Ayahs 26:1–9بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ طٰسٓمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ یعنی یہ آیات کتاب مبین (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی ہیں، اور اٰیٰتُ الکِتابِ میں اضافت بمعنی مِنْ ہے شاید اے محمد آپ تو اس غم کے سبب سے کہ اہل مکہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کھو دیں گے، اور لَعَلَّ کے یہاں اشفاق کے معنی ہے یعنی اس غم میں تخفیف کرکے اپنے اوپر رحم کیجئے، اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں ظَلَّتْ بمعنی مضارع ہے ای تَدُوْمُ پھر وہ ایمان لے آئیں، جبکہ (وصف) خضوع کی نسبت اعناق کی طرف کی گئی جو کہ (درحقیقت) ارباب اعناق کا وصف ہے، تو وصف خضوع کو ذوالعقول کی جمع کے طور پر لایا گیا اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے کوئی تازہ نصیحت ایسی نہیں آئی جس سے یہ بےرخی نہ کرتے ہوں، مُحدثٍ ذِکرٍ کی صفت کاشفہ ہے تو ان لوگوں نے اس نصیحت کو جھٹلا دیا سو عنقریب ان کے پاس اس بات کا انجام آجائے گا جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے کیا یہ لوگ زمین کو نہیں دیکھتے کہ ہم نے اس میں کس کثرت سے ہر قسم کے عمدہ گل بوٹے اگائے ؟ بلاشبہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کی نشانی ہے اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں اللہ کے علم میں اور سیبویہ نے کہا ہے کہ کان زائدہ ہے بلاشبہ آپ کا رب غالب ہے یعنی ایسے غلبہ والا ہے جو کافروں سے انتقام لے گا، رحیم ہے یعنی مومنین پر رحم کرنے والا ہے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
طٰسٓمٓ عبداللہ بن مسعود کی قرأۃ میں ط، س، م، الگ الگ ہیں۔ قولہ : بَاخِعٌ اسم فاعل (ف) غم یا غصہ کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا، بَخْعًا حرام مغز تک کاٹ ڈالنا بَخْعٌ حرام مغز لَعَلَّکَ لَعَلَّ حرف ترجی ہے مگر چونکہ یہاں ترجی کے معنی یہ درست ہیں اور نہ مراد لہٰذا لَعَلَّ کو اشفاق کے معنی میں لیا جس کے معنی خوف کے ہیں، اور اللہ تعالیٰ چونکہ خوف سے منزہ ہے اس لئے مخاطب کا خوف مراد ہے، ترجی امر یعنی اَشفِقْ ای ارحم کے معنی میں ہے اس لئے کہ یہاں خوف کی کوئی بات ہی نہیں ہے، اِشفاق (افعال) جب متعدی بمن ہوتا ہے تو خوف کے معنی ہوتے ہیں اور جب متعدی بعلیٰ ہوتا ہے تو اس کے معنی رحمت اور شفقت کے ہوتے ہیں۔ قولہ : نُنَزِّل، اِنْ حرف شرط ہے اور نشأ فعل شرط ہے اور نُنَزِّلْ جواب شرط ہے۔
قولہ : فَظَلَّتْ فا کے ذریعہ جواب شرط ننزل پر عطف ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، جبکہ بذریعہ فا ماضی (یعنی ظلت) کا ترتب مضارع یعنی نُنَزَّلْ پر درست نہیں ہے اس لئے ماضی کو مضارع کی تاویل میں کرلیا گیا تاکہ عطف درست ہوجائے۔ قولہ : وَلَمَّا وُصِفَتْ الاعناقُ الخ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ اعناق غیر ذوالعقول کی جمع ہے جو کہ واحد مؤنث کے حکم میں ہے لہٰذا اس کی صفت خاضعۃ آنی چاہیے نہ کہ خاضعین جو کہ جمع مذکر کی صفت ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ خضوع ذوالعقول کی صفت ہے جب اس کی نسبت غیر ذوالعقول کی طرف کردی گئی تو غیر ذوالعقول کو ذوالعقول کا درجہ دیتے ہوئے اس کی صفت جمع مذکر کے صیغہ یعنی واؤ نون کے ساتھ لانا درست ہوگیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول رَأیتُھم لی ساجدین، ایک جواب یہ بھی دیا ہے کہ ظَلَّتْ اَعْنَاقُھُمْ معنی میں ظَلَّتْ اَصْحَابُ اَعْناقھم کے ہے، یعنی مضاف محذوف ہے پھر مضاف کو حذف کرکے خبر کو اس کے قائم مقام کردیا۔
قولہ : مِن ذِکرٍ میں من زائدہ ہے اور من الرحمٰن میں من ابتدائیہ ہے۔ قولہ : محدثٍ یہ ذکرٍ کی صفت کا شفہ ہے اس لئے کہ مایاتیھم میں ذکر سے جو معنی حدثی سمجھ میں آتے ہیں اسی معنی کی محدثٍ سے تاکید کی ہے قولہ : اِنّ فی ذٰلک لآیۃ لآیۃ اِنّ کا اسم مؤخر ہے، اور اس پر لام زائدہ ہے، یہ آیت اس سورت میں آٹھ مرتبہ ذکر کی گئی ہے مَا کَانَ اکثرُھُمْ مومنِیْنَ کی تفسیر فی علم اللہ سے کرکے ایک شبہ کا جواب دیا ہے، شبہ یہ ہے کہ آیت کا مقصد کافروں کے آئندہ ایمان نہ لانے کی خبر دیتا ہے تو کان ماضی سے تعبیر کرنا کیسے درست ہے اس کا ایک جواب فی علم اللہ سے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ ایمان نہ لائیں گے اسی کو ماضی سے تعبیر کردیا ہے یہ جواب کان کو اصلی مان کر ہے دوسرا جواب قال سیبویہ سے دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کان زائدہ ہے لہٰذا اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
تنبیہ : وکَانَ قَالَ سیبویہ زائدۃٌ میں ابہام ہے، صحیح تعبیر اس طرح ہونی چاہیے، قال، سیبویہ، کان زائدۃ۔
تفسیر و تشریح
سورة شعراء میں بھی دیگر مکی سورتوں کے مانند اصول دین اور عقائد یعنی توحید، رسالت، بعث بعد الموت وغیرہ کو اہتمام کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اور عبادت اصنام کے سلسلہ میں ان کا موقف بیان کرتے ہوئے حجج قاطعہ اور براہین ساطعہ کے ذریعہ بت پرستی کو خلاف فطرت اور خلاق عقل ثابت کیا ہے، اس سورت میں چونکہ شعراء کے کچھ اوصاف کا ذکر ہے اس لئے اس سورت کا نام سورة شعراء رکھا گیا ہے، مشرکین مکہ چونکہ آپ ﷺ کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ شاعر ہے اور جو کچھ بیان کرتا ہے وہ شعر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر رد کرتے ہوئے شعراء کی مذمت بایں الفاظ فرمائی ” والشعراء یتبعھم الغاؤون الم تَرَ انَّھُمْ فی کل وادٍ یھیمون وأنھم یقولون مالا یفعلون “۔
طٰسٓمٓ تلک ایت الکتاب المبین یعنی اس کا اعجاز کھلا ہوا ہے اور احکام واضح ہیں اور یہ کتاب حق و باطل میں واضح طور پر امتیاز کرنے والی ہے، اور ان بدبختوں کے غم میں خود کو اس قدر گھلانے کی ضرورت نہیں کہ ان کی فکر میں آپ اپنی جان ہلاک کر ڈالیں، دلسوزی اور شفقت کی بھی آخر ایک حد ہوتی ہے لَعَلَّکَ باخِعٌ الخ اگرچہ صورۃً جملہ خبر یہ ہے مگر حقیقت میں نہی کے معنی میں ہے، علامہ عسکری نے فرمایا کہ اس جیسے مقامات میں اگرچہ صورت جملہ خبریہ کی ہے مگر حقیقت میں مراد اس سے نہی ہے، مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر، اپنی قوم کے کفر اور اسلام سے انحراف کے سبب اتنارنج و غم نہ کیجئے کہ جان ہی گھلنے لگے۔
وان نشا۔۔۔۔۔ خاضعین علامہ زمخشری نے فرمایا کہ اصل کلام فَظَلُّوْا لَھَا خَاضِعِیْنَ ہے یعنی کفار اس بڑی نشانی کو دیکھ کر تابع ہوجائیں اور جھک جائیں، لیکن یہاں اعناق کا لفظ یہ ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ موضع تواضع ظاہر ہوجائے، اس لئے کہ عاجزی اور تواضع کا اثر پہلے گردن پر ظاہر ہوتا ہے، شیخ سعدی (رح) نے بھی اس مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
تواضع زگردن فرازاں نکوست
گداگر تواضع کند خوئے اوست
خلاصہ یہ ہے کہ یہ دنیا ابتلا اور آزمائش کا گھر ہے جہاں بندوں کو اختیار تمیزی دیکر بندوں کے انقیاد اور تسلیم کو آزمایا جاتا ہے، اسی لئے حکمت الٰہی متقاضی نہیں کہ ان کا اختیار بالکل سلب کرلیا جائے، ورنہ اگر خدا چاہتا تو کوئی ایسا آسمانی نشان ظاہر فرماتا کہ اس کے آگے زبردستی سب کی گردنیں جھک جاتیں، جیسا کہ بنی اسرائیل کے سروں پر پہاڑ کو معلق و مسلط کردیا تھا، مگر ایسا اس لئے نہیں کیا کہ حکمت خداوندی اس بات کی متقاضی تھی کہ یہ احکام اور معارف بدیہی نہ ہوں بلکہ نظری رہیں تاکہ انسان ان میں غور و فکر کریں اور یہی غور و فکر انسان کی آزمائش ہے اور اسی پر ثواب و عقاب مرتب ہوتا ہے، بدیہی چیزوں کا اقرار تو ایک طبعی اور ضروری امر ہے، اس میں تعبد اور اطاعت کی شان نہیں۔ (معارف ملخصاً )
Ayahs 26:10–33آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے لئے میری زبان اس گرہ کی وجہ سے نہ چل سکے جو اس میں ہے لہٰذا میرے ساتھ ساتھ میرے بھائی ہارون کے پاس بھی جبرائیل کو بھیج دیجئے اور میرے ذمہ ان لوگوں کا ایک جرم بھی ہے ان میں سے میرے ایک قطبی کو قتل کرنے کی وجہ سے لہٰذا مجھے اندیشہ ہے کہ اس کے بدلہ میں مجھے قتل کردیں ارشاد ہوا ہرگز نہیں یعنی تجھ کو قتل نہیں کرسکتے سو تم دونوں میری آیتیں لیکر جاؤ یعنی تم اور تمہارا بھائی، اس میں غائب پر حاضر کو غلبہ ہے ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جو تم کہو گے اور جو وہ تم سے کہیں گے ہم اس کو سنتے ہیں، دو کو جماعت کے قائم مقام کردیا ہے، تو اب دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو ہم دونوں یعنی ہم میں سے ہر ایک پروردگار عالم کا تیری طرف رسول ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ شام کی طرف جانے دے چناچہ یہ دونوں حضرات فرعون کے پاس آئے اور جو کچھ ماقبل میں مذکور ہوا اس سے کہہ دیا فرعون نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا کیا ہم نے تیری بچپن میں اپنے گھروں میں پرورش نہیں کی ؟ (یعنی) بچپن میں ولادت کے قریب دودھ چھڑانے کے بعد اور تم اپنی عمر کے کئی سال ہمارے یہاں رہے یعنی تیس سال (اس مدت میں) فرعون ہی کے کپڑے پہنتے تھے اور اسی کی سواریوں پر سوار ہوتے تھے اور ان (موسیٰ ) کو ابن فرعون کہا جاتا تھا، اور تو نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو تو نے کی تھی اور وہ قبطی کا قتل تھا اور تم بڑے ناسپاس ہو یعنی اپنے اوپر میری تربیت اور غلام نہ بنانے کے انعام (احسان) کی ناشکری کرنے والوں میں سے ہو موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا جس وقت میں نے وہ حرکت کی تھی میں اس وقت (یعنی تیرے پاس قیام کے دوران) اس چیز سے ناواقف تھا جو بعد میں اللہ نے مجھے (اس کا علم) عطا فرمایا یعنی علم اور رسالت (عطا فرمائی) جب مجھے تم سے خوف ہوا تو میں تمہارے یہاں سے فرار ہوگیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم یعنی علم عطا فرمایا اور مجھے پیغمبروں میں شامل فرمایا یہ ہے وہ نعمت جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے (تَمُنُّھا) کی اصل تمُنُ بِھَا تھی کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے یہ تلک النعمتۃ کا بیان ہے یعنی تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور مجھے آزاد چھوڑ رکھا ہے یہ تیرا کوئی احسان نہیں ہے ؟ اس ظلم کی وجہ سے کہ ان کو تو نے غلام بنا رکھا ہے اور بعض حضرات نے کلام کے شروع میں ہمزہ استفہام انکاری مقدر مانا ہے فرعون نے موسیٰ سے معلوم کیا کہ رب العالمین کیا چیز ہے ؟ جس کے بارے میں تو کہتا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں، یعنی اس کی کیا حقیقت ہے ؟ اور جبکہ مخلوق کیلئے باری تعالیٰ کی حقیقت کی معرفت کی کوئی صورت نہیں تھی، اس کو تو صرف اس کی صفات کے ذریعہ ہی پہچانا جاسکتا ہے، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے باری تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان کرکے جواب دیتے ہوئے فرمایا وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب یعنی خالق ہے اگر تمہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اس (کائنات) کا خالق ہے تو اس وحدہ (لاشریک) پر ایمان لے آؤ، تو فرعون نے اپنے اردگرد کے لوگوں یعنی اپنی قوم کے سرداروں سے کہا کیا تم اس کا جواب جو سوال کے مطابق نہیں ہے سن نہیں رہے ہو ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب ہے یہ (تعریف) اگرچہ ماقبل (کی تعریف) میں داخل ہے (مگر یہ تعریف) فرعون کو غصہ دلانے والی ہے اور اسی وجہ سے (فرعون) نے (غصہ میں) کہا بلاشبہ تمہارا رسول جس کو تمہارے پاس بھیجا ہے یقیناً پاگل ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مشرق و مغرب کا اور جو ان کے درمیان ہے ان کا (بھی) رب ہے اگر تم کو اسبات کا یقین ہے کہ وہ ایسا ہی ہے تو اس وَحْدَہٗ لاشریکَ پر ایمان لے آؤ، فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اگر تم میرے علاوہ کوئی اور معبود تجویز کرو گے تو میں تم کو یقیناً حوالۂ زنداں کر دوں گا، اس کا جیل خانہ بڑا سخت تھا وہ انسان کو تہہ خانہ میں تنہا قید کردیتا تھا کہ وہ نہ کسی کو دیکھ سکے اور نہ کسی کی (بات) سن سکے، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کیا اگر میں کوئی صریح دلیل پیش کروں تب بھی تو ایسا کرے گا یعنی اگر اپنی رسالت پر کوئی واضح دلیل پیش کروں (تب بھی) فرعون نے موسیٰ سے کہا اگر تو دعوۂ رسالت میں سچا ہے تو دلیل پیش کر تو اسی وقت (موسیٰ نے) اپنا عصا ڈال دیا تو وہ دفعۃً واضح طور پر اژدہا بن گیا اور اپنے ہاتھ کو نکالا یعنی ہاتھ کو اپنے گریبان سے نکالا تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید چمکدار نظر آنے لگا یعنی سابقہ گندمی رنگ کے خلاف نظر آنے لگا۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : اَنْ ای بِاَنْ اس تفسیر میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ أنَ مصدریہ ہے اور اس سے پہلے باحرف جر مقدر ہے اور بعض
حضرات نے اَن کو تفسیر یہ بھی کہا ہے اس لئے کہ نادیٰ قالَ کے معنی میں ہے۔ قولہ : رسولاً یہ اِئتِ کی ضمیر سے حال ہے قوم فرعون میں فرعون بطریق اولیٰ شامل ہے، نیز قوم فرعون کے پاس بھیجنا فرعون کے پاس بطریق اولیٰ بھیجنا ہے اس لئے کہ اصل سرکشی اور فساد کا سرچشمہ تو فرعون ہی تھا۔ قولہ : وبنی اسرائیل کا عطف انفسھم پر ہے، استبعاد کا مطلب ہے غلاموں جیسا معاملہ کرنا یعنی ان سے ذلت اور محنت شاقہ کے کام لینا، نہ کہ حقیقت میں غلام بنانا۔ قولہ : اَلاَ الھَمزۃ للاستفھام الانکاری، صحیح یہ ہے کہ ہمزہ تعجب کے لئے ہے نہ کہ انکار کے لئے جیسا کہ مفسر علام نے صراحت کی ہے اس لئے کہ لاتتقون حرف نفی کی وجہ سے منفی ہے اور جب اس پر ہمزہ انکاری داخل ہوگا تو نفی النفی اثبات کے قاعدہ سے اثبات ہوجائے گا جو کہ فاسد ہے اس لئے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے ” اے موسیٰ تو قوم فرعون کے پاس جا اس لئے کہ وہ (اللہ) سے ڈرتی ہے اور یہ معنی سراسر خلاف واقعہ ہیں۔
قولہ : قالَ موسیٰ اِنّی اَخافُ (الآیہ) موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی کے جواب میں تین عذر پیش کئے (1) مجھے تکذیب کا اندیشہ ہے (2) تکذیب سے مرا دل تنگی محسوس کرے گا (3) میری زبان میں سلاست نہیں ہے، یہ تینوں اعذار امتثال امر سے باز رہنے کے لئے بیان نہیں فرمائے بلکہ رسالت کے بارگراں سے اظہار عاجزی اور بیان حقیقت، نیز طلب معونت کے طور پر تھے۔ قولہ : ویضیقُ صدری یا تو جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی اس کا ماقبل سے تعلق نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حالت کا بیان ہے، یا پھر اِنّی اَخافُ میں اِنَّ کی خبر اخافُ پر عطف ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ قولہ : اُجر یا مجریٰ الجماعۃ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون دو تھے ان کے لئے تثنیہ کا صیغہ لانا چاہیے تھا اَیْ اِنّا مَعْکُمَا حالانکہ مَعَکُمْ جمع کا صیغہ لایا گیا ہے، جواب یہ ہے کہ تثنیہ کو تعظیماً جماعت کے قائم مقام کردیا ہے۔ قولہ : اَیْ کُلاًّ مِّنَّا اس عبارت سے بھی ایک سوال کا جواب مقصود ہے، سوال یہ ہے کہ اِنَّا کے اسم و خبر میں مطابقت نہیں ہے اس لئے کہ رسول خبر ہے جو کہ مفرد ہے اور مخبر عنہ اِنّا کی ضمیر ہے جو کہ جمع ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اِنَّا کُلاًّ مِّنَّا کے معنی میں ہے جو کہ مفرد کے حکم میں ہے لہٰذا اِنَ کے اسم و خبر میں مطابقت موجود ہے۔
قولہ : فَاتِیَاہ اس عبارت کے مقدر ماننے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ قَالَ فرعونَ کا ترتب فعل محذوف پر ہے۔ قولہ : قریباً من الولادۃ بعدَ فطامہٖ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد بھی ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ ولید نومولود شیر خوار بچہ کو کہتے ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی شیر خواری کے زمانہ میں تو اپنی والدہ کے پاس تھے، تو پھر فرعون کی تربیت کا کیا مطلب ہے ؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ولید سے دودھ چھڑانے کے فوراً بعد کا زمانہ مراد ہے، مگر زیادہ بہتر ہے کہ آیت کو اپنے ظاہر پر ہی رکھا جائے تاویل کرنے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شیرخوارگی کے زمانہ میں اگرچہ اپنی والدہ کے پاس تھے مگر نگرانی اور نفقہ فرعون ہی کا تھا، لہٰذا فرعون کا نُرِبِّکَ فینا ولیداً کہنا درست ہے۔
قولہ : مِنْ عَمْرِکَ سِنِیْنَ مِن تبعیضیہ ہے مِن عمرک سنین کی صفت ہے جو کہ مقدم ہونے کی وجہ سے حال ہو کر محلاً منصوب ہے، اس لئے کہ نکرہ کی صفت کو جب مقدم کردیا جاتا ہے تو وہ حال ہوجاتی ہے ففررتُ مِنکم لَمَّا خِفْتُکُم یعنی جب مجھے تمہاری جانب سے ایذا رسانی کا اندیشہ ہوا تو میں بھاگ کھڑا ہوا، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایزا رسانی کا علم اس وقت ہو کہ جب آپ سے یہ کہا گیا اِنَ الملاء یا تمرون بل لیقتلوکَ ( سورة قصص آیات 20) منکم میں ضمیر جمع لانے کی وجہ اسی سے معلوم ہوتی ہے ورنہ تو ففررت منک کا موقعہ تھا اس لئے گفتگو فرعون سے ہو رہی ہے نہ کہ سب سے۔
قولہ : تِلْکَ نِعْمۃٌ تَمُنُّھَا عَلَیَّ (الآیۃ) تلک کا مشار الیہ تربیت ہے جو کہ اَلَمْ نربک سے مفہوم ہے تلک مبتداء نعمۃ موصوف تمنھا جملہ ہو کر صفت، موصوف یا صفت مبتداء کی خبر مبتداء باخبر مُبَیَّن اَن عَبَّدْتَّ عطف بیان تَمُنُّھَا اصل میں تمُنُّ بھا تھا حرف جر کو حذف کرکے ضمیر کو فعل سے متصل کردیا، گویا کہ یہ حذف و اتصال کے باب سے ہے، مطلب یہ ہے کہ تیرا مجھے غلام نہ بنانا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے اس لئے کہ میری قوم کے دوسرے افراد کو تو نے غلام بنا رکھا ہے جو کہ ظلم ہے لہٰذا تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے تجھ کو غلام بنا کر تجھ پر ظلم نہیں کیا اور ظلم نہ کرنا یہ کوئی احسان کی بات نہیں بلکہ ظلم سے مامون رہنا تو ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور بعض حضرات نے وتلک سے پہلے ہمزہ مقدر مان کر اصل عبارت اس طرح بتائی ہے اَوَ تِلْکَ کیا اس کو نعمت کہا جاسکتا ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے کہ مجھے آزاد چھوڑ کر میری پوری قوم کو غلام بنا رکھا ہے جن سے تو ذلت آمیز اور محنت شاقہ کے کام لیتا ہے اور توہین آمیز برتاؤ کرتا ہے۔
قولہ : فآمنوا بہٖ شارح نے یہ عبارت مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے کہ اِن کُنْتُمْ مُؤقِنِیْنَ کی جزاء محذوف ہے قَالَ فِرعَونُ وَمَا رَبُّ العَالَمِیْنَ فرعون نے رب العالمین کے بارے میں ما کے ذریعہ سوال کیا جو کہ شئ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے آتا ہے اس لئے اَیُّ کے ذریعہ سوال کرنا چاہیے تھا جو کہ صفات سے سوال کرنے کے لئے آتا ہے مگر فرعون نے اپنی غباوت کی وجہ سے مَاھُوَ سے سوال کیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی غباوت پر تنبیہ کرنے کے لئے جواب میں صفات کو بیان کیا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تجھ کو ما کے ذریعہ رب العالمین کی حقیقت سے سوال کرنے کے بجائے اَیُّ شئٍ سے اس کی صفات کے بارے میں سوال کرنا چاہیے، اس لئے کہ رب العالمین کی کنہہ اور حقیقت اس دنیا میں معلوم نہیں ہوسکتی۔
قولہ : وَمَا بَینَھُمَا میں ھُمَا تثنیہ سے سمٰوات اور ارض مراد ہیں، حالانکہ سمٰوات جمع ہے اس لئے بَینَھُنَّ لانا چاہیے تھا، جواب یہ ہے سمٰوات ایک جنس ہے اور ارض ایک جنس ہے لہٰذا دونوں جنسوں کے لئے تثنیہ کا صیغہ لایا گیا ہے قال فرعون لِمَنْ حولہ اَلاَ تَسْتَمِعُونَ فرعون نے اپنے اس قول سے اپنی قوم کے اشراف کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مدعی نبوت میں تو سوال سمجھنے کی بھی صلاحیت نہیں ہے لہٰذا اس کا دعوی نبوت صحیح نہیں ہے میں نے مَا ھُوَ سے رِبُّ العالمینَ کی حقیقت سے سوال کیا اور یہ جواب میں حقیقت بیان کرنے کے بجائے صفات بیان کر رہے ہیں۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے ماھُوَ کے جواب میں صفات کو بیان کرکے اس طرف تعریض کی کہ جس شخص کو سوال کرنے کا سلیقہ بھی نہ ہو بھلا اس کے دعوۂ ربوبیت میں کیا صداقت ہوسکتی ہے ؟ قَالَ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبائِکُمْ الاولین یہ دوسرا جواب اگرچہ پہلے جواب رب السمٰوات والارض وما بینھما میں داخل ہے مگر فرعون کو غصہ دلانے کے لئے دوسرا جواب دیا کہ وہ صرف آسمانوں اور زمین وما بینھما ہی کا خالق نہیں ہے بلکہ تیرا اور تیرے باپ دادا کا بھی خالق ہے چناچہ فرعون نے غضبناک ہو کر کہا اِنَّ رسولَکم الذی اُرْسِلَ اِلَیْکم لَمجنون مفسر علام نے یہی مطلب بیان کیا ہے، مگر تفسیر کبیر میں علامہ فخر الدین رازی نے فرمایا کہ خالقیت سمٰوات والارض کے ذریعہ تعریف سے عدول کرنے کی یہ وجہ تھی کہ ہوسکتا ہے کہ فرعون یہ کہہ دیتا کہ زمین اور آسمان واجب لذاتہٖ ہیں لہٰذا وہ خالق اور مؤثر سے مستغنی ہیں، یہ بات کسی عاقل کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے اور اپنے آباء کے بارے میں کہہ دے کہ یہ واجب لذاتہٖ ہیں اس لئے کہ مشاہدہ اس بات کا شاہد ہے کہ عدم کے بعد ان کا وجود ہوا ہے اور پھر عدم ہوجائے گا، اور جس چیز پر عدم طاری ہو وہ حارث ہوگا اس کے لئے موثر کا ہونا ضروری ہے، دوسری تعریف پہلی تعریف سے واضح ہے رب المشرق والمغرف موسیٰ (علیہ السلام) نے فوراً ہی تیسری تعریف کی طرف عدول کیا جو کہ دوسری سے بھی واضح ہے، مشرق سے مراد طلوع شمس اور مغرب سے غروب شمس مراد ہے، ہر دن کا مشرق اور مغرب مختلف ہوتا ہے اور یہ طلوع و غروب کروڑوں سال سے سر مو تبدیلی یا خلل کے بغیر پوری یکسانیت کے ساتھ رونما ہوتا رہتا ہے یہ کسی مؤثر کے بغیر ممکن نہیں ہے اور وہ مؤثر ہی رب العالمین ہے۔ قولہ : اَلْاُدمَۃُ گندم گوں، گندمی رنگ۔
تفسیر و تشریح
اذ نادی ربک موسیٰ ، یہ اس ندا کا ذکر ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ واپس مصر آرہے تھے، تاریک اور ٹھنڈی رات میں راستہ بھول گئے تھے، تاپنے کے لئے ان کو آگ کی ضرورت محسوس ہوئی، کوہ طور کی جانب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آئی آگ اور رہنمائی کرنے والے کی تلاش میں کوہ پر پہنچ گئے جہاں ندائے غیبی نے ان کا استقبال کیا اور انہیں نبوت سے سرفراز کردیا گیا اور ظالموں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کا فریضہ بھی سونپا گیا۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی حکم کے بجالانے کے لئے کچھ ایسی چیزوں کی درخواست کرنا کہ جو تعمیل حکم میں مددگار ثابت ہوں کوئی بہانہ جوئی نہیں ہے بلکہ جائز ہے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی پاکر اس کی بجا آوری کو سہل اور مفید کرنے کے لئے خداوند قدوس سے درخواست کی۔
قال فعلتھا۔۔۔۔ الضالین فرعون کے اس سوال کے جواب میں کہ تم نے اے موسیٰ ایک قطبی کو قتل کیا تھا، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا ہاں میں نے قتل ضرور کیا تھا لیکن وہ قتل ارادۃً اور قصداً نہ تھا بلکہ اس قبطی کو اس کی خطا پر متنبہ کرنے کے لئے گھونسہ مارا تھا جس سے وہ ہلاک ہوگیا، فرعون کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ تمہارا نبوت کا دعویٰ کرنا درست نہیں ہے اس لئے کہ تم ایک بےگناہ کو قتل کرچکے ہو جو کہ نبوت کے منافی ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ نبوت کے منافی قتل عمد ہے اور یہ قتل خطاء تھا، یہاں ضلال کا مطلب بیخبر ی ہے ضلال کے معروف معنی یعنی گمراہی مراد نہیں ہیں، جیسا کہ حضرت قتادہ اور ابن زید کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
قال فرعون۔۔۔ العالمین اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ خدا ذوالجلال کی کنہ اور حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال خدا کی حقیقت اور ماہیت کے متعلق تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بجائے ماہیت بتانے کے خداوند کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ خدا کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال کرنا بھی بیجا اور غباوت پر مبنی ہے۔
ان ارسل۔۔۔ اسرائیل بنی اسرائیل شام کے باشندے تھے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصر آئے تھے حضرت یوسف (علیہ السلام) بارہ بھائی تھے ان کی نسل میں بہت زیادہ ترقی اور اضافہ ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کی تعداد چھ لاکھ تیس ہزار تھی، بنی اسرائیل کو مصر میں رہتے ہوئے چار سو سال گزر چکے تھے، یہ لوگ مصر میں نہایت ذلت اور غلامی کی زندگی گزار رہے تھے، یہ لوگ اپنے وطن واپس جانا چاہتے تھے مگر فرعون اپنی خدمت گزاری اور بیگار لینے کی ضرورت کی وجہ سے جانے نہیں دیتا تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پیغام حق پہنچانے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل پر جو ظلم اس نے کر رکھا تھا اس سے باز آنے اور ان کو اپنے ملک جانے دینے کی ہدایت کی۔ (قرطبی)
قال الم۔۔۔ ولیدا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے یہاں کتنی مدت رہے اس میں مختلف اقوال ہیں ایک مشہور قول جس کو صاحب جلالین نے بھی نقل کیا ہے کہ تیس سال فرعون کے یہاں رہے اور دس سال مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے یہاں رہے اس طرح چالیس سال ہوگئے اس کے بعد کوہ طور پر نبوت ملی، اس کے بعد واپس فرعون کے پاس آئے اور اس کو تیس سال تک دعوت دی اور فرعون کے غرق ہونے کے بعد پچاس سال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بقید حیات رہے اس حساب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی ایک قول یہ بھی ہے کہ ابتداءً فرعون کے یہاں بارہ سال رہے، قتل قطبی کے بعد مدین تشریف لے گئے اور معاہدہ کے مطابق دس سال تک حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چراتے رہے دس سال کی مدت پوری ہونے پر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے نکاح کیا اس کے بعد اٹھارہ سال مزید قیام بعد ازاں آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے مصر کے لئے روانہ ہوئے جبکہ آپ کی عمر چالیس سال تھی، اسی سفر کے دوسران آپ کو منصب نبوت پر سرفراز کیا گیا۔ (روح المعانی)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دوبارہ قیام کے دوران فرعون سے مناظرہ بھی ہوا جس کو قرآن کریم نے بالتفصیل ذکر کیا ہے جب فرعون لاجواب ہوگیا اور اس سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو اپنے مصاحبین اور سرداروں کو ابھارنا اور بھڑکانا شروع کردیا، اور آخر میں یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر تم میرے علاوہ کسی اور کو معبود تسلیم کرو گے تو میں تم کو حوالۂ زنداں کر دوں گا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میں کوئی ایسی چیز یا معجزہ دکھاؤں کہ جس سے ظاہر ہوجائے کہ میں واقعہ خدا کا سچا رسول ہوں تب بھی تو میری صداقت کو تسلیم نہ کرے گا، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دلیل نبوت کے طور پر اپنا عصا زمین پر ڈالدیا جو اژدہا بن کر پھنکارنے لگا، قرآن کریم میں بعض ثعبان کو حیۃ اور بعض جگہ جانٌ کہا گیا ہے ثعبان بڑے سانپ کو کہتے ہیں جسے اژدہا کہا جاتا ہے، اور جانّ چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں اور حتۃ مطلقاً ہر چھوٹے بڑے سانپ کو کہتے ہیں، ان میں تطبیق کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ وہ ابتداءً تو جان (چھوٹا) سانپ بنتا ہو اور بعد میں ثعبان (بڑا سانپ) ہوجاتا ہے، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جسم اور جثہ کے اعتبار سے تو وہ اژدہا تھا مگر نقل و حرکت کے اعتبار سے جان کے مانند تھا، یعنی عام طور پر اژدہا سریع الحرکت نہیں ہوتا وہ تو ایک ہی جگہ پڑا رہتا ہے مگر وہ ایسا اژدہا تھا کہ سریع الحرکت تھا گویا کہ وہ جان تھا۔
ونزع یدہ روایت ہے کہ فرعون نے جب عصا کا معجزہ دیکھا تو کہا ھَلْ لَکَ غیرھَا کیا تیرے پاس اس کے علاوہ کچھ اور ہے، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ آستین سے نکالا اور اپنے بغل میں داخل کرکے نکالا تو وہ نہایت چمکدار اور نورانی تھا قریب تھا کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔
نوٹ : اَنَا رَبکم الاعلیٰ فرعون کا رب اعلیٰ کہنا اپنی قوم کو خوف زدہ اور مرعوب کرنے کے لئے تھا، اس کا یہ اعتقاد نہیں تھا اور یہ اعتقاد بظاہر بعید بھی معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا کہ اس کا وجود عدم کے بعد ہوا ہے، اور دنیا پر ہزار ہا سال ایسے گزر چکے ہیں کہ وہ موجود ہی نہیں تھا، اور اس کے زیر حکمرانی صرف ملک مصر ہی تھا، اسی وجہ سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین تشریف لے گئے تھے فرمایا تھا لاَتَخَفْ من القوم الظّٰلِمِینَ (روح المعانی) بعض حضرات نے کہا ہے کہ وہ اللہ کی ذات سے ناواقف محض تھا اس کے باوجود خود کو خالق السمٰوات والارض وما بینھما نہیں سمجھتا تھا، بلکہ وہ دہریہ خدا کا منکر تھا اور افلاک کا وجود و جوب لذاتہٖ مانتا تھا اور افلاک کی حرکت کو حوادث کے وجود کا سبب مانتا تھا اور اس بات کا قائل تھا کہ جو شخص ملک کا مالک اور حکمراں ہوتا ہے وہ اپنے اہل وطن کے لئے مستحق عبادت ہوتا ہے اور ان کا رب ہوتا ہے۔ (روح المعانی، ج 11، ص 109)