Ayahs 28:22–28آیت نمبر 22 تا 28
ترجمہ : اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے یعنی مدین کی طرف رخ کیا، مدین شعیب (علیہ السلام) کی بستی تھی جو مصر سے آٹھ دن کی مسافت پر واقع تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے یہ بستی موسوم تھی، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے راستہ سے واقف نہیں تھے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے گا، یعنی سیدھے راستہ یعنی مدین کے متوسط راستہ کی رہنمائی کرے گا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک فرشتہ کو بھج دیا جس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، تو وہ فرشتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی طرف لے چلا، چناچہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے پانی یعنی اس کے کنوئیں پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک بڑی جماعت اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہی ہے اور ان لوگوں سے الگ دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو پانی سے روکے ہوئے ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) نے ان دونوں سے معلوم کیا تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ تم پانی کیوں نہیں پلا رہیں ؟ وہ بولیں جب تک چروا ہے واپس نہ چلے جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں، الرّیاع راع کی جمع ہے یعنی جب تک یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر واپس نہ چلے جائیں ہم خوف ازدہام کی وجہ سے پانی نہیں پلاتیں (اور جب بھیڑ ختم ہوجائے گی، اور ایک قرأۃ میں یُصْدِرُ ریاعی (افعال) سے ہے ای یُصْرِفوا مواشیَّھم عن الماء (یعنی جب تک اپنے جانوروں کو نہ لوٹالیں) اور ہمارے والد صاحب بڑی عمر کے بوڑھے ہیں یعنی وہ پانی پلانے پر قادر نہیں ہیں خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے ان کی بکریوں کو دوسرے کنوئیں سے جو کہ اس کنوئیں کے قریب ہی تھا پانی پلا دیا، ایک بھاری پتھر اس کنوئیں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے (تنہا) اٹھا دیا کہ جس کو دس افراد (بمشکل) اٹھا سکتے تھے پھر دھوپ کی سخت گرمی کی وجہ سے ببول کے ایک درخت کے سایہ کی طرف لوٹ آئے حال یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھوکے بھی تھے پھر دعاء کی اے میرے پروردگار (اس وقت) جو نعمت بھی مجھ پر بھیج دیں کھانا (وغیرہ) میں اس کا حاجت مند ہوں، چناچہ وہ دونوں لڑکیاں (روازنہ) جتنے وقت میں لوٹا کرتی تھیں اس سے کم وقت میں اپنے ابا جان کے پاس لوٹ آئیں، تو ان کے والد نے ان سے جلدی چلے آنے کی وجہ دریافت کہ تو انہوں نے اس شخص کے بارے میں خبر دی جس نے ان کی بکریوں کو پانی پلایا تھا، تو ان کے والد نے ان میں سے ایک سے کہا اس کو میرے پاس بلا لاؤ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اتنے میں ان دونوں میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک لڑکی آئی کہ شرماتی ہوئی چلتی تھی یعنی حضرت موسیٰ سے حیاء کی وجہ سے اپنے کرتے کی آستین کو اپنے چہرے پر رکھے ہوئے کہنے لگی میرے ابا جان آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے جو ہمارے (جانوروں) کو پانی پلایا ہے اس کا صلہ دیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لڑکی کی دعوت کو قبول کرلیا، اپنے دل میں اجرت لینے کو ناپسند کرتے ہوئے اور گویا کہ لڑکی کا مقصد بدلہ دینا تھا اگر موسیٰ (علیہ السلام) اجرت لینا چاہیں پھر وہ لڑکی موسیٰ (علیہ السلام) کے آگے آگے چلی اور ہوا اس کے کپڑے کو اڑانے لگی جس کی وجہ سے اس کی پنڈلی کو ظاہر کرنے لگی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاتی رہو، چناچہ لڑکی نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ اپنے اباجان شعیب (علیہ السلام) کے پا سپہنچ گئی، ان کے پاس شام کا کھانا تیار تھا، حضرت شعیب نے فرمایا تشریف رکھئے اور کھانا تنباول فرمائیے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ایس انہ ہو کہ یہ (کھانا) ان کے (جانوروں) کو میرے پانی پلانے کا عوض ہو، اور میرا تعلق ایسے گھرانے سے ہے کہ ہم کار خیر پر کوئی اجرت نہیں لیتے، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا ایسی بات نہیں ہے بلکہ میری اور میرے آبا و اجداد کا یہ معمول ہے کہ ہم مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کھانا تناول فرمایا اور اپنی (پوری) سرگزشت سنائی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَلَمَّا جاء ہٗ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا سارا حال بیان کیا (القصص) مصدر ہے مقصوص کے معنی میں ہے یعنی اپنے قبطی کو قتل کرنے اور ان کے ان کو قتل کرنے اور فرعون کے جانب سے اپنے خوف کی پوری سرگزشت سنائی تو شعیب کہنے لگے (اب) اندیشہ نہ کرو تم ظالم لوگوں سے بچ آئے اس لئے کہ مدین پر فرعون کی سلطنت نہیں ہے ان میں سے ایک نے اور وہ وہی تھی جس کو (بلانے) بھیجا تھا، بڑی یا چھوٹی کہا ابا جان ان کو ملازم رکھ لیجئے (یعنی) ان کو اجیر رکھ لیجئے ہمارے بجائے ہماری بکریوں کو چرائیں گے کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں گے ان میں سب سے بہتر وہ ہوگا جو قوی اور امانت دار ہوگا یعنی ان کی قوت اور امانت کی وجہ سے ان کو ملازم رکھ لیجئے، چناچہ (شعیب علیہ السلام) نے اپنی بیٹی سے ان دونوں صفات کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے وہ سب باتیں جن کا ذکر گذرا ہے اپنے والد صاحب کو بتائیں یعنی ان کے کنوئیں کے پتھر کو (تنہا) اٹھانے اور ان کے اس سے یہ کہنے کہ میرے پیچھے پیچھے چلو اور مزید کچھ اضافہ کے ساتھ یہ کہ جب میں ان کے پاس پہنچی اور ان کو میری آمد کا علم ہوا تو اپنا سر جھکا لیا اور اٹھایا نہیں، چناچہ شعیب (علیہ السلام) ان سے نکاح کرنے کی طرف راغب ہوئے، تو شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور وہ بڑی ہے یا چھوٹی اس شرط پر کہ تم آٹھ سال تک میرے یہاں ملازمت کرو یعنی تم میری بکریاں چرانے کا کام کرو اور اگر آپ دس سال پورے کردیں یعنی دس سال بکریاں چرائیں تو یہ اتمام آپ کی طرف سے ہوگا اور میں آپ کو دس سال کی شرط لگا کر کسی مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا اور آپ انشائ اللہ تبرک کے لئے ہے مجھے عہد کو وفا کرنے والا پائیں گے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ بات جو آپ نے فرمائی میرے اور آپ کے درمیان مکمل ہوگئی ان دونوں میں سے یعنی آٹھ یا دس سال میں ہے جس مدت کو بھی میں پوری کروں اس پر زیادتی کا مطالبہ کرکے مجھ پر کوئی جبر نہ ہوگا اَیَّما میں ما زائدہ ہے یعنی چرانے کی مدت کو (پورا کروں) اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ نگہبان ہے یا شاہد ہے، اس بات سے عقد (نکاح) مکمل ہوگیا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بیٹی سے کہا (ان کو) ایک عصا دیدیں جس کے ذریعہ بکریوں کی درندوں سے حفاظت کریں (اور انبیاء سابقین کے) بہت سے عصا ان کے پاس موجود تھے چناچہ لڑکی کے ہاتھ میں آدم (علیہ السلام) کا عصا آگیا جو جنت کے درکت مورو کا تھا، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عصا شعیب (علیہ السلام) کے علم میں لا کرلے لیا۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : سَوَاءَ السَّبِیْلِ یہ اضافہ صفت الی الموصوف ہے ای الطریق الوسط سواء السَّبیلَ کی تفسیر قصد السَّبیل سے کی ہے، اور یہ بتانے کے لئے کہ یہ اضافت صفت الی الموصوف کے قبیل سے قصد الطریق کی تفسیر الطریق الوسط سے کی ہے۔ قولہ : عَنَزَۃ عنزہ عصاء سے بڑا اور نیزے سے چھوٹا ہوتا ہے اس کے نیچے والے سرے پر لوہے کی اَنی ہوتی ہے۔ قولہ : مَاءَ مدینَ کی تفسیر بئرٌ سے کرکے اشارہ کردیا کہ حال بول کر محل مراد ہے اور بئرٌ سے پہلے ھو مبتداء محذوف ہے بئر اس کی خبر ہے ای ھو بئرٌ کائن فیھا۔ قولہ : اُمَّۃٌ کی تفسیر جماعۃ کثیرۃ سے کرکے اشارہ کردیا کہ تنوین تکثیر کے لئے ہے۔ قولہ : تَذُوْدَان امراتین کی صفت ہے نہ کہ وَجَدَ کا مفعول ثانی اس لئے کہ وَجَدَ بمعنی لَقِیَ ہے۔
سوال : مندرجہ ذیل چار افعال کے مفعولوں کو کیوں حذف کیا گیا ہے ؟ یَسْقُوْنَ تذُوْدَان وَلاَ نَسْقِیْ اور یُصْدِرُ الرعاءُ (افعال)
جواب : چونکہ مقصود با لذ ات فعل ہوتا ہے نہ کہ مفعول لہٰذ امذ کو رہ چاروں فعلوں کے مفا عیل کو حذف کردیا گیا ہے۔
قولہ علی ان تاجرنی فاعل یا مفعول سے حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے ای مشروطاً علیَّ اوعلَیٗکَ ذٰلکَ ۔ قولہ : التمام محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ مِنْ عندکَ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ قولہ : ذٰلک مبتداء ہے اور بینی وبینک اس کی خبر۔ قولہ : اَیَّمَا الاَجَلَیْنِ ایُّ شرطیہ ہے ما زائدہ ہے فَلاَ عُدْوانَ جواب شرط ہے۔
تفسیر و تشریح
ولما توجہ تلقاء مدین مدین ملک شام کے ایک شہر کا نام ہے جو مدین بن ابراہیم کے نام سے موسوم ہے ان ہی نے اس شہر کو بسایا تھا، یہ علاقہ فرعونی حکومت سے خارج تھا، مصر سے مدین آٹھ دن کی مسافت پر واقع تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب فرعونی سپاہیوں کا طبعی خوف پیش آیا، جو نہ نبوت کے منافی ہے اور نہ توکل کے تو مصر سے ہجرت کا ارادہ فرمایا، اور مدین کی سمت کو شاید اس لئے اختیار کیا کہ مدین بھی اولاد ابراہیم کی بستی تھی اور حضرت موسیٰ بھی حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے اس لئے کہ حضرت موسیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی نسل سے تھے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے بالکل بےسروسامانی کی حالت میں نکلے، نہ کوئی توشہ تھا اور نہ کوئی سامان اور نہ راستہ معلوم، اسی اضطرار کی حالت میں اللہ جل شانہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دعاء فرمائی عسیٰ ربِّی ان یھدینی سواء السبیل یعنی امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرمائے گا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی یہ دعاء قبول فرمائی، مدین کے تین راستے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہدایت خداوندی متوسط راستہ اختیار فرمایا فرعونی سپاہی آپ کی تلاش و جستجو میں نکلے اور مشورہ میں یہ طے ہوا کہ بھاگنے والا کبھی سیدھا راستہ اختیار نہیں کرنا ہمیشہ بعید اور غیر معروف راستہ اختیار کرتا ہے لہٰذا موسیٰ نے بھی مختصر اور سیدھے راستہ کو چھوڑ کر طویل اور غیر معروف راستہ اختیار کیا ہوگا چناچہ فرعونی سپاہیوں نے درمیانی سیدھا راستہ ترک کرکے دشوار اور طویل راستہ اختیار کیا موسیٰ (علیہ السلام) بخیر و عافیت اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے اور فرعونی سپاہی خائب و خاسر واپس آگئے، مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سفر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غذا صرف درختوں کے پتے تھے۔
ولما ورد۔۔۔ مدین، ماء مدین سے وہ کنواں مراد ہے جس سے اس بستی کے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دو عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنی بکریوں کو روکے ہوئے دور کھڑی ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رحم آیا تو ان سے معلوم کیا کہ تم اپنی بکریوں کو کیوں روکے کھڑی ہو ؟ پانی کیوں نہیں پلاتیں ؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ ہماری عادت یہی ہے کہ ہم مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچنے کے لئے اس وقت تک بکریوں کو پانی نہیں پلاتیں جب تک یہ لوگ کنوئیں پر ہوتے ہیں، قدرتی طور پر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمہارے یہاں کوئی مرد نہیں کہ جو یہ کام انجام دے سکے تو اس سوال کا جواب انہوں نے خود ہی وَاَبُوْنَا شیخٌ کبیرٌ کہہ کر دیدیا کہ ہمارے والد صاحب بہت ضعیف اور بوڑھے ہیں وہ یہ کام نہیں کرسکتے، اس لئے ہم اس کام کے لئے مجبور ہیں، اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔
اس واقعہ سے چند اہم فوائد حاصل ہوئے، اول ضعیفوں کی مدد کرنا، انبیاء کی سنت ہے، دوسرا بوقت ضرورت اجنبی عورت سے بات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ فتنہ کا خوف نہ ہو، تیسرا شرم و حیا عورتوں کا زیور ہے یہ واقعہ اگرچہ اسلام سے بہت پہلے کا ہے مھر اس وقت بھی دونوں لڑکیوں نے اپنی فطری اور طبعی شرافت کی وجہ سے تکلیف برداشت کرنا تو گوارا کیا مگر مردوں کے ساتھ اختلاط پسند نہیں کیا، چوتھا عورتوں کا باہر کے کاموں کے لئے نکلنا اس وقت بھی ناپسند سمجھا جاتا تھا اسی لئے لڑکیوں نے اپنے باہر نکلنے کا یہ کہہ کر عذر بیان کیا کہ چونکہ ہمارے والد صاحب ضعیف اور بوڑھے ہیں اس لئے بدرجہ مجبوری ہم کو نکلنا پڑا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان لڑکیوں پر ان کی مجبوری کی وجہ سے رحم آگیا اسی کنوئیں سے یا اس کے قریب دوسرے کنوئیں سے جس پر ایک بھاری پتھر رکھا ہوا تھا جس کو بمشکل دس آدمی اٹھا سکتے تھے تنہا اٹھا کر الگ رکھدیا اور ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا، اور ببول کے ایک درخت کے سایہ میں جا کر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت مندی کے لئے دعا کرنے لگے۔
ادھر یہ ہوا کہ یہ لڑکیاں اپنے مقررہ وقت سے پہلے گھر پہنچ گئیں تو ان کے والد نے وجہ دریافت کی لڑکیوں نے واقعہ بیان کیا، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے چاہا کہ اس شخص نے احسان کیا ہے اس کی مکافات کرنی چاہیے، اس لئے انہیں ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو بلانے بھیجا، یہ حیا کے ساتھ شرماتی ہوئی پہنچی، اور شرماتے ہوئے حیاء کی وجہ سے منہ پر کرتے کی آستین رکھ کر بات کی، اور اپنے والد صاحب کی دعوت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہنچا دی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے ساتھ چل پڑے، ہوا چونکہ تیز تھی جس کی وجہ سے کپڑا اڑتا تھا جس سے اس کی پندلی کھل جاتی تھی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم میرے پیچھے چلو اور اشارہ یعنی دائیں بائیں کہہ کر راستہ بتاتی رہو۔
گھر پہنچ کر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے دعاء سلام ہوئی شام کا کھانا تیار تھا شعیب (علیہ السلام) نے کھانے کے لئے کہا مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ کہہ کر کھانے سے معذرت کردی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں نے آپ کی بکریوں کو پانی پلا کر جو نیکی کی ہے یہ کھانا اس کا معاوضہ ہو تو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا ایسی بات نہیں ہے بلکہ مہمانوں کی مہمان نوازی کرنا تو ہمارا خاندانی طریقہ ہے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کھانا تناول فرمایا کھانے کے دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پورے واقعہ کی قتل قبطی سے لیکر آخر تک کی پوری روداد سنا دی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا اب اندیشہ نہ کرو یہ علاقہ فرعون کی حکومت سے خارج ہے وہ یہاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
شعیب (علیہ السلام) کی ایک صاحبزادی نے جس کا نام صفوراء یا کیّا تھا اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ کو گھر کے کام کاج کے لئے ایک ملازم کی ضرورت ہے آپ ان ہی کو ملازم رکھ لیجئے کیونکہ ملازم میں دو صفتوں کا ہونا ضروری ہے ایک تو کام کی صلاحیت دوسرے امانت و دیانت داری، ہمیں ان کے تنہا پتھر اٹھا کر پلانی پلانے سے ان کی قوت کا اندازہ ہوگیا اور راستہ میں اپنے پیچھے کردینے سے امانت داری کا تجربہ ہوچکا ہے۔
چناچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اِنِیّ ارِیْدُ اَنْ اُنکِحَکَ اِحدیٰ ابنَتَیَّ ھٰتَیْنِ کہہ کر خود ہی اپنی ایک لڑکی کے نکاح کا ارادہ ظاہر فرمایا اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی مرد صالح مناسب حال ملے تو پھر لڑکی کے ولی کو اسکا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ لڑکے کی طرف سے پیش کش ہو بلکہ خود ہی پیش کش کرنا سنت انبیاء ہے، ابو سعود میں چھوٹی لڑکی کا نام صفیراء اور بڑی کا صفراء لکھا ہے۔
اِحدی ابنَتَیَّ شعیب (علیہ السلام) نے دونوں لڑکیوں میں سے کسی ایک کو متعین کرکے گفتگو نہیں فرمائی بلکہ اس کو مبہم رکھا کہ ان میں سے کسی ایک کو آپ کے نکاح میں دینے کا ارادہ ہے، مگر چونکہ یہ باقاعدہ عقد نکاح نہیں تھا جس میں ایجاب و قبول اور گواہوں کا ہونا شرط ہے بلکہ یہ تو معاملہ کی گفتگو تھی تاکہ شرائط معاملہ طے جائیں، مثلاً یہ کہ اگر آپ کو آٹھ سال تک یہاں ملازمت منظور ہو تو ہم ایک لڑکی کا نکاح آپ سے کردیں گے، لہٰذا یہاں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ منکوحہ کی تعیین کے بغیر نکاح کیسے درست ہوگیا ؟
علیٰ ان تاجرنی ثمانی حجج آٹھ سال کی ملازمت و خدمت کو نکاح کا مہر قرار دیا گیا، اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی خدمت و ملازمت کا اس کا مہر قرار دے سکتا ہے یا نہیں، اول بات یہ ہے کہ مہر کا یہ معاملہ شریعت محمدیہ کے لحاظ سے درست نہ ہو مگر شعیب (علیہ السلام) کی شریعت کے لحاظ سے درست ہو شرائع انبیاء میں اس قسم کے فروعی مسائل میں فرق ہونا نصوص سے ثابت ہے۔
امام ابوحنیفہ کی ظاہر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدمت زوجہ کو مہر نہیں بنایا جاسکتا، مگر ایک روایت جس پر علماء متاخرین نے فتویٰ دیا ہے کہ خود بیوی کی خدمت کو مہر قرار دینا تو شوہر کے احترام و اکرام کے خلاف ہے، مگر بیوی کا کوئی ایسا کام جو گھر سے باہر کو ہو مثلاً بکریاں چرانا یا تجارت وغیرہ اگر اس میں شرائط اجارہ کے مطابق مدت متعین کردی جائے جیسا کہ اس واقعہ میں آٹھ سال کی مدت متعین کردی گئی تو اس کی صورت یہ ہوگی کہ اس مدت کی ملازمت کی تنخواہ بیوی کے ذمہ لازم ہوگی تو اس تنخواہ کو مہر قرار دینا جائز ہوگا۔ (ذکرہٗ فی البدائع عن نو ادر بن سماعہ بحوالہ معارف)
قولہ : فوقع فی یدھا عصاء آدم حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی لڑکی سے کہا ان کو ایک عصا دے دو تاکہ اس سے بکریوں کی نگرانی کریں، شعیب (علیہ السلام) کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کے متبرک باقیات تھے ان میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا مورو کا وہ عصاء بھی تھا جس کو وہ جنت سے ساتھ لائے تھے لڑکی کے ہاتھ میں وہی عصا آگیا حضرت شعیب چونکہ نابینا تھے، اس لئے ٹٹول کر معلوم کرلیا کہ یہ آدم (علیہ السلام) کا عصاء ہے یہ کہہ کر واپس کردیا کہ دوسرا دے دو ، اس طرح سات مرتبہ واپس کیا مگر ہر بار وہی عصا ہاتھ میں آتا تھا مجبوراً وہی عصا حضرت موسیٰ کو دیدیا مگر شعیب (علیہ السلام) کو بعد میں خیال آیا کہ یہ تو انبیاء کی امانت تھی مجھے نہیں دینا چاہیے تھی واپسی کا مطالبہ کیا مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے انکار کردیا اس میں نزاع پیدا ہوا بات زیادہ بڑھ گئی آخر یہ طے ہوا کہ سب سے پہلے جو شخص آئے وہ جو فیصلہ کرے وہ فریقین کو منظور ہوگا، چناچہ انسان کی شکل میں ایک فرشتہ آیا اور اس نے یہ فیصلہ کیا کہ اس عصاء کو زمین پر ڈال دیا جائے جو اٹھالے وہ لے لے، چناچہ ایس اہی کیا گیا اور شعیب (علیہ السلام) نے اٹھانے کی کوشش کی مگر نہ اٹھا سکے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اٹھا لیا تو ان ہی کو دیدیا گیا۔
Ayahs 28:29–32آیت نمبر 29 تا 32
ترجمہ : چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت پوری کردی یعنی (بکریاں) چَرائی کی مدت، اور وہ آٹھ یا دس سال تھی اور غالب گمان یہ ہے کہ دس سال پورے کئے اور اپنی اہلیہ کو اس کے والد کی اجازت سے مصر کی طرف ہمراہ لیکر روانہ ہوگئے (تو) دور سے طور جو کہ ایک پہاڑ کا نام کی جانب آگ دیکھی تو اپنی اہلیہ سے کہا تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے راستہ کی خبر حال یہ ہے کہ موسیٰ راستہ بھول گئے تھے یا آگ کا ٹکڑا یا شعلہ لاؤں جَذُوۃ جیم میں تینوں اعراب جائز ہیں تاکہ تم تاپو یعنی تاکہ تم سینکو طاء باب افتعال کی تاء سے بدلی ہوئی ہے، اور یہ صَلِیِّ بالنار کسرہ لام اور فتحہ لام سے مشتق ہے، پس جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس پہنچے تو موسیٰ کو ان کی دائیں جانب وادی کے کنارے درخت سے ندا دی گئی، موسیٰ کے لئے مبارک میدان میں ان کے اس میدان میں اللہ کا کلام سننے کی وجہ سے (یعنی وہ میدان موسیٰ کے لئے نہایت مبارک تھا اس میدان میں ان کو نبوت ملنے اور اللہ سے ہم کلام ہونے کی وجہ سے) مِنَ الشجرۃِ اعادۂ جار کے ساتھ وادی سے بدل ہے اس درخت کے اس وادی میں اگنے کی وجہ سے، اور وہ عناب یا امر بیل یا جھاڑی کا درخت تھا أنْ مفسرہ ہے نہ کہ مخففہ اے موسیٰ یقیناً میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار اور (یہ بھی) آواز آئی (اے موسیٰ ) اپنی لاٹھی ڈال دے چناچہ لاٹھی ڈال دی پھر جب اس لاٹھی کو دیکھا کہ سانپ کی طرح حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سریع الحرکت ہونے کے اعتبار سے (جان) یعنی چھوٹا سانپ ہے تو موسیٰ اس سے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (تو حکم ہوا) اے موسیٰ آگے آؤ اور ڈرو نہیں یقیناً تم امن میں ہو اور تم اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے گریباں میں داخل کرو اور طوق کرتے کے گریبان کو کہتے ہیں (اپنے) سابق گندمی رنگ کے برخلاف بغیر کسی مرض کے چمکتا ہوا نکلے گا یعنی برص (وغیرہ) کے بغیر چناچہ ہاتھ کو داخل کیا اور نکالا تو سورج کی شعاعوں کے مانند روشن تھا اور آنکھوں کو (خیرہ) چکا چوند کر رہا تھا اور خوف سے (بچنے کے لئے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے دونوں حرفوں کے فتحہ اور دوسرے کے سکون معہ فتحہ اول اور ضمہ اول کے یعنی اس خوف سے (بچنے کے لئے) جو ہاتھ کے چمکدار ہونے کی وجہ سے حاصل ہو، بایں طور کہ تم ہاتھ کو (دوبارہ) اپنے گریبان میں داخل کرو تو وہ اپنی سابقہ حالت پر لوٹ آئے گا اور ہاتھ کو بازو سے تعبیر کیا ہے اس لئے کہ انسان کے لئے ہاتھ ایسے ہی ہیں جیسے پرندوں کے لئے بازو، پس یہ دو معجزے تیرے لئے تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجے ہیں ذَانِّکَ تشدید اور تخفیف کے ساتھ یعنی عصاء اور ید اور یہ دونوں مؤنث ہیں اور جس اسم اشارہ کے ذریعہ ان دونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ مبتداء ہے اس کو مذکر لایا گیا ہے اس کی خبر کے مذکر ہونے کی رعایت کی وجہ سے کیونکہ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
جُذوَۃ میں تینوں اعراب ہیں، اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کے سرے میں شعلہ ہو، موٹی لکڑی کو بھی جذوۃ کہتے ہیں من نارٍ جذوۃٍ کا بیان ہے فَلَمَّا اَتاھَا میں ھا کا مرجع نار ہے۔ قولہ : من الشاطی الوادی میں من ابتداء غایۃ کے لئے ہے اور ایمن شاطی یا وادی کی صفت ہے اور ایمن یمین سے بمعنی دایاں ہے، اور جانب یمین سے موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب یمین مراد ہے اور فی البقعۃ نودی سے متعلق ہے۔ قولہ : لسماعہٖ کلام اللہ یعنی وہ میدان موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے اس لئے مبارک تھا کہ اس میدان میں ان کو نبوت سے سرفراز کیا گیا اور رب العالمین سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔
قولہ : من الشجرۃ یہ شاطی سے بدل الاشتمال ہے، اور وجہ ملابستہ کی جانب مفسر علام نے لِنَبَاتِھَا فیہِ کہہ کر اشارہ کردیا ہے چونکہ وہ درخت شاطی (کنارہ) میں تھا اس لئے گویا کہ نداء درخت سے آئی، وہ درخت کسی چیز کا تھا اس میں تین قول نقل کئے ہیں، اول عناب جو کہ معروف ہے اس کے پھل کو بھی عناب ہی کہتے ہیں جنگلی پیر سے کچھ بڑا اور رنگ سرخ سیاہی مائل ہوتا ہے، دوسرا عُلِّیْقٌ یہ درختوں سے لپٹنے والی بیل نما ایک چیز ہوتی ہے، پتے بہت کم ہوتے ہیں، سویوں کے مانند پورے درخت پر چھا جاتی ہے جس درخت پر لپٹ جاتی ہے اس کا رس چوس کو خشک کردیتی ہے، رنگ زرد ہوتا ہے، عوام میں اس کے مختلف نام ہیں آکاش بیل، امربیل، فارسی میں عشق پیچاں کہتے ہیں، طبی نام افتیمون ہے، تیسرا عوسج کانٹوں دار ایک جنگلی درخت ہے اس پر چھوٹے چھوٹے کھٹے میٹھے پھل آتے ہیں، جس کو عام طور پر جھڑبیری کہتے ہیں۔
قولہ : اَنْ مفسرہ بعض حضرات نے اس اَن کو مخففہ عن المثقلہ کہا ہے جو درست نہیں ہے یہ اَنْ مفسرہ ہے اس سے پہلے چونکہ نودی آیا ہوا ہے جو کہ قول کے ہم معنی ہے لہٰذا اس کا ان مفسرہ ہونا متعین ہے ای نودی بأنْ یا موسیٰ جانٌ چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں اور ثعبان بڑے سانپ کو کہتے ہیں اور حیۃ مطلق سانپ کو کہتے ہیں قرآن کریم میں اس کو جانٌّ بھی کہا گیا ہے اور ثعبان بھی، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ابتداءً ڈالتے وقت تو جان (چھوٹا) ہوتا تھا مگر بعد میں بڑا ہوجاتا تھا، یا سرعۃ حرکت کے اعتبار سے وہ چھوٹے سانپ کی طرح سریع الحرکت تھا مگر جسم و بثہ کے اعتبار سے ثعبان اژدہا تھا۔
قولہ : ذُکِّرَ المشارُ بہ اِلَیھِمَا یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ عصاء اور ید دونوں مؤنث ہیں لہٰذا ان کے لئے اسم اشارہ مؤنث ” تان “ لانا چاہیے تھا نہ کہ ذانّ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں خبر کی رعایت کی گئی ہے خبر جو کہ برھانان ہے مذکر ہے اس لئے مبتداء کو بھی مذکر لے آئے تاکہ مطابقت ہوجائے۔ قولہ : مِنْ رّبکَ یہ محذوف کے متعلق ہے اور وہ برھانان کی صفت ہے جس کی طرف مفسر علام نے مرسلان نکال کر اشارہ کردیا ہے اور بعض حضرات نے کائنان محذوف مانا ہے۔
تفسیر و تشریح
فلما قضی موسیٰ الاجل جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت ملازمت پوری کردی جو کہ آٹھ سال لازمی اور دس سال اختیاری تھی، حضرت ابن عباس ؓ نے دس سال مدت مرا دلی ہے، کیونکہ اس مدت کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ضعیف اور بوڑھے خسر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خواہش بھی یہی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال پورے کریں لیکن اس پر جبر نہیں کرسکتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کریمانہ اخلاق نے اپنے بوڑھے خسر کی دلی خواہش کے خلاف کرنا پسند نہیں کیا (فتح الباری کتاب الشہادات) آنحضرت ﷺ کی بھی یہی عادت مبارکہ تھی کہ حقدار کو اس کے حق سے زیادہ ادا فرماتے تھے اور امت کو بھی اس کی ہدایت فرمائی ہے۔
نُودِیَ مِن شاطِئ الوادِ الایمن (الآیۃ) یہ مضمون موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ضمن میں سورة طہٓ اور سورة نمل میں گزر چکا ہے الفاظ اگرچہ مختلف ہیں مگر مضمون تقریباً ایک ہی ہے، اور یہ تجلی بشکل نار تجلی مثالی تھی کیونکہ تجلی ذاتی کا مشاہدہ اس دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا اور خود موسیٰ (علیہ السلام) کو اس تجلی ذاتی کے اعتبار سے لَنْ ترانی فرمایا گیا یعنی آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے، مراد مشاہدۂ ذات حق ہے۔
آواز وادی کے کنارے سے آرہی تھی جو مغربی جانب سے پہاڑ کے دائیں طرف سے تھی اور دائیں جانب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعتبار سے تھی اس لئے کہ پہاڑ کی یا کسی بھی چیز کی کوئی دائیں بائیں جانب نہیں ہوتی بلکہ شخص کی دائیں بائیں جانب ہوتی ہے۔ کوہ طور کے اس مقام کو قرآن کریم نے بقعۂ مبارکہ کہا ہے اور ظاہر یہی ہے کہ اس کے مبارک ہونے کا سبب یہ تجلی خداوندی ہے جو اس مقام پر بشکل نار دکھائی گئی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مقام میں کوئی اہم نیک عمل واقع ہوتا ہے تو وہ مقام بھی متبرک ہوجاتا ہے۔
وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب نبوت پر سرفراز کرنے کے بعد معجزۂ عصاء عطا کیا گیا، معجزہ چونکہ خرق عادت معاملہ کو کہا جاتا ہے جو عام عادات اور اسباب ظاہری کے خلاف ہوتا ہے جو مشئیت خداوندی سے ظاہر ہوتا ہے اس کے ظہور میں کسی بھی انسان کا اختیار و دخل نہیں ہوتا خواہ وہ جلیل القدر پیغمبر مقرب ہی کیوں نہ ہو، اس لئے جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کی لاٹھی زمین پر ڈالنے سے حرکت کرتی اور دوڑتی پھنکارتی سانپ بن گئی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی ڈرگئے، جب اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور تسلی دی تو موسیٰ (علیہ السلام) کا خوف دور ہوا، دوسرا معجزہ یدبیضاء عطا فرمایا، اس کی تفصیل سابق میں گزر چکی ہے، مذکورہ دونوں معجزے فرعون اور اس کی جماعت کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دلیل صداقت کے طور پر پیش کئے۔
Ayahs 28:33–42آیت نمبر 33 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی) تم کو تقویت پہنچائے دیتے ہیں اور ہم تم کو غلبہ عطا کریں گے جس کی وجہ سے وہ تم پر بدنیتی سے دست رس نہ ہوگے ہماری نشانیاں (معجزے) لیکر جاؤ تم اور تمہارے متبعین ان پر غالب رہو گے غرض جب موسیٰ ان لوگوں کے پاس ہماری صریح نشانیاں لے کر آئے بیّنَاتٍ حال ہے ان لوگوں نے کہا یہ تو گھڑا ہوا جادو ہے اور ہم نے نہیں سنا کہ ہمارے اگلے باپ دادوں کے زمانہ میں ایسی بات ہوئی ہو، اور موسیٰ کہنے لگے میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لے کر آتا ہے ایک قرأت میں واؤ کے ساتھ (وقال) ہے اور ایک میں بغیر واؤ کے (قال) (عندہ) کی ضمیر رب کی طرف راجع ہے، اور اس کو (بھی جانتا ہے) جس کے لئے آخرت میں (اچھا) انجام ہے یعنی بہتر انجام ہے آخرت میں، یعنی وہ دونوں صورتوں میں میں ہی ہوں، سو میں جو کچھ لایا ہوں میں اس میں حق پر ہوں، یقیناً ظالم لوگ فلاح نہ پائیں گے یکون میں یا اور تا دونوں قرأتیں ہیں فرعون کہنے لگا اے درباریو ! میں تو تمہارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا، اے ہامان ! تو میری لئے مٹی کو آگ میں (پزاوا) لگوا کر پکوا یعنی پکی اینٹیں بنوا اور میرے لئے ایک اونچی عمارت بنوا اونچا محل تاکہ میں موسیٰ کے خدا کو جھانکوں اس کو دیکھوں اور اس سے واقف ہوجاؤں اور میں تو موسیٰ کو اس کے اس دعویٰ میں کہ (میرے علاوہ کوئی) دوسرا معبود ہے اور یہ کہ وہ اس کا رسول ہے جھوٹا سمجھتا ہوں اور فرعون اور اس کے لشکر نے دنیا میں ناحق سر اٹھا رکھا تھا اور یوں سمجھ رہے تھے کہ ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہی نہیں ہے (یُرْجِعُوْنَ ) معروف اور مجہول دونوں قرأتیں ہیں سو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا دریائے شور میں، چناچہ وہ غرق ہوگئے سو دیکھئے ظالموں کا انجام کیسا ہوا ؟ جب وہ ہلاکت کی طرف چلے اور ہم نے ان کو دنیا میں ایسا پیشوا بنایا کہ لوگوں کو شرک کی دعوت کے ذریعہ جہنم کی طرف بلاتے تھے (أئمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کو یا سے بدل کر، یعنی شرک میں رئیس بنایا اور قیامت کے روز ان سے عذاب دفع کرکے (مطلقاً ) مدد نہ کئے جائیں گے اور ہم نے اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت رسوائی لگا دی اور قیامت کے روز بھی وہ دھتکارے ہوئے لوگوں میں ہوں گے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : ردْءًا اَرْسِلْہُ کی ضمیر سے حال ہے بمعنی مددگار جواب الدعاء اصل میں جواب امر کہنا چاہیے تھا مگر ادباً جواب دعاء کہا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جو امر کے صیغے استعمال ہوتے ہیں وہ دعاء ہی کہلاتے ہیں۔ قولہ : سنَشُدُّ عَضُدَکَ اس میں مجاز مرسل ہے سبب بول کر مسبب مراد لیا گیا ہے اس لئے کہ قوت باز و قوت شخص کو مستلزم ہوتی ہے۔ قولہ : باٰیٰتِنَا یہاں آیات سے عصا اور یدہی مراد ہیں مگر دو پر جمع کا صیغہ بولا گیا ہے اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک متعدد آیات پر مشتمل تھا۔
قولہ : بَیِّنَاتٍ آیات سے حال ہے۔ قولہ : اَعْلَمُ ای عَالِمٌ اَعْلَمُ کی تفسیر عالِمٌ سے کرکے ایک سوال مقدر کا جواب دینا مقصود ہے، سوال یہ ہے کہ اسم تفضیل اسم ظاہر کو نصب نہیں دیتا، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں اسم تفضیل اسم فاعل کے معنی میں ہے وتکونُ عام قرّاء نے تا کے ساتھ پڑھا ہے، لہٗ تکون کی خبر اور عاقبَۃٌ اس کا اسم ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تکون کے اندر ضمیرھی اس کا اسم ہو اور لَہُ عاقبۃ الدار جملہ ہو کر محل میں خبر کے اور شِقَین شق کا تثنیہ ہے بمعنی کنارہ کے معنی دو کنارے یہاں مَنْ جاء بالھدٰی اور مَنْ یکونَ لہُ عاقبۃُ الدار مراد ہیں۔ قولہ : یَوْمَ القیٰمۃ ھم من المقبوحین یوم القیٰمۃ مقبوحین کے متعلق بھی ہوسکتا ہے مگر ظاہر یہ ہے کہ محذوف کے متعلق ہے تقدیر عبارت یہ ہے قبحوا یوم القیٰمۃِ ھم من المقبوحین، مقبوحِیْنَ قبحوا کی تفسیر کر رہا ہے مقبوحین مقبوح کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بگڑا ہوا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے مسخ ہو کر سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوجائیں گی، مقبوح اسم مفعول (ک، ف)
تفسیر و تشریح
قال ربی انی۔۔۔ نفسا یہ ایک واقعی خطرہ تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کو لاحق تھا، کیونکہ ان کے ہاتھ سے ایک قبطی کا قتل، ہوچکا تھا، اسرائیلی روایات کے اعتبار سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی جس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ بچپن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے آگ کے انگارے اور کھجوریا موتی رکھے گئے تھے تو آپ نے انگارا اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے آپ کی زبان جل گئی تھی، رواں گفتگو نہ کرنے کی وجہ کوئی بھی ہو قرآن کریم کی نص سے یہ ثابت ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ فصیح الکلام تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں گرہ تھی جس کے کھولنے کی دعاء انہوں نے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد کی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معاون و مددگار بنادیا گیا اور حکم دیدیا کہ تم دونوں فرعون اور فرعونیوں کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے دعوت حق پیش کرو اور ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہم تمہاری حفاظت فرمائیں گے فرعون اور اس کے حواری موالی تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں : ان دونوں حضرات نے فرعون اور فرعونیوں کو مدلل طریقہ پر دعوت توحید پیش کی فرعون کے تمام شکوک و شبہات کو دفع کیا فرعون جب لا جواب ہوگیا تو کٹ حجتی پر اتر آیا اور اپنے وزیر ہامان کو بلا کر حکم دیا کہ پختہ اینٹوں کی ایک نہایت ہی بلند وبالا عمارت بنواؤ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھنا چاہتا ہوں۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون کے اس واقعہ سے پہلے پختہ اینٹوں کی تعمیر کا رواج نہ تھا، پختہ اینٹ کی تعمیر فرعون کی ایجاد ہے، تاریخی روایات میں ہے کہ فرعون نے اس محل کی تعمیر کے لئے پچاس ہزار معمار جمع کئے مزدور اور لوہے لکڑی کے کام کرنے والے ان کے علاوہ تھے، اور محل کو اتنا اونچا بنایا کہ اس زمانہ میں اس سے زیادہ بلند عمارت نہیں تھی جب عمارت مکمل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل کو حکم دیا، انہوں نے ایک ضرب میں اس محل کے تین ٹکڑے کرکے گرا دیا جس میں فرعون کے ہزاروں آدمی دب کر مرگئے۔ (قرطبی بحوالہ معارف)
Ayahs 28:43–50آیت نمبر 43 تا 50
ترجمہ : اور ہم نے پہلی امتوں (مثلاً ) قوم نوح و عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت تھی گمراہی سے اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے اور رحمت تھی اس کے لئے جو اس پر ایمان لائے تاکہ نصیحت حاصل کریں ان نصیحتوں سے جو اس میں ہیں بصَائر للناسً ، الکتاب سے حال ہے اور بَصَائر بصِیٌرَۃ کی جمع ہے اور بصیرت نور قلبی کو کہتے ہیں اور بصائر کا مطلب ہے انوار القلوب اور اے محمد تم مناجات کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی مغربی پہاڑ کی جانب یا غربی وادی کی جانب یا غربی مکان کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے فرعون اور اس کی قوم کی جانب پیغام پہنچانے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی تھی اور نہ تم اس واقعہ کو دیکھنے والوں میں تھے کہ اس واقعہ سے باخبر ہوتے اور اس کی خبر دیتے لیکن ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت سی امتیں پیدا کیں پھر ان پر زمانہ دراز گزر گیا یعنی ان کی عمریں طویل ہوئیں عہد و پیمان کو بھول گئے اور علوم مٹ گئے اور وحی (کا سلسلہ) منقطع ہوگیا تو ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا اور تمہاری طرف موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ کے واقعہ کی وحی بھیجی اور تم اہل مدین میں بھی قیام پذیر نہیں تھے کہ تم ان لوگوں کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہوں (تَتْلُوْا عَلَیْھِمْ ) مَا کُنْتَ کی خبر ثانی ہے بلکہ ہم ہی تم کو رسول بنا کر بھیجنے والے اور گذشتہ لوگوں کے (واقعات) کی خبروں کو بھیجنے والے ہیں اور جب ہم نے موسیٰ کو ندا دی کہ کتاب کو مضبوطی سے تھام لو تو (تب بھی) تم جبل طور کی جانب میں موجود نہیں تھے بلکہ ہم نے تم کو تمہارے رب کی جانب سے رحمت بنا کر بھیجا تاکہ تم اس قوم کو ڈراؤ کہ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور وہ اہل مکہ ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کفر وغیرہ کی بدولت ان کو مصیبت یعنی عقوبت پہنچی تو یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا ؟ کہ ہم تیری بھیجی ہوئی آیتوں کی تابعداری کرتے اور ایمان والوں میں ہوجاتے اور لولا (اول) کا جواب محذوف ہے اور اس کا ما بعد مبتداء ہے، اور معنی یہ ہیں اگر مصیبت کا پہنچنا جو کہ ان (کافروں) کے قول لو لا ارسلتَ الَیْنَا رسولاً کا سبب ہے، نہ ہوتا تو ہم ان کو سزا دینے میں جلدی کرتے، یا اگر ان کا قول ربنا لو لا ارسَلْتَ الینا رسولاً الخ جو کہ مسبب ہے اصابت مصیبت کا نہ ہوتا تو ہم آپ کو ان کی طرف رسول بنا کر نہ بھیجتے پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق محمد ﷺ آپہنچا تو (اہل مکہ) کہنے لگے ان کو ایسی نشانی کیوں نہ ملی ؟ جیسی موسیٰ کو ملی تھی مثلاً یدبیضاء اور عصاء یا یکبارگی پوری کتاب، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا یہ لوگ منکر نہیں ہوئے اس کے جو موسیٰ کو اس سے پہلے دی گئی تھی انہوں نے موسیٰ اور محمد ﷺ کے بارے میں کہا دونوں جادو گر ہیں اور ایک قرأۃ میں سحرانِ ہے یعنی تورات اور قرآن جو ایک دوسرے کے معاون ہیں اور وہ یوں بھی کہتے ہیں کہ ہم دونوں نبیوں یا دونوں کتابوں میں سے کسی کو نہیں مانتے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اچھا تو تم اور کوئی کتاب اللہ کے پاس سے لے آؤ جو ہدایت کرنے میں ان دونوں کتابوں سے بہتر ہو میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو پھر اگر یہ لوگ کتاب لانے میں آپ کی بات نہ مانیں تو آپ سمجھ لیجئے کہ یہ کفر میں محض اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں اور ایسے شخص سے کون زیادہ گمراہ ہوگا ؟ جو اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہو بغیر اس کے کہ منجانب اللہ کوئی دلیل ہو یعنی اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں، اللہ تعالیٰ ایسے ظالم کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : وَعَادَ اس کا عطف قوم پر ہے نہ کہ نوح پر اس لئے کہ اگر نوح پر عطف ہو تو عاد کے لئے قوم کا ہونا لازم آئے گا حالانکہ عاد خود ایک قوم ہے تقدیر عبارت یہ ہے مِنْ بعد ما اَھْلکنا قوم نوحٍ وعاد وثمود بعد اس کے کہ ہم نے ہلاک کردیا قوم نوح اور عاد کو اور ثمود کو، لہٰذا مناسب تھا کہ عاد کو الف کے ساتھ لکھتے تاکہ نوح پر عطف کا اشتباہ نہ ہوتا۔ قولہ : بصائرَ یہ حذف مضاف کے ساتھ کتاب سے حال ہے ای ذا بصائرَ اگر مضاف محذوف نہ مانیں تو مبالغۃً بھی حال ہوسکتا ہے اور بصائر کتاب سے مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے اسی طرح ھُدًی اور رحمۃً میں بھی مذکورہ تینوں ترکیبیں ہوسکتی ہیں۔
قولہ : بجانب الجبل اوع الوادی او المکان اس عبارت کے اضافہ کا مقصد بصریین کے مذہب کے مطابق ہونے والے اعتراض کو دفع کرنا ہے، اعتراض یہ ہے کہ جانب کی اضافت الغربی کی طرف اضافت موصوف الی الصفت کے قبیل سے ہے اور یہ بصریین کے یہاں جائز نہیں ہے اس لئے کہ موصوف اور صفت ایک ہی شئ ہوتی ہے لہٰذا اس سے اضافت الشئ الی نفسہٖ لازم آتی ہے اور یہاں ایسا ہی ہے اس لئے کہ جانب اور غربی ایک ہی شئ ہیں، اس اعتراض کو دفع کرنے کے لئے غربی کا موصوف الجبل محذوف مان لیا تاکہ جانب کی اضافت جبل کی جانب ہو نہ کہ الغربی کی جانب، مفسر علام نے تین لفظ محذوف مانے ہیں ان تینوں میں سے کسی کو بھی جانب کا مضاف الیہ قرار دے سکتے ہیں، کو فیین کے مذہب کے مطابق مذکورہ اعتراض واقع نہیں ہوتا، اس قسم کی تعبیرات قرآنی اور حدیث میں بکثرت موجود ہیں۔
قولہ : وَمَا کنت منَ الشَّاھدین لِذٰلکَ اور آپ ان حالات و واقعات وغیرہ کو دیکھنے والے نہیں تھے، یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماقبل میں کہا گیا ہے کہ پہاڑ کی غربی جانب میں موجود نہیں تھے، اس سے مشاہدہ کی خود بخود نفی ہوجاتی ہے تو پھر وما کنت من الشاھدین کہنے سے کیا فائدہ۔
جواب کا ماحصل یہ ہے کہ حاضر ہونے کے لئے مشاہدہ ضروری نہیں ہے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان موجود تو ہوتا ہے مگر مشاہدہ نہیں کر پاتا، اسی وجہ سے ابن عباس نے فرمیا ا لم تحضر ذٰلک الموضع ولو حضرتہٗ ما شاھدتُ ما وقع فیہ۔
قولہ : تتلوا علیہم آیاتنَا جملہ ہو کر کنت کی خبر ثانی اور کنت کی ضمیر سے جملہ ہو کر حال بھی ہوسکتا ہے ھم ضمیر کا مرجع اہل مکہ ہیں، یعنی جب آپ اہل مکہ کو اہل مدین کے واقعات سنا رہے تھے تو آپ اہل مدین میں موجود نہیں تھے کہ ان کے حالات و واقعات کو دیکھ کر اپنی قوم کو سنا رہے ہوں، بلکہ ہزار ہا سال ما قبل کے ان تمام حالات و واقعات کی خبر آپ کو بذریعہ وحی دی جا رہی تھی جو کہ آپ کے نبی ہونے کی پختہ اور واضح دلیل ہے۔
قولہ : اَن خُذِ الکِتَاب بقوۃٍ میں ان تفسیر یہ یعنی نداء کی تفسیر ہے، مفسر علام نے ان خُذِ الکتابَ کو ایتاء تورات سے متعلق کیا ہے اور سابقہ آیت ومَا کنت بجانب الغربی کو نفس ارسال سے متعلق کیا ہے حالانکہ نفس ارسال اور ایتاء تورات کے درمیان تیس سال کا فاصلہ ہے، اور بعض حضرات نے اس کا عکس بھی کہا ہے۔
قولہ : لَوْلاَ اَنْ تصیبھُمْ مُصِیْبَۃٌ، لولا امتناعیہ ہے جو وجود اول کی وجہ سے انتقاء ثانی پر دلالت کرتا ہے، اَن تصبَھم میں أن مصدریہ ہے اور لولا اصابۃُ المصیبَۃ لھم کے معنی میں ہو کر مبتداء ہے اور مبتداء کی خبر موجودٌ محذوف ہے اور لولا کا جواب مَا اَرْسلْنَاک محذوف ہے دوسرا لَوْلاَ تحضیضیہ ہے اس کا جواب فَنَتَّبِعَ آیَاتِکَ مذکور ہے تقدیر عبارت یہ ہے لَوْلاَ قولُھُمْ ھٰذا اذا اَصَابَتْھُمْ مصِیبۃٌ لَمَا اَرْسلنَاکَ اِلَیھِمْ رسُولاً (خلاصہ) اصابۃِ عقوبۃ سبب ہے قول کا اور قول سبب ہے ارسال کا چونکہ سبب کا سبب سبب ہوتا ہے لہٰذا اصابۃِ مصیبۃ بواسطہ قول سبب ہوا اردال کا، اسی وجہ سے لولا کو اصابۃ پر داخل کردیا اور فاسببیہ کے ذریعہ فیقولوا کا اصابۃ پر عطف کردیا، یعنی آپ ﷺ کے ارسال کا سبب اہل مکہ کا یہ قول ہے، اگر اہل مکہ کا یہ قول نہ ہوتا تو ہم آپ کو رسول بنا کر نہ بھیجتے، یعنی عدم ارسال کے انتقاء (ارسال) کا سبب اہل مکہ کا قول لولا اَرْسلتَ الینا رسولاً ہے اور اس قول کا سبب اصابت مصیبت ہے۔
تنبیہ : عدم ارسال کا انتفاء نفی النفی اثبات کے معنی ہونے کی وجہ سے ارسال کے معنی میں ہے۔ قولہ : اَوْ لَوْلا قولھم المسبَّب عنھَا الخ یعنی اصابۃ مصیبۃ کے وقت ان کا قول انتقاء عدم رسالت کا سبب نہ ہوتا تو ہم ان کے عذاب میں جلد کرتے اور آپ کو رسول بنا کر نہ بھیجتے یہ تعبیر حاصل معنی کے اعتبار سے ہے، جس کا حاصل یہ ہے لولا کے جواب کے انتفاء کا سبب ان کا قول مذکور ہے، اسی وجہ سے المسبَّبُ عنھا قولھم کہا ہے۔
قولہ : ما ارسالناکَ یہ جواب منفی ہے یہ وجود شرط کی وجہ سے انتفاء جواب پر دلالت کر رہا ہے، فالمعنی انتفی عدم ارسالت الیھم لقولھم المذکور تاکہ نزول عذاب کے وقت ان کے عذر کو ختم کردیا جائے، ورنہ تو نزول عذاب کے وقت یہ عذر بیان کرسکتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی سابقہ امتوں کے مانند انبیاء آتے تو ہم بھی ایمان لاتے اور آج عذاب کی اس مصیبت میں مبتلا نہ ہوتے، آپ ﷺ کو مبعوث فرما کر ان کے اس عذر کو ختم کردیا، اگر کوئی شخص اعتراض کرے کہ اصابت مصیبت اور مذکورہ مقولہ تو آئندہ روز قیامت میں واقع ہوں گے اور لَوْلاَ کے وجود واقعی کی وجہ سے انتفاء ثانی پر دلالت کرتا ہے حالانکہ یہاں ایسا نہیں ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ مانع کبھی موجود ہوتا ہے اور کبھی مفروض یہاں ثانی صورت مراد ہے یعنی علی سبیل الفرض والتقدیر (جمل ملخصاً ) ۔
قولہ : او الکتاب سے مثل ما اوتی کی دوسری تفسیر کی طرف اشارہ ہے اور او الکتاب کا عطف الآیات پر ہے۔ قولہ : ساحران یہ مبتداء محذوف ھُمَا کی خبر ہے۔
تفسیر و تشریح
ترجمہ : ولقد اتینا۔۔۔۔۔ للناس قرون اولیٰ سے اقوام نوح وہود و صالح ولوط (علیہم السلام) مراد ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے اپنی سرکشی کی وجہ سے ہلاک کی گئی تھیں، بصائر بصیرۃٌ کی جمع ہے جس کے لفظی دانش و بینش کے ہیں اور مراد اس سے وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ انسانوں کے قلوب میں پیدا فرماتے ہیں، جس سے وہ حقائق اشیاء کا ادراک کرسکیں اور حق و باطل کا امتیاز کرسکیں۔
بَصَائر للناس اگر ناس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تورات ان کے لئے مجموعہ بصائر تھی، اور اگر ناس سے تمام انسان مراد ہیں جن میں امت محمدیہ بھی داخل ہے تو یہاں سوال پیدا ہوگا کہ امت محمدیہ کے زمانہ میں جو تورات موجود ہے وہ تحریفات کے ذریعہ مسخ ہوچکی ہے تو ان کے لئے بصائر کہنا کس طرح درست ہوگا اور یہ کہ اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ مسلمانوں کو بھی تورات سے استفادہ کرنا چاہیے حالانکہ حدیث میں حضرت عمر ؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے اجازت طلب کی کہ وہ تورات میں جو نصائح وغیرہ ہیں ان کو پڑھیں تاکہ ان کے علم میں ترقی ہو، اس پر رسول اللہ ﷺ نے غضبناک ہو کر فرمایا کہ اگر اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میرا ہی اتباع لازم ہوتا۔
اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تورات کا جو نسخہ اس وقت لوگوں کے پاس موجود تھا وہ محرف اور مسخ شدہ تھا اور اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا، نزول قرآن کا سلسلہ بھی جاری تھا، اس وقت آپ ﷺ نے قرآن کی مکمل حفاظت اور خلط ملط سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنی احادیث کو بھی لکھنے سے بھی بعض حضرات کو منع فرما دیا تھا، ان حالات میں کسی دوسری مسخ شدہ آسمانی کتاب کا پڑھنا پڑھانا ظاہر ہے کہ احتیاط کے خلاف تھا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تورات کا مطلقاً پڑھنا اور مطالعہ کرنا منع ہے ان کتابوں کے وہ حصے جو رسول اللہ ﷺ سے متعلق پیشین گوئیوں پر مشتمل ہیں ان کا مطالعہ کرنا اور نقل کرنا صحابہ کرام سے ثابت ہے، حضرت عبد اللہ بن سلام اور کعب احبار اس معاملہ میں سب سے زیادہ معروف ہیں، اس لئے حاصل آیت یہ ہوگا کہ توریت اور انجیل میں غیر محرف مضامین اب بھی موجود ہیں اور بلاشبہ بصائر ہیں ان سے استفادہ درست ہے مگر یہ استفادہ صرف ایسے لوگ ہی کرسکتے ہیں جو محرف اور غیر محرف میں فرق کرسکیں، عوام کو اس سے اجتناب اس لئے ضروری ہے کہ کہیں وہ کسی مغالطہ میں نہ پڑجائیں، یہی حکم ان تمام کتابوں کا ہے جن میں حق و باطل کی آمیزش ہو کہ عوام کو ان کے مطالعہ سے پرہیز کرنا چاہیے، علماء ماہرین کے لئے کوئی مضائقہ نہیں (معارف)
لتنذر۔۔۔ نذیر یہاں اس قوم سے عرب مراد ہیں جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں ہیں، اور ان کے بعد سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ تک ان میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ دوسری جگہ قرآن کا یہ ارشاد کہ اِنْ مِنْ اُمَّۃٍ اِلاَّ خَلاَفِیْھَا نَذِیْرٌّ کوئی امت ایسی نہیں کہ جس میں اللہ کا پیغمبر نہ آیا ہو، اس آیت کے منافی نہیں ہے کیونکہ اس آیت کی مراد یہ ہے کہ زمانہ دراز سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد ان میں کوئی نبی نہیں آیا، مگر رسول اور نبی آنے سے خالی یہ امت بھی نہیں رہی۔
وما کنت بجانب الغربی یعنی کوہ طور پر جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف بخشا اور اسے وحی رسالت سے نوازا تو اے محمد ﷺ آپ وہاں موجود نہیں تھے اور نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں تھے، بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں کہ جو وحی کے ذریعہ آپ کو بتلا رہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ پیغمبر برحق ہیں، اس لئے کہ نہ تو آپ نے یہ باتیں کسی سے سیکھی ہیں اور نہ خود ان کا مشاہدہ کیا ولولا ان تصیبھم مصیبۃ بما قدمت ایدیھم یعنی ان کے اس عذر کو ختم کرنے کے لئے آپ کو ہم نے رسول بنا کر بھیجا ہے کیونکہ طول زمانی کی وجہ سے گزشتہ انبیاء کی تعلیمات مسخ اور ان کی دعوت فراموش ہوچکی ہے اور ایسے ہی حالات کسی نبی کی ضرورت کے متقاضی ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات (قرآن و حدیث) کو مسخ ہونے سے محفوظ رکھا ہے، اور ایسا تکوینی نظام فرما دیا ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کی دعوت دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی ہے اور مسلسل پہنچ رہی ہے تاکہ کسی نبی کی ضرورت باقی نہ رہے۔
قالوا ساحر ان تظاھران مشرکین مکہ نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب اپنا ایک وفد مدینہ کے علماء یہود کے پاس آپ ﷺ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بھیجا تھا چناچہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کے حالات اور علامات کے بارے میں علماء یہود سے معلوم کیا تو علماء یہود نے جواب دیا کہ ہم تورات میں ان کی علامات اور صفات پاتے ہیں، چناچہ وقف نے مکہ آکر لوگوں کو اس کی خبر دی تو اس وقت ان لوگوں نے کہا ساحران تظاھران یا سحران تظاھران یہ دونوں جادوگر یا جادو ہیں جو ایک دوسرے کی موافقت کرتے ہیں۔ (جمل ملخصا)