32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 32:1–3

الٓمّٓۚ Open ayah 32:1 in the Quran reader

الف لام میم۔

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتاراجانا اس میں کوئی شک نہیں تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمد ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے ؟ (نہیں !) بلکہ یہ حق ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں اس قوم کو جس کے پاس آپ ﷺ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پائیں

آیت 3 اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰٹہُ ج بَلْ ہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰٹہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ ” اہل مکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ تک طویل عرصے کے دوران کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔ اس آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے چھ دنوں میں پھر وہ متمکنّ ہوا عرش (تخت حکومت) پر نہیں ہے تمہارے لیے اس کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے !

آیت 4 اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَاشَفِیْعٍ ط یہاں پر لفظ دُوْنَ مقابلے کے معنی دے رہا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہیں پکڑ کر سزا دینا چاہے تو تمہارا کوئی حمایتی یا سفارشی اس کے اس فیصلے کے آڑے نہیں آسکتا۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف پھر وہ (امر) چڑھتا ہے اس کی طرف (یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس ہے

آیت 5 یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ کائنات کے انتظامی امور کی منصوبہ بندی اللہ تعالیٰ کے ہاں ہزار سال کے حساب سے کی جاتی ہے ‘ جیسا کہ اگلے جملے میں واضح کیا جا رہا ہے کہ اللہ کا ایک دن ہمارے ہزار سال کے عرصے کے برابر ہے۔ اس منصوبہ بندی کے اندر لیلۃ القدر گویا انسانی کیلنڈر کے حساب سے متعلقہ سال کے بجٹ سیشن کا درجہ رکھتی ہے۔ اس سالانہ بجٹ میں فیصلے کیے جاتے ہیں کہ متعلقہ سال کے اندر دنیا میں انسانوں کے لیے کون کون سے امور کس کس طرح نمٹائے جائیں گے۔ انہی فیصلوں کی تعمیل و تنفیذ کے لیے آسمانوں سے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے جس کا ذکر سورة القدر میں آیا ہے۔ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ پھر فرشتے ان احکام کی تعمیل سے متعلق اپنی اپنی رپورٹس اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ یہ مضمون اپنی اہمیت کے پیش نظر قرآن حکیم میں دو دفعہ آیا ہے۔ چناچہ سورة الحج میں کفار کی طرف سے عذاب کی جلدی مچانے کے جواب میں یوں وضاحت فرمائی گئی : وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ اور یقیناً ایک دن آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ایک ہزار برس کی طرح ہے جیسے تم لوگ گنتی کرتے ہو۔ جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ کی تدبیر امر کے سلسلے میں ایک بنیادی اصول کے طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہوتے ہیں ان کی منصوبہ بندی ایک ہزار سال کے عرصے کے مطابق کی جاتی ہے۔
Ayahs 32:6–7

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہ جاننے والا ہے ہر چھپی اور ظاہری چیز کا وہ بہت زبردست ہے نہایت رحم فرمانے والا

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے جو شے بھی بنائی بہت خوبصورت انداز میں بنائی اور اس نے آغاز کیا انسان کی تخلیق کا گارے سے

آیت 7 الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے بہت عمدہ بنائی ہے۔ اس کی تخلیق میں کہیں کوئی نقص یا کوتاہی نہیں ہے۔ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق بھی مراد ہے ‘ جس کے مختلف مراحل کا ذکر قرآن حکیم میں متعدد بار ہوا ہے اور ہر انسان کی تخلیق بھی ‘ کیونکہ انسان کی تخلیق جس مادے سے ہوتی ہے وہ بنیادی طور پر زمینی اجزا سے حاصل شدہ غذا سے ہی بنتا ہے۔ اس بارے میں تفصیلی گفتگو سورة المؤمنون کی آیت 12 کے ضمن میں ہوچکی ہے۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل چلائی ایک بےقدر پانی کے خلاصے سے

آیت 8 ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّہِیْنٍ ۔ یعنی پہلے مرحلے میں مٹی سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی ‘ جبکہ دوسرے مرحلے میں نوع انسانی کے تناسل reproduction کا عمل اس طریقے سے ممکن بنایا۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کی نوک پلک درست کی اور پھونکا اس میں اپنی روح میں سے اور اس نے بنائے تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بہت ہی کم ہے جو شکر تم لوگ کرتے ہو

آیت 9 ثُمَّ سَوّٰٹہُ یہاں ثُمَّ کا لفظ اس تخلیقی مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے جس کا آغاز ماں کے پیٹ میں استقرار حمل سے ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ بچے کے اعضاء ترتیب پاتے ہیں۔ نسل انسانی کا ہر بچہ اس مرحلے سے گزرتا ہے۔ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ پھر ایک مرحلے پر اس حیوانی جسم میں روح پھونک کر اسے انسان بنادیا جاتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں ایک بچہ جن مراحل سے گزرتا ہے اس کی تفصیل اس متفق علیہ حدیث میں بیان ہوئی ہے جس کا مطالعہ ہم سورة المؤمنون کی آیات 12 تا 14 کے ذیل میں کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو اسی جلد کا صفحہ 170 وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْءِدَۃَ ط۔ اَفْءِدَۃَجمع ہے اور اس کا واحد فُؤاد ہے۔ عام طور پرفُؤاد کا ترجمہ دل ہی کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں اس سے انسانی عقل و شعور مراد ہے جس کا تشخص حیوانی عقل اور شعور سے قطعاً مختلف ہے۔ لفظ فُؤاد کی مزید تشریح کے لیے سورة بنی اسرائیل ‘ آیت 36 کی تشریح ملاحظہ ہو۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں : کیا جب ہم زمین میں تحلیل ہوجائیں گے تو کیا پھر ہم ایک نئی خلقت میں ڈھالے جائیں گے ؟ بلکہ (حقیقت میں) یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

آیت 10 وَقَالُوْٓا ءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ط اس اعتراض کے حوالے سے پرانے زمانے کے کفار کا انداز گفتگو تو سیدھا سادہ تھا کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں کیسے دوبارہ جلا اٹھایا جائے گا ؟ لیکن آج کا روشن خیال نوجوان اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا کر یوں پیش کرتا ہے کہ جب ہمارے جسموں کے ایٹمز atoms بھی منتشر ہوجائیں گے ‘ جب ہم مٹی میں مل کر کھاد بن جائیں گے ‘ کھاد سے ہمارے ذرّات پودوں میں منتقل ہوجائیں گے ‘ ان پودوں کو جانور کھائیں گے اور پھر ان جانوروں سے نہ معلوم کس کس شکل میں ہمارے جسموں کے تحلیل شدہ atoms کہاں کہاں پہنچیں گے تو ایسی صورت میں انسانی اجسام کے گم گشتہ اجزاء کیونکر اکٹھے کیے جاسکیں گے ؟ ایسی دور کی کوڑی لانے سے پہلے ایسے احمقوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس اللہ نے پہلی مرتبہ زمینی اجزاء سے ان لوگوں کو ان کے وجودوں کے ساتھ پیدا کیا ہے ‘ کیا وہ انہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکے گا ؟ بَلْ ہُمْ بِلِقَآیئ رَبِّہِمْ کٰفِرُوْنَ ۔ دراصل یہ لوگ اپنے کرتوتوں کے سبب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے تصور سے گریزاں ہیں۔ اس بنا پر وہ قیامت کے دن کی اس ملاقات ہی کو جھٹلانا چاہتے ہیں ‘ لیکن اس کے لیے بہانہ یہ بنا رہے ہیں کہ زمین میں گل سڑ جانے کے بعد انسانوں کا دوبارہ زندہ ہوجانا عقلی طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص صاحب ایمان ہے اور وہ اپنے دل میں اللہ کے لیے خلوص اور محبت کے جذبات رکھتا ہے تو اسے لازماً یہ امید ہوگی کہ اللہ اس کے ساتھ رحمت اور شفقت کا معاملہ فرمائے گا۔ ایسے شخص کو دل را بدل راہیست دل کو دل سے راہ ہوتی ہے کے مصداق اللہ تعالیٰ سے ملنے کا اشتیاق بھی ہوگا۔
Ayahs 32:11–12

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ تمہیں قبض کرلے گا موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کردیا گیا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور کاش تم وہ منظر دیکھ سکو جب یہ مجرم کھڑے ہوں گے سر جھکائے ہوئے اپنے پروردگار کے سامنے (اور کہہ رہے ہوں گے :) اے ہمارے پروردگار ! اب ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا تو (ایک بار) ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک عمل کریں گے اب ہمیں یقین آگیا ہے

آیت 12 وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُءُ وْسِہِمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا اب ہم نے روزمحشر کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اب حقیقت ہم پر منکشف ہوگئی ہے۔ فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ نوٹ کیجیے یہاں پر کفار کے حوالے سے ایمان کا نہیں بلکہ یقین کا ذکر ہوا ہے جو ایمان سے آگے کا درجہ ہے۔ ان کے دلوں میں یقین کی یہ کیفیت آنکھوں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے کے بعد پیدا ہوگی۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ فیصلہ صادر ہوچکا ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور آدمیوں سب سے بھر کر رہوں گا۔

آیت 13 وَلَوْ شِءْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ہُدٰٹہَا اگر ہمیں اسی طرح آخرت کے پردے اٹھا کر اور عالم غیب کا مشاہدہ کروا کر لوگوں کو ہدایت دینا مقصود ہوتا تو ہم یہ کام دنیا میں ہی کردیتے اور اس طرح تمام انسانوں کو راہ ہدایت پر لے آتے۔ بہر حال ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب انہیں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یقین آجائے گا تو اس وقت انہیں اس ایمان اور یقین کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ‘ کیونکہ اس وقت ان کی امتحانی مہلت ختم ہوچکی ہوگی۔ وَلٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَءَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ والنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی ہمارے باغی ہیں وہ سب ضرور جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

تو اب چکھو مزہ (آگ کا) اس لیے کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اب ہم نے بھی تمہیں نظر انداز کردیا ہے پس تم چکھو ہمیشگی کا عذاب اپنے ان کرتوتوں کے سبب جو تم کرتے رہے ہو۔

آیت 14 فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا ج۔ نظر انداز کرنے کی اس کیفیت کا یبان سورة المؤمنون میں اس طرح ہوا ہے : قَالَ اخْسَءُوْا فِیْہَا وَلَا تُکَلِّمُوْنِ اللہ فرمائے گا : اب تم ذلیل و خوار ہو کر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔
Ayahs 32:15–16

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیات پر ایمان رکھنے والے تو وہی لوگ ہیں کہ جب ان کے ذریعے انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

(راتوں کو) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں وہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں خوف اور امید کی کیفیت میں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (ہماری رضا جوئی کے لیے) خرچ کرتے ہیں

آیت 16 تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورۃ الفرقان میں اللہ کے نیک بندوں کے اس خاص معمول کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے : وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔ یعنی ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو ساری ساری رات غفلت کی نیند سوتے رہتے ہیں اور دوسری طرف اللہ کے یہ بندے ہیں جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں ‘ کبھی اس کے حضور قیام کر کے اور کبھی سجدے میں گر کر۔ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًاز ایک طرف تو وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے بارے میں پر امید ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف اپنی کوتاہیوں پر پکڑے جانے کا خوف بھی انہیں لاحق رہتا ہے۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

تو کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے ان کے اعمال کے بدلے کے طور پر

آیت 17 فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ج آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر عمومی طور پر قرآن میں ملتا ہے اور جن کے بارے میں ہم کسی حد تک اندازہ بھی کرسکتے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمانی نُزُل سے ہے ‘ جبکہ جنت کی اصل نعمتوں کا نہ تو کسی کو علم ہے اور نہ ہی ان کا تصور انسانی فہم و ادراک میں آسکتا ہے۔ اس آیت کی وضاحت حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ، فَاقْرَءُ وْا اِنْ شِءْتُمْ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ 1 اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے جنت میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا گمان ہی گزرا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان اہل جنت کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔
Ayahs 32:18–19

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

تو بھلا جو کوئی مؤمن ہے کیا وہ اس کی مانند ہوجائے گا جو فاسق ہے ! وہ (دونوں) ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ان کے لیے باغات ہیں ٹھکانے کے طور پر ابتدائی مہمان نوازی کے طور پر ان کے اعمال کے بدلے میں

آیت 19 اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰی ز لغوی اعتبار سے نُزُلکا تعلق نازل ہونے یا اترنے سے ہے۔ جو کوئی مہمان آپ کے دروازے پر آیا اور اپنی سواری سے اترا وہ نَزِیل ہے اور آپ نے موسم اور رواج کے مطابق فوری طور پر جو کچھ اس کو پیش کیا وہ نُزُل ابتدائی مہمان نوازی ہے۔ جبکہ باقاعدہ مہمان نوازی کے لیے لفظ ضیافت استعمال ہوتا ہے جو نُزُل کے بعد کا مرحلہ ہے۔ ضیافت کا لفظ ضیف مہمان سے بنا ہے۔ یعنی جب آپ اپنے مہمان کے لیے باقاعدہ قیام کا بندوبست کریں گے اور اس کے آرام و طعام کا اہتمام کریں گے ‘ تب وہ ضیف کے درجے میں آئے گا۔ اس مرحلے میں آپ اس کی مہمان نوازی کے لیے جو خاطر مدارات کریں گے وہ ضیافت کہلائے گی۔ چناچہ آخرت کے حوالے سے جن باغوں اور نعمتوں کا ذکر قرآن میں عمومی طور پر آیا ہے ان کا درجہ دراصل اہل جنت کے لیے نُزُل ابتدائی مہمان نوازی کا ہے ‘ جبکہ ان کی اصل ضیافت اس کے بعد ہوگی۔ اس ضیافت کے دوران جو نعمتیں اور آسائشیں اہل جنت کو مہیا کی جائیں گی ان کے متعلق کوئی کچھ نہیں جانتا۔ جیسا کہ ابھی حدیث بیان ہوئی ہے۔
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانہ آگ ہے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب مزہ اس آگ کے عذاب کا جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

آیت 20 وَاَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰٹہُمُ النَّارُ ط کُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْہَآ اُعِیْدُوْا فِیْہَا جب بھی وہ اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو انہیں اسی میں لوٹا دیا جائے گا
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم لازماً چکھائیں گے انہیں مزہ چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔

آیت 21 وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ اس آیت کی سورة الروم کی آیت 41 کے ساتھ خاص مناسبت ہے : ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ بحر و بر میں فساد رونما ہوچکا ہے لوگوں کے اعمال کے سبب ‘ تاکہ اللہ انہیں مزہ چکھائے ان کے بعض اعمال کا ‘ تاکہ وہ لوٹ آئیں۔ دونوں آیات کے مضمون کا تعلق دراصل اللہ تعالیٰ کے اس انتہائی اہم قانون سے ہے جس کے تحت دنیا میں لوگوں کے کرتوتوں کے سبب ان پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں خبردار کرنا ہوتا ہے کہ شاید اس طرح وہ خواب غفلت سے جاگ کر توبہ کی روش اپنا لیں اور بڑے عذاب سے بچ جائیں۔ اس قانونِ الٰہی کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً سورة الانعام میں اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلآی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ اور ہم نے بھیجا دوسری امتوں کی طرف بھی آپ ﷺ سے قبل رسولوں کو ‘ پھر ہم نے پکڑا انہیں سختیوں اور تکلیفوں سے ‘ شاید کہ وہ عاجزی کریں۔ اسی طرح سورة الاعراف میں اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ اس قانون کی یوں وضاحت کی گئی : وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ الآَّ اَخَذْنَآ اَہْلَہَا بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوْنَ اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کسی بھی نبی کو مگر یہ کہ ہم نے پکڑا اس کے بسنے والوں کو سختیوں سے اور تکلیفوں سے تاکہ وہ گڑ گڑائیں اور ان میں عاجزی پیدا ہوجائے ۔
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی گئی مگر پھر بھی اس نے اعراض کیا یقیناً ہم ایسے مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گے

آیت 22 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْہَا ط اگر کوئی شخص کسی عام نصیحت کی پروا نہ کرے اور کسی شخصی فلسفہ ومنطق کو ٹھکرا دے تو اور بات ہے ‘ چہ جائیکہ کوئی بدنصیب اللہ کی آیات پر مبنی تذکیر و نصیحت کو نظر انداز کر دے۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو بھی کتاب عطا کی تھی تو آپ کسی شک میں نہ رہیے اس کی ملاقات سے اور اس (تورات) کو ہم نے بنا دیا تھا راہنمائی بنی اسرائیل کے لیے

آیت 23 وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآءِہٖ یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو یہاں سلسلہ کلام کے درمیان میں آیا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں حضور ﷺ کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شب معراج کے موقع پر ہونے والی ملاقات کی طرف اشارہ ہے۔ اس حوالے سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبی ﷺ ! شب معراج میں آپ نے موسیٰ علیہ السلام سے جو ملاقات کی تھی اس کے بارے میں آپ ﷺ کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ‘ وہ یقیناً موسیٰ علیہ السلام ہی تھے جو آپ کو وہاں ملے تھے۔ لیکن آیت کا زیادہ قرین قیاس مفہوم جو سیاق وسباق کے ساتھ بھی مناسبت رکھتا ہے وہ یہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا کی تھی اور اس کتاب کا موسیٰ علیہ السلام کو ملنا ہماری ہی طرف سے تھا۔ اسی طرح آپ ﷺ کو اس کتاب یعنی قرآن کا ملنا بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اس بارے میں آپ ﷺ کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ انداز بیان سمجھنے کے لیے قرآن کا وہی اسلوب ذہن میں رکھئے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہوچکا ہے کہ اکثر ایسے احکام جو حضور ﷺ کو صیغۂ واحد میں مخاطب کرکے دیے جاتے ہیں وہ دراصل امت کے لیے ہوتے ہیں۔ چناچہ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ میں گویا ہم سب مخاطب ہیں اور اس کا مفہوم دراصل یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تم لوگوں کو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کو جو کتاب تورات ملی تھی وہ بھی انہیں اللہ ہی نے دی تھی اور محمد ﷺ کو اس کتاب قرآن کا ملنا بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے ایسے امام اٹھائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے جب کہ انہوں نے صبر کی روش اختیار کی اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے

آیت 24 وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَءِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا ط۔ یعنی بنی اسرائیل کے ائمہ اور پیشواؤں کو تورات کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کے لیے صبر کی روش پر کاربند رہنا پڑتا تھا۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ کتاب اللہ کی تعلیمات کو سیکھنے اور پھر لوگوں تک پہنچانے کے لیے وقت درکار ہے جو انسانی سطح پر بذات خود ایک بہت بڑی قربانی ہے۔ دولت اور عیش و عشرت کے حصول کی حرص ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا بیشتر وقت دنیا اور اس کی آسائشوں کے حصول کے لیے صرف کر دے گا تو اس کے شب وروز میں دعوت و تبلیغ اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کے لیے وقت کہاں سے آئے گا ؟ چناچہ اگر کسی کو اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے کمربستہ ہونا ہے تو صبر و استقامت کا دامن تھام کر اسے لازمی طور پر دنیا کی بہت سی آسائشوں کو خیرباد کہنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اس راستے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے بھی صبر درکار ہے۔ کتاب اللہ کی تعلیم و تبلیغ کے حوالے سے یہ دونوں فرائض گویا بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ لیکن جب بھی کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا علمبردار بن کر نکلے گا تو لوگ اس کی مخالفت کریں گے ‘ اس راہ میں اسے گالیاں بھی سننا پڑیں گی ‘ جسمانی و ذہنی اذیتوں کا سامنا بھی کرنا ہوگا اور مال و جان کے نقصانات بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔ بہر حال اس راستے پر جس پہلو سے بھی کوئی جدوجہد کرے گا ‘ اسے قدم قدم پر ایسے سنگ ہائے میل سے سابقہ پڑے گا جو صبر و استقامت اور ایثار و قناعت کے رنگا رنگ مطالبات سے عبارت ہوں گے۔ آج قرآن کی تبلیغ و ترویج کے میدان میں یہ آیت ہمارے لیے نشان منزل بن سکتی ہے۔ جس انداز میں یہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ائمہ کی تعریف فرمائی ہے اس کے لطیف احساس سے ہمارے دلوں میں ترغیب و تشویق کے جذبات کی نئی نئی کو نپلیں پھوٹنی چاہئیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بنی اسرائیل کے ان ائمہ کے کردار اور خوش نصیبی سے متعلق اپنے دلوں میں رشک پیدا کریں اور پھر اللہ سے توفیق مانگیں کہ وہ ہمیں بھی اس کام کے لیے ُ چن لے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ یہ رتبہ بلند محض دعاؤں اور تمناؤں کے سہارے نہیں ملا کرتا۔ اس کے لیے ہمیں صبر و استقامت اور ایثار و قناعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر عملی کوشش کرنا ہوگی۔ اپنی بہت سی خواہشات کو قربان کرنا ہوگا ‘ اپنے معیار زندگی living standard کو کم سے کم سطح پر رکھنا ہوگا اور یوں اپنے تبلیغی بھائیوں کے بقول تفریغ الاوقات دینی جدوجہد کے لیے وقت نکالنا کو ممکن بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں ہم میں سے ہر ایک کو سنجیدہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ایک دفعہ اپنا بیشتر وقت پیسہ کمانے اور معیار زندگی بلند کرنے کی کوششوں میں صرف کرنے کی روش کو اپنا لیا تو یوں سمجھیں کہ ہم نے خود کو ایک کبھی نہ ختم ہونے والے چکر میں ڈال لیا۔ یعنی خود کو ایک نام نہاد معیار زندگی کے سراب کو پالینے اور پھر اس کو برقرار رکھنے کی خواہشات کا اسیر بنا لیا۔ اگر خدانخواستہ ہم نے اپنی زندگی اسی دنیاداری میں گزار دی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایک خاص معیار زندگی کو اپنے معبود کا درجہ دے کر گویا ساری عمر اسی کی پوجا میں گزار دی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم اللہ کی توفیق سے قرآن کا دامن مضبوطی سے تھام لیں ‘ اپنی زندگی کے لیے راہنمائی صرف اور صرف قرآن سے حاصل کرنے کا تہیہ کرلیں تو اللہ کے راستے پر چلنے کے لیے ہمارے سامنے ان شاء اللہ اسباب کے نت نئے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔ یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو مسجودِملائک بنایا ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا نقطۂعروج climax ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جب یہ عزم صمیم کا زاد سفر لے کر کسی راہ پر چل پڑتا ہے تو مشکلات اس سے کنی کترا نے لگتی ہیں اور منزلیں خود آگے بڑھ کر اس کے قدم چومتی ہیں۔ وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ ۔ بنی اسرائیل کے ائمہ جو کتاب کی تعلیم و تبلیغ میں مصروف تھے وہ صبر کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی آیات پر پختہ یقین بھی رکھتے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھنا ‘ اس کے وعدوں کو من و عن سچ ماننا اور اس پر توکل کرنا راہ حق کی جدوجہد کی لازمی شرائط ہیں۔
Ayahs 32:25–26

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

یقیناً آپ ﷺ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن ان چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کرتے تھے

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا اس بات نے انہیں ہدایت نہ دی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے مساکن میں یہ گھومتے پھرتے ہیں یقیناً اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں !

آیت 26 اَوَلَمْ یَہْدِ لَہُمْ کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ ط۔ قریش کے قافلے اپنے سفر شام کے دوران میں قوم ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے تھے اور یہاں یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ کے الفاظ میں دراصل اسی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ لوگ ان بستیوں کی تباہی کی خود تصدیق کرچکے ہیں۔ حال ہی میں کچھ برطانوی محققین نے بحر مردار Dead Sea کے ساحل کے ساتھ پانی کے نیچے قوم لوط کی بستیوں کے آثار کی نشان دہی کر کے اس بارے میں تورات اور قرآن کے بیانات کی تصدیق کی ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں میرا خیال یہی تھا کہ وہ سمندر کے اندر آچکی ہیں اور متعلقہ سمندر کو شاید Dead Sea کا نام بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ اس کے نیچے ان شہروں کے باسیوں کی اجتماعی قبریں ہیں۔ مستقبل میں سائنس کی ترقی کے باعث قرآن میں دی گئی اس نوعیت کی بہت سی معلومات کے حوالے سے مزید انکشافات کی بھی امید ہے۔
Ayahs 32:27–28

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم پانی کو ہانک کرلے جاتے ہیں بےآب وگیاہ زمین کی طرف پھر ہم اس سے کھیتی اگاتے ہیں جس میں سے کھاتے ہیں ان کے مویشی بھی اور یہ خود بھی۔ تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں !

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کب ہوگا یہ فیصلہ اگر تم سچے ہو ؟

آیت 28 وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ مشرکین کا یہ سوال قیامت کے بارے میں بھی تھا اور عذاب سے متعلق بھی کہ اے مسلمانو ! اگر تم لوگ اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی یا جس عذاب کا تم ہمیں ڈراوا دیتے رہتے ہو وہ آخر کب آئے گا ؟
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ فیصلے کے دن ان لوگوں کا ایمان لانا انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ہی (اس وقت) انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

آیت 29 قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِیْمَانُہُمْ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان لانے کا فائدہ انہیں تبھی ہوگا اگر وہ اپنی دنیوی زندگی کے دوران ایمان لائیں گے ‘ جبکہ آخرت کے تمام حقائق پردۂ غیب میں چھپے ہوئے ہیں ‘ لیکن جب یہ لوگ عالم آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تب ان کا ایمان لانا ان کے لیے مفید نہیں ہوگا۔ وَلَا ہُمْ یُنْظَرُوْنَ آج انہیں جو مہلت ملی ہے اس میں اگر وہ توبہ کرلیں تو یہ ان کے لیے مفید ہوسکتی ہے۔ لیکن موت کے آثار ظاہر ہوتے ہی یہ مہلت ختم ہوجائے گی۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے اعراض فرمائیں اور انتظار کریں یہ بھی انتظار ہی کر رہے ہیں

آیت 30 فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَانْتَظِرْ اِنَّہُمْ مُّنْتََََظِرُوْنَ ۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایّاکم بالآیات والذِّکر الحکیم