہوں نے یاد کیا یہ لازم نہیں آتا کہ یہ حکم مردوں تک پہنچتا، جس طرح امام ابوحنیفہ (1) نے کہا کیونکہ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابن عمرؓ سے روایات نقل کی ہے۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

(جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں کچھ شک نہیں کہ انکے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ ترمذی نے ام عمارہ انصاریہ سے روایت نقل کی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی : میں ہر چیز مردوں کے لیے دیکھتی ہوں، میں عورتوں کو نہیں دیکھتی کہ ان کا کس حوالے سے ذکر ہو (2) ، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ آیت المسلمین، ان کا اسم ہے۔ آیت والمسلمت اس پر معطوف ہے۔ بصریوں کے نزدیک اسے رفع دینا بھی جائز ہے جہاں تک فراء کا تعلق ہے اس کے نزدیک رفع جائز نہیں مگر اس میں جس میں اعراب ظاہر نہ ہو۔ مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اسلام کے ذکر سے آغاز کیا جو ایمان اور اعضاء کے اعمال کو عام ہے پھر ایمان کا ذکر کیا مقصد اس کی تخصیص کرنا اور اس پر آگاہ کرنا ہے کہ ایمان اسلام کا عظیم حصہ اور اس کا سہارا ہے۔ قانت کا معنی عبادت گزار اور مطیع ہے۔ صادق سے مراد ہے وہ اسے پورا کرے جس کا اس سے وعدہ لیا گیا۔ صابر جو ناپسندیدہ اور پسندیدہ حال میں شہوات سے اور طاعات پر صبر کرے۔ خاشع سے مراد اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ڈرنے والا، متصدق فرض و نفل صدقہ کرنے والا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں اس سے مراد فرض صدقہ دینے والا ہے۔ پہلا قول زیادہ مدح کا باعث ہے۔ صائم بھی اسی طرح ہے۔ آیت والحفظین فروجھم والحفظت وہ اپنی شرمگاہوں کو زنا وغیرہ جو امور حلال نہیں سے حفاظت کرنے والے ہیں۔ آیت الحفظت میں حذف ہے جس پر متقدم کلام دلالت کرتی ہے تقدیر کلام یہ ہے والحافظا تھا متقدم پر یہی اکتفا کیا۔ الذاکرات بھی اسی کی مثل ہے اس کی مثل شاعر کا قول ہے : وکمتا مدماۃ کانمتونھاجریفوقھاواستشعرتلون مذھب کمت یہ اکمت کی جمع ہے یہ ایسی سرخی ہے جو سیاہی مائل ہو مدماۃ سونے کی طرح سرخ۔ متون یہ متن کی جمع ہے جس کا معنی پشت ہے۔ سیبویہ نے لون مذھب نصب کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ہاء کو حذف کرتے ہوئے لون پر رفع پڑھنا بھی جائز ہے گویا کہا : واستشعر تہ اس کے بارے میں جو لون کو رفع دے۔ الذاکر کی مراد کے بارے میں ایک قول ہے : جو نمازوں کے بعد صبح شام ذکر کرتے ہیں بستروں پر لیٹے ہوئے اور نیند سے بیدار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ سب مباحث ان کے مواقع پر مفصل گزرچکی ہیں اور ان پر جو فوائد اور احکام مرتب ہوتے ہیں وہ بھی مفصل گزرچکے ہیں۔ اس لیے اعادہ سے انہوں نے غنی کردیا ہے۔ الحمد للہ رب العالمین۔ مجاہد نے کہا : ایک آدمی اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والا اس وقت تک نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ کھڑے، بیٹھے اور پہلو کے بل لیٹ کر ذکر نہ کرے (1) ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا : جس نے اپنے اہل کو رات کے وقت اٹھایا اور دونوں نے چار رکعت نماز پڑھی تو ان دونوں کو کثرت سے ذکر کرنے والوں اور کثرت سے ذکر کرنے والیوں میں لکھ لیا جائے گا (2) ۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قتادہ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت حجش کو دعوت نکاح دی وہ آپ ﷺ کی پھوپھی زاد تھیں حضرت زینب نے یہ گمان کیا کہ دعوت نکاح حضور ﷺ نے اپنے لیے دی ہے جب انہیں یہ پتہ چلا کہ حضور ﷺ حضرت زید کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا، انکار کیا اور ایسا کرنے سے مانع ہوگئیں، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس وقت حضرت زینب نے بات مان لی اور حضرت زید سے شادی کرلی۔ ایک روایت میں ہے یہ خود بھی اس سے انکاری ہوئیں اور انکا بھائی عبدا للہ بھی اس سے انکاری ہوا کیونکہ قریش میں ان کا بڑا ذیشان خاندان تھا۔ حضرت زید پہلے غلام تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ان کے بھائی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : جو چاہیں مجھے حکم دیں، اور حضرت زینب کی شادی حضرت زید سے کردی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی، اس نے اپنا آپ نبی کریم ﷺ کو ہبہ کیا تو حضور ﷺ نے اس کی شادی حضرت زید بن حارثہ سے کردی، تو حضرت ام کلثوم اور اس کے بھائی نے اسے ناپسند کیا۔ دونوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کا ارادہ کیا تو آپ نے ہمارا رشتہ کسی اور سے کردیا، تو اس وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی تو دونوں نے حضرت زید سے شادی کو قبول کرلیا ؛ یہ ابن زید کا قول ہے (1) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو زیبا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی نافرمانی کریں (2) ۔ مسئلہ نمبر 2۔ آیت ماکان، یا ینبغی اور اس جیسے جو الفاظ ہیں ان کا معنی حظر اور منع ہے بعض اوقات ہی الفاظ حضر شی اور حضر حکم کے لیے آتا ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا، جس طرح اس آیت میں ہے بعض اوقات وہ شی عقلا ممتنع ہوتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت ماکان لکم ان تنبتو شجرھا ( النمل : 60) بعض اوقات اس کے ممتنع ہونے کا علم شرعی طور پر ہوتا ہے۔ آیت وماکان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من ورای حجاب ( الشوری : 51) بعض اوقات یہ امر مندوبات میں ہوتا ہے جس طرح تو کہتا ہے : ماکان لک یا فلان ان تترک النوافل اے فلاں ! تیرے لیے مناسب نہیں کہ تو نوافل کو ترک کر دے، اس کی مثل دو مثالیں ہیں۔ مسئلہ نمبر 3۔ اس آیت میں دلیل ہے بلکہ یہ اس امر میں نص ہے کہ حسب میں کفاءت کا اعتبار نہیں ہوتا دیانت میں کفاءت کا اعتبار ہوتا ہے۔ امام مالک، امام شافعی، مغیرہ اور سحنون نے اس میں اختلاف کیا ہے اس کی وجہ ہے کہ غلاموں نے قریش میں شادیاں کیں۔ حضرت زید بن حارثہ نے حضرت زینب بنت حجش سے شادی کی۔ حضرت مقداد بن اسود نے حضرت ضباعہ بنت زبیر سے شادی کی۔ حضرت ابو حذیفہ نے حضرت سالم کی شادی حضرت فاطمہ بنت ولید بن عقبہ سے کی۔ حضرت بلال نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کی بہن سے شادی کی۔ یہ بحث کئی مواقع پر گزرچکی ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ آیت ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم کو فیوں نے ان یکون یاء کے ساتھ قراءت کی ہے ؛ یہ ابو عبیدہ کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے، کیونکہ فعل اور فاعل جو مونث ہے اس میں فاصلہ ہے۔ باقی قراء نے تاء کے ساتھ قراءت کی ہے کیونکہ لفظ مونث ہے اور فعل کی تانیث اچھی ہے اور فعل کو مذکر لانا اختیاری ہوتا ہے۔ رحمۃ اللہ علیہالخیرۃ مصدر ہے جو اختیار کے معنی میں ہے۔ ابن سمقیع نے رحمۃ اللہ علیہالخیرۃ یاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ارشاد : آیت النبی اولی بالمومنین من انفسھم کے معنی کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دھمکی دی اور خبر دی کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے، یہ وہ سب سے قوی دلیل ہے جس کی طرف ہمارے فقہاء کے جمہور گئے ہیں، امام شافعی کے بعض اصحاب اور بعض اصولی گئے ہیں کہ فعل کا صیغہ اپنی اصل وضع میں وجوب کے لیے ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا اور سننے کے بعد مکلف سے اختیار کی نفی کی ہے، پھر امر کے صادر ہونے کے بعد جس کے لیے اختیار باقی ہو اس کے لیے معصیت کا اسم ذکر کیا پھر معصیت پر ضلال کو معلق کیا پس امر کا وجوب پر حمل لازم آگیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے (رح)۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ خدا اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے انکے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے (اپنی) حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا

اس میں نو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ امام ترمذی نے روایت کیا علی بن حجر، دائود بن زبر قان سے وہ دائود بن ابی ہند سے وہ شعبی سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ وحی میں سے کوئی چیز چھپاتے تو اس آیت کو چھپاتے آیت واذتقول للذی انعم اللہ علیہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نعمت کے ساتھ اس پر انعام کیا (1) ۔ آیت وانعمت علیہ اور آپ نے اسے آزاد کرتے ہوئے اس پر انعام کیا آیت امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناسو اللہ احق ان تخشہ فلما قضی زید منھا وطرا زوجنکھا لکی لا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیاء ھم اذا قضوا منھن وطراوکان امر اللہ مفعولا رسول اللہ ﷺ نے جب اس سے شادی کی تو لوگوں نے کہا : آپ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن الرسول اللہ وخاتم النبین حضور ﷺ نے اس کو متبنی بنایا تھا جب وہ چھوٹا تھا وہ آپ کے پاس ہی رہا یہاں تک کہ وہ جوان ہوگیا، اسے زید بن محمد کہا جاتا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت ادعوھم لاباء ھم ھو اقسط عنداللہ فان لم تعلموا اباء ھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم فلاں فلاں کا مولی ہے اور فلاں فلاں کا بھائی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ مناسب اور قرین انصاف ہے۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث غریب ہے۔ دائود بن ابی ہند نے شعبی سے وہ مسروق سے وہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں اگر نبی کریم ﷺ وحی میں سے کسی چیز کو چھپاتے تو اس آیت کو چھپاتے : آیت واذتقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ یہ الفاظ اپنی طوالت کے ساتھ مروی نہیں (1) ۔ میں کہتا ہوں : اتنی مقدار ہی کو امام مسلم نے اپنی صحیح روایت میں کیا ہے (2) ۔ اسی کو امام ترمذی نے اپنی جامع میں صحیح قرار دیا ہے۔ بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ حضرت زینب بنت حجش اور حضرت زید بن حارثہ کے حق میں نازل ہوئی۔ حضرت عمر، حضرت ابن مسعود، حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے بڑھ کر شدید کوئی آیت رسول اللہ پر نازل نہیں کی (3) ۔ حضرت حسن بصری اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ اگر وحی میں سے کوئی چیز چھپاتے تو اس آیت کو چھپاتے کیونکہ یہ آیت آپ پر بہت شدید تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت زید نے شام کی اور اپنے بستر پر لیٹے، حضرت زینب نے کہا : زید نے مجھ پر استطاعت نہ رکھی میں اس سے نہیں بچتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے روک دیا تھا، وہ مجھ پر قدرت نہیں رکھتا تھا۔ یہ روایت ابو عصمہ نوح بن ابی مریم کی روایت ہے۔ حدیث کو زینب تک پہنچایا ہے کہ انہوں نے یہ قول کیا ہے۔ بعض روایات میں ہے : حضرت زید بن حارثہ حضرت زینب کے قریب ہونا چاہتے تو انہیں اس وجہ سے ورم لاحق ہوجاتا۔ یہ بھی پہلی روایت کے قریب ہی ہے۔ حضرت زید رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے۔ عرض کی : حضرت زینب اپنی زبان سے مجھے اذیت دیتی ہیں اور یہ کہتی ہیں، میں یہ ارادہ کرتا ہوں کہ میں اسے طلاق دے دوں۔ حضور ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا : ” اپنی بیوی اپنے پاس روکے کھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو “۔ حضرت زید نے حضرت زینب کو طلاق دے دی تو یہ آیت نازل ہوئی : آیت واذتقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ۔ لوگوں نے اس آیت کی تاویل میں اختلاف کیا ہے، قتادہ، ابن زید اور مفسرین کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے ان میں طبری وغیرہ بھی ہے (4) کہ حضرت زینب بنت حجش نبی کریم ﷺ کو اچھی لگیں جب کہ وہ حضرت زید کے عقد میں تھیں۔ حضور ﷺ اس کے حریص تھے کہ حضرت زید اسے طلاق دے دیں اور حضور ﷺ خود اس سے شادی کریں۔ پھر جب حضرت زید نے نبی کریم ﷺ کو اس امر کی خبر دی کہ وہ ان سے جدائی کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کی زبان کی سختی اور نافرمانی، زبانی اذیت اور شرف میں بڑائی کی شکایت کرتے ہیں تو حضور ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا : ” اللہ سے ڈر جو تو اس کے بارے میں اظہار خیال کرتا ہے اور اپنی بیوی اپنے پاس روک لے “۔ جب کہ آپ اس کے حریص تھے کہ حضرت زید اسے طلاق دے دیں۔ یہی وہ امر تھا جو آپ اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے، مگر جو امر بالمعروف واجب تھا اس کو لازم پکڑا۔ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش کی شادی حضرت زید سے کردی۔ حضرت زینب ان کے پاس کچھ عرصہ تک رہیں پھر حضور ﷺ حضرت زید کی تلاش میں ان کے پاس آئے، تو آپ نے حضرت زینب کو کھڑے ہوئے دیکھا وہ سفید رنگ کی خوبصورت اور جسیم عورت تھی اور قریش کی کامل ترین عورت تھی، تو حضور ﷺ ان سے محبت کرنے لگے۔ اور کہا : سبحان اللہ مقلب القلوب (1) میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں اے دلوں کے پھیرنے والے ! حضرت زینب نے تسبیح کو سن لیا اور اس کا ذکر حضرت زید سے کیا۔ حضرت زید اسے سمجھ گئے انہوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ مجھے حضرت زینب کو طلاق دینے کی اجازت دیجئے کیونکہ اس میں کبر اور مجھ پر بڑائی کا احساس ہے اور مجھے اپنی زبان سے اذیت دیتی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اپنی بیوی اپنے پاس رکھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو “۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی اس نے پردہ کا ہٹا دیا اور حضرت زینب اپنے گھر میں کام کاج والا لباس پہنے ہوئے تھیں۔ حضور ﷺ نے حضرت زینب کو دیکھا تو وہ حضور ﷺ کے دل میں ذیشان محسوس ہوئیں۔ اور حضرت زینب کے دل میں خیال گزرا کہ وہ نبی کریم ﷺ کو بھلی لگی ہیں یہ اس وقت ہوا تھا جب نبی کریم ﷺ حضرت زید کی تلاش میں آئے تھے حضرت زید آئے تو حضرت زینب نے انہیں بتایا تو حضرت زید کے دل میں خیال گزرا کہ وہ حضرت زینب کو طلاق دے دیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : آیت وتخفی فینفسک آپ اپنے دل میں ان کی محبت کو چھپاتے ہیں آیت وتخشی الناس آپ لوگوں سے حیا محسوس کرتے ہیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ ڈرتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے ناپسند کرتے ہیں اگر آپ اسے کہیں کہ اسے طلاق دے دے وہ کہیں گے : حضور ﷺ نے ایک آدمی کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا پھر جب اس نے طلاق دے دی تو اس سے نکاح کرلیا۔ آیت واللہ احق ان تخشہ اللہ تعالیٰ اس امر کا زیادہ حق دار ہے کہ آپ ہر حال میں اس سے ڈریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس سے حیا کریں۔ آپ ﷺ زید کو حکم نہ دیں کہ وہ اپنی بیوی کو روکے رکھے بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دیا ہے کہ وہ عنقریب آپ کی بیوی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس تمام امر پر آپ کو عتاب کیا۔ حضرت علی بن حسین ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف وحی کی کہ حضرت زید، حضرت زینب کو طلاق دیں گے اور آپ اس سے شادی کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی شادی اس سے کر دے گا (3) ۔ جب حضرت زید نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حضرت زینب کے اخلاق کی شکایت کی اور یہ شکایت کی کہ وہ ان کی اطاعت نہیں کرتی، اور یہ بتایا کہ وہ انہیں طلاق دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بطور ادب و وصیت اسے فرمایا : ” اپنی بات میں اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی اپنے پاس روکے رکھو “ جب کہ آپ جانتے تھے کہ حضرت زید، حضرت زینب سے جدائی اختیار کرلیں گے اور حضور ﷺ خود اس سے شادی کریں گے۔ یہی وہ بات تھی جو آپ نے اپنے دل میں چھپائی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے یہ ارادہ کیا کہ اسے طلاق کا حکم دیں اس وجہ سے کہ آپ جانتے تھے کہ آپ عنقریب اس سے نکاح کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ ڈرے کہ آپ کو لوگوں کی یہ بات لاحق ہوگی کہ آپ نے حضرت زید کے بعد حضرت زینب سے شادی کی ہے جب کہ حضرت زید آپ کے غلام تھے۔ اور حضور ﷺ نے اسے طلاق کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی بات پر عتاب کیا کہ آپ لوگوں سے اس معاملہ میں ڈر رہے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مباح کردیا ہے کہ آپ نے کہا اپنی بیوی کو اپنے پاس روکنے کے لیے جب کہ آپ کو علم تھا کہ حضرت زید، حضرت زینب کو طلاق دے دیں گے۔ اور یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ زیادہ لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے یعنی ہر حال میں ڈرا جائے۔ ہمارے علماء نے کہا : اس آیت کی تاویل میں جو کچھ کہا گیا ہے یہ ان سب سے احسن ہے۔ محقق مفسرین اور راسخ علماء کا یہی نقطہ نظر ہے جس طرح زہری، قاضی بکر بن علا، قشیری، قاضی ابوبکر بن عربی وغیرہم۔ آیت وتخشی الناس سے مراد یہ ہے کہ منافقین شور مچائیں گے کہ آپ نے اپنے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے سے منع کیا اور خود اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کرلی۔ جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت زید کی بیوی سے محبت کرنے لگے اور بعض محبت کرنے والوں نے اس کے لیے لفظ عشق استعمال کیا یہ ایسے آدمی سے اس قسم کا لفظ صادر ہو سکتا ہے جو عصمت نبی ﷺ سے عاری ہے یا آپ کی حرمت کی پامالی کرنے والا ہے۔ ترمذی حکیم نے ” نوادر الاصول “ میں کہا اور اپنے قول کی نسبت حضرت علی بن حسین ؓ کی طرف کی : حضرت علی بن حسین اسے خزانہ علم سے جواہرات میں سے ایک جواہر اور موتیوں میں سے ایک موتی لائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب اس لیے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتادیا تھا کہ یہ آپ ﷺ کی بیوی ہوگی تو پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت زید سے کیسے فرمایا : ” اپنی بیوی اپنے پاس روکے رکھو “ اور تجھے لوگوں کے خوف نے آلیا کہ وہ کہیں گے کہ آپ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ اس کے زیادہ لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ نحاس نے کہا : بعض علماء نے کہا یہ نبی کریم ﷺ کی خطا نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ اس امر پر آپ ﷺ کو نہ تو توبہ کا حکم دیا گیا اور نہ ہی استغفار کا حکم دیا گیا۔ بعض اوقات ایک امر خطا نہیں ہوتا مگر اس کا غیر اس سے احسن ہوتا ہے، آپ نے اسے دل میں اس لیے پوشیدہ رکھا کہ لوگ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔ مسئلہ نمبر 2۔ ابن عربی نے کہا : اگر یہ سوال کیا جائے کہ کس وجہ سے نبی کریم ﷺ نے حضرت زید سے فرمایا : ” اپنی بیوی اپنے پاس رکھو “ (1) ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو آگاہ کردیا تھا کہ حضرت زینب آپ ﷺ کی بیوی ہونے والی ہیں ؟ ہم کہیں گے : حضور ﷺ نے ارادہ کیا کہ اس امر کو جان لیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگاہ نہیں کیا تھا کیا حضرت زید اس میں رغبت رکھتے ہیں یا اس سے اعراض کرنے والے ہیں ؟ تو حضرت زید نے ان سے اپنی نفرت اور کراہت کو ظاہر کردیا جس کے بارے میں حضور ﷺ حضرت زید کے حضرت زینب کے بارے میں رویہ سے آگاہ نہ تھے۔ اگر یہ سوال کیا جائے : یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ اسے اپنے پاس روکنے کا کہیں جب کہ آپ جانتے تھے کہ جدائی تو ضروری ہے ؟ یہ تو تناقض ہے۔ ہم کہیں گے : بلکہ یہ مقاصد صحیحہ کے لیے صحیح رویہ ہے تاکہ حجت قائم ہوجائے اور عاقبت کا پتہ چل جائے کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ بندے کا ایمان کا حکم دیتا ہے جب کہ اسے علم ہوتا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائے گا۔ امر کا متعلق علم کے متعلق کے خلاف ہونا ایسی چیز نہیں جو امر کے مانع ہو نہ یہ عقلا ایسا ہے اور نہ یہ حکما ایسا ہے۔ یہ نفس علم ہے اس پر یقین رکھو اور اسے قبول کرو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : آیت واتق اللہ اسے طلاق دینے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اسے طلاق نہ دو یہاں نہی تنزیہی کا ارادہ کیا ہے نہی تحریمی کا ارادہ نہیں کیا کیونکہ اولی یہی ہے کہ وہ اسے طلاق نہ دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ سے ڈر، اس کی مذمت اس بنا پر نہ کر کہ تو اس کی طرف کبر اور خاوند کو اذیت دینے کی نسبت کرے۔ آیت وتخفی فی نفسک ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضور ﷺ کا یہ جاننا ہے کہ حضرت زید اسے عنقریب طلاق دے دیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے آگاہ کردیا تھا کہ ایسا ہوگا۔ مسئلہ نمبر 3۔ نبی کریم ﷺ سے یہ مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت زید سے فرمایا : ” میں تجھ سے زیادہ اپنے لیے کسی کو قابل اعتماد نہیں سمجھتا جائو حضرت زینب کو میری طرف سے دعوت نکاح دو “ (1) ۔ حضرت زید نے کہا : میں گیا اور انہیں اپنی پشت کی جانب رکھا مقصود نبی کریم ﷺ کی توقیر و تعظیم تھی میں نے انہیں دعوت نکاح دی تو وہ اس سے خوش ہوگئیں اور کہا : میں کوئی کام کرنے والی نہیں یہاں تک کہ میں اپنے رب سے مشورہ کرلوں۔ تو وہ اپنی مسجد کی طرف اٹھیں اور قرآن کا حکم نازل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے ان سے شادی کی اور انہیں اپنے حرم میں داخل کیا۔ میں کہتا ہوں : اس حدیث کا معنی صحیح میں ثابت ہے اور امام نسائی نے یہ باب باندھا ہے۔ صلاۃ المراۃ اذا خطبت واستخار تھا ربھا۔ ائمہ نے اسے روایت کیا الفاظ مسلم کے ہیں۔ حضرت انس سے مروی ہے : جب حضرت زینب کی عدت ختم ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید سے فرمایا : ” اسے میری جانب سے دعوت نکاح دو “ (2) ۔ کہا : حضرت زید گئے یہاں تک کہ ان تک پہنچے جب وہ آٹا گوند رہی تھیں۔ حضرت زید نے کہا : جب میں نے حضرت زینب کو دیکھا تو اس کی وجہ سے میرے اوپر ہیبت طاری ہوگئی یہاں تک کہ میں انہیں دیکھ بھی نہ سکا اور اس کی جرات بھی نہ ہوئی کہ میں کہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا ذکر کیا ہے، میں نے انہیں اپنی پشت کی جانب کیا اور پنی ایڑیوں پر پلٹا میں نے کہا : اے زینب ! رسول اللہ ﷺ نے بھیجا ہے آپ تیرا ذکر کر رہے تھے۔ حضرت زینب نے کہا : میں کوئی چیز کرنے والی نہیں یہاں تک کہ میں اپنے رب سے مشورہ کروں، وہ اپنی مسجد کی طرف اٹھیں قرآن نازل ہوا۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور بغیر اجازت اندر تشریف لائے۔ کہا : ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا جب دن طویل ہوگیا۔ ایک روایت میں ہے : یہاں تک کہ صحابہ نے آپ کو چھوڑا۔ حضرت انس کی روایت میں ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ حضور ﷺ نے کی کسی عورت سے شادی پر ایسا ولیمہ کیا ہو جیسا ولیمہ حضرت زینب کے ساتھ شادی پر کیا۔ آپ نے ایک بکری ذبح کی۔ ہمارے علماء نے کہا : حضور ﷺ کا زید کو یہ فرمانا فاذکر ھاعلی سے مراد اسے دعوت نکاح دو ، جس طرح پہلی حدیث وضاحت کرتی ہے۔ یہ حضرت زید کا امتحان تھا تاکہ ان کا صبر، اطاعت اور رضامندی ظاہر ہو۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ کائی آدمی اپنے ساتھی کو کہے : فلاں کو میری طرف سے دعوت نکاح دو یعنی جو اس دوست کی مطلقہ بیوی تھی۔ اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ جب حضرت زینب نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اور اس کا سپرد کرنا صحیح ثابت ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے نکاح کے عمل کو اپنے ذمہ لے لیا، اسی وجہ سے فرمایا : فلما قضی زید منھا وطرا زوجنکھا۔ امام جعفر صادق بن محمد اپنے آباء سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے بارے میں آگاہ کیا تو بغیر اجازت کے آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ نہ نیا نکاح کیا گیا اور نہ ہی مہر مقرر ہوا (1) ۔ اور ہمارے حقوق میں جو شرط ہے اور جو ہمارے لیے مشروع ہے اس میں سے کوئی بھی چیز نہ ہوئی۔ یہ حضور ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے جن میں کوئی آپ کے ساتھ شریک نہیں، اس پر مسلمانوں کا اجتماع ہے، اسی وجہ سے حضرت زینب نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں : تمہاری شادیاں تمہارے آباء نے کیں اور میری شادی اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ سے کی (2) ۔ امام نسائی نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت زینب نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتیں : اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح آسمان میں کیا۔ انہیں کے بارے میں حجاب کا حکم نازل ہوا (3) ۔ اس کی بحث آگے آئے گی۔ مسئلہ نمبر 5۔ اس آیت میں منعم علیہ حضرت زید بن حارثہ ہیں جس طرح ہم نے بیان کیا ہے۔ اس کی خبر سورت کے آغاز میں گزرچکی ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ ان کا چچا ایک دن انہیں مکہ مکرمہ میں ملا، وہ مکہ مکرمہ میں اپنے ایک کام کے لیے آیا تھا۔ اس نے پوچھا : تیرا کیا نام ہے اے بچے ؟ آپ نے جواب دیا : زید۔ اس نے پوچھا : تو کس کا بیٹا ہے ؟ جواب دیا : حارثہ کا بیٹا ہوں۔ پوچھا : وہ کس کا بیٹا ہے ؟ آپ نے جواب دیا : شراحیل کلبی کا۔ اس نے پوچھا : تیری ماں کا کیا نام ہے ؟ آپ نے جواب دیا : سعدی۔ اور میں بنو طی کے ننہال سے ہوں۔ چچا نے زید کو اپنے سینے سے لگایا۔ اور چچا نے اپنے بھائی اور قوم کو پیغام بھیجا تو وہ حاضر ہوگئے۔ انہوں نے آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ رہے۔ انہوں نے پوچھا : تو کس کی زیر کفالت ہے ؟ حضرت زید نے جواب دیا : حضرت محمد بن عبداللہ کے ہاں۔ وہ لوگ حضور ﷺ کے پاس آئے اور گزارش کی : یہ ہمارا بیٹا ہے۔ اسے ہماری طرف لوٹا دیں۔ فرمایا : میں یہ معاملہ اس پر پیش کرتا ہوں اگر اس نے تمہیں اختیار کیا تو اس کا ہاتھ پکڑ لینا۔ حضور ﷺ نے حضرت زید کی طرف پیغام بھیجا۔ فرمایا : کیا تو انہیں پہچانتا ہے ؟ عرض کی : جی ہاں۔ یہ میرا باپ ہے، یہ میرا بھائی ہے اور یہ میرا چچا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا :” میں تیرے لیے کیسا مالک ہوں ؟ “ تو حضرت زید رونے لگے اور عرض کی : آپ نے مجھ سے اس بارے میں کیوں پوچھا ہے ؟ فرمایا : ” میں تجھے اختیار دینا چاہتا ہوں اگر تو پسند کرے کہ ان کے ساتھ جائے تو ان کی طرف چلے جانا اگر تو ارادہ کرے کہ تو یہاں ہی رہے تو مجھے تو پہچانتا ہی ہے “۔ حضرت زید نے عرض کی : میں آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا۔ ان کے چچا نے انہیں اپنی طرف کھینچا اور کہا : اے زید ! تو نے اپنے باپ اور چچا پر غلامی کو ترجیح دی ہے۔ حضرت زید نے کہا : اللہ کی قسم ! حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا کے ہاں غلامی مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں تمہارے پاس ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ”’ گواہ رہنا میں اس کا وارث ہوں اور یہ میرا وارث ہے “۔ تو پھر زید بن محمد کے نام سے وہ پکارے جاتے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : آیت ادعوھم لاباء ھم اور یہ آیت نازل ہوئی : آیت ماکان محمد ابا احدمن رجالکم مسئلہ نمبر 6۔ امام ابو القاسم عبد الرحمن سہیلی نے کہا : ان کو زید بن محمد ہی پکارا جاتا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : آیت ادعوھم لاباء ھم تو انہوں نے کہا : میں زید بن حارثہ ہوں۔ ان کا یہ کہنا حرام ہوگیا : انا زید بن محمد جب ان سے یہ شرف اور یہ فخر لے لیا گیا اور اللہ تعالیٰ کو ان کی وحشت و تنہائی کا علم ہوا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کا نام لیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت فلما قضی زید منھاوطرا ضمیر سے مراد حضرت زینب ہے اللہ تعالیٰ جس کا نام قرآن حکیم میں رکھ دے تو اس کا نام بھی قرآن ہوگیا جس کا عبادت گاہوں میں تلاوت کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ انہیں انتہائی شہرت سے نوازا۔ اس میں آپ کے لیے انس تھا اور حضرت محمد ﷺ کی ابوت کے فخر کے مقابلہ میں اس عزت سے نوازا گیا۔ آپ نے حضرت ابی بن کعب رضی رحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہ اللہ عنہ کا یہ قول سنا جب نبی کریم ﷺ نے انہیں کہا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر فلاں سورت پڑھوں “ (1) تو وہ رونے لگے عرض کی : کیا میرا وہاں ذکر ہوا ؟ ان کا یہ رونا خوشی کے طور پر تھا، جب انہیں یہ خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے تو اس کا کیا حال ہوگا جس کا اسم قرآن میں ہوگا جس کو ہمیشہ تلاوت کیا جائے گا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ جب اہل دنیا قرآن کو پڑھیں گا تو اسے بھی پڑھیں گے۔ اہل جنت کا بھی یہی حال ہے یہ مومنوں کی زبان پر ہمیشہ رہے گا، جس طرح رب العالمین کے ہاں اس کا خصوصی ذکر ہوتا رہے گا کیونکہ قرآنی کلام قدیم ہے وہ باقی رہنے والا ہے ختم نہ ہوگا۔ حضرت زید کا نام ان مکرم، مرفوع اور مطہر صحیفوں میں موجود ہے سفرہ کراما بررۃ، تلاوت کرتے وقت اس کا ذکر کرتے ہیں یہ شرف مومنوں کے ناموں میں سے کسی نام کو حاصل نہیں مگر انبیاء میں سے نبی کے اسم کو حاصل ہے۔ حضرت زید بن حارثہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ بدلہ عطا ہوا جو آپ سے حضرت محمد ﷺ کے اب ہونے کا شرف لیا تھا۔ آیت میں یہ زائد ہے کہ فرمایا : واذتقول للذی انعم اللہ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ اس پر انعام فرمایا۔ تو یہ اس امر پر دال ہے کہ وہ جنتی ہے۔ اس کا علم موت سے پہلے ہوگیا یہ ایک اور فضیلت ہے۔ مسئلہ نمبر 7۔ وطرا، وطرمرد کی اس حاجت کو کہتے ہیں جس میں اسے کوئی پریشانی لاحق ہو۔ اس کی جمع اوطار ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جس حاجت کا ارادہ کیا یعنی جماع تو اس کو پورا کرچکے۔ اس میں اضمار ہے، یعنی جب حضرت زید نے حاجت پوری کی لی اور اسے طلاق دے دی تو ہم نے آپ کی اس سے شادی کردی۔ اہل بیت کی قراءت زوجتکھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وطر سے مراد طلاق ہے ؛ یہ قتادہ کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 8۔ بعض علماء نے اس آیت سے اور حضرت شعیب (1) کے قول آیت انی ارید ان انکحک ( القصص : 27) سے اس نقطہ نظر کی طرف گئے ہیں کہ نکاح میں اس معنی کی ترتیب اس طرح ہونی چاہیے انکحہ ایاھا خاوند کی ضمیر پہلے ہو جس طرح دونوں آیتوں میں ہے حضور ﷺ نے چادر والے سے یہ فرمایا تھا : اذھب فقد انکحتکھا بما معک من القرآن جا میں نے تیرا اس عورت سے نکاح کردیا ہے اس کے بدلے میں جو تیرے پاس قرآن ہے (2) ۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ کوئی لازم نہیں کیونکہ خاوند اس آیت میں مخاطب ہے تو اس کو مقدم رکھنا اچھا تھا (3) ۔ نکاح میں دونوں برابر ہیں پس جس کو چاہے مقدم کر دے۔ اب مردوں کے درجہ کے علاوہ ترجیح کی کوئی صورت باقی نہ رہی کیونکہ مرد ہی گھر کا نظام چلانے والے ہیں۔ مسئلہ نمبر 9۔ آیت زوجنکھا اس امر پر دلیل ہے کہ نکاح میں ولی کی حیثیت ثابت ہے۔ اس بارے میں ارحمۃ اللہ علیہختلاف پہلے گزر چکا ہے۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت زینب ؓ نے باہم فخر کیا۔ حضرت عائشہ نے کہا : میں وہ ہوں جسے فرشتہ سفید ریشم کے ایک ٹکڑا میں لایا اور اس نے کہا : یہ آپ کی زوجہ ہے۔ صحیح نے اسے نقل کیا ہے (4) ۔ حضرت زینب نے کہا : میں وہ ہوں جس کی شادی اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں سے اوپر ( رسول اللہ ﷺ سے) کی (5) ، امام شعبی نے کہا : حضرت زینب رسول اللہ ﷺ سے کہتیں : میں تین باتوں کی وجہ سے آپ پر نازو ادا کرسکتی ہوں۔ آپ کی ازواج میں سے کوئی ان کے ساتھ نازو ادا نہیں کرسکتیں۔ میرے جد اعلی اور آپ کے جد اعلی ایک ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ میرا نکاح آسمان میں کیا ہے۔ اور اس میں سفیر حضرت جبریل امین تھے (6) ۔ حضرت زینب سے مروی ہے : جب میں رسول اللہ ﷺ کے دل میں قدرو منزلت ولی ہوئی تو حضرت زید مجھ پر کوئی قدرت نہیں رکھتے وہ اس سے نہ رکے مگر اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے روک دیا تو وہ مجھ پر قادر نہ ہوئے۔
Ayahs 33:38–39

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

پیغمبر ﷺ پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے انکے لئے مقرر کردیا اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے اور خدا کا حکم ٹھہر چکا تھا

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

(اور) جو خدا کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور خدا کے سواء کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور خدا ہی حساب کرنے کو کافی ہے

آیت سنۃ اللہ فی الذین خلو من قبل یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمام امت کو خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا یہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں انبیاء کی قدیمی سنتیں ہیں کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کریں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کیا۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کے لیے نکاح میں جو وسعت عطا کی یہ گزشتہ انبیاء کی سنت تھی جس طرح حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہما السلام۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی ایک سو بیویاں اور تین سو لونڈیاں تھیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ ثعلبی نے مقاتل اور ابن کلبی سے روایت نقل کی ہے کہ اشارہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی طرف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور جس عورت کی وجہ سے آپ آزمائش میں پڑے دونوں کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا۔ سنت کا لفظ مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یعنی سن اللہ لہ سنۃ واسعۃ، آیت الذین خلوا اس سے مراد انبیاء ہیں۔ اس کی دلیل وہ صفت ہے جس کا ذکر بعد میں کیا۔ آیت الذین یبلغون رسلت اللہ۔