Explained with ayahs 10–11
انسان اور فرشتوں کا ساتھ
کفار کا عقیدہ بیان ہو رہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل نہیں۔ اور اسے وہ محال جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہمارے ریزے ریزے جدا ہوجائیں گے اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے پھر بھی کیا ہم نئے سرے سے بنائے جاسکتے ہیں۔ افسوس یہ لوگ اپنے اوپر اللہ کو بھی قیاس کرتے ہیں اور اپنی محدود قدرت پر اللہ کی نامعلوم قدرت کا اندازہ کرتے ہیں۔ مانتے ہیں جانتے ہیں کہ اللہ نے اول بار پیدا کیا ہے۔ تعجب ہے پھر دوبارہ پیدا کرنے پر اسے قدرت کیوں نہیں مانتے ؟ حالانکہ اس کا تو صرف فرمان چلتا ہے۔ جہاں کہا یوں ہوجا وہیں ہوگیا۔ اسی لئے فرمادیا کہ انہیں اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار ہے۔ اس…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 21
یعنی تمہارا " ہم " مٹی میں رَل مِل نہ جائے گا، بلکہ اس کی مہلت عمل ہوتے ہی خدا کا فرشتہ موت آئے گا اور اسے جسم سے نکال کر سَمُوچا اپنے قبضے میں لے لے گا۔ اس کا کوئی ادنیٰ جز بھی جسم کے ساتھ مٹی میں نہ جاسکے گا۔ اور وہ پورا کا پورا حراست (Custody) میں لے لیا جائے گا اور اپنے رب کے حضور پیش کردیا جائے گا۔
اس مختصر سی آیت میں بہت سے حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے جن پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے
1)۔ اس میں تصریح ہے کہ موت کچھ یوں ہی نہیں آجاتی کہ ایک گھڑی چل رہی تھی، کوک ختم ہوئی اور وہ چلتے چلتے یکایک بند ہوگئی۔ بلکہ دراصل اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص فرشتہ مقرر کر رکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
معارف و مسائل
(آیت) قل یتو فکم ملک الموت الذی وکل بکم، اس سے پہلی آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ اور ان کے اس استعجاب کا جواب تھا کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے، اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ اپنی موت پر دھیان دو اور غور کرو تو وہ خود حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر ہے، تم اپنی غفلت و جہل سے سمجھتے ہو کہ انسان کی موت خود بخود آجاتی ہے، بات یہ نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک تمہاری موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور اس کے لئے فرشتوں کا ایک خاص نظام ہے۔ جن میں بڑے عزرائیل ؑ ہیں کہ ساری دنیا کی موت ان کے انتظام میں دی گئی ہے۔ جس شخص کی جس وقت، جس جگہ موت مقدر ہے ٹھیک اسی وقت وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون (11)
یہ اوپر کی دونوں باتوں کا جواب ہے کہ جو مرتا ہے اس کو خدا کا وہ فرشتہ ہی وفات دیتا ہے جو خدا کی طرف سے ہر شخص پر مامور ہے۔ اس وجہ سے کوئی شخص مرنے کے بعد بھی خدا اور اس کے مامور ملائکہ کی نگاہیوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ ہر شخص کو اٹھا کھڑا کرے گا اور وہ اس کے مامور ملائکہ کی نگرانی میں ان کے سامنے حاضر کیا جائے گا۔
’ ثم الی ربکم ترجعون۔ یعنی کوئی اس طمع خام میں بھی متبال نہ رہے کہ اس کی واپسی اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء کی طرف ہونی ہے۔ اس دن ان شرکاء شفعاء کا کوئی وجود نہیں ہوگا۔ سب کی پیشی اللہ وحدہ لاشریک لہ کے…
Read the full tafseer →11-1یعنی اس کی ڈیوٹی ہی یہ ہے کہ جب تمہاری موت کا وقت آجائے تو وہ آکر روح قبض کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
4: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن دوسرے مفسرین کے مطابق اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، اور مطلب یہ ہے کہ جتنی مخلوقات کا انتظام اس وقت اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں، وہ سب آخر کار قیامت کے دن ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور کا فیصلہ فرماتے ہیں، ان کی تنفیذ اپنے اپنے طے شدہ وقت پر ہوتی ہے، چنانچہ بعض امور کی تنفیذ میں انسانوں…
Read the full tafseer →قل یتوفکم ۔۔۔۔۔ ربکم ترجعون (11) یہ ایک یقینی اطلاع کی صورت میں بتا دیا جاتا ہے۔ ملک الموت کون ہے اور وہ انسانوں کو پورا پورا اپنے قبضے میں کسی طرح لے لیتا ہے یہ اللہ کے غیبی نوشتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بارے میں اللہ نے ہمیں یہ اطلاع دے دی ہے کہ وہ لوگوں کو پورے کا پورا قبضے میں لے لیتا ہے اور پھر قیامت میں پیش کر دے گا۔ ہمیں اس پر یقین کرنا چاہئے اور زیادہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہئے۔ یقین اسلئے کہ یہ اللہ کے سچے ذریعے سے اطلاع مل گئی ہے۔
موت کے بعد جی اٹھنے کے مسئلے کی مناسبت سے جس میں وہ شک کرتے تھے یا شک کرنا چاہتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے سامنے کھڑا کردیتے…
Read the full tafseer →7 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی " تم آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے۔ ایسا نہیں تم حقیقت میں جان ہو جسے فرشتہ لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ " (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت 12 وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُءُ وْسِہِمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا
اب ہم نے روزمحشر کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اب حقیقت ہم پر منکشف ہوگئی ہے۔
فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ
نوٹ کیجیے یہاں پر کفار کے حوالے سے ایمان کا نہیں بلکہ یقین کا ذکر ہوا ہے جو ایمان سے آگے کا درجہ ہے۔ ان کے دلوں میں یقین کی یہ کیفیت آنکھوں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے کے بعد پیدا ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12 یہ کفار کے اعتراض کا مکمل جواب ہے یعنی کفار جو یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی میں مل جائیں گے تو یہ ہم کا تصور کہاں سے آیا ؟ واضح سی بات ہے کہ گوشت پوست کے مجموعہ پر لفظ ہم یا تم کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اور مرنے کے بعد گوشت پوست تو واقعی مٹی میں مل جائے گا۔ مگر یہ ہم یا تم تو مٹی میں نہیں مل سکتا۔ یہی وہ چیز ہے جو تم میں ہم نے پھونکی تھی۔ جس کی وجہ سے تم لوگ اپنے آپ کو ہم یا تم کہتے ہو۔ اور یہی چیز یا روح ہماری طرف سے تمہاری موت پر مقرر کردہ فرشتہ اپنے قبضہ میں کرلیتا ہے۔ اب تمہاری روح پھر ہمارے پاس آگئی۔ زمین کے جن عناصر سے تم پہلے بنے تھے۔ انھیں عناصر سے تم پھر بھی بنائے جاسکتے ہو۔ بلکہ زیادہ…
Read the full tafseer →16۔ سابقہ تو کو اللہ ہی سے آکر پڑے گا۔ (آیت) ” ملک ...... بکم “۔ فرشتہ موت کوئی فاعل مختار نہیں، محض ایک درمیانی واسطہ ہے اور اللہ ہی کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اس میں ان مشرک، جاہلی قوموں کا رد آگیا جن کے ہاں موت کا دیوتا ایک مستقل و متصرف حاکم ہے۔ اسی مضمون کی تائید میں ابن کثیر نے ایک طویل حدیث ابن ابی حاتم کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ اس میں ملک الموت خود رسول اللہ ﷺ سے کہتے ہیں۔ واللہ یا محمد لوانی اردت ان قبض روح بعوضۃ ماقدرت علی ذلک حتی یکون اللہ ھو الامر بقبضھا “۔ قسم ہے اللہ کی کہ اگر میں ایک مچھر کی جان بھی اپنے ارادہ سے لینا چاہوں تو نہیں لے سکتا جب تک اللہ ہی کے ہاں سے اس کا حکم نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا…
Read the full tafseer →قل یتوفیکم ملک الموت الذی وکل بکم . آپ کہہ دیجئے کہ موت کا وہ فرشتہ تمہاری جانیں قبض کر
لے گا جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے۔
یَتَوَفّٰیِ بمعنی یستوفٰی ہے ‘ باب تفعل اور استفعال باہم ایک دوسرے کی جگہ استعمال کر لئے جاتے ہیں۔ جیسے تَقَصَّیتُہ اور استقصَیتُہ ‘ تَعَجَّلتُہ اور اِسَتعَجَلْتُہ یعنی موت کا فرشتہ تمہاری جانوں کو پورا پورا لے لے گا ‘ جان کا کوئی حصہ نہیں چھوڑے گا ‘ یا کسی کو نہیں چھوڑے گا۔
موت کے فرشتہ سے مراد عزرائیل ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ عکرمہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : تمام درد دکھ موت کے قاصد ہیں۔ جب وقت مقرر آجاتا ہے تو موت کا فرشتہ آ پہنچتا…
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ تمہاری روحیں موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تمہاری جانیں قبض کرنے پر مقرر ہے اور پھر آخرت میں تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا کر لائے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ : یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے۔ ایسا نہیں، بلکہ تم اصل میں ”جان“ (روح) ہو، جسے فرشتہ لے جاتا ہے، بالکل فنا نہیں ہوتے۔ (موضح) ”وُكِّلَ بِكُمْ“ کے لفظ سے معلوم ہوا کہ فرشتہ وہی جان نکالتا ہے جس کا اسے حکم ہو، خود اس کا اختیار کچھ نہیں۔
:”ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ“ پاِلٰى رَبِّكُمْ ہلے لانے کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے : ”پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“
3 ملک الموت کا نام عام طور پر عزرائیل مشہور ہے، مگر کتاب و سنت میں یہ بات کہیں مذکور نہیں، محض اسرائیلی روایت ہے۔ دوسری…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت قل یتوفکم ملک الموت جب اس امر کو ذکر کیا کہ وہ دوبارہ اٹھا نے کو بعید خیال کرتے ہیں تو ان کی وفات اور دوبارہ اٹھائے جانے کے امر کو ذکر کیا۔ یتوفکم یہ توفی العدود الشی سے مشتق ہے۔ جب وہ پورا پورا سے لے اور پورے کے پورے پر قبضہ کرلے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے (رح) (رح) : توفاہ اللہ یعنی اس کی روح کو پورا پورا لیا پھر اس پر قبضہ کرلیا۔ توفیت مالی من فلان یعنی میں نے اس سے پورا پورا مال لے لیا۔ ملک الموت اس کا نام عزرائیل ہے جس کا معنی اللہ کا بندہ ہے۔ جس طرح سورة بقرہ میں پہلے گزرچکا ہے اس کا سارے کا سارا تصرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی تخلیق واختراع سے…
Read the full tafseer →ملک الموت کا ذکر
1۔ ابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابن ابی حاتم وابو الشیخ فی العظمۃ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ سے دو آدمیوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان کی موت ایک ہی وقت میں ہوگی پلک جھپکنے میں ایک مشرق میں ایک مغرب میں ملک الموت کو ان دونوں پر کیسے قدرت ہوئی فرمایا ملک الموت کو قدرت حاصل ہے مشرق والوں مغرب والوں اور ظلمات میں ہواؤں میں سمندروں میں موجود افراد پر اس طرح پر جیسے ایک آدمی ہو جس کے سامنے دسترخوان پڑا ہو تو وہ جہاں سے چاہے کھائے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے زہیر بن محمد ؓ سے روایت کیا پوچھا گیا یا رسول اللہ ! ملک الموت اور دو لشکر آپس میں ملتے ہیں یعنی جنگ کرتے ہیں مشرق اور مغرب میں اور…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] يَتَوَفّٰىكُمْ [موت دے گا تم لوگوں کو ] مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ [موت کا وہ فرشتہ جس کو ] وُكِّلَ [نگہبان مقرر کیا گیا ] بِكُمْ [تم پر ] ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ [پھر تمہارے رب کی طرف ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔
نوٹ۔ 1: عرب میں دین حق کی روشنی سب سے پہلے حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے ذریعہ سے پہنچی تھی جو زمانہ قبل تاریخ میں گزرے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) آئے جن کا زمانہ حضور ﷺ سے ڈھائی ہزارر سال قبل گزرا ہے۔ اس کے بعد آخری پیغمبر جو عرب کی سرزمین میں نبی ﷺ سے پہلے بھیجے گئے وہ حضرت شعیب (علیہ…
Read the full tafseer →(قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے ملک الموت تمہاری جانوں کو قبض کرتا ہے جو تم پر مقرر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اس میں یہ بتایا کہ تمہیں مرنا بھی ضروری ہے اور زندہ ہو کر اپنے رب کی طرف لوٹنا بھی ضروری ہے اور موت واقع کرنے کا یہ طریقہ مقرر کیا گیا ہے کہ تم پر ملک الموت کو مسلط فرمایا ہے وہ تمہیں مقررہ وقت پر موت دے گا، جان کو رگ رگ سے نکالے گا، کافر کا عذاب اسی وقت سے شروع ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال
قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…
Read the full tafseer →9:۔ قل یتوفکم الخ، یہ جواب شکوی ہے۔ تمہارا یہ خیال ہے کہ تم محض اجساد ہو جو مٹی میں مل جاتے ہیں لیکن یہ خیال غلط ہے تم حقیقت میں روح اور جان ہو جسے ملک الموت تمہارے بدنوں سے نکال لیتا ہے اور روح فنا نہیں ہوتی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے بدنوں کے اجزائے منتشرہ کو یکجا کر کے تمہاری جانیں ان میں لوٹا دے گا تو تم دوبارہ زندہ ہوجاؤ گے شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں تم آپ کو محض دھڑا اور بدن سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے ایسا نہیں تم حقیقت میں جان ہو جسے فرشتہ لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ (موضح القرآن) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جس نے تمہیں پہلے پیدا کرلیا وہ موت کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
پہلے سورة کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، اور اس کے بعد رسالت کا ، پھر قرآن کے نزول کی غرض وغایت بیان ہوئی تاکہ ان پڑھ لوگ اس سے ہدایت پائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کمال کا ذکر ہوا ، خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں کو چھ دن کے وقفے سے پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ۔ اس کے سوا تمہارے لئے کوئی حمائتی اور مددگار نہیں ہوگا ۔ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے ، پھر اس تدبیر کے نتائج ایک دن میں اسکی طرف چڑھتے ہیں اور ایک دن کی…
Read the full tafseer →قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ 11ۧ
وفی ( موت)
وتَوْفِيَةُ الشیءِ : بذله وَافِياً ، واسْتِيفَاؤُهُ : تناوله وَافِياً. قال تعالی: وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] ، وقال : وَإِنَّما تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ [ آل عمران/ 185] ، ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ
[ البقرة/ 281] ، إِنَّما يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ الزمر/ 10] ، مَنْ كانَ يُرِيدُ الْحَياةَ الدُّنْيا وَزِينَتَها نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمالَهُمْ فِيها[هود/ 15] ، وَما تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
مشرکین مکہ ان چند توہمات باطلہ 1 ؎ میں مبتلا تھے۔ (1) آنحضرت ﷺ کو مفتری کہتے تھے۔ (2) اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور چیزوں کو بھی شریک کرتے تھے، ان دونوں باتوں کا یہاں تک جواب شافی دے دیا گیا۔ (3) حشر ممکن نہیں، اس کا جواب ان کے شبہ کو نقل کرکے دیتا ہے۔ وقالواء اذا ضللنا فی الارض وانا لفی خلق جدید کہ وہ کہتے ہیں، کیا ہم جب مر کر زمین میں گم ہوجاویں گے، یعنی بدن کے اجزاء متفرق ہو کر نیست و نابود ہوجاویں گے تو پھر کیا زندہ ہوجاویں گے ؟ جواب سے پہلے فرماتا ہے۔ بل ھم بلقاء ربہم کافرون کہ ان کا زمین میں ملنے کے بعد زندہ ہونے ہی پر تعجب نہیں بلکہ وہ دراصل اپنے رب کے پاس جانے کے منکر ہیں، اب جواب دیتا ہے۔…
Read the full tafseer →قُلْ یَتَوَفّٰـکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ ۔ (السجدۃ : 11)
(ان سے کہہ دیجیے کہ موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو اپنے قبضے میں لے لے گا، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ )
آیت میں تین باتوں کی وضاحت
اس آیت کریمہ میں تین باتوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ پہلی بات یہ کہ تمہیں موت خودبخود نہیں آجاتی۔ جس طرح کوک سے چلنے والی گھڑی کوک ختم ہوتے ہی رک جاتی ہے۔ انسان پر موت واقع اس طرح نہیں ہوتی۔ غالب نے اسے فلسفیانہ انداز میں بیان کیا ہے لیکن وہ بھی حقیقت سے بہت دور ہے۔ اس نے کہا :
زندگی کیا ہے ؟ عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا فرمایا ہے تاکہ یہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کا تابعدار اور شکر گزار رہے لیکن انسان کی ناشکری کی انتہا۔
ناقدری اور ناشکری کی انتہاء ہے کہ قیامت کے منکر کہتے ہیں کہ کیا ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ازسر نو پیدا کیے جائیں گے۔ ایسا کہنے والے دراصل اپنے رب کی ملاقات کا انکار کرتے ہیں۔ انہیں آگاہ فرمادیں کہ ہاں جو فرشتہ تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمہیں موت دے گا پھر تم اپنے رب کے حضور پیش کیے جاؤ گے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ…
Read the full tafseer →1 1: قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ (کہہ دیجئے تمہاری جان موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تم پر متعین) ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ (ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جائو گے) تم کو موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے وہ قبض کرے گا تمہاری ارواح کو قبض کرکے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جائوگے۔ اس کے بعد حساب و کتاب کیلئے تم اٹھائے جائو گے۔ لقاء اللہ کا یہ معنی ہے۔
منکرین آخرت کو فہمائش :
التوفیؔ: روح کو پورا پورا لینا تم سب کی ارواح کو قبض کیا جائے گا۔ اہل عرب کہتے ہیں یوفیت حقی من فلان۔ جبکہ پورا پورا بغیر کسی نقصان کے لے لیاجائے۔
قول مجاہد (رح) ہے کہ ملک الموت کیلئے…
Read the full tafseer →11، قل یتوفاکم ، تمہاری روحوں کو قبض کرلے گا۔ ، ملک الموت الذی وکل بکم موت کے فرشتے سے مراد حضرت عزرائیل (علیہ السلام) ہیں ۔ توفی استیفا عدد مضروب کو کہاجاتا ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ موت کا فرشتہ تمہاری جانوں کو پورا پورا لے لیگا، جان کا کوئی حصہ نہیں چھوڑے گا یا کسی کو نہیں چھوڑے گا۔
روایت میں آتا ہے کہ ملک الموت کے لیے دنیا ایک ہتھیلی میں رکھ دی گئی ہے اس دنیا سے جس کو چاہتے ہیں بآسانی روح قبض کرلیتے ہیں۔ مخلوق میں سے کسی کو مشرق میں ہو یا مغرب میں وہ قبض کرلیتے ہیں ۔ ان کے ساتھ مددگار فرشتے بھی ہیں کچھ فرشتے رحمت والے اور کچھ فرشتے عذاب والے ۔ رحمت والے فرشتے مؤمنین کے لیے متعین ہیں اور عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 تا 11۔ دنیا کے بادشاہوں کے انتظام میں اس واسطے خامی رہ جاتی ہے کہ ان کو آئندہ کا غیب کا حال معلوم نہیں ہوتا برخلاف اس کے دنیا کے پیدا کرنے اور دنیا کی تدبیر کا انتظام الٰہی اس لیے پختہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا اور ایسا زبردست ہے کہ اس نے تمام چیزوں کو زیر کر رکھا ہے اور وہ انے ایمان والے بندوں پر مہربان ہے پھر فرمایا اللہ وہ ہے جس نے ہر چیز کی پیدائش کو اچھا بنایا اور پیدائش آسمان اور زمین کے بعد آدمی کی پیدائش کا اللہ نے ذکر اس طرح فرمایا کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ تعالیٰ نے مٹی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت نمبر : 11 ۔ 10
قیامت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کی تکذیب کرنے والوں نے کہا : (ء اذا ضللنا فی الارض) جب ہم بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو کر زمین میں ایسی ایسی جگہوں میں بکھر جائیں گے جن کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوگا (ء انا لفی خلق جدید) تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔ ان کے خیال میں یہ بعید ترین چیز ہے اور ایسا خیال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالق کائنات کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں اور ان کا یہ کلام تلاش حقیقت کی خاطر نہیں ‘ بلکہ یہ تو ظلم ‘ عناد ‘ اپنے رب کی ملاقات سے انکار اور کفر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا : (بل ھو بلقآئی ربھم کفرون) ” بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
14 منکرین کے انکار واستعجاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ منکر لوگ بطور انکار واستعجاب کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر مٹ کر زمین میں کھو جائیں گے تو کیا واقعی ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا ؟ "۔ استفہام تعجب و انکار کے لئے ہے۔ یعنی ان لوگوں کے نزدیک ایسے نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کی عقل ناقص اور فہم قاصر سے یہ بات بعید اور بہت بعید ہے کہ انسان مر کر اور مٹی میں کھو اور کھپ جانے کے بعد پھر زندہ ہوجائے۔ اور انسان کے لئے تو واقعی یہ ایک ناممکن اور انہونی بات ہے لیکن یہاں بات انسان ضعیف البنیان اور اس کی محدود و مختصر کھوپڑی اور اس کی عاجز و قاصر عقل و فکر کی نہیں کہ اس کے اعتبار سے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر
تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة السجدہ
آیات 1 تا 11
اسرارومعارف
نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے :
اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا :
اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔
نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں :
نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ف 5 یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے، ایسا نہیں بلکہ تم جان ہو جسے فرشتے لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ (موضح) ۔ موت کے فرشتہ کا نام بعض آثار میں ” عزرائیل “ آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” ملک الموت “ کے بہت سے نائب اور مددگار ہیں جو تمام جسموں سے روحیڈ نکالتے ہیں اور جب وہ گلے تک پہنچتی ہیں تو موت کا فرشتہ انہیں لے لیتا ہے۔ ( ابن کثیر)6 تاکہ تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائے پھر اگر وہ اچھے ہوں تو تمہیں جزا دی جائے اور اگر برے ہوں تو سزا دی جائے
Read the full tafseer →(32:11) یتوفکم۔ مضارع واحد مذکر غائب توفی (تفعل) مصدر سے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تمہاری جانوں کو لے لیگا۔ تمہاری جان قبض کرے گا۔
وکل۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب توکیل (تفعیل) مصدر۔ مقرر کردیا گیا ہے۔ ذمہ دار بنادیا گیا ہے۔ وکیل نگران ۔ نگہبان، ضامن ۔ ذمہ دار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
لغات القرآن آیت نمبر (4 تا 11) ۔
ستتہ (چھ (چھ مدتیں) ۔ استوی (برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ ٹھہرا) ۔ یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے) ۔ الامر (حکم۔ بات۔ کام) ۔ یعرج (وہ چڑھتا ہے) ۔ الف سنتہ (ایک ہزار سال) ۔ طین (مٹی) ۔ سللتہ (ست نچوڑ) ۔ یتوفی (وہ موت دیتا ہے) ۔ وکل (سپرد کیا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ” سورة السجد کی آیت نمبر ا تا 3 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ کردیا جائے جن کے پاس صدیوں سے کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ جس اللہ نے اس قرآن جیسی کتاب کو نازل کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ اس کی شان یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
(ف 2) ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیر ہو کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو جھکا کر کے زبان سے کہیں گے اے رب ہمارے ہم نے دیکھا اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا، اور رسولوں کے بیان کی صداقت سن لی، پھر کہیں گے ، اب ہم کو دنیا میں پھر بھیج دیاجائے تاکہ ہم اچھے عمل کریں…
Read the full tafseer →[11] یعنی تمہاری روح قبض کرے گا۔
[12] یعنی تم محض جسم نہیں ہو کہ مرنے کے بعد خاک میں رل مل کر برابر ہوجاؤ گے، بلکہ تمہارے اندر ایک روح ہے جو معدوم ہونے والی نہیں اور جسے موت کا فرشتہ تمہارے مرنے کے بعد اپنے قبضے میں لے لے گا اور روز قیامت اس روح کو نیا جسم دیا جائے گا، پھر اس سے حساب لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ف 1: جب یہ مجرم سرجھکائے ہوئے اللہ کے حضور میں پیش ہونگے اس وقت انہیں احساس ہوگا ۔ کہ ہم نے خدا کی نافرمانی کرکے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ اس لئے وہ خواہش کریں گے کہ خدایا ہمیں ایک بار اور دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح ہم تیرے نیک اور پاک باز بندے بن جاتے ہیں ۔ جواب ملے گا کہ کائنات کا نظام پہلے سے مقدر اور متعین ہے ۔ اس میں کوئی ترمیم اور تنسیخ نہیں ہوسکتی اگر منظور ہوتا کہ کوئی شخص گمراہ نہ ہو ۔ تو ہم سب کو دنیا ہی میں ہدایت سے بہرور کردیتے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ اس دنیا کی زینت کا اختلاف اور بوقلمونی سے ہے جب میں نے کہہ دیا تھا ۔ کہ جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا ۔ وہ…
Read the full tafseer →11۔ اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ تمہاری جانوں کو موت کا وہ فرشتہ جو تم پر متعین ہے قبض کرلیتا ہے پھر تم سب کی بازگشت اور تم سب کو لوٹنا اپنے پروردگار ہی کی طرف ہوگا ۔ یعنی کیا تم جسم کے خاک میں مل جانے سے سمجھتے ہو کہ تم ختم ہوگئے تم کو فرشتہ لے جاتا ہے اور تم سب کی باز گشت اللہ ہی کی طرف ہوگی ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور خوب فرماتے ہیں یعنی تم آپ کو دھڑ سمجھتے ہو کہ زمین میں رل گئے تو جان ہو وہ فرتہ لے جاتا ہے فنا نہیں ہوجاتے۔ 12
سبحان اللہ کیا خوب فرمایا ہے جسم اگر خاک میں مل گیا تو جان تو فنا نہیں ہوگئی جان تو جان آفریں کے پاس موجود ہے جسم کا کیا ہے جب چاہے سمیٹ کر بنا لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 2۔ اور معلوم ہوگیا کہ پیغمبروں نے جو کچھ کہا سب حق تھا۔
Read the full tafseer →قانون الہی پر تمہاری روح کو قبض کرنے اور اللہ کی طرف لوٹانے کی ذمہ داری ہے :
11۔ گزشتہ آیت میں کفار کے تعجب کی اصل وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ کہتے ہیں جب ہم اس زمین میں مل کر گم ہوجائیں گے اور ہمارا نام ونشان باقی نہیں رہے گا گویا ان کو جتنا تعجب تھا وہ سارے کا سارا اس جسم کے گم ہونے پر تھا کہ یہ گم شدہ جسم دوبارہ واپس کیونکر اٹھ سکتا ہے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم اس جسم کی بحث میں مبتلا ہو اور رہو گے لیکن ملک الموت جو تمہاری روح کو قبض کرنے کے لئے مؤکل کیا گیا ہے وہ تمہاری روح کو قبض کر کے تمہارے رب کی طرف اس کو لوٹا دے گا تو اس وقت تم کو معلوم ہوگا کہ ہم جس بحث میں مبتلا رہے وہ تو سراسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
Commentary
In verse 11, it was said: قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ (Say, "The angel of death who has been assigned for you will take you in full" -11). In the verse previous to it, the deniers of the Qiyamah were warned and an answer was given to their wondering as to how would they be brought back to life once again after they had died and become dust. In the verse cited above, such people are being reminded, 'Think of your death which is, in itself, a great manifestation of the perfect power of Allah Ta’ ala. Your heedlessness and ignorance make you think that…
Read the full tafseer →21 That is, "Your `ego' will not mix in the dust,`but as soon as its term of action comes to an end, God's angel of death will come and will take it out of the body and seize it completely. No part of it will be allowed to become dust with the body. It will be taken intact into custody and produced before its Lord." Let us consider in some detail the facts which have been presented in this brief verse: (1) It says that death does not occur as a matter of course, like the stopping of a watch suddenly when it needs re-winding, but for this purpose Allah has appointed a special angel, who comes…
Read the full tafseer →