31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 31:1–11

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکو کاروں کے لئے ہدایت اور رحمت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بےہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے راستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزا کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دئیے تاکہ تم کو ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے اور ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر (اس سے) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الٓمّٓ اس کی (حقیقی) مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تلک یعنی یہ آیتیں حکمت والی کتاب قرآن کی آیتیں ہیں، اضافت بمعنی مِن ہے، وہ نیکوکاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے رَحمَۃٌ کے رفع کے ساتھ رِحْمَۃً عام قراءت میں آیات سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اور) عامل اس میں وہ (فعل) ہے جو تلک میں اشارہ کے معنی ہیں (یعنی اُشِیْرُ ) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں یہ محسنین کا بیان ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں ثانی ھم پہلے ھم کی تاکید ہے، یہی ہیں وہ لوگ کو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں کامیاب ہونے والے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ جو لغو باتوں کو خریدتے ہیں یعنی وہ چیز جس کی وجہ سے مقصد سے غافل رہتے ہیں (نوٹ) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ یَلْھٰی معروف پڑھا جائے اور اگر یُلْھٰی مجہول پڑھا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا، اور بعض لوگ ایسے لغویات کو خرید لیتے ہیں کہ جن کے ذریعہ مقصد سے غافل کئے جائیں تاکہ اللہ کے راستہ سے یعنی اسلام کے طریقہ سے ناسمجھی کی وجہ سے گمراہی میں پڑے رہیں (یا) تاکہ لوگوں کو گمراہ کریں لیضل فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے وَیَتخِذَھَا نصب کے ساتھ یُضِلَّ پر عطف کرتے ہوئے اور رفع کے ساتھ یَشْتری پر عطف کرتے ہوئے تاکہ ان آیات یعنی سبیل اللہ کا مذاق اڑائے یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کن عذاب ہے اور جب اس کو ہماری آیتیں قرآن پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں کہ اس کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے (یعنی) گراں گوش ہے، اور تشبیہ کے دونوں جملے وَلّٰی کی ضمیر سے حال ہیں یا ثانی جملہ پہلے جملہ کا بیان ہے آپ اس کو دردناک عذاب کی خبر سنادیجئے اور خوشخبری کا ذکر اس کے لیے مذاق کے بطور ہے اور وہ نضر بن حارث ہے جو تجارت کے سلسلہ میں حیرہ جایا کرتا تھا (وہاں) سے عجمیوں کی تاریخی کتابیں خرید لاتا تھا اور ان کتابوں کو اہل مکہ کو سنایا کرتا تھا، اور کہا کرتا تھا کہ محمد تو تم کو عاد وثمود کے قصے سناتے ہیں اور میں تم کو فارس اور روم کے قصے سناتا ہوں تو یہ لوگ اس کی بات کو پسند کرتے تھے اور قرآن سننا ترک کردیتے تھے، بیشک جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور کام بھی نیک کئے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، حال مقدرہ ہے، یعنی ان کا جنت میں ہمیشہ رہنا مقدر ہوچکا ہے جب وہ اس میں داخل ہوجائیں گے اللہ کا وعدہ سچ یعنی اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے سچا وعدہ وہ غلبہ والا ہے اس کو کوئی شئ مغلوب نہیں کرسکتی کہ اس کو اس کے وعدوں اور وعیدوں کو پورا کرنے سے روک سکے، وہ بڑی حکمت والا ہے کہ وہ ہر شئ کو اس کے محل اور موقع ہی میں رکھتا ہے اسی نے آسمانوں کو بلا ستون بنایا (جیسا کہ) تم ان کو دیکھ رہے ہو عَمَدٌ عِمادٌ کی جمع ہے اور یہ بات اس صورت میں بھی صادق آتی ہے کہ ستون بالکل ہی نہ ہوں اور زمین پر اونچے اونچے پہاڑ رکھ دیئے تاکہ تمکو لیکر (اضطرابی) حرکت نہ کرے اور ہر قسم کے جانور زمین میں پھیلا دئیے اور ہم نے آسمان سے پانی پر سایا اس میں غیبت (سے تکلم کی جانب) التفات ہے پھر اس زمین میں طرح طرح کی (نباتات) کی عمدہ قسمیں اگائیں یہ ہیں اللہ کی پیدا کی ہوئی (چیزیں) یعنی اس کی مخلوق اب اے مکہ والو ! مجھے بتاؤ کہ غیر اللہ نے کیا پیدا کیا ؟ یعنی تمہارے معبودوں نے، حتی کہ تم نے انکو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرادیا، ما، استفہام انکاری مبتداء ہے اور ذَا بمعنی الذی مع اپنے صلہ کے اسکی خبر ہے، اور اَرُوْنی کو عمل سے روک دیا گیا ہے، اور اسکا مابعد دو مفعولوں کے قائم مقام ہے بل انتقال کے لئے ہے بلکہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں ان کے شرک کرنے کی وجہ سے اور انہیں میں سے تم بھی ہو۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اَیْ ھذِہِ الْآیَات، تِلْکَ اسم اشارہ بعید کی تفسیر، ھذا اسم اشارہ قریب سے کرکے اشارہ کردیا کہ سورت کی آیات عنداللہ رتبہ کے اعتبار سے رفع القدر ہیں، اگرچہ اذہان سے قریب ہیں، ھُوَ محذوف مان کردیا کہ ھُدًی ورحمۃً مبتداء محذوف ہے، اور اگر ھدًی اور رحمۃً منصوب ہوں تو آیات سے حال ہوں گے اور عامل تلکَ ، یُشیرُ کے معنی ہو کر ہوگا۔ قولہ : وَمِنَ الناس مَنْ یشْتَرِی لَھْوَ الحدیث اس سے پہلی آیت میں نیکوکار مومنین کا ذکر تھا، اس آیت میں بطور تقابل بدکار مشرکین کا ذکر ہے، پہلی آیت میں محسنین کے اوصاف کا ذکر تھا اس آیت میں مشرکین کے اوصاف کا ذکر ہے، وَمِنَ الناس میں من تبعیضیہ ہے، شان نزول کے اعتبار سے اگرچہ ایک خاص شخص نضربن حارث بن کلدہ مراد ہے مگر الفاظ عام ہیں جس میں لہو الحدیث سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص داخل ہے۔ قولہ : لَھْوٌ (ن) کا مصدر ہے، ایسے فضول کام میں مشغول ہونا کہ جس کی وجہ سے مفید کام متروک ہوجائے، یہاں مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے یعنی وہ فضول باتیں جو غافل کرنے والی ہوں لَھْوَ الحدیث یہ اضافت بمعنی من ہے، جیسا کہ شارح نے منہ کہہ کر اشارہ کردیا ہے، اصل میں لھوًا من الحدیث تھا، فضول اور بےسروپا قصوں کا کھیل تماشہ۔ قولہ : ای مَا یَلْھٰی (س) واحد مذکر مضارع معروف۔ قولہ : عَمّا یعنی . مابمعنی وہ چیز جو مقصود ہو، اب ترجمہ یہ ہوا لَھْوَ الحدیث وہ شئ جو مفید اور کار آمد شئ سے غافل کردے۔ قولہ : لِیَضِلَّ اور لِیُضِلَّ دونوں قراءتیں ہیں پہلی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا، وہ لہو الحدیث اس لئے خرید کر لاتا ہے تاکہ خرافات اور بیہودہ قصہ گوئیوں میں ہمیشہ مشغول ہو کر گمراہ رہے، اور دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا، تاکہ وہ دوسروں کو گمراہ کرے یعنی ضال بھی اور مضل بھی۔ قولہ : صَمَمًا یہ وَقرًا کی تفسیر ہے ” وقر “ ڈاٹ کو کہتے ہیں جو کہ محسوس اور خارجی چیز ہوتی ہے، یہاں معنوی ڈاٹ مراد ہے اور وہ ثقل اور بہراپن ہے نہ سننے یا سن کر عمل نہ کرنے کو وقرٌ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قولہ : فبَشّرْہُ ای اَعلِمہُ بشِّرْہ کی تفسیر اَعْلِمہُ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں خوشخبری دینا مراد نہیں ہے، کیونکہ عذاب الیم کی خوشخبری کا کوئی مطلب نہیں، اس لئے کہ خوشخبری اچھی خبر کی ہوا کرتی ہے، مراد مطلقاً خبر دینا ہے۔ قولہ : وَذکرُ البَشَارَۃِ تَھَکُّمٌ یہ فبشِّرہۃ کی دوسری تفسیر ہے، شارح علام کے لئے مناسب تھا کہ یہاں واؤ کے بجائے او ذکر کرتے۔ دوسری تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں بشارت سے مراد بشارت ہی ہے مگر یہ تمسخراً اور استہزاءً ہے۔ قولہ : خالدین فیھا یہ جنّٰتٌ یا لَھُمْ کی ضمیر سے حال مقدرہ ہے، اس لئے کہ حال اور ذوالحال کا زمانہ ایک ہونا ضروری ہے۔ قولہ : وَعَدَھم اللہ ذٰلک اس تفسیر سے اشارہ کردیا کہ وَعْدًا مصدر ہے اور اپنے فعل کی جگہ واقع ہے یعنی فعل کو حذف کرکے مصدر کو اس کی جگہ رکھ دیا گیا ہے، تقدیر عبارت تھی وَعَدَھم اللہ وَعْدًا اور وَعْدًا مصدر مؤکد لنفسہٖ ہے، اس لئے کہ۔ لَھُمْ جناتُ النعیم معنی میں وَعَدَھُم اللہ ذٰلک کے ہے، اور حَقًّا مصدر مؤکدہ لغیرہ ہے اس لئے کہ ہر وعدہ حق نہیں ہوتا۔ قولہ : اُسْطُوَ انَۃٌ ستوں، کھمبا (ج) اساطین . قولہ : ھُوَ صَادِق بان لا عَمَدَ اَصْلاً شارح (رح) تعالیٰ نے مذکورہ عبادت سے بِغیْرِ عَمَدٍ تَرَونَ کے دو معنی کی طرف اشارہ کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایسے ستونوں پر قائم کیا ہے جن کو تم نہیں دیکھ سکتے، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں کو بغیر ستونوں کے قائم کیا ہے جن کو تم نہیں دیکھ سکتے، اور اس کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا فرمایا اس لئے کہ جب آسمانوں کے ستون ہیں ہی نہیں تو نظر کہاں سے آئیں گے، اس لئے کہ قضیہ سالبہ جس طرح موضوع کے لئے محمول کے ثابت نہ ہونے کی صورت میں صادق آتا ہے اسی طرح موضوع سرے سے موجود نہ ہونے کی صورت میں بھی صادق آتا ہے، زید اگر بیٹھا ہو تو زیدٌ لیسَ بقائمٍ کہنا صحیح ہے، اور اگر زید دنیا میں موجود ہی نہ ہو تب بھی زید لیس بقائم صادق ہے۔ قولہ : لَاِنْ تمیدَ بکم مفسر علام نے لام تعلیل اور لائے نافیہ مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے کہ زمین پر پہاڑوں کے نصب کرنے کی علت زمین کو اضطرابی حرکت سے روکنا ہے پیش نظر نسخہ میں انْ سے پہلے لام مکتوب نہیں ہے، صاوی کے نسخہ میں لام تعلیلیہ بھی مکتوب ہے۔ قولہ : مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دونِہٖ ، غَیرِہ، دونِہٖ کی تفسیر ہے آلِھَتُکُمْ ، الذین کی تفسیر ہے مَاذَا میں مَا استفہام انکاری ہے اور مبتداء ہے اور ذابمعنی الذی مع اپنے صلہ کے مبتداء کی خبر ہے اور عائد محذوف ہے ای مَا الذی خلقہٗ آلِھَتُکُمْ اور اَرُوْنِی ممنوع العمل ہے لفظاً ، اس لئے کہ ما استفہامیہ سے پہلے واقع ہوا ہے اگر ارونی کو عمل دیدیا جائے، تو ما استفہامیہ کی صدارت کلام باطل ہوجائے گی۔ قولہ : مَا بعدہٗ سَدَّ مسَدَّ المفعولین یہ اس صورت میں درست ہے جبکہ ارونی کو متعدی بسہ مفعول مانا جائے تو اس صورت میں مفعول اول اَرُونی کی یاء ہوگی اور بعد قائم مقام دو مفعولوں کے ہوگا، مگر یہ اس کے خلاف ہے جو بیان کیا گیا ہے کہ اَرَیٰ جب اَخْبَرَ کے معنی میں ہو تو متعدی بدو مفعول ہوتا ہے جیسا کہ یہاں ہے، لہٰذا اس صورت میں شارح کا سد مسد المفعولین کہنا مناسب معلوم نہیں ہوتا بلکہ سَدَّ مسد المفعول الثانی فرماتے تو بہتر ہوتا۔ تفسیر وتشریح الٓمّ یہ حروف مقطعات میں سے ہے جن کی حقیقی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے، تاہم بعض مفسرین نے اس کے دو اہم فائدے بیان کئے ہیں، ایک یہ کہ یہ قرآن انہی حروف مقطعات سے مرتب ہے جن کو عرب استعمال کرتے ہیں پھر بھی قرآن کا مثل پیش کرنے سے عاجز ہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے، اور جس پیغمبر پر یہ نازل ہوا ہے وہ سچا رسول ہے۔ دوسرا یہ کہ مشرکین اپنے ساتھیوں کو اس قرآن کے سننے سے روکتے تھے کہ مبادا اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے مختلف سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے فرمایا تاکہ وہ اسکے سننے پر مجبور ہوجائیں، کیونکہ یہ انداز بیان نرالا اور اچھوتا تھا محسنین، محسنین کی جمع ہے اسکے ایک معنی ہیں احسان کرنے والا، والدین کے ساتھ، اعزہ و اقارب کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا، دوسرے معنی ہیں نیکیاں اختیار کرنے والا اور برائیوں سے اجتناب کرنے والا، تیسرے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت نہایت خشوع وخصوع کے ساتھ کرنے والا جس طرح حدیث جبرائیل میں ہے أنْ تعبد اللہ کأنکَ تراہ میں یہی معنی مراد ہیں، قرآن ویسے تو سارے جہان کے لئے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے لیکن اس سے اصل فائدہ چونکہ محسنین اور متقین ہی اٹھاتے ہیں اسلئے یہاں محسنین کی تخصیص فرمائی محسنین کے اوصاف شمار کراتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نماز، زکوٰۃ، اور آخرت پر یقین کو بیان فرمایا، یہ تینوں چونکہ نہایت اہم ہیں اسلئے انکا بطور خاص ذکر کیا ورنہ محسنین و متقین تمام فرائض وسنن بلکہ مستحبات تک کی پابندی کرتے ہیں یؤتون الزکوٰۃ اس آیت میں زکوٰۃ کا حکم ہے حالانکہ آیت مکی ہے اس سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کا حکم مکہ ہی میں ہجرت سے پہلے آچکا تھا، ورنہ یہ مشہور ہے کہ زکوٰۃ کا حکم ہجرت سے دوسرے سال نافذ ہوا، اس سے مراد نصابوں کا تعین اور اس کی تفصیل ہے اور حکومت اسلامیہ کی جانب سے اس کی وصول یابی اور مصرف کا انتظام ہے، یہ ہجرت کے دوسرے سال ہوا ہے، ابن کثیر نے اقیموا الصَّلوٰۃ وآتوا الزکوٰۃ کے تحت یہی تحقیق فرمائی ہے۔ ومن۔۔۔ الحدیث، اشترٰی کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں، اور بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کو اختیار کرنے کیلئے بھی لفظ اشتراء استعمال کیا جاتا ہے جیسے الذینَ اشتَرَوا الضَّللَٰۃَبِالْھُدٰی وغیرہ آیات میں یہی معنی مراد لئے گئے ہیں۔ شان نزول : اس آیت کا شان نزول ایک خاص واقعہ ہے کہ نضر بن حارث بن کلدہ مشرکین مکہ میں ایک بڑا تاجر تھا، اور تجارت کے لئے مختلف ملکوں کا سفر کرتا تھا وہ ملک فارس سے شاہان عجم، کسریٰ وغیرہ کے تاریخی قصے خرید کرلاتا اور مشرکین مکہ سے کہا کہ محمد ﷺ تم کو قوم عاد وثمود کے واقعات سناتے ہیں، میں تمہیں ان سے بہتر رستم اور اسفند یار اور دوسرے شاہان فارس کے قصے سناتا ہوں، یہ لوگ اس قصہ کو شوق اور رغبت سے سننے لگے، کیونکہ اس میں کوئی تعلیم تو بھی نہیں جس پر عمل کرنے کی محنت اٹھانی پڑے صرف لذت آمیز کہانیاں تھیں ان کی وجہ سے بہت سے مشرکین اس سے پہلے کو کلام الہٰی کے اعجاز اور یکتائی کی وجہ سے اس قرآن سننے کی رغبت رکھتے تھے اور چوری چوری سنا بھی کرتے تھے ان لوگوں کو قرآن سے اعراض کا بہانا ہاتھ آگیا اور حضرت ابن عباس سے درمنشور میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نضر بن الحارث باہر سے ایک گانے والی لونڈی خرید لایا تھا اور رقص و سرود کی محفل قائم کرتا تھا تاکہ لوگوں کو قرآن سننے سے روکے۔ لَھْوَ الْحَدِیْث : ” لہو الحدیث “ کے معنی اور تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں حضرت ابن عباس اور ابن مسعود اور جابر ؓ کی ایک روایت میں اس کی تفسیر گانے بجانے سے کی گئی ہے۔ (رواہ الحاکم) اور جمہور صحابہ وتابعین اور عامتہ المفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے تمام ان چیزوں کے لئے جو اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے غفلت میں ڈالدیں اس میں غنا ومزامیر بھی داخل ہیں، اور بےسروپا بیہودہ قصے کہانیاں بھی، امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفرد میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں یہی تفسیر کی ہے اس میں فرمایا لَھْوَ الحدیث ھو الغِنَاء وَاشباھُہٗ.(معارف) لہو ولعب اور تمتع و تفریح کے سازو سامان کی دو قسمیں ہیں ایک وہ کہ جن کا تعلق کھیل کود کے مقابلوں اور مظاہروں سے بڑھی ہوئی دلچسپی اور انہماک سے ہے جیسا کہ اس زمانہ میں کرکٹ وغیرہ، اور دوسری قسم لطف و تفریح کی گفتگو ہے جس میں پڑکر لوگ فرائض وواجبات سے غافل ہوجاتے ہیں اس میں قصے کہانیاں اور فحش افسانے آتے ہیں، یہاں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں دونوں کو یکجا کردیا ہے اور ان کو لہو و لعب سے تعبیر کیا ہے۔ قرآن کا ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ یہ آیت آج کے جدید ترین اسالیب و آلات تسلی و تفریح پر بھی منطبق ہوتی ہے، خصوصاً ویڈیو، ٹیلی ویژن پر تو پوری طرح منطبق ہوتی ہے اس لئے یہ بیک وقت لہو بھی ہے اور حدیث بھی، تطبیق کی تکمیل آیت کریمہ کے اگلے لفظ سے مزید ہوجاتی ہے، فرمایا ومن الناس مَن یشترِی لھْوَ الحدیث لِیُضِلَّ عن سبیل اللہ اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ بیہودہ حکایتیں خریدتے ہیں تاکہ لوگوں کو بےسمجھے خدا کے راستے سے گمراہ کریں، اب ذرا غور کیجئے کہ اس کے حصول کے لئے رقم خرچ کرنے اور بازار سے خریدنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف نام لینا باقی رہ گیا، ویڈیو اور ٹیلی ویژن کا، یہ قرآن کا اعجاز ہی معلوم ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو برس پہلے جو کتاب نازل ہوئی اس میں ٹھیک ٹھیک چودہ سو سال بعد ظاہر ہونے والے آلات و حالات کی نشاندہی کی اور وہ حرف بحرف صادق آئی، آج سے چودہ سو برس پہلے جب یہ چیزیں ایجاد ہونا تو روکنار، کسی نے خواب میں بھی نہ دیکھا تھا اور نہ اس وقت کوئی تصور کرسکتا تھا، اس وقت اللہ کی کتاب نے کہہ دیا کہ، بہت سے لوگ ہیں جو لہو الحدیث خریدتے ہیں۔ غناء اور مزامیر کے احکام : آیت مذکورہ میں چند صحابہ کرام نے لہو الحدیث کی تفسیر گانے بجانے سے کی ہے اور دوسرے حضرات نے اگرچہ تفسیر عام قرار دی ہے، ہر ایسے کھیل کو جو اللہ سے غافل کرے، لہو الحدیث قرار دیا ہے مگر ان کے نزدیک بھی گانا بجانا لہو الحدیث میں داخل ہے، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے سنن میں اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابو مالک اشعری سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لَیَشْربَنَّ ناسٌ مِنْ اُمَّتی الخمرَ یَسُمُّونَھا بِغَیْرِ اِسْمِھَا یْعزفُ عَلیٰ رُؤسِھِمْ بالمعازف والمغنیات یخسف اللہ بھم الارضَ ویجعل اللہ منھم القردَۃَ الخنازیرَ. ” میری امت کے کچھ لوگ شراب کو اس کا نام بدل کر پئیں گے ام کے سامنے معازف اور مزامیر کے ساتھ عورتوں کا گانا ہوگا، اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں خسف کردے گا اور بعض کی صورتیں مسخ کرکے بندر اور خنزیر بنا دے گا “۔ رُوِیَ عن ابی ہریرہ قال رسول اللہ ﷺ إذَا (1) اتخفذ الفئ دولاً (2) والامانۃ مغنمًا (3) والزکوٰۃ مغرمًا، (4) و تعلم لغیرالدین، (5) واطاع الرجل امْرأتہ (6) وعقّ امَّہٗ ، (7) واقصٰی اباہ، (9) وظھرت الا صوات فی المساجد (10) وساد القبیلۃ فاسقُھم (11) وکان زعیم القوم ارذلھم (12) واکرم الرجل مخافَۃ شرّہٖ (13) وظھرت القیان والمعازف (14) وشربت الخمر (15) ولَعَن آخر ھٰذہ الامۃ اَوَّلَھا فَلیَرْ تقبوا عند ذٰلک ریحًا حمراء وزلزلۃً ومسْخًا وقَذْفًاوَآیات تتَابِعُ کنظام بالٍ قطع سل کہ فتتابع بعضہ بعضًا . (رواہ الترمذی وقال ھٰذا حدیث حسن غریب) ” حضرت ابوہریرہ رجی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ جب غنیمت کو شخصی دولت بنالیا جائے اور جب لوگوں کی امانت کو مال غنیمت سمجھ لیا جائے، اور زکوٰۃ کو ایک تاوان سمجھا جانے لگے، اور علم دین کو دنیا طلبی کے لئے سیکھا جانے لگے اور جب شوہر اپنی بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرنے لگے اور دوست کو اپنے قریب کرلے اور باپ کو دور رکھے اور مسجدوں میں شوروغل ہونے لگے اور قبیلہ کا سردار ان کا فاسق، بدکار بن جائے اور جب قوم کا سردار ان میں کا ارذل شخص بن جائے اور جب شریر آدمی کی عزت اس کے شر کے خوف سے کی جانے لگے اور جب گانے والی عورتوں اور باجوں گاجوں کا عام رواج ہوجائے اور جب شرابیں (کثرت) سے پی جانے لگیں اور اس امت کے آخری لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں، تو اس وقت انتظار کرنا زمین میں دھنسنے کا اور صورتیں مسخ ہونے کا اور قیامت کی ایسی نشانیوں کا جو یکے بعد دیگرے اس طرح آئیں گی جیسے کسی ہار کی لڑی ٹوٹ جائے اور اس کے دانے بیک وقت بکھر جاتے ہیں “۔ تنبیہ : اس حدیث کے الفاظ کو بار بار پڑھئے اور دیکھئے کہ اس وقت کی دنیا اس حدیث کا پورا پورا نقشہ ہے یا نہیں ؟ اور وہ گناہ جو مسلمانوں میں عام ہوچکے ہیں اور بڑھتے جارہے ہیں انکی خبر چودہ سو سال پہلے رسول اللہ ﷺ نے دیدی ہے، اور مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے حالات سے باخبر رہیں، اور گناہوں سے بچنے بچانے کا پورا پورا اہتمام کریں، ورنہ جب یہ گناہ عام ہوجائینگے تو ایسے گناہ کرنے والوں پر آسمانی عذاب نازل ہونگے، اور پھر قیامت کی آخری علامات سامنے آجائیگی، مذکورہ گناہوں میں عورتوں کا گانا اور بجانے کے آلات طبلہ، سارنگی وغیرہ بھی ہیں، اس جگہ اس روایت کو اسی مناسبت سے نقل کیا گیا ہے۔ (معارف) خلق۔۔۔ ترونھا ترکیب نحوی کے اعتبار سے اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تَرَوْنَھَا کو بغیر ستونوں کے جیسا کہ تم دیکھتے ہو، یعنی اگر ستون ہوتے تم ان کو دیکھتے جب ستون نظر نہیں آتے تو معلوم ہوا کہ یہ آسمان کی عظیم الشان چھت بغیر ستونوں کے بنائی گئی ہے یہ تفسیر حضرت اور قتادہ سے منقول ہے۔ (ابن کثیر) دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تَرَوْنَھَا کی ضمیر سمٰوٰت کی طرف راجع ہو اور یہ جملہ مستقل قرار دیا جائے، اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا فرمایا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو، پہلی صورت میں ایک ترجمہ یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ آسمان ستونوں پر قائم ہیں لیکن ان ستونوں کو تم دیکھ نہیں سکتے وہ غیر مرئی ہیں۔ (یہ تفسیر ابن عباس و عکرمہ ؓ سے منقول ہے) ۔
Ayahs 31:12–19

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ خدا کا شکر کرو اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کے آنا ہے

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے راستے پر چلنا پھر تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں خدا اس کو (قیامت کے دن) لا موجود کرے گا کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی ہے

آیت نمبر 12 تا 19 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ان ہی میں سے علم اور دیانت اور راست گوئی ہیں، اور ان کی حکمت کی (باتیں) بہت ہیں جو کہ منقول ہیں اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے حضرت لقمان نے داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا اور ان سے علم بھی حاصل کیا تھا، اور (داؤد (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد) فتویٰ دینا ترک کردیا تھا، اور فتویٰ (کے معاملہ میں) فرمایا کیا میں سبک دوشی اختیار نہ کروں ؟ جب سبک دوش کیا جاؤں اور حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا کہ بد ترین شخص کون ہے ؟ جواب دیا : وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کرتے ہوئے دیکھیں گے یعنی ہم نے اس سے کہا تو اللہ کا شکر کر اس بات پر کہ تجھ کو حکمت عطا کی ہر شکر کرنے والا اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے اس لئے کہ اس کے شکر کا اجر اسی کو ملتا ہے اور جس نے نعمت کی ناشکری کی (وہ جان لے) کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور اپنی صنعت میں قابل ستائش ہے اور اس وقت کو یاد کرو جب لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے مُنّے بُنیَّ شفقت کے لئے تصغیر ہے اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا بلاشبہ شرک باللہ بڑا بھاری ظلم ہے چناچہ اس نے لقمان کی بات مان لی اور اسلام قبول کرلیا، اور ہم نے انسانوں کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا (تاکیدی) حکم دیا ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اس کو حمل میں رکھا یعنی حمل کی وجہ سے اسے ضعف لاحق ہوا، اور در دِزِہ کی وجہ سے کمزوری لاحق ہوئی، اور ولادت کی وجہ سے ناتوانی ہوئی، اور وہ سال میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے اور ہم نے اس سے کہا کہ تو میری اور اپنے والدین کی شکر گذاری کیا کر میری ہی طرف لوت کر آنا ہے اور اگر وہ دونوں (بھی) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک کر کہ جس کی تیرے پاس واقع کے مطابق دلیل نہ ہو تو ان کا کہنا نہ ماننا (ہاں) دنیا میں ان کے ساتھ خوبی کے ساتھ بسر کرنا یعنی حسن سلوک کے ساتھ اور اس شخص کے طریقہ کی اتباع کرنا جو میری طرف طاعت کے ذریعہ رجوع ہو پھر تم سب کو میرے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر میں تم کو بتلادوں گا جو کچھ تم کرتے تھے بعد ازاں ان اعمال کی تم کو جزا دوں گا، وصیت اور اس کے مالک کے مابعد کا جملہ جملۂ معترضہ ہے اے میرے پیارے بیٹے بری خصلت اگرچہ وہ رائی کے دانے کے برابر ہو اور پھر وہ (بھی) چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو یعنی ان مذکورہ جگہوں سے زیادہ پوشیدہ جگہ میں ہو، اللہ تعالیٰ اس کو ضرور نکال لائے گا پھر اس پر محاسبہ کرے گا بلاشبہ اللہ اس کو نکالنے کے بارے میں باریک بین ہے اور اس کی جگہ سے باخبر ہے، اے میرے پیارے بیٹے تو نماز قائم رکھنا اور اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا برے کاموں سے منع کرتے رہنا اور امرونہی کی وجہ سے تم پر اگر کوئی مصیبت آجائے تو صبر کرنا یقین مان کہ یہ صبر بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے یعنی یہ صبر ان امور میں سے ہے کہ جن کے واجب ہونے کی وجہ سے ان کی تاکید کی گئی ہے اور تو لوگوں سے تکبر کی وجہ سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین پر اترا کر مت چل یعنی عجب و خود پسندی کے ساتھ، بلا شبہ اللہ تعالیٰ اکڑ کر چلنے والوں کے مقابلہ میں فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور تو اپنی رفتار میں رینگنے اور دوڑنے کے درمیان اعتدال اختیار کر اور وقعت و وقار کو لازم پکڑ اور اپنی آواز پست کر یقیناً آوازوں میں سب سے زیادہ ناگوارگدھے کی آواز ہے (گدھے کی آواز کا) اول حصہ زفیر ہے اور اس کا آخر شہیق ہے۔ تحقیق و ترکیب وتفسیری فوائد قولہ : وَلَقَدْ اٰتینَا لُقْمَانَ الحِکْمَۃََ لقمان (علیہ السلام) کے بارے میں بعض نے کہا یہ عجمی لفظ ہے اور علمیۃ اور عجمہ کی وجہ سے غیر منصرف ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ عربی لفظ ہے علمیۃ اور الف نون زائد تان کی وجہ سے غیر منصرف ہے، حضرت لقمان کے نسب کے بارے میں مختلف اقوال ہیں بعض حضرات لقمان بن باغور بن ناخور بن تارخ اور تارخ آزر ہی کا نام ہے، اس نسب کے اعتبار سے لقمان (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھائی کے پوتے ہوتے ہیں اور بعض حضرات نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بھانجے کہا ہے، اور بعض نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خالہ زاد بھائی بتایا ہے، کہا گیا ہے کہ حضرت لقمان (علیہ السلام) ایک ہزار سال بقید حیات رہے حتی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا، جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت لقمان حکیم تھے نبی نہیں تھے، البتہ عکرمہ اور شعبی ان کی نبوت کے قائل ہیں۔ (صاوی) قولہ : أن . ای وقُلْنَا لَہٗ شارخ (رح) تعالیٰ نے اس تفسیری عبارت سے دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے، اول یہ کہ أن تفسیر یہ ہے، دوسرے یہ کہ حذف قلنا کے ذریعہ أن اشکر کا عطف ولقد اٰتینَا لُقمٰنَ پر ہے، حضرت لقمان (علیہ السلام) کے صاحبزادے کے نام میں تین قول ہیں، بعض نے ” ثاران “ بتایا ہے، اور کلبی نے ” مشکم “ کہا ہے اور بعض نے ” انعم “ بتایا ہے (جمل) کہا گیا ہے کہ حضرت لقمان (علیہ السلام) کی اہلیہ اور صاحبزادے کافر تھے، آپ کی نصیحت سے مسلمان ہوگئے۔ قولہ : فَرَجَعَ وَاَسْلَمَ یہ عطف تفسیری ہے۔ قولہ : وَوَصَّیْنَا الانسانَ یہ دو آیتیں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، جیسا کہ سابق میں گذر گیا ہے اور یہ دو آیتیں حضرت لقمان کے کلام کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر واقع ہوئی ہیں۔ قولہ : وَھَنَتْ وَھْنًا علیٰ وَھْنٍ مفسر علام نے وَھْنًا سے پہلے وَھَنَتْ فعل محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ وھْنًا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اور عَلیٰ وَھْنٍ یہ کائناً محذوف سے متعلق ہو کر وَھْنًا کی صفت ہے ای وَھْنًا کائنًا عَلیٰ وَھْنٍ اور صاوی نے کہا ہے کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ اُمُّہٗ سے حال قرار دیا جائے، ای حملَتْہُ اُمُّہٗ ذات وھنٍ. قولہ : موافقۃ لِلوَاقع شارح (رح) تعالیٰ مَالَیْسَ بِہٖ عِلْمٌ کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ یہ قید بیان واقعہ کے لئے ہے واقعی اور حقیقت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو پھر اس کا علم یا دلیل کہاں ہوگی ؟ یہ قید احترازی نہیں ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جس کے شریک ہونے کی تیرے پاس دلیل نہ ہو اس کو شریک نہ کر اور جس کے شریک ہونے کی دلیل ہو اس کو شریک کرسکتا ہے یہ اس کا مفہوم مخالف ہوگا، جو معتبر نہیں ہے اسی کو کہا جاتا ہے لا مفھومَ لہٗ یعنی اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں ہے۔ قولہ : وَوَصَّیْنَا الانسانَ سے دو آیتیں، حضرت لقمان (علیہ السلام) کے کلام کے درمیان بطور جملہ معترضہ کے ہیں، مقصد ان کا حضرت لقمان کے کلام کی تاکید ہے یا بُنَیَّ یہ حضرت لقمان (علیہ السلام) کا اپنے بیٹے کو نصیحت کی جانب عود ہے۔ قولہ : فی صخرۃ، صخرۃ مطلقا پتھر کی چٹان کو کہتے ہیں اور ساتوں زمین کے نیچے جو سخت پتھر ہے اس کو بھی کہتے ہیں۔ قولہ : لاَ تُصَعِّرْ فعل نہی تو نہ موڑ، یہاں تکبر کی وجہ سے رخ پھیرنے سے نہی ہے۔ تفسیر وتشریح ولقد آتینا لقمانَ حضرت لقمان (علیہ السلام) وہب بن منبہ کی روایت کے مطابق حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بھانجے تھے اور مقاتل نے ان کا خالہ زاد بھائی بتلایا ہے، تفسیر بیضاوی میں ہے کہ ان کی عمر دراز ہوئی، حضرت لقمان نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تھا۔ اور تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباس کی روایت یہ ہے کہ حضرت لقمان ایک حبشی غلام تھے، نجاری کا کام کرتے تھے اور حضرت جابربن عبداللہ سے ان کے حالات دریافت کئے گئے تو فرمایا پست قد، چپٹی ناک کے حبشی تھے، ایک حبشی حضرت سعید بن مسیّب کے پاس کوئی مسئلہ دریافت کرنے کے لئے آیا تو حضرت سعید نے ان کی دل جوئی کے لئے فرمایا کہ تم اپنے کالے ہونے پر غم نہ کرو کیونکہ کالے لوگوں میں تین بزرگ ایسے گذرے ہیں جو لوگوں میں سب سے بہتر تھے (1) حضرت بلال حبشی (2) اور مَھْجَع حضرت عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام اور (3) حضرت لقمان (علیہ السلام) ۔ جب جمہور کے نزدیک حضرت لقمان کا نبی نہ ہونا راجح بلکہ مسلم ہے تو ان کو وہ حکم جو قرآن میں مذکورہ ہے أن اشکرلی یہ بذریعہ الہام ہوسکتا ہے جو اولیاء اللہ کو حاصل ہوتا ہے۔ حضرت لقمان (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی گئی تو فتویٰ دینا چھوڑ دیا اور فرمایا کہ اب میری ضرورت نہیں رہی، اس بات سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے کہ لقمان نبی نہیں تھے اس لئے کہ کسی نبی کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ کار نبوت کو ترک کردے، بعض روایات میں ہے کہ بنی اسرائیل کے قاضی تھے، حضرت لقمان کے کلمات حکمت بہت منقول ہیں، وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت لقمان کی حکمت کے دس ہزار سے زیادہ ابواب پڑھے ہیں۔ (قرطبی، معارف) ایک روز حضرت لقمان ایک بڑی مجلس میں لوگوں کو حکمت کی باتیں سنا رہے تھے ایک شخص آیا اور اس نے سوال کیا کہ کیا تم وہی نہیں جو میرے ساتھ فلاں جنگل میں بکریاں چرایا کرتے تھے، لقمان (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں میں وہی ہوں، تو اس شخص نے پوچھا کہ پھر آپ کو یہ مقام کیسے حاصل ہوا کہ خلق خدا آپ کی تعظیم کرتی ہے اور آپ کے کلمات سننے کے لئے دور دور سے جمع ہوتی ہے، حضرت لقمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کا سبب میرے دو کام ہیں، اول ہمیشہ سچ بولنا، دوسرے فضول باتوں سے اجتناب کرنا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ لقمان نے فرمایا کہ چند کام ایسے ہیں جنہوں نے مجھے اس درجہ پر پہنچایا، اگر تم اختیار کرلو تو تمہیں بھی یہی درجہ اور مقام حاصل ہوجائے گا وہ کام یہ ہیں، اپنی نظر کو پست رکھنا، زبان کو بند رکھنا، حلال روزی پر قناعت کرنا، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا، بات کی سچائی پر قائم رہنا، عہد پورا کرنا، مہمان کا اکرام کرنا پڑوسی کی حفاظت کرنا، اور فضول کام اور فضول کلام چھوڑ دینا۔ (ابن کثیر) حکمت لقمان سے کیا مراد ہے ؟ لفظ ” حکمت “ قرآن کریم میں متعدد معانی کے لئے استعمال ہوا ہے، علم، عقل، حلم، بردباری، نبوت، اصابت رائے، ابوحیان نے فرمایا کہ حکمت سے مراد وہ کلام ہے جس سے لوگ نصیحت حاصل کریں، اور ان کے دلوں میں مؤثر ہو اور جس کو لوگ محفوظ کرکے دوسروں کو پہنچائیں، اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حکمت سے مراد عقل و فہم اور ذہانت ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ علم کے مطابق عمل کرنا حکمت ہے۔ آیت مذکورہ میں حضرت لقمان (علیہ السلام) کو حکمت عطا کرنے کا ذکر فرما کر آگے فرمایا ہے اَن اشْکُرْلی یہ خود حکمت کی تفسیر ہے یعنی وہ حکمت کو لقمان (علیہ السلام) کو دی گئی تھی کہ ہم نے اس کو شکر کا حکم دیا، انہوں نے تکمیل کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کہ نعمتوں کا شکر گذارہونا بڑی حکمت ہے، اس کے بعد یہ جتلادیا کہ یہ شکر گذاری کا حکم ہم نے کچھ اپنے فائدے کے لئے نہیں دیا ہمیں کسی کے شکر کی حاجت نہیں بلکہ یہ ان ہی کے فائدے کے لئے دیا ہے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص ہماری نعمت کا شکرادا کرتا ہے، ہم اس کی نعمت میں اور زیادتی کردیتے ہیں۔ اس کے بعد لقمان (علیہ السلام) کے کچھ کلمات حکمت کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرکے ارشاد فرمائے تھے وہ کلمات قرآن کریم نے اس لئے نقل فرمائے کہ دوسرے لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھائیں، ان کلمات حکمت میں سب سے اول تو عقائد کی درستی ہے اور ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کو سارے عالم کا خالق ومالک بلا شرکت غیرے یقین کرے اس لئے کہ اس دنیا میں اس سے بڑا بھاری ظلم کوئی نہیں ہوسکتا کہ خدائے تعالیٰ کی کسی مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرائے، اس لئے فرمایا یٰبُنَیَّ لاَ تُشْرِکْ باللہِ اِنَّ الشِّرْکَ لظُلْمٌ عَظِیْمٌ اس کے بعد حضرت لقمان کی دوسری نصائح اور کلمات حکمت بیان ہوئے ہیں جو اپنے بیٹے کو مخاطب کرکے فرمائے تھے، حکمت لقمان کے کچھ کلمات قرآن کریم نے اس لئے نقل فرمائے ہیں تاکہ دوسرے لوگ بھی اس سے استفادہ کریں۔ والدین کی اطاعت فرض ہے بشرطیکہ معصیت الہٰی نہ ہو : والدین کی اطاعت اور شکر گذاری کی بڑی تاکید فرمائی گئی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت و شکر گذاری کے ساتھ ساتھ والدین کی شکر گذاری اور اطاعت کا حکم دیا ہے، لیکن شرک ایسا ظلم عظیم اور سنگین جرم ہے کہ وہ والدین کے کہنے اور ان کے مجبور کرنے سے بھی جائز نہیں۔ یہاں والدین کی شکر گذاری اور اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ساتھ ساتھ اس کی حکمت بھی بیان فرمادی کہ اس کے وجود وبقاء میں والدین کا بہت بڑا دخل ہے، خاص طور سے اس کی ماں کے حقوق پہلے بیان فرمائے ہیں، وَوَصَّیْنَالإنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًاعَلیٰ وَھْنٍ وَفصَالہ فیِ عَامَیْنِ ممکن تھا کہ بیٹا والدین کے شرک کے لئے مجبور کرنے اور دباؤ ڈالنے کی وجہ سے رنجیدہ اور کبیدہ خاطر ہو کر والدین کے ساتھ بدکلامی یا بدخوئی سے پیش آئے ان کی توہین کرے، اسلام چونکہ ایک قانون عدل ہے اس لئے ساتھ ہی یہ حکم بھی دیدیا وَصَا حِبْھُمَا فِی مَعْرُوْفًا یعنی معصیت کے معاملہ میں تو تم ان کا کہنا نہ مانو البتہ دنیا کے کاموں میں اس کے عام دستور کے مطابق معاملہ کرو، مالی اخراجات وغیرہ میں کمی نہ ہونے دو اور نہ عزت و احترام میں کسی قسم کی کوتاہی ہونے دو ۔ فائدہ : اس آیت میں جو بچے کے دودھ چھڑانے کی مدت دو سال بتلائی گئی ہے، یہ عام عادت کے مطابق ہے اس میں اس کی کوئی صراحت نہیں کہ اس سے زیادہ مدت تک دودھ پلایا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اس مسئلہ کی تشریح انشاء اللہ سورة احقاف کی آیت و حملہ و فصالہ ثلثٰون شھرًا کے تحت آئے گی۔ قولہ : اِنْ تَکُ کا مرجع اگر خطیئۃ ہو تو مطلب گناہ اور اللہ کی نافرمانی والا کلام ہے اور اگر اس کا مرجع خصلۃ ہو تو مطلب اچھی یا بری خصلت ہوگا، خلاصہ یہ ہے کہ انسان اچھا یا برا عمل کتنا ہی چھپ کر کرے اللہ سے مخفی نہیں رہ سکتا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو ضرور حاضر کرلیں گے، یعنی اس کی جزاء یا سزادے گا خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا عمل کیوں نہ ہو ؟ قولہ : مِنْ ذٰلک ای المذکور . قولہ : اِنّ ذلِکَ یہاں ذٰلِکَ کا مرجع صبر ہے۔ قولہ : وَلاَ تُصَعِّرْ خدَّ کَ یعنی تکبر نہ کر کہ لوگوں کو حقیر سمجھے اور جب وہ تجھ سے ہم کلام ہوں تو تو ان سے منہ پھیرلے یعنی بےرخی کرے، صعر ایک قسم کی بیماری ہے جس کی وجہ سے اونٹ کی گردن مڑ جاتی ہے، یہاں بطور کنایہ یہ لفظ تکبر سے منہ پھیرلینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ قولہ : واقصد فی مشیک یعنی ایسی چال یا رویّہ کہ جس سے مال و دولت یا جاہ و منصب یا قوت و طاقت کی وجہ سے فخرو غرور کا اظہار ہوتا ہو، یہ اللہ کو ناپسند ہے، اس لئے کہ انسان ایک بندۂ عاجز و حقیر ہے، اللہ کو یہی پسند ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق عاجزی اور انکساری ہی اختیار کرے، ایسا کوئی طریقہ اختیار نہ کرے کہ اس سے بڑائی کا اظہار ہوتا ہو اس لئے بڑائی صرف اللہ ہی کے لئے زیبا ہے، اور یہ کہ زیادہ چیخ وچلا کر بات نہ کر، اس لئے کہ اگر زیادہ اونچی آواز سے بات کرنا پسندیدہ ہوتا تو گدھے کی آواز سب سے اچھی سمجھی جاتی، حال یہ ہے کہ گدھے کی آواز سب سے زیادہ بدتر اور کریہہ ہے، حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے پناہ مانگو۔ (بخاری کتاب بدہ الخلق)
Ayahs 31:20–30

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ؟ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی ؟ )

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کر دے اور نیکو کار بھی ہو تو اس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمہیں غمناک نہ کر دے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو جتائیں گے بیشک خدا دلوں کی بات سے واقف ہے

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو بول اٹھیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے بیشک خدا بےپرواہ اور سزاوار حمد (و ثنا) ہے

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اسکے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہوجائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اٹھانے) کی طرح ہے بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

آیت نمبر 20 تا 30 ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید کی وجہ سے (جھگڑتے ہیں) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے جس طریق پر اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے، اسی کی تابعداری کریں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا یہ اسی راستہ کی پیروی کریں گے اگرچہ ان کو شیطان نے ذوزخ کے عذاب کی طرف یعنی اس کے موجبات کی طرف بلایا ہو ؟ نہیں اور جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردے یعنی اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوجائے اور حال یہ ہے کہ وہ نیکو کار یعنی موحد ہو تو یقیناً اس نے مضبوط حلقہ یعنی ایسا مضبوط کنارا تھام کیا کہ جس کے ٹوٹنے کا اندیشہ نہیں اور تمام کاموں کا انجام یعنی مرجع اللہ ہی کی طرف ہے اے محمد ﷺ آپ کافروں کے کفر سے رنجیدہ نہ ہوں، یعنی آپ کے کفر سے کبیدہ خاطر نہ ہوں، (آخر) ان کو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے تو ہم ان کو ان کے سب کرتوت بتادیں گے بلاشبہ اللہ تعالیٰ سینوں کے رازوں سے یعنی جو کچھ دلوں میں ہے واقف ہے جیسا کہ دلوں کے رازوں کے علاوہ سے واقف ہے تو ان کا بدلہ دے گا ہم ان کو دنیا میں کچھ تھوڑا سا (یعنی) ان کی مدت حیات تک فائدہ دیدیں گے، بالآخر ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں آخرت میں سخت عذاب کی طرف ہنکا لیجائیں گے، اور وہ دوزخ کا عذاب ہے کہ وہ اس سے جائے پناہ پائیں گے اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے ؟ تو یقیناً یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہے اس سے نون رفع کو پے درپے چند نونوں کے آجانے کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے، اور ضمیر کا واؤ (بھی) التقاء ساکنین کی وجہ سے ساقط ہوگیا، ان پر توحید کی حجت ہونے پر آپ الحمدللہ کہئے، لیکن ان میں اکثر لوگ اپنے اوپر توحید کے وجوب سے واقف نہیں ہیں، آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے مملوک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اللہ ہی کا ہے، لہٰذا آسمانوں اور زمینوں میں اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں یقیناً اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور اپنی صنعت میں قابل ستائش ہے اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم ہوں اور تمام سمندر روشنائی ہوجائیں، اِنّ کے اسم پر عطف ہے اور ان کے ساتھ سات سمندر اور شامل ہوجائیں تاہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوسکتے، اللہ تعالیٰ کی معلومات کو کلمات سے تعبیر کیا ہے ام معلومات کے ان قلموں سے لکھنے کی وجہ سے اس روشنائی سے اور نہ اس (مذکور) سے زیادہ (مقدار) سے ختم ہوسکتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی معلومات غیر متناہیہ ہیں بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والے ہیں اس کو کوئی شئ عاجز نہیں کرسکتی اور بڑی حکمت والے ہیں کوئی شئ اس کے علم و حکمت سے خارج نہیں ہے تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد زندہ ہونا ایسا ہی ہے جیسے نفس واحد کا پیدا ہونا اور زندہ ہونا، اس لئے کہ یہ سب (کچھ) کلمہ کن فیکون سے ہوتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ ہر بات کو سنتا ہے ہر مرئی شئ کو دیکھتا ہے اس کو کوئی شئ کسی شئ سے نہیں روک سکتی، اے مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے، ان میں سے ہر ایک میں اتنا اضافہ ہوجاتا ہے جتنا دوسرے سے کم ہوتا ہے شمس وقمر میں سے ہر ایک کو اس نے مسخر کر رکھا ہے کہ مقررہ وقت تک اپنے محور پر چلتا رہے اور مقررہ وقت کا دن ہے، اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے، یہ مذکورہ (تسخیر و انتظامات) اس لئے ہیں کہ اللہ برحق ثابت الالوہیتہ ہے اور اس کے علاوہ جن جن (معبودوں) کو پکارتے ہیں یعنی بندگی کرتے ہیں سب باطل ہیں، زائل ہونے والے ہیں یَدْعون یا اور تا دونوں قراءتیں ہیں، اور یقیناً اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر غلبہ کے اعتبار سے عالی ہے اور عظیم ہے۔ تحقیق و ترکیب وتفسیری فوائد قولہ : اَلَمْ تَرَوْا أنّ اللہَ ، الآیۃ یہ رد علی المشرکین کے مضمون سابق کی جانب رجوع ہے۔ قولہ : یا مخاطبین منادی مفرد کی وجہ سے قیاس یہ تھا کہ یا مخاطبون ہوتا، اس لئے کہ منادی مفرد مبنی علی علامۃ الضم ہوتا ہے، مگر ہوسکتا ہے کہ نکرہ غیر مقصودہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہو۔ قولہ : یقبلُ علیٰ طاعتہٖ کے اضافہ کا مقصد یہ بتایا ہے کہ وَجْہٌ سے چہرہ مراد نہیں ہے بلکہ ذات مراد ہے۔ قولہ : مُوّحِّدٌ، مُحْسِنٌ کی تفسیر مُوَحدٌ سے کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ یہاں احسان سے مراد احسان کامل نہیں ہے جو کہ أن تعبداللہ کانک تراہ کا درجہ ہے یہاں تو توحید کا قائل مسلمان مراد ہے تاکہ عام مسلمان بھی اس میں داخل ہوجائیں۔ قولہ : لَیَقُوْلُنَّ اللہ یہ جملہ، قسم محذوف کا جواب ہے اور جواب شرط قاعدہ کے مطابق محذوف ہے لفظ اللہ یا تو فعل محذوف کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، تقدیر عبارت یہ ہے خَلَقَھُنَّ اللہ اور اس حذف کا قرینہ خَلَقَھُنَّ العزیزُ العلیمُ ہے، یا مبتداء محذوف کی خبر ہے تقدیر عبارت یہ ہے الخالق لَھُنَّ اللہ . قولہ : وَلَوْ انّ مَا فِی الارضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقلامٌ یہ پورا جملہ أنّ کا اسم ہے اور اَقْلامٌ اس کی خبر ہے۔ قولہ : وَالْبَحْرُ عطف علی أن یہ البحرَ کے نصب کی توجیہ ہے، شارح نے رفع کی توجیہ ترک کردی ہے، رفع کی توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ البحرُ کا عطف أنّ اور اس کے اسم و خبر سے مل کر جملہ پر ہے، اس لئے کہ جملہ، فعل محذوف کے فاعل ہونے کی وجہ سے محل میں رفع کے ہے، تقدیر عبارت یہ ہے لَوْ ثَبَتَ أَنّ مَا فی الارضِ الخ یا البحر مبتداء ہے اور یمدہٗ اس کی خبر ہے اور جملہ حالیہ ہے۔ قولہ : مِدادٌ یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے ای الجمیعُ مِدادٌ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ قولہ : مَا نَفِدَتْ الخ یہ لَوْ کا جواب ہے مگر لَوْ یہاں اپنے مشہور معنی یعنی انتفاء شرط کی وجہ سے انتقاء جزاء کے لئے نہیں ہے۔ قولہ : بکتبِھا بتلکَ الْاََقلام الخ اس عبارت سے اشارہ کردیا کہ کلام میں حذف ہے اور کلمات اللہ سے اللہ تعالیٰ کے کلام نفسی قدیم قائم بالذات کے مدلولات مراد ہیں۔ قولہ : ذٰلک المذکور، ذٰلک مبتداء بِاَنَّ اللہَ ھو الحقُّ اس کی خبر ہے۔ تفسیر وتشریح سخر۔۔۔ الارض اللہ نے تمہارے لئے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، مسخر کرنے کے مشہور معنی کسی چیز کو کسی کے تابع کردینے کے ہیں، یہاں اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے اول تو زمین کی سب چیزیں بھی انسان کے تابع فرمان نہیں، بلکہ بہت سی چیزیں اس کے مزاج کے خلاف کام کرتی ہیں، خصوصاً جو چیزیں آسمانوں میں ہیں ان میں تو انسان کے تابع فرمان ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں۔ جواب یہ ہے کہ دراصل تسخیر کے معنی کسی چیز کو زبردستی کسی خاص کام میں لگا دینا ہے اور اس پر مجبور کردینا ہے، آسمان و زمین کی تمام مخلوق انسان کے تابع اور مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام مخلوقات کو انسان کی خدمت اور نفع رسانی میں لگا دیا ہے، ان میں بہت سی چیزوں کو تو اس طرح خدمت میں لگایا کہ ان کو انسان کا تابع فرمان بھی بنادیا وہ جس وقت جس طرح چاہیے ان کو استعمال کرتا ہے، بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ ان کو انسان کے کام میں تو لگادیا ہے کہ وہ انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں، مگر بتقاضائے حکمت ربانی ان کو انسان کے تابع نہیں بنایا گیا مثلاً آسمانی مخلوق، سیارات، برق و باراں وغیرہ، کہ ان کو انسان کے حکم کے تابع بنادیا جاتا تو انسان کی طبائع اور مزاجوں اور حالات کے اختلاف کا ان پر اثر پڑتا، ایک انسان چاہتا کہ آفتاب جلدی طلوع ہو اور دوسرے کی خواہش یہ ہوتی کہ دیر سے طلوع ہو ایک بارش چاہتا اور دوسرا چاہتا کہ بارش نہ ہو یہ متضاد تقاضے آسمانی کائنات کے عمل میں خلل پیدا کرتے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں کو انسان کی خدمت میں لگا دیا مگر ان کا تابع حکم نہیں بنایا یہ بھی ایک قسم کی تسخیر ہی ہے۔ (معارف) ولو اقلام اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی معلومات اور اپنی قدرت کے تصرفات اور اپنی نعمتوں کی مثال دی ہے کہ وہ غیر متناہی ہیں نہ وہ زبان سے شمار ہوسکتی ہیں اور نہ قلم سے ان کو لکھا جاسکتا ہے، مثال یہ بیان فرمائی کہ ساری زمین میں جتنے درخت ہیں اگر ان سب کی شاخوں کے قلم بنالئے جائیں اور ان سے لکھنے کے لئے سمندروں کو روشنائی بنادیا جائے اور یہ سب قلم حق تعالیٰ کی معلومات اور تصرفات قدرت کو لکھنا شروع کردیں تو سمندر ختم ہوجائیں گے مگر معلومات اور تصرفات ختم نہ ہوں گے۔ شان نزول : بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت احبار یہود کے ایک سوال کے جواب میں نازل ہوئی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے وَمَا اُوتِیْتمْ مِن العِلْمِ اِلَّا قلیلاً یعنی تم کو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو چنداحبار یہود آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس آیت کے بارے میں معارضہ کیا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے، یہ آپ نے اپنی قوم کا حال ذکر کیا ہے یا اس میں آپ نے ہمیں بھی داخل کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا سب مراد ہیں یعنی ہماری قوم بھی اور یہود و نصاریٰ بھی، تو انہوں نے یہ معارضہ کیا کہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے توریت عطا فرمائی ہے جس کی شان تبیان لکل شئ ہے یعنی اس میں ہر چیز کا بیان ہے، آپ نے فرمایا کہ وہ بھی علم الہٰی کے مقابلہ میں قلیل ہی ہے، پھر تورات میں جتنا علم ہے اس کا بھی تم کو پورا علم نہیں، بقدر کفایت ہی ہے اس لئے علم الہٰی کے مقابلہ میں ساری آسمانی کتابوں اور سب انبیاء کے علوم کا مجموعہ بھی قلیل ہے، اسی کلام کی تائید کے لئے یہ آیت نازل ہوئی وَلَوْ انّ مافی الارض من شجرۃ اقلام (الآیۃ) ۔ (ابن کثیر) الم۔۔۔ النھار (الآیۃ) اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رات کے کچھ حصہ کو دن میں اور دن کے کچھ حصہ میں داخل کردیتا ہے جس سے دن اور رات چھوٹے بڑے ہوتے رہتے ہیں، رات اور دن کے مجموعی گھنٹے چوبیس ہوتے ہیں، مگر ان میں چار گھنٹے ایسے ہیں جو بتدریج کبھی دن میں شامل ہوجاتے ہیں تو دن سولہ گھنٹے کا اور رات آٹھ گھنٹے کی ہوجاتی ہے اور جب یہ چار گھنٹے رات بتدریج شامل ہوجاتے ہیں تو رات سولہ گھنٹے کی اور دن آٹھ گھنٹے کا ہوجاتا ہے، مگر رات اور دن کے مجموعی گھنٹوں کی تعداد چوبیس ہی رہتی ہے۔ فائدہ : ایک سو بیس ہزار سال میں زمین کی حرکت محوری ایک سکنڈ سست ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے قرب قیامت میں ایک رات کئی راتوں کے برابر اور ایک دن کئی دنوں کے برابر ہوگا۔ (فلکیات جدیدہ)