29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 29:31–44

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کردینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انکو اور انکے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے (فرشتوں نے کہا) کچھ خوف نہ کیجئے اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے والوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن (کے آنے) کی امید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے انکو جھوٹا سمجھا سو ان کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا) چناچہ ان کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کو آراستہ کر دکھائے اور انکو (سیدھے) راستے سے روک دیا حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کردیا) اور انکے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور وہ (ہمارے) قابو سے نکل جانے والے نہ تھے

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے سب کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کردیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

ہم یہ مثالیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اسے تو اہل دانش ہی سمجھتے ہیں

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے

آیت نمبر 31 تا 44 ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان کی وجہ سے تنگ دل ہوئے اس لئے کہ وہ مہمانوں کی صورت میں نہایت ہی خوبصورت تھے، جنانچہ ان کے بارے میں اپنی قوم سے اندیشہ کیا، تو انہوں نے بتایا کہ وہ ان کے رب کے فرستادے ہیں وہ فرشتے کہنے لگے کہ آپ اندیشہ نہ کریں اور مغموم نہ ہوں ہم آپ کو اور آپ کے اہل کو بچالیں گے سوائے آپ کی بیوی کے کہ وہ (عذاب) میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور اَھْلَکَ کا نصب پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے، ہم اس بستی والوں پر ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے یعنی ان کے فسق کے سبب سے آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں البتہ ہم نے اس بستی والوں کی کچھ ظاہر نشانیاں یعنی ان کے (مکانوں) کے اخرابات کے آثار غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے چھوڑ دیئے ہیں اور مدین والوں کے پاس ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (رسول بنا کر) بھیجا تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم (کے لوگو ! ) اللہ کی بندگی کرو اور آخرت کے دن سے کہ وہ قیامت کا دن ہے ڈرو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو مفسدین اپنے عامل کے لئے جو کہ عَثِیَ کسرۂ سے ہے حال مؤکدہ ہے، اور عَثِیَ معنی میں اَفْسَدَ کے ہے سو ان لوگوں نے حضرت شعب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ان کو ایک جھٹکے یعنی شدید زلزلہ نے آپکڑا پھر تو وہ اپنے گھروں میں مردہ گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے اور ہم نے عاد وثمود کو ہلاک کردیا (ثمود) منصرف اور غیر منصرف (دونوں ہوسکتا ہے) الحیّ کے معنی منصرف اور القبیلۃ کے معنی میں غیر منصرف، تمہارے سامنے جن کی ہلاکت حجرویمن میں ان کے مکانوں سے ظاہر ہے اور شیطان نے ان کے اعمال یعنی کفر و معاصی کو ان کی نظر میں مستحسن کر رکھا تھا اور انہیں راہ حق سے روک دیا تھا اور وہ عقلمندوں میں شمار ہوتے تھے اور ہم نے قارون کو اور فرعون کو اور ہامان کو ہلاک کردیا اور اس سے پہلے ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کھلی کھلی دلیلیں لیکر آئے تھے، پھر بھی ان لوگوں نے زمین میں سرکشی کی اور ہمارے عذاب سے نہ بھاگ سکے تو ہم نے تمام مذکورین کو ان کے گناہوں کی سزا میں پکڑلیا سو ان میں سے بعض پر ہم نے تمامذکورین کو ان کے گناہوں کی سزا میں پکڑلیا سو ان میں سے بعض پر ہم نے آندھی بھیجی یعنی شدید ہوا جس میں کنکریاں تھیں، جیسا کہ قوم لوط پر اور ان میں سے بعض کو ہولناک شدید آواز نے آدبایا جیسا کہ ثمود کو اور ان میں سے بعض کو زمین میں دھنسا دیا جیسا کہ قارون اور ان میں سے بعض کو غرق کردیا جیسا کہ قوم نوع اور فرعون اور اس کی قوم اور اللہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے کہ بغیر جرم کے سزا دے لیکن وہ خود ہی جرم کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کار ساز تجویز کر رکھے ہیں یعنی بت جن سے نفع کی توقع رکھتے ہیں ان کی مثال مکڑی کے جالے جیسی ہے جس نے اپنے لئے ایک گھر بنایا جس میں وہ ٹھکانہ حاصل کرتی ہے بلاشبہ تمام گھروں میں مکڑی کا گھر سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے وہ گھر اس سے نہ گرمی دفع کرسکتا ہے اور نہ سردی، اسی طرح بت ہیں کہ اپنی پوجا پاٹ کرنے والوں کو نفع نہیں پہنچاسکتے اگر یہ لوگ اس حقیقت کو جان لیتے تو ان بتوں کی بندگی نہ کرتے اللہ تعالیٰ بلاشبہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جس کی اس کے سوا یہ بندگی کرتے ہیں یا اور تا کے ساتھ وہ اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے ہم ان قرآنی مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں اور ان مثالوں کو بس غور و فکر کرنے والے عالم ہی سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق یعنی بامقصد پیدا فرمایا ہے بلاشبہ اس میں مومنین کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر بڑی دلیلیں ہیں، مومنین کو خاص طور پر ذکر کیا اس لئے کہ ان دلائل سے ایمان میں مومن ہی فائدہ اٹھاتے ہیں بخلاف کافروں کے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اسحٰق ویقوب سورة ہود میں دو باتوں کی خوشخبری کا ذکر ہے، اسحٰق و یعقوب کی ولادت کی خوشخبری اور قوم لوط کی ہلاکت کی خبر کا، مگر یہاں شارح نے ایک پر اکتفاء کیا ہے، گویا کہ سابق کی تفصیل کی وجہ سے یہاں اجمال پر اکتفاء کیا ہے، احقر کے خیال میں بعدہ کے بجائے اگر شارح ولدہ فرماتے تو زیادہ مناسب رہتا اس لئے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے ہیں، بعدہٗ کی ضمیر حضرت اسحٰق کی طرف راجع ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحٰق اور اسحٰق کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی اس سے وہم ہوتا ہے کہ حضرت بھی حضرت ابراہیم کے صاحبزادے ہیں حالانکہ حضرت یعقوب حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کے پوتے ہیں۔ قولہ : قریۃ لوط اس قریہ کا نام سذوم تھا (جمل) بعض کتابوں میں سدوم دال کے ساتھ ہے یہ قوم لوط کی بستیوں کا مرکزی مقام تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) اسی بستی میں رہتے تھے۔ قولہ : کانت من الغابرین ای فی علم اللہ الْاََزَلِی . قولہ : سِیْیَ بِھِمْ لہ تفسیر حزن بِسَبَبِھِمْ سے کرکے شارح نے اشارہ کردیا کہ سیئ کی ضمیر کا مرجع حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں قاضی بیضادی نے سیئ کی ضمیر کا مرجع مصدر مسأۃ کو قرار دیا ہے ای جاءت المسأۃ بھم مگر شارح نے اول کو اختیار کیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی طرف اشارہ ہوگیا کہ بِھِمْ میں باسببیہ ہے۔ قولہ : صدرًا، ذرعًا کی تفسیر صدرًا سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہ حاصل معنی کے ذریعہ ہے ورنہ تو ذرعاً کے معنی طاقت اور قوت کے ہیں، نیز ذرعًا ضاق کی نسبت سے تمیز ہے جو فاعل سے منتقل ہوئی ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ضاقً بامر ھم . قولہ : لقوم یعقلون لقوم کا تعلق ترکنا یا بآیۃ یا ببنۃٍ سے ہوسکتا ہے تیسرا ظاہر ہے۔ قولہ : ارجوا الیومَ الآ خررجاء کے مشہور معنی توقع اور امید کے ہیں چناچہ بعض مفسرین یہی مراد لیتے ہیں، اور اس کے ایک معنی خوف کے بھی ہیں مفسر علام نے دوسرے معنی کو ترجع دی ہے یعنی قیامت کے دن میں اللہ کے عذاب سے ڈرو، پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تم لوگ یوم آخرت میں اجر وثواب کی توقع رکھو۔ قولہ : مِن عَثِیَ یہ (س ن) دونوں سے مستعمل ہے اس کے معنی میں فساد برپا کرنا۔ قولہ : مفسدین یہ لاتعثوا کی ضمیر سے حال مؤکدہ ہے اس لئے کہ عَثِیَ کے جو معنی ہیں وہی اَفْسَدَ کے ہیں گویا کہ یہ ابوک عطوفًا کی قبیل سے ہے۔ قولہ : الرجفۃ شدید زلزلہ اور سورة ہود میں ہے فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحۃُ دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے، حالانکہ واقعہ واحد ہے اس لئے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی چیخ سے زلزلہ پیدا ہوا اور زلزلہ کی وجہ سے ہلاکت ہوئی، ایک جگہ ہلاکت کی اضافت سبب یعنی صیحۃ کی طرف کردی اور دوسری جگہ سبب یعنی رجفۃ کی طرف کردی۔ قولہ : بالصرف وترکہٖ ان دونوں کا تعلق صرف ثمود سے ہے۔ قولہ : بالحجر حجر ایک وادی کا نام ہے جو کہ مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے یہ قوم ثمود کی بستی تھی، اور یمن میں قوم عاد آباد تھی یہ دونوں قومیں عذاب الہٰی میں معذب ہوئی تھیں۔ قولہ : ذوی بٰصائر یعنی صاحب بصیرت عقلمند، تجربہ کار، یعنی وہ کوئی دیوانے یا مجنون نہیں، دنیوی کاموں میں بڑے ہوشیار تھے اگر وہ چاہتے تو توحید و آخرت کے معاملہ میں اپنی بصرت اور دانشمندی سے کام لے سکتے تھے مگر دنیا کی حرص اور قومی تعصب نے ان کو بےبصیرت بنادیا تھا۔ قولہ : قارون و فرعون یہاں پر قارون کو مقدم کیا گیا ہے حالانکہ شرارت اور تکبر میں فرعون قارون سے کہیں بڑھا ہوا تھا، قارون کو چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے قرابت یعنی برادرعم ہونے کی وجہ سے ایک قسم کا شرف حاصل تھا، اسی وجہ سے قارون کو فرعون پر مقدم ذکر کیا ہے۔ قولہ : العنکبوت، بیت العنکبوت سے مکڑی کا جالا مراد ہے مکڑی کئی قسم کی ہوتی ہے یہاں وہ مکڑی مراد ہے جو عام طور پر گھروں میں کالا تنتی ہے، صاوی میں ہے کہ مکڑی کے آٹھ پیر اور چھ آنکھیں ہوتی ہیں، یہ قانع ترین حیوانات میں سے ہے اپنے جالے میں صبر و قناعت کے ساتھ بیٹھی رہتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے صبر و قناعت کی وجہ سے حریص ترین حیوان یعنی مکھی اور مچھر کو اس کی غذا بنادیا جو اس کے جال میں پھنس کر اس کی غذا بنتے ہیں، عنکبوت میں نون اصلی ہے اور واؤ تازائدہ ہیں اس لئے کہ اس کی جمع عناکب اور تصغیر عنیکب آتی ہے، اس کا اطلاق واحد، تثنیہ، جمع، مذکر ومؤنث سب پر ہوتا ہے، گویا نیث میں کثیر الاستعمال ہے۔ قولہ : مَا عبدوھا یہ لو کانوا یعلمون کی جزاء ہے۔ قولہ : مابمعنی الذی، مایعلم کا مفعول ہے ای یعلم الذین یدعونھم اور بعض حضرات نے ماکو استفہامیہ تو بخییہ بھی کہا ہے، اس صورت میں مایدعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ یعلم اور وھو العزیز الحکیم کے درمیان جملہ معترضہ ہوگا۔ قولہ : مُحقًّا سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بالحق جار مجرور ملا بست کے لئے ہے اور اللہ سے حال ہے ای محقاً غیر قاصدبہ باطلاً. تفسیر وتشریح حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمالی گئی، اور اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے فرشتوں کو بھیج دیا، وہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے اور انہیں حضرت اسحٰق اور یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی یہ بتادیا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی بستی کو ہلاک کرنے جارہے ہیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اس بستی میں لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتوں نے جواب دیا اے خلیل ! ہمیں وہاں کے لوگوں کا حال معلوم ہے، ہم لوط (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین کو ہلاک ہونے سے بچادیں گے البتہ ان کی کافرہ بیوی عذاب میں پھنسنے والوں میں رہ جائے گی، یہ کہہ کر قوم لوط کی بستی کی طرف روانہ ہوگئے، جب یہ فرشتے نوجوان خوبصورت مہمانوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو آپ ان خوب رومہمانوں کو دیکھ کر ڈرے اپنی قوم کی عادت اور سرکشی کی وجہ سے کہ اگر ان خوبصورت مہمانوں کی آمد کا علم قوم کو ہوگیا تو وہ ان سے زبردستی بےحیائی کا ارتکاب کریں گے جس سے میری رسوائی ہوگی، ان خوش شکل مہمانوں کو اپنی قوم سے بچانے کی کوئی تدبیر سمجھ میں نہیں آئی، جس کی وجہ سے وہ غمگین اور دل ہی دل میں پریشان ہوئے، فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی کو دیکھا تو انہیں تسلی دی اور کہا کہ آپ کوئی خوف نہ کریں ہم اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ہمارا مقصد آپ کی قوم کا ہلاک و برباد کرنا ہے اور آپ کے تمام متعلقین و مومنین کو بچالینا ہے، سوائے آپ کی کافرہ بیوی کے۔ قولہ : رجزًا منَ السماءِ اس آسمانی عذاب سے وہی آسمانی عذاب مراد ہے جس کے ذریعہ قوم لوط کو ہلاک کیا گیا تھا کہا جاتا ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے ان بستیوں کو زمین سے اکھیڑا اور آسمانوں کی بلندی پر لے گئے اور پلٹ دیا اس کے بعد کنکر پتھروں کی بارش کردی اور اس جگہ کو سخت بدبو دار (جھیل) میں تبدیل کردیا گیا۔ (ابن کثیر ملخصًا) مسئلہ : مکڑی کو مارنے اور اس کے جالے صاف کرنے کے بارے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں بعض حضرات اس کو پسند نہیں کرتے کیونکہ مکڑی آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے وقت غار ثور کے دہانے جالا تننے کی وجہ سے قابل احترام ہوگئی جیسا کہ خطیب نے حضرت علی ؓ سے اس کے قتل کی ممانعت تقل کی ہے مگر ثعلبی نے اور ابن عطیہ نے حضرت علی ؓ ہی سے یہ روایت نقل کی ہے ظَھِّرُ وْا بُیُوتَکُمْ من نسج العنکبوت فَاِنّ ترکۃٗ یُورِثُ الفَقْر مکڑی کے جالوں سے اپ نے مکانوں کو صاف رکھا کرو، کیونکہ اس کے چھوڑ دینے سے فقر و فاقہ پیدا ہوتا ہے، سند دونوں روایتوں کی قابل اعتماد نہیں ہے مگر دوسری روایت لہ دوسری احادیث سے تائید ہوتی ہے جس میں مکان اور فناء دار کو صاف رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (روح المعانی، معارف) تلک۔۔۔ للناس (الآیۃ) مشرکین کے خداؤں کی کمزوری کی مثال مکڑی کے جالے سے دینے کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ ہم ایسی ایسی واضح مثالوں سے توحید کی حقیقت کو بیان کرتے ہیں مگر ان مثالوں سے بھی نصیحت اور سمجھ علماء ہی حاصل کرتے ہیں، دوسرے لوگ تدبیر اور غور وفکر نہیں کرتے کہ ان پر حق واضح ہوجائے۔ عالم کون ؟ امام بغوی نے سند کے ساتھ حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ عالم وہی شخص ہے جو اللہ کے کلام میں غور وفکر کرے اور اس پر عمل کرے اور اللہ کو ناراض کرنے کے کاموں سے اجتناب کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کے محض الفاظ سمجھ لینے سے اللہ کے نزدیک کوئی شخص عالم نہیں ہوتا جب تک کہ قرآن میں تدبیر اور غور وفکر کی عادت نہ ڈالے اور جب تک اپنے عمل کو قرآن کے مطابق نہ بنائے۔
Ayahs 29:45–51

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے محمد ! ﷺ یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے جانتا ہے

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریقے سے کہ نہایت اچھا ہو ہاں جو ان میں سے بےانصافی کریں (ان کے ساتھ اسی طرح کا مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں (محفوظ) ہیں ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے

آیت نمبر 45 تا 51 ترجمہ : جو کتاب آپ پر یعنی قرآن وحی کی گئی ہے آپ اس کو پڑھا کیجئے اور نماز کی پابندی رکھئے یقیناً نماز بیحیائی اور شرعاً ناشائستہ کاموں سے روک دیتی ہے یعنی نماز کی شان یہی ہے، جب یک انسان نماز میں ہوتا ہے بیشک اللہ کا ذکر دیگر طاعتوں کے مقابلہ میں بہت بڑی چیز ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے اس کی تم کو وہ جزادے گا اور تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقہ کے مجادلہ کرو مثلاً اللہ کی طرف اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت دو اور اس کے دلائل پر تنبیہ کرو مگر ان کے ساتھ جو ان میں زیادتی کریں بایں طور کہ محاربہ کریں اور جزیہ دینے سے انکار کریں تو ایسے لوگوں سے جہاد بالسیف کرو حتی کہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دینا منظور کریں، اور ان لوگوں سے جنہوں نے جزیہ دینے کا اقرار کرلیا جب وہ اپنی کتابوں میں سے کسی بات کی خبر دیں تو کہہ دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے جو ہم پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی ہے، اور اس خبر کے بارے میں نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب اور ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے ہم سب اسی کے حکم بردار ہیں (یعنی) اطاعت گذار ہیں اور ہم نے اسی طرح آپ پر کتاب یعنی قرآن نازل کی ہے جیسا کہ ان پر تورات وغیرہ نازل کی ہیں سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب تورات دی ہے جیسا کہ عبداللہ بن سلام وغیرہ تو وہ اس کتاب یعنی قرآن پر ایمان لائے ہیں اور ان لوگوں یعنی اہل مکہ میں بھی بعض ایسے ہیں جو قرآن پر ایمان پر لے آئے ہیں اور ہماری آیتوں کا ان کے ظہور کے بعد بجز کافروں یعنی یہود کے کوئی منکر نہیں اور ان پر واضح ہوگیا کہ قرآن حق ہے اور اس کا لانے والا حق پر ہے (پھر بھی) اس کے منکر ہوئے آپ اس کتاب یعنی قرآن سے پہلے کوئی کتاب پڑھے ہوئے نہیں تھے اور نہ آپ اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب لکھتے تھے ورنہ تو اگر لکھنا پڑھنا جانتے تو یہ باطل پرست یہود آپ کے بارے میں ضرور شبہ نکالتے اور کہتے کہ جس (آنے والے نبی) کا ذکر تورات میں ہے وہ تو امی ہوگا وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہوگا (اور یہ تو جانتا ہے) بلکہ یہ قرآن جس کو آپ لائے ہیں خود ان لوگوں کے دلوں میں جن کو علم عطا کیا گیا ہے یعنی وہ مومنین جو اس کی حفاظت کرتے ہیں واضح دلیلیں ہیں اور ہماری آیتوں کا منکر بجز ظالم کے کوئی نہیں یہود نے ان آیتوں کے واضح ہونے کے باوجود انکار کردیا، کفار نے کہا کس لیے محمد پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے نہیں اتاری گئی اور ایک قراءت میں (آیت کی بجائے) آیات ہے جیسا کہ صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا دستر خوان آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے اور میں تو صاف صاف ڈرانے والا ہوں میرا ڈر انا اہل معصیت کو آگ (جہنم) سے ہے کیا ان کو اپنے مطالبہ کے سلسلہ میں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب قرآن نازل کردی جو ان کو پڑھ کر سنائی جارہی ہے یہ کتاب تو ایسی آیت ہے کہ جو ہمیشہ رہنے والی ہے جو کھبی ختم ہونے والی نہیں بخلاف ان آیات کے جن کا تذکرہ کیا گیا اس کتاب میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت ایمان والوں کے لئے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اُتْلُ مَا اُوْحِیَ اِلَیْک (الآیۃ) اے محمد ﷺ جب آپ کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے پر افسوس اور غم ہو تو آپ قرآن کی تلاوت کیا کیجئے تو آپ کو یہ جان کر تسلی ہوگی کہ حضرت نوح و لوط (علیہما السلام) وغیرہ کو بھی ایسے حالات پیش آئے تھے، جیسے آپ کو پیش آرہے ہیں نیز انہوں نے تبلیغ رسالت اور دلائل قائم کرنے میں بےحد محنت اور مبالغہ سے کام لیا مگر اس کے باوجود وہ اپنی قوموں کو ضلالت اور جہالت سے نہ بچاسکے، جب آپ قرآن کی تلاوت کریں گے اور انبیاء مذکورین کے حالات معلوم ہوں گے تو آپ کو ایک گونہ تسلی ہوگی۔ قولہ : الفحشاء والمنکر ” فحش “ اس برائی کو کہتے ہیں جسکو شریعت نے برا قراردیا ہو خواہ عرف عام میں اسکو اچھا ہی کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔ قولہ : مادام المرءُ فیھا یہ ایک قول ہے ورنہ صحیح بات یہ ہے کہ فواحش اور منکرات سے روکنا نماز کی خاصیت ہے بشرطیکہ اس کو شرائط اور آداب کے ساتھ پابندی سے ادا کیا جائے، اگر کوئی شخص نماز کی پابندی کے باوجود فواحش سے باز نہیں آتا ہے تو سمجھ لو کہ نماز کی ادائیگی میں قصور ہے نہ کہ نماز کی خاصیت میں۔ قولہ : کعبداللہ بن سلام یہ سبقت قلم ہے اس لئے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن سلام مدینہ میں ایمان لائے ہیں لہٰذا عبداللہ بن سلام کو مثال میں پیش کرنا درست نہیں ہے، ہاں البتہ یہ ممکن ہے اخبار بالغیب کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ بن سلام کے ایمان لانے کی خبر دی ہو۔ قولہ : مِن کتاب، من کتاب، تتلوا کا مفعول ہے اور من زائدہ ہے۔ قولہ : لو کنت قارناً کاتبًا یہ لف ونشر مرتب ہے۔ قولہ : الیھود، مبطلون کی تفسیر میں یہود کی تخصیص مناسب نہیں ہے اس لئے کہ نصاری کا بھی یہی حال تھا لہٰذا اگر الیھود کے بجائے کالیھود فرماتے تو زیادہ مناسب تھا تاکہ یہود کے علاوہ ہر منکر قرآن اس میں شامل ہوجاتا۔ قولہ : اَوَلَمْ یَکْفِھِم ہمزہ محذوف پر داخل ہے اور واؤ عاطفہ ہے اور یکفھم کا عطف محذوف پر ہے تقدیر عبارت یہ ہے کہ أجَھِلُوْا ولم یکفِھِم اور یہ استفہام تو بخیی ہے۔ قولہ : أنّا أنزلنا۔ أن اور جس پر اَنّ داخل ہے مصدر کی تاویل میں ہے، اور یکف کا فاعل ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَوَلَمْ یکفھم انزالنا . تفسیر وتشریح سابقہ آیات سے ربط : اتل۔۔۔ الیک سابقہ آیات میں چند انبیاء اور ان کی امتوں کا ذکر تھا جن میں چند بڑے بڑے سرکش کفار اور ان پر قسم قسم کے عذابوں کا ذکر تھا، جن میں رسول اللہ ﷺ اور مومنین امت کے لئے تسلی بھی ہے کہ انبیاء سابقین نے مخالفین کی کیسی کیسی ایذاؤں پر صبر کیا اور اس کی تلقین بھی کہ تبلیغ و دعوت کے کام میں کسی حال میں ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔ قرآن کی تلاوت کے فوائد : اُتْلُ مَا اُوْحِیَ میں اگرچہ خطاب آپ ﷺ کو ہے مگر مراد پوری امت ہے، قرآن کریم کی تلاوت متعدد مقاصد کے لئے مطلوب ہے، اجروثواب کے لئے اس کے معانی اور مطالب میں غور وفکر کرنے کے لئے تعلیم و تدریس کے لئے اور وعظ و نصیحت کے لئے، اس حکم تلاوت میں تمام صورتیں داخل ہیں۔ وَاَقِم الصَّلَوٰۃَ ۔ کیونکہ نماز سے (بشرطیکہ نماز ہو) انسان کا خصوصی تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم ہوجاتا ہے جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے، اسی لئے قرآن کریم میں کہا گیا ہے یٰٓاَ یُّھا الذین آمنوا استعینوا بالصبر والصَّلوٰۃ ” اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو “ (البقرہ) نماز اور صبر کوئی مرئی چیز تو ہے نہیں کہ انسان ان کا سہارا پکڑ کر ان سے مدد حاصل کرلے یہ تو غیر مرئی چیز ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کے ذریعہ انسان کا اپنے رب کے ساتھ خصوصی تعلق قائم ہوجاتا ہے، وہ قدم قدم پر اس کی رہنمائی اور دستگیری کرتا ہے، آپ ﷺ کو جب کبھی کوئی اہم مرحلہ درپیش ہوتا تھا تو آپ نماز کا اور زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔ نماز تمام گناہوں سے روکتی ہے : ” فحش “ اور ” منکر “ دو لفظ ہیں ان دو لفظوں میں تمام جرائم اور ظاہری و باطنی سب گناہ آگئے، متعدد مستند احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت صلوٰۃ کی یہ تاثیر ہے کہ جو شخص اس کی شرائط کے ساتھ پابندی کرتا ہے تو اس سے گناہ چھوٹ جاتے ہیں، مگر اس کی شرائط و آداب کے ساتھ ضروری ہے، جس طرح دواؤں کی مختلف تاثیرات ہیں اور کہا جاتا ہے کہ فلاں دوافلاں بیماری میں مفید ہے اور واقعتاً ایسا ہوتا بھی ہے لیکن کب ؟ جب دو باتوں کا التزام کیا جائے ایک تو دوا کو پابندی کے ساتھ بتائے ہوئے طریقہ اور شرائط کے ساتھ استعمال کیا جائے اور دوسری چیز پرہیز یعنی ایسی چیزوں سے اجتناب کیا جائے جو اس دوا کے اثرات کو زائل کرنے والی ہوں، اسی طرح نماز کے اندر بھی اللہ تعالیٰ نے یقیناً ایسی روحانی تاثیر رکھی ہے کہ انسان کو بےحیائی اور برائی سے روک دیتی ہے لیکن جب کہ نماز کو سنت نبوی کے طریقہ پر پڑھا جائے۔ وَلَذِکْر اللہ اکبر یعنی اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے، اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بندہ جو نماز سے باہر اللہ کا ذکر کرتا ہے یہ بڑی چیز ہے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ بندے جب اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے بندے کا ذکر فرشتوں کے مجمع میں کرتا ہے اور فاذ کرونی اذکرکم کے پیش نظر اللہ کا اپنے بندوں کو یاد کرنا بہت بڑی نعمت ہے۔ ولا۔۔۔ ظلموا یعنی اہل کتاب سے اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آئے تو مجادلہ ایسے طریقہ سے کرو جو بہتر ہو مثلاً سخت کلام کا جواب نرم گفتاری سے اِلَّا الذی ظلوا منھم یعنی جو بحث و مباحثہ میں افراط وتفریط سے کام لیں تو تمہیں بھی سخت لب و لہجہ اختیار کرنے کی اجازت ہے، بعض مفسرین نے پہلے گروہ سے وہ اہل کتاب مراد لئے ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے اور دوسرے گروہ سے وہ اشخاص مراد لئے ہیں جو مسلمان نہیں ہوئے بلکہ یہودیت اور نصرانیت پر قائم رہے اور بعض نے الذین ظلموا منھم کا مصداقِ ان اہل کتاب کو لیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتے تھے، اور جنگ وجدال کے بھی مرتکب ہوتے تھے ان سے تم بھی قتال کرو تان کہ مسلمان ہوجائیں یا جزیہ دنیا قبول کریں۔ آمنا۔۔۔ الیکم اس آیت میں مسلمانوں کے تورات اور انجیل پر ایمان لانے کا تذکرہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تورات اور انجیل پر اجمالی ایمان رکھتے ہیں یہ اللہ کی نازل کردہ آسمانی کتابیں ہیں، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ موجودہ تورات و انجیل کے تمام مضامین پر ہمارا ایمان ہے گذشتہ زمانہ میں ان میں ہزار ہا تحریفات ہوچکی ہیں اور اب بھی تحریفات کا سلسلہ جاری ہے۔ موجودہ تورات و انجیل کی نہ مطلقاً تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب، صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ کتاب تورات و انجیل کو ان کی اصل زبان عبرانی میں پڑھتے تھے اور مسلمانوں کو ان کا ترجمہ عربی میں سناتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب بلکہ یوں کہو آمَنَّا بِا لَّذِی اُنْزِلَ اِلَیْنَا واُنْزِلَ الیکُمْ یعنی ہم اجمالاً اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو تمہارے انبیاء پر نازل ہوئی ہے اور جو تفصیلات تم بتاتے ہو وہ ہمارے نزدیک قابل اعتماد نہیں، اس لئے ہم اس کی تصدیق و تکذیب سے اجتناب کرتے ہیں۔ تفسیر کی کتابوں میں جو عام مفسرین نے اہل کتاب کی روایات (اسرائیلیات) نقل کی ہیں ان کا بھی یہی درجہ ہے اور نقل کرنے کا منشا اس کی صرف تاریخی حیثیت کو واضح کرنا ہے، حلال و حرام کا اس سے استنباط نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آپ ﷺ کا امی ہونا آپ کی نبوت کی اہم دلیل ہے : حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر جس طرح بہت سے واضح معجزات ظاہر فرمائے انہی میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو امی رکھا، اور آپ کا اختلاط اہل کتاب سے بھی کبھی نہیں رہا کہ ان سے کچھ سن لیتے اس لئے کہ مکہ میں اہل کتاب تھے ہی نہیں، چالیس سال ہونے پر یکایک آپ کی زبان مبارک سے ایسا کلام جاری ہونے لگا جو اپنے مضامین اور معانی کے اعتبار سے بھی معجزہ تھا اور لفظی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی۔ لو۔۔۔ ربہٖ یعنی اہل مکہ آپ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزے طلب کرتے ہیں اول تو آپ فرمادیجئے کہ معجزوں کا ظاہر کردینا اور نشانیوں کا دکھا دینا میرے اختیار میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ جب چاہتے ہیں ظاہر فرمادیتے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ کیا یہ قرآن معجزہ نہیں ہے جس کی بابت انہیں چیلنج دیا گیا ہے کہ اس جیسا لاکر دکھائیں یا کوئی ایک ادنیٰ سورت ہی بنا کر پیش کردیں، اور یہ چیلنج آج بھی باقی ہے اور قیامت رہیگا، جب قرآن کی اس معجزہ نمائی کے باوجود اس قرآن پر ایمان نہیں لارہے تو اگر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح کے معجزے ان کو دکھا بھی دیئے گئے تو ضمانت ہے کہ یہ ایمان لے ہی آئیں گے، جبکہ سابق انبیاء (علیہم السلام) کے معجزے ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ ختم ہوگئے اور آپ ﷺ کا قرآن کا معجزہ آج بھی باقی ہے اور تاقیامت باقی رہے گا۔
Ayahs 29:52–63

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو ان پر عذاب آ بھی گیا ہوتا اور وہ (کسی وقت میں) ان پر ضرور ناگہاں آ کر رہے گا اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن عذاب ان کو ان کے اوپر اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) ان کا مزہ چکھو

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلا ہے

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا ؟ تو کہہ دیں گے خدا نے، تو پھر یہ کہاں الٹے جا رہے ہیں ؟

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا ؟ تو کہہ دیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے

آیت نمبر 52 تا 63 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہوگی، یہ لوگ آپ سے دنیا ہی میں عذاب کا تقاضا کرتے ہیں (ذراتسلی رکھیں) بلاشبہ جہنم کافروں کو گھیرے میں لینے والی ہے جس دن عذاب ان کو ان کے اوپر سے اور نیچے سے گھیرے گا، عذاب کے ذمہ دار فرشتے کہیں گے اپنے اعمال کی جزا چکھو یقول میں نون اور یا دونوں ہیں، اگر نون ہو تو مطلب ہوگا ہم فرشتوں کو یہ بات کہنے کا حکم کریں گے تو تم ہم سے بچ کر نہیں نکل سکتے اے میرے ایماندار بندو ! میری زمین بہت کشادہ ہے میری ہی بندگی کرو جہاں بھی عبادت آسان ہو، لہٰذا اس سرزمین سے جہاں عبادت آسان نہ ہو اس سرزمین کی طرف ہجرت کر جاؤ (کہ جہاں عبادت کرنا آسان ہو) (یہ آیت) مکہ کے ان کمزور مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں اظہار اسلام کے بارے میں تنگی میں تھے، ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے پھر تم سب زندہ ہونے کے بعد ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے تُرْجَعُوْنَ تا اور یا کے ساتھ، جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ہم ان کو جنت کے بالا خانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جنت کے بالا خانوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یعنی ہم نے ان کے لئے جنت کے بالا خانہ میں ہمیشہ رہنا مقدر کردیا ہے، عمل کرنے والوں کا اجر کیا ہی خوب ہے یہ اجر، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکین کی ایذاؤں اور دین کے اظہار پر صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں تو وہ ان کو ایسے طریقے سے روزی دے گا کہ ان کے وہم و گمان بھی نہ ہوگا اور بہت سے جانور ایسے ہیں جو کمزوری کی وجہ سے اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے اے ہجرت کرنے والو ! اللہ تم کو بھی رازی دے گا اور ان کو بھی اگرچہ تمہارے پاس زادراہ اور خرچہ نہ ہو وہ تمہاری باتوں کو سنتا ہے اور تمہارے دل کے رازوں کو جانتا ہے اور اگر آپ ان سے یعنی کفار سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور کس نے شمس و قمر کو مسخر کر رکھا ہے ؟ ولَئِن میں لام قسم کا ہے تو یقیناً یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے، تو پھر یہ لوگ توحید کو چھوڑ کر اس کا اقرار کرنے کے بعد کہاں الٹے چلے جارہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسکا چاہتے ہیں بطور آزمائش رزق کشادہ کردیتے ہیں اور کشادہ کرنے کے بعد اس کا رزق تنگ کردیتے ہیں یا بطور آزمائش جس کی چاہیں (روزی تنگ کردیتے ہیں) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر شئ کے حال سے واقف ہے اور اسی (معلوم) شئ میں روزی کشادہ اور تنگ کرنے کا محل بھی ہے اور اگر آپ سے دریافت کریں کہ وہ ذات کون ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس پانی کے ذریعہ زمین کو خشک ہوجانے کے بعد تروتازہ کردیا ؟ تو یقیناً یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے تو پھر اس کے ساتھ کسی کو کیوں شریک کرتے ہیں ؟ آپ کہیے تمہارے اوپر حجت ثابت ہونے پر، الحمدللہ، بلکہ ان میں اکثر لوگ اس معاملہ میں اپنے (قول میں) تناقض کو سمجھتے بھی نہیں ہیں۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : صَفْقَۃٌ ہاتھ پر مارنا، تالی بجانا، معاملہ کرنا، عرب کی عادت تھی کہ بیع کے تام ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے اختتام بیع پر ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے تھے، یہاں مطلقاً بیع مراد ہے جس کو تجارتی اصطلاح میں سودا کہتے ہیں۔ قولہ : فَاِیَّایَ فَا عْبُدُوْن، اِیَّایَ اپنے ماقبل فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے بعد کا فعل اس کی تفسیر کررہا ہے تقدیر عبارت یہ ہے فاعبدوا ایّایَ فاعبدون . قولہ : لَنُبَوِّئنّھُمْ جمع متکلم لام تاکید بانون تاکید ثقیلہ بَوَّءَ یُبَوِّ ءُ تَبْوِئَۃً (تفعیل) بَوْءٌ مادہ ہے، ٹھکانہ دینا، جگہ درست کرنا، اور ایک قراءت میں لَنُثْوِیَنَّھُمْ ای لنقیمنّھُمْ مشتق من الثواء بمعنی اقامت، اس دوسری قراءت کے مطابق غُرَفًا مفعول بہ ہوگا نُثوِی نُنزِلْ لے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے۔ اس صورت میں ننزل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے متعدی بدومفعول ہوگا، مفعول اول ھم ضمیر ہے اور دوسرا غُرَفًا بتقدیر فی ہے، ای فی غرفٍ من الجنۃ پہلی قراءت میں غُرَفًا مفعول ثانی ہے اور ھم مفعول ہے اس لئے کہ بَوَأَ متعدی بدومفعول ہے، قال اللہ تعالیٰ تُبَوِّ ئُ المؤمنینَ مقاعِدَ لِلقتال اور کبھی متعدی بالام بھی ہوتا ہے کما قال تعالیٰ وَاِذ بَوّ أنا لاِْبراھیم مکان البیتِ. قولہ : تجری من تحتھا الانھار یہ جملہ ہو کر غُرَفًا کی صفت ہے۔ قولہ : وَالذین آمنوا مبتداء لَنُبَوِّ ئَنَّھُمْ اس کی خبر والذین آمنوا فعل محذوف کی وجہ سے منصوب بھی ہوسکتا ہے جس پر بعد کا فعل دلالت کررہا ہے اس صورت میں یہ باب اشتغال سے ہوگا۔ قولہ : مقدرین الخلود فیھا اس سے اشارہ ہے کہ خالدین حال مقدرہ ہے ای انھم حین الدخول یقدرون الخلود . قولہ : ھٰذا الاجریہ مخصوص بالمدح ہے۔ قولہ : الذین صَبَروا، ھم مبتداء محذوف کی خبر ہے جیسا کہ شارح نے ظاہر کردیا اور العاملین کی صفت بھی ہوسکتی ہے۔ قولہ : وکأین من دابۃ کأیّن مبتداء ممیّز، من دابۃٍ اس کی تمییز لا تحمل دابّۃٍ کی صفت اللہ یَرزُقُھا جملہ ہو کر کأیِّن مبتداء کی خبر۔ تفسیر وتشریح شروع سورت سے یہاں تک مسلمانوں کے ساتھ کفار کی عداوت اور توحید و رسالت سے مسلسل انکار اور حق اور اہل حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاٹوں کا بیان تھا، مذکورۃ الصدآیات میں مسلمانوں کے لئے ان کے شر سے بچنے اور حق کو شائع کرنے اور حق و انصاف کو دنیا میں قائم کرنے کی ایک تدبیر کا بیان ہے جس کا اصطلاحی نام ہجرت ہے یعنی اس وطن اور ملک کو چھوڑ دینا جس میں انسان خلاف حق بولنے اور کرنے پر مجبور ہو اور شعائر دین کو آزادی سے ادا نہ کرسکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اِنَّ ارضی وَاسِعَۃٌ فاِیّایَ فَاعْبُدُوْن یعنی اگر کسی ملک میں یا کسی علاقہ میں ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ جہاں فرائض دین اور شعائر اسلام کو بآسانی ادا نہ کرسکے اور باطل کی مجبوراً تائید کرنی پڑے تو ایسی جگہ سے ہجرت کرنا فرض ہوجاتا ہے، فرائض میں کوتاہی یا عدم ادائیگی کے بارے میں یہ عذر عند اللہ قابل قبول نہ ہوگا کہ جہاں ہم رہتے تھے کافروں اور ظالموں کی حکومت تھی فرائض اور شعائر اسلام کی دائیگی وہاں ممکن نہیں تھی، اس لئے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے ہجرت کرجانا چاہیے تھا۔ وطن سے ہجرت کرکے کسی دوسری جگہ جانے میں عام طور پر عادۃً دو قسم کے خطرات پیش آیا کرتے ہیں جو ہجرت سے روکتے ہیں، پہلا خطرہ اپنی جان کا ہے، جب وطن کو چھوڑ کر جائیں گے تو یہاں کے کفار اور ظالم لوگ راہ میں حائل ہوں گے اور ممکن ہے کہ راستہ میں دیگر کافروں سے بھی مقابلہ یا مقاتلہ کہ نوبت آجائے جس سے جان کا خطرہ ہو، اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ کل نفسٍ ذائقۃ الموت یعنی موت تو ہرحال اور ہر جگہ آنے والی ہے اس لئے موت سے خوف اور گھبراہٹ مومن کا کام نہیں ہونا چاہیے اور مومن کا یہ عقیدہ ہے کہ موت اپنے مقررہ وقت سے پہلے نہیں آسکتی اس لئے ہجرت کرنے میں موت کا خوف حائل نہ ہونا چاہیے، خصوصاً جبکہ احکام الہٰی کی اطاعت کرتے ہوئے موت آجانا دائمی راحتوں اور نعمتوں کا ذریعہ ہے جو ان کو آخرت میں ملیں گی، جس کا ذکر بعد کی ان دو آیتوں میں فرمایا اَلَّذِینَ آمَنُوْا وَعمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّھُمْ مِنَ الجنۃِ غُرَفًا .(الآیۃ) دوسرا خطرہ ہجرت کی راہ میں یہ پیش آتا ہے کہ دوسرے ملک یا دوسری جگہ جاکر رزق کا کیا سامان ہوگا ؟ اپنی جگہ رہتے ہوئے تو انسان کا کچھ نہ کچھ ذریعہ معاش ہوتا ہے، ہجرت کی وجہ سے یہ سب ختم ہوجاتا ہے، اس کا جواب بعد کی تین آیتوں میں اس طرح دیا گیا ہے کہ تم اس حاصل کردہ سامان اور ذریعہ کے بھی رزق پہنچا دیتا ہے اور اگر وہ چاہے تو سامان اور اسباب کے ہوتے ہوئے بھی انسان رزق سے محروم ہوسکتا ہے اس کے بیان کے لئے فرمایا وَکَأَیِّنْ مِنْ دَابَّۃٍ لاَتَحْمِلُ رِزْقَھَا واِیّا کُمْ یعنی اس پر غور کرو کہ زمین پر چلنے والے ہزاروں قسم کے جانور ہیں کہ جو اپنا رزق جمع کرنے اور رکھنے کا انتظام نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ ان کو روزانہ رزق مہیا کرتا ہے، سفیان بن عینیہ (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان اور چوہا اور چیونٹی کے سوا کوئی حیوان اپنی غذا جمع نہیں کرتا بعض حضرات نے کوے کو بھی شمار کیا ہے وہ بھی آشیانہ میں غذا چھپا کر رکھتا ہے مگر بھول جاتا ہے، چیونٹی چونکہ سردی کے موسم میں اپنے سوراخ سے باہر نہیں آتی اس لئے موسم گرما ہی میں سرما کا انتظام کرلیتی ہے، بقیہ ہزار ہا اقسام کے جانور جن کا شمار بھی مشکل ہے ان میں کوئی جانور ایسا نہیں ہے کہ جو کل کی فکر کرتا ہو، حدیث میں ہے کہ یہ پرندے صبح کو اپنے گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے ہوئے واپس ہوتے ہیں نہ ان کی کوئی کھیتی باڑی ہے اور نہ زمین جائدادنہ کسی کارخانہ یا دفتر کے ملازم ہیں کہ وہاں سے اپنا رزق حاصل کریں اور یہ ایک دن کا معاملہ نہیں جب تک وہ زندہ رہتے ہیں روزانہ ان کو پیٹ بھرائی رزق ملتا ہے۔ (معارف) خلاصہ یہ ہے کہ ہجرت سے روکنے والی دوسری شئ فکر معاش ہے مگر یہ انسان کا خام خیال ہے اس لئے اپنے جمع کردہ اسباب معاشی پر بھروسہ کرلینا درست نہیں ہے اس لئے یہ دوسرا خطرہ بھی ہجرت سے مانع نہیں ہونا چاہیے۔ ہجرت سے متعلق الفاظ عام ہونے کی وجہ سے حکم اگرچہ عام ہے مگر آیت کے شان نزول میں مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مومنین کو جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ہم کس طرح مدینہ جائیں نہ وہاں گھر ہے نہ در اور نہ وہاں مال، ہمیں وہاں کون کھلائے گا ؟ تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ مسئلہ : جس شہر یا ملک میں انسان کو اپنے دین پر قائم رہنے کی آزادی نہ ہو، وہ کفر وشرک یا احکام شرعیہ کی خلاف ورزی پر مجبور ہو تو ایسی جگہ سے بشرطیکہ قدرت ہو ہجرت کرنا واجب ہے البتہ اگر قدرت نہ ہو یا کوئی ایسی جگہ میسر نہ ہو کہ وہاں آزادی سے اپنے دین پر عمل کرسکے تو وہ شرعاً معذور ہے۔ مسئلہ : جس جگہ عام احکام دینیہ پر عمل کرنے کی آزادی ہو وہاں سے ہجرت فرض یا واجب تو مگر مستحب ہے، اور اس میں دارلکفر ہونا بھی ضروری نہیں دارلفسق جہاں احکام الہٰیہ کی خلاف ورزی اعلاناً ہوتی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے اگرچہ اس کو دارالاسلام کہا جاتا ہو، یہ تفصیل حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں تحریر فرمائی ہے۔
Ayahs 29:64–69

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے کاش یہ لوگ سمجھتے

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں لیکن جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ سے شرک کرنے لگ جاتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے اور خدا تو نیکوکاروں کے ساتھ ہے

آیت نمبر 64 تا 69 ترجمہ : اور یہ دنیوی زندگی کھیل تماشہ کے سوا کچھ نہیں البتہ عبادت تو یہ امور آخرت میں ظاہر ہونگے اور اصل زندگی دار آخرت ہی کی ہے اگر یہ لوگ اس بات کو سمجھ لیتے تو دینوی زندگی کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے پھر جب یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعا کرتے ہیں یعنی اس کے ساتھ غیر کو نہیں پکارتے اس لئے کہ وہ (اس وقت) ایک عظیم پریشانی میں (مبتلا) ہوتے ہیں اور اس پریشانی کو اس کے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو فوراً ہی اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں تاکہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرتے رہیں اور یہ لوگ بتوں کی بندگی پر مجتمع ہو کر قدرے اور فائدہ اٹھالیں اور ایک قراءت میں وَلْیَتَمَتَّعُوْا کے لام کے سکون کے ساتھ امر تہدیدی ہے ان کو اس کے انجام کا جلدی ہی پتہ چل جائے گا، کیا یہ نہیں جانتے کہ ہم نے مکہ شہر کو امن والا بنادیا اور ان کے اطراف میں دوسرے لوگوں کو قتل و قید کے ذریعہ اچک لیا جاتا ہے کیا یہ لوگ جھوٹے معبودوں (بتوں) پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے ساتھ شریک کرکے اس کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا ؟ یعنی اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں، جو اللہ پر بہتان لگائے بایں طور کہ اس کے ساتھ شرک کرے یا جب اس کے پاس حق یعنی نبی یا کتاب آجائے تو وہ اس کی تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ؟ اور ایسا شخص جہنمیوں میں سے ہے اور جو لوگ خالص ہمارے لئے جہاد کرتے ہیں تو ہم ایسے لوگوں کو ہم تک پہنچانے والے راستے ضرور دکھائیں گے بلاشبہ اللہ تعالیٰ (اپنی) نصرت اور مدد کے ذریعہ محسنین (یعنی) مومنین کے ساتھ ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اللَّھْوُ دینوی لذتوں سے لذت اندوز ہونا، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ لھو لا یعنی چیزوں میں مشغول ہونے کو کہتے ہیں اور اللعب ھو العبث . قولہ : حَیَوَان زندگی، جینا، حَیَوَان حَیِیَ یَحْیٰ (س) کا مصدر ہے اصل میں حَیَیَانٌ تھا، ثانی یا واؤ سے بدل دی گئی ہے یہ حَیَاۃٌ سے زیادہ بلیغ ہے اس لئے کہ فَعَلَانٌ کے وزن میں حرکت اور اضطراب کے معنی ہیں جو لازمۂ حیات ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مقام میں حیات کے بجائے حَیَوَان کا استعمال کیا گیا ہے۔ (لغات القرآن) قولہ : لَوْ کَا نُوْا یَعْلَمُوْنَ ذٰلک۔ ذٰلک یَعلمون کا مفعول ہے لَوْ حرف شرط ہے مَا آثرُوا الدنیا علَیْھَا جواب شرط ہے۔ قولہ : ای الدُّعَاء یہ تعیین معنی کے لئے ہے دین کے چونکہ مختلف معنی آتے ہیں الدعاءُ کے ذریعہ تفسیر کرکے چند معنی میں سے ایک معنی کو متعین کرلیا۔ قولہ : اِذَاھم یشرکون یہ فَلَمَّا کا جواب ہے، مطلب یہ ہے کہ غرق سے نجات پاتے ہی بلاتاخیر شک شروع کردیتے ہیں، لیکفروا میں لام، لامِ کَی ہے اور لِیَتَمَتَّعُوْا کا لِیَکْفُرُوْا پر عطف ہے۔ (تنبیہ) لام کَی کے بجائے اس کو لام عاقبت مانا جائے تو زیادہ مناسب ہے (جمل) ایک قراءت میں لام کے سکون کے ساتھ ہے اس صورت میں لام امر ہوگا دونوں فعلوں میں مگر یہاں یہ شبہ پیدا ہوگا کہ اس سے اللہ کا فعل قبیح کا امر کرنا لازم آتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہیں اور حکیم قبیح شئ کا امر نہیں کرتا، امرُ تھدیدٍ کہہ کر اس سوال کا جواب دیدیا یعنی امر سے مراد امتثال امر نہیں ہے بلکہ تہدید وتوبیخ مراد ہے فَسَوْفَ یعلمون امر کے تہدیدی ہونے کا قرینہ ہے۔ قولہ : وَیُتَخَطَّفُ جملہ حالیہ ہے اور اس سے پہلے ھُمْ مبتداء فی جَھَمَّمَ میں ہمزہ انکار کے لئے ہے اور یہ استفہام تقریری اس لئے ہے کہ لیس حرف نفی ہے جب اس پر ہمزہ انکاری داخل ہوا تو نفی ایجاب ہوگیا، لہٰذا اس میں تقریر کے معنی پیدا ہوگئے، مطلب یہ ہے کہ کافروں کا بلاشبہ ٹھکانہ جہنم ہے۔ تفسیر وتشریح وما۔۔۔ الدنیا (الآیۃ) سابقہ آیات میں مشرکین کا یہ حال مذکورہ ہوا ہے کہ آسمان اور زمین کی پیدائش شمس وقمر کا نظام، بارش برسانے اور اس سے نباتات اگانے کا پورا نظام مشرکین بھی اللہ ہی کے قبضے میں ہونے پر یقین رکھتے ہیں، اس میں کسی بت یا دیوی دیوتا کو شریک نہیں مانتے مگر پھر بھی وہ خدائی میں بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اَکثَرُھم لا یعلموْنَ یعنی ان میں اکثر لوگ ایسے ہیں کہ جو جانتے نہیں ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے، آخر یہ لوگ مجنون یا دیوانے تو نہیں ہیں، ہوشیار اور سمجھ دار ہیں دنیا کے بڑے بڑے کام نخوبی انجام دیتے ہیں، پھر ان کے ناسمجھ ہونے کے کیا معنی ؟ اس کا جواب مذکورہ الصدر آیات سے سابقہ آیات میں یہ دیا گیا ہے کہ دنیا اور اس کی مادی اور فانی لذتوں و خواہشات نفسانی کی محبت نے ان کو آخرت اور انجام میں غور و فکر کرنے سے اندھا کردیا ہے، حالانکہ یہ دنیا کی زندگی لہو ولعب کے سوا کچھ نہیں اور اصلی زندگی جو لافانی اور جاودانی ہے وہ آخرت کی زندگی ہے، مذکورہ آیت میں بھی دنیوی زندگی کو لہو ولعب فرمایا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ جس طرح کھیلوں کا کوئی ثبات وقرار نہیں ہوتا اور نہ ان سے کوئی بڑا مقصد حل ہوتا ہے، تھوڑی دیر کے بعد سب تماشہ ختم ہوجاتا ہے یہی حال اس دنیا کا ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں ان مشرکوں کے قول میں تضاد کو بیان فرمایا گیا ہے جیسے یہ لوگ تخلیق کائنات میں اللہ کو منفرد ماننے کے باوجود اس جہالت کے شکار ہیں کہ بت خدائی میں شریک ہیں اور جب کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو اس مصیبت کے وقت بھی ان کو یہ یقین اور قرار ہوتا ہے کہ اس مصیبت میں کوئی بت ہمارا مدگار نہیں بن سکتا ایسے موقع پر خدائے واحد ہی کو بڑے اخلاص اور یقین کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اس تناقض کو حضرت عکرمہ بن ابی جہل سمجھ گئے تھے جسکی وجہ سے ان کو قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوگئی ان کے بارے میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد یہ مکہ سے فرار ہوگئے تاکہ نبی ﷺ کی گرفت سے بچ سکیں، یہ حبشہ جانے کیلئے ایک کشتی میں سوار ہوئے کشتی گرداب میں پھنس گئی تو کشتی میں سوار لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ پورے خلوص سے رب سے دعائیں کرو اس لئے کہ یہاں اس کے علاوہ کوئی نجات دینے والا نہیں، حضرت عکرمہ نے یہ سن کر کہا کہ اگر یہاں سمندر میں اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں سے سکتا اور اسی وقت اللہ سے عہد کرلیا کہ اگر میں یہاں سے بخریت ساحل پر پہنچ گیا تو میں محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا یعنی مسلمان ہوجاؤں گا، چناچہ یہاں سے نجات پاکر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ (ابن کثیر بحوالہ سیرت محمد بن اسحاق) اولم۔۔۔ حولھم بعض مشرک اپنے شرک و کفر کا ایک عذر یہ بھی بیان کرتے تھے کہ ہم آپ کے دین کو تو حق اور درست مانتے ہیں لیکن اس کی پیروی کرنے اور مسلمان ہوجانے میں ہم اپنی جانوں کا خطرہ محسوس کرتے ہیں، کیونکہ پورا عرب اسلام کے خلاف ہے ہم اگر مسلمان ہوگئے تو باقی عرب ہمیں اچک لیجائیں گے اور مار ڈالیں گے۔ (کماروی عن عباس، روح) اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا یہ عذر بھی لغو ہے کیونکہ اہل مکہ کو تو حق تعالیٰ نے بیت اللہ کی وجہ سے وہ شرف اور بزرگی دی ہے جو دنیا میں کسی مقام کے لوگوں کو حاصل نہیں ہے، حق تعالیٰ نے مکہ کی پوری زمین کو حرم بنادیا عرب کے باشندے مومن ہوں یا کافر سب کے سب حرم کا احترام کرتے ہیں اس میں قتل و قتال ناجائز سمجھتے ہیں، حرم میں انسان تو انسان وہاں کے شکار کو قتل کرنا اور وہاں کے درختوں کو کاٹنا بھی کوئی جائز نہیں سمجھتا، باہر کا کوئی آدمی اگر حرم میں داخل ہوجائے تو وہ بھی قتل سے مامون ہوجاتا ہے تو مکہ مکرمہ کے باشندوں کو اسلام قبول کرنے سے جانوں کا خطرہ بتلانا بھی عذر لنگ ہے۔ والذین۔۔۔ سبلنا جہاد کے اصل معنی دین میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے ہیں، ان میں وہ رکاوٹیں بھی داخل ہیں جو کفار وفجار کی طرف سے پیش آتی ہیں کفار سے مقابلہ اس کا اعلیٰ فرد ہے، اور وہ رکاوٹیں بھی داخل ہیں جو اپنے نفس اور شیطان کی جانب سے پیش آتی ہیں۔ جہاد کی دونوں قسموں پر اس آیت میں یہ وعدہ ہے کہ ہم جہاد کرنے والوں کو اپنے راستوں کی ہدایت کردیتے ہیں یعنی ان کے قلوب کو اسی طرف پھیر دیتے ہیں جس میں ان کے لئے خیرو برکت ہو، حضرت ابوالدرداء نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ کی طرف سے جو علم لوگوں کو دیا گیا ہے، جو لوگ اپنے علم پر عمل کرنے میں جہاد کرتے ہیں ہم ان پر دوسرے علوم بھی منکشف کردیتے ہیں، جواب تک حاصل نہیں تھے، اور فضیل بن عیاض نے فرمایا کہ جو لوگ طلب علم میں کوشش کرتے ہیں ہم ان کے لئے عمل بھی آسان کردیتے ہیں۔ (مظھری) تم بحمداللہ