Explained with ayahs 10–11
انسان اور فرشتوں کا ساتھ
کفار کا عقیدہ بیان ہو رہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل نہیں۔ اور اسے وہ محال جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہمارے ریزے ریزے جدا ہوجائیں گے اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے پھر بھی کیا ہم نئے سرے سے بنائے جاسکتے ہیں۔ افسوس یہ لوگ اپنے اوپر اللہ کو بھی قیاس کرتے ہیں اور اپنی محدود قدرت پر اللہ کی نامعلوم قدرت کا اندازہ کرتے ہیں۔ مانتے ہیں جانتے ہیں کہ اللہ نے اول بار پیدا کیا ہے۔ تعجب ہے پھر دوبارہ پیدا کرنے پر اسے قدرت کیوں نہیں مانتے ؟ حالانکہ اس کا تو صرف فرمان چلتا ہے۔ جہاں کہا یوں ہوجا وہیں ہوگیا۔ اسی لئے فرمادیا کہ انہیں اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار ہے۔ اس…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 19
رسالت اور توحید پر کفار کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اب اسلام کے تیسرے بنیادی عقیدے یعنی آخرت پر ان کے اعتراض کو لے کر اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ آیت میں وَقَالُوْا کا واؤ عطف مضمون ماسبق سے اس پیراگراف کا تعلق جوڑتا ہے۔ گویا ترتیب کلام یوں ہے کہ " وہ کہتے ہیں محمد ﷺ اللہ کے رسول نہیں ہیں "، اور " وہ کہتے ہیں کہ ہم مر کر دوبارہ نہ اٹھیں گے "۔
سورة السَّجْدَة 20
اوپر کے فقرے اور اس فقرے کے درمیان پوری ایک داستان کی داستان ہے جسے سامع کے ذہن پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کفار کا جو اعتراض پہلے فقرے میں نقل گیا ہے وہ اتنا مہمل ہے کہ اس کی تردید کی حاجت محسوس نہیں کی گئی۔ اس کا محض نقل…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور یہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ ہم جب زمین میں (مل جل کر) نیست و نابود ہوگئے، تو کیا ہم پھر (قیامت میں) نئے جنم میں آویں گے (اور یہ لوگ اس بعث و نشر پر صرف متعجب ہی نہیں ہیں جیسا کہ ظاہرا ان کے عنوان سے معلوم ہوتا ہے) بلکہ (درحقیقت) وہ لوگ اپنے رب سے ملنے کے منکر ہی ہیں (اور یہ استفہام ان کا انکاری ہے) آپ (جواب میں) فرما دیں کہ تمہاری جان موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تم پر (اللہ کی طرف سے) متعین ہے، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا کر لائے جاؤ گے (جواب میں اصل مقصود تو یہی ترجعون ہے، اور یتوفکم بیچ میں بڑھا دینا تخویف کے لئے ہے کہ موت بھی فرشتہ کے ذریعہ سے آئے گی جو جان نکلنے کے وقت تم کو…
Read the full tafseer →وقالوا اذا ضللنافی الارضء انا لفی خلق جدید ط بل ھم بلقاء ربھم کفرون (10)
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو سمع و بصر اور ادارک و تعقل کی جو صلاحیتیں بخشی تھیں وہ اس لئے بخشی تھیں کہ ان سے وہ کام لیں اور خدا کی قدرت و حکمت و رحمت و ربوبیت کے آثار کے مشاہدہ سے اس نتیجے تک پہنچیں کہ یہ دنیا عبث نہیں پیدا ہوئی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ اسکے بعد ایک ایسا دن آئے جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے اپنے رب کے حضور حاضر کیا جائے اور وہ جزا یا سزا پائے لیکن اس انسان کی کج فہمی کا یہ حال ہے کہ جب اس کو قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو خدا کی قدرت کی اتنی شانیں دیکھنے کے باوجود، وہ طنز و استہزاء کے ساتھ یہ سوال…
Read the full tafseer →10-1جب کسی چیز پر کوئی دوسری چیز غالب آجائے اور پہلی کے تمام اثرات مٹ جائیں تو اس کو ضلالت (گم ہوجانے) سے تعبیر کرتے ہیں ضَلَلُنَا فِیْ الْاَرْضِ کے معنی ہوں کے کہ جب مٹی میں مل کر ہمارا وجود زمین میں غائب ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
4: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن دوسرے مفسرین کے مطابق اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، اور مطلب یہ ہے کہ جتنی مخلوقات کا انتظام اس وقت اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں، وہ سب آخر کار قیامت کے دن ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور کا فیصلہ فرماتے ہیں، ان کی تنفیذ اپنے اپنے طے شدہ وقت پر ہوتی ہے، چنانچہ بعض امور کی تنفیذ میں انسانوں…
Read the full tafseer →وقالوا ءاذا ضللنا ۔۔۔۔۔ ربھم کفرون (10)
یہ لوگ کہتے تھے کہ مرنے اور دفن کرنے کے بعد اور اجسام کے مٹی ہوکر مٹی میں رل مل جانے کے بعد یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہمیں از سر نو پیدا کردیا جائے جبکہ ہمارے ذرات دوسرے ذرات میں مل کر ناپید اور گم ہوجائیں گے۔ جب انسان کی تخلیق اول پر غور کیا جائے تو اللہ کے لیے اس کا دوبارہ تحقق کرنا کوئی عجیب و غریب چیز نہیں ہے۔ آغاز میں اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور یہ مٹی اس زمین سے تھی جس میں وہ اپنی ذات کو گم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری پیدائش بھی تو پہلی پیدائش ہی کی طرح ہے۔ اس میں کوئی عجیب و غریب بات تو نظر نہیں آتی۔ اصل بات یہ ہے۔
بل ھم بلقای ربھم کفرون (32: 10) ”…
Read the full tafseer →6 یعنی اس پر غور نہ کیا کہ اللہ نے ان کو اول مٹی سے پیدا کیا ہے۔ الٹے شبہات نکالنے لگے کہ مٹی میں مل جانے کے بعد ہم دوبارہ کس طرح بنائے جائیں گے۔ اور شبہ یا استبعاد ہی نہیں بلکہ صاف طور پر یہ لوگ بعث بعدالموت سے منکر ہوگئے۔
Read the full tafseer →آیت 10 وَقَالُوْٓا ءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ط
اس اعتراض کے حوالے سے پرانے زمانے کے کفار کا انداز گفتگو تو سیدھا سادہ تھا کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں کیسے دوبارہ جلا اٹھایا جائے گا ؟ لیکن آج کا روشن خیال نوجوان اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا کر یوں پیش کرتا ہے کہ جب ہمارے جسموں کے ایٹمز atoms بھی منتشر ہوجائیں گے ‘ جب ہم مٹی میں مل کر کھاد بن جائیں گے ‘ کھاد سے ہمارے ذرّات پودوں میں منتقل ہوجائیں گے ‘ ان پودوں کو جانور کھائیں گے اور پھر ان جانوروں سے نہ معلوم کس کس شکل میں ہمارے جسموں کے تحلیل شدہ atoms کہاں کہاں پہنچیں گے تو ایسی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12 یہ کفار کے اعتراض کا مکمل جواب ہے یعنی کفار جو یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی میں مل جائیں گے تو یہ ہم کا تصور کہاں سے آیا ؟ واضح سی بات ہے کہ گوشت پوست کے مجموعہ پر لفظ ہم یا تم کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اور مرنے کے بعد گوشت پوست تو واقعی مٹی میں مل جائے گا۔ مگر یہ ہم یا تم تو مٹی میں نہیں مل سکتا۔ یہی وہ چیز ہے جو تم میں ہم نے پھونکی تھی۔ جس کی وجہ سے تم لوگ اپنے آپ کو ہم یا تم کہتے ہو۔ اور یہی چیز یا روح ہماری طرف سے تمہاری موت پر مقرر کردہ فرشتہ اپنے قبضہ میں کرلیتا ہے۔ اب تمہاری روح پھر ہمارے پاس آگئی۔ زمین کے جن عناصر سے تم پہلے بنے تھے۔ انھیں عناصر سے تم پھر بھی بنائے جاسکتے ہو۔ بلکہ زیادہ…
Read the full tafseer →14۔ منکرین قیامت کا ذکر ہے کہ وہ استعجاب کے لہجہ میں کہتے ہیں کہ بھلا ایسا بھی کہیں ممکن ہے کہ جب ہمارے جسم خاک میں رل مل جائیں۔ خاک میں مل کر خود بھی خاک بن جائیں تو وہ جسم دوبارہ زندگی پائیں ؟ عرب میں دین کے نام سے جو نظام عقائد رائج تھا، اس کا ایک اہم جزء معاد وآخرت سے انکار تھا۔ یونان وروما میں بہت سے فلسفی مادہ پرست ہوچکے تھے، اور آج بھی مہذب دنیا پر عملا یہی مذہب مادیین چھایا ہوا ہے جس کے نزدیک موت نام ہے معدومیت حیات کا اور بس۔ (آیت) ” ء انا “۔ انکار میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہے۔ المراد تاکید الانکار (روح)
15۔ مطلب یہ ہے کہ محض حیرت واستعجاب ہی نہیں، ان منکرین کو تو سرے سے انکار ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا…
Read the full tafseer →وقالوا اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید . اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں نیست
و نابود ہوگئے تو کیا ہم پھر نئے جنم میں آئیں گے ؟ یعنی جب ہم زمین میں غائب ہوجائیں گے اور مٹی بن کر مٹی میں مل جائیں گے ‘ زمین کی خاک میں اور ہماری خاک میں کوئی فرق نہیں رہے گا تو کیا ہم کو دوبارہ ازسرنو زندہ کیا جائے گا۔ ضل الماء فی اللبن عرب کا محاورہ ہے ‘ یعنی دودھ میں پانی اس طرح مل کر کھو گیا کہ کوئی امتیاز باقی نہ رہا۔
یہ قول ابی بن خلف کا تھا لیکن اور سب لوگ اس کے موید تھے ‘ اس لئے سب کی طرف قول کی نسبت کردی۔ استفہام انکاری ہے ‘ محض سوالیہ نہیں ہے۔
بل ھم یلقائ ربھم کفرون . (یہ لوگ صرف دوسری زندگی…
Read the full tafseer →اور ابو جہل وغیرہ کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں نیست و نابود ہوگئے تو کیا پھر مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہوں گے ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ لوگ تو سرے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کا ہی انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِي الْاَرْضِ۔۔ : رسول کریم ﷺ اور قرآن کریم کے حق ہونے اور توحید اور اس کے چند دلائل بیان کرنے کے بعد اب اسلام کے تیسرے بنیادی عقیدے قیامت اور اس پر کفار کے اعتراض اور اس کے جواب کا ذکر ہوتا ہے۔ ”وَقَالُوْٓا“ میں ”واؤ“ کے ساتھ ان کے اس قول پر عطف ہے جو پہلی آیات سے ظاہر ہو رہا ہے، گویا کلام یوں ہوگا : ”قَالُوْا مُحَمَّدٌ لَیْسَ بِرَسُوْلٍ وَالإِْلٰہُ لَیْسَ بِوَاحِدٍ وَقَالُوْا ءَ إِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ۔۔“ یعنی انھوں نے کہا کہ محمد رسول نہیں ہے اور معبود ایک نہیں ہے اور انھوں نے کہا کہ کیا جب ہم زمین میں گم ہوگئے۔۔“ زمخشری اور طبری نے فرمایا : ”ضَلَّ…
Read the full tafseer →آیت وقالو ءاذا ضللنا فی الارض یہ بعث کے منکروں کا قول ہے یعنی ہم ہلاک ہوجائیں اور مٹی ہوجائیں۔ اس کی اصل عربوں کا قول ہے : ضل الماء فی البن جب پانی دودھ میں نا پید ہوجائے۔ عرب اس شے کے بارے میں کہتے ہیں جس پر کوئی دوسری چیز ایسی غالب آجائے کہ اس میں اس کا اثر بھی چھپ جائے : قد ضل۔ ا طل نے کہا :
کنتالقذی فیموجاکدر مذیدقذفالاتیبہ فضلضلالا (1)
تو مٹیالے رنگ کی جھاگ والی موج میں ایک تنکا تھا جس میں اجنبی کو پھینک دیا گیا اور وہ موج اس پر غالب آگئی۔
قطرب نے کہا : ضللنا کا معنی ہے ہم زمین میں غائب ہوجائیں اور نابغہ ذبیانی کا شعر پڑھا :
فآبمضلوہبعین جلیۃ وغودربالجولانحزم ونائل (2)
اس کو غائب کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
1۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ اس آیت کی تلاوت کرتے آیت الذی احسن کل شیء خلقہ پھر فرمایا کیا تو نے بندر کی طرف تو نہیں دیکاھ کہ وہ خوبصورت نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں فرمایا خبردار بندر کی سرین خوبصورت نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی صورت کو خوبصورت بنایا۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا [اور ان لوگوں نے کہا ] ءَاِذَا [کیا جب ] ضَلَلْنَا [ہم گم (رل مل) جائیں گے ] فِي الْاَرْضِ [زمین (مٹی) میں ] ءَاِنَّا [تو کیا ہم ] لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ڛ [ضرور نئے (سرے سے) پیدا کئے جائیں گے ] بَلْ هُمْ [بلکہ وہ لوگ ] بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ [اپنے رب سے ملاقات کا ] كٰفِرُوْنَ [انکار کرنے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد منکرین قیامت کا ذکر فرمایا (وَقَالُوْٓاءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ بَلْ ھُمْ بِِلِقَآئِ رَبِّھِمْ کٰفِرُوْنَ ) (اور ان لوگوں نے کہا کہ جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے تو کیا ہم نئے طور پر پیدا ہوں گے، بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں) وقوع قیامت کے منکرین جو باتیں کیا کرتے تھے ان باتوں میں سے ایک بات نقل فرمائی ہے، وہ یوں کہتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے زمین میں دفن ہوجائیں گے پھر ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور زمین میں ان کے ذرات رل مل جائیں گے اس وقت بھلا کیسے زندہ ہوسکتے ہیں ؟ ان کا یہ استبعاد دوسری آیات میں بھی ذکر فرمایا ہے، ان لوگوں کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال
قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8:۔ وقالوا الخ۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ایسے ناشکر گزار اور کج فہم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی قدرت کاملہ اور ایسی نعمت شاملہ کے باوجود حشر و نشر کا انکار کرتے اور کہتے ہیں جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے جسموں کا ذرہ ذرہ مٹی میں مل کر گم ہوجائے گا تو پھر دوبارہ کس طرح زندہ ہوں گے ؟ بل ھم بلقاء الخ وہ نہ صرف بعث و نشور کے منکر ہیں بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے روبرو حساب کتاب کے بھی منکر ہیں ای لیس لھم جحود قدرۃ اللہ عن الاعادۃ لانہم یعترفون بقدرتہ ولکنہم اعتقدوا ان لا حساب علیہم وانہم لا یلقون اللہ تعالیٰ (قرطبی ج 14 ص 92) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
پہلے سورة کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، اور اس کے بعد رسالت کا ، پھر قرآن کے نزول کی غرض وغایت بیان ہوئی تاکہ ان پڑھ لوگ اس سے ہدایت پائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کمال کا ذکر ہوا ، خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں کو چھ دن کے وقفے سے پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ۔ اس کے سوا تمہارے لئے کوئی حمائتی اور مددگار نہیں ہوگا ۔ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے ، پھر اس تدبیر کے نتائج ایک دن میں اسکی طرف چڑھتے ہیں اور ایک دن کی…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا ءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِي الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ 0ۥۭ بَلْ ہُمْ بِلِقَاءِ رَبِّہِمْ كٰفِرُوْنَ 10
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
مشرکین مکہ ان چند توہمات باطلہ 1 ؎ میں مبتلا تھے۔ (1) آنحضرت ﷺ کو مفتری کہتے تھے۔ (2) اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور چیزوں کو بھی شریک کرتے تھے، ان دونوں باتوں کا یہاں تک جواب شافی دے دیا گیا۔ (3) حشر ممکن نہیں، اس کا جواب ان کے شبہ کو نقل کرکے دیتا ہے۔ وقالواء اذا ضللنا فی الارض وانا لفی خلق جدید کہ وہ کہتے ہیں، کیا ہم جب مر کر زمین میں گم ہوجاویں گے، یعنی بدن کے اجزاء متفرق ہو کر نیست و نابود ہوجاویں گے تو پھر کیا زندہ ہوجاویں گے ؟ جواب سے پہلے فرماتا ہے۔ بل ھم بلقاء ربہم کافرون کہ ان کا زمین میں ملنے کے بعد زندہ ہونے ہی پر تعجب نہیں بلکہ وہ دراصل اپنے رب کے پاس جانے کے منکر ہیں، اب جواب دیتا ہے۔…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓائَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ئَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ 5 ط بَلْ ھُمْ بِلِقَـآیِٔ رَبِّہِمْ کٰفِرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 10)
(اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم زمین میں رل مل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ )
آخرت پر اعتراض کا جواب
اس سے پہلے کی آیات میں رسالت اور توحید پر کفار کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، اب اسلام کے تیسرے بنیادی عقیدے یعنی آخرت پر ان کے متعدد اعتراضات میں سے ایک بنیادی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ لیکن جواب کا انداز یہ اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے اعتراضات کو نظرانداز کرکے اصل بات کو جو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا فرمایا ہے تاکہ یہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کا تابعدار اور شکر گزار رہے لیکن انسان کی ناشکری کی انتہا۔
ناقدری اور ناشکری کی انتہاء ہے کہ قیامت کے منکر کہتے ہیں کہ کیا ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ازسر نو پیدا کیے جائیں گے۔ ایسا کہنے والے دراصل اپنے رب کی ملاقات کا انکار کرتے ہیں۔ انہیں آگاہ فرمادیں کہ ہاں جو فرشتہ تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمہیں موت دے گا پھر تم اپنے رب کے حضور پیش کیے جاؤ گے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ…
Read the full tafseer →10: وَقَالُوْا (اور لوگ کہتے ہیں) یہ کہنے والا ابی بن خلف تھا کیونکہ اس کی یہ بات سب کو پسند تھی اس لئے سب کی طرف اسناد و نسبت کردی۔ ئَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ (کیا جب ہم زمین میں نیست و نابود ہوگئے) یعنی مٹی ہوگئے اور زمین کی مٹی سے اس طرح رل مل گئے اس سے امتیاز نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ پانی اور دو دھ مل جاتے ہیں۔ نمبر 2۔ زمین میں دفن ہو کر غائب ہوگئے۔
قراءت : علی نے ضَلِلْنَا لام کے کسرہ سے پڑھا ہے کہا جاتا ہے ضَلَّ یَضِلُّ ۔ ضَلَّ یَضَلُّ ۔
نحو : اذا ظرف أاذا ضللنا میں منصوب ہوگا اس پر أانا لفی خلق جدید دلالت کرتا ہے۔
أَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ( کیا ہم نئی پیدائش میں آئیں…
Read the full tafseer →تفسیر 10، وقالوا، منکرین بعث کہنے لگے ، ء اذا ضللنا، کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے۔ ، فی الارض ، جب ہم مٹی مٹی ہوجائیں گے تو از سرنودوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ ، ضل الماء فی اللبن، یہ عرب کا محاورہ ہے یعنی دودھ میں پانی اس طرح مل کر کھوگیا کہ کوئی امتیاز باقی نہیں رہا۔ ، ء انا لفی خلق جدید استفہام انکاری ہے۔ ، بل ھم بلقاء ربھم کافرون، بعث بعد الموت کے منکر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 تا 11۔ دنیا کے بادشاہوں کے انتظام میں اس واسطے خامی رہ جاتی ہے کہ ان کو آئندہ کا غیب کا حال معلوم نہیں ہوتا برخلاف اس کے دنیا کے پیدا کرنے اور دنیا کی تدبیر کا انتظام الٰہی اس لیے پختہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا اور ایسا زبردست ہے کہ اس نے تمام چیزوں کو زیر کر رکھا ہے اور وہ انے ایمان والے بندوں پر مہربان ہے پھر فرمایا اللہ وہ ہے جس نے ہر چیز کی پیدائش کو اچھا بنایا اور پیدائش آسمان اور زمین کے بعد آدمی کی پیدائش کا اللہ نے ذکر اس طرح فرمایا کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ تعالیٰ نے مٹی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت نمبر : 11 ۔ 10
قیامت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کی تکذیب کرنے والوں نے کہا : (ء اذا ضللنا فی الارض) جب ہم بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو کر زمین میں ایسی ایسی جگہوں میں بکھر جائیں گے جن کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوگا (ء انا لفی خلق جدید) تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔ ان کے خیال میں یہ بعید ترین چیز ہے اور ایسا خیال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالق کائنات کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں اور ان کا یہ کلام تلاش حقیقت کی خاطر نہیں ‘ بلکہ یہ تو ظلم ‘ عناد ‘ اپنے رب کی ملاقات سے انکار اور کفر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا : (بل ھو بلقآئی ربھم کفرون) ” بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
14 منکرین کے انکار واستعجاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ منکر لوگ بطور انکار واستعجاب کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر مٹ کر زمین میں کھو جائیں گے تو کیا واقعی ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا ؟ "۔ استفہام تعجب و انکار کے لئے ہے۔ یعنی ان لوگوں کے نزدیک ایسے نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کی عقل ناقص اور فہم قاصر سے یہ بات بعید اور بہت بعید ہے کہ انسان مر کر اور مٹی میں کھو اور کھپ جانے کے بعد پھر زندہ ہوجائے۔ اور انسان کے لئے تو واقعی یہ ایک ناممکن اور انہونی بات ہے لیکن یہاں بات انسان ضعیف البنیان اور اس کی محدود و مختصر کھوپڑی اور اس کی عاجز و قاصر عقل و فکر کی نہیں کہ اس کے اعتبار سے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر
تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة السجدہ
آیات 1 تا 11
اسرارومعارف
نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے :
اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا :
اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔
نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں :
نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ف 5 یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے، ایسا نہیں بلکہ تم جان ہو جسے فرشتے لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ (موضح) ۔ موت کے فرشتہ کا نام بعض آثار میں ” عزرائیل “ آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” ملک الموت “ کے بہت سے نائب اور مددگار ہیں جو تمام جسموں سے روحیڈ نکالتے ہیں اور جب وہ گلے تک پہنچتی ہیں تو موت کا فرشتہ انہیں لے لیتا ہے۔ ( ابن کثیر)6 تاکہ تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائے پھر اگر وہ اچھے ہوں تو تمہیں جزا دی جائے اور اگر برے ہوں تو سزا دی جائے
Read the full tafseer →(32:10) ی اذا۔ کیا جب۔
ضللنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ضللنا فی الارض ای ضعنا فیہا بان صرنا ترابا مخلوطا بترابھا بحیث لا نتمیز منہ۔ ہم زمین میں رل مل گئے اور مٹی ہوکر اس کی مٹی میں خلط ملط ہوگئے کہ پہچانے ہی نہ جاسکیں۔
ضل یضل (ضرب) ضلال و ضلال مصدر۔
ء انا۔ تو کیا ہم انکار میں تاکید پیدا کرنے کے لئے آیا ہے۔
لفی خلق جدید : ایء نبعث فی خلق جدید تو کیا ہم نئے جنم میں اٹھائے جائیں گے یا نئے سرے سے پیدا کئے جاویں گے
بل ہم بلقای ربھم کفرون ۔ بل حرف اضراب ہے۔ یعنی نہ صرف یہ بعث بعد الموت کے منکر ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ تو اپنے رب سے ملاقات کے ہی منکر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
لغات القرآن آیت نمبر (4 تا 11) ۔
ستتہ (چھ (چھ مدتیں) ۔ استوی (برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ ٹھہرا) ۔ یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے) ۔ الامر (حکم۔ بات۔ کام) ۔ یعرج (وہ چڑھتا ہے) ۔ الف سنتہ (ایک ہزار سال) ۔ طین (مٹی) ۔ سللتہ (ست نچوڑ) ۔ یتوفی (وہ موت دیتا ہے) ۔ وکل (سپرد کیا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ” سورة السجد کی آیت نمبر ا تا 3 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ کردیا جائے جن کے پاس صدیوں سے کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ جس اللہ نے اس قرآن جیسی کتاب کو نازل کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ اس کی شان یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
(ف 2) ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیر ہو کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو جھکا کر کے زبان سے کہیں گے اے رب ہمارے ہم نے دیکھا اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا، اور رسولوں کے بیان کی صداقت سن لی، پھر کہیں گے ، اب ہم کو دنیا میں پھر بھیج دیاجائے تاکہ ہم اچھے عمل کریں…
Read the full tafseer →[10] یعنی منکرین اصل میں اعمال کی جواب دہی سے گھبراتے ہیں اور اسی سبب سے قیامت کو نہیں مانتے۔ اگر
اعمال کی جواب دہی کا ڈر ہوتا تو یہ ایسے شدومد کے ساتھ قیامت کا انکار نہ کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ف 1: جب یہ مجرم سرجھکائے ہوئے اللہ کے حضور میں پیش ہونگے اس وقت انہیں احساس ہوگا ۔ کہ ہم نے خدا کی نافرمانی کرکے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ اس لئے وہ خواہش کریں گے کہ خدایا ہمیں ایک بار اور دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح ہم تیرے نیک اور پاک باز بندے بن جاتے ہیں ۔ جواب ملے گا کہ کائنات کا نظام پہلے سے مقدر اور متعین ہے ۔ اس میں کوئی ترمیم اور تنسیخ نہیں ہوسکتی اگر منظور ہوتا کہ کوئی شخص گمراہ نہ ہو ۔ تو ہم سب کو دنیا ہی میں ہدایت سے بہرور کردیتے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ اس دنیا کی زینت کا اختلاف اور بوقلمونی سے ہے جب میں نے کہہ دیا تھا ۔ کہ جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا ۔ وہ…
Read the full tafseer →10۔ اور یہ منکرین قیامت یوں کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں رل مل گئے اور نیست و نابود ہوگئے تو کیا ہم ازسر نو پیدا ہوں گے اور کیا ہم کو نیا بننا اور کیا ہم نئے جنم میں آویں گے کوئی نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے اور اپنے رب سے ملنے کے منکر ہیں ۔ یہ ابی بن خلف کا قول ہے اور چونکہ دوسرے کافر بھی اس قول میں اس کے موافق تھے اس لئے سب کی طرف قول کی نسبت فرمائی۔ ضل الماء فی البن کے محاورے سے ضللنا فی الارض کہا کہ جس طرح پانی دودھ میں مل کر گم ہوجاتا ہے یہی حالت ہماری ہوجائے گی کہ ہم خاک میں مل کر نیست و نابود ہوجائیں گے پھر ہم دوبارہ کیسے پیدا ہوسکتے ہیں ۔ حضرت حق نے…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی ان کا استفہام انکاری ہے۔
Read the full tafseer →تعجب ہے ان پر جن کو دوبارہ اٹھائے جانے کی زندگی پر ابھی یقین نہیں آیا :
10۔ پیدائش انسانی کی اگر پہلی صورت آنکھوں سے اوجھل ہوچکی تھی تو یہ دوسری پیدائش جو نسل انسانی کی پیدائش سے معروف ہے یہ تو ہر وقت اور ہر آن آنکھوں کے سامنے موجود ہے ۔ اس کے عالم پردہ میں ہونے کے وقت سے ہم جانتے ہیں اور پھر جب عالم شہود میں اس نے قدم رکھا ہے اور اس کی شکل و صورت اور اس کی جنس کی مکمل وضاحت ہم کو ہوگئی ہے اور اس کو کیا سے کیا بنا دیا گیا ہے پھر یہ سب کچھ ہونے کے باوجود ہم اس کام کے کرنے والے کو نہ پہچانیں تو کتنے ناشکرے ٹھہرے لیکن آخر ہم میں سے کتنے ہیں جو اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں ‘ کتنے ہیں جن کا اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
Everything is good in this world. Evil comes through its wrong use.
In verse 7, it was said: الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ "Who made well whatever He created good”. The reason is that Allah Ta’ ala has made whatever He has created in this world under the dictate of His wisdom, and under the essential consideration of what is beneficial for the whole system. Therefore, everything has a beauty of its own. And the most beautiful and better than all is the making of man as it was said: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (Surely, We did create man in the best of symmetry…
Read the full tafseer →19 After answering the disbelievers' objections about the Prophethood and Tauhid now their objection about the Hereafter, which is the third basic belief of Islam, is being dealt with. The conjunction waw(and) in the beginning of the verse connects this paragraph with the foregoing theme, as if the sequence were like this: "They say: Muhammad is not Allah's Messenger," "They say: Allah is not One and the only Deity," and "They say: we shall not be raised back to life after death. "
20 The gap between the preceding and this sentence has been left for the listener to fill. The objection of the…
Read the full tafseer →