Ayahs 27:60–66آیت نمبر 60 تا 66
ترجمہ : بھلا بتاؤ تو ؟ وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی بہایا، پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ بارونق باغ اگائے، اَنْبَتْنَا میں غیبت سے تکلم کی طرف التفات ہے، حدائق حدیقہ کی جمع ہے اس باغ کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف دیوار بنادی گئی ہو، تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درختوں کو اگا سکو، تمہارے اس پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے (یہ سن کر بتاؤ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ اس کام پر مدد کرنے کے لئے یعنی اس کے ساتھ کوئی الٰہ نہیں ہے ءَاِلٰہٌ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان الف داخل کرکے ساتوں مقامات پر بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ جو خدا کا ہمسر ٹھہراتے ہیں (یعنی) غیر اللہ کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں یا وہ ذات جس نے زمین کو قرار گار بنایا تاکہ اہل زمین کو لیکر نہ ڈگمگائے اور اس کے درمیان نہریں بنائیں اور زمین کے ٹھہرانے کے لئے پہاڑ بنائے جن کے ذریعہ زمین کو ساکن کردیا تاکہ وہ اضطرابی حرکت نہ کرے اور دو دریاؤں یعنی شور و شیریں کے درمیان حد فاصل بنائی تاکہ آپس میں خلط ملط نہ ہوجائیں کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ بلکہ ان میں سے زیادہ تر تو لوگ توحید کو سمجھتے بھی نہیں ہیں کیا وہ ذات جو بےقرار آدمی کی دعا سنتی ہے جب وہ اس کو پکارتا ہے یعنی اس مصیبت زدہ کی جو تکلیفوں میں مبتلا ہوگیا ہو اور اس کی اور دوسروں کی مصیبتوں کو دور کرتا ہے اور تم کو زمین کا خلیفہ بناتا ہے خَلَفَاءَ الاَرْضِ میں اضافت بمعنی فی ہے یعنی ہر بعد کی نسل کو پہلی نسل کا قائم مقام بنا تا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو تَذَکَّرُوْنَ میں تا اور یا کے ساتھ دونوں قرأتین ہیں، اور اس میں تا کا ذال میں ادغام ہے اور ما زائدہ ہے قلیل کی قلت (یعنی عدم) کو بیان کرنے کے لئے کیا وہ ذات جو تم کو تمہارے مقاصد کی طرف خشکی اور تری کی تاریکیوں میں رہنمائی کرتے ہے، رات کو نجوم کے ذریعہ اور دن میں علامات زمین کے ذریعہ، اور وہ ذات جو بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتی ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ اللہ ان تمام چیزوں سے پاک ہے جن کو وہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں کیا وہ ذات جو مخلوق کو رحم مادر میں نطفہ سے ابتداءً پیدا کرتی ہے پھر اسکو موت کے بعد لوٹا دے گی اگرچہ ان کو اعادہ کا اعتراف نہیں تھا مگر چونکہ اعادہ پر براہین قاطعہ موجود ہیں (اس لئے ان سے دوبارہ تخلیق کے بارے میں سوال کیا گیا) اور وہ ذات جو آسمان سے بارش کے ذریعہ اور زمین سے نباتات کے ذریعہ تم کو روزی دیتی ہے (یہ سن کر بتاؤ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہے ؟ یعنی مذکورہ کاموں میں سے اللہ کے سوا کوئی کچھ نہیں کرتا اور نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے اے محمد آپ کہہ دیجئے اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو اس بات پر کہ میرے ساتھ کوئی معبود ہے جس نے مذکورہ کاموں میں سے کوئی کام کیا ہو ؟ اور (جب) آپ سے (مشرکین) نے قیامت قائم ہونے کے وقت کے بارے میں سوال کیا تو (آئندہ) آیت نازل ہوئی آپ کہہ دیجئے آسمان اور زمین والوں میں سے خواہ ملائکہ ہوں یا انسان غیب کو یعنی (اپنے سے) مخفی چیزوں کو کوئی نہیں جانتا لیکن اللہ اس کو جانتا ہے اور کفار بھی دوسروں کے مانند یہ نہیں جانتے کہ ان کو کب اٹھایا جائے گا ؟ بَلْ بمعنی ھَلْ ہے اَدْرَکَ بروزن اَکْرَمَ ایک قرأت میں اور دوسری قرأت میں اِدّارَکَ لام کی تشدید کے ساتھ اِدَّارَکَ کی اصل تَدَارَکَ تھی دال کو تا سے بدل دیا گیا اور دال کو دال میں مدغم کردیا گیا (ابتداء بسکون لازم آنے کی وجہ سے) شروع میں ہمزہ وصل کا اضافہ کردیا گیا یعنی بَلَغَ ولَحِقَ یہ معنی پہلی قرأت کی صورت میں ہوں گے اور تَتَابَعَ وتَلاَحَقَ دوسری قرأت کی صورت میں ہوں گے یعنی ان کا علم آخرت کے بارے میں تھک گیا ہو (عاجز ہوگیا ہو) جس کی وجہ سے آخرت کے وقت کے آنے کے بارے میں سوال کیا ہو بات ایسی نہیں ہے فی الآخرۃ میں فی بمعنی با ہے ای بہ ا بلکہ یہ لوگ وقوع قیامت کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں بلکہ یہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں دل کے اندھے اور یہ ما قبل سے ابلغ ہے (یعنی بَلْ ھم عمُوْنَ یہ اِدّارک علمھم سے ابلغ ہے) اور عمُوْنَ اصل میں عمِیُوْنَ تھا، ضمہ یا پر دشوار رکھ کر میم کے کسرہ کو حذف کرنے کے بعد میم کو دیدیا۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
امن خلق السموت والارض ام منقطعہ ہے ابو حاتم نے کہا ہے کہ اس کی تقدیر اَآلِھَتُکم خیرٌ اَمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰوٰت والارضَ ہے اور بعض حضرات نے آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں أعِبَادَۃُ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ اَوْ ثانکم خیرٌ اَمْ عِبادۃُ مَنْ خَلَقَ السَّمٰوٰت والارضَ اس صورت میں ام متصلہ ہوگا، اس صورت میں توبیخ اور تہکم کے معنی ہوں گے۔
قولہ : قومٌ یعدِلونَ یہ عدل سے مشتق ہے جس کے معنی برابر کرنے کے ہیں مفسر علام نے یہی معنی مراد لئے ہیں اور عدول سے
بھی مشتق ہوسکتا ہے جس کے معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں مفسر علام نے یہی معنی مراد لئے ہیں اور عدول سے بھی مشتق ہوسکتا ہے جس کے معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں یعنی تم حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہو، بعض حضرات نے اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرارًا اور بعد میں آنے والے اسی قسم کے تینوں جملوں کو اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰت سے بدل قرار دیا ہے، راجح اور ظاہر بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ بَلْ تینوں جگہوں پر تبکیت کے ایک طریقہ سے دوسرے طریقہ کی طرف انتقال کے لئے ہے۔
قولہ : خَلَالَھَا جَعَلَ کا ظرف بھی ہوسکتا ہے اگر جَعَلَ بمعنی خَلَقَ لیا جائے اور جَعَلَ کا مفعول ثانی بھی ہوسکتا ہے اگر جَعَل بمعنی صَیَّرَ لیا جائے (جمل) ۔ قولہ : ویَکْشِفُ کا عطف یُجِیْبُ المضطَرَّ پر ہے یہ عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے مفسر علام نے وَعَبْہٗ وَعَنْ غیرہٖ کہہ کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : تقلیل القلیل یہ کنایہ ہے عدم بالکلیہ سے مراد تذکر کی مطلقاً نفی ہے۔ قولہ : وَاِنْ لَمْ یَعْتَرِفُوْا بِالاِعَادَۃِ الخ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ جب کفار اعادۃ بعد الموت کے قائل ہی نہیں ہیں تو پھر ان سے یہ کہنا کہ وہ ذات جو ابتداء تخلیق کرتی ہے اور مرنے کے بعد زندہ کرے گی، کہاں تک درست ہے ؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار اگرچہ اعادۃ بعد الموت کے قائل نہیں تھے مگر ابتداء تخلیق کے قائل تھے ابتداء کی اعادے پر دلالت ظاہر اور قوی ہے اسی وجہ سے ان کو قائلین (معترفین) اعادہ فرض کرکے اعادہ کے بارے میں سوال کیا گیا۔
أاِلٰھًا مع اللہ یہ جملہ اس مقام پر مسلسل پانچ جگہ ذکر کیا گیا ہے اول کو بَلْ ھُمْ یَعْدِلُوْنَ پر ختم کیا ہے، اور ثانی کو بَلْ اکثرھُمْ لا یَعْلَمُوْنَ پر ختم کیا ہے اور ثالث کو قَلِیْلاً ما تذَکَّرُوْنَ پر رابع کو عَمَّا یُشْرِکُوْنَ پر اور خامس کو قُل ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ پر ختم کیا ہے۔ قولہ : اَنّ معِی الٰھًا صواب تر اَنَّ معہٗ الٰھًا ہے اس لئے کہ ما سبق أالٰھۃً معہ کہا گیا ہے بعض نسخوں میں معہ کے بجائے مع اللہ ہے جو کہ بالکل واضح ہے اِلاَّ کی تفسیر لکن سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مستثنیٰ منقطع ہے اس لئے کہ اگر مستثنیٰ متصل مانا جائے تو اللہ کو مَنْ فی السَّمٰوات والارض میں شامل کرنا ہوگا اور مَن فِی السَّمٰوٰت والَارْضِ کے لئے مکان کی ضرورت ہے لہٰذا اللہ کے لئے بھی مکان ثابت ہوگا جو کہ درست نہیں ہے اسی لئے مستثنیٰ کو منقطع قرار دیا ہے فِی الآخرۃ کی تفسیر بھا سے کرکے اشارہ کردیا کہ فی بمعنی با ہے یعنی کیا آخرت سے متعلق ان کا علم عاجز ہوگیا۔ قولہ : لیس الامر کذٰلک سے اشارہ کردیا کہ بَل بمعنی ھَلْ استفہام انکاری کے معنی میں ہے اَیْ لَمْ یَحْصُلْ لَھُمْ عِلِمٌ بالآخرۃِ ای لَمْ یُصَدِّقُوْ بِھَا ولَمْ یَعْتَقِدُوْھَا۔
تفسیر و تشریح
امن خلق السموت والارض یہاں سے پچھلے جملے کی تشریح اور اس کے دلائل بیان کئے جارہے ہیں فرمایا آسمانوں کو اتنی بلندی اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا ان میں درخشاں کواکب، روشن ستارے اور گردش کرنے والے افلاک بنانے والا، اسی طرح زمین اور اس میں پہاڑ، نہریں، چشمے، سمندر، اشجار، کھیتیاں اور انواع و اقسام کے طیور و حیوانات وغیرہ پیدا کرنے والا اور آسمان سے بارش برسا کر اس کے ذریعہ سے بارونق باغات اگانے والا کون ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے کہ جو زمین سے درخت ہی اگا کر دکھا دے ؟ ان سب کے جواب میں مشرکین بھی کہتے اور اعتراف کرتے تھے کہ سب کچھ کرنے والا اللہ ہی ہے اَمَّنْ کا مفہوم ان آیات میں یہ ہے کہ کیا وہ ذات جو ان تمام چیزوں کی بنانے والی ہے اس شخص کی طرح ہے جو ان میں سے کسی پر قادر نہیں ؟ (ابن کثیر) ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین کی اضطرابی حرکت کو ختم کرنے کے لئے اس پر بڑے بڑے پہاڑ نصب کر دئیے تاکہ زمین سکونت کے قابل ہو سکے اس لئے کہ اضطرابی اور بےقاعدہ حرکت کے ہوتے ہوئے زمین پر سکونت ممکن نہیں تھی، تاہم زمین کی مرکزی اور محوری دونوں حرکتیں باقاعدگی کے ساتھ جاری ہیں جن سے سکونت میں کوئی خلل نہیں ہوتا وَجَعَلَ خلالَھَا کی تفصیل کے لئے سورة فرقان کی آیت 53 کی تفسیر دیکھئے۔
قل لا یعلم من۔۔۔۔۔ الا اللہ یعنی جس طرح مذکورہ معاملات میں اللہ تعالیٰ منفرد ہے اس کا کوئی شریک و ہمسر نہیں اسی طرح غیب کے علم میں بھی وہ منفرد ہے اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں، نبیوں اور رسولوں کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ وحی اور الہام کے ذریعہ انہیں بتلا دیتا ہے، اور جو علم کسی کے بتلانے سے حاصل ہو تو اس کے عالم کو عالم الغیب نہیں کیا جاتا، عالم الغیب تو وہ ہے کہ جو بغیر کسی ذریعہ اور واسطہ کے ذاتی طور پر ہر چیز کا علم رکھے اور ہر حقیقت سے باخبر ہو اور مخفی سے مخفی چیز بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہ ہو اور یہ صفت صرف اور صرف اللہ کی ہے اس لئے صرف وہی عالم الغیب ہے اس کے سوا کائنات میں کوئی عالم الغیب نہیں، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ نبی ﷺ آئندہ کل پیش آنے والے حالات کا علم رکھتے ہیں اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اس لئے کہ وہ تو فرما رہا ہے کہ آسمان اور زمین میں غیب کا علم صرف اللہ کو ہے۔ (صحیح بخاری 4855)
بل ادرک۔۔۔ الآخرۃ یعنی ان کا علم آخرت کے وقوع کا علم جاننے سے عاجز ہے، یا یہ معنی ہیں کہ ان کا علم مکمل ہوگیا اس لئے کہ انہوں نے قیامت کے بارے میں کئے گئے وعدوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، گو یہ علم اب ان کے لئے نافع نہیں ہے کیونکہ دنیا میں یہ لوگ اسے جھٹلاتے رہے ہیں، جیسے فرمایا اَسْمِعْ بِھِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاتُوْنَنَا لٰکِن الظّٰلمُوْنَ الیومَ فی ضلال مُّبِیْنٍ ( سورة مریم 38)
بل ھم منھا عمون یعنی دنیا میں آخرت کے بارے میں شک میں ہیں بلکہ اندھے ہیں کہ اختلال عقل و بصیرت کی وجہ سے آخرت پر یقین سے محروم ہیں یعنی جس طرح اندھے کو راستہ نظر نہیں آتا اس لئے مقصود تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے، اسی طرح تصدیق بالآخرت کا جو ذریعہ ہے یعنی دلائل صحیحہ یہ لوگ انتہائی عناد کی وجہ سے ان دلائل میں غور و فکر نہیں کرتے اس لئے ان کو وہ دلائل نظر نہیں آتے جن سے مقصود تک رسائی کی امید ہوتی ہے لہٰذا یہ شک سے بڑھ کر ہے کیونکہ شک والا بعض اوقات دلائل میں نظر کرکے رفع شک کرلیتا ہے، مگر آخرت سے اندھا یعنی یقینی طور پر عدم وقوع کا قائل دلائل میں کبھی غور نہیں کرتا۔
Ayahs 27:67–82آیت نمبر 67 تا 82
ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف ان کے سازش کرنے سے غمگین نہ ہوں ہم ان کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرنے والے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ عذاب کا یہ وعدہ کب ہے ؟ اگر تم اس وعدہ میں سچے ہو (تو بتلا دو ) آپ کہہ دیجئے کہ عجب نہیں کہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو اس کا کچھ حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو چناچہ غزوہ بدر میں ان کو قتل کا عذاب لاحق ہوگیا اور باقی عذاب موت کے بعد آئے گا یقیناً آپ کا پروردگار لوگوں پر بڑا ہی فضل والا ہے اور کافروں سے عذاب کی تاخیر (اس کے) فضل ہی کا حصہ ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں چناچہ کافر وقوع عذاب کے منکر ہونے کی وجہ سے تاخیر عذاب کا شکر ادا نہیں کرتے اور بیشک تیرا رب ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جنہیں ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جنہیں وہ اپنی زبانوں سے ظاہر کر رہے ہیں آسمان اور زمین کی کوئی بھی ایسی پوشیدہ چیز نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو، اور غائبۃ میں تا مبالغہ کے لئے ہے یعنی وہ چیز جو لوگوں کے لئے نہایت مخفی ہو، اور کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے، یا علم باری تعالیٰ میں محفوظ ہیں، اور انہیں محفوظ اشیاء میں سے کفار کو سزا دینے کا علم بھی ہے یقیناً یہ قرآن ہمارے نبی ﷺ کے زمانہ میں موجود بنی اسرائیل کو اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں یعنی مذکورہ (اختلاف) کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ اگر یہ لوگ اس کو اختیار کریں اور تسلیم کریں تو ان کے آپسی اختلاف کو رفع کر دے اور یہ قرآن یقیناً گمراہی سے ہدایت ہے اور مومنین کے لئے عذاب سے رحمت ہے بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن دوسروں کے مانند ان کے درمیان میں بھی اپنے حکم یعنی عدل کے ساتھ فیصلہ کر دے گا وہ غالب ہے اور جس چیز کا فیصلہ کرتا ہے اس کا جاننے والا ہے کسی کو اس کی مخالفت کرنے کی قدرت نہ ہوگی جس طرح کہ دنیا میں کفار نے اس کے انبیاء کی مخالفت کی پس آپ اللہ ہی پر بھروسہ رکھئے بلاشبہ آپ کھلے ہوئے حق پر ہیں یعنی واضح دین پر ہیں، آخر کار کافروں پر فتح آپ ہی کی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کی مردوں اور بہروں اور اندھوں کی مثالیں بیان کی ہیں، فرمایا بلاشبہ آپ (اپنی) پکار نہ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں دُعَاءَ اِذَا میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل کے ساتھ ہمزہ اور یا کے درمیان اور نہ اندھوں کو ان کی گمراہوں سے (بچا کر) رہنمائی فرماسکتے ہیں آپ تو فہم و قبول کا سننا صرف ان ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں پھر وہ فرمانبردار بھی ہوتے ہیں (یعنی) اللہ کی توحید میں مخلص ہوتے ہیں اور جب ان پر وعدہ ثابت ہوجائے گا یعنی عذاب کا وعدہ ثابت ہوجائے گا بایں طور کہ منجملہ کفار کے ان پر (بھی) عذاب نازل ہوجائے گا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا یعنی اس کے خروج کے وقت جو لوگ موجود ہوں گے عربی میں ان سے باتیں کرے گا وہ ان سے منجملہ اپنے دیگر کلام کے ہماری طرف سے حکایت کرتے ہوئے کہے گا کہ لوگ ہماری باتوں کا یقین نہیں کرتے تھے یعنی کفار مکہ اور ایک قرأت میں انّ کے فتحہ کے ساتھ ہے با کی تقدیر کے ساتھ تُکَلِّمْھُمْ کے بعد، یعنی قرآن پر یقین نہیں رکھتے تھے جو کہ بعث اور حساب اور عقاب کی (خبروں) پر مشتمل ہے، اور اس کے خروج کے بعد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (کا وقت) ختم ہوجائے گا (اس لئے کہ اس وقت عمل کا کوئی فائدہ نہ ہوگا) (ان کے بعد) کوئی کافر ایمان نہ لائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی، یہ کہ تیری قوم میں سے (اب) کوئی ایمان نہیں لائے گا سوائے ان کے جو ایمان لاچکے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
وقال الذین کفروا ضمیر کی بجائے الذین موصول ذکر کیا یعنی قَالُوْا ءَاِذَا کُنَّا تُرابًا کے بجائے قال الذین کفروا فرمایا تاکہ صلہ کے ذریعہ ان کی صفت مذمومہ کفر کی طرف اشارہ ہوجائے اور ان کے قول باطل کی علت کی طرف بھی اشارہ ہے (روح المعانی) ءَاِذَا فعل محذوف کا ظرف ہے جس پر مخرجون دلالت کر رہا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے أنخرجُ اِذَا کُنَّا تُرَابًا ءَاِذَا کو لَمُخْرَجُوْنَ کا ظرف مقدم قرار دینا درست نہیں ہے اسلئے کہ مابعد کے ماقبل میں عمل کرنے سے تین موانع موجود ہیں، ہمزہ، اِنّ ، لام ان میں سے ہر ایک اپنے مابعد کے لئے ماقبل میں عمل کرنے سے مانع ہے اور جب تین مانع جمع ہوجائیں تو مابعد تو مابعد کے ماقبل میں عمل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بعض حضرات نے کہا ہے کہ اِنّ کی خبر جب مقرون باللام ہو تو وہ ماقبل میں عمل کرسکتی ہے جیسے اِنّ زیداً طعامکَ لآکل مگر پھر دو مانع باقی رہ جاتے ہیں لہٰذا یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ لمخرجُوْنَ اِذَا کا عامل نہیں ہے بلکہ اس کا عامل محذوف ہے اور وہء نخرجُ ہے۔ قولہ : وَآبَائُنَا اس کا عطف کان کے اسم پر ہے یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ ضمیر مرفوع متصل پر عطف کے لئے ضمیر منفصل کے ذریعہ تاکید ضروری ہوتی ہے مگر یہاں نہیں ہے ؟
جواب : یہاں چونکہ تراباً خبر کا فصل آگیا ہے لہٰذا اب تاکید کی ضرورت نہیں رہی اور ءَاِنَّا میں ہمزہ کی تکرار تاکید و تشدید فی انکار کے لئے ہے۔ (روح)
قل سیروا فی الارض یہ امر تہدید کے لئے ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے کہ تم سے پہلی امتوں نے بھی خدا کی طرف رجوع نہیں کیا آخر کار ان کو عذاب میں مبتلا کردیا گیا اگر تم بھی خدا کی طرف رجوع نہ کروگے تو تم کو غارت کردیا جائے گا۔ قولہ : اِن کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ میں جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے، حالانکہ مخاطب صرف آنحضرت ﷺ ہیں۔
جواب : چونکہ بعث بعد الموت وغیرہ کی خبر دینے میں مومنین بھی آپ کے ساتھ شریک تھے، اسلئے مشرکین نے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ قولہ : قُلْ عَسَیٰ اَنْ یکون عَسَیٰ یہاں یقین کے معنی میں ہے، قاضی نے کہا کہ عسیٰ ولَعَلَّ ، سوفَ ملوک کے مواعید میں جزم کے معنی میں ہوتا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہوتا ہے کہ ان کا اشارہ غیر کی تصریح کے مثل ہے۔
قولہ : رَدِفَ لَکُمْ بعضَ الَّذِیْ رَدِفَ ایسے فعل کے معنی کو متضمن ہے جو متعدی باللام ہو، مثلاً دَنَا، قَرُبَ اس لئے کہ رَدِفَ کا استعمال لام کے صلہ کے ساتھ نہیں ہے اسی وجہ سے شارح نے رَدِفَ کی تفسیر قَرُبَ سے کی ہے، اور بعض الذی رَدِفَ کا فاعل۔
قولہ : مَا تُکِنُّ یہ اکنانٌ سے مشتق ہے مضارع واحد مؤنث غائب، وہ چھپاتی ہے، یہاں چونکہ اس کا فاعل صُدُوْر جمع مکسر اسم ظاہر ہے اس لئے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے۔ قولہ : غائبۃ اگرچہ صفت ہے مگر یہ بغیر موصوف کے کثیر الاستعمال ہے بعض حضرات کے نزدیک یہ صفت سے اسمیت کی طرف منقول نہیں ہے مگر اسمیت غالب ہے جیسا کہ مومن اور کافرٌ میں، لہٰذا اس کی تا تانیث کے لئے نہیں ہے اس لئے کہ اس کا کوئی مؤنث موصوف نہیں ہے کہ یہ اس کی صفت واقع ہو، جیسا کہ رَاوِیَّۃ کثیر الروایت شخص کو کہتے ہیں، لہٰذا یہ تائے مبالغہ ہے اور بعض حضرات نے اس کو اسمیت کی طرف منقول بھی کیا ہے لہٰذا جو شئ غائب اور مخفی ہو اس کا غائبۃ کہتے ہیں، اور اس تا کو تاء نقل کہتے ہیں جیسا کہ فاتحہ، ذبیحۃ ونطیحۃ میں ہے۔
قولہ : فی کتاب مبین شارع نے اس کی دو تفسیروں کی طرف اشارہ کیا ہے ایک لوح محفوظ، اور دوسری علم باری تعالیٰ ومنکنونَ میں واؤ بمعنی او ہے یعنی زمین و آسمان کی تمام مخفی اور پوشیدہ چیزوں لوح محفوظ میں ہیں یا اللہ کے علم ازلی میں ہیں اس لئے کہ اظہار اشیاء کا وہ بھی مبتداء ہے ای ببیان ما ذکر جار مجرور یقص کے متعلق ہے اور ماذُکِرَ سے وہ بات مراد ہے جس میں وہ اکثر اختلاف کرتے ہیں علیٰ وجہٍ ببیان سے متعلق ہے الرافع بیان کی صفت ہے اور لواخذوا بہ رافع سے متعلق ہے یعنی قرآن ان کے اختلاف کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ ان کا اختلاف رفع ہوجاتا ہے اگر یہ اس بیان کو تسلیم کریں۔ قولہ : اَیْ عَدْلِہٖ ، حکمہ کی تفسیر عدْلِہٖ سے کرکے مفسر علام نے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے۔
اعتراض : یَقْضِیْ کے بعد بِحُکْمِہٖ لانے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ دونوں ہم معنی ہیں لہٰذا مطلب یہ ہوا یقضی بقضاء یا یحکم بحکمہٖ ۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ حکم سے مراد حکم بالعدل ہے لہٰذا دونوں مترادف نہیں ہیں۔ قولہ : فلا یمکن احداً مخالفتہٗ یہ وھو العزیز پر تفریح ہے بہتر ہوتا کہ مفسر علام اس کو وھو العزیز سے متصل ذکر فرماتے۔ قولہ : اِنَّکَ لا تُسْمِعُ الموتٰی یہ آیت کفار کے بارے میں آپ ﷺ کی امید ہدایت کو قطع کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے، کافروں کو مردوں کے ساتھ تشبیہ دینا یہ امید ہدایت کو قطع کرنے کے لئے ہے یعنی جس طرح مردوں سے کسی چیز کی توقع نہیں رہتی کفار بھی اپنے قلوب کے اعتبار سے مردے ہیں اس لئے کہ ان کے قلوب پر مہر لگ چکی ہے جس کی وجہ سے نہ کفر باہر آسکتا ہے اور نہ ایمان اندر داخل ہوسکتا ہے (یہاں مردوں کے سماع یا عدم سماع کا مسئلہ نہیں ہے اس سے مردوں کے عدم سماع پر استدلال صحیح نہیں ہے) ۔
قولہ : وَلَّوْا مدبِرِیْنَ یعنی ایک تو بہرا اور پھر اس نے پیٹھ بھی پھیرلی جس کی وجہ سے ہدایت کا امکان بالکلیہ مفقود ہوگیا، اس لئے کہ نفس سماع کی امید تو بہرا ہونے کی وجہ سے منقطع ہوگئی مگر بہرا بھی کبھی اشارہ سے بات سمجھ لیتا ہے مگر جب بہرے نے اپنا رخ موڑ لیا تو اشارہ سے سمجھنے کی امید بھی منقطع ہوگئی۔ قولہ : بھادی العُمْیِ عَنْ ضَلاَلَتِھِمْ ھدایۃ کا صلہ عن استعمال نہیں ہوتا، یہاں چونکہ ہدایت صرّف کے معنی کو متضمن ہے اس لئے اس کا صلہ عن لانا درست ہے۔ قولہ : حَقَّ العذابِ الخ وَقَعَ الْقُوْلَ کی تفسیر ہے۔
قولہ : اَخْرَجْنَا لَھُمْ دابَّۃ قرب قیامت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور مہدی (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد ایک عجیب الخلقۃ جانور کوہ صفا سے نکلے گا اور بعض حضرات نے حجر اور طائد کو مقام خروج بتایا ہے وہ لوگوں سے عربی میں کلام کرے گا، منجملہ دیگر کلام کے کچھ باتیں وہ نیابۃً عن اللہ بطور نقل حکایت کے بھی کہے گا مثلاً اس کا یہ قولہ اِنَ النَّاسَ کانُوْا بآیٰتِنَا لایوقنونَ ، نیابۃً عن اللہ کہے گا۔
تفسیر و تشریح
وقال الذین کفروا یعنی جب ان کافروں سے آخرت کے حساب و کتاب کے بارے میں کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ان باتوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے، بس یہ سنی سنائی باتیں ہیں جو پہلوں سے منقول چلی آرہی ہیں، قُلْ سِیْرُوْا فِی الاَرْضِ یہ کافروں کے مذکورہ قول کا جواب ہے کہ ذرا چل پھر کر دیکھو تمہیں ان کے کھنڈرات اور خرابات اور نشانات دیکھ کر معلوم ہوجائے گا کہ سابقہ نافرمان اور رسولوں کی تکذیب کرنے والی قومیں عذاب الٰہی سے نافرمانی کی پاداش میں ہلاک و برباد کی جا چکی ہیں، جو پیغمبروں کی صداقت کی دلیل ہے وَلاَ تَخْزَنْ عَلَیْھم (الآیۃ) یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے اور کفر پر اصرار سے غمگین نہ ہوں اور نہ ان کے مکر سے اندیشہ کریں اللہ آپ کی حفاظت کرنے والے ہیں وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ یہ آپ سے معلوم کرتے ہیں کہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو تو بتلاؤ ؟ آپ جواب دیجئے کہ ان میں کی بعض چیزیں جن کی تم جلدی مچار ہے ہو شاید تم سے بہت ہی قریب آلگی ہوں اس سے مراد جنگ بدر کا وہ عذاب ہے جو قتل و اسیری کی شکل میں کافروں پر آپڑا یا پھر عذاب قبر مراد ہے، دونوں بھی مراد ہوسکتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا عاصی اور باغی بندوں پر فوری گرفت نہ کرنا یہ بھی اللہ کا فضل و کرم ہے اس پر بھی اس کا شکر ادا ہونا چاہیے مگر چونکہ کافروں کے ذہن میں بعث بعد الموت اور روز جزاء و سزا کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اس لئے ان کو اس کا کوئی خوف بھی نہیں ہے۔
قولہ : ای شئ فی غایۃ الخفاء یہ غائبۃٍ کی تفسیر ہے ای وَمَا مِن شیئٍ غائب غایۃ الخفاء انتہائی پوشیدہ شدت کے معنی تاء مبالغہ سے ماخوذ ہیں جیسا کہ عَلاَّمَۃٌ میں، اِنّ ھٰذَا القُرْآنُ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اکثرَ ، الَّذِیْ ھم فیہ یختلفون، یہ قرآن، بنی اسرائیل جن باتوں میں اختلاف کرتے ہیں اکثر کو بیان کرتا ہے۔
سوال : قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے وَلاَ رَطَبٌ وَلاَ یَابِسٌ اِلاَّ فِی کتابٍ مُّبِیْنٍ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چھوٹی بڑی چیز قرآن میں موجود ہے اور مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اکثر کو بیان کرتا ہے۔
جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن ہر شئ کو بیان کرتا ہے لیکن اکثر کو صراحت کے ساتھ اور اقل کو رمز اور اشارہ کے ساتھ لہٰذا اب کوئی تعارض نہیں۔
منجملہ ان باتوں کے جن میں اہل کتاب باہم اختلاف کرتے تھے جس کی وجہ سے مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے حتی کہ ان کے عقائد میں بھی شدید اختلاف تھا یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تنقیص و توہین کرتے تھے اور عیسائی ان کی شان میں غلو، حتی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ، یا اللہ کا بیٹا قرار دیدیا، قرآن کریم نے انکے حوالہ سے ایسی باتیں بیان فرمائیں، جن سے حق واضح ہوجاتا ہے، اور اگر وہ قرآن کے بیان کردہ حقائق کو مان لیں تو ان کے عقائدی اختلاف ختم ہو کر تفرق اور انتشار ختم ہوجائے۔
ان ربک یقضی بینھم یعنی اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان عادلانہ فیصلہ کرکے حق و باطل کو ممتاز کر دے گا اور اسی کے مطابق جزاء و سزا کا اہتمام فرمائے گا فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہ اس آیت میں آپ کو اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کرنے اور دشمنان دین کی پرواہ نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی دو علتیں بیان فرمائی ہیں اول یہ کہ آپ دین حق پر ہیں لہٰذا صاحب حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ خدا پر اعتماد اور بھروسہ کرے۔
انک لا تسمع الموتی (الآیۃ) اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کرنے اور کافروں کی پرواہ نہ کرنے کی یہ دوسری علت ہے یعنی یہ لوگ مردے ہیں جو کسی کی بات کو سن کر فائدہ نہیں اٹھاسکتے یا بہرے ہیں جو نہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں وَاِذَا وَقَعَ القول یہ اس عذاب کا بقیہ ہوگا جس کی طرف سابق میں اشارہ کیا گیا ہے اسکا کچھ حصہ جنگ بدر میں واقع ہوچکا اور یہ آخری زمانہ میں ہوگا اَخْرَجْنَا لَھُمَ دابَّۃً یہ وہی دابۃ ہے جو قرب قیامت کی علامات میں سے ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو ان میں ایک جانور کا نکلنا ہے “ (صحیح مسلم کتاب الفتن) دوسری روایت میں ہے کہ سب سے پہلی نشانی سورج کا مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہونا ہے اور چاشت کے وقت جانور کا نکلنا یہ دونوں نشانیاں یکے بعد دیگرے پے در پے ظاہر ہوں گے۔ (صحیح مسلم باب فی خروج الدجال ومکثہٗ فی الارض)
Ayahs 27:83–93آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی شرک کرنے کی وجہ سے ان پر عذاب کا حکم ثابت ہوگیا اب وہ خاموش ہیں اس لئے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کیا یہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم نے رات کو (تاریک) بنایا ؟ یعنی پیدا کیا تاکہ دوسروں کے مانند یہ بھی اس میں سکون حاصل کریں اور ان کو دیکھنے والا (بنایا) یعنی ایسا بنایا کہ اس میں نظر آسکے تاکہ اس میں کام کاج کریں یقیناً اس میں خدا کی قدرت پر نشانیاں (دلائل) ہیں ایمان والوں کے لئے (مومنین) کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ دلائل قدرت سے اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے ہیں نہ کہ کافر، جس دن صور پھونکا جائے گا یعنی سینگ میں یہ اسرافیل (علیہ السلام) کا پہلا صور ہوگا تو زمین و آسمان والے گھبرا اٹھیں گے یعنی اس قدر گھبرا جائیں گے کہ اس کا انجام موت ہوگا جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فصَعِقَ ہے اور ماضی کے صیغہ سے تعبیر یقین الوقوع ہونے کی وجہ سے ہے مگر جس کو اللہ چاہے (وہ نہیں گھبرائے گا) جیسے جبرائیل و میکائیل و اسرافیل و عزرائیل (علیہم السلام) اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ شہداء ہیں، اس لئے کہ وہ زندہ ہیں ان کو ان کے رب کے حضور رزق عطا کیا جاتا ہے اور سب کے سب عاجز و (پست) ہو کر اس کے روبرو حاضر ہوں گے کُلٌّ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے ای کُلُّھم بَعْدَ اِحْیَائِھم یَوْمَ القِیَامَۃِ اَتَوْہُ اَتَوْہُ میں فعل اور اسم فاعل دونوں درست ہیں دَاخِریْنَ کے معنی صاغرین یعنی ذلیل و پست ہو کر مذکورہ باتوں کے وقوع کے یقینی ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کیا ہے جن پہاڑوں کو آپ جمے ہوئے یعنی اپنی جگہ پر ان کے عظیم ہونے کی وجہ سے قائم (اٹل) سمجھتے ہیں تو ان کو بھی آپ نفخۂ اولی کے وقت دیکھیں گے وہ ابرباراں یعنی بارش کی طرح اڑتے پھر رہے ہیں گویا کہ ہوا ان کو اڑائے پھر رہی یعنی تیزی کے ساتھ چلا رہی حتی کہ زمین پر گرپڑیں گے اور پراگندہ ہو کر زمین کی ہم سطح ہوجائیں گے پھر دھنی ہوئی اون کے مانند ہوجائیں گے پھر اڑتا ہوا غبار ہوجائیں گے یہ ہے صنعت اس اللہ کی صنعۃ مصدر ہے اپنے سے سابق جملہ کے مضمون کی تاکید کر رہا ہے، جس کی اضافت اپنے فاعل کی طرف کی گئی ہے، مصدر کے عامل کے حذف کرنے کے بعد (تقدیر عبارت یہ ہے) صَنَعَ اللہُ ذٰلِکَ صَنْعًا جس نے اپنے ہر مصنوع کو مضبوط بنایا بلاشبہ جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سے بخوبی واقف ہے یا اور تا کے ساتھ یعنی اس کے دشمن جو معصیت اور اس کے اولیاء جو اطاعت کرتے ہیں (اس سے واقف ہے) جو شخص قیامت کے دن نیک عمل یعنی لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ لے کر آئے گا اس کو اس کا بہتر ثواب ملے گا یعنی اس نیکی کی وجہ سے خیرٌ اسم تفضیل کے معنی میں نہیں ہے اس لئے کہ کلمہ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ سے بہتر کوئی عمل نہیں ہے اور دوسری آیت میں ہے کہ اس سے دس گنا زیادہ ملے گا اور وہ یعنی اس نیکی کے کرنے والے اس دن کے خوف سے مامون ہوں گے اضافت اور کسرۂ میم اور فتحہ میم کے ساتھ اور فَزْعٍ تنوین کے ساتھ اور میم کے فتحہ کے ساتھ (بھی ایک قرأت ہے) اور جو شخص سَیِّئَۃ (بدی) یعنی شرک لے کر آئے گا وہ اوندھے منہ آگ میں جھونک دیا جائے گا، اس طریقہ سے کہ چہروں کو آگ کے حوالہ کردیا جائے گا، اس لئے کہ چہرہ (حواس خمسہ) میں سے اشرف کا مقام ہے، لہٰذا چہرہ کے علاوہ بطریق اولیٰ (مستحق نار ہوگا) اور ان کو لاجواب کرنے کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ تم کو صرف انہیں اعمال (یعنی شرک و معاصی) کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے آپ ان سے کہئے کہ مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر مکہ کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اس کو محترم بنایا ہے یعنی مکہ کو محترم اور امن والا بنایا نہ اس میں کسی انسان کا خون بہایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کسی پر ظلم کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کے شکار (جانور) کا شکار کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کی (ہری) گھاس کو اکھاڑا جاسکتا ہے اور یہ انعامات ہیں قریش پر جو اس کے باشندے ہیں، اللہ کے ان کے شہر سے عذاب اور تمام بلاد عرب میں پھیلے ہوئے فتنوں کے اٹھا لینے کی وجہ سے اور اسی کی ملکیت میں ہر شئ ہے پس وہی اس کا رب اور خالق ومالک ہے اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کی توحید کے ساتھ اس کے فرمانبرداروں میں رہوں (اور مجھے اس بات کا بھی حکم دیا گیا ہے) کہ میں تم کو دعوت الی الایمان کے طور پر قرآن پڑھ کر سناتا رہوں چناچہ جو ایمان کی راہ اختیار کرے گا تو وہ اپنے ہی لئے راہ اختیار کرے گا اس لئے کہ اس کے ایمان کی راہ اختیار کرنے کا ثواب اسی کو ملے گا اور جو ایمان سے بہک جائے گا اور ہدایت کے راستہ سے بھٹک جائے گا تو اس سے کہہ دو میں تو صرف ڈرانے والا ہوں یعنی خوف دلانے والا ہوں میرے ذمہ تو صرف (پیغام) پہنچا دینا ہے اور یہ (حکم) جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے اور آپ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزاوار ہیں وہ عنقریب تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا جنہیں تم کود پہچان لو گے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بدر کے دن قتل اور قید اور ملائکہ کا ان کے چہروں اور ان کے سرینوں پر مارنا دکھا دیا اور بعجلت اللہ ان کو جہنم میں لے گیا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے آپ کا رب غافل نہیں ہے یا اور تا کے ساتھ، ان کو صرف وقت پورا ہونے تک مہلت دینا ہے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
ویوم نحشر۔۔۔۔۔ بایتنا عمومی حشر کے بعد یہ خصوصی حشر تو بیخی ہوگا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ میں مِنْ تبعیضیہ ہے اور مِمَّنْ یُکذِّبُ میں مِنْ بیانیہ ہے اس کا مبیَّن فوْجًا ہے فوج اگرچہ تیزی سے حرکت کرنے والی جماعت کو کہتے ہیں مگر یہاں مطلق جماعت کے معنی میں ہے اور جماعت سے ہر امت کے رؤساء کی جماعت مراد ہے۔
قولہ : بِرَدِّ آخِرِھم الیٰ اَوّلِھم اگر شارح علیہ الرحمۃ بِرَدِّ اَوَّلِھِمْ علیٰ آخرِھِم فرماتے تو زیادہ مناسب ہوتا یعنی آگے جانے والوں کو روکا جائے گا تاکہ پیچھے والے بھی ان کے ساتھ ہوجائیں اور ایک ساتھ ہو کر چلیں (صاوی) ۔ قولہ : أکَذَّبْتُمْ انبیائی بِآیَاتِی یہ استفہام توبیخ کے لئے ہے یعنی تم نے میری آیات کی کیوں تکذیب کی ؟ بِآیاتی کَذَّبْتُمْ کا مفعول اور با تعدیہ کے لئے ہے یعنی تم نے میری آیتوں کی کیوں تکذیب کی ؟ مفسر علام نے کَذَّبْتُمْ کا مفعول انبیائی کو مقدر مانا ہے حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی وجہ سے بلاوجہ تکلف کرنا پڑے گا۔ قولہ : ولم تُحِیْطُوْا بِھَا عِلْمًا یہ جملہ کَذَّبْتُمْ کی ضمیر سے حال ہے اور سابق انکار و تکذیب کی تاکید ہے یعنی تم نے میری آیات کا بغیر غور و فکر اور بغیر سوچے سمجھے انکار کردیا جو مواخذہ کا اہم سبب ہے۔
قولہ : اَما ذَا کُنْتُمْ تعمَلُوْنَ اس کی تقدیر عبارت یہ ہے اَیُّ الشَّئ الذی کنتم تعملونَہٗ مَا استفہامیہ بمعنی ایُّ شئ مبتداء ذَا موصول بمعنی الذی کنتم تعملونہٗ جملہ ہو کر صلہ موصول صلہ سے مل کر ما مبتداء کی خبر، یعنی یہ بھی بتاؤ کہ تم کیا کرتے رہے کہ تم کو میری آیات میں غور و فکر کرنے کا موقع ہی نہیں ملا ؟
قولہ : وَقَعَ القَوْلُ ای قَرُب وقوعُہ یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کیا گیا ہے، وَجَعَلْنَا اللیلَ کے بعد مظلمًا محذوف ہے اور قرینہ وَالنَّھَارَ مُبصرًا ہے، جس طرح کہ لیسکنُوْا فیہ پر قیاس کرتے ہوئے والنَّھَارَ مُبْصِرًا سے لیتصرّفوا فیہ کو حذف کردیا گیا ہے، اس کو صنعت احتیاک کہتے ہیں۔ قولہ : فَفزِعَ (الآیۃ) نفخہ اولیٰ کو نفخۂ دفزع کہتے ہیں اور اسی کو نفخہ صعق بھی کہا جاتا ہے، سورة زمر میں نفخہ اولیٰ کو صعق کہا گیا ہے صعق کے معنی ایسی بےہوشی کے ہیں کہ جس سے موت واقع ہوجائے نفخہ اولیٰ کے وقت اولاً تمام حیوانات پر بےہوشی طاری ہوجائے گی اس کے بعد موت واقع ہوجائے گی سوائے ان کے کہ جن کو اللہ نے مستثنیٰ کیا ہے اور نفخہ ثانیہ کے بعد مردہ زندہ ہواٹھے گا، اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہوگا، بعض حضرات نے تین نفخوں کو بیان کیا ہے (1) نفخہ زلزلہ جس کی وجہ سے زمین میں زبردست زلزلہ پیدا ہوگا پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ (2) نفخہ موت اور تیسرا نفخہ حیات، مگر یہ روایت ضعیف ہے صحیح حدیث سے صرف دو نفخوں کا پتہ چلتا ہے۔
قولہ : تمرّ مرَّالسَّحَابِ المطر مفسر علام نے سحاب کی تفسیر مطر سے فرمائی ہے، یہ تفسیر نہ لغت کے موافق ہے اور نہ عقل و نقل کے سحاب سے اس کے ظاہری معنی ہی مراد ہیں۔ قولہ : مؤکدَّ لمضمون الجملۃِ قبلہٗ اس کا مطلب یہ ہے کہ صُنْعَ اللہِ ماقبل کے جملہ کے مضمون کی تاکید ہے یعنی نفخ صور اور فزَعَ پھر موت اور پھر پہاڑوں کی ریگ رواں کی طرف اڑتے پھرنا یہ سب اللہ تعالیٰ کی صنعت ہے۔ قولہ : بالاضافۃ یعنی فزع کی یوم کی طرف اضافت کے ساتھ یوم کے میم پر مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے کسرہ ہوگا، اور یوم مفتوح بھی ہوسکتا ہے مبنی برفتحہ ہونے کی وجہ سے اس لئے کہ یوم اِذ کی طرف مضاف ہے جو کہ مبنی الاصل ہے، گویا کہ یوم کے میم میں دو قرأتیں ہیں میم کا کسرہ اور فتحہ۔ قولہ : وفزعٍ مُنَوّنًا اس کا عطف اضافہ پر ہے یعنی یوم کو اضافت کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہیں اور بغیر اضافت کے بھی اضافت کے ساتھ پڑھنے میں یوم کے میم میں کسرہ اور فتحہ دونوں درست ہیں اور عدم اضافت کی صورت میں میم پر صرف فتحہ ہی درست ہے۔
قولہ : موضع الشرف من الحواس حواس خمسہ باطنہ توکل کے کل سر ہی میں ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے، دماغ نرم اور متخلل مخروطی یعنی مثلث شکل کا ایک جرم ہے اس کے تین حصہ ہیں جن کو بطون کہتے ہیں (1) بطن مؤخر زاویۂ حادہ کی طرف ہے اور (2) بطن اوسط، دونوں کے درمیان میں ہے، (3) بطن مقدم سب سے بڑا ہے، اور یہی حس مشترک اور قوت خیال کا مقام ہے، بطن مؤخر جو گدی کی طرف ہے بہ نسبت مقدم کے چھوٹا ہے، اور یہ قوۃ کا مقام ہے، بطن اوسط سب سے چھوٹا ہے اور قوت متصرفہ اور قوت واہمہ کا مقام ہے (کانونچہ ترجمہ قانونچہ) اور حواس خمسہ ظاہرہ میں سے سوائے قوۃ لامسہ کے بقیہ چار، سر میں ہیں (1) قوۃ باصرہ (2) قوۃ سامعہ (3) قوۃ سامہ (4) قوۃ ذائقہ البتہ پانچویں قوۃ لامسہ یہ پورے بدن میں عام ہے قوۃ لامسہ تمام قوتوں میں سب سے زیادہ بلید حس ہے جب تک اس سے مس نہ ہو احساس نہیں کرسکتی۔ قولہ : فقل لہ انما انا من المنذرین یہ جملہ مِنْ ضَلَّ کی جزاء ہے اور لَہٗ رابطہ ہے۔
تفسیر و تشریح
یوم نحشر۔۔۔ فوجا (الآیۃ) اعمال اور عقائد کے اعتبار سے انسانوں کے مختلف گروہ بنا دئیے جائیں گے ہر درجہ کے مجرم الگ الگ جماعتوں میں ہوں گے مذکورہ مطلب اس صورت میں ہوگا جبکہ یُوْزَعونَ کو ایزاع سے مانا جائے ایزاع کے معنی ہیں تفسیم کرنا یقال اَوْزَعَ المالَ مال تقسیم کیا اور اگر وَزْعٌ سے مضارع مجہول مانا جائے تو اسکے معنی ہوں گے جمع کرتا منتشر نہ ہونے دنیا یعنی آگے والوں کو زیادہ آگے نہ بڑھنے دینا اور پیچھے والوں کو زیادہ پیچھے نہ رہنے دینا، علامہ محلی نے یہی معنی مراد لئے ہیں حتیٰ اِذا جاؤُا جب موقف میں سب حاضر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے کہ تم نے میری توحید اور دعوت کے دلائل سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور بغیر سوچے سمجھے میری آیتوں کو جھٹلاتے رہے، یعنی اگر سوچنے سمجھنے کی کوشش کرتے اور فکر و تدبر سے کام لیتے اس کے بعد آیتوں کی تکذیب کرتے اور پھر حق تک رسائی نہ ہوتی تو قدرت عذر کی بات ہوسکتی تھی مگر تم نے تو سرے سے غور و فکر ہی نہیں کیا لہٰذا تم دہرے مجرم ہو جس کی وجہ سے اس جرم کی پاداش سے بچ نہیں سکتے۔
الا ماشاء اللہ یہ استثناء فَفَزِعَ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ سے ہے مطلب یہ ہے کہ کچھ نفوس ایسے بھی ہوں گے کہ جن پر حشر کے وقت کوئی گھبراہٹ نہیں ہوگی، یہ کون نفوس ہوں گے ؟ مفسر علام نے چاروں فرشتے اور حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے شہداء مراد لئے ہیں، ابوہریرہ ؓ اور سعید ؓ بن جبیر کی روایت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے سعید ؓ بن جبیر فرماتے ہیں کہ ان سے شہداء مراد ہیں جو حشر کے وقت اپنی تلواریں باندھے عرش کے گرد جمع ہوں گے، قشیری (رح) نے فرمایا کہ انبیاء (علیہم السلام) اس میں بدرجہ اولیٰ شامل ہوں گے سورة مزمل میں فَزِعَ کے بجائے صَعِقَ کا لفظ آیا ہے وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِیْ الْاَرْضِ اِ لاَّ مَنْ شَاءَ اللہُ صعق کے معنی بےہوش ہونے کے ہیں اور مراد اولاً بےہوش ہوجانا اور پھرا مرجانا ہے۔
وتر الجبال۔۔۔۔ السحاب اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اس طرح چلیں گے جیسا کہ گھنا محیط بادل کہ دیکھنے والا ان کو جما ہوا سمجھتا ہے حالانکہ وہ تیزی سے چل رہے ہوتے ہیں، مفسر علام نے واقفۃ مکانَھَا لِعظمھا سے اسی مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ اے مخاطب جن پہاڑوں کو تو اس وقت بڑی مضبوطی کے ساتھ جما ہوا دیکھ رہا ہے جن کے بارے میں اپنی جگہ سے اکھڑنے اور چلنے کا تصور بھی نہیں ہوتا یہی پہاڑ قیامت کے دن روئی کے گالوں کی طرح اڑے پھریں گے ھذہٖ البلدۃ بلدۃ سے مراد مکہ ہے، اس کا بطور خاص اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اسی میں بیت اللہ ہے اور یہی آپ ﷺ کو بھی سب سے زیادہ محبوب تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو حرمت والا بنایا مطلب یہ کہ اس میں خون ریزی کرنا، ظلم کرنا، شکار کرنا، درخت کاٹنا، ہری گھاس اکھاڑنا، حتی کہ کانٹا توڑنا بھی منع ہے۔ (بخاری کتاب الجنائز، مسلم کتاب الحج، باب تحریم مکۃ وصیدہا)