Ayah 32:21 قرآن حکیم محض تنزیل خداوندی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ سراسر اتاری گئی کتاب ہے۔ یعنی یہاں پر " منزل " نہیں " تنزیل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ اور بلا غت کا یہ اسلوب مشہور و معروف ہے کہ مصدر کا حمل زور بیان اور مبالغہ کے لئے ہوتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے " زَیْدٌ عِلْمٌ " یا " زَیْدَ سَخَاوَۃ " یا " زید عدل " یعنی " زید تو نرا علم ہے " یا " زید نری سخاوت ہے " یا " زید عین عدل ہے " وغیرہ۔ سو اسی فرق کو ظاہر اور واضح کرنے کے لئے ہم نے ترجمہ ان الفاظ سے کیا ہے ۔ وا لحمد اللہ ۔ سو یہ کتاب حکیم سراسر کلام خدا وندی اور عین منزل من اللہ ہے۔ اس میں کسی بھی طرح کا کوئی شائبہ کسی آمیزش کا نہیں۔ اور صرف یہی کتاب ہے جو اس شان کی حامل اور بعینہ کلام خدا وندی ہے۔ پوری روئے زمین پر اس کے سوا دوسری کوئی بھی کتاب ایسی موجود نہیں ہے۔ اور یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ نیز " تنزیل " کے معنیٰ صرف اتارنے کے نہیں ہوتے بلکہ درجہ بدرجہ اور خاص اہتمام کے ساتھ اتارنے کے ہیں۔ سو اس کتاب حکیم کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے خاص اہتمام کے ساتھ اتارا گیا ہے ۔ فلہ الحمد ولہ الشکر ۔ سو اس کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا اس کتاب حکیم کے حضور دل و جان سے جھک جھک جائے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 32:32 تنزیل کتاب سے مقصود انذار و تبلیغ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ آپ خبردار کریں ایسی قوم کو جسکے پاس آپ سے پہلے ۔ ماضی قریب میں ۔ کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا۔ یعنی کوئی پیغمبر۔ ورنہ مطلق نذیر ۔ خبردار کرنے والے ۔ تو ہمیشہ ہی رہے اور ان کے اندر زمانہ ئِ جاہلیت میں بھی اہل توحید موجود تھے۔ یہاں تک کہ اس دور میں توحید کی دعوت دینے والوں کی ایک ایسی جماعت موجود رہی ہے جن کا لقب ہی " حنفاء " تھا۔ جن میں کئی بڑی بڑی شخصیات کے نام آتے ہیں۔ مثلاً قس بن ساعدۃ الایادی، امیہ بن ابی اصلت، سوید بن عمرو المصطلقی، قیس بن صرقہ، زید بن عمرو بن نفیل، ورقہ بن نوفل، وکیع بن سلمہ، عبید اللہ بن جحش، عامر بن الظرب العددانی اور عبد اللہ القضاعی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب حضرات اعلانیہ طور پر توحید کو اصل دین کہتے اور شرک سے اپنی براءت و بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ماضی قریب میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والے کتبات سے بھی ان ادوار کے لوگوں میں دین توحید کا ثبوت ملتا ہے۔ ظاہر ہے کہ توحید کی یہ روشنی ان لوگوں کے اندر حق کے دعاۃ اور مبلغین کے ذریعے ہی آئی ہوگی۔ سو یہ بات ان لوگوں کے اندر دعوت حق دینے والے مبلغین کا پتہ دیتی ہے۔ اس لئے مطلق نذیر تو ان لوگوں کے اندر اگرچہ موجود تھے، لیکن کوئی نبی و رسول ان کے درمیان عرصہ دراز سے نہیں آیا تھا۔ عرب میں دین حق کی روشنی پھیلانے کے لئے سب سے پہلے حضرت ہود اور حضرت صالح آئے مگر قبل از تاریخ کے زمانے میں۔ پھر حضرت ابراہیم و اسماعیل ۔ علیھما الصلوۃ والسلام ۔ آئے تو ان کو آئے ہوئے بھی اس وقت کوئی اڑھائی ہزار برس گزر چکے تھے۔ ان کے بعد عربوں میں حضرت شعیب (علیہ السلام) آئے تھے مگر ان کو بھی حضور کی بعثت تک کم و بیش کوئی دو ہزار برس ہوچکے تھے۔ اس کے پیش نظر یہ کہنا بالکل بجا اور درست ہے کہ ان لوگوں میں آپ سے پہلے کوئی نذیر ۔ پیغمبر۔ نہیں آیا تھا۔ بہرکیف یہ اس کتاب کے اتارنے کی غرض بیان فرمائی گئی تاکہ آپ اس کے ذریعے ان امی لوگوں کو انکے انجام سے خبردار کریں تاکہ یہ راہ پاس کیں۔ سو ان وجوہ کے اعتبار سے ان لوگوں کے اندر اس کتاب حکیم کا اتارا جانا انعام پر انعام اور احسان پر احسان قرار پاتا ہے جس کا طبعی اور لازمی تقاضا یہ تھا کہ یہ آگے بڑھ کر اس کو اپناتے اور دل و جان سے اس کو قبول کر کے اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرتے۔ مگر انہوں نے اس سے منہ موڑا اور اعراض برتا اور اپنے لیے خسارے پر خسارے کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 32:43 بعض آفاقی دلائل کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی تو ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو چھ دنوں میں۔ اور بعض مفسرین کرام کے نزدیک اس سے مراد چھ ادوار ہیں۔ اس سے وہ معروف دن بہرحال مراد نہیں ہوسکتے جو سورج کے طلوع و غروب کے اعتبار سے بنتے ہیں۔ کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش سے قبل یہ معروف دن تو بہرحال موجود نہ تھے۔ پھر چھ دنوں میں کیوں پیدا فرمایا ؟ جبکہ اس کی قدرت " کن فیکون " کی ہے ؟ تو اس کی حکمتوں کو وہی وحدہ لاشریک جانے۔ ہمیں بہرحال اس سے ایک اہم سبق تانی و تدریج کا دیا گیا ہے کہ جب اللہ پاک نے قادر مطلق ہونے کے باوجود اس کائنات کو یکدم نہیں بلکہ اتنی مدت میں پیدا فرمایا تو انسان ضعیف البنیان کو بھی جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیئے۔ بہرکیف چھ دنوں سے مراد چھ خدائی دن ہیں اور آگے اس بات کی تصریح موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کا ایک دن تمہاری گنتی کے لحاظ سے ایک ہزار برس کا ہوتا ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمانوں اور زمین اور انکے درمیان کی اس کائنات کی تخلیق کسی اتفاقی حادثے یا واقعے کے طور پر نہیں ہوئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نہایت تدریج اور حکمت کے ساتھ وجود بخشا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کوئی کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک نہایت ہی بامقصد اور باغایت کارخانہ قدرت ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
4 استواء علی العرش اور اس سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر وہ مستوی ہوا عرش پر ۔ جیسا اس کی شان کے لائق ہے -: اس استواء و جلوہ فرمائی اور جلوہ فروزی کی کیفیت کیا ہے ؟ اس کی تحدید و تعیین ہمارے بس سے باہر ہے۔ ہم تو بس یہی کہہ سکتے ہیں " کما ینبغی و یلیق بشانہ " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بتایا یہ جا رہا ہے کہ زمین و آسمان کے اس بےمثال کارخانے کو بنانے اور اس کو وجود بخشنے کے بعد اللہ پاک اس سے کہیں الگ ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ اس کی تدبیر بھی وہ خود فرماتا ہے اور اس پر حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے کہ جس طرح اس کا خالق وہی ہے اسی طرح اس کا مالک اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ استواء سے متعلق ضروری تفصیل اس سے پہلے سورة اعراف، یونس اور ہود وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جس طرح اس حکمت بھری کائنات کا خالق ومالک بلاشرکت غیرے وہی وحدہ لاشریک ہے اسی طرح اس میں حاکم و متصرف بھی تنہا وہی ہے۔ سو نہ اس کائنات کی تخلیق میں کوئی اسکا شریک وسہیم ہے اور نہ ہی اس کے حکم و تصرف میں۔ پس اس کی عبادت و بندگی میں بھی کوئی اسکا شریک وسہیم نہیں ہوا۔ سو جب اس کا خالق ومالک وہی ہے تو اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ } ۔ (الاعراف : 54) ۔
Ayah 32:55 ہر معاملے کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی کی طرف چڑھتا ہے ہر معاملہ ایک ایسے دن میں جسکی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار برس بنتی ہے "۔ یعنی تم لوگ تو اپنے محدود ذہنوں اور ناقص و قاصر پیمانوں کی بنا پر یہ کہتے اور یہ چاہتے ہو کہ ہر چیز کا ردِّ عمل فوری طور پر ہی ظاہر ہوجایا کرے۔ مگر اللہ پاک کے پیمانے اتنے وسیع اور اس کے معیار اتنے بلند اور اعلیٰ وارفع ہیں کہ تمہارا تصور و ادراک بھی اس کے فہم و احاطہ سے عاجز و قاصر ہے۔ اس کے یہاں کا تو ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار برس کے برابر ہے۔ وہاں کے فیصلے مہینوں اور سالوں کے اعتبار سے نہیں، سینکڑوں اور ہزاروں برسوں کے اعتبار سے ہوتے ہیں۔ پھر وہ سب اسی کی طرف لوٹتے اور چڑھتے ہیں اور وہی انہیں ادلتا بدلتا ہے۔ جیسا چاہے کرے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں اور اسی کے ارادئہ و اختیار کے ماتحت ہے۔ اور پھر قیامت کے اس ہولناک دن میں بھی یہ سب کام اسی کے حضور پہنچیں گے جبکہ وہ ان کے بارے میں آخری اور عملی فیصلہ فرمائے گا جو کہ بڑا ہی مہیب اور ہولناک دن ہوگا۔ اور اس کی مدت و مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی ۔ { کان مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ } ۔ (المعارج : 4) ۔ پس جلد بازی سے کام لینے کی بجائے تم لوگ اس کے ارشادات پر سچے دل سے ایمان لا کر اپنی دنیا و آخرت کو بنانے اور سنوارنے کی فکر کرو کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت اور یہ عظیم الشان نعمت پھر کبھی ملنے والی نہیں ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکین کے ایک مشرکانہ وہم کا قلع قمع کردیا گیا جس میں مشرک لوگ قدیم زمانے میں بھی مبتلا تھے اور آج بھی مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا اور ماننا یہ تھا اور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت کو صرف آسمان تک محدود رکھا ہے اور زمین کا کام اور اس کا انتظام اس نے اپنے دوسرے مختلف " پیاروں " کے سپرد کردیا ہے اور اسی بیماری کے جراثیم ان کلمہ گو مشرکوں میں بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے طرح طرح کے ناموں سے دوسری مختلف " سرکاریں " بنا رکھی ہیں اور زمین کے مختلف حصے انہی کے ناموں پر تقسیم کر رکھے ہیں۔ سو اس ارشاد سے اس مشرکانہ واہمے کی جڑ نکال دی گئی اور واضح فرما دیا گیا کہ ہر حکم صادر بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے اور پھر اس کا رجوع بھی اسی کی طرف ہوتا ہے اور زمین و آسمان کی پوری کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ نہ اس کی تخلیق وتکوین میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ ہی اس کے حکم و تصرف میں۔
Ayah 32:66 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ یہ ہے ۔ اللہ ۔ جو اس شان کا مالک ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے ۔ اللہ ۔ ایک برابر جاننے والا نہاں وعیاں کا، سب پر غالب نہایت ہی مہربان "۔ یعنی دنیا والوں کی طرح نہیں کہ کچھ عرصے کے لئے تھوڑا اور معمولی سا کوئی اقتدار کہیں مل گیا تو اس کے نشے میں چور ہو کر دوسروں کو دبانا اور ان پر مظالم ڈھانا شروع کر دئیے۔ بلکہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ یہ ہے کہ وہ سب پر اور ہر طرح سے اور ہمیشہ کے لئے غالب ہونے کے باوجود انتہائی مہربان بھی ہے۔ اس کی رحمت چار سو پھیلی ہوئی ہے اور وہ ایسا مہربان ہے کہ وہ جرم و قصور پر فوراً نہیں پکڑتا بلکہ سچی اور خالص توبہ پر وہ اپنے بندے کے زندگی بھر کے تمام گناہوں کو یکسر معاف فرما دیتا ہے۔ اور یہ سب کچھ صرف اسی وحدہ لا شریک کی صفت اور اس کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ دوسری کوئی بھی ہستی ایسی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے جو اس کی ان صفات میں سے کسی بھی صفت میں شریک وسہیم ہوسکے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہی ہے جو نہاں وعیاں کو ایک برابر جاننے والا ہے۔ اور وہی ہے جو اپنی کائنات اور اپنی مخلوق کے ظاہر و باطن اور اس کے تمام اسرار و رموز سے واقف و آگاہ ہے۔ بھلا خالق بھی اگر اپنی مخلوق کے اسرار سے واقف نہیں ہوگا تو پھر اور کون واقف ہوگا جبکہ وہی ہے جو لطیف وخبیر ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر صاف اور صریح طور پر اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ (الملک : 14) ۔ سو وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک معبود برحق ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 32:77 اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق نہایت عمدہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کی ہر تخلیق نہایت عمدہ ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " جس نے جس چیز کو بھی پیدا فرمایا نہایت عمدہ بنایا "۔ اور ایسا عمدہ کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہر چیز اپنے مقصد وجود کی ادائیگی کے لئے اس قدر موزوں و مناسب ہے کہ ہمارے لئے اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ آپ اپنے کان، اپنی آنکھ، اپنی ناک وغیرہ وغیرہ میں سے کسی ایک کو ہی دیکھ لیجئے۔ اس میں غور کیجئے تو آپ کو کچھ اندازہ ہوگا خداوند قدوس کی اس بےمثال قدرت و صناعی کا جس کے ایک سے ایک بڑھ کر مظاہر خود آپ کے جسم کے اندر اور آ پکے ارداگرد ہر طرف پھیلے بکھرے موجود ہیں ۔ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ سو اس کی کائنات میں سے جس چیز پر بھی غور کیا جائے اس سے اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت و ربوبیت شاملہ کا پتہ چلتا ہے۔ سو اسی سے غور و فکر کرنے والے پر یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جو ذات ایسی قادر مطلق، ایسی حکیم مطلق اور اس قدر لطیف وخبیر اور رحمان و رحیم ہے اس کے بارے میں کسی بھی طرح یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے اس کائنات کو یوں ہی بیکار اور بےمقصد بنادیا ہو ۔ تبارک و تعالیٰ ۔ پس ضرور ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز ہوسکے اور اس کے نیکو کار بندے اس کے انعام سے سرفراز ہوسکیں اور باغی و سرکش اپنے کیے کرائے کی پوری سزا و جزا پاس کیں۔ سو وہی ہے قیامت کا دن جس نے اس دنیا کے بعد بہرحال بپا ہو کر رہنا ہے۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بدرجہ تمام و کمال پورے ہو سکیں اور اس پر حکمت کائنات کے مقصد وجود و تخلیق کی حکمت پوری ہو سکے۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست و بود عبث و بیکار قرار پاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
8 تخلیق انسان قدرت کا ایک عظیم الشان شاہکار : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی تخلیق مٹی سے قدرت کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے انسان کی تخلیق کا آغاز فرمایا مٹی سے "۔ کہ ابوالبشر حضرت آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی۔ پھر اس کے بعد ہر انسان جس نطفے سے بنتا ہے وہ غذا و خوراک سے پیدا ہوتا ہے۔ اور انسان کے کام آنے والی یہ غذا و خوراک جو طرح طرح کے الوان و اَشکال پر مشتمل ہے، اسی مٹی سے حاصل ہوتی ہے۔ اور اسطرح بھی انسان کی تخلیق و پیدائش بالواسطہ طور پر اسی مٹی سے ہوتی ہے۔ اور یہ سب کچھ اسی کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کا ایک عظیم الشان مظہر اور کھلا ہوا نشان ہے۔ سو جب اس کی ان اور ان صفات میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو سوچو اور غور کرو اے عقلمندو کہ کہاں پاؤں تلے روندی جانے والی یہ بےحس اور بےجان مٹی اور کہاں اس سے وجود پذیر ہونے والا عقل و خرد کی روشنی رکھنے والا یہ انسان جو اس پوری کائنات کا مخدوم ومطاع اور اپنے خالق ومالک کی صنعت تخلیق کا شاہکار ہے۔ سو اس کی عظیم الشان اور بےمثال قدرت کا نمونہ دیکھنے کیلئے تم لوگوں کو کہیں دور اور باہر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے ہی نفسوں میں جھانک کر دیکھ لو تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی۔ سو اس سب کے باوجود اپنے اس خالق ومالک سے اعراض و روگردانی یہ کس قدر بےانصافی اور کتنی بڑی ناشکری اور ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے باوجود اس نے اپنے ایسے باغیوں اور سرکشوں کو جو ڈھیل دے رکھی ہے یہ کس قدر حلم ہے اس ذات اقدس و اعلیٰ کا اور یہ اس کے سوا اور کسی کیلئے ممکن ہی نہیں ۔ فسبحان اللہ رب العالمین ۔ سو انسان کی تخلیق مٹی سے قدرت کا ایک عظیم الشان شاہکار بھی ہے اور اس میں بڑا سامان عبرت و بصیرت بھی ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو دل کی آنکھوں سے دیکھتے اور غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 32:89 انسانی نسل کی حفاظت وبقاء کا انتظام قدرت کی عظمت شان کا ایک اور شاہکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے رکھ دیا اس کی نسل کو ایک بےقدرے پانے کے ست اور خلاصے میں "۔ سو اس ارشاد میں انسانی تخلیق و پیدائش کے محیر العقول نظام میں دعوت غور و فکر ہے۔ سو ذرا سوچو اور غور کرو اے غفلت کے مارے انسانو ! کہ ایسا گلا سڑا بدبودار اور ناپاک پانی کہ اس کے نکلنے سے انسان نجس و ناپاک ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے مسجد میں داخلہ ممنوع، نماز پڑھنا منع اور وہ قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرسکتا تاوقتیکہ غسل نہ کرلے۔ پاک صاف نہ ہوجائے۔ سو اس ناقدرے مہین اور گندے پانی سے انسان جیسی اس عظیم الشان اور اشرف المخلوقات کو پیدا کردینا اس وحدہ لاشریک کی قدرت و عنایت کا کس قدر عظیم الشان کرشمہ ہے۔ پھر بھی اس سے غفلت و روگردانی کس قدر بڑا ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی ہے۔ سو سوچو کہ کیسی قدرت اور حکمت ہے اس خالق ومالک کی جس سے اس نے انسانی تخلیق و پیدائش کے اس محیر العقول نظام کو جاری وساری فرمایا ہے۔ اور کیا حق ہے اس کا اس کے بندوں پر اور کیا صورت ہوسکتی ہے اس کے اس حق واجب کی ادائیگی کی ؟ ۔ اللہم ربنا الہمنا مراشد امورنا واعذنا من شرور انفسنا -
10 انسان کی تخلیق ایک بےقدرے پانی کے ستْ سے : لفظِ " سُلالہ " کا معنیٰ و مفہوم ہے ست اور خلاصہ۔ سو اس سے انسانی وجود کی تکوین و تکمیل اور اس کے حیرت انگیز مراحل قدرت کی عظمت شان کے اور عظیم مظاہر ہیں۔ " سلالہ " اصل میں کہتے ہیں کسی چیز کے " خلاصہ "، " نچوڑ " اور " ست " کو۔ سو اب ذرا غور کیجئے اس " سلالۃ " اور " خلاصہ " میں جس سے انسان کی تخلیق اور اس کے وجود کا آغاز ہوتا ہے کہ کیا کیا غذائیں یہ انسان کھاتا ہے اور ان سے کس کس طرح چھٹ چھٹاکر اور چھن چھنا کر وہ خون پیدا ہوتا ہے جس پر اس کی زندگی کا مدارو انحصار ہے۔ پھر کس طرح اس خون سے چھٹ چھٹا کر وہ مادہ تولید پیدا ہوتا ہے جس سے انسانی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ پھر اس قطرہ منویہ میں کس حیرت انگیز طریقے سے بیشمار قسم کے وہ باریک باریک جرثومے رکھ دئیے جاتے ہیں جو خورد بین کے بغیر نظر بھی نہیں آسکتے مگر قدرت کی صناعی کا حیرت انگیز کمال دیکھئے کہ اس باریک جرثومے کے اندر باپ کی پوری تصویر پنہاں ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کا رنگ، اس کی شکل، اس کی صلا حتیں اور اس کی خصلتیں وغیرہ تک اس کے اندر موجود ہوتی ہیں۔ اور اسی کے مطابق وہ سب اس کی اولاد میں ظاہر ہوتی ہیں۔ جیسا باپ ہوگا ویسی ہی اس کی اولاد ہوگی۔ پھر وہ جرثومہ بیضہ انثوی سے مل کر رحم مادر کی دیوار سے جا کر چپک جاتا ہے اور اندھیرا در اندھیرا کے اس ماحول میں وہ ایک سے دوسری شکل اختیار کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک کامل انسان کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ سو یہ اس قادر مطلق کی کس قدر عظیم الشان حکمت، قدرت، رحمت اور عنایت کا مظہر ہے۔ پھر کس قدر ظالم اور کتنے ناشکرے اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود اس خالق ومالک سے منہ موڑ کو دوسری فر ضی وہمی اور بےحقیقت چیزوں کے آگے جھکتے اور ان ہی کی خدائی کا دم بھرتے ہیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو غور کرنے والوں کے لیے خود اپنی جانوں کے اندر عظیم الشان دلائل ہیں حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت مطلقہ اور حکمت بےپایاں کے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 32:911 انسانی اعضاء وجوارح کا تسویہ بطن مادر کے اندھیروں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے اس کو برابر کردیا یعنی بطن مادر کے تہ در تہ اندھیروں میں اور اس طرح کہ اس میں کسی اور کا کوئی اثر اور عمل دخل نہیں ہوتا یہاں تک کہ خود اس ماں کو بھی کچھ خبر تک نہیں ہوتی جس کے پیٹ کے اندر اس قدر حکمت اور باریکی کے ساتھ جنین کی یہ صورت گری ہو رہی ہوتی ہے۔ بلکہ یہ سب کچھ وہ قادر مطلق تنہا اور خود بخود کرتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { ہُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَائُ } ۔ (آل عمران : 6) یعنی " وہ اللہ وہی ہے جو تمہاری صورت گری فرماتا ہے جیسے چاہتا ہے "۔ اور " سوی " کا لفظ " تسویہ " سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ کسی چیز کو سنوارنے اور اس کی نوک پلک درست کرنے کے آتے ہیں جس کو تکمیلی یا اتمامی عمل کہا جاتا ہے۔ اور دور حاضر کی اصطلاح یا آرٹ کی زبان میں اس کو Finishing یا Final Touch کہا جاتا ہے۔ اور اسی کو عربی زبان میں " اللمسات الاخیرۃ " کہا جاتا ہے۔ سو اس قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے مٹی سے بنے ہوئے اس انسان کی تکوین و تخلیق کے اس تیسرے دور میں اس کی نوک پلک سنواری اور اس تمام عمل کی تکمیل رحم مادر کے اس تنگ و تاریک ماحول میں فرمائی جس میں کسی طرح کی روشنی کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ بلکہ اندھیرا در اندھیرا اور۔ { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰث } ۔ کا منظر و مصداق تھا۔ اور یہ سب کام اس وحدہ لا شریک نے بلا شرکت غیرے تنہا خود کیا تو پھر اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں کسی کی شرکت کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟
12 انسانی وجود میں نفخ روح کی رحمت و عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " پھر اس نے پھونک دیا اس کے اندر اپنی روح میں سے "۔ یعنی اپنی طرف سے اس کے اندر روح پھونک دی۔ جس سے اس کے جسم کے اندر حرکت اور جان آگئی۔ سو روح کی اضافت حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف تعظیم و تشریف کے لئے ہے کہ یہ اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کی طرف سے ایک عظیم الشان عطیہ و احسان ہے جس سے اس نے اس انسان کو نوازا ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اپنی روح اس کے اندر پھونک دی۔ (ابو السعود، الاساس، الصفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ روح ایک خاص روح ہے جسکو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنے خاص فضل و کرم سے انسان کے اندر پھونکا ہے جس کو ملکوتی روح سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جو حیوانی روح کے علاوہ ہے۔ اور حیوانی روح اس کیلئے بمنزلہ مرکب اور سواری کے ہے۔ اور اسی روح ملکوتی اور نور یزدانی سے انسان کے اندر سمع و بصر اور عقل و فواد میں وہ روشنی پیدا ہوتی ہے جس سے اس انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ اور اس نور سے اگر وہ محروم ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر اس کا باطن بھی اسی طرح تیرہ و تار ہوجاتا ہے جس طرح کہ دوسرے حیوانات کا ہوتا ہے۔ اور ان لوگوں کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے دل اسی طرح کے ہوجاتے ہیں جس طرح کے دوسرے حیوانات کے ہوتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں ایسے لوگوں کے دل و دماغ اور ان کے سمع و اَبصار ادراکِ حق و ہدایت کی اہلیت و صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تسویہ اور نفخ روح سے پہلے انسان ایک حیوانی دور میں تھا اور اپنے وجود کے اس دور میں انسان حیوانات کی طرح ایک ناتراشیدہ مخلوق اور بصیرت و ادراک سے محروم چیز تھا۔ پھر قدرت کی رحمت و عنایت سے تسویہ کے ذریعے اس کے ظاہر کو سنوارا اور نکھارا گیا۔ اور نفخ روح کے ذریعے اس کے باطن کو منور و روشن کیا گیا۔ سو کتنے کتنے اور کیسے کیسے احسانات ہیں اس خالق کل، مختار مطلق اور فاطر فطرت کے جن سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا اور سرفراز فرمایا ہے جبکہ یہ انسان ایک مضغہء محض تھا ۔ فللہ الحمد رب العالمین بکل حال من الاحوال ۔
13 حصول علم و ادراک کے ذرائع سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی نے نوازا تم سب کو کانوں، آنکھوں اور دل و دماغ کی عظیم الشان نعمتوں سے "۔ جو کہ عظیم الشان ذرائع و وسائل ہیں حصول علم و معرفت اور اکتساب فیض کے۔ اور ان عظیم الشان نعمتوں اور عنایتوں سے اس واہب مطلق نے تمہیں ازخود اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ اور بغیر تمہاری طرف سے کسی درخواست و اپیل کے نوازا ہے۔ جو کہ کرم بالائے کرم ہے۔ سو اس سب کا تقاضا تو یہ تھا اور یہ ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اس کے آگے جھک جاتے اور ہمیشہ جھکے ہی رہتے مگر تم ہو کہ اس سب کے بر عکس کفر و شرک اور بغاوت و سرکشی کی راہ پر چل رہے ہو۔ سو تم لوگ کس قدر ناشکرے اور کتنے بےانصاف ہو ۔ { فَقَلِیْلا مَّا تَشْکُرُوْنَ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے واضح ہوجاتا ہے کہ تسویہ اور نفخ روح سے پہلے انسان پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ یہ حیوانات کی طرح ناتراشیدہ اور بصیرت و ادراک سے محروم تھا۔ جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا۔ سو اس دور کے بعد اس کو تسویہ اور نفح روح کے شرف سے نوازا گیا۔ سو تسویہ نے اس کے ظاہر کو سنوارا بنایا اور نفح روح نے اس کے باطن کو منور و معمور کیا۔ اب اس کو باقی اور محفوظ رکھنا اور اس کو گھٹانا یا بڑھانا انسان کے اپنے اختیار میں ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 32:10–1114 منکرین کے انکار واستعجاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ منکر لوگ بطور انکار واستعجاب کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر مٹ کر زمین میں کھو جائیں گے تو کیا واقعی ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا ؟ "۔ استفہام تعجب و انکار کے لئے ہے۔ یعنی ان لوگوں کے نزدیک ایسے نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کی عقل ناقص اور فہم قاصر سے یہ بات بعید اور بہت بعید ہے کہ انسان مر کر اور مٹی میں کھو اور کھپ جانے کے بعد پھر زندہ ہوجائے۔ اور انسان کے لئے تو واقعی یہ ایک ناممکن اور انہونی بات ہے لیکن یہاں بات انسان ضعیف البنیان اور اس کی محدود و مختصر کھوپڑی اور اس کی عاجز و قاصر عقل و فکر کی نہیں کہ اس کے اعتبار سے تو واقعی یہ امر مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ سو یہاں معاملہ انسان کا نہیں بلکہ انسانوں کے اس خالق ومالک کا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور جس کی شان ۔ { عَلٰی کُلِ شَیْئٍ قَدِیْرَ } ۔ کی ہے اور جسکے یہاں اس کے لئے نہ کوئی اسباب و وسائل درکار ہوں گے اور نہ ہی کسی غور و فکر اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ بلکہ ایک حکم و ارشاد کی ضرورت ہوگی اور بس۔ جونہی حکم ہوگا یہ سب کے سب حشر کے کھلے میدان میں آموجود ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ھُمْ بالسَّاھِرَۃ } ۔ (النازعات : 13-14) ۔ " وہ محض ایک جھڑکی اور ڈانٹ ہوگی جسکے نتیجے میں وہ سب کے سب میدان میں آموجود ہوں گے " ۔ نیز اس کام کیلئے کسی لمبی چوڑی مدت اور کسی بڑے وقت کی بھی کوئی ضرورت نہ ہوگی بلکہ یہ سب کچھ محض ایک لمحہ بھر میں تکمیل پذیر ہوجائیگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا اَمْرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ ھُوَ اَقْرَبْ } ۔ (النحل :77) ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس قدرت اور عظمت کے ؟ ۔ فسبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ ہے کہ اللہ پاک نے تو ان کو سمع و بصر اور عقل و خرد کی دولت سے نوازا تھا کہ یہ غور و فکر سے کام لیکر آخرت پر یقین کریں۔ اس کیلئے تیاری کریں۔ اور اس طرح یہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی و ابدی فوز و فلاح سے سرشار وفائز المرام ہوں۔ لیکن یہ الٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
15 اِنکار آخرت محرومیوں کی محرومی اور خرابیوں کی خرابی ۔ والعیاذ باللہ -: سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ خداوند قدوس کی اتنی شانیں اپنے وجود کے اندر اور باہر دیکھنے کے بعد کسی انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس لیے ان کو کوئی اشتباہ نہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات ہی کے منکر ہیں۔ اس لئے انکار آخرت کی بنا پر یہ لوگ غیر سنجیدہ، لاپروا اور نڈر ہوگئے ہیں۔ اور اس وجہ سے یہ حق بات سننے ماننے اور اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے اور ان کے نزدیک دنیا کا متاع فانی اور حطام زائل ہی سب کچھ ہے۔ یہ اسی کے لئے جینے اور مرنے کے عادی بن گئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ اگر یہ صحیح معنیٰ میں غور و فکر سے کام لیتے تو آخرت پر ایمان و یقین سے ان کیلئے کوئی مانع نہیں تھا اور یہ اس کو کبھی بعید نہ سمجھتے۔ لیکن یہ لوگ اصل میں اس کو ماننا چاہتے ہی نہیں اور اس کو تسلیم کرنا ان کیلئے بڑا شاق ہے۔ اس لیے یہ اس سے گریز و فرار کیلئے اس طرح کے حیلے بہانے ڈھونڈتے ہیں کیونکہ عقیدئہ آخرت کو ماننے اور تسلیم کرنے سے ان پر جو بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو یہ اپنانے اور ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے یہ لوگ خدا کے حضور پیشی اور اعمال کی جوابدہی کے منکر ہیں اور اس چیز کو ماننا اور تسلیم کرنا ان پر بہت شاق ہے۔ اس لیے یہ اس سے گریز و فرار کے لیے ایسے حیلے بہانے ڈھونڈتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 32:12–1381 منکرین کی قیامت کے دن کی حسرت کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم کسی طرح اس وقت کا حال دیکھ سکو جبکہ مجرم لوگ اپنے رب کے حضور اپنے سروں کو جھکائے کھڑے ہوں گے اور نہایت حسرت اور لجاجت کے ساتھ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب اب ہم نے خوب دیکھ اور سن لیا۔ پس تو ہمیں واپس دنیا میں بھیج دے تاکہ ہم نیک کام کریں کہ اب تو ہمیں پورا یقین آگیا "۔ کہ اب تو ہم نے عالم غیب اور آخرت کے ان تمام حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جن کی خبرحضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ دیا کرتے تھے۔ مگر ایسا ایمان و یقین جو کہ مشاھدہ کے بعد حاصل ہو، ہمارے یہاں مطلوب و مقبول ہی نہیں۔ یہاں تو مطلوب وہ ایمان ہے جو کہ ایمان بالغیب ہو اور جسکی جگہ دنیاوی زندگی کی وہ فرصت تھی جو کہ اب تمہارے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔ سو منکرین اس جہاں میں ایمان و یقین کا دعویٰ بھی بڑے زور و شور سے کریں گے اور واپس دنیا میں بھیجے جانے کی درخواست بھی۔ لیکن ان میں سے کسی بھی چیز کا ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا کہ اب نہ ان کے واپس آنے کی کوئی صورت ممکن ہو سکے گی اور نہ عمل کا کوئی موقعہ مل سکے گا اور نہ ان کی ایسی کسی درخواست کی کوئی شنوائی ہو سکے گی۔
Ayah 32:1421 مجرموں سے خطاب ان کی تقریع و توبیخ کیلئے : سو اس وقت ایسوں کو خطاب کر کے اس طرح کہا جائے گا اور اس وقت ان بدبختوں سے ایساکہنا ان کی توبیخ و تقریع کے لئے ہوگا۔ تاکہ باہر کی آگ کے ساتھ ساتھ ان کے قلوب و بواطن بھی حسرت و افسوس کی اس اندرونی آگ سے جلیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس طرح جنتیوں کو جنت کی ظاہر نعمتوں کے ساتھ ساتھ خوش کن باتیں بھی سننے کو ملیں گی تاکہ ان کا سرور دوبالا ہو۔ اسی طرح دوزخیوں کو دوزخ کے ظاہری اور ہولناک عذابوں کے ساتھ ساتھ باتیں بھی اسی طرح سننے کو ملیں گی جس سے دل بھی جلیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا کس قدر بڑا فضل و کرم اور احسان ہے کہ ان حقائق سے اس نے اتنا پیشگی اور اس قدر صراحت و وضاحت سے آگاہ فرما دیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے لیکن دنیا ہے کہ اس کے باوجود خواب غفلت میں محو و مگن ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
22 یوم حساب کو بھلا دینا باعث محرومی و عذاب ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو تم لوگ عذاب اس بنا پر کہ تم نے بھلا دیا تھا اپنے اس دن کی پیشی کو "۔ سو آخرت کے اس ہولناک دن اور وہاں کی باز پرس و جواب دہی کو بھلا دینا خرابیوں کی خرابی اور دائمی ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے کہ اس سے انسان لا ابالی، لاپرواہ اور قطعی طور پر غیر ذمہ دار بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ آخرت کے اس یوم عظیم کی حاضری اور پیشی کو یاد رکھنے والا ہمیشہ اس کے لیے تیاری کی فکر و کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اور وہ اپنے خالق ومالک کے حقوق کے ادائیگی کی بھی کوشش کرتا ہے اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی بھی۔ اور اس طرح وہ ایک ذمہ دار اور پاکیزہ انسان بن جاتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ جبکہ اس کے برعکس غافل انسان ایک شتر بےمہار بن کے رہ جاتا ہے اور اس کو اپنے انجام کی کوئی فکر و پروا ہی نہیں ہوتی جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
23 منکرین کے لیے ہمیشہ کے عذاب کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو تم لوگ ہمیشہ کا عذاب اپنے ان کرتوتوں کی بنا پر جو تم کرتے رہے تھے "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ انسان کو اپنے اعمال کے باعث ملتی ہے بلکہ برے عمل دراصل خود ہی دوزخ کی آگ ہیں۔ سو اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کے چھوٹے بچے دوزخ میں نہیں جائیں گے کہ انہوں نے ایسا کوئی عمل کیا ہی نہیں۔ بہرکیف ان سے کہا جائے گا کہ اب تم لوگ اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کے بدلے میں ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ ہم نے تم پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ یہ تمہاری اپنی ہی زندگی بھر کی کاشت کردہ فصل ہے۔ سو اب اس کو تم خود کاٹو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 32:1524 اللہ والوں کی شان عجز و انکسار اور خشیت و خشوع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو جب آیات خداوندی کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ فورا اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر گرپڑتے ہیں اور وہ تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ۔ اور وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتے اور اسی شان تواضع کے باعث اور اس کے نتیجے میں ان کو سچی اور حقیقی عزت و عظمت نصیب ہوتی ہے۔ سو یہ ہوتی ہے شان اللہ والوں کی کہ جب ان کو اللہ کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح کرتے ہوئے اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور کسی طرح کے عجب و استکبار میں مبتلا نہیں ہوتے۔ یہاں سجدہ کرنا واجب ہے ۔ فسبحان اللہ وبحمدہ، و سبحان اللہ العظیم ۔ سو اس کا ہم بندوں پر حق ہے کہ ہم اس کے حضور سجدہ ریز رہیں اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں کہ وہی ہے جو ہر خوبی کا مالک اور ہر تعریف کا مستحق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور وہی وحدہ لا شریک معبود برحق ہے اور ہر قسم کی عبادت اسی کا حق ہے۔
Ayahs 32:16–1725 اللہ والوں کی ایک خاص صفت ان کی شب بیداری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن کے پہلو دور رہتے ہیں انکے بستروں سے اپنے رب کی یاد میں "۔ اور اپنے رب کی یاد دلشاد ہی ان کے لئے اصل قوت اور حقیقی سرمایہ ہوتی ہے۔ اور اس کی رضا کا حصول ہی ان کی زندگی کا اصل مقصد اور نصب العین ہوتا ہے۔ اپنے اس ایمان و یقین کی بناء پر اور اس کی برکت سے جس سے وہ سرشار اور شاد کام ہوتے ہیں۔ سو ایمان و یقین سعادت دارین کی شاہ کلید ہے ۔ اللّھُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ آمین ثم آمین۔ سو آخرت کی بازپرس اور اپنے رب کے حضور پیشی کا خوف ان بندگان صدق و صفا پر ہمیشہ طاری رہتا ہے۔ اس لیے وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اور اپنے نرم و نازک بستروں کو ترک کرکے اور اپنے آپ کو آرام و راحت سے محروم کرکے اپنے رب کی عبادت و بندگی میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنے رب ذوالجلال کو پکارتے ہیں۔ اس کی گرفت و پکڑ اور اس کی ناراضگی سے ڈرتے بھی رہتے ہیں اور اس کی عنایات اور نوازشوں کی امید بھی رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے انکو دیا بخشا ہوتا ہے اس میں سے ہماری راہ میں اور ہماری رضا کیلئے خرچ بھی کرتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
26 اللہ ہی کو پکارنے اور انفاق فی سبیل اللہ کا درس : سو سچے اور مخلص اہل ایمان کی خاص صفات کے ذکر وبیان کے ذیل میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ "۔ یعنی اپنے رب کی اس عبادت و بندگی کے باوجود وہ کسی زعم میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمیشہ اپنے ربِّ جلیل کی ناراضگی سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور اس کی رحمت و عنایت کی امید رکھتے ہیں کہ ایمان خوف ورجا دونوں کے درمیان ہی میں ہوتا ہے۔ اور اس خالق کل، مالک مطلق کی عظمت شان کا حق اور اس کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ اس کی گرفت و پکڑ کے خیال سے اور اس کی عظمت شان کے احساس و استحضار سے ہمیشہ لرزاں وترساں رہے کہ اس کی گرفت و پکڑ بہت سخت اور اس کی شان بہت اعلیٰ وبالا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اس کی رحمت کی بھی پوری پوری امید رکھے کہ اس کی شان رحمت و عنایت بھی بہت بڑی اور ناپیداکنار ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس ضمن میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عنایت فرمودہ نعمتوں سے اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے خرچ بھی کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں ان مومنین مخلصین کی خاص صفات کے ذکر وبیان کے سلسلے میں دو چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک نماز اور دوسری انفاق۔ اور ایمان کے بعد یہی دو چیزیں اس کے اہم اور اولین مظاہر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور پھر انہی دو پر پورے دین کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
Ayah 32:1829 مومن و کافر برابر نہیں ہوسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ
کیا مومن اور فاسق برابر ہوسکتے ہیں ؟۔ یعنی ظاہری لحاظ سے اور نفس انسان ہونے کے اعتبار سے اگرچہ سب برابر ہیں مگر مرتبہ و مقام اور مآل و انجام کے اعتبار سے یہ دونوں باہم برابر نہیں ہوسکتے۔ اور دنیا میں ان کا یہ فرق ظاہر ہو نہیں رہا بلکہ یہاں تو الٹا بارہا فاسق انسان مزے اڑاتا نظر آتا ہے اور مومن تکلیف اٹھاتا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ کوئی اور ایسا جہان آنے والا ہے، اور ضرور آنے والا ہے، جہاں ان دونوں کے درمیان عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے اور علی وجہ الکمال والتمام پورے کیے جائیں گے۔ سو وہی جہاں آخرت کا جہان ہے اور اسی میں ہر انسان کو اس کے اعمال کا پورا صلہ و بدلہ ملے گا۔ یہ دنیا تو امتحان اور ابتلاء و آزمائش کی جگہ ہے نہ کہ جزا و سزا کی۔ اس کے بعد کی دونوں آیتوں میں اسی فرق مراتب و انجام کی تفصیل ہے۔ سو اگر قیامت کا اقرار نہ کیا جائے تو دنیا کا یہ سارا کارخانہ ہست و بود عبث و بیکار قرار پاتا ہے۔ اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مومن اور فاسق ایک برابر ہوجائیں جو کہ اس کی صفت عدل و حکمت اور شان رحمت و عنایت کیخلاف ہے۔ پس قیام قیامت اس جہان رنگ و بو کا ایک طبعی تقاضا ہے۔
Ayahs 32:19–2130 ذریعہء نجات صرف ایمان اور عمل صالح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے انہی کے لیے ہیں جنت کی وہ سدا بہار نعمتیں اور وہاں کی ابدی بادشاہی "۔ وہی بات جو پہلے بھی بارہا گزری کہ نجات ایمان اور عمل صالح پر موقوف ہے اور عمل صالح وہ معتبر ہے جو قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق ہو اور جو ایمان پر مرتب ہو۔ اور ایمان وہ ہو جس کی تصدیق عمل صالح سے ہو۔ سو باعث نجات صرف ایمان و عمل ہے۔ محض زبانی کلامی دعو وں یا گروہی اور نسلی تفاخر وغیرہ سے کچھ نہیں بنتا۔ پس جو لوگ شخصی یا نسلی اور گروہی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ایمان وعمل کی اس راہ سے پہلو تہی کرتے اور غفلت و لاپرواہی برتتے ہیں وہ سخت خسارے کا شکار اور بڑے دھوکے میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
31 مومنین مخلصین کے لیے ہمیشہ کی جنتوں کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں کیلئے ہمیشہ کیلئے رہنے والے باغات ہوں گے "۔ یعنی ایسے عظیم الشان باغات جو ابدی اور دائمی ہوں گے اور ان کے اندر ان کا رہنا بھی ہمیشہ ہمیش کے لیے ہوگا۔ سو یہاں دنیا میں تو باغوں میں سیر اور تفریح کے لئے کبھی کبھار جایا جاتا ہے مگر وہاں کے ان دائمی اور بےمثال باغوں میں ان خوش نصیبوں کی مستقل رہائش اور دائمی و باضابطہ قیام ہوگا۔ پھر دنیا کے ان باغوں کی جنت کے ان سدا بہار باغوں سے نسبت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ ان میں اور ان میں تو محض لفظی اور اسمی اشترک ہے اور بس۔ ورنہ اصل اور حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی نسبت ہی نہیں ۔ اللہ اپنے کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور زیغ و ضلال کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
32 اہل ایمان کے لیے ایک عظیم الشان اور بےمثال مہمانی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " ایک عظیم الشان اور بےمثال مہمانی کے طور پر ان کے اعمال کے بدلے میں "۔ سو ایسے خوش نصیبوں کیلئے ایک عظیم الشان مہمانی ہوگی۔ اور یہ نعمتیں ان کو پیش بھی اس اعزازو اکرام کے ساتھ کی جائیں گی جس سے کسی مہمان کو نوازا جاتا ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو " نُزُلًا " کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے ہے۔ یعنی وہ مہمانی بڑی ہی عظیم الشان ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ جو مہمانی حضرت رب العالمین کی طرف سے ہوگی اس کی عظمت شان کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے۔ اور مزید کرم ملاحظہ ہو کہ ۔ { بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ۔ کی تصریح سے اہل جنت کی خوشی کو دوبالا کرنے کا اعلان بھی فرما دیا گیا ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
33 اہل ایمان کے لیے جنت ان کے اعمال کی بنا پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے تو ان کے لیے راحت کے باغ ہوں گے ان کے ان اعمال کے بدلے میں جو وہ کرتے رہے تھے۔ سو ایمان اور اعمال صالحہ جنت سے سرفرازی کا ذریعہ ہیں۔ سو یہاں بھی اعلان فرمایا گیا کہ ان کو یہ انعام ان کے ان اعمال کے صلے اور بدلے میں ملے گا جو وہ اپنی دنیاوی زندگی میں اپنے خالق ومالک کی رضا کے لیے اور اپنی اخروی زندگی کی کامیابی کے لیے کرتے رہے تھے۔ سو جنت تو ملے گی محض اللہ پاک کے فضل و کرم اور اس کے انعام و احسان سے مگر اس فضل و کرم کا سبب اہل جنت کے اپنے وہ اعمال ہی ہوں گے جو انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں اپنے ایمان و یقین کی بنا پر اور اپنے رب کی رضا اور خوشنودی کیلئے کیے ہوں گے۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ " نزل " اصل میں اس مہمانی کو کہا جاتا ہے جو مہمان کی آمد پر شروع میں اس کے اکرام کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ سو اس سے معلوم ہوتا ہے " جنات الماویٰ " سے ان خوش نصیبوں کو اولین سامان ضیافت کے طور پر نوازا جائے گا۔ سو اہل ایمان کو اول اول ان میں اتارا جائے گا۔ پھر ان کو اصل جنت سے سرفراز کیا جائے گا۔ یہ باغ گویا کہ اہل ایمان کے لیے ریسٹ ہاؤس ہوں گے۔ اور " جنات " کے اس لفظ کو یہاں پر جمع لانے سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ باغ تمام اہل جنت کے لیے الگ الگ ہوں گے۔ سورة نجم کی آیت نمبر 15 سے معلوم ہوتا ہے کہ " جنات الماوی "، " سدرۃ المنتہیٰ " کے پاس ہے۔ اور " سدرۃ المنتہیٰ " " عالم ناسوت " اور " عالم لاہوت " کے درمیان آخری نقطہ اتصال ہے۔ اس لیے اگر جنات الماویٰ اسی کے پاس ہوں تو یہ ان کے لیے نہایت ہی موزوں مقام ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسے تمام امور کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ اس لیے ان سے متعلق کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی۔ یہ تو صرف لفظِ " نزل " کے کچھ مقتضیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ آگے وہاں کے اصل حقائق کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ۔ فالیہ المرجع والمآب وہو ملہم الصدق والصواب۔
Ayah 32:2238 آیات خداوندی سے منہ موڑنا سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کے تاکیدی اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جسکو نصیحت کی جائے اللہ کی آیتوں کے ذریعے پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے۔ آیتوں سے مراد عام ہے کہ آیات کونیہ ہوں یا آیات قرآنیہ۔ انسان کے اندر کی دنیا سے تعلق رکھتی ہوں یا کہ باہر کی کائنات سے کہ ان سب کی شان یہ ہے کہ انسان ان میں غور و فکر سے کام لے کر اپنے لئے ہدایت اور راہ راست کا سامان کرے۔ لیکن اگر وہ ان سب سے ہی اپنی آنکھیں بند کرکے اندھا بن جائے تو پھر اس کو حق و ہدایت کی روشنی کہیں سے بھی نہیں مل سکتی اور وہ ایسا بگڑ جاتا ہے کہ آیات کونیہ میں غور و فکر سے کام لے کر اپنے رب کی معرفت اور اس کی عبادت و بندگی کے شرف سے مشرف ہونے کی بجائے الٹا یا تو انہی مظاہر کی پوجا کرنے لگ جاتا ہے یا انہی میں الجھ کر اپنے مقصد حقیقی سے غافل اور مزید دور ہوجاتا ہے۔ اور آیات قرآنیہ کو قبول کر کے اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرکے اپنے باطن کو منور کرنے کی بجائے وہ الٹا ان کے کفر و اعراض کا وطیرہ اپنا کر اپنے کفر و باطل کی سیاہی میں اضافہ کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگوں سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ تنبیہہ و تذکیر کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کی کتاب اور اس کا رسول ہی ہوسکتے ہیں۔ سو جو بدبخت اس آخری تنبیہہ و تذکیر سے بھی نہیں جاگیں گے ان کے جگانے کی اور کوئی صورت ممکن نہیں ہوسکتی۔ اب ایسے لوگ لاریب مجرم ہیں اور ایسے مجرموں سے ہم نے بہرحال انتقام لینا ہے۔ سو رسول کی بعثت کسی قوم کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری حجت ہوتی ہے اور اسی معاملے پر انکے مستقبل کا مدارو انحصار ہوتا ہے کہ کون ان کی دعوت کو قبول کرتا ہے اور کون اس سے اعراض و روگردانی برتتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 32:2339 منکرین کے لیے تاریخ کے حوالے سے درس عبرت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی تھی "۔ یعنی تورات۔ پس آپ ﷺ کی طرف اے پیغمبر، اتاری جانے والی یہ کتاب کوئی پہلی اور انوکھی کتاب نہیں۔ سو نہ آپ ﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول ہیں اور نہ ہی یہ کتاب حکیم کہ آپ سے پہلے ہماری طرف سے انبیاء و رسل بھی آ چکے ہیں اور صحف و کتب بھی۔ پھر یہ لوگ آپکی اس دعوت سے اس طرح آخر کیوں بدکتے ہیں ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ۔ (الاحقاف : 9) اور موسیٰ کا ذکر بطور خاص اس لیے فرمایا گیا کہ آپ ﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء و رسل میں سے حضرت موسیٰ ہی وہ قریب العہد رسول تھے جن پر تورات جیسی کتاب ہدایت اتاری گئی تھی اور جن کو عیسائی بھی مانتے تھے اور یہودی بھی۔ بخلاف حضرت عیسیٰ کے کہ ان کو یہودی نہیں مانتے تھے۔ نیز حضرت موسیٰ کو بھی اسی طرح ستایا گیا تھا جس طرح کہ آپکو ستایا گیا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس میں منکرین کے لیے تاریخ کے حوالے سے بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب ہدایت آجانے کے بعد جو لوگ ایمان نہیں لاتے اور وہ کتاب حق و ہدایت کا انکار ہی کرتے ہیں وہ لازمًا اس دنیا میں بھی عذاب سے دوچار ہو کر رہتے ہیں اور آخرت کا عذاب جو کہ بڑا ہی سخت ہے وہ اپنی جگہ پر رہتا ہے۔ ان کو جو ڈھیل ملتی ہے وہ بہرحال ایک ڈھیل ہی ہوتی ہے جو بالآخر ختم ہو کر رہتی ہے۔ اور ایسے لوگ بالآخر اپنے انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
40 { من لقائہ } کی ضمیر کے مرجع میں اختلاف : سو ارشاد فرمایا گیا " پس آپ کو ان کی ملاقات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے "۔ اس ارشاد کی تفسیر میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں مگر ہمارے نزدیک اس میں راحج قول وہ ہے جسے بیضاوی، ابو السعود، صفوۃ التفاسیر اور المراغی وغیرہ نے اختیار فرمایا ہے اور جسے حضرت تھانوی ۔ نور اللہ مرقدہ ۔ نے بھی راحج قرار دیا ہے کہ " لِقَائِہِ " کی ضمیر مجرور کا مرجع " الکتب " ہے۔ یعنی جو کتاب موسیٰ کو دی گئی تھی اسی قسم کی کتاب آپ ﷺ کو بھی دی گئی ہے۔ پس آپ اس کے بارے میں کسی قسم کے شک میں مبتلا نہ ہوں ۔ " فَلا تَکُنْ یَا مُحَمَّدُ فِیْ شَکٍّ من تلقی القران کما تلقی موسیٰ التوراۃ " ۔ (صفوۃ التفاسیر : ج 2 ص 506) ۔ وقیل الضمیر للکتاب الذی ارید بہ الجنس ای لقائک الکتاب " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 161) ۔ " فِی شکٍ مِنْ ذٰلک الکتاب " ۔ (المراغی : ج 21 ص 117) ۔ پس آپ کی یہ کتاب کتاب حق ہے اور آپ ﷺ ۔ اے پیغمبر !۔ اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ { إنَّک لِمِنَ الْمَرْسَلِیْنَ } ۔ صلوات اللّٰہِ وَسَلَامہ عَلَیْہِ مَا دَامتِ ھَذِہِ الکَلمِات باقیَۃَ عَلٰی ھذہ الصَّفَحَاتِ ۔ بہرکیف یہ اس ارشاد کی تفسیر کا ایک احتمال ہے اور مجاہد اور زجاج وغیرہ سے مروی ہے۔ اور یہی سیاق وسباق کے اعتبار سے زیادہ ظاہر اور واضح ہے اور اس میں خطاب اگرچہ حضور ﷺ سے ہے لیکن اس میں سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ (قرطبی، روح، بیضاوی اور معارف وغیرہ) ۔ دوسرے اقوال اور احتمالات مفصل تفسیر میں انشاء اللہ ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ وتعالی -
Ayah 32:2441 امامت و پیشوائی کے بعض اہم اور بنیادی تقاضوں کا ذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک کی آیتوں پر ایمان و یقین رکھنا اور راہ حق میں استقلال و استقامت سے کام لینا وہ دو اہم بنیادیں ہیں جن کے ذریعے انسان اللہ پاک کی عنایتوں کا اہل اور ان کا مستحق بن سکتا ہے۔ ایمان تو اصل الاصول ہے مگر اس کے ساتھ صبر و استقامت کی بھی راہ حق میں بہت اہمیت ہے ۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشے ۔ آمین۔ سو اس ارشاد ربانی میں امامت و پیشوائی کے بنیادی شرائط و اوصاف بیان فرمائے گئے ہیں جن میں ایک وصف اور شرط یہ بھی ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ ایسے نہیں تھا کہ وہ نام تو اللہ کی کتاب کا لیں اور پیروی شیطان کی کریں۔ اور دوسرا وصف اور شرط ہے راہ حق میں صبر و استقامت۔ یعنی حالات جیسے بھی ہوں وہ راہ حق پر پکے رہیں اور صبر و استقامت سے کام لیں اور ہر طرح کے خوف اور طمع سے بےنیاز ہو کر راہ حق پر قائم اور جمے رہیں۔ اور تیسری شرط جو کہ دوسری تمام شرائط اور اوصاف کیلئے اساس اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے یہ کہ وہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے کہ اسی یقین کی بنا پر راہ حق میں صبر و استقامت کا حوصلہ مل سکتا ہے۔ سو اس ارشاد میں جہاں ایک طرف مسلمانوں کیلئے بشارت اور مستقبل کی عظیم الشان ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی گئی ہے وہیں دوسری طرف اس میں یہودیوں پر تعریض بھی ہے کہ یہ لوگ دعویٰ تو ایمان کا کرتے ہیں مگر ان کا عمل اس کے بالکل برعکس ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -