Ayahs 28:51–60آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل (کی مشقت) پر صبر کرنے کی وجہ سے دوہرا اجر دئیے جائیں گے، اور یہ لوگ نیکی سے بدی کا دفعیہ کردیتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے (راہ خدا میں) صدقہ کرتے ہیں اور جب کسی سے لغو بات اور اذیت کی بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرلیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں ہمارا عمل ہمارے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے ہم تو تم کو سلام کرتے ہیں یہ سلام متارکت (یعنی پیچھا چھڑانے کا سلام) ہوتا ہے (نہ کہ سلام تحیہ) یعنی تم ہماری طرف سے گالی وغیرہ سے سلامت رہو ہم ناسمجھ لوگوں سے مصاحبت (الجھنا) نہیں چاہتے (آئندہ آیت) آپ ﷺ کے اپنے چچا ابو طالب کے ایمان پر زیادہ حریص ہونے کے بارے میں نازل ہوئی آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدایت کردیتا ہے، ہدایت پانے والوں کا علم اسی کو ہے تو آپ ﷺ کی قوم کہنے لگی اگر ہم آپ کے ساتھ ہو کر ہدایت کے تابعدار بن جائیں تو ہم اپنے ملک سے اچک لئے جائیں یعنی فی الفور ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کیا جائے کیا ہم نے ان کو امن اور امن والے حرم میں جگہ نہیں دی ؟ کہ وہ اس میں قتل و غارت گری سے جو کہ عرب میں باہم (عام طریقہ پر) واقع ہو رہی ہے مامون رہ رہے ہیں جہاں ہر قسم کے پھل ہر جانب سے کھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے ان کے لئے بطور رزق کے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں وہ حق ہے اور ہم بہت سی ایسی بستیاں ہلاک کرچکے ہیں جو اپنے سامان عیش پر نازاں تھیں اور قریہ سے اہل قریہ مراد ہیں یہ ہیں ان کے مکانات، جو ان کے بعد آئے نہ رہ سکے مگر بہت کم، مسافروں کے لئے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ اور آخر کار ہم ہی ان کے وارث رہے اور تیرا رب کسی ایک بستی کو بھی اہل بستی کے ظلم کی وجہ سے (اس وقت تک) ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ (بستیوں) کے صدر مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج دے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب کہ بستی والے رسولوں کی تکذیب کرکے ظلم پر کمر کس لیں اور جو کچھ تم کو دیا گیا ہے وہ محض دنیوی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے جس سے تم اپنی زندگی میں فائدہ اٹھاتے ہو اور اس سے زینت حاصل کرتے ہو پھر فنا ہوجاتا ہے ہاں اللہ کے پاس جو ہے وہ بہت ہی بہتر اور دیرپا ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟ یعقلون میں یا اور تا کے ساتھ دونوں قرأتیں ہیں اور یقیناً باقی فانی سے بدر جہا بہتر ہے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
وَصَّلْنَا ماضی جمع متکلم (تفعیل) ہم نے پے در پے بھیجا، ہم نے کھول کر بیان کیا۔ قولہ : الذین موصول اپنے صلہ سے مل کر جملہ ہو کر مبتدا ھُمْ مبتدا کی خبر اور بہٖ یومنون سے متعلق مبتداء ثانی اپنی خبر سے مل کر مبتدا اول کی خبر۔ قولہ : ایضاً ای کما آمنوا بکتابھم۔ قولہ : بصبرھم سے اشارہ کردیا کہ ما مصدریہ ہے۔ قولہ : یَدْرَءُوْنَ ، یُنْفِقُونَ ، وَاِذَا سِمِعُوْا ان سب کا عطف، یُوْتُوْنَ پر ہے۔
قولہ : وَالاَذٰی من الکفارِ یہ عطف عام علی الخاص کے قبیل سے ہے۔ قولہ : لا تَھْدِی مَنْ اَحْبَبْتَ اس میں ایصال الی المطلوب کی نفی ہے نہ کہ اراء ۃِ طریق کی، لہٰذا اس قول اور اِنَّکَ لَتَھْدِی اِلی صِراط المستقیمِ میں کوئی تعارض نہیں ہے وقالوا ای قومہ قوم سے مراد آپ ﷺ کی قوم ہے اور قائل حارث بن عثمان بن نوفل بن عبد مناف ہے۔ قولہ : یُجْبٰی ای یُحْمَلُ ویُسَاقُ الیہ، مِنْ کُلِّ اوبٍ ای من کلِّ جانبٍ ۔ قولہ : ثمرات کلِّ شیئ یہ کثرت سے کنایہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول اُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شیئٍ میں ہر ضرورت کی شئ مراد ہے نہ کہ دنیا کی ہر شئ۔
قولہ : معِیْشتھا ای عَیْشَھا معِیٌشتَھَا حذف مضاف کے ساتھ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے اور مفسر علام نے معِیْشۃً کی تفسیر عیشٌ سے کی ہے اب تقدیر عبارت یہ ہوگی بَطِرَتْ فِی زمن حیَاتِھا۔ قولہ : لَمْ تُسْکَنْ یہ جملہ ہو کر حال ہے اور عامل تِلْکَ بمعنی اشیر ہے تلک مبتداء کی خبر ثانی بھی ہوسکتی ہے۔ قولہ : وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِنْ شئ فَمَتاعُ الحیوٰۃِ الدنیا ما شرطیہ ہے اور مِن شیئٍ اس کا بیان ہے فمَتاعُ الحیوٰۃ الدنیا ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے اور جملہ ہو کر جواب شرط ہے۔
تفسیر و تشریح
ولقد وصلنا (الآیۃ) وصلنا توصلٌ سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی تاروں میں تار ملا کر رسی بٹنا، حق تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے انبیاء کی بعثت کا سلسلہ جاری رکھا یعنی ایک رسول کے بعد دوسرا اور ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب بھیجتے رہے حتی کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد رشد و ہدایت کا امت مرحومہ کے ذریعہ ایساتکوینی سلسلہ جاری فرما دیا کہ اب کسی نبی کی ضرورت نہیں رہی۔
شان نزول : الذین آتینھم الکتاب (الآیۃ) اس آیت میں ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے
پہلے ہی تورات اور انجیل کی دی ہوئی بشارتوں کی بناء پر آپ ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن پر یقین رکھتے تھے جب آپ ﷺ کی بعثت ہوئی تو اپنے سابق یقین کی بنا پر ایمان لے آئے، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نجاشی بادشاہ حبشہ کے درباریوں میں سے چالیس آدمی مدینہ طیبہ میں اس وقت حاضر ہوئے جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ خیبر میں مشغول تھے یہ لوگ بھی جہاد میں شریک ہوگئے، بعض کو کچھ زخم بھی لگے مگر ان میں سے کوئی مقتول نہیں ہوا، ان لوگوں نے جب صحابہ کرام کی معاشی تنگی کا حال دیکھا تو آپ سے درخواست کی کہ ہم اللہ کے فضل سے مالدار اور صاحب ثروت ہیں ہم اپنے ملک واپس جاکر صحابہ کے لئے مال فراہم کرکے لائیں آپ اجازت دیدیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (اخرجہ ابن مردویہ الطبرنی، مظہری) ۔ اور حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت جعفر ؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جب ہجرت مدینہ سے پہلے حبشہ گئے تھے اور نجاشی کے دربار میں اسلامی تعلیمات پیش کیں تو نجاشی اور اس کے اہل دربار جو اہل کتاب تھے اور توریت و انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی بشارت اور علامتیں دیکھے ہوئے تھے ان کے دلوں میں اسی وقت اللہ نے ایمان ڈال دیا۔ (مظہری)
اولئک یؤتون اجرھم مرتین بما صبروا صبر سے مراد ہر قسم کے حالات میں انبیاء اور کتاب الٰہی پر ایمان لانا اور اس پر ثابت قدمی سے قائم رہنا ہے، پہلی کتاب آئی تو اس پر اس کے بعد دوسری پر ایمان رکھا، پہلے نبی پر ایمان لائے اس کے بعد دوسرا نبی آیا تو اس پر ایمان لائے، ان کے لئے دوہرا اجر ہے، حدیث شریف میں بھی ان کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تین آدمیوں کے لئے دوہرا اجر ہے ان میں ایک وہ اہل کتاب ہے جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا اور پھر مجھ پر ایمان لایا۔ (مسلم شریف کتاب الایمان)
برائی کو جواب برائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف کردیتے ہیں اور درگزر سے کام لیتے ہیں، اور جاہلوں سے صاحب سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں یعنی ان لوگوں کی ایک عمدہ عادت یہ ہے کہ جب کسی جاہل دشمن سے لغویات سنتے ہیں تو اس کا جواب دینے کی بجائے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا سلام لو ہم جاہل لوگوں سے الجھنا پسند نہیں کرتے، اس کو سلام متارکت یا مسالمت کہتے ہیں اور جس سلام کی ممانعت ہے وہ سلام تحیہ ہے جو مسلمانوں میں بوقت ملاقات رائج ہے۔
شان نزول : انک لا تھدی من احببت (الآیۃ) جب آپ ﷺ کے ہمدرد اور غمگسار چچا ابو طالب کا انتقال ہونے لگا تو آپ ﷺ اپنے چچا کی خدمت میں تشریف لے گئے اور فرمایا چچا جان آپ اپنی زبان سے ایک مرتبہ یہ کلمہ لا الٰہ الاَّ اللہ کہہ لیں تاکہ میں روز قیامت اللہ کے سامنے سفارش کو سکوں لیکن دیگر رؤساء قریش موجود تھے جن کی وجہ سے ایمان سے محروم رہے، مگر یہ فرمایا اے میرے بھتیجے میں جانتا ہوں کہ تم سچے ہو لیکن میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ لوگ میرے مرنے کے بعد کہیں کہ موت سے ڈر گیا، اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا تو میں یہ کلمہ کہہ کر ضرور تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا ہے اس لئے کہ میں تمہارے شدت غم اور خیر خواہی کو دیکھ رہا ہوں، پھر یہ اشعار پڑھے
لقد علمت باَنّ دین محمد من خیر ادیان البریۃ دینا
لو لا الملامۃ او حذار مسبّہ لوجدتنی سمعًا بذاک مبینا
اور پھر فرمایا، لکنی سوف اموت علیٰ ملۃ الاشیاخ عبد المطلب وھاشم وعبد مناف ثم مات، نبی ﷺ کو اس بات کا بڑا قلق اور صدمہ ہوا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ اِنّکَ لا تھدی من اَحْبَبْتَ نازل فرمائی، یعنی کسی کو مومن بنادینا اور ایمان دل میں اتار دینا آپ کی قدرت میں نہیں ہے آپ کا کام کوشش کرنا ہے اور بس، تفسیر روح المعانی میں ہے کہ خواجہ ابو طالب کے کفر و ایمان کے بارے میں بےضرورت گفتگو اور بحث و مباحثہ سے اجتناب کرنا چاہیے کہ اس سے آنحضرت کی طبعی ایذا کا احتمال ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
وقالوا ان تتبع الھدیٰ معک یہ آیت الحارث بن عثمان بن نوفل بن مناف کے بارے میں نازل ہوئی تھی حارث بن عثمان وغیرہ نے اپنے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ بیان کی کہ اگرچہ ہم آپ کی تعلیمات کو حق جانتے ہیں مگر ہمیں خطرہ یہ ہے کہ اگر ہم آپ کی ہدایت پر عمل کرکے آپ کے ساتھ ہوجائیں تو سارا عرب ہمارا دشمن ہوجائے گا اور ہمیں ہماری زمین مکہ سے اچک لیا جائے گا (نکال باہر کیا جائے گا) قرآن کریم ان کے اس عذر لنگ کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے اَوَلَمْ نُمَکَنْ لَھُمْ (الآیۃ) یعنی ان کا یہ عذر اس لئے باطل ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے باوجود ان کی حفاظت کا ایک قدرتی سامان یہ کر رکھا ہے کہ ارض مکہ کو حرام بنادیا جس میں قتل و غارت گری سخت حرام ہے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و شرک کے باوجود اس سرزمین میں امن دے رکھا ہے تو ایمان لانے کی صورت میں وہ ان کو کیسے ہلاک ہونے دے گا ؟
Ayahs 28:61–75آیت نمبر 61 تا 75
ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے اور وہ گمراہی کے سردار ہوں گے اے ہمارے پروردگار یہ وہی لوگ ہیں جنہیں ہم نے بہکایا تھا یہ مبتداء اور اس کی صفت ہے اور اَغْوَیْنَاھُمْ اس کی خبر ہے ہم نے ان کو اسی طرح بہکایا جس طرح ہم خود بہکے تھے تو یہ بہک گئے ہم نے ان کو گمراہی پر مجبور نہیں کیا تھا ہم تیری سرکار میں ان سے اپنی طرف سے اظہار برأت کرتے ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، ما نافیہ ہے مفعول فواصل کی رعایت کے لئے مقدم کیا گیا ہے اور کہا جائے گا اپنے شرکاء کو بلا لو یعنی ان بتوں کو جن کو تم سمجھتے تھے کہ یہ میرے شریک ہیں چناچہ وہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کی پکار کا جواب تک نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، کاش یہ لوگ دنیا میں راہ راست پر ہوتے تو اس عذاب کو آکرت میں نہ دیکھتے اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ ان سے پکار کر پوچھے گا تم نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا ؟ پھر تو اس دن ان کی جواب میں پیش کرکے نجات دلانے والی سب دلیلیں گم ہوجائیں گی (یعنی ہ کے بکے رہ جائیں گے) یعنی ان کی سمجھ میں کوئی ایسی دلیل نہیں آئے گی کہ جس میں ان کی نجات ہو اور وہ آپس میں بھی دلیل کے بارے میں پوچھ تاچھ نہ کرسکیں گے جس کی وجہ سے لاجواب ہوجائیں گے البتہ جس شخص نے شرک سے توبہ کی اور ایمان لے آیا یعنی اللہ کی توحید کی تصدیق کی اور نیک اعمال کئے یعنی فرائض ادا کئے تو یقین ہے کہ ایسے لوگ اللہ کے وعدے کے مطابق کامیاب ہوں گے اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا چنتا ہے اور ان میں سے کسی مشرک کو کسی چیز میں کوئی اختیار نہیں اللہ ہی کے لئے پاکی ہے اور وہ برتر ہے ان کے شرک کرنے سے اور آپ کا رب ان سب کفر وغیرہ کی باتوں کو جانتا ہے جن کو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جس جھوٹ کو وہ اپنی زبان سے ظاہر کرتے ہیں وہی معبود ہے اس کے علاوہ کوئی لائق عبادت نہیں دینا اور آخرت میں جنت میں اسی کی تعریف ہے اور اسی کے لئے فرما روائی ہے (یعنی) ہر چیز میں اسی کا فیصلہ نافذ ہے اور زندہ کرکے اسی طرف لوٹائے جاؤ گے آپ اہل مکہ سے کہئے بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لئے قیامت تک رات رہنے دے تو خدا کے سوا تمہارے خیال میں وہ کونسا معبود ہے کہ تمہارے لئے دن کی روشنی کو لے آئے کہ جس میں تم روزی طلب کرو، کیا تم اس بات کو سمجھنے کے لئے سنتے نہیں ہو ؟ کہ تم شرک سے باز آجاؤ ان سے پوچھئے کہ یہ بھی بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ قیامت تک دن ہی دن رکھے تو تمہارے خیال کے مطابق اس کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے پاس رات لے آئے ؟ کہ جس میں تم تکان کی وجہ سے آرام کرو کیا تم شرک کے معاملہ میں اپنی غلطی کو نہیں دیکھتے (غور نہیں کرتے) کہ تم اس شرک سے باز آجاؤ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ رات میں آرام کرو اور دن میں کسب کے ذریعہ اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم رات اور دن کی نعمت کا شکر ادا کرو اور یاد کرو جس دن انہیں پکار کر اللہ فرمائے گا کہ جنہیں تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ ان کے شرک کو) دوبارہ ذکر کیا تاکہ آئندہ قول کی اس پر بناء کرے، ہم ہر امت سے ایک ایک گواہ نکال کر لائیں گے اور وہ ان کا نبی ہوگا جو کچھ انہوں نے اس سے کہا ہوگا اس پر شہادت دے گا تو ہم ان مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اپنے شرک کے دعوے پر دلیل پیش کرو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ الوہیتہ کے بارے میں سچی بات اللہ کی تھی کہ الوہیتہ میں اس کا کوئی شریک نہیں اور جو کچھ وہ دنیا میں گھڑا کرتے تھے کہ اس کا شریک ہے حالانکہ اللہ اس سے بری ہے وہ سب ان کے پاس سے غائب ہوجائے گا۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
وقال الذین۔۔۔ القول یہ جملہ مستانفہ ہے جو ایک سوال مقدر کے جواب میں واقع ہے جب مشرکین سے کہا جائے گا کہ میرے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کی تم پوجا پاٹ کیا کرتے تھے ؟ تو اس سوال کا جواب دینے کے بجائے مشرکین کے رؤساء اور اتباع میں جھگڑا شروع ہوجائے گا تابعین متبوعین کو مورد الزام قرار دیں گے اور متبوعین تابعین کو۔ قولہ : مبتداءً و صفتہٗ ھٰؤلاءِ اسم اشارہ موصوف اَلَّذِیْنَ اسم موصول اَغْوَینا جملہ ہو کر صلہ عائد محذوف اور وہ ھُمْ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اَغْوَیْنَاھُمْ موصول صلہ سے ملکر صفت موصوف صفت سے مل کر مبتداء، اور اَغوَیْنَا کمَا غَوَینَا مبتداء کی خبر۔
قولہ : قُدِّمَ المفعول للفاصل اصل میں مَا کانُوْا یَعْبُدُونَنَا تھا، فواصل کی رعایت کے لئے مفعول کو مقدم کردیا گیا، ما کانوا اِیَّانَا یعبدون ہوگیا، قولہ : مَا رَاؤہ فی الآخرۃ یہ لَوْ کا جواب ہے، اور بعض حضرات نے لاَنْجَاھُمْ ذٰلکَ محذوف مانا ہے یعنی اگر وہ دنیا میں ہدایت پر ہوتے تو ان کا ہدایت پر ہونا آخرت میں ان کو کامیاب کردیتا۔ قولہ : فعَمِیَتْ علَیْھم الانبَاءُ اس میں قلب ہے جو کہ محسنات کلام میں شمار ہوتا ہے، اصل یہ ہے فعَمُوا عن الاَنْبَاءِ شارح کے قول لَمْ یجدوا خَیْرًا لھُمْ فیہ سے اسی قلب کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قولہ : فعَمت علَیْھِمْ میں عمیٰ کا صلہ علیٰ خَفِیَ کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ قولہ : عَسٰی اَن یَّکُونَ عسیٰ یہاں تحقیق کے لئے ہے اس لئے کریموں کے یہاں توقع بھی یقین کا درجہ رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو اکرم الاکرمین ہیں لہٰذا اللہ کے کلام میں عسیٰ بمعنی حقَّقَ ہوگا، اور اگر ترجی ہی کے معنی میں لیا جائے تو تائب کے اعتبار سے ہوگا۔
شان نزول : وربک یخلق۔۔۔ ویختار جب آنحضرت ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو لوگوں کو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوئی خاص طور پر ولید بن مغیرہ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ پر نزول قرآن کو بڑا عجیب اور عظیم سمجھا اور کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کسی کو رسول بنانا ہی تھا تو مکہ اور طائف کے ان دو سرداروں میں سے کسی کو کیوں رسول نہیں بنایا ؟ تو اس کے بارے میں مذکورہ آیت نازل ہوئی (جمل) سَرْمَدًا جَعَلَ کا مفعول ثانی ہے بمعنی دائمًا سَرْدٌ سے مشتق ہے اس کے معنی متابعت اور لگاتار کے ہیں، میم زائدہ ہے، عرب اشہر حرام کے بارے میں بولتے ہیں، ثلالثۃٌ سردٌ واحد فردْ تین مسلسل ہیں اور ایک الگ ہے۔
قولہ : قل لھم۔۔۔۔ سرمدا یہ باب تنازع فعلان سے ہے اَرَأیْتُمْ اور جَعَلَ نے اللَّیْلَ میں نزاع کیا، دونوں ہی اللیل کو اپنا مفعول بنانا چاہتے ہیں، ثانی فعل کو عمل دیدیا اور اول کے لئے مفعول اول محذوف مان لیا اور وہ أرأیتموہٗ میں ہٗ ہے اور اس کا مفعول ثانی بعد میں واقع ہونے والا جملہ استفہامیہ ہے اور فعل ثانی کا مفعول ثانی سرمداً ہے، اِنْ حرف شرط ہے اور جَعَل فعل شرط اور اللہ اس کا فاعل ہے، اللیلَ جَعَلَ کا مفعول اول ہے اور سرمدًا مفعول ثانی ہے اور جواب شرط محذوف ہے وہ مَاذَا تفعَلونَ ؟ ہے ای اِن جَعَلَ اللہ علیکم النھار سرمدًا ماذا تفعلون۔ قولہ : ذُکِرَ ثانیًا لِیَبْنِیَ علیہ، قولہ : اَئِنْ شُرَکَائِیَ الَّذِیْنَ کنتُم تزعمونَ کو دو مرتبہ ذکر کیا ہے، یہی آیت شروع رکوع میں بھی آئی ہے، بیضاوی نے کہا ہے تقریعٌ بعد تقریحٍ یعنی ملامت کے بعد ملامت ہے اس لئے کہ شرک سے زیادہ کوئی شئی اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی نہیں ہے، یا اول ان کی فساد رائے کو بیان کرنے کے لئے ہے اور ثانی یہ بتانے کے لئے ہے کہ شرک کی بات کوئی مستند بات نہیں ہے بلکہ محض تشبہ اور ہوائے نفس ہے۔
تفسیر و تشریح
افمن وعدناہ وعدا حسناً یعنی اہل ایمان وعدۂ الٰہی کے مطابق نعمتوں سے بہرہ ور اور نافرمان عذاب سے دو چار ہوگا، کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟
محشر میں مشرکین سے پہلا سوال شرک سے متعلق ہوگا کہ جن شیاطین وغیرہ کو تم ہمارا شریک ٹھہرایا کرتے تھے اور ان کا کہنا مانتے تھے آج وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں ؟ سیدھا جواب دینے یا معذرت کرنے کے بجائے آپس میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے، تابعین کہیں گے کہ تمہارا کوئی قصور نہیں ہم نے از خود شرک نہیں کیا بلکہ ہمیں تو ان شیاطین نے بہکایا تھا، تو وہ شیاطین کہیں گے کہ ہم نے بہکایا ضرور تھا مگر مجبور تو ہم نے نہیں کیا تھا اس لئے مجرم تو ہم بھی ہیں مگر یہ بھی جرم سے بری نہیں کیونکہ جس طرح ہم نے ان کا بہکایا تھا اس کے بالمقابل انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائبوں نے ان کو ہدایت بھی تو کی تھی اور دلائل کے ساتھ ان پر حق واضح کردیا تھا، انہوں نے اپنے اختیار سے اپنے انبیاء کی بات نہ مانی، ہماری مان لی تو کیسے بری ہوسکتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے سامنے حق واضح ہوجائے اور حق کے دلائل واضحہ موجود ہوں اور وہ حق کی طرف دعوت دینے والوں کے بجائے گمراہ کرنے والوں کی بات مان کر گمراہی میں پڑجائے تو یہ کوئی عذر معتبر نہیں۔
وربک یخلق ما یشاء ویختار اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یختار سے مراد اختیار احکام ہے کہ حق تعالیٰ جب تخلیق کائنات میں منفرد ہے کوئی اس کا شریک نہیں تو اجراء احکام میں بھی منفرد ہے جو چاہے اپنی مخلوق پر احکام نافذ فرمائے، مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا اختیار تکوینی میں کوئی شریک نہیں اختیار تشریعی میں بھی کوئی شریک نہیں۔
اس کا دوسرا مفہوم وہ ہے جو اپنی تفسیر میں اور علامہ ابن قیم نے زاد المعاد میں بیان کیا ہے کہ اس اختیار سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق میں سے جس کو چاہیں اپنے اکرام و اعزاز کے لئے انتخاب فرما لیتے ہیں اور بقول بغوی یہ جواب ہے مشرکین مکہ کے اس قول کا لَوْلاَ نُزِّل ھٰذا القرآن علیٰ رجلٍ من القریتین عظیم یعنی یہ قرآن اللہ کو اگر نازل کرنا تھا تو عرب کے دو بڑے شہر مکہ اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل فرماتا، ایک یتیم مسکین پر نازل کرنے میں کیا حکمت و مصلحت تھی ؟ اس کے جواب میں فرمایا جس مالک نے تمام مخلوقات کو بغیر کسی شریک کی امداد کے پیدا فرمایا ہے یہ اختیار بھی اسی کو حاصل ہے کہ اپنے خاص اعزاز کے لئے اپنی مخلوق میں سے کس کو منتخب کرے اس میں وہ تمہاری تجویز کا کیوں پابند ہو کہ فلاں اس کا مستحق ہے اور فلاں نہیں۔
ومن رحمتہ جعل لکم اللیل والنھار (الآیۃ) دن اور رات یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں، رات کو تاریک بنایا تاکہ سب لوگ آرام کرسکیں اس اندھیرے کی وجہ سے ہر مخلوق سونے اور آرام کرنے پر مجبور ہے، ورنہ اگر آرام کرنے اور سونے کے اپنے اپنے اوقات ہوتے تو کوئی بھی مکمل طریقہ سے سونے کا موقع نہ پاتا، جبکہ معاشی تگ و دو اور کاروبار جہاں کے لئے نیند کا پورا کرنا نہایت ضروری ہے، اس کے بغیر توانائی بحال نہیں ہوسکتی، اگر کچھ لوگ سو رہے ہوتے اور کچھ جاگ کر مصروف تگ و دو ہوتے تو سونے والوں کے آرام و راحت میں خلل واقع ہوتا نیز لوگ ایک دوسرے کے تعاون سے بھی محروم رہتے جبکہ دنیا کا نظام ایک دوسرے کے تعاون و تناصر کا محتاج ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے رات کو تاریک کردیا تاکہ ساری مخلوق بیک وقت آرام کرے اور کوئی کسی کو نیند اور آرام میں مخل نہ ہوسکے، اسی طرح دن کو روشن بنایا کہ روشنی میں انسان اپنا کاروبار اور بہتر طریقہ سے کرسکے، ان کی اگر یہ روشنی نہ ہوتی تو انسان کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اسے ہر شخص بآسانی سمجھتا اور اس کا ادراک کرتا ہے۔
Ayahs 28:76–82آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا (یعنی) چچا زاد اور خالی زاد بھائی تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا، کبر و تعلّی اور
کثرت مال کے ذریعہ لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا تھا، اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور لوگوں کو گراں بار کردیتے تھیں یعنی ان کو بوجھل کردیتی تھیں باتعدیہ کے لئے ہے (اور اٹھانے والی جماعت کے افراد کی تعداد) کہا گیا ہے ستر تھی اور کہا گیا چالیس تھی اور کہا گیا کہ دس تھی، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے اس سے کہا کثرت مال پر مت اتراو اقعی اللہ تعالیٰ مال پر اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو مال تجھ کو اللہ تعالیٰ نے دے رکھا ہے اس میں دار آخرت کی بھی جستجو رکھ اس طریقہ پر کہ اللہ کی اطاعت میں خرچ کر، اور دنیا سے اپنا حصہ فراموش نہ کر بایں طور کہ دنیا میں آخرت کے لئے عمل کرتا رہ، اور لوگوں کے ساتھ صدقہ کے ذریعہ حسن سلوک کر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ حسن سلوک کیا ہے اور عمل معصیت کے ذریعہ ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اس معنی کر کہ ان کو سزا دے گا قارون نے جواب دیا یہ سب کچھ مجھے میری ذاتی ہنر مندی سے ملا ہے یعنی میری ہنرمندی کی بدولت اور بنی اسرائیل میں موسیٰ اور ہارون کے بعد سب سے زیادہ تو رات کا عالم تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا اسے اس بات کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی ایسی امتوں کو ہلاک کردیا کہ جو اس سے قوۃ میں بھی زیادہ تھیں اور مال کی جمع پونجی کے اعتبار سے بھی زیادہ تھیں یعنی اس کو اس بات کا علم ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کر دے گا، اور اللہ تعالیٰ ان کے ذنوب کا علم رکھنے کی وجہ سے ان کے ذنوب کے بارے میں سوال نہ کرے گا اور بغیر حساب (کتاب) کے دوزخ میں داخل کرے گا پس قاروں پوری آرائش (شان) کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے (ایک روز) اپنے بہت سے متبعین کے ہمراہ جو کہ زری اور ریشم کا لباس زیب تن کئے ہوئے تھے، زیورات سے لدے ہوئے خچروں اور گھوڑو پر سوار تھے نکلا، تو دنیوی زندگی کے متوالے کہنے لگے یا تنبیہ کے لئے ہے کاش ہمیں بھی کسی طرح وہ مل جاتا جو قارون کو دنیا میں دیا گیا ہے یہ تو بڑا نصیب دار ہے یعنی دنیا سے وافی حصہ پانے والا ہے (فیہا کے بجائے منہا انسب ہے) اور وہ لوگ جن کو ان چیزوں کا علم دیا گیا جن کا اللہ تعالیٰ نے آخرت میں وعدہ فرمایا ہے ان سے (بطور نصیحت) کہنے لگے ارے تمہارا ناس ہو (ویل) کلمہ توبیخ ہے آخرت میں اللہ کا ثواب (یعنی) جنت (ہزار درجہ) بہتر ہے اس سے جو قارون کو دنیا میں دیا گیا ہے جو ایسے شخص کو ملے گا جو ایمان لایا ہوگا اور نیک عمل کئے ہوں گے اور جنت جو بطور ثواب ملے گی ان ہی کو دیجائے گی جو طاعت و معصیت پر صبر کرنے والے ہیں آخر کار قارون کو معہ اس کے محل کے زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت نہ ہوئی کہ اس کی مدد کرتی (یعنی) ہلاکت سے اس کو بچا لیتی اور نہ وہ خود کو عذاب سے بچانے والوں میں ہوا، اور جو لوگ کل زمانہ قریب میں اس کے جیسا ہونے کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے بس جی یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے روزی میں وسعت کرتا اور جس کی چاہے تنگ کردیتا ہے اور وَیْ اسم فعل اِعجِبُ انا کے معنی میں ہے اور کاف بمعنی لام ہے اور اگر ہم پر اللہ کی مہربانی نہ ہوتی تو ہم کو دھنسا دیتا خَسَفَ معروف اور مجہول دونوں ہیں بس جی معلوم ہوگیا قارون کے مانند اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کو کامیابی نہیں ہوتی۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
ان قارونَ قارون عجمی (عبرانی) لفظ ہے، عجمہ اور علمیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے، قارون کے متعلق اتنی بات طے شدہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی برداری کافرد تھا، باقی رہی یہ بات کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کا کیا رشتہ تھا، اس میں مختلف اقوال ہیں، اول چچازاد بھائی تھا، دوسرا خالی زاد بھائی تھا یہ دونوں رشتے جمع بھی ہوسکتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی خالہ موسیٰ (علیہ السلام) کے چچا کے نکاح میں ہو، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، نسب اس طرح ہے قارون بن یَصْھَر بن قاھث، اور موسیٰ بن عمران بن قاہث تَنُوْءُ واحد مؤنث ناء یَنُوْء نوءً (ن) جھکنا، گراں بار ہونا۔
قولہ : اِنّ مفَاتِحَہٗ لَتَنُوْءَ بِالعصبۃِ لَتَنُوْءَ بِالعُصْبَۃِ میں دو صورتیں ہیں (اول) یہ باء تعدیہ کے لئے ہو اس صورت میں معنی یہ ہوں گے لَتَنُوْءَ المَفَاتِحُ العُصبۃ الاَقوِیَاء یعنی کنجیاں اس قدر زیادہ تھیں کہ طاقتور لوگوں کی ایک جماعت کو بھی گراں بار کردیتی تھیں، اس صورت میں قلب نہیں ہے (دوسری) لَتَنُوْءَ بِالعُصبَۃِ میں قلب مانا جائے اور معنی یہ ہوں لَتَنُوْءَ المفاتحُ العُصبَۃ وی کنجیاں ایک قوی جماعت کو گراں بار کردیتی تھی، اس لئے کہ اگر قلب نہ مانا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا کہ اقویاء کی جماعت کنجیوں کو گراں بار کردیتی تھی، ظاہر ہے کہ یہ خلاف عقل ہے۔
قولہ : وَلاَ یُسْئلُ عن ذُنوبِھِمْ المجرمون سوال : ایک آیت میں ہے فَوَ رَبِّکَ لَنَسْاَلَنَّھُمْ اَجمعینَ عَمَّا کانُوْا یَعملونَ پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مجرمین سے ان کے جرائم کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا اور بغیر حساب و کتاب جہنم میں داخل کردیا جائے گا، اور دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مجرمین سے ان کے جرائم کے بارے میں سوال کیا جائے گا، دونوں میں تطبیق کی کیا صورت ہے ؟
جواب : سوال کی دو قسمیں ہیں سوال استعتاب کہ سوال کرنے کے بعد معاف کردیا جاتا ہے جیسا کہ بعض عصاۃ مومنین کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے گا۔
دوسرا سوال : تقریح جس کے بعد جہنم میں داخل کردیا جائے گا، یہاں اول قسم کے سوال کی نفی مراد ہے، لہٰذا کوئی تعارض نہیں ہے۔ قولہ : فَخَرَجَ اس کا عطف قال انما اوتیتہٗ پر ہے درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔ قولہ مِن فِیَۃٍ یَنْصُرُوْنَہٗ فئۃٌ کان کا اسم بھی ہوسکتا ہے اگر کان ناقصہ ہو تو لَہٗ اس کی خبر، اور اگر کان تامہ ہو تو فِئۃ اس کا فاعل ہوگا اور ینصرونہ فِئۃ کی صفت فِئۃ لفظاً مجرور ہوگا اور معناً مرفوع اس لئے کہ من زائدہ۔ قولہ : مِن دون اللہ فئۃ سے حال ہے۔ قولہ : بِالاَمسِ سے اس کے حقیقی معنی کل گزشتہ مراد نہیں ہیں، بلکہ زمانہ قریب مراد ہے زمانہ قریب کو مجازاً اَمْسِ سے تعبیر کردیتے ہیں۔
قولہ : وَیٌکَأَنَّ یہ کلمہ تعجب اور زجر ہے وَیْ کَ سے مرکب ہے کاف ضمیر خطاب ہے اور اَنّ حرف مشبہ بالفعل ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ وَا اسم ہے جو تعجب پر دلالت کرتا ہے، اس وا کے بعد کبھی کبھی ھا بڑھا دیتے ہیں معنی تعجب ہی کے رہتے ہیں، اور کبھی وَا کو وَیْ پڑھتے ہیں اور اس کے بعد کأنّ لگا دیتے ہیں وَیْکَاَنَّ مَنْ یکن لہ نَشَبٌ یُحْبَبْ ومن یفتقر یعیش عیش ضر ” ارے جس کے پاس زر کثیر ہوتا ہے اس سے محبت کی جاتی ہے اور جو محتاج ہوتا ہے وہ دکھ کی زندگی گزارتا ہے “۔ (لغات القرآن)
تفسیر و تشریح
سورة قصص میں بیان کردہ واقعات میں سے یہ دوسرا واقعہ ہے پہلا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تھا، یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور انکی برادری بنی اسرائیل کے ایک شخص قارون کے ساتھ ہے۔
ربط : دونوں واقعات میں مناسبت یہ ہے کہ پچھلی آیت میں یہ اشارہ ہوا تھا کہ دنیا کی مال و دولت جو تم کو دی جاتی ہے وہ چند روزہ متاع ہے اس کی محبت میں لگ جانا اور اس پر فریفتہ ہو کر آخرت کو فراموش کردینا دانشمندی نہیں ہے وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الحَیٰوۃِ الدُّنیَا الآیۃ قارون کے قصہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس نے مال و دولت حاصل ہونے کے بعد اس نصیحت کو بھلا دیا اور دنیا کی مال و دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگا اور اس کے ذمہ جو مالی حقوق واجبہ تھے ان کی ادائیگی سے منکر بھی ہوگیا۔ جس کے نتیجہ میں وہ اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔
قارون عجمی لفظ ہے غالباً عبرانی ہے قارون کے متعلق اتنی بات تو قرآن ہی سے معلوم ہوتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی برادری بنی اسرائیل کا شخص تھا، مگر اس بات میں کافی اختلاف ہے کہ اس کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا رشتہ تھا ؟ بعض نے چچا زاد بھائی اور بعض نے خالہ زاد بھائی بتایا ہے اور بعض نے دونوں کہا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ وابن جریج و قتادہ و ابراہیم سے مروی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا، نسب اس طرح ہے موسیٰ بن عمران بن قاہث بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) اور قارون کا نسب اس طرح ہے، قارون بن یصہر بن قاہث اور مجمع البیان میں عطاء عن ابن عباس انہ ابن خالۃ موسیٰ (علیہ السلام) اور محمد بن اسحٰق سے مروی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا تھا، نسب اس طرح بیان کرتے ہیں موسیٰ بن عمران بن یصہر بن قاہث، قارون بن یصہر بن قاہث۔ (روح المعانی
قارون تورات کا حافظ تھا نیز موسیٰ و ہارون کے بعد تیسرے درجہ کا عالم بھی مگر سامری کے مانند منافق تھا قیادت وسیادت چونکہ حضرت موسیٰ و ہارون کے پاس تھی جس کی وجہ سے قارون کو حسد تھا ایک مرتبہ قارون نے اپنے حسد کا اظہار بھی کردیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ سب اللہ کے اختیار کی بات ہے ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں ہے چناچہ قارون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔ (روح المعانی)
اور اپنے مال و دولت کے نشہ میں دوسروں پر ظلم کرنا شروع کردیا، یحییٰ بن سلام اور سعید بن مسیب نے فرمایا کہ قارون سرمایہ دار آدمی تھا فرعون کی جانب سے بنی اسرائیل کی نگرانی پر مامور تھا، اس امارت کے زمانہ میں اس نے بنی اسرائیل کو بہت ستایا بغٰی کے ایک معنی تکبر کے بھی آتے ہیں بہت سے مفسرین نے اس جگہ یہی معنی مراد لئے ہیں یعنی مال و دولت کے نسہ میں بنی اسرائیل پر تکبر کرنے لگا اور ان کو حقیر و ذلیل سمجھنے لگا۔
واتیناہ من الکنوز، کنوز کنز کی جمع ہے مدفون خزانہ کو کہتے ہیں، اور اصطلاح شرح میں کنز اس مال کو کہا جاتا ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو، حضرت عطاء سے روایت ہے کہ اس کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ایک عظیم الشان مدفون خزانہ مل گیا تھا۔ (روح ملخصاً ) ۔ لنتوء بالعصبۃ ناء ینوء نوءُ بوجھ سے جھک جانا، عصبہ کے معنی جماعت، مطلب یہ ہے کہ اس کے سونے اور چاندی سے بھرے ہوئے صندوق اس قدر تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو جھکا دیتی تھیں خدا کی نعمت پر خوشی کا اظہار اگرچہ مذموم نہیں ہے مگر اس قدر خوشی کرنا کہ اترانے اور تکبر کی حد تک پہنچ جانے اور دوسروں کو ذلیل و حقیر سمجھنے لگے جائز نہیں، قرآن کریم نے فرح کو متعدد آیات میں مذموم قرار دیا ہے۔
وابتغ فیما آتاک اللہ (الآیۃ) مسلمانوں نے قارون کو یہ نصیحت کہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت تجھے عطا فرمائی ہے اس کے ذریعہ آخرت کا سامان فراہم کر اور دنیا میں جو تیرا حصہ ہے اسے فراموش نہ کر اور یہ کہ دنیا میں آخرت کے لئے عمل کرتا رہ، حدیث شریف میں وارد ہے اغتنم خمساً قبل خمسٍ سبابکَ قبل ھرمک وصحتکَ قبل سقمک وغناء کَ قبل فقرک وفراغَک قبل شغلک وحیاتک قبل موتِکَ (حدیث مرسل) جمل۔
انما اوتیتہٗ قارون نے یہ جملہ مومنین ناصیحین کے جواب میں کہا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میرے مال و دولت کے حصول میں فضل خداوندی کا کوئی دخل نہیں ہے، یہ مال و دولت تو مجھے میرے ذاتی کمال عمل کی وجہ سے ملا ہے اس کا خود حقدار ہوں اس میں مجھ پر کسی کا احسان نہیں ہے، ظاہر یہ ہے کہ آیت میں علم سے مراد معاشی تدابیر کا علم ہے، مثلاً تجارت صنعت وغیرہ اور بعض مفسرین نے علم سے تورات کا علم مراد لیا ہے، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ قارون تورات کا حافظ اور عالم تھا، اور اس ستر اصحاب میں سے تھا جن کو موسیٰ (علیہ السلام) نے میقات کے لئے منتخب فرمایا تھا مگر اس کو اپنے عمم پر ناز اور غرور پیدا ہوگیا، اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھ بیٹھا۔
انما اوتیتہ علیٰ علم عندی کے ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ اللہ کے علم میں یہ بات ہے کہ میں اس کا مستحق تھا اسی لئے مجھے یہ نعمتیں ملی ہیں، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ علم کیمیا (سونا بنانے کا علم) آتا تھا، مگر امام ابن کثیر نے اس کو محض فریب اور دھوکا قرار دیا ہے، مال و دولت کی فراوانی یہ کوئی فضیلت کا باعث نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو پچھلی قومیں تباہ و برباد نہ ہوتیں اس لئے قارون کا اپنی دولت پر گھمنڈ کرنا اور اسے باعث فضیلت سمجھنا کوئی معقول بات نہیں ہے۔
فخرج علیٰ قومہٖ فی قینتہٖ ایک روز قارون اپنے ہزار ہا مصاحبین اور خدم و حشم کی معیت میں بڑی شان و شوکت اور زیب وزینت کے ساتھ نکلا، جب کچھ دنیا دار مسلمانوں نے یا کافروں اور منافقوں نے قارون کی زیب وزینت اور کروفر اور دنیوی چمک دمک کو دیکھا تو اس کے جیسا ہونے کی تمنا کی اور قارون کے بارے میں کہنے لگے قارون بڑا ہی نصیب دار، اور اقبال مند ہے۔
وقال الذین اوتوا العلم دنیا دار لوگوں کے برخلاف اہل علم کہ جن کو دنیا و آخرت ثواب و عقاب اور امم سابقہ کی ہلاکت و بربادی اور اللہ کے وعدوں کا علم دیا گیا تھا نے کہا ارے کمبحثو ! دنیا کی یہ زیب وزینت جس کی تم تمنا کر رہے ہو چند روز ہے، ہمیشہ باقی رہنے والا تو آخرت کا اجروثواب ہے لہٰذا تم اس چند روزہ زینت پر فریفتہ مت ہو اس کی حقیقت (حضراء دمن) کوڑی کے سبزے سے زیادہ نہیں، آخرت کا اجر وثواب ایمان والوں نیکوکاروں ہی کو ملتا ہے، اس آیت میں علماء کا مقابلہ الذین یریدون الحیوۃ الدنیا
سے کہا گیا ہے جس میں واضح اشارہ اس طرف ہے کہ متاع دنیا کو مقصود بنانا اہل علم کا کام نہیں۔
قارون کے زمین میں دھنسنے کا قصہ تاریخی روایات کی روشنی میں : ارباب تاریخ لکھتے ہیں کہ جب سیادت و قیادت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر مقرر ہوگئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو (بیت القربان) یعنی قربانیوں کا نگراں مقرر فرما دیا، یعنی جو نذر آئے، وہ ہارون کی معرفت ان کی نگرانی میں قربان گاہ میں رکھی جائے اور آسمانی آگ آکر اس کو جلا دے، گویا کہ یہ قربانی کے مقبول ہونے کی علامت تھی، قارون کو اس بات پر حسد ہوا اور کہا آپ پیغمبر بھی ہیں، اور رئیس قوم بھی، اور ہارون قربان گاہ کے نگراں اور میں تورات کا بھی حافظ ہوں مجھے کیونکر صبر آئے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ امر منجانب اللہ ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں ہے، قارون کہنے لگا میں کیسے یقین کروں کہ یہ امر منجانب اللہ ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو جمع ہونے کا حکم دیا جب سب جمع ہوگئے تو آپ نے حکم دیا کہ تم سب اپنی اپنی لاٹھیاں لاؤ جس کی لاٹھی سرسبز ہوجائے وہ قربانگاہ کی نگرانی کا مستحق ہوگا سب لاٹھیوں کو جمع کرکے ایک مکان میں بند کردیا گیا جب صبح کو دیکھا تو حضرت ہارون کا عصا سرسبز ہوگیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا دیکھا یہ فعل میرا نہیں تھا، قارون نے کہا یہ تو جادوگروں کا کرشمہ ہے قارون نے کھلا پلا کر بنی اسرائیل کے بہت سے سرداروں کو اپنی طرف کرلیا، جب اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ واجب فرمائی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قارون کے پاس آئے اور فی ہزار ایک دینار دینا طے ہوا مگر جب قارون نے حساب لگایا تو کثیر مال ہوا تو گھبرایا اور بنی اسرائیل کو جمع کرکے کہنے لگا موسیٰ (علیہ السلام) نے اب تک جو کچھ کہا تم نے مانا، مگر ان کو کفایت نہ ہوئی اب تمہارا مال لینے کی فکر میں ہے، قوم نے کہا تم ہمارے بڑے اور عقل مند ہو، جو تم کہو گے ہم تسلیم کریں گے، قارون نے کہا فلاں زن فاحشہ کو لاؤا سے کچھ دیکر آمادہ کریں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تہمت لگائے جب قوم یہ بات سنے گی تو موسیٰ (علیہ السلام) سے باغی ہوجائے گی اور ہم سب کو اس غلامی سے نجات مل جائے گی، غرضیکہ وہ عورت آئی اور اسے بہت کچھ دے دلا کر تہمت لگانے پر راضی کرلیا قارون اور اس کے ساتھ بنی اسرائیل کو جمع کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس لے گئے اور عرض کیا یہ لوگ حاضر ہیں آپ ان کو وعظ فرمائیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) باہر تشریف لائے اور وعظ فرمانے لگے اور منجملہ تمام احکامات کے چور کا ہاتھ کاٹنے اور تہمت کی سزا اسی کوڑے اور اگر زانی غیر محصن ہو تو سو کوڑے اور اگر محصن ہو تو سنگسار کرنے کا حکم بیان فرمایا، قارون بولا اگر یہ حرکت آپ نے فلاں عورت سے فعل بد کیا ہے، آپ نے فرمایا اس عورت کو بلاؤ، اگر وہ عورت گواہی دے تو سچ ہے وہ عورت بلائی گئی، جب عورت حاضر ہوگئی تو حضرت موسیٰ نے فرمایا اے عورت کیا میں نے تیرے ساتھ وہ فعل کیا جو یہ لوگ کہتے ہیں اور میں تجھے اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے بنی اسرائیل کے لئے دریا میں شگاف کردیا اور توریت نازل فرمائی تو سچ سچ بتا وہ عورت سکھائے ہوئے کید شیطانی کو بھول گئی اور کہنے لگے یہ لوگ جھوٹے ہیں مجھے قارون نے اس قدر مال دیکر راضی کیا تھا کہ میں اپنے ساتھ آپ کو مہتم کروں، قارون یہ بات سن کر گھبرا گیا اور سرجھکا لیا اور سردار خاموش ہوگئے اور عذاب الٰہی سے خوف زدہ ہوگئے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سجدہ میں گرپڑے اور رورو کر عرض کیا اے میرے رب تیرے اس دشمن نے مجھے ایذا دی اور مجھے رسوا کرنا چاہا اگر میں تیرا رسول ہوں تو تو مجھے اس پر مسلط کر دے، خدا تعالیٰ کی جانب سے وحی آئی فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) سر اٹھاؤ اور زمین کو حکم دو جو کہو گے وہ بجا لائے گی چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے زمین کو حکم دیا کہ قارون کو نگل لے، چناچہ زمین نے بتدریج نگلنا شروع کیا، ادھر قارون یا موسیٰ یا موسیٰ چلاتا رہا گڑ گڑاتا رہا یہاں تک کہ ستر مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا مگر کچھ فائدہ نہ ہوا اور زمین میں غائب ہوگیا۔ (مظہری)
پھر بنی اسرائیل کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لئے قارون کو دھنسا دیا کہ اس کے مال پر قبضہ کرلے، پھر آپ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ اس خزانہ کو بھی زمین میں دھنسا دے چناچہ اس کا خزانہ بھی دھنس گیا اور برابر دھنستا ہی چلا جا رہا ہے۔ (خلاصۃ التفاسیر تائب لکھنوی)
واصبح الذین تمنوا مکانہ بالامس یعنی جو لوگ قارون کی تروی اور خوشحالی دیکھ کر کل یہ آرزو کر رہے تھے کہ کاش ہم کو بھی ایسا ہی عروج حاصل ہوتا، آج اس کا یہ برا انجام دیکھ کر کانوں پر ہاتھ دھرنے لگے، اب ان کو ہوش آیا کہ ایسی دولت حقیقت میں ایک خوبصورت سانپ ہے جس کے اندر مہلک زہر بھرا ہوا ہے کسی شخص کی دنیوی ترقی اور عروج کو دیکھ کر ہم کو ہرگز یہ فیصلہ نہیں کرلینا چاہیے کہ اللہ کے یہاں وہ کچھ عزت اور وجاہت رکھتا ہے، دنیا کی ترقی اور وجاہت کسی کے مقبول یا مردود ہونے کا معیار نہیں بن سکتی، اللہ تعالیٰ جس کے لئے مناسب سمجھے روزی کے دروازے کشادہ کردے اور جس پر چاہے تنگ کر دے، مال و دولت کی فراخی و فراوانی مقبولیت اور محبوبیت کی دلیل نہیں بلکہ بسا اوقات اس کا نتیجہ تباہی اور ابدی ہلاکت کی صورت میں نمودار ہوتا ہے
کما عاقلٍ عاقلٍ اعیت مذاھبہ کم جاھلٍ جاھلٍ تلقاہ مرزوقا
ھٰذا الذی ترک الاوھام حائرۃ وصیّرَ العالِمَ النحریر زندیقًا
Ayahs 28:83–88آیت نمبر 83 تا 88
ترجمہ : یہ دار آخرت یعنی جنت ہم انہیں لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ ظلم کے ذریعہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ نافرمانی کرکے فساد کرتے ہیں اور بہتر انجام فرما نبرداری کرکے اللہ کے عذاب سے ڈرنے والوں کے لئے ہے جو شخص نیکی لیکر آئے گا اس کو اس سے بہتر ملے گا ان کو نیکیوں کا اجر ملے گا اور وہ ان نیکیوں کا دس گنا ہوگا اور جو شخص بدی لیکر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کا کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے جس خدا نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لوٹانے والا ہے یعنی مکہ (کی طرف) اور آپ نے مکہ کے لئے اشتیاق ظاہر فرمایا تھا، آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت لیکر آیا ہے اور کون صریح گمراہی میں ہے یہ آیت کفار مکہ کے اس قول کے جواب میں نازل ہوئی کہ ان لوگوں نے آپ کے بارے میں کہا کہ تم تو صریح گمراہی میں ہو، یعنی آپ ﷺ تو ہدایت لیکر آنے والے ہیں اور وہ گمراہی میں ہیں اور اعلم عالم کے معنی میں ہے آپ کو تو یہ توقع نہ تھی کہ آپ پر یہ کتاب قرآن نازل کی جائے گی مگر آپ پر محض آپ کے رب کی مہربانی سے نازل کی گئی لہٰذا آپ کافروں کے ان کے دین کے بارے میں جس کی طرف وہ آپ کو دعوت دیتے ہیں ہرگز معاون نہ بنیں اور (خیال رکھئے) کہ یہ کفار آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تبلیغ سے روک نہ دیں، بعد اس کے کہ وہ آیتیں نازل ہوچکی ہیں وَلاَ یَصُدُّنَّکَ اصل میں یَصُدُّوْنَنَکَ تھا، نون رفع کو جازم کی وجہ سے حذف کردیا گیا، اور واؤ فاعل کو نون ساکنہ کے ساتھ التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا، یعنی آپ اس معاملہ میں ان کی (خرافات کی) طرف التفات نہ کیجئے اور آپ لوگوں کو اپنے رب کی توحید و عبادت کی طرف دعوت دیتے رہئے اور ہرگز ان کی اعانت کرکے مشرکوں میں سے نہ ہوجئے اور جازم (یعنی لا) نے فعل کو مبنی ہونے کی وجہ سے جزم نہیں دیا اور اللہ کے ساتھ کسی غیر کی بندگی نہ کیجئے، بجز اللہ کے کوئی اور معبود نہیں اس کی ذات کے سوا ہر شئ فنا ہونے والی ہے اسی ذات کا فیصلہ نافذ ہونے والا ہے اور قبروں سے زندہ کرنے کے بعد تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
تحقیق، و ترکیب و تفسیری فوائد
تلک الدار الآخرۃ تلک مبتداء موصوف الدار الآخرۃ بترکیب توصیفی اس کی صفت نَجْعَلُھَا جملہ ہو کر اس کی خبر۔ قولہ : لَزَادُّکَ اِلیٰ مَعَادٍ معاد سے اکثر مفسرین نے مکہ مراد لیا ہے اور بعض نے مقام محمود مراد لیا ہے۔ قولہ : وَلاَ یَصُدُّنَّکَ لاَ ناہیہ جازمہ ہے اور یَصُدُّنُّکَ فعل مضارع مجزول اور علامت جزم حذف نون اور واؤ فاعل کاف مفعول بہ اور نون تاکید۔ قولہ : عَنْ آیَاتِ اللہِ یہاں مضاف محذوف ای عن تبلیغ آیات اللہ۔ قولہ : لَمْ یُؤثِر الجَازِم ولا تکوننَّ میں لا جازمہ نے لفظوں میں کوئی اثر نہیں کیا اگرچہ محلاً اثر کیا ہے، اثر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تکوننَّ تاکید ثقیلہ کی وجہ سے مبنی ہوگیا ہے۔
قولہ : تعبدُ تدْعُ کی تفسیر تَعْبُدْ سے کرکے خوارج کا رد کیا ہے، خوارج کہتے ہیں کہ طلب خواہ زندہ سے ہو یا مردہ سے شرک ہے، یہ خوارج کا جہل ہے اس لئے کہ مؤثر بالذات سمجھ کر غیر اللہ سے طلب شرک ہے، مگر اسباب کے درجہ میں طلب شرک نہیں ہے۔
تفسیر و تشریح
للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا اس آیت میں دار آخرت کی نجات اور فلاح کی صرف ان لوگوں کے لئے مخصوص فرمایا گیا ہے جو زمین میں علو اور فساد کا ارادہ نہ کریں، علو سے مراد تکبر ہے یعنی اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا بنانے بڑا سمجھنے اور دوسروں کا حقیر کرنے کی فکر اور فساد سے مراد لوگوں پر ظلم کرنا۔
فائدہ : تکبر جس کی حرمت اور وبال اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے وہ وہی ہے جس میں لوگوں پر تفاخر اور ان کی تحقیر مقصود ہو، ورنہ اپنے لئے اچھے لباس اچھی غذا اچھے مکان کا انتظام جبکہ دوسروں پر تفاخر کے لئے نہ ہو مذموم نہیں، جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اس کی تصریح ہے۔
معصیت کا پختہ عزم بھی معصیت ہے : اس آیت میں علو اور فساد کے ارادہ پر دار آخرت سے محروم ہونے کے وعید ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کسی معصیت کا پختہ ارادہ جو عزم مصمم کے درمہ میں ہو، وہ بھی معصیت ہی ہے، (کما فی الروح) البتہ پھر اگر وہ خدا کے خوف سے اس ارادہ کو ترک کر دے تو گناہ کی جگہ ثواب اس کے اعمال نامہ میں درج ہوتا ہے، اور اگر کسی غیر اختیاری سبب سے اس گناہ پر قدرت نہ ہوئی اور عمل نہ کرسکا مگر اپنی کوشش گناہ کے لئے پوری کی تو وہ بھی معصیت اور گناہ میں لکھا جائے گا (کما ذکرہ الغزالی) آخر آیت میں فرمایا والعاقبۃُ للمتقین اس کا حاصل یہ ہے کہ آخرت کی نجات اور فلاح کے لئے دو چیزیں تکبر و فساد سے اجتناب ضروری ہے، اور تقویٰ یعنی اعمال صالحہ کی پابندی بھی ضروری ہے صرف تکبر اور فساد سے اجتناب کرلینا کافی نہیں بلکہ فرائض و واجبات کا ادا کرنا بھی شرط ہے۔ (معارف)
ان الذی فرض علیک القرآن (الآیۃ) آخر سورت میں یہ آیات رسول ﷺ کی تسلی اور اپنے فریضہ رسالت و نبوت پر پوری طرح قائم رہنے کی تاکید کے لئے ہے۔
شان نزول : ائمہ تفسیر میں سے مقاتل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت کے وقت غار ثور سے رات کے وقت نکلے اور مدینہ جانے والے معروف راستہ کو چھوڑ کر غیر معروف راستہ سے سفر کیا کیونکہ دشمن تعاقب میں تھے، جب مقام جحفہ پر پہنچے جو مدینہ طیبہ کے راستہ کی مشہور منزل رابغ کے قریب ہے اور وہاں مکہ سے مدینہ کا معروف راستہ مل جاتا ہے اس وقت مکہ مکرمہ کے راستہ پر نظر پڑی تو آپ ﷺ کو بیت اللہ اور اپنا وطن عزیز یاد آگیا، اسی وقت جبرئیل امین مذکورہ آیت لیکر نازل ہوئے جس میں آپ کو بشارت دی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ سے یہ جدائی چند روزہ ہے بالآخر آپ کو پھر مکہ پہنچا دیا جائے گا جو فتح مکہ کی بشارت تھی، حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت میں ہے کہ یہ آیت چونکہ جحفہ میں نازل ہوئی تھی جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ہے لہٰذا یہ آیت نہ مکی ہے اور نہ مدنی۔
تم المجلد الرابع بالخیر