Ayahs 27:1–14آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کیلئے ان کے اعمال قبیحہ کو مزین کردیا ہے، خواہش نفس کی آمیزش کی وجہ سے حتی کہ وہ برے اعمال کو بھی اچھے سمجھتے ہیں سو وہ بھٹکتے پھرتے ہیں (یعنی) وہ ان اعمال میں متحیر ہیں ہمارے نزدیک قبیح ہونے کی وجہ سے یہی ہیں وہ لوگ جن کے لئے بڑا عذاب ہے یعنی دنیا میں سخت عذاب ہے (وہ) قتل و قید ہے اور وہ لوگ آخرت میں بھی سخت خسارہ میں ہیں ان کے دائمی عذاب کی طرف لوٹنے کی وجہ سے یقیناً آپ کو حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن مشقتوں کے ساتھ دیا جا رہا ہے اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اہل (یعنی) بیوی سے مدین سے مصر واپسی کے وقت کہا تھا، میں نے دور سے آگ ریکھی ہے وہاں سے یا تو راستہ کی کوئی خبر لیکر آیا (اور حضرت موسیٰ علیہ السلام) راستہ بھول گئے تھے یا کوئی جلتا ہوا شعلہ ہی لے آؤں (بِشِھَابٍ قَبَس) اضافت بیانیہ کے ساتھ، اور ترک اضافت کے ساتھ بھی ہے، یعنی لکڑی یا رسی کے سرے میں آگ کا شعلہ تاکہ تم تاپو اور طا افتعال کی تا سے بدلی ہوئی ہے اور (تَصْطَلُوْنَ ) صَلِیَ بالنار کسرۂ لام اور فتحہ لام سے مشتق ہے، سردی سے بچاؤ حاصل کیا جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے یعنی موسیٰ اور وہ بھی جو اس کے پاس ہے یعنی ملائکہ یا اس کے برعکس اور بارک متعدی بنفسہٖ ہے اور متعدی بالحرف بھی، اور فی کے بعد (لفظ) مکان محذوف ہے اور اللہ رب العالمین پاک ہے (یہ جملہ) بھی ان جملوں کے ہے جن کے ذریعہ ندادی گئی، اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ جملہ عیوب سے پاک ہے اے موسیٰ بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں زبردست حکمت والا اور تم اپنا عصا ڈالو چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا ڈال دیا سو جب موسیٰ نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا کہ وہ سپولیا ہے یعنی پتلا سانپ ہے تو وہ (موسیٰ ) پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا ارشاد ہوا اے موسیٰ اس سے ڈرو نہیں ہمارے حضور پیغمبر سانپ وغیرہ سے ڈرا نہیں کرتے ہاں مگر جس نے اپنے اوپر ظلم کیا پھر برائی کے بعد برائی کی جگہ نیکی کرے یعنی توبہ کرے تو میں مغفرت والا رحمت والا ہوں تو بہ کو قبول کروں گا اور اس کی مغفرت کر دوں گا اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں یعنی (اپنی) قمیص کے گریبان میں داخل کیجئے اپنے گندمی رنگ کے برخلاف وہ بلا کسی مرض کے چمکدار ہو کر نکلے گا یعنی برص وغیرہ کے بغیر اس میں ایسی چمک ہوگی کہ آنکھوں کو خیرہ کر دے گا (یہ دو معجزے) ان نو معجزوں میں سے ہیں جن کو لیکر فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا جا رہا ہے وہ بلاشبہ حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہیں جب ان لوگوں کے پاس ہمارے آنکھیں کھولنے والے واضح اور روشن معجزے پہنچے تو وہ لوگ کہنے لگے یہ صریح یعنی کھلا ہوا جادو ہے اور ان کا انکار کردیا یعنی اقرار نہیں کیا حالانکہ ان کے دل یقین کرچکے تھے یعنی ان کو اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور یہ بما جاء بھا موسیٰ سے انکار ایمان سے ظلم اور تکبر کے طور پر تھا بما جاء موسیٰ کا تعلق الجحد سے ہے پس آپ دیکھ لیجئے ان مفسدوں کا کیسا انجام ہوا جیسا کہ آپ ان کی ہلاکت سے واقف ہیں۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : عَطْفٌ بزیادۃِ صفۃٍاس عبارت سے مفسر علام کا مقصد ایک سوال کا جواب دینا ہے سوال یہ ہے کتاب کا عطف القرآن پر عطف الشئ علی نفسہٖ کے قبیل سے ہے اسلئے کہ دونوں ہم معنی ہیں لہٰذا اس عطف کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
جواب : جب معطوف کسی صفت زائد پر مشتمل ہو تو عطف فائدہ سے خالی نہیں ہوتا یہاں معطوف یعنی کتاب صفت مبین کے ساتھ متصف ہے یہ عطف بلا فائدہ نہ ہوا۔ قولہ : یُوْتُوْنَ ایتاءٌ سے مضارع جمع مذکر غائب معروف ہے وہ دیتے ہیں۔ قولہ : وَھُمْ بالآخرۃِ ھُمْ یُؤقِنُونَ ، ھم مبتداء یوُقِنُونَ اس کی خبر بالآخرۃ یوقنونَ کا متعلق مقدم مبتداء اور خبر کے درمیان جار مجرور کا فصل ہونے کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے تاکہ خبر کا مبتداء کے ساتھ صورۃً اتصال ہوجائے، مفسر علام نے واُعِیْدَھم الخ کا اضافہ اسی مقصد کے لئے کیا ہے۔
قولہ : یَعْمَھُوْنَ عَمْہٌ سے مشتق ہے جس کے معنی حیرت اور تردد کے ہیں۔ قولہ : لِقُبْحِھَا عندناَ اس عبارت سے یہ شبہ دور کرنا ہے کہ کافروں کے اپنے افعال میں متحیر اور متردد ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ جبکہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار تمیزی کے ساتھ کفر اور اعمال کفریہ کو اختیار کرتے ہیں۔
جواب : ہمارے نزدیک متحیر ہیں نہ کہ اپنے نزدیک مطلب یہ ہے کہ تزئین شیطان اور اخبار رحمٰن میں تعارض کی وجہ سے متحیر ہیں اور ان کے اندر اتنی بصیرت نہیں کہ حسن اور قبیح کے درمیان فرق کرسکیں اور وہ اس میں بھی متحیر رہتے ہیں کہ کفر اور اعمال کفریہ پر ہی قائم و دائم رہیں یا ترک کردیں، مگر یہ تفسیر خلجان اور شبہ سے خالی نہیں ہے اس لئے کہ جب کفار اپنے اعمال کو حسن سمجھتے ہیں تو پھر ان کے متحیر ہونے کے کوئی معنی نہیں ہیں اس لئے بہتر تفسیر وہ ہے جو دیگر حضرات نے کی ہے وہ یہ کہ یَعْمَھُوْنَ یَسْتَمِرُّوْنَ ویداوِمُوْنَ علَیْھَا کے معنی میں ہے (کما ذکرہ ابو سعود) اور ابن عباس ؓ اور قتادہ نے یَعْمَھُوْنَ کی تفسیر یَلْعبُوْنَ سے کی ہے (جمل ملخصاً ) ۔
قولہ : لِمَصِیْرِھم یہ اَخْسرُوْنَ کی علت ہے، اَخْسَرُ اسم تفضیل مبالغہ کے لئے ہے نہ کہ تشریک کے لئے اس لئے کہ مومنوں کے لئے خسران نہیں ہے وَھُمْ فی الآخرۃِ ھُمُ الاَخْسَرُوْنَ کا اعراب وہی ہے جو ھم بالآخرۃِ ھم یوقنونَ کا ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ مفضل علیہ خود کفار ہی ہیں مگر زمان و مکان کے اختلاف کے ساتھ یعنی کفار دنیا کے اعتبار سے آخرت میں زیادہ خسارہ میں ہوں گے۔
قولہ : لَتُلَقّٰی تجھے تلقین کیا جاتا ہے، تجھے سکھلایا جاتا ہے، واحد مذکر حاضر مضارع مجہول، اصل میں تُتَلَقّٰی تھا ایک تا کو حذف کردیا گیا ہے، یہ متعدی بدو مفعول ہے پہلا مفعول قائم مقام فاعل ہے اور دوسرا مفعول القرآن ہے۔ قولہ : بِشِدَّۃٍ اس لئے کہ اس میں تکالیف شاقہ ہیں یعنی نزول کے وقت بھی مشقت ہوتی ہے اور عمل کے وقت بھی۔ قولہ : بِشِدَّۃٍ اس لئے کہ اس میں تکالیف شاقہ ہیں یعنی نزول کے وقت بھی مشقت ہوتی ہے اور عمل کے وقت بھی۔
قولہ : بالاِضافۃِ پیش نظر نسخہ جلالین میں ترک اضافت کے ساتھ ہے لہٰذا اس صورت میں قبَسٍ بمعنی مقبوس شھابٍ سے بدل ہے یا نعت ہے اور اگر اضافت کے ساتھ ہو جیسا کہ موجودہ نسخہ میں ہے تو یہ اضافت بیانیہ ہوگی۔ قولہ : شُعلۃِ نارٍ یہ مضاف اور مضاف الیہ دونوں کی تفسیر ہے یعنی شہاب بمعنی شعلہ اور قبس بمعنی نارٍ ۔ قولہ : فتیلۃ بتی، بٹی ہوئی چیز۔ قولہ : نُودِیَ اس کا نائب فاعل موسیٰ (علیہ السلام) ہیں، اس صورت میں اَنْ تفسیر یہ ہے اس لئے کہ ماقبل میں نودِیَ بمعنی قیل موجود ہے، مطلب یہ ہے اَن تفسیر یہ مراد لینے کے لئے ضروری ہے کہ ماقبل میں قول یا قول سے مشتق کوئی صیغہ ہو یا قول کے معنی دینے والا کوئی صیغہ ہو، چناچہ اَن تفسیریہ سے پہلے اگرچہ قول یا اس کے مشتقات میں سے کوئی نہیں ہے مگر نودِیَ جو کہ قول کے ہم معنی ہے موجود ہے، لہٰذا یہ اَن تفسیریہ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مخففہ عن الثقیلہ ہو اور اس کا اسم ضمیر شان ہو اور بورک اس کی خبر ہو، اور اَنْ مصدریہ بھی ہوسکتا ہے حذف حرف جر کے ساتھ ای بأن اور مدخول اَن مصدر کے معنی میں ہو، ای نودِیَ بِبَرکَۃ مَنْ فی النَّارِ بَارَکَ متعدی بنفسہٖ بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے بارک اللہ یہ متعدی بنفسہٖ کی مثال ہے یا بارک الرجلَ آدمی کے لئے برکت کی دعا کی اور حرف یعنی لام وفی وعلیٰ کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے متعدی بالحرف کی مثالیں بَارَکَ اللہ لَکَ ، بارَکَ اللہُ فِیکَ ، بَارَکَ اللہ علَیْکَ ۔
قولہ : مِن جملۃِ ما نُوْدِیَ مطلب یہ ہے کہ جس چیز کی نداء دی گئی اس میں جملہ تنزیہیہ بھی ہے یعنی سبحان اللہ رب العالمین۔ قولہ : تَھْتَزُّ یہ رآھا کی ضمیر مفعولی سے حال ہے وَلیّٰ مُدْبرًا لمّا کا جواب ہے۔ قولہ : اِلاَّ لکنّ مَن ظَلَمَ مفسر علام نے الاَّ کی تفسیر لکنّ سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ مستثنیٰ منقطع ہے مطلب یہ ہے کہ مَنْ ظَلَمَ سے مراد غیر مرسلین ہیں۔ قولہ : مَنْ ظَلَمَ مبتداء ہے اور فاِنّی غفور رّحیم اس کی خبر ہے۔ قولہ : مُبْصِرَۃً آیات سے حال ہے اور آیات کی جانب مبصرۃ کی اسناد مجازی ہے اس لئے کہ آیات دیکھنے والی نہیں ہوتیں بلکہ ان کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے جیسا کہ نھرٌ جارٍ میں اسناد مجازی ہے بعض مفسرین نے فرمایا کہ مبصرۃ اسم فاعل بمعنی اسم مفعول ہے جیسے دافِقٌ بمعنی مَدْفوقٌ۔
قولہ : اِسْتَیْقَھَتْھَا اَنْفُسُھُمْ یہ جَحَدُوْا کے واؤ سے بتقدیر قد حال ہے۔ قولہ : ای تَیَقّنُوا اس سے اشارہ کردیا ہے کہ اِسْتَیْقَنَتْھَا میں سین زائدہ ہے۔ قولہ : ظلمًا وعُلُوًّا اس کا تعلق جَحَدُوْا سے ہے یعنی ظلمًا وعلُوًا انکار کی علت ہے۔ قولہ : کَیْفَ کانَ عاقبۃ المفسدین کَیْفَ ، کانَ کی خبر مقدم ہے اور عاقبۃ المفسدین اسم مؤخر ہے اور پورا جملہ اُنْظُر بمعنی تفکر سے متعلق ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔
تفسیر و تشریح
طٰسٓ اس کی حقیقی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے، اس صورت میں چونکہ چیونٹیوں کا ایک واقعہ مذکور ہے اور چیونٹی کو عربی میں
نملٌ کہتے ہیں اس لئے اس سورت کا نام سورة نمل رکھا گیا ہے اس سورة کا دوسرا نام سورة سلیمان بھی ہے۔ (روح المعانی)
زینا لھم اعمالھم یہ گناہوں کی نحوست اور وبال ہی ہے کہ برائیں اچھی معلوم ہونے لگتی ہیں، آخرت پر عدم ایمان اس کا بنیادی سبب ہے زَیَّاَّر میں نسبت باری تعالیٰ کی طرف کی گئ ہے یہ اس لئے ہے کہ کوئی بھی کام باری تعالیٰ کی مشئیت اور اس کے ارادہ کے بغیر نہیں ہوسکتا مگر مشیئت اور ارادہ کے لئے رضا مندی ضروری نہیں ہے جیسا کہ کڑوی دوا انسان اپنے ارادہ سے تو پیتا ہے مگر رضا اور خوش دلی سے نہیں، تاہم اللہ تعالیٰ کا دستور یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیک اور بد دونوں راستے واضح فرما دئیے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَھَدَیْنَاہٗ النَّجْدَیْن البتہ انسان اپنے ارادہ اور اختیار سے جو راستہ بھی اختیار کرتا ہے خواہ نیک ہو یا بد اللہ تعالیٰ اس کے لئے وہی راستہ آسان فرما دیتے ہیں۔
واذکر اذ۔۔۔۔ لاھلہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لیکر واپس مصر آرہے تھے، تاریک رات میں راستہ بھول گئے تھے اور سردی کا موسم تھا سردی سے بچاؤ کے لئے آگ کی ضرورت تھی، دور سے آپ کو کوہ طور پر آگ کے شعلے نظر آئے تو آپ اس خیال سے کہ آگ کے پاس اگر کوئی شخص ہوا تو اس سے راستہ معلوم کرلوں گا ورنہ آگ تو، لے ہی آؤں گا تاکہ اس کے ذریعہ سردی سے بچاؤ حاصل کیا جاسکے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے شعلو ﷺ کے قریب پہنچے تو ایک سرسبز درخت سے شعلے بلند ہوتے نظر آئے یہ شعلے حقیقت میں آگ نہیں تھے یہ اللہ کا نور تھا۔
فلما جاءھا۔۔۔۔ النار، چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس پہنچے تو ندا آئی کہ مبارک ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس کے آس پاس ہے، نودِیَ کا نائب فاعل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں پکارنے والے حق تعالیٰ شانہ بھی ہوسکتے ہیں اور ملائکہ بھی، بورِکَ بمعنی تبارکَ ہے مَنْ فی النار میں مَنْ سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ مفسر علام کی رائے ہے اور وہ درخت بھی مراد ہوسکتا ہے جس پر آگ نظر آئی تھی نور الٰہی اور ذات حق شانہ تعالیٰ بھی ہوسکتی ہے (خلاصۃ التفاسیر) نار سے نور مراد ہے ابن کثیر نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ درخت پر آگ نہیں تھی بلکہ نور تھا جس کی چمک بڑھتی جاتی تھی، اگر مَنْ فی النار سے حق تعالیٰ شانہ یا اس کا نور یا درخت مراد ہو تو حَولَہٗ سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ملائکہ مراد ہوں گے اور اگر مَنْ فی النَّار سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مراد ہوں تو مَنْ حَوْلَہٗ سے ملائکہ مراد ہوں گے اور یہی روایت اولیٰ معلوم ہوتی ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) کا داخل نور ہونا یا تو باعتبار کمال قرب تھا یا فنائے صادق (معالم، بحوالہ خلاصۃ التفاسیر) مذکورہ توجیہات میں سے بعض سے خدا کے لئے جسم اور صفت حادث سے متصف ہونے کا یا حلول کا شبہ پیدا ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا سبحٰن اللہ رب العٰلمینَ اللہ تعالیٰ تمام تحتیلات و ممکنات و حوادثات سے منزہ اور پاک ہے، آواز سننے کی جو کیفیت تفسیر بحر محیط میں ابو حیان نے اور روح المعانی میں آلوسی (رح) نے نقل کی ہے وہ یہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے آواز اس طرح سنی کہ ہر جانب سے یکساں آرہی تھی جس کی کوئی جہت متعین نہیں ہوسکتی تھی، اور سننا بھی ایک عجیب انداز سے ہوا کہ صرف کان نہیں بلکہ جس کے تمام اعضاء سن رہے تھے جو ایک معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
وَاَلْقِ عَصَاکَ (الآیۃ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر عالم الغیب نہیں ہوتے ورنہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی ہاتھ کی لاٹھی سے نہ ڈرتے، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ طبعی خوف نبوت کے منافی نہیں ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کی لاٹھی سانپ بن کر جھوم رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا، یہ خوف طبعی تھا جانٌّ ہلکے سانپ کو کہتے ہیں کہیں پر جان کہا گیا ہے اور کہیں پر ثعبانٌ، ثعبان بڑے سانپ (اژد ہے) کو کہتے ہیں، دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے اس لئے ابتداءٍ جانّ اور انتہاءً ثعبان ہوگیا تھا، یا جسم و جثہ کے اعتبار سے ثعبان تھا مگر سرعت حرکت کے اعتبار سے جانٌّ تھا۔
اِلاَّ مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوْءٍ فَاِنِّی غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اس سے پہلی آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ عصاء کا ذکر تھا جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ڈر کے مارے پیٹھ پھیر کر بھاگنے کا ذکر ہے اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دوسرے معجزے یدبیضاء کا ذکر ہے درمیان میں اس استثناء کا ذکر کس لئے کیا ہے ؟ اور یہ استثناء منقطع ہے یا متصل ؟ اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں بعض حضرات نے استثناء کو منقطع قرار دیا ہے اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ پہلی آیت میں انبیاء کرام پر خوف نہ ہونے کا ذکر تھا برسبیل تذکرہ ان لوگوں کا بھی ذکر آگیا جن پر خوف طاری ہونا چاہیے، یعنی وہ لوگ جن سے کوئی خطا سرزد ہوئی پھر توبہ کرکے نیک اعمال اختیار کرلئے ایسے حضرات کی اگرچہ اللہ تعالیٰ خطا معاف کردیتے ہیں مگر معافی کے بعد بھی گناہ کے بعض آثار باقی رہنے کا احتمال ہے اس سے یہ حضرات ہمیشہ خائف رہتے ہیں، اور اگر اس استثناء کو متصل قرار دیں تو معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ اللہ کے رسول ڈرا نہیں کرتے بجز ان کے کہ جن سے کوئی خطا (یعنی کوئی لغزش سرزد ہوگئی ہو) پھر اس سے بھی توبہ کرلی ہو تو اس توبہ سے یہ لغزش معاف ہوجاتی ہے اور صحیح تر بات یہ ہے کہ انبیاء سے جو لغزش سرزد ہوئی ہے، وہ درحقیقت گناہ ہی نہیں ہے نہ کبیرہ نہ صغیرہ البتہ صورت گناہ کی تھی ورنہ درحقیقت خطائے اجتہادی تھی، اس مضمون میں اس طرف بھی اشارہ پایا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جو قبطی کو قتل کرنے کی لغزش ہوگئی تھی وہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دی مگر اس کا یہ اثر رہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر خوف طاری ہوگیا اگر یہ لغزش نہ ہوئی ہوتی تو یہ وقتی خوف بھی نہ ہوتا۔ (قرطبی بحوالہ معارف)
Ayahs 27:15–21آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : اور ہم نے داؤد اور اس کے بیٹے سلیمان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا اور پرند وغیرہ کی بولی سکھائی اور ان دونوں حضرات نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا سب تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہم کو نبوت کے ذریعہ اور جن و انس و شیاطین کی تسخیر کے ذریعہ اپنے مومن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی اور سلیمان (علیہ السلام) نبوت اور علم میں داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی یعنی ان کی آواز کی سمجھ سکھائی اور ہم کو ہر وہ شئ عطا فرمائی جو انبیاء اور ملوک کو عطا کی جاتی ہے (یعنی جس کی ان کی حاجت ہوتی ہے) بلاشبہ واقعی یہ عطا کردہ شئ اس کا بڑا فضل ہے (کھلا ہوا فضل ہے) اور سلیمان کے سامنے ایک سفر میں ان کا لشکر جمع کیا گیا جو کہ جن و انس اور پرند پر مشتمل تھا ان کو جمع کیا جاتا تھا پھر سے چلایا جاتا تھا یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے وہ میدان طائف میں یا شام میں تھا، وہ چیونٹیاں چھوٹی (نسل کی) تھیں یا بڑی، ایک چیونٹی نے جو کہ چیونٹیوں کی رانی تھی کہا اور اس نے سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کو دیکھ لیا تھا اے چیونٹیوں اپنے سوراخوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تم کو بیخبر ی میں روند ڈالے یعنی ان کو تمہاری ہلاکت کی خبر بھی نہ ہو، چیونٹیوں کو خطاب میں، ان سے خطاب کرتے ہوئے بمنزلہ عقلاء کے اتار لیا گیا، سلیمان (علیہ السلام) اس کی بات سنکر مسکرا کر ہنس دئیے یعنی ابتداءً مسکرائے اور آکر کار ہنس دئیے اور سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی بات تین میل سے سن لی تھی، ہوا نے اس بات کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) تک پہنچا دیا تھا، چناچہ سلیمان (علیہ السلام) جب وادی کے قریب پہنچے تو اپنے لشکر کو روک لیا، یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے سوراخوں میں داخل ہوگئیں، اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر اس سفر میں سوار اور پیادہ پر مشتمل تھا (حضرت سلیمان علیہ السلام) اللہ سے یہ دعا کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار آپ مجھے الہام کیجئے (توفیق کیجئے) کہ تیری ان نعمتوں کا شکریہ ادا کروں جو تو نے میرے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں اور یہ کہ میں ایسے اعمال کرتا رہوں کہ جن سے تو خوش رہے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں یعنی انبیاء واولیاء میں داخل فرما اور آپ نے پرندوں کی جانچ پڑتال کی تاکہ ہدہد کو دیکھیں جو پانی کو زیر زمین دیکھ لیتا ہے اور زمین پر اپنی چونچ مار کر اس کی نشاندہی کردیتا ہے اور شیاطین پانی کو سلیمان (علیہ السلام) کی نماز (وغیرہ) کی ضرورت کے لئے نکال لیتے (تھے) چناچہ (حضرت سلیمان علیہ السلام) نے ہد ہد کو نہ پایا تو (حضرت سلیمان علیہ السلام) فرمانے لگے کیا بات ہے کہ ہد ہد مجھے نظر نہیں آرہا ؟ یعنی کیا کوئی چیز میرے سامنے آڑے آگئی ہے ؟ جو مجھے اس کے دیکھنے سے مناع ہوگئی ہے کیا واقعی وہ غیر حاضر ہے کہ میں اس کو اس کی غیر حاضری کی وجہ سے نہیں دیکھ رہا ہوں جب اس کی غیر حاضری متحقق ہوگئی تو حضرت سلیمان فرمانے لگے کہ میں اس کو سخت سزا دوں گا اس کے پروں کو نوچ کر اور اس کی دم کو اکھاڑ کر اور اس کو دھوپ میں ڈال کر، جس کی وجہ سے وہ کیڑے مکوڑوں سے محفوظ نہ رہ سکے گا یا اس کا گلا کاٹ کر ذبح کردوں گا، یا میرے سامنے کوئی واضح دلیل (عذر) پیش کرے لَیَاتِیَنِّی میں نون مشدد مک سورة کے ساتھ یا نون مک سورة ملا ہو یعنی اپنے عذر کی کوئی واضح دلیل پیش کرے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : آتَیْنَا بمعنی اَعْطَیْنَا طَیْرٌ طائر کی جمع ہے پرندہ قَالَ یٰاَیُّھَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنے لئے جمع کا صیغہ استعمال کرنا یہ سیاسۃً شاہانہ طرف خطاب ہے نہ کہ تکبراً (روح البیان میں ہے) اَلنُّوْنُ نُونُ الواحد المطاع علی عادۃِ الملوکِ فَاِنَّھُمْ یتکلّمونَ مثل ذٰلک رعایتہٗ لقاعدۃ السیاسۃ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ عُلِّمْنَا ای أناوأبی مگر یہ تاویل حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پرندوں کی بولی سمجھنے کے اختصاص کے منافی ہے جیسا کہ مشہور ہے اگرچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو پرندوں کے علاوہ دیگر حیوانات کی بولی سمجھنے کا معجزہ عطا فرمایا گیا تھا مگر چونکہ پرندے ہمہ وقت آپ پر سایہ فگن رہتے تھے اس لئے پرندوں کا تذکرہ خاص طور پر کیا گیا ہے مَنْطِقَ کا عطف قضاء پر ہے با کے تحت میں ہونے کی وجہ سے مجرور ہے ای عِلمًا بالقضاءِ وبمنطقِ الطیرِ ۔
قولہ : وغیرَ ذٰلکَ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو پرندوں کی بولی سمجھنے کے علاوہ اور دیگر حیوانات کی بولی سمجھنے کا علم بھی عطا کیا گیا تھا۔ قولہ : حَتّٰی اِذا اَتَوْا یہ محذوف کی غایت ہے تقدیر عبارت یہ ہے فَسَارُوْا حَتّٰی اِذَا اَتَوْا اور بعض حضرات نے یُوْزَعُوْنَ کی غایت قرار دیا ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی فَھُمْ یَسِیْرُوْنَ ممنوعًا بعضھم من مفارقۃِ بعض حتیّٰ اِذا اَتَوْا علیٰ وادِی النملۃِ ۔ قولہ : فی عِبَادکَ الصالحین ای فی جملۃِ عبَادِکَ الصالحین حذف مضاف کے ساتھ اور صالحین سے کامل صالحین مراد ہیں جو کہ انبیاء ہی ہوتے ہیں لہٰذا یہ شبہ ختم ہوگیا کہ نبی کا صالحین میں شامل ہونے کی دعاء سے کیا مقصد ہے ؟ جبکہ انبیاء رتبہ کے اعتبار سے اعلیٰ ہوتے ہیں۔
تفسیر و تشریح
ولقد آتینا۔۔۔۔ علمًا حق سبحانہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرنے کے بعد داؤد (علیہ السلام) اور ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں، یہ قصے اور ان سے ماقبل و مابعد کے قصے دراصل وَاِنّکَ لَتُلقَی القرآنَ مِن لَّدُنْ حکیم علیم کے لئے بمنزلہ تائید و تقریر کے ہیں، اسلئے کہ ایک امی کے لئے جس کا ہل کتاب سے بھی کوئی ربط وتعلق نہیں ہے گزشتہ ہزاروں سال کے واقعات کو من و عن صحیح بیان کرتا ہے اس کی معلومات کا ذریعہ وحی الٰہی کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ گویا کہ ان واقعات کو سنانے اور بیان کرنے کا صاف اور صریح مقصد وَاِنَّکَ لَتُلْقٰی القرآنَ مِنْ لَّدُنْ حکیمٍ علیمٍ کی تائید و تقریر ہے عِلْمًا میں تنوین یا تو نوع کے لئے ہے یا پھر تعظیم کے لئے ہے یعنی علمًا کثیراً علیم کا راست مصداق تو وہی علوم ہیں جو نبوت و رسالت سے متعلق ہوتے ہیں، مگر اس کے عموم میں دیگر علوم و فنون بھی شامل ہوں تو بعید نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زرہ سازی کی صفت سکھائی تھے حضرت داؤد (علیہ السلام) و سلیمان (علیہ السلام) زمرۂ انبیاء میں ایک خاص امتیاز یہ رکھتے ہیں کہ ان کو رسالت اور نبوت کے ساتھ ساتھ سلطنت بھی عطا کی گئی تھی اور سلطنت بھی ایسی بےنظیر کہ صرف انسانوں پر نہیں بلکہ جنات اور جانوروں پر بھی ان کی حکمرانی تھی، ان عظیم الشان نعمتوں میں سے سب سے پہلے نعمت علم کا ذکر فرمانے سے اشارۃ النص کے طور پر اس طرف اشارہ ہوگیا کہ نعمت علم تمام دیگر نعمتوں سے فائق اور بالا تر ہے وقالاَ الحمدُ للہِ میں واؤ عطف کے لئے ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے اس لئے کہ یہ مقام فا کا ہے تقدیر عبارت یہ ہے وَلَقَدْ آتَیْنَاھُمَا عِلمًا فعمِلاَ وقَالاَ الحمدللہِ ۔
انبیاء کے مال میں وراثت نہیں ہوتی، وَوَرِثَ سلیمٰنُ داوٗدَ وراثت سے وراثت علم و نبوت مراد ہے نہ کہ مالی، آپ ﷺ نے فرمایا نحن معاشر الانبیاء لا نَرِثُ ولاَ نُورِثُ یعنی انبیاء نہ وارث ہوتے ہیں اور نہ مورث، حضرت ابو الدرداء سے ترمذی اور ابو داؤد میں روایت ہے العلماءُ ورَثَۃُ الانبیاءِ وان الانبیاءَ لَمْ یُوَرِّثوا دینارًا ولا دِرْھمًا ولکن وَرّثُوا العلمَ فمَنْ اَخَذَ بحظٍ وافر یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں لیکن انبیاء میں وراثت علم نبوت کی ہوتی ہے مال کی نہیں، حضرت ابو عبد اللہ کی روایت اس مسئلہ کو اور زیادہ واضح کردیتی ہے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور آنحضرت ﷺ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وارث ہوئے (روح عن الکینی بحوالہ معارف) عقلی طور پر بھی یہاں وراثت مالی مراد نہیں ہوسکتی اس لئے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے انیس صاحبزادے تھے اگر وارثت مالی مراد ہوتی تو سب لڑکے وارث ہوتے حضرت سلیمان کی تخصیص کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وراثت سے وراثت علم و نبوت مراد ہے، ان دلائل کے بعد طبری کی وہ روایت غلط ہوجاتی ہے جس میں انہوں نے بعض ائمہ اہل بیت کے حوالہ سے مالی وراثت مراد لی ہے۔ (روح، معارف)
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات اور خاتم الانبیاء (علیہ السلام) کی ولادت کے درمیان ایک ہزار سات سو سال کا فاصلہ ہے اور یہود یہ فاصلہ ایک ہزار چار سو سال بتاتے ہیں، سلیمان (علیہ السلام) کی عمر پچاس سال سے کچھ زیادہ ہوئی ہے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ایک سو سال ہوئی ہے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا آپ ﷺ کو وارث قرار دینا وراثت علمی ہی کی صورت میں ہوسکتا ہے اسلئے کہ وراثت مالی کی مستحق تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وہ اولاد ہے جو سلیمان (علیہ السلام) کے بعد بقید حیات رہی
بخاری اور دیگر ائمہ حدیث نے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا لا نورث ما ترکناہ صدقۃ ہم وارث نہیں بناتے جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے، آیت میں وراثت اصطلاحی مراد نہیں ہے، بلکہ مجازی معنی خلافت اور جانشین مراد ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے یرثون الفردوس اور حدیث شریف میں آیا ہے العلماء ورثۃ الانبیاء نیز حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے بازار نے آواز لگائی ” چلو مسجد میں میراث رسول اللہ تقسیم ہو رہی ہے “ لوگ دوڑے ہوئے مسجد میں گئے مسجد میں کچھ نہ پایا، البتہ ایک جماعت تعلیم و تعلم میں مصروف تھی، لوگوں نے کہا مال کہاں ہے ؟ فرمایا یہی ہے میراث رسول، اور اگر میراث مجازاً مراد نہ بلکہ وراثت مالی ہی مراد ہو تو جیسا کہ بعض روافض کا قول ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوگا حضرت داؤد (علیہ السلام) کے انیس بیٹوں میں سے دوسرے کیوں محروم کر دئیے گئے ؟ اس کا یہ جواب کہ عدم ذکر کے لئے نفی لازم نہیں، یہ خلاف سیاق ہے اس لئے کہ اگر حضرت سلیمان کی تخصیص مقصود نہ ہو تو معمولی ذکر سے کیا فائدہ ؟ ہر بیٹا باپ کا وارث ہوتا ہی ہے، اور اگر نبوت اور علم مراد ہے جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے تو اس میں میراث، خلافت و جانشینی کے اعتبار سے ہوگی اس لئے کہ یہ اوصاف نہ مملوک ہوتے ہیں اور نہ بعینہٖ منتقل ہوتے ہیں اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ انبیاء کی میراث خلافت و جانشینی کی ہوتی ہے تو اس سے روافض کے اس قول کا رد بھی ہوگیا کہ سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء ؓ کو وراث باغ فدک سمجھے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بطور نفقہ حضور کے متعلقین کے لئے تھا نہ کہ مملوک، اس لئے متروکہ انبیاء میراث نہیں ہوتے وقال یا اَیُّھا الناس علمنا منطق الطَّیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ بات لوگوں سے تحدیث نعمت کے طور پر کہی، عُلِّمَ مَنْطِقَ الطَّیْرِ سے مراد پرندوں کی بولی سمجھنا ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ دیگر حیوانوں کی بولی کی سمجھ بھی عطا فرمائی گئی اور پرندوں کی بولی کی فہم کی تخصیص نہیں تھی اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ پرندوں کی بولی کی ہی فہم عطا فرمائی گئی تھی دیگر حیوانوں کی بولی کی فہم عطا نہیں کی گئی تھی، بعض اوقات خاص طور پر جبکہ چیونٹی کی عمر دراز ہوجائے تو پر نکل آتے ہیں یہ چیونٹی بھی پر دار تھی لہذٰا کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔
قولہ : اُوتینا وعُلِّمْنَا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مراد خود اپنی ذات ہی ہے اور ان دونوں صیغوں میں نون عظمت ہے جس کو ملوک و سلاطین سیاسۃً استعمال کیا کرتے ہیں۔ قولہ فی مسیرۃٍ سے علامہ محلی کا اشارہ اس طرف ہے کہ کسی خاص سفر میں کہیں جانے کیلئے انسانوں، جنوں، چرندوں و پرندوں کا یہ لاؤ لشکر جمع کیا گیا تھا۔ قولہ : یُوْزَعُوْنَ اگر وَزَعُ وزعًا سے مشتق ہو تو اس کے معنی روکنے کے ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر اتنی بڑی تعداد میں تھا کہ راستہ میں روک روک کر ان کو درست کیا جاتا تھا تاکہ شاہی لشکر بدنظمی اور انتشار کا شکار نہ ہو اسی مادہ سے ہمزہ سلب کا اضافہ کرکے اوْزِعْنِیْ بنایا گیا ہے جو اگلی آیت (19) میں آرہا ہے، اور بعض حضرات نے یُوْزَعُوْنَ کو تَوزِیْعٌ سے مشتق مانا ہے جس کے معنی تفریق کے ہیں، مطلب یہ ہوگا کہ سب کو الگ الگ جماعتوں میں تقسیم کردیا جاتا تھا، مثلاً انسانوں کا گروہ، جنوں کا گروہ، پرندوں اور حیوانات کا گروہ وغیرہ وغیرہ، ایسا فوجی نظام کے ماتحت کیا جاتا تھا اور ہر گروہ کا الگ ذمہ دار مقرر کردیا جاتا تھا، نملۃٌ مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے اس کی جمع نَمَلٌ آتی ہے بعض حضرات نے کہا ہے کہ جس چیونٹی کی آواز حضرت علیمان نے سنی مؤنث تھی اور دلیل قالت نملۃٌ میں فعل کی تانیث کو پیش کیا ہے، ابو حیان نے اس کا انکار کیا ہے۔ (فتح القدیر)
حتی اذا۔۔۔۔ النمل (الآیۃ) اس سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں (1) یہ کہ حیوانات میں بھی ایک خاص قسم کا شعور ہوتا ہے گو انسان سے بہت کم ہو (2) یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اتنی عظمت اور فضیلت کے باوجود عالم الغیب نہیں تھے اسی لئے چیونٹیوں کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں بیخبر ی میں ہم روند نہ دئیے جائیں ہُدہُد کے واقعہ میں اَحَطْتَّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) عالم الغیب نہیں تھے۔ (3) یہ کہ حیوانات بھی اس عقیدۂ صحیحہ سے بہرہ ور ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں (4) یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پرندوں کے علاوہ دیگر حیوانات کو بولی بھی سمجھتے تھے، یہ علوم حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بطور اعجاز عطا ہوئے تھے۔
وَتَفَقَّدَ الطَّیْرَ ، تَفَقَّدَ کے معنی جانچ پڑتال کرنا، حاضر وغیر حاضر کی تحقیق کرنا ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کو رعایا کی خبر گیری کرنی چاہیے اور ان کی حالت سے واقفیت کے طریقوں کو استعمال کرنا چاہیے یہ اس کے فرائض میں داخل ہے آپ ﷺ کی بھی عادت شریفہ تھی کہ صحابہ کرام کی حالت سے باخبر رہنے کا اہتمام فرماتے تھے جو شخص غیر حاضر ہوتا اور مسجد میں نظر نہ آتا اس کے بارے میں دریافت فرماتے اگر بیمار ہوتا تو عیادت کے لئے تشریف لیجاتے اور اگر کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا تو اس کے ازالہ کی تدبیر فرماتے۔
Ayahs 27:22–31آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : فَمَکُثَ کاف کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ، چناچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ (اس نے آکر) کہا یعنی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ بازو اور دم لٹکائے ہوئے اور سر اٹھائے ہوئے عاجزانہ طریقہ پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا، چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو معاف کردیا اور زمانہ غیبونت میں پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے کہا میں ایسی خبر لایا ہوں کہ آپ کو اس کی خبر نہیں یعنی میں ایسی خبر پر مطلع ہوا ہوں کہ آپ کو اس کی اطلاع نہیں اور میں (قوم) سبا کی سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں سَبَأ منصرف اور غیر منصرف دونوں ہے، سبا یمن میں ایک قبیلہ کا نام ہے جو کہ ان کے جد ابعد کے نام پر رکھا گیا ہے اور اسی وجہ سے یہ منصرف ہے (اور اگر قبیلہ کا نام ہو تو علمیۃ اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہوگا) میں نے دیکھا کہ ان پر ایک عورت حکومت کر رہی ہے یعنی وہ ان کی ملکہ ہے اس کا نام بلقیس ہے اور اس کے پاس ہر قسم کا سازوسامان ہے جس کی بارشاہوں کو ضرورت ہوتی ہے، یعنی ہتھیار اور دیگر سامان اور اس کا ایک عظیم الشان تخت بھی ہے جس کی لمبائی اسی ہاتھ اور چوڑائی چالیس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ ہے، سونے چاندی سے جڑا ہوا ہے، موتیوں اور یاقوت سرخ اور زَبَرْ جَدْ اور زَمُّرد سے آراستہ ہے اور اس کے پائے یاقوت احمر اور زبر جدا خضر اور زمرد کے ہیں، اور اس پر سات کمرے ہیں اور ہر کمرے پر بند دروازہ ہے میں نے اس کو اور اس کی قوم کو اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہوئے پایا اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نظر میں آراستہ کرکے پیش کر دئیے ہیں جس کی وجہ سے ان کو (شیطان) نے راہ حق سے روکدیا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے یہ کہ اللہ کو سجدہ کریں لاَ زائدہ ہے اس میں اَنْ کو مدغم کردیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول لِئلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الکتاب حرف الیٰ کو حذف کرکے یھتدونَ کے مفعول کی جگہ میں ہے وہ (اللہ) کہ جو زمین اور آسمانوں کی مخفی چیزوں یعنی بارش اور نباتات کو باہر نکالتا ہے اَلْخبأَ مصدر مَخْبُوْءٌ کے معنی میں ہے اور جن چیزوں کو تم اپنے دلوں میں چھپاتے ہو اور جن چیزوں کو اپنی زبان سے ظاہر کرتے ہو وہ جانتا ہے وہی معبود برحق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے یہ جملہ مستانفہ ثنائیہ ہے، بلقیس کے تخت کے مقابلہ میں رحمٰن کے تخت پر مشتمل ہے حالانکہ ان کے درمیان بون بعید ہے (بڑا فرق ہے) سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا اب ہم دیکھیں گے کہ آیا تم نے اس بات میں جس کی تم نے ہم کو خبر دی سچ بولا یا تم جھوٹوں میں سے ہو یعنی جھوٹوں کی قسم سے ہو یہ جملہ اَمْ کَذَبْتَ فِیْہِ سے زیادہ بلیغ ہے، پھر (ہُدہُد) نے ان کے لئے پانی کی نشاندہی کی، چناچہ سلیمان (علیہ السلام) نے پانی نکلوایا، سب لوگ سیراب ہوئے وضو کیا نماز پڑھی، پھر سلیمان (علیہ السلام) نے ایک خط لکھا جس کا متن (حسب ذیل) ہے، اللہ کے بندے سلیمان بن داؤد کی طرف سے سبا کی ملکہ بلقیس کے نام، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم السلام علی مَنْ اتَّبَعَ الھدی امابعد ! میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور تابع فرمان ہو کر میرے پاس چلی آؤ پھر اس خط کو مشک سے سر بند کردیا اور اس پر اپنی مہر بھی لگا دی، پھر ہُدہُد سے فرمایا میرا یہ خط لیجا اور ان یعنی بلقیس اور اس کی قوم کو پہنچا دے پھر ان کے پاس سے ہٹ جانا اور ان کے قریب ہی کھڑے ہوجانا، اور دیکھنا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ؟ چناچہ ہُدہُد نے وہ خط لیا اور بلقیس کے پاس آیا، حال یہ ہے کہ بلقیس کے گرداگرد لشکر تھا چناچہ ہُدہُد نے وہ خط بلقیس کی گود میں ڈال دیا جب بلقیس نے وہ خط دیکھا تو لرزہ براندام ہوگئی اور عاجزی کرنے لگی، اپنی قوم کے شرفاء سے کہنے لگی اے سردار و میری طرف ایک باوقعت یعنی سربمہر خط ڈالا گیا ہے دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی کی تسہیل یعنی واؤ مک سورة سے بدل کر جو سلیمان کی طرف سے ہے جس کا مضمون یہ ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کہ میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس چلی آؤ۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : اَبْلَغُ مِنْ اَن کَذِبتَ فیہ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اَمْ کذبتَ مختصر بھی ہے اور مشہور اور کثیر الاستعمال بھی پھر اخصر کو چھوڑ کر اَمْ کنتَ من الکاذبینَ کو جو کہ طویل بھی اور غیر معروف بھی کیوں اختیار فرمایا ؟ جواب اَمْ کذِبْتَ صدور کذب احْیاناً پر دلالت کرتا ہے اور ام کنت من الکاذبین دوام کذب اور عادت کذب پر دلالت کرتا ہے اس لئے اخصر کو چھوڑ کر اطول کو اختیار کیا۔ قولہ : فانظر (الآیۃ) انظر بمعنی انتظر ہے اور ما بمعنی الذی ہے، صلہ چونکہ جملہ ہے اس لئے عائد محذوف ہے تقدیر عبارت انتظر الذی یرجعونہ وتسھیل الثانیۃ بقلبھا واواً مکسوراً یہاں تسہیل سے معروف تسہیل مراد نہیں ہے بلکہ ہمزہ ثانیہ کو واؤ سے بدلنا مراد ہے یعنی یٰاَیُّھَا الْمَلأُونِّیْ اُلْقِیَ کتابٌ کریمٌ سے مہر لگا ہوا خظ مراد ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کرَمُ الکتابِ ختمہٗ خط کا باوقار ہونا اس کا مختوم ہونا ہے۔
قولہ : أنہٗ مَنْ سلیمان جملہ مستانفہ ہے یعنی سوال مقدر کا جواب ہے جب بلقیس نے کہا اِنِّی اُلقِیَ اِلَیَّ کتابٌ کریمٌ سوال ہوا مَاھُوَ ؟ جواب دیا اِنّہٗ مِن سلیمان الخ۔ قولہ : اَلاَّ تعلوا عَلَیَّ یا تو کتابٌ سے بدل ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے یا مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اَیْ مضمونہ اَلاَّ تَعْلُوْا عَلَیَّ واتونِیْ مسلمینَ ۔
تفسیر و تشریح
حاکم کو اپنی رعیت اور مشائخ کو اپنے مریدوں اور استاذ کو اپنے شاگردوں کی خبر گیری ضروری ہے : آیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنی رعایا کے ہر طبقہ پر نظر رکھتے تھے اور ان کے حالات سے اتنے باخبر رہتے کہ ہُدہُد جو طیور میں کمزور رعایا اور چھوٹا بھی ہے وہ حضرت سلیمان کی نظر سے اوجھل نہیں ہوا، اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حاکم کو خاص طور پر کمزور رعایا کی خبر گیری کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے، صحابہ کرام میں حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس سنت انبیاء کو پوری طرح جاری کیا، راتوں کو مدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت لگاتے تھے تاکہ سب لوگوں کے حالات سے باخبر رہیں، اگر کسی کو کسی مصیبت و پریشانی میں گرفتار پاتے تو اس کی مدد فرماتے جس کے بہت سے واقعات ان کے سیرت میں مذکور ہیں، حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے ” اگر دریائے فرات کے کنارے پر بھیڑئیے نے کسی بکری کے بچہ کو پھاڑ ڈالا تو اس کا بھی عمر سے سوال ہوگا۔ (قرطبی، معارف)
یہ تھے وہ اصول جہانبانی اور حکمرانی جو انبیاء (علیہ السلام) نے لوگوں کو سکھائے اور صحابہ کرام ؓ نے ان کو عملاً جاری کرکے دکھلایا، جس کے نتیجے میں پوری مسلم و غیر مسلم رعایا امن و اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتی تھی، اور ان کے بعد زمین و آسمان نے ایسے عدل و انصاف اور عام دنیا کے امن و سکون اور اطمینان کا منظر نہیں دیکھا۔
سبا ایک شخص کے نام پر ایک قوم کا نام بھی تھا اور ایک شہر کا نام بھی تھا یہاں شہر مراد ہے، یہ صنعاء (یمن) سے تین دن کے فاصلہ پر ہے اور مآرب یمن کے نام سے مشہور ہے۔
اِنی وَجَدْتُّ امرأۃً تملکھم یعنی ہُدہُد کے لئے یہ امر باعث تعجب تھا کہ سبا میں ایک عورت حکمراں ہے، اس کے برخلاف آج کہا جاتا ہے کہ عورتیں بھی ہر معاملہ میں مردوں کے برابر ہیں، اگر مرد حکمراں ہوسکتا ہے تو عورت کیوں نہیں ہوسکتی ؟ حالانکہ یہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بعض لوگ ملکہ سبا (بلقیس) کے اس ذکر سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عورت کی سربراہی جائز ہے، حالانکہ قرآن کریم نے ایک واقعہ کے طور پر اس کا ذکر کیا ہے، اس سے اس کے جواز کا کوئی تعلق نہیں ہے، عورت کی سربراہی کے عدم جواز پر قرآن و حدیث میں واضح دلائل موجود ہیں۔
الا یسجدوا للہ لا زائدہ اور لایھتدون اس میں عامل ہے یعنی ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ سجدہ صرف اللہ کو کریں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الا یسجدوا کا تعلق زین کے ساتھ ہو یعنی شیطان نے یہ بھی ان کے لئے مزین کردیا کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں۔
ہُدہُد نے چونکہ توحید کا وعظ اور شرک کا رد کیا ہے اور اللہ کی عظمت شان کو بیان کیا ہے اس لئے حدیث شریف میں آیا ہے چار جانوروں کو قتل نہ کرو چیونٹی، شہد کی مکھی، ہُدہُد، صرد (یعنی لٹورا) اس کا سر بڑا اور پیٹ سفید اور پیٹھ سبز ہوتی ہے یہ چھوٹے چھوٹے پرندوں کا شکار کرتا ہے۔ (مسند احمد 1/332، ابو داؤد کتاب الادب)
اِذْھَبْ بکتابِیْ ھٰذَا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کے نام خط بھیجنے کو اس پر اتمام حجت کے لئے کافی سمجھا اور اسی پر عمل فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ عام معاملات میں تحریر و خط قابل اعتبار ثبوت ہے، فقہاء رحمہم اللہ صرف ان مواقع پر خط کو کافی نہیں سمجھتے جہاں شہادت شرعیہ کی ضرورت ہے، کیونکہ خط اور ٹیلیفون وغیرہ کے ذریعہ شہادت نہیں لی جاسکتی، شہادت کا مدار شاہد کا عدالت کے سامنے آکر بیان دینے پر رکھا گیا ہے، جس میں بڑی حکمتیں مضمر ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کل بھی دنیا کی کسی عدالت میں خط اور ٹیلیفون پر شہادت کو کافی نہیں سمجھا جاتا۔