29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 29:1–13

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دئیے جائیں گے اور انکی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے انکو بھی آزمایا تھا (اور انکو بھی آزمائیں گے) سو خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ جو یہ خیال کرتے ہیں برا ہے

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص خدا کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیو تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے ہو میں تم کو بتلاؤں گا

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب ان کو خدا (کے راستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں ؟

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، تو ہم ان سے انتقام نہ لے سکیں گے ان کی یہ تجویز جس کا یہ فیصلہ کر رہے ہیں نہایت ہی بیہودہ ہے، جو شخص اللہ کی ملاقات کا خوف رکھتا ہے یقیناً اس کی ملاقات کا وقت آنے ہی والا ہے لہٰذا اس کو چاہیے کہ اس کے لئے تیاری کرے وہ اپنے بندوں کی باتوں کو سننے والا اور ان کے افعال کو جاننے والا ہے اور جس شخص نے جہاد کیا خواہ جہاد بالحرب ہو یا جہاد با لنفس تو وہ اپنے فائدہ کے لئے جہاد کرتا ہے اس لئے کہ اس کے جہاد کا نفع اسی کو ملنے والا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ تو جہان والوں (یعنی) انسانوں اور جنوں اور فرشتوں اور ان کی عبادت سے بےنیاز ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ہم ان کے گناہوں کا ان کے نیک اعمال کے صلہ میں ازالہ کردیں گے اور ہم ان کے اعمال کا حال یہ ہے کہ وہ اعمال نیک ہوں بہترین بدلہ دیں گے اَحْسَنَ حَسَنٌ کے معنی میں ہے اور اس کا نصب باء جارہ کو ساقط کردینے کی وجہ سے ہے اور ہم نے ہر انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید کی ہے اچھی تاکید یہ کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرے اگر وہ تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک کرے کہ جس کے شریک کرنے کا تیرے پاس واقع کے مطابق علم نہیں ہے تو تو شرک کرنے میں ان کی اطاعت نہ کر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے پھر میں ہر چیز سے جو تم کو باخبر کردوں گا پس میں تمہارے اعمال کی جزاء دوں گا اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہوں گے اور نیک اعمال کئے ہوں گے تو ہم ان کو صالحین یعنی انبیاء اور اولیاء میں شمار کرلیں گے بایں طور کہ ہم ان کا ان کے ساتھ حشر کریں گے اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آمَنّا باللہ کہہ لیتے ہیں اور ان کو راستہ میں تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی تکلیف یعنی ان کی ایذارسانی کو اپنے لئے عذاب الہٰی کے مانند سمجھ کر اس سے ڈرتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی اطاعت کرتے اور نفاق کے مرتکب ہوتے ہیں، اور قسم ہے اگر مومنین کو تیرے رب کی طرف سے کوئی مدد آپہنچتی ہے جس کی وجہ سے ان کو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے تو کہتے ہیں ہم تو ایمان میں تمہارے ساتھ تھے لہٰذا ہم کو بھی مال غنیمت میں شریک کرلو وَلَئِنْ میں لام قسم ہے لَیَقولُنَّ میں نون رفع کو مسلسل (تین) نون آنے کی وجہ سے اور جمع کی ضمیر واؤ کو التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کو جہان والوں کا حال ایمان اور نفاق میں سے جو کچھ ہے معلوم نہیں ہے ؟ ضرور کیوں معلوم نہیں ہے (معلوم ہے) اور اللہ تعالیٰ دل سے ایمان لانے والوں کو بھی بالیقین ظاہر کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی بالیقین ظاہر کرکے رہے گا، اور دونوں فریقوں کو بدلہ دے گا، اور فعلوں میں لام لام قسم ہے، اور کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم دین میں ہمارا طریقہ اختیار کرو (بالفرض) اگر ہماری اتباع کرنے میں کوئی گناہ ہوا تو ہم اپنے اوپر اٹھالیں گے (یعنی اپنے ذمہ لے لیں گے اور تم سبکدوش ہوگے) اور امر بمعنی خبر ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں ہیں، یہ تو اس معاملہ میں محض جھوٹے ہیں البتہ یہ اپنے (گناہوں کا بوجھ) لادے ہوں گے اور اپنے (گناہوں) کے بوجھ کے ساتھ ساتھ کچھ اور بوجھ بھی، مومنین سے یہ کہنے کی وجہ سے کہ تم ہمارے طریقہ کی اتباع کرو اور اپنے متبعین کو گمراہ کرنے کی وجہ سے اور یہ جو کچھ افتراء پردازیاں کررہے ہیں، قیامت کے روز ان سے ضرور باز پرس کی جائے گی، (یعنی) اللہ پر جو کذب بیانی کرتے ہیں، اور یہ باز پرس تو بیخ کے لئے ہوگی، لام دونوں فعلوں میں لام قسم ہے اور دونوں کا فاعل واؤ اور نون رفع حذف کردیا گیا ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : ای بقولھِمْ یہ ما کے مصدریہ ہونے کیطرف اشارہ ہے اور بامحذوف ہے اور اَنْ یترکوا، حسِبَ کے دو مفعولوں کی قائم مقام ہے قولہ : نَزََلَ فی جماعۃٍ جیسا کہ عمار بن یاسر و عیاشؔ بن ابی ربیعہ وولیدبن سلمان بن ہشام ان فقراء کو مکہ میں ان کے ایمان لانے کی وجہ سے اذیت دی جاتی تھی۔ قولہ : علم مشاھدۃٍ اس بات کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب دینا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ آیت علم خداوندی کے تجدد پر دلالت کرتی ہے حالانکہ باری تعالیٰ کا علم قدیم غیر حادث ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ علم سے مراد علم ظہور اور علم مشاہدہ ہے، آیت کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صادقین کے صدق اور کاذبین کے کذب کو ظاہر کردے تاکہ معلوم اللہ کے علم کے مطابق ظاہر ہوجائے (یعنی لوگوں کو علم خداوندی اور معلوم کی مطابقت معلوم ہوجائے) جو کہ معلوم کے ظاہر ہونے سے پہلے پردۂ خفا میں تھی قولہ : یَحْکمُوْنَ جملہ ہو کر ما بمعنی الذی کا صلہ ہے صلہ میں ہٗ ضمیر محذوف ہے جس کو شارح (رح) تعالیٰ نے ظاہر کردیا ہے اور حکمھمْ ھٰذا مخصوص بالذم ہے۔ قولہ : فَلْیَسْتَعِدْ یہ مَنْ کان کا جواب شرط ہے اَحسَنَ نزع خافض کی وجہ سے منصوب ہے اصل میں بِاَحْسَنَ تھا۔ قولہ : ایصَاءً ذاحسن اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حسنًا وصینا کے مصدر محذوف کی صفت ہے حذف مضاف کے ساتھ اور اگر مضاف کو محذوف نہ مانین تو مبالغہ صفت واقع ہونا درست ہے۔ قولہ : وَالَّذِیْنَ آمنُوْ ا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مبتدا ہے اور لَنُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیّئٰتِھِمْ مع قسم محذوف کے مبتداء کی خبر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے واللہ لنکفِّرَنَّ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ والَّذِینَ آمنُوْا لخ فعل محذوف کی وجہ سے محلاً منصوب ہو تقدیر عبارت یہ ہوگی ونخلص الذین آمنوا وعملوا الصّٰلحٰت من سیِّئٰتِھم اس صورت میں یہ باب اشتغال سے ہوگا۔ قولہ : موافقۃ للواقع یہ محذوف کی علت ہے تقدیر عبارت یہ ہے وذکر ھٰذا القید موافقۃ للواقع . قولہ : فلاَ مفھومَ لہٗ مطلب یہ ہے کہ اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں ہے کہ جس کے معبود ہونے پر تیرے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو اس کو میرا شریک مت کر اور جس کے معبود ہونے پر دلیل ہو اس کو شریک کرسکتا ہے ( یہاں یہ مراد نہیں ہے) اس لئے کہ اس کے سوا نہ ایسا کوئی معبود ہے کہ اس کے وجود پر دلیل ہو اور نہ ایسا معبود ہے کہ اس کے وجود پر دلیل نہ ہو بلکہ وہ الٰہ واحد ہے۔ تفسیر وتشریح الم۔۔۔ یترکوا (الآیۃ) یعنی یہ گمان کہ صرف زبانی ایمان لانے کے بعد بغیر امتحان لئے انہیں چھوڑ دیا جائے گا صحیح نہیں، بلکہ انہیں جان ومال کی تکالیف اور دیگر آزمائشوں کے ذریعہ جانچا پرکھا جائے گا تاکہ کھرے کھوٹے کا، سچے جھوٹے کا، مخلص و منافق کا (لوگوں کو) پتہ چل جائے۔ اہل ایمان خصوصاً انبیاء (علیہم السلام) اور صلحاء کو مختلف قسم کی آزمائشوں سے گذرنا پڑتا ہے انجام کار ان کو کامیابی ہوتی ہے یہ آزمائشیں مختلف کی ہوتی ہیں کبھی تو کفار وفجار کی ایذادسانی کے ذریعہ آزمائش ہوتی ہے جیسا کہ اکثر انبیاء اور خصوصاً خاتم الانبیاء اور آپ کے اصحاب کو بہت سی آزمائشوں سے گذرنا پڑا، جس کے بیشمار واقعات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہیں، اور بعض اوقات جسمانی آزمائشوں سے گذرتا پڑتا ہے جیسے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو گذرنا پڑا۔ شان نزول : مراد اگرچہ عام ہے ہر زمانہ کے علماء و صلحاء اور اولیاء امت کو مختلف قسم کی آزمائشیں آتی ہیں اور آتی رہیں گی، مگر از روئے روایات یہ آیت چند ضعفاء صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں یہ حضرات بھی شامل ہیں، عمار بن یاسر، عیاش بن ابی ربیعہ، ولید بن الولید، سلمان بن ہشام ان تمام حضرات اور بہت سے فقراء صحابہ کو مکہ میں اذیت ناک سزائیں دی جاتی تھیں جس کی وجہ سے بعض صحابہ تنگ دل ہو کر دل برداشتہ ہوجاتے تھے، امام بخاری نے حضرت خباب بن الارت سے روایت کی ہے حضرت خباب فرماتے ہیں کہ ایک آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے سایہ میں اپنی چادر پر ٹیک لگاتے ہوئے بیٹھے تھے، ہم نے اپنی تکلیف کی آپ سے شکایت کی اور تکلیف کے ازالہ اور نصرت خداوندی کیلئے دعا کی درخواست کی، تو آپ نے فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گذرے ہیں کہ جن کو گڑھے میں کھڑا کرکے نصف دفن کردیا جاتا تھا اور سر پر آرادکھ کردو نصف کردیا جاتا تھا اور لوہے کی کنگھیوں کے ذریعہ ہڈیوں سے گوشت چھڑایا جاتا تھا پھر بھی یہ لوگ اپنے دین کو رد نہیں کرتے تھے، وَاللہ یہ صورت حال جلدی ہی ختم ہونے والی ہے، یہاں تک کہ صنعاء یمن سے حضرموت تک سوار سفر کرے گا اور خدا کے سوا اس کو کسی کا خوف نہ ہوگا، مگر تم جلدی کرتے ہو۔ (جمل ملخصًا) فلیعلمن۔۔۔ صدقوا یعنی امتحانات اور شدائد کے ذریعہ اور غیر مخلص اور نیک وبد میں ضرور امتیاز کریں گے کیونکہ مخلصین کے ساتھ منافقین کا خلط ملط بعض اوقات بڑے نقصان کا باعث ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے پیدا ہونے سے پہلے ہی معلوم ہے کہ کون بد ہے اور کون نیک، اللہ تعالیٰ کے جانچنے اور پرکھنے کا مطلب دوسروں پر ظاہر کردینا ہے۔ وَوَ صَّیْنَا الا نسَانَ یہاں وَصَّیْنَا کے معنی تاکیدی حکم کرنے کے ہیں، نیز خیر خواہی اور ہمدردی کے طور پر کسی کو نیک کام کی طرف بلانے کے بھی ہیں حُسْنًا مصدر ہے اس کے معنی خوبی کے ہیں اس جگہ خوبی والے طرز عمل کو مبالغہ کے طور پر حسن سے تعبیر کیا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا تاکیدی حکم فرمایا، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف نہ ہو جیسا کہ حدیث شریف میں ہے، لاَ طَاعَۃَ لمخلوق فی معصیۃِ الخالقِ (رواہ احمد والحاکم) یعنی خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی طاعت جائز نہیں، مذکورہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، یہ صحابہ کرام میں سے ان دس حضرات میں شامل ہیں جن کو آپ ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری سنادی تھی، جن کو عشرۂ مبشرہ کہا جاتا ہے یہ اپنی والدہ کے فرمانبردار تھے اور ان کی راحت رسانی کا بہت خیال رکھتے تھے، ان کی والدہ حمنہ بنت ابی سفیان کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے سعد مسلمان ہوگئے ہیں تو انہوں نے بیٹے کو تنبیہ کی اور قسم کھائی کہ میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی اور نہ پانی پیوں گی جب تک کہ تم اپنے آبائی دین میں پھر واپس نہ آجاؤ، اسی طرح بھوک پیاس سے مرجاؤں گی اور ساری دنیا میں ہمیشہ کے لئے یہ رسوائی تمہارے سر رہے گی کہ تم اپنے والدہ کے قاتل ہو (مسلم، ترمذی) اس آیت نے حضرت سعد کو ان کی بات ماننے سے روک دیا، بغوی کی ایک روایت کے مطابق حضرت سعد کی والدہ تین دن اور تین راتیں اپنی قسم کے مطابق بھوکی پیاسی رہیں، حضرت سعد حاضر ہوئے، ماں کی محبت اور اطاعت اپنی جگہ تھی مگر اللہ تعالیٰ کے فرمان کے سامنے کچھ نہ تھی اس لئے والدہ کو مخاطب کرکے کہا امی جان ! اگر تمہارے بدن میں سو روحیں بھی ہوتیں اور ایک ایک کرکے نکلتی رہتیں تب بھی میں اپنا دین نہ چھوڑتا، اب تم چاہو کھاؤ پیو یا مرجاؤ، بہرحال میں اپنے دین سے نہیں ہٹ سکتا، ماں نے ان کی گفتگو سے مایوس ہو کر کھانا کھالیا۔ ومن۔۔۔ باللہ (الآیۃ) اس آیت میں ایل نفاق یا کمزور ایمان والوں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ اگر ایمان کی وجہ سے انہیں ایذا پہنچتی ہے تو عذاب الہٰی کی طرح وہ ان کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے، نتیجتاً وہ ایمان سے پھرجاتے ہیں اور عوام کے دین کو اختیار کرلیتے ہیں۔
Ayahs 29:14–22

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جاؤ گے

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اسکو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے یہ خدا کو آسان ہے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ دا کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا پھر خدا ہی پچھلی پیدائش کرے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم (اسکو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

آیت نمبر 14 تا 22 ترجمہ : اور ہم نے نوح ( (علیہ السلام) ) کو ان کی طرف کیا اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی چناچہ (نوح) اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے اور ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے تو انہوں نے (نوح (علیہ السلام) ) کی تکذیب کی تو ان کو طوفان نے آدبایا یعنی پانی نے جس نے ان کو کھیر لیا اور ان کے اوپر پھر گیا، سو وہ غرق ہوگئے، اور وہ بڑے ظالم مشرک لوگ تھے چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی والوں یعنی ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا یعنی ان کے بعد والے لوگوں کے لئے اگر وہ اپنے رسولوں کی نافرمانی کریں، اور نوح علیہ الصلاۃ ولسلام طوفان کے بعد ساٹھ سال یا اس سے زیادہ بقید حیات رہے، حتی کہ لوگ بکثرت ہوگئے اور حضرت ابراہیم کا ذکر کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو یعنی اس کے عذاب سے خوف کرو یہ تمہارے لئے بتوں کی بندگی سے جس پر تم جمے ہوئے ہو بہتر سے غیر بہتر کی شناخت ہے تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی پوجا پاٹ کرتے ہو یعنی بتوں کی اور جھوٹ کھڑتے ہو یعنی یہ جھوٹ بکتے ہو کہ بت اللہ کے شرکاء ہیں (سنو) تم اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی پوجا پاٹ کررہے ہو وہ تمہارے رزق کے مالک نہیں (یعنی) تم کو رزق دینے پر قادر نہیں پس تمہیں چاہیے کہ تم اللہ ہی سے روزی طلب کرو اسی کی بندگی کرو اور اسی کی شکر گذاری کرو اور تم اسی طرف لوٹائے جاؤ گے اے اہل مکہ اگر تم میری تکذیب کرو گے (تو یہ کوئی نئی بات نہیں) تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں مجھ سے پہلے والے رسولوں کو جھٹلا چکی ہیں رسول کے ذمہ تو صرف صرف طور پر پہنچا دینا ہے یعنی محض واضح طور پر پہنچا دینا ہے، ان دونوں (یعنی نوح علیہ والصلاۃ والسلام اور ابراہیم علیہ والصلاۃ والسلام) کے قصوں میں نبی کریم ﷺ کو تسلی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کے بارے میں فرمایا کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو کس طرح ابتداء ً پیدا کرتا ہے یَرَوْا یا اور تا دونوں قراءتیں ہیں، یُبْدِیُ اول کے ضمہ کے ساتھ اور اول کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے بَدَأَ اور آبدَأَ دونوں کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی ان کو ابتداءً پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا یعنی مخلوق کو جس طرح اس نے ابتداءً پیدا کیا، بلاشبہ یہ ابتداءً اور ثانیاً پیدا کرنا اللہ کے لئے بہت ہی آسان ہے لہٰذا تم ثانیاً پیدا کرنے کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ آپ کہئے کہ ملک میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ تم سے پہلے والوں کو کس طرح ابتداءً پیدا کیا اور ان کو موت دی پھر دوسری مرتبہ بھی پیدا کرے گا نَشْأۃَ مد کے ساتھ اور قصر کے ساتھ مع شین کے سکون کے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر شئ پر قادر ہے اور اسی میں ابتداءً اور ثانیاً پیدا کرنا بھی ہے جس کو عذاب دینا چاہے عذاب دے اور جس پر رحم کرنا چاہے رحم کرے اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور نہ تو تم اپنے رب کو تمہارے پکڑنے سے زمین میں عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں اگر تم آسمان میں ہو، یعنی تم اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے، اللہ تعالیٰ کے سوا نہ تمہارا کوئی ولی ہے کہ اس سے تمکو بچا سکے اور نہ مددگار کہ تمہاری اسکے عذاب سے مدد کرسکے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل وتفسیری فوائد قولہ : نوحاً حضرت نوح (علیہ السلام) کے نام چند اقوال ہیں (1) عبد الغفار (2) یَشکُر (3) السَّکَنْ ” نوح “ آپ کا لقب ہے نوحٌ بہت زیادہ نوحہ کرنے والے کو کہتے ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) چونکہ اپنی امت کی حالت کو دیکھ کر بہت زیادہ روتے تھے اس لئے ان کا لقب مشہور ہوگیا۔ قولہ : ابراھیم ابراہیم پر عام قرّانے نصب پڑھا ہے، نصب کی تین وجہیں یوسکتی ہیں اولؔ یہ کہ نوحًا پر عطف ہو یا اس کا عامل باصف محذوف مانا جائے جیسا کہ شارح نے اذکر محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے یا یہ کہ انجیناہ کی ضمیر پر عطف ہو، اور بعض حضرات نے ابراہیم کو مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع پڑھا ہے خبر محذوف مانی ہے تقدیر عبارت یہ ہے ومن المرسلین ابراھیم . قولہ : اَوْثان، وثنٌ کی جمع ہے پتھر وغیرہ سے تراشے ہوئے بت جن کی بندگی کی جائے۔ قولہ : یَرْزقُو کُمْ کا اضافہ کرکے شارح نے اشارہ کردیا کہ رزقًا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی لا یملِکُوْنَ اَن یرزقو کم رزقًا . قولہ : تکذبونی اس سے اشارہ ہے کہ تکذبوا کا مفعول محذوف ہے۔ قولہ : یا اھل مکۃ اس سے مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ آیت اور آئندہ آیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے اور مقصد اس سے آپ کو تسلی دنیا ہے ان تکذبوا شرط ہے اور اس کی جزا فلا یضرنی تکذیبکم . قولہ : مَنْ قبلی، مَن موصولہ کذّبَ کا مفعول ہے۔ قولہ : ھاتینِ القصتین سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے ہیں۔ قولہ : اَوَلَمْ یَرَوا یہاں رویت سے مراد علم یقینی ہے ورنہ تو ابتداء تخلیق کے وقت کوئی دیکھنے والا موجود نہیں تھا، لہٰذا اَوَلَمْ یَرَوْا کے ذریعہ سوال کرنا بےمعنی ہوگا۔ قولہ : النشأۃ الآخرۃ مدًّا وقصرًا مد کا مطلب ہے شین کے بعد الف اور قصر کا مطلب ہے بغیر الف۔ تفسیر وتشریح سابقہ انبیاء اور امتوں کے حالات و واقعات کا ذکر آپ ﷺ اور آپ کی امت کی تسلی کے لئے کیا گیا ہے، جس طرح انبیاء سانقین نے کفار و مشرکین کی ایذاؤں کی وجہ سے کبھی ہمت نہیں ہاری، اسی طرح آپ ﷺ بھی اپنی قوم کی ایذاؤں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فریضۂ رسالت کی ادائیگی مضبوطی کے ساتھ کرتے رہے۔ انبیاء سابقین میں سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا، اول اس لئے کہ وہ سب سے پہلے پیغمبر ہیں جن کو کفر وشرک کا مقابلہ کرنا پڑا، دوسرے اس لئے بھی کہ جیتنی ایذائیں ان کو اپنی قوم سے پہنچیں وہ کسی دوسرے پیغمبر کو نہیں پہنچیں، کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو طول عمر کا ایک خصوصی امتیاز بخشا تھا، اور ساری عمر کفار کی طرف سے ایذاؤں میں بسر ہوئی، حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ساڑھے نو سو سال تو قرآنی صراحت سے معلوم ہوتی ہے جو یقینی ہے بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمر دعوت و تبلیغ کی ہے، چالیس سال کی عمر میں آپ کو نبوت ملی اور طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے اس حساب سے آپ کی عمر ایک ہزار اور پچاس سال معلوم ہوتی ہے، اتنی طویل عمر مسلسل دعوت و تبلغ میں رہنا اور قوم کی طرف سے طرح طرح کی ایذائیں مار پیٹ گلا گھونٹنے کی سہتے رہنا اور چند نفر کے علاوہ کسی کا ایمان نہ لانا اور اس کے باوجود کسی وقت بھی ہمت نہ ہارنا، یہ سب حضرت نوح (علیہ السلام) کی خصوصیات ہیں، اور وَہَب (رح) تعالیٰ سے آپ کی عمر ایک ہزار چار سو سال منقول ہے، ملک الموت نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے دریافت کیا آپ عمر کے اعتبار سے اطول العمر انبیاء میں سے ہیں آپ نے دنیا کو کیسا پایا ؟ آپ نے فرمایا دنیا کی مثال ایک مکان کی سی ہے کہ جس کے دو دروازے ہیں ایک سے داخل ہوا دوسرے سے نکل گیا۔ (حاشیہ جلالین) دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان ہوا ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی بڑے سخت امتحانات سے گذرنا پڑا تھا، مثلاً حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو لق ودق بےآب وگیاہ میدان میں چھوڑ آنا، پھر اپنے ہی ہاتھ سے اپنے اکلوتے بیٹے اسماعیل کے ذبح کا واقعہ یہ سب وہ حالات ہیں کہ جن کو ایک اولوا العزم پیغمبر ہی برداشت کرسکتا ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کے ضمن میں حضرت لوط (علیہ السلام) کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے، آخر سورت تک دوسرے بعض انبیاء اور ان کی سرکش امت کے حالات کا ذکر یہ سب رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کی تسلی کے لئے اور ہمت کے ساتھ دین پر قائم رہنے کے لئے بیان ہوئے ہیں۔
Ayahs 29:23–30

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اسکے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو انکی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو مگر خدا نے ان کو آگ (کی سوزش) سے بچا لیا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم) نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کردو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ان پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کردی اور انکو دنیا میں بھی اس کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور (مسافروں کی) راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو ؟ تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خدا کا عذاب لے آؤ

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے کہا اے میرے پروردگار (ان) مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھولے ہوئے ہیں یعنی قرآن کو اور بعث بعد الموت کو یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تو ان کی قوم کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں تھا کہ کہنے لگے ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو آخرش اللہ نے ان کو اس آگ سے بچالیا جس میں ان کو ڈالا تھا اس طریقہ سے کہ اس آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی کردیا بلا شبہ اس میں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دینے میں کئی نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں ایک اس آگ کا باوجود اس کے عظیم ہونے کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں اثر نہ کرنا اور اس کا بجھ جانا ہے اور اس کی جگہ قلیل مدت میں گلستان کا پیدا ہوجانا ہے ایمان والوں کے لئے (یعنی) اللہ کی توحید اور اس کی قدرت کی تصدیق کرنے والوں کے لئے، اس لئے کہ یہی لوگ نشانیوں سے نفع حاصل کرنے والے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ (بھی) فرمایا تم نے خدا کو چھوڑ کر بتوں کو (معبود) بنا رکھا ہے جن کی تم بندگی کرتے ہو بس یہ تمہارے آپسی دینوی تعلقات کی وجہ سے ہے ما اتخذتم میں مامصدریہ ہے اور مَوَدَّۃُ بینکم، اِنّ کی خبر ہے اور نصب میں (مودۃ) مفعول لہ ہے اور ما کافہ ہے، آیت کے معنی یہ ہیں ان بتوں کی عبادت کی وجہ سے تمہارے درمیان باہمی دوستی قائم ہے پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کے منکر ہوجاؤ گے سردار اپنے ماتحتوں سے اظہار براءت کردیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت کریں گے یعنی ماتحت سرداروں پر لعنت کریں گے اور تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مدگار (یعنی) آگ سے بچانے والا ہوگا سو لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی (نبوت) کی تصدیق کی اور ان کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں اپنی قوم کو چھوڑ کر اپنے رب کی طرف یعنی میرے رب کی بتائی ہوئی جگہ ہجرت کرجاؤں گا اور اپنی قوم کو چھوڑ دیا اور اطراف عراق سے شام کی طرف ہجرت کرگئے بیشک وہ اپنے ملک میں بڑا ہی غالب اور اپنی غالب اور اپنی صنعت میں بڑا ہی حکمت والا ہے اور ہم نے اس کو اسماعیل کے بعد اسحٰق اور اسحٰق کے بعد یعقوب عطا کئے اور ہم نے ان کی اولاد میں نبوت جاری کردی چناچہ تمام انبیاء ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد ان کی نسل سے ہوئے اور کتاب (کاسلسلہ جاری کیا) اور کتاب بمعنی کتب تورات اور انجیل اور زبور اور قرآن کا اور ہم نے ان کا صلہ ان کو دنیا میں بھی دیا اور وہ تمام اہل ملت میں ان کا ذکر جمیل ہے اور بلا شبہ وہ آخرت میں بھی صالحین میں ہے جن کے لئے عالی شان درجات ہیں اور لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کیا تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو یعنی مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو کہ کسی نے تم سے پہلے عالم والوں یعنی وانس نے نہیں کیا، دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں کے درمیان دونوں صورتوں میں دونوں مقام پر الف داخل کرکے کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور تم گذرنے والوں کے ساتھ بےحیائی کا کام کرکے مسافروں کا راستہ روکتے ہو جس کی وجہ سے لوگوں نے تمہارے پاس سے گذرنا ترک کردیا اور تم اپنی گفتگو کی مجلسوں میں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بےحیائی کا کام کرتے ہو تو ان کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ کہنے لگے اگر تم اس فعل کو قبیح سمجھنے میں اور اس بات میں کہ ایسی حرکت کرنے والے پر عذاب نازل ہونے والا ہے سچے ہو تو اللہ کا عذاب لے آؤ تو لوط (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار عذاب نازل کرنے کے بارے میں میری بات کو سچ کرکے مردوں کے ساتھ بدفعلی کرکے نافرمانی کرنے والی قوم پر میری مدد فرما چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعاء قبول فرمالی۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : یَئِسُوْا مِنْ رَحْمَتِیْ یہی ہیں وہ لوگ جو قیامت کے دن میری رحمت سے ناامید ہوں گے یَئِسُوْا ماضی کا صیغہ استعمال کیا ہے یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے۔ قولہ : اقتلوہ او حرّقوہ یہاں حرف تردید کے ساتھ فرمایا اور سورة الانبیاء میں صرف ایک یعنی حرّقوہُ فرمایا۔ جواب : یہاں انکے مشورہ کو بیان فرمایا ہے اور سورة الانبیاء میں مشورہ کے بعد فصلہ ہوگیا (یعنی جلانے کا) اسکو عملی جامہ پہنانے کا بیان ہے۔ قولہ : التی قَذََفوہ فیھا شارح نے اس عبارت سے کلام محذوف کی طرف اشارہ کیا ہے، تقدیر کلام یہ ہے فقذفوہ فی النار فاَنجاہ اللہ من النار وقال ابراھیم کا عطف فانجاہ اللہ من النار پر ہے، ای قال بعد انْجَائِہٖ من النار . قولہ : اِنّ مَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَوْثَانًا الخ ما میں تین ترکیبیں ہوسکتی ہیں۔ اول ترکیب : ما موصولہ بمعنی الذی اور عائد محذوف ہے اور وہی اتخذتم کا مفعول اول اور اوثانًا مفعول ثانی اور مَوَدَّۃٌ اِنَّ کی خبر تقدیر عبارت یہ ہوگی اِنَّ الَّذِی اتخذتموہ او ثاناً مَوَدَّۃٌ (اس صورت میں مودۃٌ کا حمل اوثاناً پر مبالغۃ ہوگا، اور اگر موَدَّۃٌ سے پہلے ذومحذوف مان لیا جائے تو حمل درست ہوگا) اور مَوَدَّۃَ پر نصب کی صورت میں اِنّ کی خبر محذوف ہوگی تقدیر عبارت یہ ہوگی الذی اتخذتموہ اوثاناً لاجل المودۃِ لا ینفعوکم . دوسری ترکیب : ما کافہ جو کہ اِنَّ کو عمل سے مانع ہے اَوْثاناً اِتخذتم کا مفعول بہ اگر اتخذتم کو متعدی بیک مفعول مانا جائے، اور اگر متعدی بدومفعول مانا جائے تو مفعول من دون اللہ ہوگا، اگر موَدَّۃُ کو مرفوع پڑھا جائے تو مبتدا محذوف ھِیَ کی خبر ہوگی، ای ھِیَ مَوَدَّۃٌ جملہ اس صورت میں اوثاناً کی صفت ہوگا، اور مستانفہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور اگر مَوَدَّۃ پر نصب پڑھا جائے تو اتخذتم کا مفعول لہ ہوگا، نیز اعنی محذوف کے ذریعہ بھی منصوب ہوسکتا ہے۔ تیسری ترکیب : مَا کو مصدریہ مانا جائے، اس کے بعد دو صورتیں ہیں، اتخاذ سے پہلے سبب مضاف محذوف مانا جائے اور تقدیر عبارت یہ ہو اِنّ سَبَبَ اتخاذکم اَوْثاناً مَوَدَّۃٌ اور یہ بھی جائز ہے کہ مضاف محذوف نہ مانا جائے بلکہ مبالغہ نفس اتخاذ ہی کو مَوَدَّۃ قرار دیدیا جائے اور مَوَدّۃ پر نصب کی صورت میں خبر محذوف ہوگی جیسا کہ اول صورت میں ہے۔ قولہ : المعنی قراءات مذکورہ کا حاصل معنی یعنی ان بتوں کی پوجا پاٹ ہی کی وجہ سے تم متفق ہوگئے ہو۔ قولہ : صَدَّقَ بابراھیم یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کی، نہ یہ کہ نفس ایمان کی تصدیق کی اس لئے کہ حضرت لوطعلیہ الصلاۃ والسلام تو مومن تھے ہی، لوط پر وقف لازم ہوگا۔ قولہ : الیٰ حیثُ اَمَرَنی رَبّیِ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کا جواب ہے وہ یہ کہ اِلیٰ رَبّیِ سے باری تعالیٰ کے لئے جہت ثابت ہوتی ہے حالانکہ باری تعالیٰ جہات سے پاک ہے تو اس کا الیٰ حیثُ امرنی ربّی کہہ کر جواب دیدیا۔ قولہ : سَوادَ العراق ای اطرافھا یقال سواد البلدی اطراف البلد . قولہ : لمن الصالحینَ ای الصالحین الکاملین . تفسیر وتشریح والذین۔۔۔ اللہ الخ اللہ تعالیٰ کی رحمت، دنیا میں عام ہے جس سے کافر و مومن، مخلص و منافق اور نیک وبد یکساں طور پر مستفیض ہورہے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آشائش اور مال و دولت عطا کررہا ہے یہ رحمت الہٰی کی وہ وسعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا رحمتی وسعت کل شئ (اعراف) لیکن آخرت چونکہ دارلجزاء ہے انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہوگا اس کی فصل اسے وہاں کاٹنی ہوگی، جیسے عمل کئے ہوں گے ویسی ہی جزاء وہاں ملے گی، اللہ کی بارگاہ میں بےلاگ فیصلے ہوں گے دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک و بد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الہٰی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف آتا ہے، دوسرے قیامت کا مقصود ہی فوت ہوجائے گا قیامت کا دن تو اللہ تعالیٰ نے رکھا ہی اس لئے ہے کہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلہ میں جنت ملے اور بدوں کی جزاء میں جہنم دی جائے، اس لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت اہل ایمان کے ساتھ خاص ہوگی جس کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔ فما۔۔۔ قومہٖ ان آیات سے قبل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان ہورہا تھا، یہاں سے اس کا بقیہ حصہ بیان کی جارہا ہے، دومیان میں جملہ معترضہ کے طور پر اللہ کی توحید اور اس کی قدرت و طاقت کو بیان کیا گیا ہے، بعض مفسرین فرماتے ہیں یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وعظ کا حصہ ہے جس میں حضرت ابرہیم نے توحید اور معاد کے اثبات میں دلائل دیئے ہیں جن کا کوئی جواب ان کی قوم سے جب نہ بن پڑا تو انہوں نے اس کا جواب ظلم و تشدد کی اس کاروائی سے دیا جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اسے قتل کردو یا جلا دو ، چناچہ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کرکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو منجنیق کے ذریعہ اس میں پھیک دیا۔ فانجاہ۔۔ النار اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے چشم زدن میں گل و گلزار کردیا اور اپنے خلیل کو بچالیا آگ ان کے کندھوں کے علاوہ کچھ نہ جلا سکی۔ وقال۔۔۔ مودۃ (الآیۃ) یعنی یہ تمہارے قوی بت ہیں جو تمہاری اجتماعت اور آپس کی دوستی کی بنیاد ہیں، اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو تو تمہاری قومیت اور دوستی کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ فآمَنَ لَہٗ لُوط حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادرزاد تھے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے، بعض مفسرین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھانجے لکھا ہے وہ درست نہیں ہے، آتش نمرود میں حضرت ابراہیم کا معجزہ دیکھ کر حضرت ابراہیم کی نبوت کی سب سے پہلے انہوں نے تصدیق کی، حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ سارہ جو آپ کی چچا زاد بہن بھی تھیں، اور مسلمان ہوچکی تھیں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو ساتھ لیکر اپنے وطن سے ہجرت کا ارادہ فرمایا اور کسی ایسی جگہ کا قصد فرمایا کہ جہاں بفراغت و اطمینان قلبی کیساتھ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرسکیں۔ ووھبنا۔۔۔ یعقوب یعنی حضرت اسحٰق (علیہ السلام) سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوئے حضرت یعقوب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے ہیں، حضرت یعقوب ہی کو اسرائیل کہتے ہیں (اس کے معنی ہیں اللہ کا بندہ) بنی اسرائیل انہیں کی نسل سے ہیں، حضرت محمد ﷺ کے علاوہ بعد کے انبیاء حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، اسی لئے ان کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے، آنحضرت ﷺ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں جو کہ حضرت ہاجرہ کے بطن سے تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل کو بنی اسماعیل کہا جاتا ہے عرب کا تعلق اسی نسل سے ہے۔ ولو۔۔۔ لقومہٖ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے تین بڑے گناہوں کا ذکر فرمایا ہے اولؔ مرد کی مرد کے ساتھ بدفعلی، دوسرے رہزنی، تیسرے اپنی مجلسوں میں سب کے سامنے بےحیائی کے جرم کرنا، حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” کہ تمہاری شہوت پرستی انتہاء کو پہنچ گئی ہے “ کہ اس کے لئے طبعی طریقے تمہارے لئے ناکافی ہوگئے ہیں اور تم نے غیر طبعی طریقے اختیار کرلئے ہیں۔ وَتقطعون السبیل اس کے ایک معنی نویہ کئے گئے ہیں کہ آنے جانے والے مسافروں کو زبردستی پکڑ کر تم ان سے بےحیائی کا کام کرتے ہو جس کی وجہ سے لوگوں نے اس راستہ سے گذرنا چھوڑ دیا تھا، دوسرے معنی یہ ہیں کہ تم آنے جانے والوں کو لوٹ لیتے ہو اور قتل کردیتے ہو یا ازراہ شرارت انہیں کنکریاں مارتے ہو۔ تیسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ سرراہ بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جس سے وہاں سے گذرتے ہوئے لوگ شرم محسوس کرتے ہیں، ان تمام صورتوں سے راستے بند ہوجاتے ہیں، حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں ان منکرات سے منع کیا تو اس کے جواب میں کہنے لگے اگر تم سچے ہو تو ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لے آؤ جب حضرت لوط (علیہ السلام) قوم کی اصلاح سے ناامید ہوگئے تو ان کے لئے بددعاء کردی اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بددعاء قبول فرمائی اور فرشتوں کو ان کے ہلاک کرنے کے لئے بھیج دیا، فرشتے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے اور انہیں اسحٰق و یعقوب (علیہما السلام) کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی یہ بھی بتلادیا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی بستی کو ہلاک کرنے جارہے ہیں۔