27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 27:32–39

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(خط سنا کر) کہنے لگی کہ اہل دربار میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو جب تک تم حاضر نہ ہو (اور اصلاح نہ دو ) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم بڑے زور آور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے تو جو حکم کیجیے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجئے گا

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسکو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں عزت والوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں انکی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہو گے

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

اس کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی انکو طاقت نہ ہوگی اور انکو وہاں سے بےعزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

(سلیمان) نے کہا کہ اے دربار والو ! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اسکے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اسکے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اسکو پاس لا حاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں

آیت نمبر 32 تا 39 ترجمہ : اے درباریو ! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو میں کسی معاملہ میں اس وقت تک قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو اَلْمَلأُ أفتونِیْ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کی تسہیل یعنی واؤ سے بدل کر ای وَفْتُوْنی ان سب نے جواب دیا کہ ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں یعنی جنگ میں بڑی شدت والے ہیں آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی غور فرلیں کہ ہم کو کیا حکم دینا چاہتی ہیں ؟ ہم آپ کی اطاعت کریں گے، بلقیس نے کہا بادشاہ جب کسی بستی میں (فاتحانہ) طور پر داخل ہوتے ہیں تو اسے تخریب کے ذریعہ اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور یہ خط بھیجنے والے بھی ایسا ہی کریں گے (میں سردست) ان لوگوں کے پاس کچھ ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ قاصد کیا جواب لیکر لوٹتے ہیں ؟ آیا وہ ہدیہ قبول کرتے ہیں یا واپس کردیتے ہیں اگر بادشاہ ہوں گے تو ہدیہ قبول کرلیں گے اور اگر نبی ہوں گے تو قبول نہ کریں گے، چناچہ بلقیس نے ایک ہزار خدام بھیجے جن میں پانچ سو لڑکے اور پانچ سو لڑکیاں تھیں، اور پانچ سو سونے کی اینٹیں اور ایک جواہرات سے جڑا ہوا تاج اور مشک وغیرہ وغیرہ، قاصد کے ہمراہ مع ایک خط کے بھیجے، چناچہ ہُدہُد نے جلدی واپس آکر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو صورت حال کی خبر دی، لہٰذا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سونے اور چاندی کی اینٹیں بنانے کا حکم دیا اور یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) کے محل سے لیکر نو فرسخ تک میدان میں بچھا دی جائیں اور اس کے میدان کے اردگرد سونے چاندی کی اونچی دیوار بنادی جائے (دوسرا ترجمہ) میدان کے اردگرد ایک دیوار بنادی جائے جس کے کنگورے سونے اور چاندی کے ہوں اور یہ کہ خشکی و تری کے بہترین جانور (خدمت کیلئے) معہ جنوں کے بچوں کے میدان کی دائیں وبائیں جانب (کھڑا کر دئیے جائیں) چناچہ جب قاصد ہدیہ لیکر وفد کے دیگر ارکان کے ساتھ سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم مال سے میری مد کرنا چاہتے ہو ؟ اللہ نے نبوت اور ملک جو مجھے عطا فرمایا ہے وہ تمہاری اس دنیا سے بہت بہتر ہے جو تم کو عطا کی ہے، ہاں تم ہی ہدیہ کے لین دین پر فخر کرتے ہوگے، اس لئے کہ دنیا کی زیب وزینت پر تم ہی فخر کرتے ہو (ایک ترجمہ یہ بھی کیا گیا ہے) تم ہی اپنے ہدیہ پر خوش رہو (یعنی تمہارا ہدیہ تم ہی کو مبارک مجھے ضرورت نہیں) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے (امیر وفد سے) کہا اپنا ہدیہ لیکر ان ہی (ہدیہ بھیجنے والوں) کے پا سواپس تشریف لیجاؤ، ہم ان کے مقابلہ کے لئے ایسا لشکر لیکر آئیں گے کہ ان میں اس لشکر کے مقابلہ کی طاقت نہ ہوگی اور ہم ان کو یقیناً اس کے شہر یعنی سبا سے ذلیل و خوار کرکے نکال دیں گے اگر وہ تابعدار ہو کر میرے پاس نہ آئے، ابو قبیلہ کے نام پر شہر کا نام سبا رکھا گیا چناچہ جب قاصد ہدیہ لیکر بلقیس کے پاس واپس گیا تو بلقیس نے اپنے تخت کو اپنے محل کے اندر جو کہ سات محلوں کے اندر تھا سات کمروں کے اندر بند کردیا اور دو دروازوں کو مقفل کردیا نیز دروازوں پر پہرے دار بٹھا دئیے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس یہ دیکھنے کے لئے جانے کی تیاری شروع کردی کہ وہ اس سے کیا کہتے ہیں، چناچہ بلقیس بارہ ہزار سرداروں کے ساتھ روانہ ہوئی اور ہر سردار کے ساتھ ہزار ہا افراد تھے، یہاں تک کہ بلقیس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اتنے قریب پہنچ گئی کہ صرف ایک فرسخ کا فاصلہ باقی رہ گیا، تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کی (آمد) کا علم ہوا۔ قال یایھا الملا ایکم حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے سردارو ! تم میں کون ہے ہمزتین میں حسب سابق قرأتیں ہیں جو ان کے مسلمان ہو کر میرے پاس پہنچنے سے پہلے اس کا تخت مجھے لادے یعنی مطیع اور فرمانبردار ہو کر آنے سے پہلے، اس کے مسلمان ہونے سے پہلے میرے لئے اس تخت کا لینا جائز ہے بعد میں نہیں ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا (حال یہ کہ) وہ بڑا قوی اور شدید تھا میں آپ کے اپنی مجلس سے اٹھنے سے پہلے ہی اس کو آپ کے پاس لا دیتا ہوں وہ مجلس کہ جس میں آپ مقدمات کے فیصلہ کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں اور وہ صبح سے دوپہر تک تھی، یقین مانئے کہ میں اس پر یعنی اس کے اٹھانے پر قادر ہوں امین بھی ہوں یعنی جو کچھ ہیرے جواہرات وغیرہ اس میں لگے ہوئے ہیں میں ان پر امین ہوں۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : ماذا تأمرین ماذا، تامرین کا مفعول ثانی ہے مفعول اول محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے تأمریننا۔ قولہ : نُطِعْکَ یہ فانظری امر کا جواب محذوف ہے اور جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ قولہ : بما یرجِعُون بِمَ ، یرْجع کے متعلق ہے۔ قولہ : مِن قبول الھدیۃِ ، بِمَا میں ما کا بیان ہے فَنَاظِرَۃٌ کا عطف مرسِلۃٌ پر ہے بِمَ کا تعلق بعض حضرات نے ناظرَۃً سے کیا ہے مگر یہ درست نہیں ہے اس لئے کہ ما استفہامیہ صدارت کو چاہتا ہے جو اس صورت میں فوت ہوجائے گی۔ قولہ : اَذِلَّۃً وھُمْ صَاغِرُوْنَ اَذِلَّۃً ھُمْ سے حال اول ہے اور وھُمْ صَاغِرُوْنَ حال ثانی مؤکدہ ہے۔ قولہ : ای اِنْ لَمْ یأتونِیْ مسلمِیْنَ کو مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ وَلَنُخْرِجَنَّھُمْ شرط محذوف مؤخر کی جزاء ہے اور اہل سبا کو سبا سے نکالنا بلقیس کے تابع فرمان ہو کر نہ آنے کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ تشریح و تفسیر اہم امور میں مشورہ کرنا سنت ہے : قالت یایھا الملا (الآیۃ) افتونی فتویٰ سے مشتق ہے جس کے معنی کسی خاص مسئلہ کا جواب دینا، یہاں مشورہ دینا مراد ہے، روح المعانی کی ایک روایت کے مطابق بلقیس کے تین سو بارہ مشیر ان خاص تھے اور ہر مشیر کے ماتحت ایک ایک ہزار افراد تھے اس سے بھی کہیں زیادہ تعداد کی روایتیں مذکور ہیں، یہ تمام روایتیں مبالغہ سے خالی نہیں ہیں، علامہ آلوسی (رح) نے ان روایات کو صدق کے بجائے کذب کے زیادہ قریب قرار دیا ہے۔ ملکہ بلقیس کے پاس جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط پہنچا تو اس نے اپنے ارکان سلطنت کو جمع کے اس واقعہ کا اظہار کیا اور ان سے اس معاملہ میں مشورہ طلب کیا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ان کی دل جوئی کے لئے ان سے رائے طلب کرنے سے پہلے یہ بھی کہا کہ میں کسی بھی اہم معاملہ کا قطعی فیصلہ تمہاری موجودگی اور رائے مشورہ کے بغیر نہیں کرتی، اسی کا نتیجہ تھا کہ تمام مشیروں نے یک زبان ہو کر کہا نَحْنُ اُوْلوا قُوَّۃٍ واُوْلوا باسٍ والاَمرُ اِلَیْک، ہم بڑے طاقتور اور بڑے جنگ جو ہیں ہم ہمہ وقت ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ڈرنے یا دبنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے باقی آخری فیصلہ آپ ہی کو کرنا ہے ہم تو خدام اور تابع ہیں جیسا حکم ہوگا بجا لانے کے لئے تیار ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہم معاملات میں مشورہ کرنے کا دستور بہت پرانا ہے، اسلام نے بھی مشورہ کو خاص اہمیت دی ہے اور ذمہ دار ان حکومت کو مشورہ کا پابند کیا ہے، یہاں تک کہ خود آنحضرت ﷺ جو کہ محبط وحی تھے جس کی وجہ سے آپ کو کسی رائے مشورہ کی در حقیقت کوئی ضرورت نہیں تھی مگر مشورہ کی سنت قائم کرنے کے لئے آپ کو بھی حکم دیا گیا وشاورھم فی الامر یعنی آپ اہم امور میں صحابہ سے مشورہ کرلیا کریں، اس میں صحابہ کرام کی دلجوئی بھی ہے اور ہمت افزائی تھی۔ مکتوب سلیمانی کے جواب میں ملکہ بلقیس کا ردعمل : مشورہ کے بعد بلقیس نے خود ہی ایک رائے قائم کی جس کا حاصل یہ تھا کہ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا امتحان لے کر وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ان کے حکم کا اتباع کیا جائے، یا وہ ایک ملک گیری کے خواہشمند بادشاہ ہیں اور ہم کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں تو پھر غور کیا جائے کہ ان کا مقابلہ کس طرح کیا جائے، اس امتحان کا طریقہ اس نے یہ تجویز کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس کچھ ہدیے تحفے بھیجے اگر وہ ہدیے تحفے لیکر راضی ہوگئے تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ ایک بادشاہ ہی ہیں، اور اگر وہ واقع میں نبی اور رسول ہیں تو وہ ایمان اور اسلام کے بغیر کسی چیز پر راضی نہ ہوں گے یہ مضمون ابن جریر نے متعدد اسانید کے ساتھ حضرت ابن عباس مجاہد وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ (معارف) یہی مضمون اس آیت میں ہے وَاِنَّی مُرسِلَۃٌ اِلَیْھِمْ بِھدیۃٍ یعنی میں حضرت سلیمان کے پاس ایک ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ جو قاصد ہدیہ لیکر جائیں گے کہ وہ آکر کیا صورت حال بیان کرتے ہیں ؟ بلقیس کے قاصدوں کی دربار سلیمانی میں حاضری : تاریخی اسرائیلی روایات میں بلقیس کی طرف سے آنے والے قاصدوں اور تحفوں کی اور خود وفد کی بڑی تفصیلات مذکور ہیں جو بقول صاحب روح المعانی سچ سے دور اور جھوٹ سے قریب ہیں، اتنی بات پر تمام روایات متفق ہیں کہ تحفہ میں کچھ سونے کی اینٹیں تھیں کچھ جواہرات، غلاموں اور کنیزوں کی تعداد روایات میں مختلف بیان ہوئی ہے، صاحب جلالین نے پانچ سو غلام اور پانچ سو کنیز بیان کی ہیں اور سونے کی اینٹوں کی تعداد بھی پانچ سو بتائی ہے اور ہیرے جواہرات سے جڑے ہوئے ایک تاج کا بھی ذکر کیا ہے ساتھ میں بلقیس نے ایک خط بھی دیا تھا ادھر جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بھی وفد کے استقبال کی تیاری عجیب و غریب شاہانہ انداز سے کی جو کہ مبالغہ سے خالی نہیں ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ نو فرسخ تقریباً تیس میل کی مسافت تک سونے چاندی کی اینٹوں کا فرش بنادیا جائے اور راستہ میں دو طرفہ عجیب الخلقت جانوروں کو کھڑا کردیا جائے اسی طرح اپنے دربار کو بھی خاص اہتمام سے آراستہ کیا غرضیکہ یمنی وفد نے جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شان و شوکت کو دیکھا تو حیرت زدہ ہوگئے اور اپنے ہدیہ کو قلیل سمجھ کر شرمانے لگے، بعض روایات میں ہے کہ اپنی سونے کی اینٹوں کو وہیں ڈال دیا، جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو آپ نہایت ہی خندہ پیشانی سے پیش آئے اور ان کی شایان شان ضیافت کا انتظام کیا مگر ان کے تحفے واپس کردیئے (ملخصاً از تفسیر قرطبی) اور کہہ دیا کہ تمہارا ہدیہ تم ہی کو مبارک ہو مجھے اس کی ضرورت نہیں میرے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔ کافر کے ہدیہ کے قبول کرنے کا حکم ؟ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کا ہدیہ قبول نہیں فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر کا ہدیہ قبول کرنا درست نہیں ہے، مگر تحقیق اس مسئلہ کی یہ ہے کہ کافر کا ہدیہ قبول کرنا اگر اپنی یا مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف ہو یا ان کے حق میں رائے کمزور ہوتی ہو تو ان کا ہدیہ قبول کرنا درست نہیں (روح المعانی) اس کے برعکس اگر کوئی دینی ضرورت ہدیہ کے قبول کرنے کی داعی ہو تو قبول کرنے کی گنجائش ہے، آپ ﷺ کی اس معاملہ میں سنت یہی رہی ہے کہ بعض کفار کا ہدیہ قبول فرمالیا اور بعض کا رد فرما دیا، عمدۃ القاری شرح بخاری کتاب الٰہیہ میں اور سیر کبیر میں حضرت کعب بن مالک سے روایت ہے کہ براء کا بھائی عامر بن ملک مدینہ طیبہ میں کسی ضرورت سے آیا جبکہ وہ مشرک تھا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں دو گھوڑے اور دو جوڑے کپڑے کا ہدیہ پیش کیا آپ نے اس کا ہدیہ یہ کہہ کر واپس فرما دیا کہ ہم مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتے، اور عیاض بن حمار مجاشعی نے آپ کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اس سے سوال فرمایا تم مسلمان ہو ؟ اس نے کہا نہیں ! آپ نے اس کا ہدیہ بھی یہ کہہ کر رد فرما دیا کہ مجھے اللہ نے مشرک کا ہدیہ لینے سے منع فرمایا ہے، اس کے بالمقابل یہ روایت بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ نے بعض مشرکین کے ہدایا کو قبول فرمایا ہے، ایک روایت میں ہے کہ ابو سفیان نے بحالت شرک آپکو ایک چمڑا ہدیہ میں بھیجا، آپ نے قبول فرما لیا اور ایک نصرانی نے ایک ریشمی رومال ہدیہ میں پیش کیا آپ نے قبول فرما لیا۔ شمس الائمہ اس کو نقل کرکے فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک سبب یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کو جن کا ہدیہ رد کرنے میں اس کے اسلام کی طرف مائل ہونے کی امید نہیں تھی وہاں رد کردیا، اور جن کا ہدیہ قبول کرنے میں اس کے مسلمان ہونے کی امید تھی تو قبول کرلیا۔ (عمدۃ القاری کتاب الٰہیہ) اور بلقیس نے جو رد ہدیہ کو نبی ہونے کی علامت قرار دیا تھا اس کا سبب یہ نہ تھا کہ نبی کے لئے مشرک کا ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں بلکہ سبب یہ تھا کہ اس نے اپنا ہدیہ درحقیقت ایک رسول کی حیثیت سے بھیجا تھا کہ اس کے ذریعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حملہ سے محفوظ رہے (معارف) ۔ بلقیس کی دربار سلیمان میں حاضری : اِرْجع اِلَیْھِمْ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہدیہ کی واپسی کے ساتھ فَلَنَاتِیَنَّھُمْ بِجُنُوْدٍ لاَ قِبَلَ لَھُمَ بِھَا کہہ کر اعلان جنگ بھی کردیا۔ قرطبی نے تاریخی روایات کے حوالہ سے رکھا ہے کہ بلقیس کے قاصد خود بھی مرعوب اور مبہوت ہو کر واپس ہوئے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اعلان جنگ سنایا تو بلقیس نے اپنے قوم سے کہا کہ پہلے بھی میرا خیال تھا کہ سلیمان دنیا کے بادشاہوں کی طرح بادشاہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ان کو کوئی خاص منصب بھی ملا ہوا ہے لہٰذا ان سے لڑنا اللہ کا مقابلہ کرنا ہے جس کی ہم میں طاقت نہیں، یہ کہہ کر بڑے سازو سامان کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضری کی تیاری شروع کردی، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ بلقیس کے تین سو بارہ مشیر تھے اور ہر مشیر کے ماتحت دس دس ہزار افراد تھے اس حساب سے تین کروڑ بیس لاکھ افراد ہوئے اور تین سو بارہ مشیر مزید (روی ذٰلک عن قتادۃ، روح المعانی) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مشیر ان خاص کی تعداد بارہ ہزار تھی اور ہر مشیر کے ماتحت ایک ایک لاکھ افراد تھے، اس حساب سے بارہ سو کروڑ یعنی ایک ارب 20 کروڑ افراد ہوئے، نیز خود ملکہ بلقیس کے ماتحت چار سو بادشاہ تھے اور ہر بادشاہ کے ماتحت اربع مأۃ الف مقاتل چار سو ہزار مقاتل تھے، صاحب روح المعانی مذکورہ تعداد کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں ھٰذہ الاخبار الی الکذب اقرب منھا الی الصدق آگے تحریر فرماتے ہیں لعمری أن اَرْضَ الیمن لتکاد تضیق عن العدد الذی تضمنہ الخَبٌران اخیران ولیت شعری ما مقدار عدد رعی تھا الباقین الذین تحتاج الی ھٰذا العسکر والقواد والوزراء لسیاستِھِمْ وضبطِ امورھم وتنظیم احوالھم۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ تعداد مبالغہ آرائی پر مبنی ہے، یمن ایک بہت چھوٹا سا ملک ہے اس زمانہ میں کل آبادی بھی اتنی نہ ہوگی جتنی کہ مشیروں اور ماتحتوں کی بیان کی گئی ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اپنے قیمتی اور مشہور زمانہ تخت شاہی کو محفوظ مکان میں مقفل کرکے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضری کی تیار شروع کردی، تخت کی لمبائی چوڑائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا طول 80 ہاتھ اور عرض 40 ہاتھ اور اونچائی 30 ہاتھ تھی اور اس میں موتی، سرخ یاقوت اور سبز زمرد جڑے ہوئے تھے (واللہ اعلم بالصواب) اور روز حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دور سے غبار اڑتا ہوا دیکھا تو معلوم کیا کہ یہ کیا ہے ؟ حاضرین نے جواب دیا اے نبی اللہ ملکہ بلقیس اپنے ساتھیوں کے ساتھ آرہی ہے بعض روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرسخ یعنی تقریباً تین میل کے فاصلہ پر تھی۔ (معارف) اس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے جنود و عساکر کو مخاطب کرکے فرمایا یٰایُّھَا الْمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاْتِیْنِی بِعَرْشِھَا قَبْلَ أنْ یَّاتُونِیْ مسلِمِیْنَ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ بلقیس مطیع و تابع فرمان ہو کر آرہی ہے تو ارادہ فرمایا کہ شاہانہ قوت و شوکت کے ساتھ ایک پیغمبرانہ معجزہ بھی دیکھ لے تو اس کے ایمان لانے کے لئے زیادہ معاون و مؤثر ہوگا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے تسخیر جنات کا معجزہ بھی عطا فرمایا تھا، باشارہ الٰہی آپ نے ارادہ فرمایا کہ کسی طرح بلقیس کا تخت شاہی اس کے دربار میں پہنچنے سے پہلے پہلے حاضر ہوجائے اس لئے حاضرین کو جن میں جنات بھی تھے تخت کو لانے کے لئے فرمایا جس کو سات محلات شاہی کے وسط میں ایک محفوظ محل کے اندر مقفل کرکے رکھا تھا اور اس کے اوپر پہرہ بھی بٹھا دیا تھا جس کی وجہ سے تخت تک خود اس کے آدمیوں کی بھی رسائی نہیں تھی، اس کا بغیر دروازہ اور قفل توڑے ہوئے منتقل ہوجانا اور اتنی مسافت بعیدہ پر پہنچ جانا حق تعالیٰ شانہٗ کی قدرت کاملہ ہی سے ہوسکتا ہے، تو ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ میں اس تخت کو آپ کے پاس آپ کے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے لاسکتا ہوں۔
Ayahs 27:40–44

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

جب وہ آپہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت و شان کا) علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی (سلیمان نے) اسکو منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں (سلیمان نے کہا) یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں

آیت نمبر 40 تا 44 ترجمہ : سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں جس کے پاس نازل کردہ کتاب کا علم تھا وہ بولا اور وہ آصف بن برخیا تھا وہ مقام صد یقیت پر فائز تھا، وہ اللہ کے اسم اعظم سے واقف تھا وہ اسم اعظم کہ اگر اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں میں اس تخت کو آپ کے پاس آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا جب کہ آپ اپنی نظر سے کسی شئ کو دیکھیں (آسف بن برخیا) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا آپ آسمان کی طرف دیکھیں چناچہ (حضرت سلیمان علیہ السلام) نے آسمان کی طرف دیکھا پھر نظر کو پھرایا تو تخت کو اپنے سامنے رکھا ہوا پایا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے آسمان کی طرف نظر کرنے کے دوران آسف نے اسم اعظم پڑھ کر دعا کی کہ اے اللہ تو اس کو لے آ، چناچہ دعا قبول ہوگئی بایں طور کہ تخت زمین کے نیچے نیچے روانہ ہوا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے سامنے نمودار ہوگیا جب سلیمان (علیہ السلام) نے تخت کو اپنے روبرو موجود دیکھا فرمایا یہ یعنی اس کو میرے لئے لانا میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا نعمت کی ناشکری (ءَاَشْکُرُ ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی الف سے بدل کر اور ثانی کی تسہیل کے ساتھ اور مسھلہ اور دوسرے کے درمیان الف داخل کرکے اور ترک ادخال کے ساتھ شکر گزار اپنے ہی فائدہ کے لئے شکر گزاری کرتا ہے اس لئے کہ اس کی شکر گزاری کا اجر اسی کے لئے ہے اور جس نے نعمت کی ناشکری کی تو بلاشبہ میرا رب اس کے شکرئیے سے مستغنیٰ (اور) کریم ہے بسبب نعمتوں کی ناشکری کرنے والے پر بھی فضل فرمانے کے (حضرت) سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کے تخت میں کچھ ردوبدل کردو یعنی اس کو اتنا بدل دو کہ جب وہ اس کو دیکھے تو پہچان نہ سکے، (تاکہ) ہم دیکھیں کہ آیا وہ اس کو پہچان پاتی ہے یا نہ پہچاننے والوں میں رہتی ہے اس (تخت) کی معرفت میں جس میں ان کے لئے ترمیم کردی ہے، اس ردو بدل کا مقصد اس کی عقل کی آزمائش تھی، اس لئے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہا گیا تھا کہ اس کی عقل میں کچھ کمی ہے چناچہ تخت میں قدرے کمی بیشی وغیرہ کے ذریعہ پھیر بدل کردیا، جب وہ آگئی اس سے دریافت کیا گیا کیا تیرا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ یعنی کیا تیرا تخت بھی اس جیسا ہی ہے تو بلقیس نے جواب دیا یہ تو گویا کہ وہی ہے یعنی اس نے تخت کو پہچان لیا، اس نے (بھی) ان کو مغالطہ دیا جیسا کہ انہوں نے اس کو مغالطہ دیا تھا، اس لئے (اس سے) یہ نہیں کہا کیا یہ تیرا تخت ہے ؟ اور اگر یہ کہا جاتا تو وہ نعم کہہ دیتی، جب سلیمان (علیہ السلام) نے اس میں علم و معرفت دیکھی تو فرمایا کہ ہمیں تو اس واقعہ سے پہلے ہی بتادیا گیا تھا (کہ ملکہ سبا تابع فرمان ہو کر حاضر خدمت ہوگی) اور ہم مسلمان تھے۔ نوٹ : مفسر ابن کثیر نے وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ (الآیۃ) کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قول قرار دیا ہے علامہ محلی نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، دیگر مفسرین نے بلقیس کا قول قرار دیا ہے اور ترجمہ یہ کیا ہے ہم تو اس واقعہ سے پہلے ہی سمجھ گئے تھے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں اور آپ کے مطیع اور تابع فرمان ہوگئے تھے اور اس کو اللہ کی عبادت سے غیر اللہ کی عبادت کرنے نے روک رکھا تھا (صدھا کا فاعل ما کانت تعبد ہے) یقیناً وہ کافر قوم میں سے تھی بلقیس سے یہ بات بھی کہی گئی کہ محل میں تشریف لے چلئے (اور) وہ صاف شفاف شیشہ کی سطح (فرش) تھی جس کے نیچے پانی جاری تھا اس میں مچھلیاں بھی تھیں، اور یہ شیشہ کا محل (یا حوض) اس لئے بنوایا تھا کہ حضرت سلیمان سے کہا گیا تھا کہ اس کی دونوں پنڈلیاں اور دونوں پیر گدھے کے پیر جیسے ہیں جب بلقیس نے محل کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ یہ گہرا پانی ہے اپنی پنڈلیاں کھول دیں تاکہ اس میں داخل ہوجائے، اور سلیمان (علیہ السلام) محل کے سامنے تخت پر تشریف فرما تھے چناچہ اس کی پنڈلیوں اور قدموں کو خوبصورت پایا تو حضرت سلیمان نے اس سے کہا یہ تو چکنے چمکدار شیشہ کا محل ہے یعنی کانچ کا اور بلقیس کو اسلام کی دعوت دی، کہنے لگی یقیناً میں نے اے میرے رب تیرے غیر کی بندگی کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ ہو کر رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں اور سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے نکاح کا ارادہ فرمایا، لیکن اس کی پنڈلیوں کے بالوں سے ناپسند کیا چناچہ شیاطین نے اس کے لئے نورہ (یعنی بال صفا) بنایا بعد ازیں بلقیس نے اس سے بال صاف کئے اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے نکاح کرلیا اور اس کو اس کے ملک پر برقرار رکھا، اور حضرت سلیمان ہر ماہ میں اس کی ایک مرتبہ ملاقات کیا کرتے تھے اور اس کے پاس تین روز قیام فرمایا کرتے تھے اور اس کے پاس تین روز قیام فرمایا کرتے تھے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے اختتام کے ساتھ ہی اس کا ملک بھی اختتام پذیر ہوگیا، روایت کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب تیرہ سال کے تھے تو بادشاہ بنے تھے اور جب تریپن سال کے تھے تو انتقال فرمایا، اللہ پاک ہے کہ جس کے ملک کے دوام کے لئے زوال نہیں ہے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد قال عفریت من الجن اس جن کا نام ذکوان یا صخر تھا۔ قولہ : آصف ابن برخیا کہا گیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خالہ زاد بھائی تھا اور کبار اولیاء اللہ میں سے تھا، اس کے ہاتھ پر خوارق عادت بہت ظاہر ہوتے تھے۔ قولہ : ثَمَّ رَدّ بطرفہٖ بطرفِہٖ میں با زائدہ ہے۔ قولہ : بالاِفضَالِ علیٰ مَنْ یَکْفُرُھا یعنی وہ اپنی عام نعمتوں کو کفر اور ناشکری کی وجہ سے سلب نہیں کرتا قال نکروا لھا اس کا عطف قال ھٰذا من فضل ربی پر ہے۔ قولہ : نَنْظُرْ جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ قولہ : فَکَرِہَ شَعْرَ سَاقَیْھَا یہ تفسیر ما قبل کی تفسیر فرَایٰ ساقِیْھَا وقَدْمَیْھَا حِسَانًا سے متعارض ہے، بعض حضرات نے یہ توجیہ کی ہے کہ بالوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اس کے قدم اور پنڈلیاں حسین تھیں، مگر یہ توجیہ دل لگتی نہیں ہے، قولہ : مُمَرَّدٌ تمرید سے مشتق اس کے معنی چکنے کے ہیں امرد اسی سے ہے۔ تفسیر و تشریح مگر سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں، تو جس کے پاس علم کتاب تھا بول اٹھا کہ میں اس کو پلک جھپکنے سے پہلے ہی آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یقیناً جن ہی تھا جنوں کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مقابلہ میں غیر معمولی قوتوں سے نوازا ہے، اس لئے کہ کسی انسان کے لئے خواہ وہ کتنا بھی زور آور کیوں نہ ہو یہ ممکن نہیں کہ وہ بیت المقدس سے مآرب یمن (سبا) جائے وہاں سے تخت شاہی اٹھالائے اور ڈیڑھ ہزار میل کا یہ فاصلہ اگر دو طرفہ شمار کیا جائے تو تین ہزار میل کا فاصلہ چشم زدن میں طے کرلے۔ یہ کون شخص تھا جس نے چشم زدن میں تخت لانے کا وعدہ کیا ؟ اور یہ کتاب جس کا اسے علم دیا گیا تھا وہ کونسی کتاب تھی ؟ اور یہ علم کیا تھا ؟ جس کے زور پر یہ دعویٰ کیا گیا اس میں مختلف اقوال ہیں، حقیقت حال اللہ بہتر جانتا ہے، ایک احتمال تو یہ ہے کہ خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) مراد ہیں، اس لئے کہ کتاب کا علم سب سے زیادہ ان ہی کے پاس تھا اس صورت میں یہ پورا معاملہ بطور معجزہ ہوا، اور یہی مقصود تھا، مگر اکثر ائمہ تفسیر قتادہ سے ابن جریر نے نقل کیا ہے اور قرطبی نے اسکو جمہور کا قول قرار دیا ہے کہ یہ کوئی شخص حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے تھا ابن اسحٰق نے اس کا نام آصف بن برخیا بتایا ہے اس شخص کو اسم اعظم کا علم تھا، جس کا خاصہ یہ ہے کہ اس کو پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے جو بھی دعا کی جائے قبول ہوتی ہے، یہ کام اگرچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) خود بھی انجام دے سکتے تھے مگر ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے مصلحت اسی میں سمجھی ہو کہ یہ کارنامہ ان کے کسی امتی کے ہاتھ سے انجام پائے، اس صورت میں یہ آصف بن برخیا کی کرامت ہوگی۔ معجزہ اور کرامت میں فرق : جس طرح معجزہ میں اسباب طبعیہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ معجزہ براہ راست حق تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللہ رَمیٰ اسی طرح کرامت میں بھی اسباب طبعیہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا اور یہ دونوں صاحب معجزہ اور صاحب کے اختیار میں بھی نہیں ہوتے، ان دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ ایسا کوئی خارق عادت کام اگر کسی صاحب وحی کے ہاتھ پر ہو تو معجزہ کہلاتا ہے اور اگر غیر نبی کے ہاتھ پر ظہور ہو تو کرامت کہلاتی ہے۔ جب ملکہ بلقیس کا شاہی تخت دربار سلیمانی میں آگیا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس میں ردوبدل کردو تاکہ بلقیس اسے آسانی سے نہ پہچان سکے حضرت سلیمان کے حکم کے مطابق ردو بدل کردیا گیا، جب بلقیس آئی تو اس سے معلوم کیا کہ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ جواب دیا کَاَنَّہٗ ھُوَ گویا وہی ہے، چونکہ تخت میں کافی حد تک ردو بدل کردیا گیا تھا اس لئے صاف الفاظ میں اپنے ہونے کا اقرار بھی نہیں کیا اور نہ صاف انکار کیا بلکہ ایسی گول بات کہہ دی کہ جس میں نہ انکار ہے اور نہ اقرار چونکہ سائل نے اشتباہ میں ڈالنے کے لئے مغالطہ سے کام لیا تھا، بلقیس نے بھی جیسا سوال تھا ویسا ہی جواب دیدیا۔ اوتینا العلم من قبلھا اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ بلقیس کا قول ہے یا سلیمان (علیہ السلام) کا، ابن حجر نے اس کو بلقیس کا مقولہ قرار دیا ہے اور اسی کے سابق کلام کا تتمہ فرمایا ہے یعنی بلقیس نے عرض کیا کہ ہم لوگوں کو تو اس واقعہ سے پہلے ہی آپ کی نبوت کی تحقیق ہوچکی ہے، اور ہم اسی وقت سے دل سے مطیع ہوچکے ہیں جب قاصد سے آپ کے کمالات معلوم ہوئے تھے، اس معجزہ کی چنداں حاجت نہیں تھی، اور ابن جریر نے مجاہد سے نقل کیا ہے یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا مقولہ ہے مطلب یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہمیں (بذریعہ وحی) پہلے یہ بتادیا گیا کہ ملکہ سبا تابع فرمان ہو کر حاضر خدمت ہوگی۔
Ayahs 27:45–59

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

(صالح نے) کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو ؟ (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہو (صالح نے) کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ یم رات کو اس پر اور اسکے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور وہ ایک چال چلے اور ہم بھی ایک چال چلے اور انکو کچھ خبر نہ ہوئی

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا ؟ ہم نے ان کو ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں جو لوگ دانش رکھتے ہیں ان کے لئے ان میں نشانی ہے

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت (حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ احمق لوگ ہو

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اسکے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو شہر سے نکال دو یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے انکو انکے گھر والوں کو نجات دی

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

مگر ان کی بیوی کہ اسکی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی) اور ہم نے ان پر مینہ برسایا سو (جو) مینہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا برا تھا

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے اور اسکے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ اسکا شریک ٹھہراتے ہیں

آیت نمبر 45 تا 59 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے، کہ عذاب میں مبتلا نہ کئے جاؤ وہ لوگ کہنے لگے ہم تو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں یعنی مومنوں کو منحوس سمجھتے ہیں اِطّیّرْنَا اصل میں تَطَیَّرْنَا تھا تا کو طا میں ادغام کردیا (ابتداء بالسکون لازم آنے کی وجہ سے) ہمزہ شروع میں داخل کردیا الطَّیَّرْنا ہوگیا یعنی تیری وجہ سے ہم نحوست میں مبتلا ہوگئے، اس لئے کہ قوم خشک سالی اور بھکمری کا شکار ہوگئی، حضرت صالح نے فرمایا تمہاری نحوست اللہ کے پاس ہے، وہ ہی اس کو تمہارے پاس لایا ہے بلکہ تم وہ لوگ ہو جو خیر و شر کے ذریعہ آزمائش میں مبتلا کئے گئے ہو اور ثمود کے شہر (حجر) میں نو شخص ایسے تھے جو معاصی کے ذریعہ زمین (ملک) میں فساد برپا کرتے تھے، ان ہی فساد کے طریقوں میں دراہم و دنانیر کا کاٹنا بھی شامل تھا اور طاعت کے ذریعہ (ذرا) اصلاح نہ کرتے تھے، ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو صالح (علیہ السلام) اور اس کے ابل پر ضرور شب خون ماریں گے یعنی رات کو ہم ان کو ضرور قتل کردیں گے لَنُبَیِّتَنَّہٗ نون کے ساتھ اور (بجائے نون کے) تا اور تاء ثانیہ کے ضمہ کے ساتھ ہے، اور اَھْلٌ سے حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے مراد ہیں اور پھر ہم اس کے دلی دم سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم ان کے اہل کے ہلاک کرنے کے وقت موجود (ہی) نہیں تھے لَنَقُولَنَّ نون کے ساتھ اور تاء اور الم ثانیہ کے ضمہ کے ساتھ ہے مُھْلِکَ میم کے ضمہ کے ساتھ یعنی ان کو ہلاک کرنے کے وقت اور میم کے فتحہ کے ساتھ یعنی ان کی ہلاکت کے وقت، لہٰذا ہم نہیں جانتے کہ اسکو کس نے قتل کیا ؟ اور ہم بالکل سچے ہیں انہوں نے اس معاملہ میں ایک خفیہ تدبیر کی اور ہم نے (بھی ایک تدبیر کی یعنی ہم نے ان کو فوری عذاب میں گرفتار کرکے سزا دی اور ان کو خبر بھی نہ ہوئی سو دیکھ لو ان کے مکر کا انجام کیسا ہوا ؟ ہم نے ان کو اور ان کی پوری قوم کو جبرائیل کی چیخ کے ذریعہ یا فرشتوں کے پتھر مارنے کے ذریعہ ہلاک کردیا وہ پتھروں کو دیکھتے تھے مگر فرشتوں کو نہیں دیکھتے تھے ان کے مکانات جو ظلم کی وجہ سے خالی پڑے ہیں یعنی ان کے کفر کی وجہ سے خاوِیَۃً حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اس میں عامل اسم اشارہ کے معنی (یعنی اشیر ) ہے بلاشبہ اس (تدبیر) میں بڑی عبرت ہے ان لوگوں کے لئے جو ہماری قدرت کو جانتے ہیں سو نصیحت حاصل کرتے ہیں، اور ہم نے ان لوگوں کو جو صالح (علیہ السلام) پر ایمان لاتے تھے اور وہ چار ہزار تھے بچا لیا اور وہ شرک سے پرہیز کرتے تھے اور لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ کیجئے لوطاً اپنے ما قبل اذکر محذوف کی وجہ سے منصوب ہے اور اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ اس سے (یعنی اذکر لوطاً ) سے بدل ہے جبکہ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کیا تم بےحیائی کا کام یعنی لواطۃ کرتے ہو درآنحالیکہ تم ایک دوسرے کو معصیت میں منہمک ہونا دکھاتے ہو ایک دوسرے کو مشغول ہوتا دیکھتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو ؟ اَئِنَّکُمْ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں کے درمیان الف داخل کرکے بلکہ تم ایسی قوم ہو جو اپنے فعل کے انجام سے بیخبر ہے قوم کے پاس جواب سوائے یہ کہنے کے کچھ نہ تھا کہ لوط کے متعلقین کو اپنی بشتی سے نکالدو یہ لوگ مردوں کی دبروں کے معاملہ میں بڑے پاک بنتے ہیں پس ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو بجز اس کی بیوی کے بچا لیا اور ہم نے اس کو اپنی تقدیر سے عذاب میں باقی رہنے والوں میں کردیا اور ان پر ہم نے ایک خاص قسم کی بارش برسادی اور وہ کنکریلے پتھر تھے جنہوں نے ان کو ہلاک کردیا سو ان عذاب سے ڈرائے ہوئے لوگوں پر وہ بری بارش تھی اے محمد کہہ دیجئے سابقہ قوموں کے ہلاک کرنے پر سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے، کیا اللہ بہتر ہے اس کے لئے جو اس کی بندگی کرتا ہے یا وہ جس کو یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں ءٰاللہ خیرٌ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کو الف سے بدل کر اور مسہلہ اور محققہ کے درمیان الف داخل کرکے اور اس کو ترک کرکے یشرکونَ یا اور تا کے ساتھ یعنی اے اہل مکہ اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو تم اس کے ساتھ معبود ہونے کی حیثیت سے شریک کرتے ہو اپنے عابدین کے لئے بہتر ہیں۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد ولقد ارسلنا۔۔۔ اخاھم ثمود قبیلہ کے جداَ بعد کا نام ہے سالح (علیہ السلام) بھی ان ہی کی نسل سے ہیں اس ابوالجد ہی کے نام پر قبیلہ کا نام ہے، مگر قبیلہ ہی مراد ہے حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ثمود کو عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں عاد اولیٰ قوم ہود کا نام ہے عاداولیٰ اور عاد ثانیہ کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے (جمل) قولہ : صَالِحًا، اَخَاھم سے بدل یا عطف بیان ہے حضرت صالح (علیہ السلام) نے دو سو اسی سال کی عمر پائی، ہود (علیہ السلام) کی عمر چار سو چونسٹھ سال ہوئی، ہود (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ سو سال کا فاصلہ ہے (جمل) فَاِذَا ھُمْ فَرِیقانِ یختَصِمُوْنَ فریقان سے قوم صالح مراد ہے یعنی کچھ لوگ ایمان لے آئے اور کچھ نہیں لائے علامہ زمخشری نے دو فریقوں میں ایک فریق حضرت صالح (علیہ السلام) کو اور دوسرا ان کی قوم کو قرار دیا ہے، علامہ زمخشری کو فریقان کا یہ مطلب لینے پر فا کے ذریعہ عطف نے آمادہ کیا ہے اس لئے کہ فا تعقیب بالاتصال پر دلالت کرتی ہے یعنی دعوۂ رسالت سے متصلاً دو فریق ہوگئے یعنی ایک فریق حضرت صالح اور دوسرا فریق ان کی قوم۔ قولہ : یختصمون باعتبار معنی کے فریقان کی صفت ہے یعنی فریقان موصوف اگرچہ باعتبار لفظوں کے تثنیہ ہے مگر چونکہ ہر فریق چند افراد پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے اس میں جمعیۃ کے معنی ہیں لہٰذا موصوف وصفت میں مطابقت موجود ہے۔ قولہ : لِمَ تَسْتَعْجلُوْنَ بِالسَّیِّئَۃِ ای بطلب السَّیّئَۃِ ای بطلب السَّیّئَۃِ اور سیئۃ سے عذاب اور الحّسَنَۃِ سے رحمت مراد ہے جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کیا ہے۔ قولہ : قُحِطُوْا المَطَرَ ای حُبِسُوّا المطرَ یعنی تمہاری نحوست کی وجہ سے بارش روک دی گئی۔ قولہ : مدینۃ ثمود کہا گیا ہے کہ ثمود کے شہر کا نام حجر تھا، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ حجر مدینہ اور شام کے درمیان وادی ہے یہیں پر ثمود کی آبادی تھی۔ قولہ : رَھْطٍ کی تفسیر رجالٍ سے کرکے اشارہ کردیا کہ رَھْطٍ تسعۃُ سے معنی کے اعتبار سے تمیز واقع ہے رَھْطٌ گو لفظوں کے اعتبار سے مفرد ہے مگر معنی کے اعتبار سے جمع ہے لہٰذا اس کا تمیز واقع ہونا صحیح ہوگیا تِسْعۃٌ رھطٍ میں اضافت بیانیہ ہے، تسعۃً ھم رَھْطٌ، رھطٌ دس سے کم اشخاص کو کہتے ہیں جن میں عورتیں نہ ہوں تَقَاسَمُوْا کی تفسیر اِحْلَفُوا سے کرکے اشارہ کردیا کہ منصوبہ بنایا تھا انہوں نے آپس میں کہا کہ قسمیں کھاؤ کہ ہم صالح اور ان کے اہل خانہ پر شب خون ماریں گے، تَقَاسَمُوْا فعل ماضی بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں لقالوا کی تفسیر واقع ہوگا، گویا کہ سوال کیا گیا ماقالوا ؟ فقیل تقاسموا نُبَیّتُنَّہٗ مضارع جمع متکلم بانون تاکید ثقیلہ ہٗ ضمیر مفعول، باب تفعیل ہم اس پر ضرور رات میں حملہ کریں گے۔ قولہ : بِمَا ظَلَمُوْا کی تفسیر بظلمھم سے کرکے اشارہ کردیا کہ ما مصدریہ ہے اور باسببیہ ہے۔ قولہ : آمنوا بصالحٍ دیگر تفاسیر میں آمنوا صالحاً ہے، قولہ : وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ تاتونَ کی ضمیر سے جملہ ہو کر حال ہے مقصد نکیر کی تاکید و تشدید ہے یَبْصُرْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رویت سے رویت بصری مراد ہے (یعنی ایک دوسرے کے سامنے خبیث حرکت کرتے تھے) بعض نے تبصرون سے رویت قلبی مراد لی ہے یعنی جانتے بوجھتے بھی ایسی حرکت کرتے ہو۔ قولہ : لَتَاتُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَۃً مِنْ دُوْنِ النِّسَاءِ سے اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ میں جو ابہام ہے اس کی تعیین ہے اولاً مبہم رکھنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حرکت ناقابل بیان بلکہ اس کے وصف کا بیان کرنا نہایت مشکل اور دشوار ہے کوئی بھی ذی عقل اور ہوشمند اس کی تصدیق نہیں کرے گا کہ کسی سے ایسی حرکت صادر ہوسکتی ہے۔ قولہ : مِن دون النِّساءِ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس حرکت میں دو طرفہ معصیت ہے یعنی مردوں کے ساتھ فعل معصیت ہے اور عورتوں کا ترک معصیت ہے۔ قولہ : تجھلونَ (سوال) قوم کی صفت ہے حالانکہ دونوں میں مطابقت نہیں ہے اس لئے کہ قومٌ غائب ہے اور تجھلون حاضر (جواب) غیبت اور مخاطبت جب جمع ہوجاتی ہے تو مخاطبت کے اقویٰ ہونے کی وجہ سے مخاطبت کو غیبت پر غلبہ دیدیا جاتا ہے (جمل) یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ مخاطب قوم ہے اس لئے اس کو حاضر کے درجہ میں رکھ کر صفت مخاطب کے صیغہ کے ساتھ لایا گیا ہے۔ قولہ : عاقبۃً اس سے اشارہ ہے کہ تجھلون کا مفعول محذوف ہے۔ قولہ : فما کان جوابَ قومہٖ کان کی خبر مقدم ہے وَاِلاَّ اَن قالوا اس کا اسم ہے ای اِلاَّ قولُھم اور ابن ابی اسحٰق نے جوابُ کو اسم کان قرار دیکر رفع پڑھا ہے اور مابعد کو اس کی خبر قرار دیا ہے۔ قولہ : وَاَمْطَرْنَا علَیْھِمْ مَطَرًا یہ تاکید شدت مطر پر دلالت کرنے کے لئے یعنی وہ بارش غیر معہود اور غیر معمولی تھی بالعذاب منذرین کے متعلق ہے اور مَطَرُھم مخصوص بالذم ہے۔ تفسیر و تشریح ولقد ارسلنا۔۔۔ اخاھم یہ اس سورت کا چوتھا قصہ ہے، حضرت صالح (علیہ السلام) کا نام قرآن کریم میں آٹھ جگہ آیا ہے، حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم میں پیدا ہوئے اس کو ثمود کہتے تھے حضرت صالح (علیہ السلام) کا سلسلہ نسب چھ واسطوں سے ان کے جداعلیٰ ثمود تک پہنچ جاتا ہے یہ امام بغوی کی تحقیق ہے اور یہی تاریخی حیثیت سے راجح ہے (قصص القرآن) اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ قوم ثمود کا نام ثمود ان کے مورث اعلیٰ کے نام پر ہے، ثمود سے حضرت نوح (علیہ السلام) تک کہ سلسلہ نسب میں دو قول ہیں (1) ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح (2) ثمود بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) ، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ امام ثعلبی دوسرے قول کو راجع سمجھتے ہیں، قوم ثمود سامی اقوام ہی کی ایک شاخ ہے، عاد اولیٰ کی ہلاکت کے وقت حضرت ہود (علیہ السلام) کے ساتھ بچ گئے تھے یہ وہی لوگ ہیں اور یہی نسل، عاد ثانیہ کہلائی۔ ثمود کی بستیاں : ثمود کہاں آباد تھے ؟ اور کس خطہ میں پھیلے ہوئے تھے ؟ اس کے متعلق یہ طے شدہ امر ہے کہ ان کی آبادیاں حجر میں تھیں، حجاج اور شام کے درمیان وادی قریٰ تک جو میدان نظر آتا ہے یہ سب ان کا مقام سکونت ہے، اور آج کل فج الناقہ کے نام سے مشہور ہے ثمود کی بستیوں کے خرابات اور آثار آج تک موجود ہیں۔ اہل ثمود کا مذہب : ثمود اپنے پیش دو ، بت پرستوں کی طرح بت پرست تھے اور خدائے وحدہٗ لاشریک کے علاوہ بہت سے معبود ان باطلہ کے پرستار تھے، اس کی اصلاح کے لئے ان ہی کے قبیلہ میں سے حضرت صالح کو ناصح اور رسول بنا کر بھیجا گیا، ان کی قوم کے تقریباً چار ہزار افراد ان پر ایمان لائے تھے عذاب آنے سے پہلے جن کو لیکر حضرت صالح (علیہ السلام) حضرموت تشریف لے گئے جہاں حضرت صالح کا انتقال ہوگیا اسی وجہ سے اس کا نام حضرموت مشہور ہوگیا۔ ناقۃ اللہ : حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم ثمود کو بہت سمجھایا، قوم بجائے اس کے کہ ان کی نصیحت کو قبول کرتی، بت پرستی سے باز آتی، ان کا بغض وعناد ترقی پاتا رہا اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت میں اضافہ ہی ہوتا رہا، اگرچہ کمزور اور مختصر جماعت نے ایمان قبول کرلیا مگر سربرآوردہ اور اہل اقتدار اور خوشحال لوگوں کی جماعت بت پرستی پر قائم رہی، خدا کی دی ہوئی ہر قسم کی خوش عیشی اور رفاہیت کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے کفران نعمت کو شعار بنا لیا، حضرت صالح کی نہ صرف یہ کہ تکذیب کی بلکہ ان کا مذاق بھی اڑاتی رہی، اور پیغمبرانہ دعوت و نصیحت کو قبول کرنے سے انکار کردیا، اور نشان نبوت کا مطالبہ کیا۔ تاریخی حیثیت سے واقعہ کی تفصیل : واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم جب حضرت صالح (علیہ السلام) کی تبلیغ حق سے اکتا گئی تو ان کے سرخیل اور سرگروہ افراد نے قوم کی موجودگی میں مطالبہ کیا اے سالح اگر تو واقعہ خدا کافر ستادہ ہے تو کوئی نشان (معجزہ) دکھا، تاکہ ہم تیری صداقت پر ایمان لے آئیں، حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ نشان آنے کے بعد بھی انکار پر مصر اور سرکشی پر قائم رہو، قوم کے ان سرداروں نے بتاکید وعدہ کیا کہ ہم فوراً ایمان لے آئیں گے، تب حضرت صالح (علیہ السلام) نے دریافت کیا کہ وہ کس قسم کا نشاہ چاہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ سامنے والے پہاڑ سے یا بستی کے اس پتھر سے جو کنارہ پر نصب ہے ایک ایسی اونٹنی ظاہر کر کہ جو گیا بھن ہو اور فوراً بچہ دے، حضرت صالح (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی جس کے نتیجے میں اسی وقت اس پتھر سے حاملہ اونٹنی ظاہر ہوئی اور اس نے بچہ دیا، یہ دیکھ کر ان سرداروں میں سے جندع بن عمر تو اسی وقت مسلمان ہوگیا اور دوسرے سرداروں نے بھی جب اس کی پیروی میں اسلام لانے کا ارادہ کیا تو ان کے ہیکلوں اور مندروں کے مہنتوں نے ان کو اسلام لانے سے باز رکھا۔ اب صالح (علیہ السلام) نے قوم کے تمام افراد کو تنبیہ کی کہ دیکھو یہ نشانی تمہاری طلب پر بھیجی گئی ہے خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ پانی کی باری مقرر ہو ایک دن اس اونٹنی کا ہوگا اور ایک دن پوری قوم اور ان کے جانوروں کا، اور خبردار اس کو کوئی اذیت نہ پہنچے، اگر اس کو آزار پہنچا تو تمہاری خیر نہیں ہے ایک مدت تک یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، اور پوری قوم اس کے دودھ سے فائدہ اٹھاتی رہی، آہستہ آہستہ یہ بات بھی ان کو کھٹکنے لگی اور آپس میں صلاح و مشورے ہونے لگے کہ اس ناقہ کا خاتمہ کردیا جائے تاکہ باری کے قصے سے نجات ملے، کیونکہ اب ہمارے چوپایوں کے لئے اور خود ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے مگر قتل کرنے کی کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی، ایک حسین و جمیل مالدار عورت صدوق نے خود کو ایک شخص مصدع کے سامنے اور دوسری مالدار عورت عنیزہ نے اپنی ایک خوبصورت لڑکی کو قیدار (قدار) کے سامنے یہ کہہ کر پیش کیا کہ اگر وہ ناقہ کو ہلاک کردیں تو یہ تمہاری ملک ہیں، تم ان کو بیوی بنا کر عیش کرو آخر قیدار بن سالف اور مصدع کو اس کے لئے آمادہ کرلیا گیا اور طے پایا کہ وہ راہ میں چھپ کر بیٹھ جائیں اور ناقہ جب چراگاہ جانے لگے تو اس پر حملہ کردیں اور چند دیگر آدمیوں نے بھی مدد کا وعدہ کیا۔ غرضیکہ ایسا ہی کیا گیا اور ناقہ کو اس طرح سازش کرکے قتل کردیا گیا اور آپس میں قسمیں کھائیں کہ رات ہونے پر ہم سب صالح اور اس کے اہل و عیال کو بھی قتل کردیں گے اور پھر اس کے اولیاء کو قسمیں کھا کر یقین دلا دیں گے کہ یہ کام ہمارا نہیں ہم تو اس وقت موجود بھی نہیں تھے ادھر بچہ یہ دیکھ کر بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور چیختا چلاتا پہاڑی میں غائب ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا آخر وہی ہوا جس کا مجھے خطرہ تھا، اب خدائی عذاب کا انتطار کرو جو تین دن کے بعد تم کو تباہ کر دے گا، اور پھر بجلی کی چمک اور کڑک کا عذاب آیا اس نے رات میں سب کو تباہ کردیا اور آنے والے انسانوں کے لئے تاریخی عبرت کا سبق دے گیا۔ صاحب روح المعانی سید آلوسی (رح) اپنی تفسیر روح المعانی میں تحریر فرماتے ہیں کہ ثمود پر عذاب کی علامات اگلی صبح ہی سے نمودار ہونے لگیں، پہلے روز ان سب کے چہرے اس طرح زرد پڑگئے جیسا کہ خوف کی ابتدائی حالت میں ہوجایا کرتا ہے، اور دوسرے روز سب کے چہرے سرخ تھے گویا کہ خوف و دہشت کا یہ دوسرا درجہ تھا اور تیسرے روز ان سب کے چہرے سیاہ تھے اور یہ خوف و دہشت کا وہ تیسرا مقام ہے کہ جس کے بعد موت ہی کا درجہ باقی رہ جاتا ہے۔ بہرحال ان تین دن کے بعد وقت موعود آپہنچا اور رات کے وقت ایک ہیبت نال آواز نے ہر شخص کو اسی حالت میں ہلاک کردیا جس حالت میں وہ تھا قرآن عزیز نے اس ہلاکت آفریں آواز کو کسی مقام پر صاعقہ (کڑک دار بجلی) اور کسی جگہ (زلزلہ ڈال دینے والی شئ) اور بعض جگہ طاغیہ (دہشت ناک) اور بعض جگہ صیحہ (چیخ) فرمایا، یہ سب ایک ہی حقیقت کی مختلف اوصاف کے اعتبار سے تعبیرات ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ خدا تعالیٰ کے اس عذاب کی ہولناکیاں کیسی گونا گوں تھیں۔ ایک طرف ثمود پر یہ عذاب نازل ہوا دوسری طرف حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے پیرو مسلمانوں کو خدا نے اپنی حفاظت میں لے لیا اور ان کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ قصہ لوط (علیہ السلام) : ولوطاً گزشتہ صفحات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر آچکا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زادہ ہیں ان کے والد کا نام ہاران تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) کا بچپن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زیر سایہ گزرا تھا حضرت لوط (علیہ السلام) ہجرت میں بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ رہے ہیں اور جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مصر تشریف لے گئے تھے تو اس وقت بھی حضرت لوط (علیہ السلام) ہمراہ تھے، اور مصر میں بھی قیام ساتھ ہی میں رہا باہم مشورہ سے یہ بات طے پائی کہ لوط مصر سے ہجرت کرکے مشرق اردن کے علاوہ سدوم اور عامورہ چلے چائیں اور وہاں رہ کر دین حنیف کی تبلیغ و اشاعت کا کام کریں اور حضرت ابراہیم واپس فلسطین چلے جائیں۔ سدوم : اردن کی وہ جانب ہے جہاں آج بحر میت یا بحر لوط واقع ہے یہی وہ مقام ہے کہ جہاں سدوم و عامورہ کی بستیاں واقع تھیں وہاں کے گرد و نواح میں بسنے والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ وہ تمام حصہ جواب زیر آب نظر آتا ہے کسی زمانہ میں خشک زمین تھی اور اس پر شہر آباد تھے، قوم لوط پر عذاب کی وجہ سے یہ زمین تقریباً چار سو میٹر سطح سمندر سے نیچے چلی گئی، اسی لئے اس کو بحر میت اور بحر لوط کہتے ہیں۔ (بستان جلد 9، ص 537، بحوالہ قصص القرآن ج 1، ص 257)