Ayahs 30:1–10بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا، اور رومی فارسیوں پر غالب آگئے، پہلے اور بعد میں اختیار اللہ ہی کو ہے یعنی روم کے غلبہ سے پہلے اور اس کے بعد، معنی یہ کہ اہل فارس کا اولاً غالب آجانا اور رومیوں کا ثانیاً غالب آجانا یہ (سب) اللہ ہی کے حکم اور ارادہ سے تھا، اور اس دن یعنی جس دن رومی غالب ہوں گے تو مسلمان اہل فارس کے مقابلہ ان کی اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے چناچہ (مسلمان) اس سے خوش ہوئے، اور اس نصرت (غلبہ) کے وقوع کا علم بدر کے دن جبرائیل (علیہ السلام) کے وحی لیکر آنے سے ہوا، اور یہ خوشی مسلمانوں کو مشرکوں پر (بدر کے دن) نصرت (غلبہ) کی خوشی کے ساتھ حاصل ہوئی وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ غالب ہے درحقیقت غالب و مہربان وہی ہے اللہ کا وعدہ ہے اس کو تلفظ میں اپنے فعل سے بدل دیا گیا ہے اور اصل یہ ہے وَعَدَھم اللہ النصرَ اللہ تعالیٰ نصرت کے اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرے گا لیکن اکثر لوگ یعنی کفار مکہ مومنین سے اللہ کے نصرت کے وعدہ کو نہیں جانتے وہ تو (صرف) دینوی زندگی کے ظاہر (ہی) کو یعنی دینوی معاش کے طریقوں مثلاً تجارت اور زراعت اور تعمیرات اور شجرکاری وغیرہ کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بالکل بیخبر ہیں اور لفظ ھُمْ کا اعادہ تاکید کے لئے ہے کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں اس بات پر غور نہیں کیا ؟ تاکہ غفلت سے باز آجائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے (سب کو) بڑے قرینے سے اور مقررہ تک کے لئے پیدا فرمایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنی مدت پوری ہونے کے بعد فنا ہوجائے گا اور اس کے بعد (زندہ ہوکر) اٹھنا ہوگا یقیناً اکثر لوگ یعنی کفار مکہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونے پر یقین نہیں رکھتے، کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان کے پہلے لوگوں یعنی سابقہ امتوں کا کیا انجام ہوا ؟ اور وہ ان کی ہلاکت ہے ان کے رسول کی تکذیب کرنے کی وجہ سے اور وہ ان سے بہت زیادہ طاقتور تھے مثلاً عاد اور ثمود اور انہوں نے (بھی) زمین کو جوتا اور زراعت وشجرکاری کے لئے اس کو الٹ پلٹ کیا اور مکہ والوں سے اس کو زیادہ آباد کیا، اور ان کے پاس ان کے رسول روشن یعنی واضح دلائل لے کر آئے یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ بغیر جرم کے ان کو ہلاک کرکے ان پر ظلم کرتا لیکن (اصل بات یہ ہے) کہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر اپنے رسولوں کی تکذیب کرکے ظلم کرتے
تھے آخرش برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا، السُّواٰی، اَسْوَءُ کی تانیث ہے بمعنی اقبح اگر عاقبۃُ پر رفع ہو تو سُوْآی کان کی خبر ہوگی اور کان فعل کی تذکیر عاقبۃً کے مؤنث مجازی ہونے کی وجہ سے ہوگی اور اگر عاقبۃ ُ پر نصب ہو تو (السُوْاٰی) کان کا اسم ہوگا اور (بد انجامی) سے مراد جہنم ہے اور ان کی بد انجامی کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں قرآن کی تکذیب کی اور وہ ان (آیتوں) کا مذاق اڑاتے تھے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : غُلِبَتِ الرّومُ روم ایک قبیلہ کا نام ہے جو کہ ان کے جدامجد روم بن عیصو بن ابراہیم کے نام سے موسوم ہے، عیصو اپنے بھائی یعقوب کے ساتھ اپنی ماں کے بطن میں تھے جب ان کی ولادت کا وقت آیا تو عیصو نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کہا مجھے پہلے نکلنے دے اور اگر تو مجھے پہلے نہیں نکلنے دے گا تو میں تیرے برابر سے ہو کر نکل جاؤں گا، تو حضرت یعوب شفقۃً پیچھے ہٹ گئے، یہی وجہ ہے کہ حضرت یعقوب ابو الانبیاء ہوئے اور عیصو ابوالجبارین ہوئے (جمل) الجزیرۃ دجلہ اور فرات کے درمیان علاقہ کو کہا جاتا ہے، یہاں جزیرۃ العرب مراد نہیں ہے۔
قولہ : بالجزیرۃ محذوف کے متعلق ہو کر الارض کی صفت ہے ای ارض الروم الکائنۃ بالجزیرۃ وقَدْفرِحوا بذلِٰکَ ای منصرہٖ.
قولہ : یَوْمَ وُقوعِہٖ یوْمَ بَدْرٍ یومَ بدرٍ وقوعِہٖ سے بدل ہے بنزول، علِمُوا سے متعلق یعنی روم کے غلبہ کا علم واقعہ بدر کے دن ہوا رومیوں کو غلبہ اس روز ہوا جبکہ مسلمانوں کو مشرکین پر بدر میں غلبہ حاصل ہوا اور مسلمانوں کو یہ خبر حضرت جبرئیل کے ذریعہ پہنچی۔
تفسیر وتشریح
ربط وشان نزول : سورة عنکبوت کی آخری آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے راستہ میں جہاد کرنے کے لئے راستہ کھولدینے اور ان کے مقاصد میں کامیابی کی بشارت دی تھی، سورة روم کی ابتداء جس قصہ سے ہوئی ہے وہ اسی نصرت الہٰیہ کا مظہر ہے اس سورت میں جو روم اور فارس کی جنگ کا واقعہ مذکورہ ہے، ظاہر ہے کہ دونوں فریق کفار ہی تھے، مگر ان دونوں مشرکوں میں فارس آتش پرست مشرک تھے، اور رومی نصاریٰ اہل کتاب تھے، ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے مشرکوں میں سے اہل کتاب مسلمانوں سے نسبتاً قریب ہیں، اس لئے کہ دونوں اہل کتاب ہیں، اور اسی قدر مشترک سے رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مکتوب میں کام لیا جو روم کے بادشاہ کو دعوت اسلام دینے کے لئے بھیجا تھا اور وہ تَعَالَوْا الیٰ کلمۃٍ سَوَاءٍ بیْنَنَا وبَیْنَکُم ہے۔
آنحضرت ﷺ کے مکہ کے قیام کے دوران روم اور فارس کے تعلقات نہایت کشدہ تھے گویا کہ دونوں حالت جنگ میں تھے، آخر کار دونوں کے درمیان جنگ چھڑگئی اور ابتداء فارس نے کی تھی اس جنگ میں اہل مکہ کی ہمدردیاں اہل فارس کے ساتھ تھیں، مشرکین مکہ کی یہ خواہش تھی کہ اہل فارس فتح مند ہوں اور مسلمانوں کی یہ تمنا تھی کہ رومی غالب ہوں، یہ جنگ رومیوں کے اس علاقہ میں ہوئی جو عرب کا علاقہ فارس سے بہت قریب تھا یہ جنگ اذرعات اور بصرہ کے علاقہ میں ہوئی، اس جنگ میں فارس نے روم کو شکست دیدی یہاں تک کہ قسطنطیہ بھی فتح کرلیا اور وہاں اپنی عبادت کیلئے ایک آتش کدہ تعمیر کیا اور یہ فتح کسریٰ پرویز کی
آخری فتح تھی اسکے بعداسکا زوال شروع ہوا اور پھر مسلمانوں کے ہاتھوں حضرت عمر کے دور خلافت میں اسکا خاتمہ ہوگیا (جمل وقرطبی) اس واقعہ سے مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمانوں کو عار دلائی کہ تم جسکو چاہتے تھے وہ ہار گیا اور جسطرح اہل کتاب رومیوں کو فارس کے مقابلہ میں شکست ہوئی ہے ہمارے مقابلہ میں تمکو بھی شکست ہوگی اس سے مسلمانوں کو رنج ہوا۔ (معارف)
سورة روم کی ابتدائی آیتیں اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی ہیں، جن میں پیشین گوئی اور بشارت دی گئی ہے کہ چند سال بعد پھر رومی فارسیوں پر غالب آجائیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ آیات سنیں تو اس قدر پختہ یقین کرلیا کہ مکہ کے اطراف اور مشرکین کے مجامع اور بازار میں اعلان کرتے پھرتے تھے کہ تمہارے خوش ہونے کا کوئی موقعہ نہیں چند سال میں پھر روم فارس پر غالب آجائیں گے، مشرکین مکہ میں سے ابی بن خلف جمحی کھڑا ہوا اور کہا کذبت تو جھوٹا ہے، تو حضرت ابوبکر صدیق نے کہا انت اکذب یا عدواللہ تو جھوٹوں کا سردار ہے اے اللہ کے دشمن اور فرمایا میں تجھ سے اس بات پر شرط لگاتا ہوں کہ اگر رومی جیت گئے تو دس اونٹ تو مجھے دینا اور اگر ہارگئے تو دوں گا اور تین سال کی مدت مقرر ہوئی، (اس وقت تک اس قسم کی شرط حرام نہیں ہوئی تھی) شرط لگا کر ابوبکر صدیق آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو تین سال کی مدت بیان نہیں کی تھی کیونکہ قرآن میں بضع سنین مذکورہ ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے، تم جاؤ اور جس سے یہ معاہدہ ہوا ہے اس سے کہہ دو کہ میں دس اونٹوں کے بجائے سو اونٹوں کی شرط لگاتا ہوں مگر مدت تین سال کے بجائے نوسال ہوگی، بعض روایات میں ہے کہ سات سال مقرر کی، چناچہ حضرت ابوبکر ؓ نے جا کر ابی بن خلف سے دوبارہ بات کی تو وہ راضی ہوگیا، جب ابی بن خلف کو یہ خطرہ ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ ابوبکر ہجرت کرکے چلے جائیں اور شرط کی رقم میں وصول نہ کرسکوں، چناچہ ابی بن خلف ابوبکر صدیق کے پاس آیا اور کہا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تم مکہ چھوڑ کر چلے جاؤ لہٰذا مجھے ضامن دو چناچہ حضرت ابوبکر نے اپنے صاحبزادے عبدالرحمٰن کی ضمانت دی جب ابی بن خلف نے جنگ میں شرکت کے لئے احد جانے کا ارادہ کیا تو عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے اس کو پکڑا اور کہنے لگے کہ کفیل دیکر جاؤ جب تک کفیل نہ دو گے تم کو ہرگز نہ چھوڑوں گا چناچہ ابی بن خلف نے مجبوراً کفیل دیدیا، اور احد کی جنگ میں شریک ہونے کے لئے چلا گیا، احد سے آنحضرت ﷺ کی تلوار سے زخم خوردہ ہو کر واپس آیا اور اسی زخم کی وجہ سے کچھ روز بعد مرگیا، روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شرط کا یہ واقعہ ہجرت سے پانچ سال قبل پیش آیا تھا اور سات سال پورے ہونے پر غزوۂ بدر کے وقت رومی اہل فارس پر غالب آگئے اس صورت میں شرط کا معاملہ ہجرت سے پانچ سال پہلے واقع ہوا، مگر اس روایت کو صحیح ماننے میں دشواری یہ پیش آتی ہے کہ یہ بات طے ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے شرط کی رقم (سو اونٹ) ابی بن خلف کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں سے وصول کی ہیں اور ابی بن خلف کا انتقال غزوۂ احد کے بعد ہوا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ رومیوں کے غلبہ کی اطلاع کے وقت جو کہ غزوۂ بدر میں ہوئی ابی بن خلف زندہ تھا اس لئے کہ اس کا انتقال غزوۂ احد کے بعد ہوا ہے، تو پھر شرط کی رقم کے ورثاء سے وصول کرنے کے کیا معنی ؟ البتہ تطبیق کی یہ شکل ہوسکتی ہے کہ ابی بن خلف نے شرط کی رقم (اونٹ) دینے میں تاخیر کی ہو ٹال مٹول کرتے کرتے ایک سال کا عرصہ نکالدیا ہو اس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا ہو جس کی وجہ سے اس کے وارثوں سے رقم وصول کی گئی ہو۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ رومیوں کا غلبہ صلح حدیبیہ کے وقت ہوا تھا اخرجہٗ الترمذی وحسّنہ (روح المعانی) اس روایت کے مطابق حضرت ابوبکر اور ابی بن خلف کی شرط کا معاملہ ہجرت سے ایک سال پہلے مانتا ہوگا جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے اس صورت میں ابی بن خلف کے ورثاء سے شرط کی رقم (سواونٹ) وصول کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہوگا اس لئے کہ ابی بن خلف غزوۂ احد کے بعد متصلاً مرچکا تھا، صاحب جمل نے یوم بدر والی روایت کو قبل سے بیان کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کی روایت راجح ہے اگرچہ اکثر محدثین نے غزوۂ بدر کے موقع ہی کو رومیوں کی فتح کا وقت قرار دیا ہے۔ جب شرط کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق ؓ جیت گئے اور سو اونٹ ان کو ہاتھ آئے تو سب کو لیکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا ان اونٹوں کو صدقہ کردو اور حضرت براء بن عازب کی روایت سے اس میں یہ الفاظ منقول ہیں ھٰذا سحت تصدق بہ تو حرام ہے اس کو صدقہ کردو۔ (روح المعانی)
مسئلہ : قمار یعنی جوا، ازروئے نصوصِ قرآنی قطعی حرام ہے، ہجرت مدینہ کے بعد جس وقت شراب حرام کی گئی اسی کے ساتھ قمار بھی حرام کردیا گیا تھا اور اس کو شیطانی عمل قرار دیا انما الخمرو المیسرُوَالْاَنْصَابُ والا زلام رجسٌ من عمل الشیطٰن اور یہ دو طرفہ شرط جو حضرت صدیق ؓ نے ابی بن خلف کے ساتھ ٹھہرائی تھی یہ بھی ایک قسم کا جو اہی تھا، مگر یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے جب قمار حرام نہیں ہوا تھا، لہٰذا اس وقت شرط میں جیتا ہوا مال حرام نہیں تھا۔ اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے صدقہ کرنے کا حکم کیوں فرمایا ؟ اس کا جواب حضرات فقہاء نے یہ دیا ہے کہ یہ مال اگرچہ اس وقت حلال تھا مگر قمار کے ذریعہ اکتساب مال اس وقت بھی آپ کو پسند نہیں تھا اس لئے صدیق اکبر کی شان کے مناسب نہ سمجھ کر ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ شراب حلال ہونے کے زمانے میں بھی آپ ﷺ اور صدیق اکبر ؓ نے کبھی استعمال نہیں فرمائی۔
یعلمون۔۔۔ غٰفلون یعنی یہ لوگ دنیا کے ایک پہلو کو تو خوب جانتے ہیں کہ تجارت کس طرح کریں ؟ کس مال کی کریں، کہاں سے خریدیں اور کہاں سے خریدیں اور کہاں فروخت کریں ؟ لیکن اسی حیات دنیا کا دوسرا پہلو جو اس کی حقیقت اور اس کے اصلی مقصد کو واضح کرتا ہے کہ دنیا کا چند روز قیام درحقیقت ایک مسافرانہ قیام ہے انسان یہاں کا مقامی (نیشنل) نہیں بلکہ دوسرے ملک کا باشندہ ہے یہاں کچھ مدت کے لئے ویزا پر آیا ہے، اس کا اصل کام یہ ہے کہ اپنے اصلی وطن کے لئے یہاں سے سامان راحت فراہم کرکے وہاں بھیجے اور وہ سامان راحت ایمان اور عمل صالح ہے، اس دوسرے رخ سے بڑے بڑے عاقل کہلانے والے غافل اور بیخبر ہیں۔ (معارف)
اولم۔۔۔ انفسھم کیا لوگ اپنی ذات اور خدا کی کائنات میں غور نہیں کرتے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین و آسمان اور دنیا کی ہر شئ کو کس قدر بہترین قرینے سے پیدا فرمایا ہے کوئی شئ خدا کی کائنات میں بےمقصد اور بےفائدہ نہیں، اگر یہ لوگ صرف اپنے وجود ہی میں غور کرلیں کہ کسی طرح نیست سے ہست کیا اور ایک حقیر وبے قدر پانی سے ان کی تخلیق کی اگر یہ لوگ اپنی ذات اور خدا کی کائنات میں غور وفکر کرتے تو یقیناً اللہ کے وجود، اس کی ربوبیت، اس کی الوہیت اور اس کی قدرت مطلقہ کا انہیں ادراک و احساس ہوجاتا اور اس پر ایمان لے آتے، نیز یہ حضرات کے سلسلہ میں شام ویمن کا سفر کرتے ہیں اور اس سفر کے دوران عاد وثمود کی بستیوں پر سے ان کا گذر ہوتا ہے تو کیا ان کے اخرابات و کھنڈرات کو نہیں دیکھتے ؟ یقیناً دیکھتے ہیں مگر ان کی تباہی کے اسباب پر غور و فکر نہیں کرتے اگر یہ ان قوموں کی تباہی کے اسباب اور ان کے عبرتناک انجام پر غور کریں تو یقیناً ان کو ہدایت ہوسکتی ہے۔
قولہ : سُوْآی برون فُعْلیٰ سوْءٌ سے اَسْوَءُ کی مونث ہے جیسے حُسْنیٰ اَحْسَنُ کی تانیث ہے یعنی ان کا جو انجام ہوا وہ بدترین انجام تھا۔
Ayahs 30:11–19آیت نمبر 11 تا 19
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے یعنی انسانوں کی تخلیق کو ظاہر کرتا ہے (عدم سے وجود میں لاتا ہے) اور پھر وہی ان کے مرجانے کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا پھر تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تا اور یا کے ساتھ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم حیرت زدہ رہ جائیں گے اور مشرکین لاجواب ہوجانے کی وجہ سے ساکت (وصامت) رہ جائیں گے، اور ان کا ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارشی نہ ہوگا (یعنی) ان شرکاء میں سے جن کو انہوں نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا تاکہ ان کی سفارش کریں، اور وہ بت ہیں، اور یہ بت پرست اپنے شرکاء کا انکار کردیں گے یعنی ان سے اظہاربراءت کردیں گے اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مومن اور کفار الگ الگ ہوجائیں گے یَومَئِذٍ (پہلے یوم کی) تاکید ہے لیکن جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو وہ جنت کے باغوں میں خوش وخرم ہوں گے لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں قرآن کو اور آخرت کے پیش آنے کو یعنی بعث (بعدالموت) وغیرہ کو جھٹلایا ایسے ہی لوگ ہیں جو عذاب میں گرفتار ہوں گے پس اللہ کی تسبیح بیان کیا کرو یعنی جب تم شام کے وقت داخل ہو تو نماز پڑھا کرو سبحوا بمعنی صلوا ہے اور اس وقت میں دو نماز ہیں مغرب اور عشاء اور جب تم صبح میں داخل ہو تو نماز پڑھا کرو (یعنی جب صبح کرو) اور اس وقت میں صبح کی نماز ہے آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہوتی ہے یہ جملہ معترضہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ زمین اور آسمانوں والے اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور شام کے وقت میں (نماز پڑھا کرو) اس کا عطف حین پر ہے اور اس وقت میں عصر کی نماز ہے اور جب تم دوپہر کے وقت میں داخل ہو (نماز پڑھا کرو) اور اس وقت میں ظہر کی نماز ہے (وہی) زندہ کو مردے سے نکالتا ہے جیسا کہ انسان کو نطفہ سے اور پرندے کو انڈے سے اور مردے کو جیسا کہ نطفہ اور انڈے کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو نباتات کے ذریعہ اس کے مردہ ہونے یعنی خشک ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم کو بھی نکالا جائے گا۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : یَبْدَؤُا الخلق ماضی کے بجائے مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا تاکہ تجدید پر دلالت کرے اس لئے بدا اور خلق ہر آن اور ہر لمحہ ہوتا رہتا ہے اور تجدید جب تک دنیا رہے گی ہوتا رہے گا یَبْدَؤا، میں واؤ جمع کا نہیں ہے مشابہ جمع ہونے کی وجہ سے اس کے آخر میں الف لکھا گیا ہے مگر پڑھا نہیں جاتا اور نہ پڑھنے کی علامت کے طور پر اس الف پر ایک چھوٹا سا گول دائرہ بنا رہتا ہے۔
قولہ : یُنشئُ یَبْدَؤا کی تفسیر ینشئُ سے بیان معنی کے لئے کی ہے اس کے معنی ہیں ظاہر کرنا عدم سے وجود میں لانا یَوْمَ تقومُ الساعت یُبلِسُ کا ظرف مقدم ہے۔
قولہ : لایکونُ ، لمْ یکن کی تفسیر لایکون سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ لم اگرچہ ماضی کے معنی میں ہے مگر یہاں مضارع ہی کے معنی مراد ہیں۔ قولہ : بشر کا ئھم کافرون، بشر کا ئھم کافرین کا متعلق مقدم ہے۔
قولہ : یُحْبَرُوْنَ ، حِبْرٌ سے مضارع جمع مذکر غائب (ن) ان کو خوش کیا جائے گا، ان کی عزت کی جائے گی۔
قولہ : بمعنی صلوا، سبّحوا کی تفسیر صلّوا سے کرکے اشارہ کردیا کہ تسبیح قولی، فعلی، قلبی تینوں طریقہ سے ہوتی ہے اور صلوٰۃ ان سب کو جامع ہے نیز سبحٰن اللہ کی تفسیر سبّحوا اللہ سے کرکے اشارہ کردیا کہ خبر بمعنی امر ہے اور سبحٰن مصدر ہے اس سے پہلے فعل محذوف ہے ای سبِّحوا سبحاناً.
قولہ : تمسُونَ اور تُصْبِحُونَ کی تفسیر تدخلون سے کرکے اشارہ کردیا کہ دونوں فعل تام ہیں اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے
قولہ : اعتراضٌ یعنی معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔
تفسیر وتشریح
اللہ تعالیٰ جسطرح پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح دوسری مرتبہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے اس لئے کہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے مشکل نہیں ہوتا اور یہ انسانوں کے اعتبار سے ہے رونہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے نہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل اور نہ دوسری مرتبہ اعادہ یُبْلِسُ المجرمون ابلاس کے معنی ہیں اپنے موقف ومدعیٰ پر کوئی دلیل نہ پیش کرسکنا حیران ساکت وصامت کھڑے رہ جانا اسی کو ناامیدی کے مفہوم سے بھی تعبیر کردیتے ہیں، روز قیامت کافروں اور مشرکوں کا یہی حال ہوگا۔
وکانوا۔۔۔ کافرین جن معبودوں کی مشرکین یہ سمجھ کر کہ یہ سفارشکریں گے قیامت کے دن جب یہ دیکھیں گے تو کسی کَرَت کے نہیں کیونکہ یہ تو کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے پر قطعاً قادر ہی نہیں ہیں تو ان کی الوہیت کے منکر ہوجائیں گے فھُم ْ فی روضۃٍ یُحْبَرون حبور سے مشتق ہے جس کے معنی سرور اور خوشی کے ہیں اور اس لفظ کے عموم میں ہر قسم کی خوشی اور سرور و مسرت نیز نعمتہائے جنت داخل ہیں۔
Ayahs 30:20–27آیت نمبر 20 تا 27
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں سے کہ جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ اس نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب دفعۃً تم خون اور گوشت کے انسان بن کر زمین میں پھیلے پھرتے ہو اور اسی کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں چناچہ حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور (دیگر) تمام عورتوں کو مردوں اور عوتوں کے نطفہ سے پیدا کیا گیا تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور ان سے الفت کرو اور تم سب کے اندر محبت اور ہمدردی پیدا کی یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں اللہ کی کاری گری میں غور وفکر کرنے والوں کے لئے (قدرت) کی نشانیاں ہیں اور اسی کی (قدرت) کی نشانیاں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں یعنی لغات کا (اختلاف ہے) بعض عربی اور بعض عجمی وغیرہ اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے کسی کا رنگ سفید اور (کسی کا) کالا وغیرہ حالانکہ تم سب ایک مرد اور ایک عورت کی اولاد ہو دانشمندوں کے لئے یقیناً ان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں العٰلَمینَ فتحۂ لام اور کسرۂ لام کے ساتھ ہے یعنی عقل و علم رکھنے والوں کے لئے اور اس کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن میں اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے تمہاری راحت کے لئے سونا (بھی) ہے اور دن میں تمہارا اس کی روزی میں طلب کرنا ہے یعنی طلب رزق کے لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے تمہارا چلت پھرت (کوشش) کرنا ہے بلاشبہ اس امر میں بھی ان لوگوں کے لئے جو غور وفکر اور عبرت کے لئے سنتے ہیں (قدرت کی) نشانیاں ہیں اور اس کی نشانیاں میں سے مسافروں کو ڈرانے کے لئے اور مقیموں کو بارش کی امید دلانے کے لئے بجلی چمکا کردکھانا (بھی) ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے جس کے ذریعہ مردہ یعنی خشک زمین کو زندہ کردیتا ہے اس طریقہ سے کہ وہ زمین گھاس اگانے لگتی ہے بلاشبہ ان مذکورہ باتوں میں (بھی) غور وفکر کرنے والوں کے لئے (قدرت) کی نشانیاں ہیں اور اسی کی (قدرت) نشانیوں میں سے یہ (بھی) ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم یعنی ارادہ سے بغیر ستوں کے قائم ہیں پھر جب وہ تمہیں آواز دے گا تو ایک ہی آواز میں بایں طور کہ اسرافیل (علیہ السلام) قبروں سے اٹھانے کے لئے صور پھونکیں گے تو تم اچانک زمین یعنی قبروں سے زندہ ہو کر آؤ گے، تو تمہارا قبروں سے ایک ہی آواز میں نکل آنا خدا کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے ہے اور زمین و آسمان کی ہر شئ اسی کی ہے ملک ہونے کے اعتبار سے اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور ہر شئ اسی کی فرمانبردار ہے وہی ہے جو اول بار لوگوں کو پیدا کرتا ہے پھر اس کے ہلاک ہونے کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ (اعادہ) اس کے لئے ابتداء تخلیق سے بہت آسان ہے مخاطبین کی نسبت کا اعتبار کرتے ہوئے، اس لئے کہ شئ کا اعادہ اس کی ابتداء سے آسان ہوتا ہے ورنہ تو ابتداء اور اعادہ اللہ تعالیٰ کیلئے سہولت کے اعتبار سے برابر ہے آسمانوں اور زمین میں اسی کی شان اعلیٰ ہے یعنی اسی کی صفت اعلیٰ ہے اور وہ یہ کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہی اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی تخلیق میں حکمت والا ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : اَصْلَکُمْ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ خَلَقَکُمْ میں کُم سے پہلے مضاف محذوف ہے اور یہ بھی بتادیا کہ اصل سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔
قولہ : ثُمَّ ، ثم سے تعبیر کرکے تاخیر تغیرات کی طرف اشارہ کردیا اس لئے کہ غذا اولاً نطفہ بنتی ہے پھر علقہ اور پھر مضغہ اور ان سب تغیرات کا وقفہ چالیس، چالیس ایام ہوتا ہے اور جب ایک سو بیس ایام ہوجاتے ہیں تو اس گوشت پوست کے لوتھڑے میں روح پھونک دی جاتی ہے تو وہ دفعۃً بشر ہوجاتا ہے اذا مفاجاتیہ ہے اگرچہ اذا مفاجاتیہ اکثر فا کے بعد آتا ہے مگر بعض اوقات واؤ کے بعد آتا ہے، اذا مفا کا تیہ لانے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جب مذکورہ تینوں تغیرات مکمل ہوجاتے ہیں تو پھر بشر بننے میں دیر نہیں لگتی ادھر روح پھونکی ادھر بشر بن کر تیار ہوگیا۔ قولہ : ومِنْ آیاتِہٖ یُرِیْکُم البَرْقَ.
قولہ : یُرِیْکم اصل میں اَنْ یُریکم تھا جس کی وجہ سے یریکم اراء تکم مصدر کے معنی میں ہے أن مصدریہ کو حذف کردیا گیا مفسر علام نے یریکم کی تفسیر اراء تکم سے کرکے اسی حذف ان مصدریہ کی طرف اشارہ کیا ہے اور أن مصدریہ کو کلام عرب میں حذف کرنا شائع ہے، جیسے۔ ؎ تَسْمَعُ بالمعِیْدی خیرٌ مِن أن تراہ
ای اِنْ تسمَعَ ، یُریکم البرقَ مبتداء مؤخر ہے اور ومن آیاتہٖ خبر مقدم ہے۔
قولہ : خَوْفًا وطَمَعًا یہ یریکم کے مفعول لہ ہیں۔
قولہ : ھُوَ اس کا مرجع اعادہ ہے جو یعیدہ سے مفہوم ہے ھو ضمیر کو خبر کی رعایت سے مذکر لایا گیا ہے، ھو اَھْوَن مبتدا خبر ہیں۔
قولہ : بالنظر إلی ماعند المخاطبین مفسر علام اس عبارت سے ایک شبہ کا جواب دینا چاہتے ہیں، شبہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ابتداء اور اعادہ دونوں برابر ہیں یعنی آسان ہیں مگر اَھوَن علیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی اعادہ ابتداء سے آسان ہے۔
جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں انسانوں کے اعتبار سے ایک اصولی بات بتائی گئی ہے اور عقل کا مقتضٰی بھی یہی ہے کہ ابتداء بنانے کے اعتبار سے ثانیاً کسی چیز کا بنانا آسان ہوتا ہے، دوسرا جواب یہ دیا گیا کہ اَھْوَنُ اسم تفضیل ھَیّن کے معنی میں ہے اور بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ ھُوَ اَھْوَنُ علَیہ میں علیہ کی ضمیر کا مرجع مخلوق کی طرف راجع ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اور مطلب یہ ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا، تو مخلوق کے لئے اس میں متعدد اور محتلف ابتداء کے آسان ہوگا اس لئے کہ ادھر روح کا تعلق جسم سے ہوا ادھر اعادہ ہوگیا، بخلاف ابتداء کے کہ اس میں متعدد اور محتلف تغیرات ہونے کے بعد زندگی ملتی ہے، مثلاً پہلے چالیس روز میں علقہ بنتا ہے اس کے بعددوسرے چالیس دن میں مضغہ بنتا ہے اس طرح اس میں تاخیر ہوتی ہے جو عود کے اعتبار سے دشوار ہے۔ (حاشیہ جلالین)
تفسیر وتشریح
سورة روم کے شروع میں روم وفارس کی جنگ کا ایک واقعہ سنانے کے بعد منکرین و کفار کی گمراہی اور حق بات سننے سمجھنے سے بےپروائی کا سبب ان کا صرف دنیا کی فانی زندگی کو اپنا مقصد حیات بنالینا اور آخرت کی طرف کوئی توجہ نہ دینا قرار دیا گیا تھا، اس کے بعد قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے اور حساب و کتاب اور جزاء وسزا کے موقع ہونے پر جو سطحی نظر والوں کو استبعاد ہوسکتا تھا اس کا جواب مختلف پہلوؤں سے دیا گیا ہے، پہلے خود اپنے نفس میں غور و فکر کی، پھر گردو پیش میں گذرنے والی اقوام کے حالات اور ان کے انجام میں نظر کرنے کی دعوت دی گئی، پھر حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر فرمایا جس کا کوئی سہیم وشریک نہیں، مذکورہ الصدر آیات میں اسی قدرت کاملہ اور اس کی حکمت بالغہ کے چھ مظاہر آیات قدرت کے عنوان سے بیان فرمائے گئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔
مظاہر قدرت کو بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے وَمِنْ آیاتِہٖ کا اس موقع پر چھ مرتبہ ذکر فرمایا اور ابتداء تخلیق انسانی کے ذکر سے فرمائی ہے، اس کے بعد عالم اور سفلی کی تخلیق کا ذکر فرما کر اس بات کی طرف اشارہ فرمادیا کہ ان عالموں سے استفادہ کرنے کا حق انسان کو ہے اور ان کی تخلیق انسانوں ہی کے لئے ہوئی ہے، ان آیات قدرت اور مظاہر قدرت کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان آیات قدرت میں غور و فکر کرکے راہ ہدایت کو اختیار کرے۔
Ayahs 30:28–40آیت نمبر 28 تا 40
ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک کس طرح قرار دیتے ہو ؟ ہم اسی طرح جس طرح یہ تفصیل بیان کی عقلمندوں کے لئے یعنی غور وفکر کرنے والوں کے لئے صاف صاف دلائل بیان کرتے ہیں بلکہ بات یہ ہے کہ شرک کرنے والے ظالم تو بغیر جانے بوجھے ہی اپنی خواہشات کی اتباع کررہے ہیں سو جسے اللہ گمراہ کرے اس کو کون راہ (راست) پر لائے یعنی اس کو کوئی راہ پر لانے والا نہیں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہیں ہوگا تو اے محمد ﷺ آپ یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین (حق) کی طرف رکھیں یعنی اپنے دین کو اللہ کے لئے آپ اور آپ کی اتباع کرنے والے خالص رکھیں خداداد قابلیت کو جس پر لوگوں کو پیدا فرمایا ہے اور وہ اس کا دین ہے لازم پکڑو، اللہ تعالیٰ کے دین کو بدلنا نہیں چاہیے یعنی شرک کرکے دین فطرت کو تبدیل مت کرو یہی اللہ کی توحید کا قائل ہونا ہی دین مستقیم ہے لیکن اکثر لوگ یعنی کفار مکہ اللہ کی توحید کو نہیں جانتے (آپ مع اپنے اصحاب کے دین کی جانب رخ رکھئے) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ان چیزوں میں جن کا حکم کیا گیا ہے، اور جن سے منع کیا گیا ہے (منیبین) اقِمْ سے اور اَقِمْ سے جو مراد ہیں یعنی اقیموا سے حال ہے اس سے ڈرتے رہو نماز کی پابندی رکھو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجاؤ، جنہوں نے اپنے دین کے لئے اپنے معبودوں کے بارے میں اختلاف کرکے ٹکڑے ٹکڑے کرلئے (من الذین) اعادۂ جار کے ساتھ المشرکین سے بدل ہے اور دین کے بارے میں گروہ در گروہ ہوگئے اور ان میں کا ہر گروہ اس (دین) پر جو اس کے پاس ہے خوش ہے مگن ہے اور ایک قراءت میں فارقوا ہے یعنی ان لوگوں نے اپنے اس دین کو ترک کردیا جس دین کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور جب لوگوں کو یعنی مکہ کے کافروں کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کی طرف نہ کہ اس کے غیر کی طرف رجوع ہو کر اپنے ربّ (حقیقی) کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب ان کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا بارش کے ذریعہ مزا چکھا دیتا ہے تو ان میں کا ایک فریق اپنے رب کیساتھ شرک کرنے لگتا ہے چاہیے کہ وہ ہماری دی ہوئی (نعمتوں) کی ناشکری کریں اس امر سے تہدید کا ارادہ کیا گیا ہے سو چند دن اور مزے اڑالو، تمہارے مزے اڑانے کا انجام تم کو جلدی ہی معلوم ہوجائے گا اس میں غیبت سے (خطاب) کی جانب التفات ہے کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی حجت اور کتاب نازل کی ہے کہ وہ دلالۃً ان سے شریک کرنے کے لئے کہتی ہے یعنی (وہ کتاب) (دلالت حال سے) ان کو شریک کرنے کو کہتی ہے، نہیں، اور جب ہم لوگوں یعنی مکہ کے کفار وغیرہ کو رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس نعمت سے خوش ہوتے ہیں اترانے لگتے ہیں، اور اگر ان کے اعمال کے بدلے ان کو کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو وہ ایک دم رحمت سے ناامید ہوجاتے ہیں اور مومن کی شان یہ ہے کہ نعمت کے وقت شکر ادا کرے اور مصیبت کے وقت اپنے رب سے امید رکھے کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے امتحاناً اس کے رزق میں وسعت کرتا ہے اور جس کے رزق میں چاہتا ہے ابتلاءً تنگی کرتا ہے ان میں (بھی) ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ان نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں پس قرابت دار کو اس کا حق کو کہ سلوک اور صلہ رحمی ہے دیجئے اور مسکین اور مسافر کو صدقہ دیجئے اور نبی ﷺ کی امت بھی اس حکم میں نبی کے تابع ہے یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں یعنی اس سے اپنے اعمال کے ثواب کے طالب ہیں ایسے ہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں اور جو چیز تم زیادہ ہونے کے خیال سے دیتے ہو اس طریقہ پر کوئی چیز ہبہ یا ہدیہ کے طور پر دی اس خیال سے کہ اس سے دیئے ہوئے سے زیادہ طلب کرے تاکہ جن لوگوں کو دیا گیا ہے ان کے مال میں مل کر زیادہ ہوجائے تو وہ اللہ کے نزدیک پڑھتا نہیں ہے یعنی اس میں دینے والوں کو کوئی اجر نہیں ہے، ربوا کے خیال سے (دی ہوئی چیز کا) جس کے دینے میں زیادتی مطلوب ہے اس شئ کا نام ربوا رکھدیا ہے (یعنی جو ہدیہ یا ہبہ زیادتی کے ارادہ سے دیا گیا ہے چونکہ اس میں زیادتی یعنی ربوا مطلوب ہے لہٰذا اس ہبہ یا ہدیہ کا نام ہی قرآن میں ربوا رکھ دیا گیا ہے) اور جو تم زکوٰۃدوگے جس سے تمہارا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہے تو ایسے لوگ ہی ہیں جو اپنے ثواب کو اپنے مطلوب کے دوگنا کرتے ہیں اس میں خطاب سے (غیبت) کی طرف التفات ہے اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تم کو موت دے گا پھر تم کو زندہ کرے گا تمہارے شرکاء میں بھی جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہو کوئی ایسا ہے کہ جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے نہیں وہ ان کے شریک سے پاک اور برتر ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : کائناً ، کائناً محذوف مان کر اشارہ کردیا مِنْ اَنْفُسِکُمْ کائناً سے متعلق ہو کر مثلاً کی صفت ہے اور من ابتدائیہ ہے۔
قولہ : مِمّا مَلَکَتْ اَیْمانکم، مِن شرکاء سے حال مقدم ہے پہلا من ابتدائیہ ہے دوسرا تبعیضیہ ہے اور تیسرا زائدہ۔
قولہ : اَنتَ ومَن اتبعکَ اس میں اشارہ کردیا کہ اَقِمْ وَجْھَکَ میں اگرچہ خطاب آپ ﷺ کو ہے مگر مراد امت ہے۔
قولہ : فطرتَ اللہ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے اور وہ اَلْزِمُوْا ہے جیسا کہ شارح (رح) تعالیی نے مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے ” فطرۃ “ کے معنی پیدائشی صلاحیت اور خدا داد قابلیت کے ہیں ” فطرت “ لمبی ت کے ساتھ قرآن میں صرف اسی جگہ ہے۔
قولہ : لاَ تُبَدِّلُوْہ اس سے شارح نے اشارہ کردیا کہ لاَتَبْدِیْلَ خبر بمعنی امر ہے، یہ بھی کہہ سکتے ہیں نفی بمعنی نہی ہے فطرۃ کی دو تفسیریں ہیں ایک فطری صلاحیت دوسری بمعنی دین اسلام دوسری تفسیر کیطرف شارح علام نے وھی دینہ کہہ کر اشارہ کردیا، جس کیوجہ سے دونوں تفسیریں خلط ملط ہوگئیں البتہ اگر وھِیَ دِیْنُہٗ کے واؤ کواَوْ کے معنی میں لے لیا جائے تو یہ اختلاط ختم ہوسکتا ہے (جمل
قولہ : منیبین یہ اَقِم اور اَقِم سے جو مراد ہے یعنی اقیموا سے حال ہے اسلئے اَقِمْ میں اگرچہ خطاب آپ ﷺ کو ہے مگر مراد امت ہے
قولہ : لِیَکْفُرُوْا کے بعد اُرِیْدَبہ التھدید کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ لیکفروا میں لام امر کا ہے اور لام عاقبت بھی ہوسکتا ہے یعنی آخر کار وہ ناشکری کرنے لگتے ہیں۔
قولہ : تَکَلُّمَ دلاَلَۃٍ یہاں تکلم سے مجازاً دلالت مراد ہے ورنہ تو حجت یا کتاب تکلم نہیں کرتی البتہ مجازاً کہا جاتا ہے کتابٌ ناطقٌ ویقال ھٰذا مما نَطَقَ بہ القرآن بَطَرٌ بےانتہاء خوشی کا اظہار کرنا کو تکبر اور اترانے کی حد تک پہنچ جائے شارح (رح) تعالیٰ نے فرحَ بَطَرٍ کا اضافہ کرکے اس شبہ کا جواب دیدیا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر خوشی کا اظہار کرنا کوئی مذموم بات نہیں بلکہ وَاَمَّا بنعمۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ کی رو سے محمود ہے تو اسکا جواب دیا کہ تحدیث نعمت کے طور پر اظہار نعمت کرنا اگرچہ محمود ہے مگر تکبر اور اترانے کی طور پر اظہار ممنوع ہے
قولہ : اللہ الذی خَلَقَکُمْ اللہ مبتداء ہے الَّذِیْ خلقَکُمْ موصول صلہ سے مل کر مبتداء کی خبر، مبتداء اور خبر دونوں کے معرفہ ہونے کی وجہ سے جملہ حصر کا فائدہ دے رہا ہے۔
قولہ : ھَلْ مِن شرکائِکُمْ خبر مقدم ہے مَنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذلٰکم مبتداء مؤخر ہے اور من شرکاء ھم خبر مقدم ہے۔
تفسیر وتشریح
ضرب۔۔۔ انفسکم آیات مذکورہ میں توحید کے مضمون کو مختلف شواہد اور دلائل اور مختلف عنوانات میں بتلایا گیا ہے اور ایسا دلنشین انداز بیان اختیار کیا گیا ہے کہ ہر شخص کے دل میں اتر جائے، پہلے ایک مثال سے سمجھایا کہ تمہارے غلام ونوکر جو تمہارے ہی جیسے انسان ہیں شکل و صورت ہاتھ پاؤں اور مقتضیات طبعیہ سب چیزوں میں تمہارے شریک ہیں مگر تم کو یہ پسند نہیں کہ وہ تمہارے مال و دولت میں شریک ہوجائیں تو پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ کے بندے چاہے وہ فرشتے ہوں یا رسول اور نبی، اولیاء اللہ ہوں یا صلحاء واتقیاء یاشجر و حجر کے بنائے ہوئے معبود، وہ اللہ کے ساتھ شریک ہوجائیں، جبکہ وہ بھی اللہ کے غلام اور اس کی مخلوق ہیں، یعنی جس طرح پہلی بات نہیں ہوسکتی دوسری بھی نہیں ہوسکتی، اس لئے اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی بندگی کرنا اور انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا یکسر غلط ہے۔
فطرت۔۔۔ علیھا فطرت کے کیا معنی ہیں ؟ اس بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال منقول ہیں ان میں دوزیادہ مشہور ہیں (اول قول) یہ ہے کہ فطرت سے مراد استعد و صلاحیت ہے یعنی تخلیق انسانی میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے، ہر انسان اپنے خالق کو پہچانے جس کا اثر اسلام کا قبول کرنا ہوتا ہے بشرطیکہ اس استعداد و صلاحیت سے کام لے، یہی معنی مفسر علام علامہ محلی نے اختیار کئے ہیں، یہ معنی بےغبار ہیں اس ہر کسی قسم کا اعتراض و شبہ وارد نہیں ہوتا، اس خلقی صلاحیت کے متعلق یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، جو شخص والدین یا کسی دوسرے کے گمراہ کرنے سے کافر ہوگیا اس میں استعداد اور قابلیت حق ختم نہیں ہوتی گو مغلوب و مستور ہوجاتی ہے۔ فطرت کے دوسرے معنی۔ بعض مفسرین نے فطرت سے اسلام مراد لیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اپنی فطرت اور جبلت کے اعتبار سے مسلمان پیدا کیا ہے، اگر اس کو دو پیش اور ماحول میں کوئی خراب کرنے والا خراب نہ کرے تو ہر پیدا ہونے والا مسلمان ہی ہوگا، مگر عموماً ہوتا یہ ہے کہ والدین اس کو بعض اوقات اسلام کے خلاف باتیں بتلاتے ہیں، ذہن نشین کراتے ہیں جس کے سبب وہ اسلام پر قائم نہیں رہتا، جیسا کہ صحیحین کی ایک روایت میں مذکور ہے، قرطبی نے اس قول کو جمہور کا قول قرار دیا ہے۔
دوسرے قول پر متعدد اعتراضات :
پہلا اعتراض : یہ کہ آیت میں آگے یہ مذکور ہے کہ لاتبدیلَ لخلق اللہ اور یہاں خلق اللہ سے مراد دو ہی فطرۃ اللہ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے اس لئے اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی اس فطرت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا حالانکہ صحیحین کی حدیث میں خود یہ آیا ہے کہ پھر ماں باپ بعض اوقات بچے کو یہودی یا نصرانی بنالیتے ہیں، اگر فطرت کے معنی خود اسلام کے لئے جائیں جس میں تبدیلی نہ ہونا خود اسی آیت میں مذکور ہے تو حدیث مذکور میں یہودی، نصرانی بنانے کی تبدیلی کیسے صحیح ہوگی اور یہ تبدیلی تو عام مشاہدہ ہے، اور اگر اسلام ایسی فطرت ہے، جس میں تبدیلی نہ ہوسکے تو پھر یہ تبدیلی کیسے اور کیوں ؟
دوسرا اعتراض : حضرت خضر (علیہ السلام) نے جس لڑکے کو قتل کیا تھا اس کے متعلق صحیح حدیث میں ہے کہ اس لڑکے کی فطرت میں کفر تھا اس لئے خضر (علیہ السلام) نے اس کو قتل کیا یہ حدیث بھی اس کے منافی ہے کہ ہر انسان فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔
تیسرا اعتراض : اگر اسلام ایسی چیز ہے جو انسان کی فطرت میں اس طرح رکھ دی گئی ہے کہ جس کی تبدیلی پر انسان کو قدرت نہیں پر اس صورت میں اسلام کوئی اختیاری فعل نہ ہوا پھر اس پر آخرت کا ثواب کیسا ؟ اس لئے کہ ثواب تو اختیاری عمل پر ملتا ہے، یہ سب شبہات امام تورپشتی (رح) تعالیٰ نے شرح مصابیح میں بیان کئے ہیں اور اسی بناء پر انہوں نے اول معنی کو ترجع دی ہے کہ اس خلقی صلاحیت کے متعلق یہ صحیح ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ (معارف ملخصًا)
وما۔۔۔ الناس اس آیت میں ایک بری رسم کی اصلاح کی گئی ہے جو عام خاندانوں اور اہل قرابت میں چلتی ہے وہ یہ کہ عام طور پر کنبہ رشتہ کے لوگ شادی بیاہ، عقیقہ یا دیگر تقریبات کے موقع پر ہدیہ تحفہ کے نام پر روپیہ پیسہ یا کوئی چیز دیتے ہیں تو ان کی نظر اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ ہمارے یہاں تقریبات کے موقع پر کچھ دے گا دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ دینے والا اور لینے والا اس رقم یا ہدیہ تحفہ کو لکھ بھی لیتا ہے تاکہ بھول نہ جائے اس سے معلوم ہوا کہ بدلے کی نیت ہے ورنہ لکھنے کے کیا معنی، اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ نہ ان پر احسان جتائے اور نہ کسی بدلے پر نظر رکھے اور جس نے بدلے کی نیت سے دیا کہ اس کا مال دوسرے عزیز رشتہ دار کے مال میں شامل ہونے کے بعد کچھ زیادتی لے کر واپس آئے گا تو اللہ کے نزدیک اس کا کوئی درجہ اور ثواب نہیں اور قرآن کریم نے اس زیادتی کو لفظ ربوا سے تعبیر کرکے اس کی قباحت کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ ایک صورت سود کی سی ہوگئی۔
مسئلہ : بغیر بدلہ اور عوض کی نیت کے ہدیہ تحفہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ باعث اجرو محبت ہے۔