Explained with ayahs 12–14
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے۔ اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہوگئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لئے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہوجائیں گے۔ سب اندھا و بہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہوگیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 22
اب اس حالت کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے جب اپنے رب کی طرف پلٹ کر یہ انسانی " اَنا " اپنا حساب دینے کے لئے اس کے حضور کھڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
معارف و مسائل
(آیت) قل یتو فکم ملک الموت الذی وکل بکم، اس سے پہلی آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ اور ان کے اس استعجاب کا جواب تھا کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے، اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ اپنی موت پر دھیان دو اور غور کرو تو وہ خود حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر ہے، تم اپنی غفلت و جہل سے سمجھتے ہو کہ انسان کی موت خود بخود آجاتی ہے، بات یہ نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک تمہاری موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور اس کے لئے فرشتوں کا ایک خاص نظام ہے۔ جن میں بڑے عزرائیل ؑ ہیں کہ ساری دنیا کی موت ان کے انتظام میں دی گئی ہے۔ جس شخص کی جس وقت، جس جگہ موت مقدر ہے ٹھیک اسی وقت وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون (11)
یہ اوپر کی دونوں باتوں کا جواب ہے کہ جو مرتا ہے اس کو خدا کا وہ فرشتہ ہی وفات دیتا ہے جو خدا کی طرف سے ہر شخص پر مامور ہے۔ اس وجہ سے کوئی شخص مرنے کے بعد بھی خدا اور اس کے مامور ملائکہ کی نگاہیوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ ہر شخص کو اٹھا کھڑا کرے گا اور وہ اس کے مامور ملائکہ کی نگرانی میں ان کے سامنے حاضر کیا جائے گا۔
’ ثم الی ربکم ترجعون۔ یعنی کوئی اس طمع خام میں بھی متبال نہ رہے کہ اس کی واپسی اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء کی طرف ہونی ہے۔ اس دن ان شرکاء شفعاء کا کوئی وجود نہیں ہوگا۔ سب کی پیشی اللہ وحدہ لاشریک لہ کے…
Read the full tafseer →12-1یعنی اپنے کفر و شرک اور معصیت کی وجہ سے مارے ندامت کے۔
12-2یعنی جس کو جھٹلایا کرتے تھے، اسے دیکھ لیا، جس کا انکار کرتے تھے، اسے سن لیا۔ یا تیری وعیدوں کی سچائی کو دیکھ لیا اور پیغمبروں کی تصدیق کو سن لیا، لیکن اس وقت کا دیکھنا، سننا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا۔
12-3لیکن اب یقین کیا تو کس کام کا ؟ اب تو اللہ کا عذاب ان پر ثابت ہوچکا جسے بھگتنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
4: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن دوسرے مفسرین کے مطابق اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، اور مطلب یہ ہے کہ جتنی مخلوقات کا انتظام اس وقت اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں، وہ سب آخر کار قیامت کے دن ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور کا فیصلہ فرماتے ہیں، ان کی تنفیذ اپنے اپنے طے شدہ وقت پر ہوتی ہے، چنانچہ بعض امور کی تنفیذ میں انسانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ولو تری اذ المجرمون ۔۔۔۔۔۔ بما کنتم تعلمون (12 – 14)
یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں منکرین قیامت نہایت ہی شرمندگی کے ساتھ اعتراف کر رہے ہیں۔ اب وہ اس سچائی کو مان رہے ہیں جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ وہ یہ درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک بار پھر زمین پر لوٹا دیا جائے اور وہ اب کی بار اس کمی کو پورا کردیں گے جو پہلی بار ہوگئی۔ یہاں شرمندگی کی وجہ سے وہ سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اب یہ لوگ اپنے اس رب کے پاس (عند ربھم) ہوں گے جس کے پاس حاضر ہونے کا وہ انکار کرتے تھے۔ لیکن ان کی یہ سب باتیں بعد از وقت ہوں گی اور اب اعتراف اور اعلان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ قبل اس کے کہ ان کی اس شرمندگی پر کوئی تبصرہ کیا جائے ، یہ…
Read the full tafseer →8 یعنی ذلت و ندامت سے محشر میں۔
9 یعنی ہمارے کان اور آنکھیں کھل گئیں۔ پیغمبر جو باتیں فرمایا کرتے تھے ان کا یقین آگیا۔ بلکہ آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا کہ ایمان اور عمل صالح ہی خدا کے ہاں کام دیتا ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر دنیا میں بھیج دیجئے دیکھئیے کیسے کام کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت 12 وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُءُ وْسِہِمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا
اب ہم نے روزمحشر کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اب حقیقت ہم پر منکشف ہوگئی ہے۔
فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ
نوٹ کیجیے یہاں پر کفار کے حوالے سے ایمان کا نہیں بلکہ یقین کا ذکر ہوا ہے جو ایمان سے آگے کا درجہ ہے۔ ان کے دلوں میں یقین کی یہ کیفیت آنکھوں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے کے بعد پیدا ہوگی۔
Read the full tafseer →13 ان کا یہ مطالبہ بھی بالکل عبث ہوگا کیونکہ انسان کو عقل و شعور تو اس لئے دیا گیا تھا کہ ان سے کام لیتے ہوئے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور یہی ایمان بالغیب کا مطلب ہے۔ اور اسی چیز کا انسان سے مطالبہ ہے۔ پھر جب انسان نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیا تو اس کا ایمان اضطراری ہوا، اختیاری نہ رہا۔ نہ ہی اسے ایمان بالغیب کہ سکتے ہیں۔ اس مقام پر ان کے اس مطالبہ پر جواب نہیں دیا گیا۔ جبکہ ایک دوسری جگہ پر یہ جواب دیا گیا ہے کہ اگر دوبارہ دنیا میں بھیجنا انسان کا دستور نہیں تاہم بفرض محال اگر ہم انھیں دوبارہ دنیا میں بھیج بھی دیں تو پھر یہ لوگ ویسے ہی کام کریں گے جیسے پہلے کرکے آئے ہیں۔ یہ…
Read the full tafseer →17۔ (اور پیغمبروں کے قول کی پوری تصدیق ہوگئی) (آیت) ” ناکسوا ....... ربھم “ ‘۔ یہ سرغایت انفعال سے جھکے ہوئے ہوں گے۔
18۔ یعنی اب ہم کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ ہوگیا۔ اب ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیجیئے تو ہم ضرورہی ایمان لے آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیت نمبر 12 تا 22
ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…
Read the full tafseer →ولو تری اذا لمجرمون ناکسوا رء وسھم عند ربھم اور (اے محمد ﷺ ! ) اگر آپ (وہ منظر) دیکھیں گے
(تو بڑا ہیبت ناک منظر آپ کو دکھائی دے گا) جب کہ مجرم (یعنی وہ مشرک جو کہا کرے تھے کہ جب ہم خاک میں مل جائیں گے تو کیا نئے جنم میں اٹھ سکیں گے ؟ ندامت اور غم کے مارے) اپنے رب کے سامنے سر جھکائے حاضر ہوں گے۔
ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون (کہیں گے کہ) اے ہمارے مالک ! ہم نے
یکھ لیا اور سن لیا ‘ اب ہم کو (دنیا کی طرف) لوٹا دے ہم نیک کام کریں گے اب ہم کو یقین آگیا۔
اَبْصَرْنَا یعنی تو نے جو ہم کو وعید سنائی تھی اور ہم اس کی تکذیب کرتے تھے ‘ وہ وعید آج ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔
سَمِعْنَا…
Read the full tafseer →اور اگر آپ قیامت کے دن ان مشرکین کی حالت دیکھیں جب کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔
اور کہتے ہوں گے کہ ہمارے پروردگار بس جو چیز ہمیں معلوم نہ تھی وہ اب معلوم ہوگئی اور جس کا یقین نہیں کرتے تھے اب یقین ہوگیا۔
تو ہمیں پھر واپس بھیج دیجیے ہم وہاں جاکر آپ پر ایمان لائیں گے اور خوب نیک کام کیا کریں گے اب ہمیں آپ پر اور آپ کی کتاب اور رسول پر بعث بعد الموت پر پورا یقین آگیا۔
Read the full tafseer →وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ : پچھلی آیت میں جو فرمایا ”ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ“ (پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اب اس حالت کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے۔ ”نَکَسَ یَنْکُسُ“ (ن) کا معنی کسی چیز کو سر کے بل الٹا کرنا ہے، مراد ذلت، شرمندگی اور غم کے ساتھ سروں کو جھکانا ہے۔ ”المجرمون“ کے لفظ کے ساتھ ان کے اس انجام کا سبب صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا : یہاں ”یَقُوْلُوْنَ“ کا لفظ مقدر ہے، یعنی وہ سر جھکائے ہوئے یہ بات کہہ رہے ہوں گے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ…
Read the full tafseer →آیت ولو تری اذالمجرمون ناکسو رء وسھم عند ربھم یہ جملہ اذالمجرمون مبتدا اور خبر ہے۔ زجاج نے کہا : نبی کریم ﷺ کے خطاب، امت کو خطاب ہے۔ معنی ہے اے محمد ! ﷺ کاش آپ بعث کے منکروں کو قیامت کے روز دیکھتے تو عجیب و غریب بات دیکھتے۔ ابوالعباس کا مذہب اس کے علاوہ ہے۔ معنی ہے اے محمد ! ﷺ مجرم سے کہیے : کاش تم دیکھتے جب مجرم اپنے رب کے حضور سر جھکاتے ہوں گے تو تجھ سے افعال سرزد ہوتے اس پر شرمندگی کا اظہار کرتا۔ آیت ناکسو رء وسھم شرمندگی، رسوائی، حزن، ذلت اور غم کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے ہوتے۔ عند ربھم جب ان کا رب ان کا محاسبہ کرے گا اور انہیں ان کے اعمال کی جزادے گا۔ ربنا وہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو ترایٰ اذ المجرمون ناکسوا رؤ و سہم عند ربہم ربنا ابصرنا ومعنا اور اگر آپ دیکھیں گے جب کہ مجرم اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا ہے یعنی وہ دیکھیں گے جب ان کو دیکھنا ان کو نفع نہیں دے گا اور سنیں گے جبکہ ان کا سننا ان کو نفع نہیں دے گا آیت ولو شئنا لاٰتینا کل نفس ہد ہا اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو سب لوگوں کو یہ ہدایتدیتے ہیں اور اگر اللہ چاہتے تو ان کے اوپر آسمان سے کوئی نچانی نازل فرماتے آتی فظلت اعناقہم لہا خضعین تو اس کی گردنیں اس کو اپنی طرف کھینچتیں یعنی وہ اللہ کا حکم مان…
Read the full tafseer →وَلَوْ [اور کاش ] تَرٰٓي [تو تصور کرے ] اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ [جب مجرم لوگ ] نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ [اپنے سروں کو اوندھا کرنے والے ہیں ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ [اپنے رب کے پاس ] رَبَّنَآ [(اور کہنے والے ہیں) اے ہمارے رب ] اَبْصَرْنَا [ہم بینا ہوگئے ] وَسَمِعْنَا [اور ہم نے سن لیا ] فَارْجِعْنَا [پس تو لوٹا دے ہم کو ] نَعْمَلْ [تو ہم عمل کریں گے ] صَالِحًا [نیکی کے ] اِنَّا مُوْقِنُوْنَ [بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں ] ۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 12 ۔ میں مجرموں کی اس درخواست پر کہ ہم کو واپس بھیج دے اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت کا مشاہدہ اور…
Read the full tafseer →قیامت کے دن مجرمین کی بدحالی اور دنیا میں واپس ہونے کی درخواست کرنا
یہ تین آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے، پہلی آیت میں مجرمین کی ایک حالت بتائی ہے کہ یہ لوگ دنیا میں وقوع قیامت کا انکار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے : (وَقَالُوْٓاءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ) جب یہ لوگ قیامت کے دن حاضر ہوں گے اور بارگاہ الٰہی میں پیشی ہوگی تو رسوائی اور ذلت کے مارے ہوئے سر جھکائے ہوں گے اور یوں کہیں گے کہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا جس بات کے منکر تھے وہ سمجھ میں آگئی لہٰذا ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیجیے اب واپس ہو کر اچھے عمل کریں گے، ہمیں پوری طرح ان باتوں کا یقین آگیا جو حضرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال
قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…
Read the full tafseer →10:۔ ولو تری الخ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن یہ مجرمین یعنی منکرین بعث ندامت اور شرمساری کی وجہ سے سر جھکائے کھڑے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ بارے خدایا ! آج ہم نے قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اب ہم تیرے پیغمبروں کی باتیں دل وجان سے سنیں گے ہمیں ایک بار دنیا میں واپس بھیجدے ہم نیک عمل کریں گے آج ہمیں حشر و نشر اور حسان کتاب کا پورا پورا یقین ہوگیا ہے۔ ابصرنا البعث و ما وعدتنا بہ و سمعنا قول الرسل ای سمعناہ سمع طاعۃ (روح ج 21 ص 127) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کا تذکرہ ہوا ۔ تو حید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ، رسالت کا بیان ہوا ۔ اور ساتھ ساتھ قیامت اور جزائے عمل کا تذکرہ ہو۔ پھر تخلیق انسان کا مسئلہ بیان ہوا ۔ پھر اس کی ناشکر گزاری کا شکوہ ہوا ۔ پھر وقوع قیامت کے متعلق کفارومشرکین کے انکار کا ذکر ہوا۔ کہ وہ کہتے ہیں ۔ کہ جب ہم مرکزی مٹی میں رل مل جائیں گے تو پھر ہمارا دوبارہ زندہ ہونا کیسے ممکن ہوگا ؟ اللہ نیف رمایا کہ دراصل یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں ۔ درمیان میں اختصار کے ساتھ پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب کیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہاری جانوں کو ملک…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 15
وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِہِمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ 0 ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ترکیب : ولو تریٰ ھو من رویۃ العین و المفعول محذوف ای ولو تری المجرمین۔ و اغنی عن ذکرہ المبتداء۔ واذ ھنا یرا دبھا المستقبل والتقدیر یقولون ربنا و موضع المحذوف حال والعامل فیھا ناکسوا۔ فذوقوا بما ای فذوقو العذاب ویجوزان یکون مفعول فذوقوا اللقاء علی مذہب الکوفیین فی اعمال الاول۔ ویجوزان یکون ھذا۔ تتجافیٰ موضع الحال و جواب لو محذوف ای لریت امر افظیعا ویکن ان یکون لو للتمنی خوفا وطمعا مفعول لہ والعامل یدعون۔ مابمعنی الذی ویجوزان یکون للاستفہام۔
تفسیر : ولوتری یہاں سے وہ حال بیان کرتا ہے جو خدا کے پاس رجوع ہونے کے بعد یعنی اس کے پاس جانے کے بعد ظہور میں آئے گا کہ اے محمد ﷺ یا اے ہر شخص مخاطب ! اگر…
Read the full tafseer →وَلَوْتَرٰٓی اِذِالْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُئُ وْسِہِمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط رَبَّنَـآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ ۔ (السجدۃ : 12)
(اور کاش آپ دیکھتے جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا، اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں، ہمیں اب یقین آگیا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ کفار مکہ کے انکار و تکذیب اور ان کی طرف سے دی جانے والی اذیتوں سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ اور آپ ﷺ کی دعوت کے جواب میں جس طرح یہ لوگ اکڑفوں دکھاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ مر کر جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں قیامت کے دن ان کی حالت دیدنی ہوگی۔
سروردوعالم ﷺ سے منکرین قیامت اس بات پر جھگڑا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد کسی نے زندہ نہیں ہونا حالانکہ قرآن مجید نے مرنے کے بعد جی اٹھنے کے درجنوں دلائل دئیے ہیں جن میں ثبوت کے طور پر عزیر (علیہ السلام) اور ان کے گدھے کا زندہ کیا جانا، ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے چار پرندوں کا دوبارہ زندہ ہونا، اصحاب کہف کا (309) تین سو نوسال بعد جی اٹھنا، موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے مقتول کا زندہ ہونا بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کا مرنے کے بعد زندہ کیا جانا۔ (البقرہ آیت 259) عیسیٰ ( علیہ السلام) کا مردوں کو زندہ…
Read the full tafseer →12: وَلَوْ تَرٰٓی (اور اگر آپ دیکھیں) یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے نمبر 2۔ ہر ایک کو خطاب ہے۔
نحو : لوؔ امتناعیہ ہے اور اس کا جواب محذوف ہے ای لرأیت امرًا عظیمًا۔
مجرمین کا حال :
اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ (جبکہ یہ مجرم لوگ) وہی لوگ ہیں جنہوں نے أاذا ضللنا فی الارض ] السجدہ : 10[ کے الفاظ کہے تھے۔ لو اور اذادونوں ماضی کیلئے آتے ہیں اور یہ جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو منتظر ہے وہ بھی موجود ہی کی طرح ہے۔ تری اور جن کو یہ شامل ہے ان کے لئے مقدرماننے کی ضرورت نہیں گویا اس طرح فرمایا گیا ولوتکون منک الرؤیۃ اور اِذؔ اس کا ظرف ہے۔
نَاکِسُوْا رُئُ وْسِھِمْ (وہ اپنے سروں کو جھکانے والے ہونگے)…
Read the full tafseer →12، ولو تری اذالمجرمون، اس سے مراد مشرکین ہیں۔ ، ناکسوارؤسھم، وہ اپنے سروں کو جھکائیں گے۔ ، عند ربھم ندامت اور غم کے مارے۔ ، ربنا، وہ یہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ، ابصرنا ، جو وعید ہمیں سنائی تھی ہم نے اس کی تکذیب کی تھی ۔ ، وسمعنا، اور تم نے اپنے پیغمبروں کی تصدیق کردی جن کو ہم جھوٹا کہتے تھے ہم نے آج تیری طرف سے تصدیق سن لی تھی۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بھی بیان کیا کہ ہم نے اپنے گناہ دیکھ لیے اور ہمارے متعلق جو کہا گیا ہم نے سن لیا۔ ، فارجعنا، ہمیں دنیا کی طرف دوبارہ لوٹا دے ۔ ، نعمل صالحا انا موقنون، جواب لو مضم رہے اس کی مجازی (تقدیری) عبارت یہ ہوگی جب وہ اس کو بطور تعجب کے دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12 تا 15۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا اس وقت کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیرو ذلیل ہو کر کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو نیچا کر کے زبان سے کہیں گے کہ اے پروردگار ہمارے ہم نے اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا اور رسولوں کے بیان کی صداقت یا اللہ خود تیری زبان سے بالمشافہ سن لی پھر کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
آیت نمبر : 14 ۔ 12
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد ‘ اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ولو تری اذالمجرمون) ” اور اگر آپ دیکھیں ‘ جب کہ گناہ گار “ جنہوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا (ناکسوا رء وسھم عند ربھم) خشوع و خضوع اور انکساری کے ساتھ سرنگوں ہوکر ‘ اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے ‘ واپس لوٹائے جانے کی درخواست کرکے عرض کریں گے : (ربنآ ابصرنا وسمعنا) ” اے ہمارے رب ! ہمنے دیکھ لیا اور سن لیا۔ “ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہوگیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ (فارجعنا نعمل صالحاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
81 منکرین کی قیامت کے دن کی حسرت کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم کسی طرح اس وقت کا حال دیکھ سکو جبکہ مجرم لوگ اپنے رب کے حضور اپنے سروں کو جھکائے کھڑے ہوں گے اور نہایت حسرت اور لجاجت کے ساتھ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب اب ہم نے خوب دیکھ اور سن لیا۔ پس تو ہمیں واپس دنیا میں بھیج دے تاکہ ہم نیک کام کریں کہ اب تو ہمیں پورا یقین آگیا "۔ کہ اب تو ہم نے عالم غیب اور آخرت کے ان تمام حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جن کی خبرحضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ دیا کرتے تھے۔ مگر ایسا ایمان و یقین جو کہ مشاھدہ کے بعد حاصل ہو، ہمارے یہاں مطلوب و مقبول ہی نہیں۔ یہاں تو مطلوب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر
تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیات 12 تا 22
اسرارومعارف
اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔
اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…
Read the full tafseer →ف 7 مگر اس سوقت یقین ہوجانے کا کیا فائدہ ؟ جو وقت یقین کے فائدہ دینے کا تھا ( یعنی دنیا میں) وہ تو انہوں نے گنوا دیا۔
Read the full tafseer →(32:12) لو تری۔ یہاں لو بطور حرف تمنائی استعمال ہوا ہے۔ کاش تو دیکھے۔
المجرمون سے مراد وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیںء اذا ضللنا فی الارض ۔۔ الخ۔
ناکسوا رؤسھم : ناکسوا اسم فاعل جمع مذکر۔ نکسر (باب نصر) مصدر سے اصل میں نکسون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔ مضاف۔ سروں کو جھکانے والے رؤسھم مضاف مضاف الیہ مل کر ناکسوا کا مضاف الیہ۔ اپنے سروں کو جھکانے والے۔ ناکش واحد۔ سر جھکانے والا۔
ربنا ۔۔ موقنون : ای یقولون ربنا ۔۔ الخ جملہ حالیہ ہے یعنی جب مجرمین اپنے رب کے حضور سر جھکائے ہوئے ہوں گے اور حال ان کا یہ ہوگا کہ وہ کہہ رہے ہوں گے ربنا ۔۔ موقنون۔
ابصرنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ابصار (افعال) مصدر سے۔ ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
لغات القرآن آیت نمبر (12 تا 17) ۔
ناکسوا (جھکانے والے) ۔ موقنون (یقین کرنے والے) ۔ حق القول (سچی بات ثابت ہونا) ۔ املٔن (میں ضرور بھردوں گا) ۔ ذوقوا (تم چکھو) ۔ نسیتم (تم نے بھلادیا) ۔ خروا (وہ گر پڑے) ۔ تتجافی (الگ رہتی ہے) ۔ جنوب (جنب) (پہلو) ۔ المضاجع (آرام کی جگہ) ۔ اخفی (چھپا دیا گیا) ۔ قرۃ (ٹھنڈک) ۔ اعین (عین) (آنکھیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ چیزوں میں اختیار دیا ہے اور کچھ چیزوں میں مجبور بنایا ہے۔ قیامت کے دن فیصلہ اس کے اختیار کئے ہوئے راستے اور اعمال پر ہوگا۔ اگر کسی نے ہدایت آنے کے باوجود غلط اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو قیامت کے دن جب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
(ف 2) ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیر ہو کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو جھکا کر کے زبان سے کہیں گے اے رب ہمارے ہم نے دیکھا اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا، اور رسولوں کے بیان کی صداقت سن لی، پھر کہیں گے ، اب ہم کو دنیا میں پھر بھیج دیاجائے تاکہ ہم اچھے عمل کریں…
Read the full tafseer →[13] یعنی پیغمبر جو باتیں کہا کرتے تھے ان کا یقین آگیا بلکہ آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا کہ ایمان و عمل صالح ہی اللہ کے ہاں کام دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ف 1: جب یہ مجرم سرجھکائے ہوئے اللہ کے حضور میں پیش ہونگے اس وقت انہیں احساس ہوگا ۔ کہ ہم نے خدا کی نافرمانی کرکے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ اس لئے وہ خواہش کریں گے کہ خدایا ہمیں ایک بار اور دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح ہم تیرے نیک اور پاک باز بندے بن جاتے ہیں ۔ جواب ملے گا کہ کائنات کا نظام پہلے سے مقدر اور متعین ہے ۔ اس میں کوئی ترمیم اور تنسیخ نہیں ہوسکتی اگر منظور ہوتا کہ کوئی شخص گمراہ نہ ہو ۔ تو ہم سب کو دنیا ہی میں ہدایت سے بہرور کردیتے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ اس دنیا کی زینت کا اختلاف اور بوقلمونی سے ہے جب میں نے کہہ دیا تھا ۔ کہ جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا ۔ وہ…
Read the full tafseer →12۔ اور اے پیغمبر اگر آپ ان گناہ گاروں کو اس وقت دیکھیں اور ملاحظہ فرمائیں تو عجب حال دیکھیں جس وقت یہ اپنے پروردگار کی پیشی میں سر جھکائے ہوئے کہتے ہوں گے ، اے ہمارے پروردگار ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا اور ہمارے کان اور ہماری آنکھیں کھل گئیں سب آپ ہم کو پھر لوٹا دیجئے اور ہم کو دنیا میں واپس بھیج دیئے آئندہ ہم نیک اور شائستہ عمل کیا کریں گے اب ہم پورا یقین کرنیوالے ہیں اور ہم کو پوری طرح یقین آگیا ۔ یعنی جب ان کی واپسی ہوگی اور پروردگار کے سامنے حاضری ہوگی تو اس وقت کی حالت کو آگ ان کی دیکھیں تو عجیب ہولناک منظر دیکھیں کہ یہ منکرین بعث سب سر جھکائے ہوئے کہہ رہے ہوں گے اب ہم نے خوب دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 2۔ اور معلوم ہوگیا کہ پیغمبروں نے جو کچھ کہا سب حق تھا۔
Read the full tafseer →گنہگاروں کی التجابدرگاہ رب ذوالجلال والاکرام :
12۔ یہ گنہگار کون ہیں ؟ گناہ تو کئی اقسام کے ہیں لیکن اس جگہ جن گنہگاروں کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ وہی ہیں جو آخرت اور آخرت کی زندگی کو مانتے ہی نہیں تھے اور جس بات سے وہ انکاری تھے جاتے ہی ان کا رابطہ اسی چیز سے ہوگیا تو ظاہر ہے کہ اب ان کی گردن جھک ہی جانا چاہئے تھے کیونکہ ان کی حالت ایسی ہی ہوئی جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا یہ گویا انکار کرتے ہی قابوا آگئے اور اسی بات سے دوچار ہوگئے جس بات پر وہ یقین کرنے کے لئے تیار ہی نہیں تھے کیا اب یقین آیا یا کہ نہیں آیا ؟ کیوں نہیں ‘ یقین آیا اور ایسا آیا کہ وہ پکار پکار کر کہنے لگے کہ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
Commentary
In verse 11, it was said: قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ (Say, "The angel of death who has been assigned for you will take you in full" -11). In the verse previous to it, the deniers of the Qiyamah were warned and an answer was given to their wondering as to how would they be brought back to life once again after they had died and become dust. In the verse cited above, such people are being reminded, 'Think of your death which is, in itself, a great manifestation of the perfect power of Allah Ta’ ala. Your heedlessness and ignorance make you think that…
Read the full tafseer →22 This will be the scene when after returning to its Lord the human 'ego' will be standing before Him to render an account of its deeds.
Read the full tafseer →