32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 32:1–11

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ راستے پر چلیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا اس کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ؟

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے پھر وہ ایک روز جس کا مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب (اور) رحم والا (خدا) ہے

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اسکی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسکو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم بہت کم شکر کرتے ہو

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جب ہم زمین میں ملیا میٹ ہوجائیں گے تو کیا ازسر نو پیدا ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جانے ہی کے قائل نہیں

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا کیا ان میں کا پہلا دن یکشنبہ ہے اور آخری دن جمہ پھر وہ عرش پر قائم ہوگیا (عرش) لغت میں تخت شاہی کو کہتے ہیں، ایساقیام جو اس کی شان کے لائق ہے، اے کفار مکہ ! تمہارے لئے اس کے علاوہ کوئی حمایتی نہیں ہے (من ولی) من کی زیادتی کے ساتھ ما اسم ہے، یعنی کوئی حمایتی نہیں، اور نہ کوئی سفارشی کہ کو تم سے اس کے عذاب کو دفع کرسکے، پھر کیا تم اس کو سمجھتے نہیں ہو کہ ایمان کے آؤ، آسمان سے لیکر زمین کی مدت تک ہرحال کی تدبیر کرتا ہے پھر تمام امور اور تدبیریں اسی کی طرف لوٹ جائیں گی ایسے دن میں کہ جس کی مقدار دنیا میں تمہارے شمار کے اعتبار سے ہزار سال کے برابر ہوگی اور سورة سَأَلَ میں پچاس ہزار سال ہے، اور وہ قتامت کا دن ہے اس کی شدید ہولنا کی کی وجہ سے بہ نسبت کافر کے، رہا مومن تو (وہ دن) اس پر ایک فرض نماز پڑھنے کے وقت سے بھی کم ہوگا کہ جس کو دنیا میں پڑھا کرتا تھا، جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے، یہ خالق جو کہ تدبیر کرنے والا ہے غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے یعنی (ہر اس چیز کا) جو مخلوق کے لئے غائب اور جو ظاہر ہے جو غالب ہے اپنے ملک میں اور نہایت رحم والا ہے اطاعت کرنے والوں پر جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی (خَلَقَہٗ ) میں لام کے فتحہ کے ساتھ فعل ماضی ہونے کی وجہ سے، حال یہ ہے کہ (جملہ ہوکر) شئ کی صفت ہے اور سکون لام کے ساتھ بدل الاشتمال ہے، اور انسان یعنی آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی ابتداء مٹی سے کی، پھر اس کی نسل کا (سلسلہ) بےوقعت پانی کے جو ہر خون بستہ سے جاری کیا اور وہ نطفۂ منی ہے اور پھر اس کو یعنی آدم کی تخلیق کو ٹھیک ٹھاک کیا پھر اس میں اپنی روح پھونک دی یعنی اس کو زندگی بخشی اور حساس بنایا حالانکہ وہ جماد (بےحس) تھا اور اسی نے اے اولاد آدم تمہارے کان بنائے سَمعٌ بمعنی اسماعٌ ہے اور آنکھیں بنائیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو مازائدہ قلت کی تاکید کے لئے ہے، اور منکرین بعث نے کہا : کیا جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے یعنی زمین میں غائب ہوجائیں گے اس طریقہ پر کہ ہم مٹی ہوجائیں گے اور زمین میں خلط ملط ہوجائیں گے تو کیا ہم نئی تخلیق میں آجائیں گے ؟ یہ استفہام انکاری ہے، دونوں جگہوں میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان الف داخل کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (بات یہ ہے) کہ وہ لوگ بعث (بعد الموت) کے ذریعہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم کو موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر ہے یعنی تمہاری روحوں کو قبض کرکے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے، زندہ کرکے، بعد ازاں وہ تم کو تمہارے اعمال کی جزادے گا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد سورة سجدہ مکی ہے اس میں تیس آیات ہیں اور بعض کے نزدیک انتیس آیات ہیں، البتہ تین آیتیں مدنی ہیں، یہ کلبی اور مقاتل کا قول ہے، ان کے علاوہ نے کہا ہے پانچ آیتیں مدنی ہیں، جن کی ابتداء تتجافیٰ جنوبھم سے ہے، اور انتہاء الذی کنتم بہ تکذبون پر ہے۔ قولہ : الٓمٓ تَنْزِیْلُ الکتابِ لاَ رَیْبَ فیہِ مِنْ رَّبِّ العٰلمین اس میں متعدد ترکیبیں ہوسکتی ہیں مگر بہتر اور آسان وہی ہے جس کو شارح علام نے بیان کیا ہے وہ یہ کہ تنزیل الکتاب مبتداء اور لا ریب فیہ خبر اول اور من رَّبّ العٰلمینَ خبر ثانی، مبتداء اپنی دونوں خبروں سے مل کر خبر المٓ مبتداء کی۔ قولہ : اَمْ یقولونَ افتراہُ اَمْ منقطعہ ہے جو معنی میں بل أیقولون افتراہ کے ہے اس میں ہمزہ انکاری ہے مگر مفسر علام نے صرف بل تحریر کیا ہے، شاید کہ کاتب سے ہمزہ رہ گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اس میں مشرکین کے اس دعوے کا انکار ہے کہ یہ قرآن محمد ﷺ کی خود ساختہ اور گھڑی ہوئی کتاب ہے، اس کا رد اور انکار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایسی بات نہیں ہے اس لئے کہ اس قسم کا کلام طاقت بشری سے باہر ہے پوری دنیائے عرب کے فصحاء وبلغاء اس کے مثل لانے سے عاجز رہے ہیں، اور آج بھی قرآن کا یہ چیلنج باقی ہے کہ ادنیٰ مثل تین آیتوں کے کوئی سورت بنا کر پیش کردے۔ قولہ : بل ھو الحق، افتراء کی نفی کرنے کے بعد اثبات حقیقت کے لئے یہ اضراب انتقالی ہے، یہ اضراب ابطالی بھی ہوسکتا ہے یعنی مشرکین کے قول افتراء کو باطل کرتے ہوئے کہا گیا ہے، اس صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی لیس ھُو کما قالوا بل ھو الحق اب رہا یہ مقولہ کہ کل ما فی القرآن من الا ضراب انتقالیٌ تو اس کے علاوہ پر محمول ہوگا (صاوی) آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ قرآن میں جو کچھ ہے وہ حق ہے اور یہ حصر جملہ (بل ھو الحق) معرفۃ الطرفین سے مستفاد ہے۔ قولہ : لِتُنْذِرَ قَوْمًا . تُنْذِرُ دو مفعولوں کو نصب دیتا ہے پہلا مفعول قَوْمًا ہے، دوسرا محذوف ہے جسکو مفسر نے اپنے قول بہ سے ظاہر کیا ہے اور بعض حضرات نے مفعول ثانی العقاب محذوف مانا ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی لتنذر قومًا العقابَ اور ما اتاھم الخ قومًا کی صفت ہے۔ قولہ : لَعَلَّھم یھتدون یہ ترجی آپ ﷺ کے اعتبار سے ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ قوم کو ہدایت کی امید کے ساتھ ڈراتے رہئے اور مایوس نہ ہوجئے۔ قولہ : اللہ، الذی خَلَق الخ جملہ مبتداء خبر ہے۔ قولہ : مَالکم من دونہٖ من ولیٍ من دونہٖ ، ما کا اسم ہے من زائدہ ہے، اس عبارت سے مفسر علام نے اشارہ کردیا کہ ما حجازیہ ہے ولیٍ اسم مؤخر ہے، اور من دونِہٖ خبر مقدم ہے، مگر اس میں یہ اعتراض ہوگا کہ ما کے عامل ہونے کے لئے اس کے اسم و خبر میں ترتیب ضروری ہے حالانکہ یہاں ترتیب باقی نہیں ہے، اس کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ نحویوں کے قول ضعیف کے مطابق عمل کیا ہے، اس لئے کہ قول ضعیف کے مطابق ما کے عمل کے لئے ترتیب شرط نہیں ہے، اور بہتر یہ ہے کہ ما کو تمیمیہ مانا جائے اور من دونہٖ کو خبر مقدم اور ولیّ کو مبتداء مؤخر مانا جائے اس لئے اس لئے کہ قرآن میں قول ضعیف پر حمل کرنا مناسب نہیں ہے۔ قولہ : اَفَلاَ تَتَذَکَّرُوْنَ ہمزہ، محذوف پر داخل ہے، اور فاعاطفہ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے أغَفَلْتُمْ فَلَاتَتَذَکَّرُوْنَ ھٰذَا، ھٰذَا، تَتذکرونَّ کا مفعول ہے۔ قولہ : یُدَبِّرُ الْاََمْرَ (الآیۃ) یعنی اللہ تعالیٰ کو کہ خالق اور مدبرالامور ہے وہ اپنے ارادے اور علم ازلی کے مطابق مخلوق میں تصرف کرتا ہے یعنی ہر آن اس کی ایک شان ہے ای کلَّ یومٍ ھو فی شأن ہر شئ اسی کی قضاء وقدر سے ہوتی ہے۔ قولہ : من السماء الی الارض ابن عباس ؓ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ قضاء وقدر نازل ہوتی ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ مراد وحی کا نزول ہے۔ قولہ : مدۃ الدنیا مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی عمر (انسانی) سات ہزار سال ہے اور آپ کی بعثت چھٹے ہزار کے شروع میں ہوئی ہے اور بعض آثار اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی امت کی عمر ہزار سال سے زیادہ ہوگی مگر یہ زیادتی پانچ سو سال سے زیادہ نہ ہوگی۔ (الکشف عن مجاوزۃ ھٰذہ الأمۃ الف، للسیوطی). قولہ : فی یومٍ کانَ مِقدَارُہ الف سَنَۃٍ یہاں یوم سے معروف یوم مراد نہیں ہے کہ جو دوراتوں کے درمیان محدود ہوتا ہے بلکہ مدت دراز اور عصر طویل مراد ہے اس لئے کہ عرب مدت دراز کو یوم سے تعبیر کرتے ہیں، نحاس (رح) تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لغت میں مطلق وقت کے معنی میں بھی مستعمل ہے، لہٰذا اب تعارض کا وہ اشکال دفع ہوگیا جو سورة سأل میں خمسین الف سنۃ اور یہاں الف سنۃ وارد ہوا ہے، مندرجہ ذیل شعر میں یوم مطلق مدت کے معنی میں استعمال ہوا ہے : یومانِ : یومُ مقاماتٍ واندیۃٍ ویومُ سیرٍ الی الا عداء تأویبُ (اعراب القرآن) قولہ : ذٰلک مبتداء ہے اور عالم خبر اول العزیز خبر ثانی اور الرحیم ثالث اور الذی احسن خبر رابع۔ قولہ : خَلَقہٗ فعل ماضی کی صورت میں جملہ ہو کر شئ کی صفت ہو تو محلاً مجرور ہوگی اور اگر کلَّ کی صفت ہو تو محلاً منصوب ہوگی اور اگر خَلْقَہٗ سکون لام کے ساتھ ہو جیسا کہ بعض قراءتوں میں ہے تو کلَّ سے بدل الاشتمال ہوگا۔ قولہ : وَبَدَأ اس کا عطف احسن پر ہے اور الانسان مفعول بہ ہے اور من طین خَلَقَ کے متعلق ہے، انسان سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں اور ہٗ ضمیر کا مرجع آدم ہیں نسلٌ بھی مرجع ہوسکتا ہے یعنی نسل آدم کو رحم مادر میں درست کیا۔ قولہ : مِنْ روحِہٖ میں اضافت تشریف کے لئے ہے۔ قولہ : جعل لکم میں غیب سے خطاب کی جانب التفات ہے اس لئے کہ مضغہ میں روح پھونکنے کے بعد مخاطب بننے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے السمعَ مصدر بمعنی اسماع ہے۔ قولہ : ادخال الف بینھما علی الوجھین یہاں وتر کھا کا لفظ چھوٹ گیا ہے، اس طرح کل چار قراءتیں ہوں گی۔ قولہ : فی الموضعین موضعین سے مراد أاِذَا ضَلَلْنَا اور أ اِنَّا ہے۔ قولہ : بل ھم بلقاء رَبِّھِمْ کافرون یہ انکار بعث سے انکار لقاء کی طرف اضراب ہے۔ تفسیر وتشریح سورة سجدہ کی فضیلت : صحیح بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ آپ ﷺ جمعہ کے دن کی نماز میں سورة الٓمٓ السجدہ اور دوسری رکعت میں ھَلْ اَتیٰ علی الانسان پڑھتے تھے، اور یہ صحیح سند سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کو سونے سے قبل سورة الم السجدہ اور سورة ملک تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ الٓمٓ (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹ، جادو، کہانت اور من گھڑت قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ رب العالمین کی طرف سے صحیفۂ ہدایت ہے اَمْ یقولون سے بطور تو بیخ فرمایا، کیا یہ کافر اور مشرک رب العالمین کے نازل کردہ اس کلام بلاغت نظام کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اسے محمد ﷺ نے خود گھڑلیا ہے ؟ ایسی بات نہیں ہے بلکہ یہ تیرے رب کی طرف سے صحیفۂ حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں، اس آیت میں نزول قرآن کی علت کا بیان ہے، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ عربوں میں پہلے نبی تھے، بعض حضرات نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھی عربوں میں مبعوث نبی قرار دیا ہے، (وللہ اعلم) اس اعتبار سے قوم سے مراد پھر خاص قریش مراد ہوں گے، جن کی طرف آپ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا۔ ما۔۔ نذیر نذیز سے اس جگہ رسول اصطلاحی مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ قریش مکہ میں آنحضرت ﷺ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا تھا، مگر اس سے لازم نہیں آتا کہ انبیاء کی دعوت بھی ان تک نہ پہنچی ہو اس لئے کہ دوسری آیت میں واضح طور پر ارشاد ہے وَاِنْ مِنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلاَ فِیْھَا نَذِیْر یعنی کوئی امت اور جماعت دنیا میں نہیں جس میں کوئی اللہ سے ڈرانے والا اور اللہ کی طرف دعوت دینے والا نہ آیا ہو۔ اس آیت میں لفظ نذیر اپنے عام لغوی معنی اللہ کی طرف دعوت دینے والا وہ خواہ کوئی رسول ہو یا کوئی نائب یا عالم دین اور داعی، تو اس آیت سے تمام امتوں تک توحید کی دعوت پہنچ جانا معلوم ہوتا ہے، اس کا مقتضٰی یہ ہے کہ اقوام عرب میں بھی توحید کی دعوت پہلے سے ضرور پہنچی ہوگی، مگر اس کیلئے یہ ضروری نہیں کہ یہ دعوت خود کوئی نبی و رسول لے آیا ہوسکتا ہے کہ ان کے نائبین علماء کے ذریعہ پہنچ گئی ہو، اسلئے اس سورت اور سورة یٰسین وغیرہ کی دو آیتیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قریش عرب میں آپ سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا تھا، ضروری ہے کہ اس میں نذیر سے مراد اصطلاحی معنی کے اعتبار و نبی ہو اگرچہ دعوت ایمان و توحید دوسرے ذرائع سے ان کے پاس پہنچ چکی ہو۔ زمانہ فترت یعنی آپ کی بعث سے پہلے بعض حضرات کے متعلق ثابت ہے کہ وہ دین ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) پر قائم تھے توحید پر ان کا ایمان تھا اور بت پرستی اور بتوں کے لئے قربانی سے متنفر تھے۔ روح المعانی میں موسیٰ بن عقبہ کی مغازی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ عمر وبن نُفَیل جو آنحضرت ﷺ کی بعث سے پہلے آپ سے بھی ملے تھے مگر آپ کی بعث سے قبل ہی ان کا انتقال ہوگیا، اسی سال قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی، یہ واقعہ آپ کی بعثت سے پانچ سال قبل کا ہے، ان کا حال موسیٰ بن عقبہ نے یہ نقل کیا ہے کہ قریش کو بت پرستی سے روکتے تھے اور بتوں کے نام پر قربانی کو برا سمجھتے تھے، اور مشرکین کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے۔ اسی طرح ورقہ بن نوفل جو آپکے زمانۂ شروع ہونے اور نزول قرآن کے وقت موجود تھے، توحید پر قائم تھے اور انہوں رسول اللہ ﷺ کی مدد کرنے کا اپنا عزم ظاہر کیا تھا مگر جلدی ہی انکا انتقال ہوگیا فی۔۔۔ تعدون یعنی اس دن کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال ہوگی، اور سورة معارج میں فرمایا گیا فی یوم کان مقدارہٗ خمسین الف سنَۃٍ یعنی اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، اس ایک اور پچاس کے فرق کی توجیہ، تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان دیکھ لی جائے، ایک سیدھا سا جواب وہ ہے جو بیان القرآن میں اختیار کیا گیا ہے، کہ اس دن کے ہولناک ہونے کے سبب یہ لوگوں کو بہت دراز معلوم ہوگا، اور یہ درازی اپنے ایمان کے اعتبار سے جو بڑے مجرم ہوں گے ان کو زیادہ اور جو کم ہیں ان کو کم محسوس ہوگی، یہاں تک کہ بعض لوگوں کو یہ دن ایک ہزار سال اور دوسروں کو وہی دن پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا، حتی کہ مومنین صالحین کو وہی دن ایک فرض نماز کے بقدر معلوم ہوگا، روح المانی میں اور بھی متعدد توجیہات بیان کی گئی ہیں مگر سب کی سب قیاسات اور تخمینات کے قبیل سے ہیں، ایسی چیز جس کو قرآن کا مدلول کہا جاسکے نہیں اس لئے اسلم اور بہتر طریقہ وہی ہے جو سلف صالحین اور صحابہ و تا بعین نے اختیار کیا ہے کہ اس ایک اور پچاس کے فرق کو علم الہٰی کے حوالہ کیا جائے، اور واللہ اعلم کہنے پر اکتفا کیا جائے، حضرت ابن عباس ؓ سے اسی قسم کا قول منقول ہے۔ الذی۔۔۔ خلقہ یعنی جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے چونکہ وہ اس کی حکمت اور مصلحت کے اقتضاء کے مطابق ہے، اس لئے اس میں اپنا ایک حسن اور انفرادیت ہے اس اعتبار سے اس کی ہر بنائی ہوئی اَحْسَنِ تقویم دیگر مخلوقات خواہ بظاہر کتنی ہی بری سمجھی جاتی ہوں، مثلاً کتا، خنزیر، سانپ، بچھو وغیرہ مگر مجموعہ عالم کے مصالح کے لحاظ سے ان میں کوئی برا نہیں۔ وبدا۔۔۔ طین اوپر بیان فرمایا کہ کار جانۂ عالم میں یوں تو ہر چیز حسین ہے مگر انسان سب سے زیادہ حسین اور بہتر ہے مگر یہ اس لئے نہیں کہ انسان کا مادہ جس سے انسان کو بنایا گیا ہے، وہ سب سے بہتر تھا اس لئے انسان سب سے زیادہ بہتر ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا مادۂ تخلیق سب سے کمتر یعنی مٹی یا منی ہے، اول انسان، آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا جو عناصر اربعہ میں کمتر ہے اور دیگر انسانی ذریت کو مادہ منویہ سے پیدا فرمایا جو کہ کمتر اور ناپاک بھی ہے۔ قل۔۔۔ بکم اس سے سابقہ آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ اور ان کے استعجاب کا جواب تھا کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ کس طرح زندہ ہوں گے ؟ اس آیت میں اس بات کا بیان ہے کہ انسان کو موت خودبخود نہیں آتی بلکہ ہر ذی روح کی موت کا ایک وقت مقرر ہے اور اس کے لئے حضرت عزرائیل (علیہ السلام) کی زیر قیادت فرشتوں کا ایک نظام قائم ہے، جس کی جس وقت اور جس جگہ موت مقرر ہے اسی جگہ اور اسی وقت اسکی روح قبض کرلی جاتی ہے، اسمیں ” ملک الموت “ بلفظ مفرد ذکر کیا گیا ہے اس سے حضرت عزرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں، اور ایک دوسری آیت میں بلفظ جمع ذکر کیا گیا ہے الذین تتوفّٰھم الملٰئکۃ اس میں اشارہ ہے کہ قبض روح کی خدمت تنہا حضرت عزرائیل انجام نہیں دیتے انکے ماتحت بہت سے فرشتے شریک جار ہیں
Ayahs 32:12–22

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور (تم تعجب کرو) جب دیکھو کہ گنہگار اپنے پروردگار کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے انکی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے (رہنے کے) لئے باغ ہیں یہ مہمانی ان کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں

آیت نمبر 12 تا 22 ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان و اطاعت کو قبول کرکے ہدایت یافتہ ہوجاتا، لیکن میری بات بالکل حق ہوچکی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں بالیقین جہنم کو جن اور انسانوں سے پر کردوں گا جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو جہنم کے نگران ان سے کہیں گے کہ اب تم اس دن کو فراموش کرنے کے عذاب کا مزہ چکھو یعنی تمہارے اس دن پر ایمان کو ترک کرنے کی وجہ سے ہم نے بھی تم کو بھلا دیا (یعنی) تم کو عذاب میں چھوڑ دیا اور تم اپنے اعمال (کی شامت) یعنی کفر و تکذیب کے دائمی عذاب کا مزہ چکھو ہماری آیتوں (یعنی) قرآن پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جنہیں جب کبھی اس کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے تو سجدہ میں گرجاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح پڑھتے ہیں یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتے ہیں اور وہ ایمان وطاعت کے مقابلہ میں تکبر نہیں کرتے اور ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں یعنی راتوں میں تہجد کی نماز پڑھنے کی وجہ سے خوابگاہوں میں بچھے ہوئے بستروں کو چھوڑ دیتے ہیں اپنے رب کو اس کے عذاب کے خوف اور اس کی رحمت کی امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا ہے اس میں سے راہ خدا میں صدقہ کرتے ہیں اور کوئی نفس اس کو نہیں جانتا جو ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان پردۂ غیب میں مخفی کر رکھا ہے یعنی ایسا سامان کہ جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، اور ایک قراءت میں (اُخْفِیْ ) کی یا کے سکون کے ساتھ مضارع کا صیغہ ہے یہ ان کے اعمال کے صلہ کے طور پر ہے، کیا وہ شخص جو مومن ہو اس کے مثل ہوسکتا ہے جو فاسق ہو ؟ برابر نہیں ہوسکتے یعنی مومن اور فاسق (کافر) برابر نہیں ہوسکتے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بھی کئے تو ان لوگوں کے لئے دائمی ٹھکانہ جنتوں میں بطور مہمانی کے ہوگا (نُزُل) اس چیز کو کہا جاتا ہے جو مہمان کے لئے تیار کی جاتی ہے اور جن لوگوں نے کفر و تکذیب کے ذریعہ حکم عدولی کی تو ان کا ٹھکانہ جہنم سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے اور ان سے کہہ دیا جائے گا اس دوزخ کا عذاب چکھو جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے اور ہم ان کو قتل و قید اور قحط سالی اور امراض کا ادنیٰ دینوں عذاب (بھی) چکھائیں گے عذاب آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے تاکہ وہ یعنی جو ان میں سے باقی رہ گئے ہیں ایمان کی طرف رجوع کریں اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس کو اس کے رب کی آیتوں یعنی قرآن کے ذریعہ نصیحت کی جائے پھر وہ اس سے اعراض کرے ؟ یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں یقیناً ہم مجرموں یعنی مشرکوں سے انتقام لیں گے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : وَلَوْ تریٰ اِذ المجرمونَ روز قیامت مجرمین کی عام حالت کو بیان کرنے کے کئے یہ جملہ مستانفہ ہے، خطاب آپ ﷺ کو ہے یا ہر وہ شخص مخاطب ہے جس میں مخاطب بننے کی صلاحیت ہے اس آیت میں مجرموں کی روز محشرنا گفتہ بہٖ حالت کی منظر کشی کی گئی ہے، اور ان کی معنوی حالت کو محسوس و مجسم کرکے پیش کیا گیا ہے، لَوْ اور اِذْ اگرچہ ماضی کے لئے ہیں مگر یہاں مضارع پر داخل ہیں اس لئے کہ مجرمین کی حالت مذکورہ کا وقوع یقینی ہے اس لئے ان کا مضارع پر داخل ہونا درست ہے اور ابوالبقاء نے کہا ہے کہ اِذْ ، اِذَا کی جگہ واقع ہے۔ قولہ : ترٰی کا مفعول محذوف ہے اسلئے رویت سے رویت بصر یہ مراد ہے، تقدیر عبادت یہ ہے لو تری المجرمینَ جواب لَوْ محذوف ہے ای لَرَأیْتَ امرًا فظِیْعًا لا یمکن وصفہ اور علامہ زمخشری نے لَوْ کو تمنی کے لئے کہا ہے اس صورت میں جواب کی ضرورت نہ ہوگی۔ قولہ : یقولون ربَّنَا مفسر علام نے یقولون کا اضافہ کرکے اس بات کیطرف اشارہ کردیا کہ رَبَّنا بتقدیر قول حال ہے ای قائلین یا رَبَّنا . قولہ : اَبْصَرنا فعل با فاعل ہے اور مفعول محذوف ہے ای ابصرنا صِدقَ وَعْدِکَ ووَعِیدکَ. قولہ : سَمِعْنَا کا عطف ابصرنا پر ہے سمعنا کا بھی مفعول محذوف ہے ای سمعنا منک تصدیق رُسُلِکَ اور یہ بھی جائز ہے کہ مفعول محذوف نہ مانا جائے، ای صرنا ممن یَبْصر ویَسْمع وکنّا من قبل سمًّا وعمیانًا . قولہ : نَعْمَلْ جواب امر کی وجہ سے مجزوم ہے۔ قولہ : فتھتدی یہ لو کا جواب ہے جس کو شارح نے ظاہر کردیا ہے۔ قولہ : بترککم مفسر علام نے نسیان کی تفسیر ترک کرکے اشارہ کردیا کہ نسیان سے دونوں جگہ لازم معنی مراد ہیں اس لئے کہ نسیان کے لئے ترک لازم ہے، ورنہ تو نسیان پر مواخذہ نہیں ہے، نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب نسیان کی نسبت محال ہے یہ نسبت استعارہ یا مجاز مرسل کے طور پر ہی ہوسکتی ہے۔ قولہ : ذوقوا عذاب الخلد کی تکرار اول ذوقوا کے مفعول محذوف ہونے پر دلالت کرنے کے لئے ہے۔ قولہ : بما کنتم میں باسببیہ ہے من اکفر والتکذیب، ما کا بیان ہے۔ قولہ : تتجافیٰ جنوبھم، تجَافِیٌ سے مضارع واحد مؤنث غائب، دور رہتی ہے، الگ رہتی ہے، یہ جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور یستکبرون کی ضمیر سے حال بھی ہوسکتا ہے، اسی طرح یدعون میں بھی یہی دونوں احتمال ہیں، یدعون کو حال قرار دینے کی صورت میں یہ بھی احتمال ہے کہ حال ثانیہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ جنوبھم کی ضمیر سے حال ہو۔ قولہ : خوفًا وطمعًا یہ دونوں مفعول لہ ہیں، اور حال بھی ہوسکتے ہیں اور فعل محذوف کے مفعول مطلق بھی ہوسکتے ہیں ای جو زوا جزاءً اور اُخْفِیَ کا مفعول لہ بھی ہوسکتے ہیں ای اُخفِیَ لا جل جزاء ھم . تفسیر وتشریح ولوتَرَیٰ اس آیت میں مجرمین کی اس ناگفتہ بہ حالت کا بیان ہے جو محشر میں رب العالمین کے روبرو پیشی کے وقت ذلت و رسوائی کی صورت میں ہوگی، ذلت و رسوائی ندامت و شرمندگی کو جو کہ معنوی اور غیر مرئی شئ ہے اللہ تعالیٰ نے محسوس اور مرئی صورت میں بیان فرمای ہے، اور مجرمین سے یہاں وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے کہا تھا ءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جدیدٍ جب ہم خاک میں رل مل جائیں گے تو کیا ہم کو نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا ؟ مذکورہ مجرمین کہیں گے کہ ہمارے کان اور آنکھیں کھل گئیں، پیغمبر جو فرمایا کرتے تھے اب ہم کو ان کا یقین آگیا بلکہ آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا، اب ایک مرتبہ پھر دنیا میں بھیج دیجئے، دیکھئے ہم کیسے نیک کام کرتے ہیں، مگر اس وقت کا یقین کرنا کچھ کام نہ آئے گا مشاہدہ کرنے کے بعد تو ہر مشرک و کافر ایمان لے ہی آتا ہے، لہٰذا ایمان بالمشاہدہ معتبر نہیں، یہی وجہ ہے کہ حالت غرغرہ کا ایمان معتبر نہیں ہے، آگے آنحضرت ﷺ کی تسلی کے لئے فرماتے ہیں کہ آپ اہل مکہ کے ایمان نہ لانے پر اس قدر غم نہ کریں، کہ خود کو ہلاک ہی کرڈالیں، اس لئے کہ اگر ہم چاہتے تو ہر کافر و مشرک کی ہدایت عطا کردیتے لیکن یہ ہدایت جبری ہوتی جس میں امتحان اور آزمائش کی گنجائش نہ ہوتی آزمائش کی گنجائش تو اختیاری ایمان ہی میں ہوتی ہے، دوسری جگہ فرمایا وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْ عَنْہُ (انعام : رکوع 3) یعنی جھوٹے ہیں اگر دنیا کی طرف لوٹائے جائیں پھر ان کی وہی روش رہے گی، ان کی طبیعت کی افتادہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ شیطان کے اغوا کو قبول کرلیں اور اللہ کی رحمت سے دور بھاگیں م بلا شبہ ہم کو قدرت ہے اگر ہم چاہتے تو انسانوں کو زبردستی اسی راہ ہدایت پر قائم رکھتے جس کی طرف انسان کا دل فطرۃً رہنمائی کرتا ہے لیکن اس طرح سب کو ایک ہی طور و طریق اختیار کرنے کے لئے مضطر و مجبور کردینا حکمت کے خلاف تھا، اور وہ بات بھی پوری ہونی تھی جو ابلیس کے دعوے لَاُغوِینَّھُمْ اَجْمعِین اِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُم المخلَصین کے جواب میں فرمائی تھی فَالحقُّ والحقَّ اقُوْلُ لأملَئَنَّ جھَنَّمَ مِنْکَ ومِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ، معلوم ہوا کہ یہاں جن وانس سے شیاطین اور ان کے اتباع مراد ہیں، اِنَّا نَسِینٰکُمْ میں نسیان سے ترک کرنا اور نظر انداز کرنا مراد ہے جو کہ نسیان کے لئے لازم ہے، اس لئے کہ نسیان اللہ تعالیٰ سے محال ہے۔ انما۔۔۔ ب آیتنا (الآیۃ) سے اسلوب قرآن کے مطابق تقابل کے طور پر مومنین اور ان کے اوصاف کا ذکر ہے یعنی مشرکین متمردین کے برخلاف مومنین کا حال یہ ہے کہ وہ خوف و خشیت اور خشوع و خضوع سے سجدہ میں گرپڑتے ہیں، زبان سے اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں دل میں کبروغرور نہیں، مومنین مخلصین کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ سردی کے موسم میں میٹھی نیند اور نرم گرم بستروں کو چھوڑ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں اس سے مراد تہجد کی نماز ہے، روایات حدیث سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے، مسند احمد، ترمذی، نسائی وغیرہ میں حضرت معاذ بن جبل سے راویت ہے کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھا، ایک روز میں دوران سفر صبح کے وقت آپ ﷺ کے قریب ہوا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرے، اور جہنم سے دور کرے، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ایک بڑی چیز کا سوال کیا مگر جس کو اللہ آسان کردے اس کے لئے آسان ہوجاتی ہے، اور فرمایا کہ وہ عمل یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو اور فرمایا کہ لو اب میں تم کو خیر کے ابواب بتلاتا ہوں وہ یہ ہیں روزہ ڈھال ہے جو عذاب سے بچاتا ہے، اور صدقہ آدمی کے گناہوں کی آگ کو بجھا دیتا ہے، اسی طرح آدمی کی نماز درمیان شب میں، اور یہ فرما کر قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی تتجافی جنوبُھم عن المضاجع . حضرت قتادہ، ابوالدرداء اور ضحاک ؓ نے فرمایا ہے کہ پہلوؤں کے بستروں سے الگ ہونے کی صفت ان لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو عشاء کی نماز جماعت سے ادا کریں پھر فجر کی نماز جماعت سے ادا کریں، اور ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ انس ؓ سے روایت ہے کہ تتجافیٰ جنوبُھم عشاء کی نماز سے پہلے نہ سونے اور جماعت عشا کا انتظار کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں سے متعلق ہے جو مغرب اور عشاء کے درمیان نوافل پڑھتے ہیں (رواہ محمد بن نصر) اور حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کے متعلق فرمایا کہ جو لوگ جب آنکھ کھلے اللہ کا ذکر کریں لیٹے بیٹھے اور کروٹ پر وہ بھی اس میں داخل ہیں، امام تفسیر ابن کثیر نے فرمایا کہ ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ان سب کو شامل ہے آخر شب کی نماز ان سب میں اعلیٰ و افضل ہے۔ (بیان القرآن) اور حضرت اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو جمع فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک منادی کھڑا ہوگا جس کی آواز تمام مخلوق سنے گی، وہ ندا دے گا کہ آج اہل محشر جان لیں گے کہ اللہ کے نزدیک کون لوگ عزت واکرام کے مستحق ہیں، پھر وہ فرشتہ ندا دے گا کہ اہل محشر میں سے وہ لوگ کھڑے ہوں جن کی صفت یہ تھی تتجافیٰ جنوبُھُمْ عن المضاجع یعنی ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوجاتے ہیں، اس آواز پر یہ لوگ کھڑے ہوں گے جن کی تعداد قلیل ہوگی اور اسی روایت کے بعض الفاظ میں ہے کہ یہ لوگ بغیر حساب کے جنت میں بھیج دیئے جائیں گے، اس کے بعد اور تمام لوگ کھڑے ہوں گے ان سے حساب لیا جائے گا۔ (مظھری) یَدعون۔۔۔ وطمعًا یعنی اس کی رحمت و فضل و کرم کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس کے عتاب و غضب اور مواخذہ و عذاب سے ڈرتے بھی ہیں، محض امید ہی امید نہیں رکھتے کہ عمل سے بھے پرواہ ہوجائیں (جیسا کہ بےعمل اور بدعمل لوگوں کا شیوہ ہے) اور نہ عذاب ومواخذہ کا اتنا خوف طاری کرلیتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے مایوس ہوجائیں کہ یہ مایوسی بھی کفر و ضلالت ہے۔ فائدہ : انفاق میں صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں شامل ہیں اہل ایمان حسب اسطاعت دونوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ فلا تعلم نفسٌ میں نفس نکرہ ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یعنی ان نعمتوں کی حقیقت کو کما حقہٗ کوئی نہیں جانتا جو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ اہل ایمان کے لئے مخفی رکھی ہیں، ان کی تفسیر میں نبی کریم ﷺ نے یہ حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا گذر ہوا۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة سجدہ) تنبیہ : اس حدیث کو لے کر سر سید وغیرہ نے جنت کی جسمانی نعمتوں کا انکار کیا ہے، مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی کا اس کے جواب میں ” ہدیہ سنیہ “ کے نام سے ایک مضمون چھپا ہے اس کو دیکھ لیا جائے۔ (فوائد عثمانی) اَفَمَنْ کانَ مؤمنًا (الآیۃ) یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے یہاں مومن و کافر، فرمانبردار اور نافرمان برابر نہیں ہوسکتے، اگر دونوں کا انجام برابر ہوجائے تو یہ عدل کے خلاف ہوگا (نعوذ باللہ) یہ اندھیرنگری جیسا معاملہ ہوجائے گا، بلکہ ان دونوں فریقوں کے درمیان بڑا فرق ہوگا، مومن اللہ کے مہمان ہوں گے نیز اعزاز واکرام کے مستحق، اور فاسق و کافر تعزیر و عقوبت کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم کی آگ میں جھلسیں گے، جہنم کے عذاب کی شدت اور ہولناکی سے گھبرا کر جہنمی باہر نکلنا چاہیں گے یا کبھی کبھی آگ کے شعلے جہنمیوں کو دروازے کی طرف پھیک دیں گے اس وقت شاید نکلنے کا خیال کریں فرشتے پھر ادھر ہی دھکیل دیں گے کہ جاتے کہاں ہو ؟ جس چیز کو جھٹلاتے تھے ذرا اس کا مزہ چکھو (فوائد عثمانی) آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے دینوی چھوٹے عذاب مثلاً دنیا کی مصیبتیں امراض، بعض کے نزدیک ادنیٰ عذاب سے وہ قتل مراد ہے جس سے کافر غزوۂ بدر میں دوچار ہوئے تھے، یا وہ قحط سالی کو مکہ والوں پر مسلط کی گئی تھی مراد ہے، دینوی مصائب وآلام بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ جس کے لئے رجوع کی توفیق مقدر ہے وہ خدا کی طرف رجوع ہوجائے۔
Ayahs 32:23–30

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو تم اس کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتاب) کو (یا موسیٰ کو) بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو اس (امر) سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کردیا بیشک اس میں نشانیاں ہیں تو یہ سنتے کیوں نہیں ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ بھی (کھاتے ہیں) تو یہ دیکھتے کیوں نہیں ؟

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو ان سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی سو آپ کو ان کی ملاقات کے بارے میں ہرگز شک نہ کرنا چاہیے اور ان دونوں حضرات کی ملاقات لیلۃ الاسراء میں ہوئی اور ہم نے ان کو یعنی موسیٰ یا کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا اور جب ان لوگوں نے اپنے دین پر (قائم رہنے) اور اپنے دشمنوں کی جانب سے ایذاؤں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (ائمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو ی سے بدل کر بمعنی پیشوا اور ان آیات پر ایمان رکھتے تھے جو ہماری قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور (لَمَّا) ایک قراءت میں لام کے کسرہ اور میم کی تخفیف کے ساتھ ہے (یعنی لِمَا) یقیناً آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان باتوں (یعنی) امور دین کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کررہے ہیں کیا اس بات نے بھی ان کو ہدایت نہیں دی کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی امتوں کو ان کے کفر کے سبب سے ہلاک کردیا، حالانکہ یہ لوگ اپنے شام وغیرہ کے سفر میں ان کے مکانوں سے گذرتے ہیں کہ عبرت حاصل کریں، بلاشبہ اس میں ہماری قدرت کے دلائل ہیں کیا یہ تدبر وتذ کر کے طور پر سنتے نہیں ہیں کیا یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف جس میں گھاس نہیں ہوتی پہنچاتے ہیں پھر اس پانی سے ہم کھیتی اگاتے ہیں جس سے وہ اور ان کے جانور کھاتے ہیں کیا پھر بھی یہ اس کو نہیں دیکھتے کہ سمجھ جائیں کہ ہم دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں، اور مومنین سے کہتے ہیں کہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کب ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو (توبتاؤ) آپ کہہ دیجئے ان پر عذاب نازل کرکے فیصلے کے دن ان کافروں کو ان کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو تو بہ یا عذر خواہی کیلئے مہلت دی جائے گی اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیجئے اور ان پر نزول عذاب کا انتظار کیجئے وہ بھی آپ پر حادثۂ موت یا قتل کا انتظار کررہے ہیں تاکہ وہ آپ سے راحت پاجائیں، اور یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : مِرْیَۃ اسم مصدر بمعنی تردد، شک لِقائِہٖ ضمیر کے مرجع میں چند اقوال ہیں (1) موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور لقاء مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے مِنْ لِقائکَ موسیٰ لیلۃَ الإسراءِ (2) کتاب کی طرف راجع ہے، اس صورت میں مصدر کی اضافت فاعل اور مفعول دونوں کی طرف درست ہوگی، فاعل کی طرف اضافت کی صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی مِنْ لقاءِ الکتابِ لمُوسیٰ اور مفعول کی طرف بھی درست ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی لقاء موسیٰ الکتاب یہ بھی احتمال ہے کہ لقائِہٖ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہو، ای من لقاء موسیٰ اللہ اس صورت میں مصدر کی اضافت مفعول کی طرف ہوگی، اور یہ بھی احتمال ہے کہ لقائہٖ کی ضمیر موسیٰ کی طرف راجع ہو اس صورت میں اضافت فاعل کی طرف ہوگی، یعنی اے محمد ﷺ آپ موسیٰ کی اللہ سے ملاقات کے بارے میں شک نہ کیجئے یا اللہ کی موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کے بارے میں شک نہ کیجئے (اعراب القرآن لابی البقاء) ان اقوال کے علاوہ بھی اقوال ہیں مگر وہ ضعف سے خالی نہیں۔ قولہ : أئمۃ اس میں ایک قراءت ہمزہ کو ی سے بدل کر بھی ہے یعنی أیِمَّۃً اور یہ قراءت عربیت کے اعتبار سے ہے نہ کہ قراءت سبعہ کے اعتبار سے اور شرح عقائد میں ہے کہ أئمّۃ کی اصل أَأمِمَۃ تھی اسلئے کہ یہ امام کی جمع ہے دو میم جمع ہوئے، اول کا ثانی میں ادغام کردیا، نیز حرکت نقل کرکے ہمزہ کو دیدی أئمۃ ہوا دو ہمزوں کے اجتماع کی کراہت کی وجہ سے ہمزہ مک سورة کو ی سے بدل دیا أیِمَّۃً ہوگیا۔ قولہ : قادۃ یہ قائد کی جمع ہے بمعنی رہبر، کشندہ، جیسا کہ سادۃٌ سید کی جمع ہے۔ قولہ : لَمَّا صَبَرُوْا جمہور کی قراءت میں لام کے فتحہ اور میم کی تشدید کے ساتھ ہے لَمَّا، حِیْنَ کے معنی میں ہے اور جملہ جزائیہ ہے ای جَعَلْنَا ھم أئِمَّۃً حِیْنَ صَبَرُوْا، صَبَرُوْا کی ضمیر أئِمَّۃ کی طرف راجع ہے اور لَمَّا کا جواب محذوف ہے جس پر جَعَلْنَا مِنْھُمْ دلالت کررہا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے لَمَّا صَبَرُوْ ا جَعَلْنا مِنْھُمْ أئِمَّۃً حمزہ اور کسائی کی قراءت میں لِمَا لام کے کسرہ اور میم کی تخفیف کے ساتھ ہے اس صورت میں لام تعلیلیہ ہوگا اور مصدریہ ای بسبب صبرھم علیٰ دینِھِمْ وعلیَ البَلَاءِ مِنْ عدُوِّھم . (جمل) قولہ : بَیْنَھُمْ سے یا تو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتیں مراد ہیں، یا مومنین و مشرکین مراد ہیں۔ قولہ : اَوَلَمْ یَھْدِلھم کا عطف محذوف پر ہے ای أَغفلُوْا ولَمْ یتبیَّن لَھُمْ یا ألمْ یَتَّعِظُوْا . قولہ : یَھْدِلَھُمْ کا فاعل مضمون جملہ ہے جیسا کہ مفسر علام نے ھَلَا کُنَا کہہ کر اشارہ کردیا ہے، اگر حذف فاعل پر قرینہ موجود ہو تو فاعل کو حذف کرنا جائز ہے۔ قولہ : فی ذٰلِکَ ای فی کَثْرَۃِ اِھْلاَکِ الْاُمَمِ الماضِیَۃِ. قولہ : الْجُرُزُ اس زمین کو کہتے ہیں جس کی گھاس وغیرہ کاٹ کر سپاٹ میدان کردیا گیا ہو یا بِسَۃً اس کے لازم معنی ہیں۔ تفسیر وتشریح وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسی الْکِتَابَ. سوال : اس آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اعطاء کتاب کا ذکر کس مناسبت سے کیا گیا ہے ؟ حالانکہ زمانہ کے اعتبار سے آپ ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قریب ہیں۔ جواب : پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ ﷺ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سے احوال میں قریبی مشابہت ہے، جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا، دوسری وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں پر حجت قائم کرنی مقصود تھی وہ یہود و نصاریٰ ہیں یہود چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قائل نہیں تھے اس لئے اگر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا تو یہود کے لئے قابل نہ ہوتا اور حضرت موسیٰعلیہ الصلاۃ والسلام چونکہ یہود و نصاریٰ کے لئے متفق علیہ نبی ہیں دونوں ان کو مانتے ہیں قابل قبول تھے، اس سے بھی حضرت موسیٰ کے ذکر کو اختیار فرمایا۔ (صاوی مع الاضافۃ) وَلَقَدْ اٰتَیْنَا (الآیۃ) یہ درمیان میں جملہ معترضہ ہے یعنی بلا شبہ موسیٰ کو کتاب دی گئی اور آپ کو بھی اسی طرح کتاب ملی ہے اس میں بھی شک وشبہ نہیں ہے، یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر پر فرمایا کہ آپ کی ملاقات شب معراج میں جو موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی تھی وہ حقیقت ہے کوئی دھوکا یا نظر بندی نہیں ہے۔ (فوائدعثمانی) فلا۔۔ لقائہٖ واجدی نے فرمایا کہ مفسرین نے کہا ہے آنحضرت ﷺ سے وعدہ فرمایا گیا کہ آپ کی ملاقات دینوی زندگی ہی میں موسیٰعلیہ الصلاۃ والسلام سے ہوگی، لہٰذا آپ کی ملاقات بیت المقدس میں لیلیۃ الاسراء میں اور آسمانوں پر معراج میں ہوئی۔ لِقاء کے معنی ملاقات کے ہیں، اس آیت میں کس کی ملاقات کس سے مراد ہے اس میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ لقائہٖ کی ضمیر کتاب یعنی قرآن کی طرف راجع ہے، مطلب یہ ہے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کتاب دی تھی آپ بھی اس کتاب کے آنے میں کوئی شک نہ کریں جیسا کہ ایک دوسری آیت میں قرآن کے متعلق ایسے الفاظ آئے ہیں وانَّکَ لتلقی القرآن اور حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ ؓ سے اس کی تفسیر اس طرح منقول ہے کہ لقائہٖ کی ضمیر حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے اور اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہونے کی خبر دی گئی ہے، اور فرمایا کہ آپ اس میں شک نہ کریں کہ آپ کی ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوگی، چناچہ ایک ملاقات کا تو شب معراج میں ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے پھر قیامت میں ملاقات ہونا بھی ثابت ہے۔ اور حسن بصری (رح) تعالیٰ نے اس کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک کتاب دی گئ اور لوگوں نے ان کی تکذیب کی اور ان کو ستایا، آپ بھی یقین رکھیں کہ یہ سب چیزیں آپ کو بھی پیش آئیں گی اس لئے آپ کفار کی ایذاؤں سے رنجیدہ نہ ہوں بلکہ اس کو سنت انبیاء سمجھ کر برداشت کریں۔ وجعلنا۔۔ أئمۃ (الآیۃ) اس آیت سے صبر کی فضیلت واضح ہے، صبر کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے بجالانے اور ترک زواجر میں، اور اللہ کے رسولوں کی تصدیق اور ان کے اتباع میں جو تکلیفیں آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کے صبر کرنے اور آیات الہٰیہ پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہم نے ان کو دینی امامت اور پیشوائی کے منصب پر جائز کیا، لیکن جب انہوں نے اس کے برعکس تبدیل و تحریف کا ارتکاب کیا تو ان سے یہ مقام سلب کرلیا گیا چناچہ اس کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے، پھر نہ ان کا عمل صالح رہا اور نہ ان کا اعتقاد صحیح۔ خلاصہ یہ ہے کہ امامت اور پیشوائی کے لائق اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہ لوگ ہیں جو عمل میں کافی کامل ہوں اور علم میں بھی اور یہاں عملی کمال پر مقدم بیان فرمایا ہے حالانکہ طبعی ترتیب کے اعتبار سے علم عمل سے مقدم ہوتا ہے، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ علم قابل اعتبار ہی نہیں جس کے ساتھ عمل نہ ہو۔ (معارف) شان نزول : کفار مکہ کی جانب سے رات دن کی ایذاؤں سے تنگ آکر مسلمان مشرکین سے کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب مسلمانوں کو مشرکین پر فتح عطا فرمائیں گے اور ہمارے اور ان کے درمیان ایک روز عملی فیصلہ فرمائیں گے۔ جب مشرکین مسلمانوں کی یہ بات سنتے تھے تو استہزاء واستعجال و تکذیب کے طور پر کہا کرتے تھے کہ یہ فتح و نصرت کا دن کب آئے گا تو اس وقت متیٰ ھٰذا لفتح إن کنتم صادقین نازل ہوئی، اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا قُلْ یوم الفتحِ لا ینفعُ الذین کفروْا یمَانُھم یعنی آپ ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ تم ہماری فتح کا دن ہم سے کیا پوچھتے ہو وہ دن تو تمہاری مصیبت کا ہوگا کیونکہ جس دن ہماری فتح ہوگی تو اس دن تم عذاب میں گرفتار ہوچکے ہوگے، خواہ دنیا میں جیسے غزوۂ بدر میں ہوا، یا آخرت میں، اور جب اللہ کا عذاب کسی کو پکڑ لیتا ہے پھر اس کا ایمان قبول نہیں کرتا (کذاذکرہ ابن کثیر) اور بعض حضرات نے اس جگہ متیٰ ھٰذا الفتح کے معنی روز قیامت کے کئے ہیں۔ سوال : مشرکین مکہ کے قول ویقولون متیٰ ھٰذا الفتحُ میں وقت فتح کا سوال ہے اور وہ مومنین و کافرین کے درمیان یوم قضا یعنی یوم قیامت ہے تو اس صورت میں مابعد کے جواب کی سوال کے ساتھ کیسے مطابقت ہوگی ؟ جواب : مشرکین مکہ کا سوال چونکہ قیامت کے بارے میں بطور تکذیب و استہزاء کے تھا نہ کہ سوال استفہام، لہٰذا جواب بھی تکذیب و استہزاء کے مطابق تہدید سے دیا جو کہ عین مطابق ہے۔ سوال : جن حضرات نے یوم الفتح کی تفسیر فتح مکہ یا یوم بدر سے کی ہے تو پھر جواب کی تطبیق، یوم الفتح لا ینفعُ الذین کفروا سے کسطرح ہوگی، حالانکہ بعض کفار کو ان دونوں دنوں میں انکے ایمان نے فائدہ پہنچایا، اس لئے کہ جو لوگ ایمان کا ئے وہ طلقاء قرار دیئے گئے جواب : مراد مشرکین کے مقتولین ہیں ان کے ایمان نے حالت قتل میں ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا، جیسا کہ غرق کے یقین کے وقت فرعون کو اس کے ایمان نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا (انموذج جلیل فی بیان اسئلۃ واجو بۃ من غرائب التنزیل، لعلامۃ محمد بن ابی بکر القادر الرازی (رح) تعالیٰ ) ۔ تم بحمداللہ