28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 28:1–13

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

(اے محمد) ہم تمہیں موسیٰ اور فرعون کے کچھ حالات مومن لوگوں کے سنانے کے لئے صحیح صحیح سناتے ہیں

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

کہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا ان میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور انکی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا بیشک وہ مفسدوں میں تھا

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دئیے گئے ہیں ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھیں (ملک کا) وارث کریں

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ملک میں انکو قدرت دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر کو وہ چیز دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو دودھ پلاؤ جب تم کو اس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ تو خوف کرنا اور نہ رنج کرنا ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر) اسے پیغمبر بنادیں گے

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ ان کا دشمن اور (انکے لئے موجب) غم ہو بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر چوک گئے

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا شاید کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ (انجام سے) بیخبر تھے

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کردیتے تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس کی بہن نے کہا کہ اسکے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان (لوگوں) کو کچھ خبر نہ تھی

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر (دائیوں کے) دودھ حرام کر دئیے تھے تو موسیٰ کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمہارے لئے اس (بچے) کو پالیں اور اسکی خیر خواہی (سے پرورش) کریں

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

تو ہم نے (اس طریق سے) ان کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا کہ انکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور معلوم کریں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن یہ اکثر نہیں جانتے

آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا یعنی زندہ باقی رکھتا تھا، بعض کاہنوں کے اس سے یہ کہنے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ملک کے خاتمہ کا سبب بنے گا، بلاشبہ وہ قتل وغیرہ کی وجہ سے تھا ہی مفسدوں میں سے اور ہماری مشیئت کا تقاضہ یہ ہوا کہ ہم ان پر احسان فرمائیں جن کو ملک میں کمزور کر رکھا تھا اور ہم ان کے پیشوا بنائیں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ہمزۂ ثانی کا یا سے بدل کر، تاکہ خیر میں ان کی اقتداء کی جائے اور ہم ان کو فرعون کے ملک کا وارث بنائیں اور یہ کہ ہم ان کو ملک مصر و شام میں قدرت (اختیار) عطا فرمائیں اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکر کو اور ایک قرأت میں یَریٰ یا را کے فتحہ کے ساتھ ہے اور تینوں اسموں (فرعون، ہامان، جنودُ ہما) کے رفع کے ساتھ بنی اسرائیل کی طرف سے وہ دکھائیں جس سے وہ ڈر رہے تھے وہ (فرعونی) اس بچہ سے خوف زدہ تھے جس کے ہاتھوں ان کے ملک کی بربادی مقدر تھی اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کی جانب الہامی یا منامی وحی بھیجی اور (موسیٰ ) ہی وہ ولد مذکور ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا علم سوائے ان کی بہن کے کسی کو نہیں ہوا کہ اس کو دودھ پلاتی رہ اور جب تجھے اس کے بارے میں کوئی خوف معلوم ہو تو اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا اور نہ اس کے غرق کا اندیشہ کرنا اور نہ اس کی جدائی کا غم کرنا ہم یقیناً اس کو تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے اپنے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو تین ماہ تک (ان کی والدہ) دودھ پلاتی رہی کہ موسیٰ (علیہ السلام) روتے (بھی) نہیں تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر (جب) ذبح کا اندیشہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک اندر سے روغن زقت (تارکول) لگے ہوئے اور بچھونی بچھے ہوئے تابوت میں رکھ دیا اور اس کو بند کردیا اور رات کے وقت دریائے نیل میں ڈال دیا تو اسی رات کی صبح تابوت کو آل فرعون یعنی اس کے خدام نے اٹھا لیا بعد ازاں تابوت کو فرعون کے سامنے رکھ کر کھولا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو تابوت سے نکالا درآنحالیکہ وہ اپنے انگوٹھے سے دودھ پی رہے تھے تاکہ انجام کار یہی بچہ ان کا دشمن ہوجائے کہ قبطیوں کے مردوں کو قتل کرے اور رنج کا باعث بنے ان کی عورتوں کو باندی بنائے اور ایک قرأت میں حَزْنًا میں حا کے ضمہ اور زاء کے سکون کے ساتھ ہے مصدر (حزنًا) میں یہ دو لغت ہیں، اور مصدر یہاں اسم فاعل کے معنی میں ہے اور حَزَنًا حَزِنَہ (س) سے ہے اور معنی میں اَحْزَنَہٗ کے ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ فرعون اور اس کا وزیر ہامان اور ان دونوں کا لشکر خطا کار تھے (خٰطِئِیْنَ ) خطِیْۃ سے مشتق ہے اور معنی نافرمانی کرنے والے کے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کرلیا تھا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرو ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنالیں چناچہ ان لوگوں نے اس کی بات مان لی اور یہ لوگ اس کے ساتھ اپنے انجام کا شعور ہی نہیں رکھتے تھے (ادھر) موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بےقرار ہوگیا اس کو معلوم ہوا کہ موسیٰ کو فرعون نے اٹھا لیا، یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے سواء اس کے دل میں کوئی بات نہ رہی، اِنْ یہ اِنّ سے مخفف ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنَّھَا قریب تھیں کہ وہ اس بات کو ظاہر کردیں کہ وہ میرا بیٹا ہے اگر ہم اس کے دل کو صبر کے ذریعہ قوی نہ کرتے یعنی اگر ہم اس کے دل کو تسلی نہ دیتے، تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے یعنی اللہ کے وعدہ کی تصدیق کرنے والوں میں رہے، اور لولا کے جواب پر لولا کا ماقبل (لَتُبْدِیْ ) دلالت کر رہا ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے موسیٰ کی بہن مریم سے کہا تو ذرا موسیٰ کا سراغ تو لگا یعنی اس کے پیچھے پیچھے جاتا کہ تو اس کے حال سے باخبر رہے تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی یعنی دور سے خفیہ طور پر دیکھتی رہی اور فرعونیوں کو اس بات کی خبر بھی نہ ہوئی کہ وہ اس کی بہن ہے اور اس کی نگرانی کر رہی ہے اور ہم نے پہلے ہی یعنی ان کے اپنی والدہ کے پاس لوٹنے سے پہلے ہی دودھ ہلانے والوں کی بندش کر رکھی تھی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی والدہ کے علاوہ کسی بھی اَنأ کے پستان قبول کرنے سے منع کردیا تھا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بلائی گئی انّاؤں میں سے کسی کی پستان کو قبول نہیں کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے جب موسیٰ پر ان کی شفقت کو دیکھا تو کہا کیا میں تم کو ایسے گھرانے کی نشاندہی کردوں کہ جو تمہارے لئے اس بچہ کی دودھ وغیرہ پلا کر پرورش کر دے ؟ اور وہ اس کے خیرخواہ بھی ہو اور مریم نے لہٗ کا ضمیر کا مرجع ان کے سوال کے جواب میں بادشاہ بنادیا، چناچہ مریم کا مشورہ مان لیا گیا، پھر تو وہ اپنی ماں کو بلا لائی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدی کی پستاوں کو قبول کرلیا، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدی نے موسیٰ کے اس کی پستانوں کو قبول کرنے کی وجہ سے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ عمدہ خوشبو والی اور عمدہ دودھ والی عورت ہے چناچہ ان کو اپنے گھر لیجا کر موسیٰ کو دودھ پلانے کی اجازت دیدی گئی، چناچہ موسیٰ کی والدہ موسیٰ (علیہ السلام) کو لیکر واپس چلی آئیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں موسیٰ کی ملاقات سے ٹھنڈی ہوں اور تاکہ اس وقت (فراق) کے غم میں نہ رہیں اور تاکہ جان لیں کہ بچہ کو ان کے پاس لوٹانے کا اللہ کا وعدہ سچ ہے لیکن اکثر لوگ اس وعدہ کے بارے میں نہیں جانتے اور نہ یہ بات جانتے ہیں کہ یہ اس کی بہن ہے اور یہ اس کی ماں ہے، موسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدی کے پاس دودھ چھڑانے تک رہے اور (فرعون نے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے لئے دودھ پلائی کی اجرت ایک دینار یومیہ مقرر کردی اور حضرت موسیٰ کی والدہ نے اس اجرت کو لے لیا اس لئے کہ حربی کا مال تھا پھر موسیٰ کو ان کی والدہ فرعون کے پاس لے آئیں، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس تربیت پاتے رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حکایت بیان کرتے ہوئے سورة شعراء میں ارشاد فرمایا اَلَمْ نُرَبِّکَ فینَا ولِیْدًا ولَبِثْتَ فینَا من عمرک سنین۔ ترکیب، تحقیق و تفسیری فوائد نَتْلُوْا عَلَیْکَ ای بواسطۃِ جبرائِیْلَ مِنْ نَبَاٍ خبر موسیٰ وفرعونَ بالحقِّ مِنْ تبعیضیہ ہے ای نتلوا علیک بعض نَبَأَ موسیٰ نتلوا کا مفعول محذوف بھی ہوسکتا ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی، نتلوا علیک شیئاً من نَبَأ موسٰی بقول اخفش مِنْ زائدہ بھی ہوسکتا ہے ای نَتْلُوْا عَلَیْکَ نَبَأ موسیٰ ۔ قولہ : بالحقِّ یہ نتلوا کی ضمیر فاعل سے حال ہے ای حال کوننا ملتَبِسِیْنَ بالصدقِ یا نَتْلُوْا کے مفعول سے حال ہے ای کون الخبر ملتبسًا بالصدق۔ قولہ : لاجلھم یہ اشارہ ہے کہ لقوم میں لام تعلیہ ہے اور نتلوا سے متعلق ہے یعنی مقصود بالذکر مومنین ہیں اس لئے کہ وہی اس سے منتفع ہوتے ہیں۔ قولہ : اِنّ فرعون علا یہ جملہ مستانفہ ہے، گویا کہ یہ سوال کیا گیا کہ موسیٰ و فرعون کا کیا قصہ تھا، تو جواب دیا اِنّ فرعونَ علیٰ ۔ قولہ : یذبّحُ ابناءھم یہ یُسْتضعفُ سے بدل ہے لقول بعضِ الکَھَنَۃِ یہ یذبح کی علت ہے۔ قولہ : نُمَکِّنَ لھُمْ فی الاَرْضِ ای نُسَلِّطُھُمْ علی مصر والشام۔ قولہ : نُرِیَ فرعون اور اس کے معطوفات نُرِیَ کا مفعول اول ہے ومَا کانُوْا یحذَرُوْنَ مفعول ثانی، جنودھما میں اضافت تغلیباً ہے یعنی لشکراگرچہ فرعون کا تھا اور ہامان اس کا وزیر تھا اور بادشاہ کے لشکر کو تغلیباً ہامان کا کہہ دیا گیا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہامان کا بھی کوئی مخصوص لشکر ہو اور ایک قرأت میں یَرَیٰ ہے اس صورت میں تینوں اسماء فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہوں گے۔ قولہ : الیٰ ام موسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ محترمہ کے نام میں اختلاف ہے بعض حضرات یُوْحانِذْ بتاتے ہیں اور قرطبی نے ثعلبی سے نقل کیا ہے کہ ان کا نام لوخابنت ہانذ بن لاوی بن یعقوب ہے اس کے علاوہ اور اقوال بھی مذکور ہیں۔ قولہ : اَنْ اَرْضِعِیْہِ اَنْ تفسیریہ اور مصدریہ دونوں ہوسکتے ہیں۔ قولہ : ولاَ تخافِی غرقہٗ اوپر کہا گیا تھا فاِذَا خفت علیہ اور یہاں کہا جا رہا ہے لاتخافی دونوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے، یہ تعارض لاتَخَافِیْ کی تفسیر غَرْقہ سے کرنے کی وجہ سے دفع ہوگیا فاذا خفت میں ذبح کا خوف مراد ہے اور لاَ تَخَافِیْ میں غرق کے خوف کی نفی ہے لہٰذا کوئی تعارض نہیں ہے القار سیاہ سیال مادہ جو کشتی وغیرہ میں لگایا جاتا ہے تاکہ پانی اثر نہ کرے جیسے تارکول وغیرہ۔ قولہ : مُمَھَّدٍ یہ تابوت کی صفت ثانیہ ہے صفت اولیٰ مطلیّٰ ہے، یعنی تابوتِ خشبی میں تارکول مل دیا تاکہ پانی اثر نہ کرے اور اس میں دھنی ہوئی روئی بچھا دی تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف نہ ہو مُمَھَّدْ بچھایا ہوا۔ قولہ : فی عاقبۃ الامر اس سے اشارہ کردیا کہ لیکونَ میں لام عاقبت کے لئے ہے نہ کہ علت کے لئے اس لئے کہ اٹھاتے وقت تو مقصد ابن بنانا تھا جو ان ہونے کے بعد فرعون اور فرعونیوں کے لئے سبب رنج و غم ہوئے۔ قولہ : اِنّ فرعونَ وھامان الخ یہ معطوف علیہ فلتقطہٗ آلُ فرعون اور معطوف وقالت امرأۃ فرعون کے درمیان جملہ معترضہ ہے (جمل) ۔ قالت امرأۃ فرعون فرعون کی بیوی کا نام آسیہ بنت مزاحم بن عبید بن الریان بن الولید۔ قولہ : ھو قرۃ عین لی ولک ھو مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ قرۃ عینٍ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ قولہ : لَوْلاَ اَنْ رَّبَطْنَا الخ لولا کا جواب محذوف ہے جس پر لولا کا ماقبل یعنی لَتُبْدِیْنَ دلالت کر رہا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے لو لا اَنْ رَّبَطْنَا علیٰ قَلْبِھَا لَاَبَدَتْ اَنہ اِبْنُھا۔ قولہ : وَھُمْ لا یشعرونَ یہ جملہ آل فرعون سے حال ہے۔ قولہ : لاختہ مریم مریم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقی بہن ہیں بعض حضرات نے مریم کے بجائے کلثمہ اور کلثوم بھی ذکر کیا ہے، والدہ کا نام یوحانذ اور والد کا نام عمران ہے مگر یہ عمران حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ مریم کے والد عمران کے علاوہ ہیں اس لئے کہ دونوں عمرانوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو سال کا فاصلہ ہے (جمل) قولہ : من کانٍ بعیدٍ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جُنُبٌ موصوف محذوف کی صفت ہے ای عن مکان بعیدٍ اختلاسًا ای اختفاءً ۔ حَرَّمْنَا علیہِ المَرَاضِعَ حَرَّمْنَا ای مَنَعْنَا تحریم سے مجازاً منع کرنا مراد ہے اس لئے یہاں تحریم کے شرعی معنی مراد لینا صحیح نہیں ہیں کیونکہ بچہ تکالیف شرعیہ کا مکلّف نہیں ہوتا، مَرَاضِع مُرْضِعٌ کی جمع ہے چونکہ دودھ پلانا عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے اسی لئے ۃ کو ترک کردیا گیا ہے جیسے حائض میں۔ (روح المعانی) تفسیر و تشریح سورة قصص اس کو سورة موسیٰ بھی کہا جاتا ہے، یہ مکی سورتوں میں سب سے آخری سورت ہے جو ہجرت کے وقت مکہ مکرمہ اور حجفہ (رابغ) کے درمیان نازل ہوئی، آپ ﷺ نے غار ثور سے نکلنے کے بعد کفار مکہ کے خوف کی وجہ سے معروف راستہ ترک کرکے غیر معروف راستہ اختیار فرمایا تھا جب غیر معروف راستہ حجفہ (رابغ) کے قریب مکہ جانے والے معروف راستہ میں جا کر ملا تو آپ کو اپنا وطن مالوف مکہ یاد آگیا، اس وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور آپ سے فرمایا کہ اے محمد کیا آپ ﷺ کو اپنا وطن جن میں آپ پیدا ہوئے یاد آرہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں یاد آرہا ہے، اس پر جبرائیل امین نے قرآن کی یہ سورت سنائی جس کے آخر میں آپ کو اس بات کی بشارت ہے کہ انجام کار مکہ مکرمہ فتح ہو کر آپ ﷺ کے قبضہ میں آئے گا وہ آیت یہ ہے اِنّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ القُرْآنَ لَرَادُّکَ اِلیٰ مَعَادٍ سورة قصص میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان ہوا ہے اول اجمالاً اور پھر تفصیلاً نصف سورت تک موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون کا قصہ بیان ہوا ہے اور آخر سورت میں موسیٰ (علیہ السلام) اور قارون کا قصہ بیان ہوا ہے اس سورت کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سورت نہ مکی ہے اور نہ مدنی بلکہ مقام حجفہ میں نازل ہوئی جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ہے۔ قرآن کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو صحیح صحیح اس کی جزئیات کے ساتھ بیان کرنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ وحی الٰہی کے بغیر ہزاروں سال قبل کے واقعات کو بالکل اسی طرح بیان کردینا جس طرح پیش آئے تھے ناممکن ہے، فرعون نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا اور خود بڑا معبود کہلاتا تھا بنی اسرائیل کو نہایت ذلت و مشقت میں مبتلا کر رکھا تھا جتنے بھی مشقت اور ذلت کے کام تھے وہ بنی اسرائیل سے لئے جاتے تھے حتی کہ بنی اسرائیل کے نو مولود لڑکوں کو قتل کرا دیتا تھا اور خدمت گزاری کے لئے لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا جس کی وجہ بعض نجومیوں کی یہ پیشین گوئی تھی کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ایک بچہ کے ہاتھوں فرعون کی ہلاکت اور اس کی سلطنت کا خاتمہ ہوگا، جس کا حل فرعون نے یہ نکالا کہ پیدا ہونے والے ہر اسرائیلی بچے کو قتل کردیا جائے، حالانکہ اس احمق نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کاہن سچا ہے تو ایسا یقیناً ہو کر رہے گا اور اگر وہ جھوٹا ہے تو قتل کروانے کی ضرورت ہی نہیں (فتح القدیر) ونکمن لھم فی الارض سے ارض شام مراد ہے جہاں بنی اسرائیل کنعانیوں کی زمین کے وارث ہوئے کیونکہ بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کے بعد مصر آنا ثابت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) واوحینا الی ام موسیٰ یہاں وحی سے مراد دل میں بات ڈالنا ہے نہ کہ وحی رسالت، مطلب یہ ہے کہ تو بےخوف خطر بچہ کو دریائے نیل میں ڈال دے اور اس کے ڈوبنے یا ضائع ہوجانے کا خوف نہ کر اور نہ اس کی جدائی کا غم، ہم یقیناً اسے تیری طرف لوٹا دیں گے اور ہم اسے پیغمبر بنانے والے ہیں جب ذبح و قتل کا سلسلہ زیادہ ہوا تو فرعون کی قوم کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں بنی اسرائیل کی نسل ہی ختم نہ ہوجائے جس کے نتیجے میں محنت و مشقت کے کام ہمیں خود کرنے پڑیں، اس اندیشہ کا ذکر انہوں نے فرعون سے کیا، جس پر نیا حکم جاری کردیا گیا کہ ایک سال بچے قتل کئے جائیں اور ایک سال چھوڑ دئیے جائیں، حضرت ہارون (علیہ السلام) اس سال پیدا ہوئے جو بچوں کے قتل کا سال نہیں تھا، اور موسیٰ (علیہ السلام) قتل کے سال پیدا ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا سامان اس طرح پیدا فرمایا کہ اول تو ان کی والدہ پر حمل کے آثار ظاہر نہیں ہوئے کہ جس سے وہ فرعون کی چھوڑی ہوئی دائیوں کی نظر میں آجائیں اس لئے ولادت کا مرحلہ تو خاموشی کے ساتھ گزر گیا، لیکن ولادت کے بعد قتل کا خطرہ موجود تھا، جس کا حل خود اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو سمجھا دیا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے ان کو ایک تابوت میں بند کرکے دریائے نیل میں ڈال دیا (ابن کثیر) یہ تابوت بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا جو لب دریا ہی تھا اور فرعون کے نوکر چاکروں نے نکال لیا۔ لیکون لھم عدوا وحزنا میں لام عاقبت کے لئے ہے یعنی انہوں نے تو اسے اپنا بچہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنا کرلیا تھا نہ کہ دشمن سمجھ کر، لیکن انجام ان کے فعل کا یہ ہوا کہ وہ بچہ ان کا دشمن اور رنج و غم کا باعث ثابت ہوا، اِن فرعون وھامان وجنودھما کانوا خٰطِئینَ یہ جملہ ماقبل کی تعلیل ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے لئے دشمن کیوں ثابت ہوئے اس لئے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطاکار تھے۔ قالت امرأت فرعون الخ یہ اس وقت کہا جب تابوت میں ایک حسین و جمیل بچہ انہوں نے دیکھا بعض کے نزدیک یہ اس وقت کا قول ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی ڈاڑھی کے بال نوچ لئے تھے تو فرعون نے اس کے قتل کا حکم دیدیا تھا (ایسر التفاسیر) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمشیرہ نے جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نگرانی پر مامور تھیں اور پیچھے پیچھے احتیاط کے ساتھ دور دور چل رہی تھیں جب دیکھا کہ تابوت محل کی طرف مڑ گیا اور فرعون کے خدام نے نکال لیا تو صورت حالی کی خبر کہ یہ اس کا بچہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کرتے تو راز کا افشا کر دیتیں، مگر ہماری توفیق سے موسیٰ کی والدہ نے صبر سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ بھی یاد آگیا جس میں موسیٰ کو صحیح سلامت واپس لوٹانے کے لئے فرمایا تھا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی قدرت تکوینی کے حکم سے موسیٰ کو اپنی ماں کے علاوہ کسی اور انّا کا دودھ پینے سے روکدیا، چناچہ بسیار کوشش کے باوجود کوئی انا انہیں دودھ پلانے اور چپ کرانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ یہ منظر موسیٰ کی بہن مریم بڑی خاموشی سے دیکھ رہی تھیں بالآخر بول پڑیں کہ میں تمہیں ایسا گھرانا بتادوں کہ جو تمہارے لئے اس بچہ کی پرورش کر دے، چناچہ فرعونیوں نے حضرت موسیٰ کی ہمشیرہ مریم سے کہا کہ جا اس عورت کو لے چناچہ مریم اپنی ماں کو جو موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی ماں تھیں بلا لائی، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کا دودھ پی لیا تو فرعون نے موسیٰ کی والدہ سے محل ہی میں رہنے کی استدعا کی تاکہ بچہ کی صحیح پرورش اور تربیت ہوسکے، لیکن موسیٰ کی والدہ نے بےاعتنائی اور خود داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں خاوند اور بچوں کو چھوڑ کر یہاں نہیں رہ سکتی بالآخریہ طے پایا کہ بچے کہ وہ اپنے ساتھ لیجائیں، اور وہیں اس کی پرورش کریں اور اسکی اجرت انہیں شاہی خزانے سے دیدی جائے، سبحان اللہ اللہ کی قدرت دودھ اپنے بچہ کو پلائیں اور اجرت فرعون سے وصول کریں، رب العالمین نے موسیٰ کو واپس لوٹانے کا وعدہ کس احسن طریقہ سے پورا فرمایا۔
Ayahs 28:14–21

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ جوانی کو پہنچے اور بھرپور (جوان) ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عنایت کیا اور ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بیخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے ہیں ایک تو موسیٰ کی قوم کا ہے اور دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تو جو شخص انکی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسیٰ کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰ سے مدد طلب کی تو انہوں نے اسکو مکا مارا اور اس کا کام تمام کردیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے انکو بخش دیا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں گا

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو تو صریح گمراہ ہے

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑلیں تو وہ (یعنی موسیٰ کی قوم کا آدمی) بول اٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا (اسی طرح) چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو ! تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے کہ نیکو کاروں میں ہو

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا کہ موسیٰ (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ میں تمہارا خیر خواہ ہوں

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

موسیٰ وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے اور) دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے

آیت نمبر 14 تا 21 ترجمہ : اور موسیٰ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گئے اور وہ تیس یا تینتیس سال ہیں اسور توانا اور تندرست ہوگئے یعنی چالیس سال کے ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا یعنی نبی بنائے جانے سے پہلے ہی ان کو حکمت اور دین کی سمجھ عطا کی اور ہم اسی طرح جیسا کہ موسیٰ کو جزاء دی اپنے اوپر احسان کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں اور موسیٰ شہر میں یعنی فرعون کے شہر میں جس کا نام مُنُفُ تھا ایک مدت غائب رہنے کے بعد ایسے وقت میں داخل ہوئے کہ شہر کے لوگ قیلولہ کے وقت غافل تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک تو اس کی برادری کا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا اس کے دشمن کی برادری کا یعنی قطبی تھا (قبطی) اسرائیلی کو اس بات پر مجبور کر رہا تھا کہ وہ لکڑیوں کو فرعون کے مطبخ لے چلے جو موسیٰ کی برادری کا تھا اس نے اس شخص کے خلاف کہ جو ان کے مخالفین میں سے تھا موسیٰ سے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی سے کہا تو اس کو چھوڑ دے (جانے دے) کہا گیا ہے کہ اس قبطی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا میں ارادہ کرچکا ہوں کہ لکڑیاں تیرے سر پر رکھ دوں جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی کو ایک گھونسلہ مار دیا یعنی ہاتھ بند کرکے مکا مار دیا موسیٰ (علیہ السلام) بہت قوی اور سخت گرفت والے تھے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی کو قتل کردیا حالانکہ اس کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا، اور اس کو ریت میں دفن کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ قتل شیطانی حرکت ہوگئی جو میرے غصہ کو بھڑکانے والا ہے بلاشبہ شیطان انسانوں کا کھلا دشمن ہے غلطی میں ڈال دیتا ہے نادم ہو کر عرض کیا اے میرے پروردگار میں نے قبطی کو قتل کرکے خود اپنے اوپر ظلم کرلیا آپ مجھے معاف فرما دیں اللہ نے ان کو معاف کردیا، بلاشبہ وہ غفور و رحیم ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان دونوں صفات کے ساتھ ازلاً وابداً متصف ہیں، موسیٰ کہنے لگے اے میرے رب میرے اوپر تیرے مغفرت کا انعام فرمانے کے صدقہ میں میری حفاظت فرما اگر تو نے میری حفاظت کی تو میں آئندہ مجرمین کا مددگار نہ بنوں گا پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے خوف و دہشت کی حالت میں صبح کی یہ انتظار کرتے ہوئے کہ مقتول کی جانب سے ان کو کیا (معاملہ) پیش آتا ہے، تو اچانک (کیا دیکھتے ہیں) کہ وہی شخص جس نے گزشتہ کل موسیٰ سے مدد چاہی تھی ایک دوسرے قبطی کے خلاف موسیٰ کو (مدد کے لئے) پکار رہا ہے تو موسیٰ فرمانے لگے بیشک تو ہی صریح بدراہ ہے، اپنی اس حرکت کی وجہ سے جو تو نے کل اور آج کی چناچہ جب موسیٰ نے اس شخص کی طرف ہاتھ بڑھایا جو دونوں کا دشمن تھا یعنی موسیٰ اور اسرائیلی کا اَنْ زائدہ ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فریادی (اسرائیلی) سے اِنّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ کا جملہ کہا تو فریادی نے یہ سمجھتے ہوئے کہ (شاید آج) وہ میری گرفت کریں گے کہنے لگا اے موسیٰ کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کردیا تھا مجھے بھی قتل کرنا چاہتا ہے بس تم دنیا میں اپنا زور بٹھلانا چاہتے ہو صلح کرانا نہیں چاہتے چناچہ قبطی نے جب یہ بات سنی تو سمجھ گیا کہ (کل کا) قاتل موسیٰ ہے چناچہ قبطی نے فرعون کے پاس پہنچ کر اس کی خبر کردی تو فرعون نے جلا دوں کو موسیٰ کے قتل کا حکم صادر کردیا چناچہ جلاد اس کی طرف روانہ ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آل فرعون کا ایک مومن شخص شہر کے پرے کنارے سے دوڑتا ہوا یعنی جلا دوں کی بہ نسبت مختصر راستہ سے تیزی سے چلتا ہوا آیا (اور) کہنے لگا اے موسیٰ فرعون کی قوم کے سردار تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں لہٰذا تو شہر سے نکل جا اور میں خروج کے مشورہ کے معاملہ میں تیرا خیر خواہ ہوں پس موسیٰ وہاں سے خوف زدہ ہو کر تلاش کرنے والوں کے پہنچنے (کا اندیشہ کرتے ہوئے) یا اللہ کی مدد کا انتظار کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے کہنے لگے اے میرے پروردگار تو مجھے ظالم قوم یعنی فرعون کی قوم سے بچالے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیر فوائد قولہ : وَاسْتَوٰی ای بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سنۃً مفسر علام اگر اِسٌتَویٰ کی تفسیر انتھیٰ شبابہ و تکامل عقلہ سے فرماتے تو زیادہ ظاہر اور مناسب ہوتا، اس لئے کہ مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں دس سال قیام کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مصر کی واپسی ہوئی اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر چالیس کی تھی اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قیام مصر میں تیس سال رہا اور اگر مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قیام چالیس سال مان لیا جائے جیسا کہ مفسر علام نے فرمایا ہے تو مدین سے واپسی کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر پچاس سال ہونی چاہیے حالانکہ صراحت کے خلاف ہے۔ قولہ : مُنْفُ اسی شہر کا نام ہے جہاں فرعون رہتا تھا یہ علمیت اور عجمہ یا علمیت اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہے اسی شہر کو منوف بھی کہتے ہیں فقَضَی علَیْہِ یہ اَوْقَعَ القضاء کے معنی میں ہونے کی وجہ سے متعدی بعلی ہے۔ قولہ : وَلَمْ یکن قصدہ یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے خلاف شرع ایسی جرأت کیوں کی کہ ایک غیر واجب القتل شخص کو قتل کردیا ؟ جواب یہ ہے کہ یہ قتل خطا تھا، اب رہا اس قتل پر استغفار تو یہ حسنات الابرار سیئات المقربین کے قبیل سے تھا۔ قولہ : ھٰذا ای قتلہ ای قتلہ کہہ کر ھٰذا کے مشار الیہ کی طرف اشارہ کردیا کہ مراد فعل قتل ہے اور بعض حضرات نے ھٰذا کا مشار الیہ فعل مقتول کو قرار دیا ہے یعنی مقتول کا فعل یعنی قبطی کا اسرائیلی پر زور زبردستی کرنا یہ فعل شیطانی عمل تھا جو کہ قابل مواخذہ تھا اور بعض حضرات نے ھٰذا کا مشار الیہ خود قبطی کو قرار دیا ہے یعنی قبطی خود شیطانی لشکر اور اس کی جماعت کا فرد تھا، اور موسیٰ (علیہ السلام) کا اِنِّی ظلمتُ نفسی فرمایا تواضع اور کسر نفسی کے طور پر تھا۔ قولہ : قَالَ رَبِّ بِمَا اَنْعَمْتَ بِحَقِّ اِنْعَامِکَ عَلَیَّ مفسر علام نے بِمَا اَنْعَمْتَ کی تفسیر بحق انعامک سے کرکے دو باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے اول یہ کہ ما مصدر یہ ہے یعنی اَنْعمتَ بمعنی انعامک ہے اور کلام حذف مضاف کے ساتھ ہے ای بحق انعامک اور تیسری بات یہ کہ اِعْصِمْنِیْ محذوف مان کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ بِحَقِّ جار با مجرور اِعْصِمْنِیْ محذوف کے متعلق ہے تقدیر عبارت یہ ہے اِعْصِمْنِیْ بِحَقِّ اِنْعَامِکَ عَلَیَّ بِالمَغفرۃ۔ قولہ : فَلَنْ اکونَ ظَھِیٌرًا للمجرمِیْنَ یہ جملہ شرط محذوف کا جواب ہے تقدیر عبارت یہ ہے اِنْ اعْصَمْتَنِیْ فَلَنْ اَکُوْنَ ظھیراً للمجرمین۔ قولہ : بعد ھٰذہ ای بعد ھٰذہ السرۃ مفسر علام کا مجرمین کی تفسیر کافرین سے کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا اس لئے کہ اس تفسیر کے مطابق اسرائیلی کا کافر ہونا لازم آتا ہے بہتر ہوتا ہے کہ مجرمین کو علی حالہ رہنے دیتے۔ (جمل ملخصاً ) ۔ قولہ : فَاَصْبَحَ فی المدینۃ خائفاً یترقب مدینہ سے وہی شہر مراد ہے جس میں قبطی مقتول ہوا تھا۔ قولہ : خائفاً یہ اصبح کی خبر ہے اور فی المدینۃ اس کے متعلق ہے اور یَتَرَقَّبُ کا مفعول محذوف ہے ای یَتَرَقَّبُ المکروۃ، او الفرج، او الخبر، ھل وصل لفرعون ام لا یعنی یَتَرَقَّبُ کے مختلف مفعول محذوف ہوسکتے ہیں جیسا کہ اوپر ظاہر کر دئیے گئے ہیں۔ قولہ : اِذَا الَّذِیْ اِذا مفاجاتیہ ہے اَلَّذِیْ موصول استنصرہ اس کا صلہ موصول صلہ سے مل کر موصوف محذوف الاسرائیلی کی صفت موصوف صفت سے مل کر مبتداء یَسْتَصْرِخُہٗ خبر، بِالاَمْسِ متعلق ہے استنصرہ کے، تقدیر عبارت یہ ہے اِذَا الإسرائیلی الذی استَنْصَرَہٗ بالامسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ۔ قولہ : یَسْعٰی رَجُکٌ کی صفت ہے یَسْعٰی رجل سے حال بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ رجُلٌ من اقصی المدینۃِ سے متصف ہونے کی وجہ سے معرفہ ہوگیا جس کی وجہ سے رجل کا ذوالجلال بننا درست ہے الْمَلَأُ اسم جمع شریف یا سرداروں کی جماعت یَاتَمِرُوْنَ ایتمار (افتعال) سے جمع مذکر غائب وہ مشورہ کر رہے ہیں اِیَّاہ الضمیر راجع الی موسیٰ ۔ تفسیر و تشریح ولم بلغ۔۔۔۔۔ أشد کے لفظی معنی قوت و شدت کے انتہاء پر پہنچنا ہے یعنی انسان بچپن کے ضعف سے بتدریج قوت و شدت کی طرف بڑھتا ہے، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کے وجود میں جتنی قوت و شدت آسکتی تھی وہ پوری ہوجاتی ہے، اس وقت کو اشد کہا جاتا ہے، اور یہ زمین کے خطوں اور قوموں کے مزاج کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، کسی کا اشد کا زمانہ جلدی آتا ہے اور کسی کا دیر میں، لیکن حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد سے بروایت عبد بن حمید یہ منقول ہے کہ اشد عمر کے تینتیس سال میں ہوتا ہے اسی کو سن کمال یا سن وقوف کہا جاتا ہے جس میں بدن کا نشو و نما ایک حد پر پہنچ کر رک جاتا ہے اس کے بعد چالیس سال تک وقوف کا زمانہ ہے اسی کو استویٰ کہتے ہیں، چالیس سال کے بعد انحطاط اور ضعف شروع ہوجاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اشد تینتیس سال کی عمر سے شروع ہو کر چالیس سال تک رہتا ہے۔ (روح و قرطبی بحوالہ معارف) خازن نے کہا ہے کہ اشد اٹھارہ سال سے تیس سال تک ہوتا ہے۔ اتیناہ حکما وعلما بعض حضرات نے حکماً و علماً سے حکمت اور تفقہ فی الدین مراد لیا ہے اور یہ دونوں چیزیں قبل البعثت عطا کی گئیں، اور بعض کے نزدیک حکم سے مراد نبوت و رسالت ہے اور علم سے احکام شرعیہ کا علم ہے وَدَخَلَ موسیٰ المدینۃ علیٰ حینِ غفلۃٍ من اھلھا مدینہ سے مراد شہر مصر (منف) ہے اور غفلت کے وقت سے بعض حضرات نے دوپہر کا وقت مراد لیا ہے جبکہ لوگ قیلولہ کرتے ہوتے ہیں اور بعض نے مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت مراد لیا ہے مگر اول راجح ہے، دَخَلَ المدینۃ سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ کہیں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ قال رب انی ظلمت نفسی الخ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اس قبطی کافر کا قتل جو موسیٰ (علیہ السلام) سے بلا ارادہ صادر ہوگیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قتل خطاء کو بھی حسنات الابرار سیئات المقربین کے قاعدہ سے جرم عظیم سمجھ کر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ سوال : یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کافر قبطی شرعی اصلاح کے اعتبار سے حربی تھا جس کا قتل عمداً و قصداً بھی مباح تھا کیونکہ یہ نہ کسی اسلامی حکومت کا ذمی تھا اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کا اس سے کوئی معاہدہ تھا، پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قتل خطا کو عمل شیطان اور گناہ کیوں قرار دیا، اس کا قتل تو بظاہر موجب اجر ہونا چاہیے تھا، کہ ایک مسلمان پر ظلم کر رہا تھا اس کو بچانے کے لئے یہ قتل واقع ہوا۔ جواب : جواب یہ ہے کہ معاہدہ جیسے قولی اور تحریری ہوتا ہے جس کی خلاف ورزی عہد شکنی اور غداری سمجھی جاتی ہے، اسی طرح معاہدہ عملی بھی ایک قسم کا معاہدہ ہی ہوتا ہے، اس کی بھی پابندی لازمی اور خلاف ورزی عہد شکنی کے مرادف ہے۔ معاہدہ عملی کی صورت یہ ہے کہ جس جگہ مسلمان اور کچھ غیر مسلم کسی دوسری حکومت میں باہمی امن و اطمینان کے ساتھ رہتے بستے ہوں، ایک دوسرے پر حملہ کرنا یا لوٹ مار کرنا طرفین سے غداری سمجھا جاتا ہو تو اس طرح کی معاشرت اور معاملات بھی ایک قسم کا عملی معاہدہ ہوتے ہیں ان کی خلاف ورزی جائز نہیں، اس کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ کی وہ حدیث ہے جس کو امام بخاری نے کتاب الشروط میں مفصل روایت کیا ہے، اس کا واقعہ یہ تھا، حضرت مغیرہ بن شعبہ اپنے اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت میں کفار کی ایک جماعت کے ساتھ مصاحبت و معاشرت اور معاملات رکھتے تھے، ایک روز ان کو قتل کرکے ان کے اموال پر قبضہ کرلیا اور رسول اللہ کی خدمت میں آکر مسلمان ہوگئے اور جو مال ان لوگوں کا لیا تھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اَما الاسلام فاقبلُ واَمّا المال فلست منہ فی شئ اور ابو داؤد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں اما المال فمال غدر لا حاجتہَ لنا فیہ یعنی آپ کا اسلام تو ہمیں قبول مگر یہ مال جو کہ غدر اور عہد شکنی سے حاصل ہوا ہے اس کی ہمیں حاجت نہیں، شارح بخاری ابن حجر نے شرح میں فرمایا کہ اس حدیث سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ کفار کا مال حالت امن میں لوٹ لینا حلال نہیں کیونکہ ایک بستی کے رہنے والے یا ایک ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے سے اپنے کو مامون سمجھتے ہیں ان کا یہ عملی معاہدہ بھی ایک امانت ہے جس کی حفاظت کرنا فرض ہے، اور کفار کے اموال جو مسلمانوں کے لئے حلال ہوتے ہیں تو یہ صرف محاربہ اور مخالبہ کی صورت میں حلال ہوتے ہیں حالت امن وامان میں جبکہ ایک دوسرے سے اپنے کو مامون سمجھتے ہوں کسی کافر کا مال لوٹ لینا جائز نہیں، قسطلانی نے بھی شرح بخاری میں یہی بات لکھی ہے : خلاصہ یہ کہ قبطی کا قتل اس عملی معاہدہ کی بناء پر اگر بالقصد ہوتا تو جائز نہیں تھا مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ اسرائیلی کو اس کے ظلم سے بچانے کے لئے ہاتھ کی ضرب لگائی جو عادۃً سبب قتل نہیں ہوتی مگر اتفاقاً قبطی اس ضرب سے مرگیا، تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ احساس ہوا کہ اس کو دفع کرنے کے لئے اس ضرب سے کم درجہ بھی کافی تھا یہ زیادتی میرے لئے درست نہ تھی اسی لئے اس کو عمل شیطان قرار دیکر اس سے مغفرت طلب کی۔ قال رب بما انعمت (الآیۃ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس لغزش کو جب معاف فرما دیا تو آپ نے اس کے شکریہ میں یہ عرض کیا کہ میں آئندہ کسی مجرم کی مدد نہ کروں گا اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جس اسرائیلی کی مدد کے لئے یہ اقدام کیا تھا دوسرے واقعہ سے معلوم ہوگیا تھا کہ وہ خود ہی جھگڑالو ہے لڑائی جھگڑا اس کی عادت ہے اس لئے اس کو مجرم قرار دے کہ آئندہ کسی ایسے شخص کی مدد نہ کرنے کا عہد فرمایا اور حضرت ابن عباس ؓ سے اس جگہ مجرمین کی تفسیر کافرین کے ساتھ منقول ہے اور قتادہ نے بھی تقریباً یہی فرمایا ہے، صاحب جلالین نے غالباً اسی تفسیر کے پیش نظر مجرمین کی تفسیر کافرین سے کی ہے، اس تفسیر کی بناء پر واقعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی جس کی مدد موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی یہ بھی مسلمان نہ تھا مگر اس کو مظلوم سمجھ کر امداد فرمائی۔ مسئلہ : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس طرز عمل سے دو مسئلہ معلوم ہوتے ہیں مظلوم اگرچہ کافر اور فاسق ہی کیوں نہ ہو اس کی مدد کرنی چاہیے، دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی مجرم ظالم کی مدد کرنا جائز نہیں فَاَصْبَحَ فِی المَدِینۃِ خَائِفًا یَتَرَقَّبُ خائفا ڈرتے ہوئے یعنی گرفتاری کا خوف کرتے ہوئے یترقبُ کے دو معنی ہیں اور مفسرین نے دونوں ہی معنی کو صحیح قرار دیا ہے اول احتیاط کے طور پر ادھر ادھر جھانکتے ہوئے اور اپنے بارے میں اندیشوں میں مبتلا، دوسرے اللہ تعالیٰ کی اعانت اور مدد کی امید کرتے ہوئے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسرے روز اسی اسرائیلی کو ایک دوسرے قبطی سے الجھتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے تیری ہی شرارت معلوم ہوتی ہے کل بھی تو ایک قبطی سے جھگڑا رہا تھا، اور آج دوسرے سے الجھ رہا ہے، اسرائیلی کو زبانی فہمائش کرنے کے بعد قبطی سے مواخذہ کرنے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے ہاتھ بڑھایا تو قبطی یہ سمجھا شاید میری گرفت کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے تو اسرائیلی بول اٹھا، اے موسیٰ أترید اَنْ تَقْتُلَنِیْ (الآیۃ) جس سے قبطی کے علم یہ بات آگئی کہ کل جو قتل ہوا تھا اس کا قاتل موسیٰ ہے اس نے جا کر فرعون کو خبر کردی جس کے نتیجہ میں فرعون نے موسیٰ کے قتل کے لئے ایک سرداروں اور ارکان سلطنت سے مشورہ کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا حکم صادر کردیا۔ شہر کے باہری کنارے سے ایک شخص جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خیر خواہ تھا دوڑتا ہوا آیا اور فرعونیوں کے مشورہ کی خبر دی اور یہ بھی کہا کہ تم فوراً مصر چھوڑ دو اور کسی دوسری جگہ چلے جاؤ، شہر کے کنارے سے آنے والا شخص کون تھا ؟ بعض کہتے ہیں کہ فرعون کا چچا زاد بھائی حز قیل تھا بعض نے شمعون اور بعض نے سمعان بتایا ہے اور در پردہ حضرت موسیٰ کا خیر خواہ اور ہمدرد تھا، بعض کہتے ہیں کہ اسرائیلی تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قریبی رشتہ دار تھا۔