26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 26:141–159

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

اور قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا جو چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

(یعنی) باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف و نازک ہوتے ہیں

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو خدا سے ڈرو اور میرے کہے پر چلو

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تم اور کچھ نہیں ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

(صالح نے) کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آپکڑے گا

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

سو ان کو عذاب نے آپکڑا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

آیت نمبر 141 تا 159 ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے میں تم سے کہوں اس میں میرا کہنا مانو اور بےباک حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو جو معاصی کے ذریعہ ملک میں فساد برپا کرتے ہیں اور خدا کی اطاعت کرکے اصلاح نہیں کرتے تو ان لوگوں نے کہا تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے (یعنی) تم ان لوگوں میں سے ہو کہ جن پر زبردست جادو کردیا گیا ہو حتیٰ کہ ان کی عقل مغلوب ہوگئی ہو تم بھی ہم جیسے انسان ہو لہٰذا اگر تم اپنے دعوئے رسالت میں سچے ہو تو کوئی معجزہ پیش کرو (صالح علیہ السلام) نے فرمایا یہ ایک اونٹنی ہے، پانی کی ایک دن کی باری اس کی اور ایک دن پانی کا تمہارے لئے مقرر (خبردار) اس کو بری نیت سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تو ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تم کو گرفت میں لے لے گا عذاب کے بھاری ہونے کی وجہ سے پھر انہوں نے اس (اونٹنی) کو ہلاک تک دیا پھر وہ اس کے ہلاک کرنے پر پشیمان ہوگئے چناچہ ان کو عذاب موعود نے آدبوچا جس کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے یقیناً اس (واقعہ) میں بڑی عبرت ہے ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے بلاشبہ آپ کا رب بڑا زبردست بہت مہربان ہے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد کذبت ثمود کذبت فعل کو مؤنث لایا گیا ہے اس لئے کہ ثمود قبیلہ کے معنی میں ہے ثمود قوم ثمود کے جداعلیٰ کا نام ہے ان ہی کے نام پر قوم کا نام رکھا گیا ہے، نسب اس طرح ہے ثمود بن عبید بن عَوْص بن عاد بن ارم بن سام بن نوح، ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے حضرت صالح (علیہ السلام) نے دو سو اسی سال عمر پائی حضرت صالح اور حضرت ہود (علیہ السلام) کے درمیان سو سال کا وقفہ ہے۔ (حاشیہ جلالین) قولہ : فیما ھٰھنا من الخیر ھٰھُنَا ای فی الدنیا، من الخیر، مَا کا بیان ہے مراد اس سے دنیوی آرام و راحت کا سامان ہے آمِنِیْنَ تترکون کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔ قولہ : فی جنّٰتٍ الخ یہ اعادۂ جار کے ساتھ فیما ھٰھُنَا سے تفصیل کے لئے بدل ہے۔ قولہ : طَلْعُھَا، طَلْعٌ ابتداء نمودار ہونے والا شگوفہ، پھر بَلٰغٌ پھر بسر پھر رطبٌ پھر تموھضِیْمٌ نرم، نازک۔ قولہ : الذِیْنَ یُفسِدونَ فی الاَرْضِ مُسْرِفینَ کی صفت کا شفہ ہے اس لئے کہ یہاں مسرفین کے معروف معنی مراد نہیں ہیں۔ تفسیر و تشریح قوم ثمود کا مسکن حجر تھا جو حجاز کے شمال میں واقع ہے آج کل اس کو مدائن صالح کہتے ہیں (ایسر التفاسیر) یہ عرب تے نبی کریم ﷺ کا تبوک جاتے ہوئے ان کی بستیوں سے گزر ہوا تھا آپ ﷺ کی بستیوں سے ان کے معذب ہونے کی وجہ سے تیزی سے سرجھکائے ہوئے گزر گئے تھے اتترکون فیما ھٰھُنا آمین یعنی یہ نعمتیں کیا تمہیں ہمیشہ حاصل رہیں گی نہ تمہیں موت آئے گی اور نہ عذاب ؟ یہ استفہام انکاری توبیخی ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا بلکہ عذاب یا موت کے ذریعہ جب اللہ چاہے گا تم ان نعمتوں سے محروم ہوجاؤ گے اس میں اس بات کی طرف ترغیب ہے کہ تم اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ اور ترہیب ہے کہ اگر ایمان و شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تباہی و بربادی تمہارا مقدر ہے وقال ھٰذہ ناقۃ یہ اونٹنی تھی جو ان کے مطالبہ پر پتھر کی ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر ہوئی تھی، پانی کے لئے ایک دن اونٹنی کا اور ایک دن دیگر تمام جانوروں کیلئے مقرر کردیا گیا تھا نیز ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ اس کو بری نیت سے ہاتھ نہ لگانا نہ اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا یہ اونٹنی ان کے درمیان ایک مدت تک رہی لیکن کچھ عرصہ کے بعد ان لوگوں نے اس کے قتل کا منصوبہ بنا لیا اور ایک روز رات کی تاریکی میں ایک قدار نامی شخص نے قوم کی رضا مندی سے اس کو ہلاک کردیا یہ اونٹنی باوجودیکہ اللہ کی قدرت کی نشانی اور صالح (علیہ السلام) کی نبوت کی ایک واضح دلیل تھی مگر قوم ثمود اس پر ایمان نہیں لائی اور کفر و شرک کے راستہ پر گامزن رہی جب اونٹنی کو قتل کردیا گیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت ہے چوتھے دن تمہیں ہلاک کردیا جائے گا، اونٹنی کو سہ شنبہ کو ہلاک کیا گیا اور وہ لوگ شنبہ کے روز ہلاک کر دئیے گئے، حضرت صالح (علیہ السلام) نے نزول عذاب کی کچھ علامتیں مقرر فرما دی تھیں ان کا ظہور اس طرح ہوا کہ چہار شنبہ کو ان کے چہرے زرد ہوگئے پھر پنجشنبہ کو سرخ ہوگئے پھر بروز جمعہ سیاہ ہوگئے ہفتہ کے روز سخت زلزلہ اور شدید چنگھاڑ کے ذریعہ ہلاک کردیئے گئے۔
Ayahs 26:160–175

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

(اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو ؟

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں انکو چھوڑ دیتے ہو ؟

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کر دئیے جاؤ گے

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط نے کہا میں تمہارے کام کا سخت بیزار ہوں

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو انکے کاموں (کے وبال سے) نجات دے

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

سو ہم نے انکو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا پیچھے رہ گئی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان پر مینہ برسایا سو جو مینہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے تھے وہ برا تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

آیت نمبر 160 تا 175 ترجمہ : قوم لوط نے (بھی) نبیوں کو جھٹلایا جب کہ ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم اہل عالم یعنی انسانوں میں سے مردوں کیساتھ شہوت رانی کرتے ہو ؟ اور تمہاری بیبیوں کی جو چیز یعنی ان کی شرمگاہیں تمہارے لئے پیدا (حلال) کی گئیں ہیں ان کو چھوڑے ہوئے ہو، اپنی بیبیوں کی شرمگاہوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، یہ تفسیر اور ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ مِن کو تبعیضیہ مانا جائے اور اگر من بیانیہ لیا جائے تو من ازواجکم ما کا بیان ہوگا، مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے جو چیز یعنی عورت تمہارے لئے حلال کی ہے اس کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ ہم جنسی کرتے ہو جو کہ حرام ہے بلکہ تم حد یعنی حلال سے حرام کی طرف سے تجاوز کرنے والے ہو (قوم کے) لوگوں نے جواب دیا اے لوط اگر تم ہمارے اوپر نکیر کرنے سے باز نہ آؤ گے تو یقیناً ہمارے شہر سے نکال دئیے جاؤ گے حضرت لوط (علیہ السلام) نے جواب دیا میں تمہاری حرکت سے سخت ناخوش ہوں، اے میرے پروردگار مجھے اور میرے اہل کو ان کے اعمال کے عذاب سے نجات دیجئے سو ہم نے ان کو اور ان کے تمام متعلقین کو نجات دی بجز ایک بڑھیا کے جو کہ ان کی بیوی تھی پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی جس کو ہم نے ہلاک کردیا پھر ہم نے باقی اور سب کو (بھی) ہلاک کردیا پھر ہم نے ان پر ایک خاص قسم (یعنی) پتھروں کا مینہ برسایا من جملہ ہلاک کرنے کے طریقوں میں سے سو بہت برا مینہ تھا جو ان لوگوں پر برسا جن کو ڈرایا گیا تھا بلاشبہ اس میں عبرت ہے اور ان میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے، اور بیشک آپ کا رب بڑی قدرت والا رحمت والا ہے۔ تحقیق ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : اخوھم لوط (علیہ السلام) کا قوم لوط سے نہ تو نسبی تعلق تھا اور نہ دینی مشارکت اس لئے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زادہ تھے اور بلاد مشرق میں بابل کے باشندہ تھے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کرکے تشریف لائے تھے ابراہیم (علیہ السلام) نے شام میں مقام خلیل میں قیام فرمایا اور لوط (علیہ السلام) نے اس کے قریب یعنی ایک دن کی مسافت کی دوری پر سدوم میں قیام فرمایا، مگر حضرت لوط (علیہ السلام) نے اہل سدوم میں بود و باش اختیار کرلی تھی اور مصاہرت کا رشتہ بھی ان ہی لوگوں سے قائم ہوگیا تھا اسی وجہ سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو ان کا بھائی کہا گیا ہے۔ قولہ : مَا خَلَقَ لَکُمْ ای اَحَلَّ لَکُمْ مِنْ اَزْواجِکُمْ یہ ما کا بیان ہے، شارح علام نے مِنْ اَزْوَاجِکُمْ کی تفسیر اَقْبَالِھنَّ سے کرکے دو باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے اول یہ کہ مَا خَلَقَ لَکُمْ میں ما کی رعایت مقصود ہے، اگر ما کے بجائے مَنْ ہوتا تو اس کی تفسیر مِنْ اَزْوَاجِکُمْ کافی تھی اَقْبَالِھنَّ کی ضرورت نہیں تھی، دوم یہ کہ اَقْبَالھنَّ سے اشارہ کردیا کہ تمہاری بیبیوں کے تمہارے حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قبل ہی تمہارے لئے حلال ہے دبر حلال نہیں ہے، اس لئے کہ قبل ہی موضع حرث ہے نہ کہ دبر وہ تو موضع فرث ہے۔ قولہ : عَادون عادٍ کی جمع ہے جس کے معنی حد سے تجاوز کرنے والا یعنی حق کو چھوڑ کر باطل کو اور حلال کو چھوڑ کر حرام کو اختیار کرنے والا۔ قولہ : مِنَ القَالِینَ قالین القالی کی جمع ہے مادہ قَلٰوٌ یا قَلْیٌّ ہے اس کے معنی میں نفرت اور بیزاری کا مفہوم بھی شامل ہے، اصل معنی پھینکنے اور بھوننے کے ہیں، مِنَ القَالِینَ قالٍ محذوف کے متعلق ہو کر اِنَّ کی خبر ہے۔ قولہ : مِنْ عذابہٖ یہ مضاف محذوف کی طرف اشارہ ہے ای مِن عذاب مِمَّا یعملون اس لئے کہ ان کے جیسے عمل سے بچانے کا کوئی مطلب نہیں ہے اس لئے نبی تو اعمال قبیحہ سے محفوظ ہوتا ہی ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال بد کی پاداش میں جو عذاب نازل ہونے والا ہے اس سے مجھے اور میرے متعلقین کی حفاظت فرما۔ قولہ : اِلاَّ عجُوزًا لفظًا اہل میں شامل ہونے کی وجہ مستثنیٰ متصل ہے اور اس اعتبار سے کہ وہ اہل ایمان میں سے نہیں تھی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے اہل حقیقت میں اہل ایمان ہی تھے اس اعتبار سے مستثنیٰ منقطع ہوگا، اِمرأتَہٗ عجُوزًا سے بدل ہے، حضرت لوط (علیہ السلام) کی کافرہ بیوی کا نام واعلہ تھا اور تفسیر روح البیان میں والھہ ملکھا ہے، لوط (علیہ السلام) کی ایک بیوی مومنہ بھی تھی، کافرہ بیوی چوں کہ قوم کے ہم خیال تھی اور ان کی بےحیائی سے راضی تھی اس لئے اس کو بھی قوم کے ساتھ ہلاک کردیا گیا قوم لوط پر زمین کو پلٹنے اور پتھروں کی بارش برسانے اور مختلف عذابوں کے ذریعہ ان کو ہلاک کردیا گیا۔ تفسیر و تشریح حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے ان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں نبی بنادیا گیا تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت فرمائی تھی، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم سدوم اور عموریہ میں رہتی تھی، یہ بستیاں شام کے علاقہ میں تھیں۔ أتذرونَ ما خَلَقَ لکُمْ الخ ہم جنسی قوم لوط کی بری عادت تھی اس خباثت کی ابتداء اسی قوم سے ہوئی تھی اسی لئے اس فعل بد کو لواطت کہتے ہیں یعنی وہ فعل جس کا آغاز قوم لوط سے ہوا، اب یہ بدفعلی پوری دنیا میں عام ہے بلکہ یورپ کے بعض ممالک میں اس فعل کو قانوناً جائز تسلیم کرلیا گیا ہے یعنی ان کے یہاں اب یہ فعل قانوناً اور اخلاقاً کوئی جرم ہی نہیں ہے بلکہ مرد آپس میں ایک دوسرے سے باقاعدہ شادی کرسکتے ہیں (اَعاذنا اللہ منہ) قَالوا لئِنْ لَمْ تنتَہِ لوط (علیہ السلام) کے وعظ و نصیحت کے جواب میں ان کی قوم نے کہا تو بڑا پاکباز بنا پھرتا ہے اگر تو ہمارے کاموں پر نکیر کرنے سے باز نہ آیا تو تو یاد رکھ ہم تجھے اپنی بستی سے ناکل کریں گے، آج بھی بدی کا اس قدر زور اور غلبہ ہے کہ نیکی منہ چھپائے پھرتی ہے اور نیکوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے، ایک وقت ایسا بھی آنے والا ہے کہ سرراہ زنا کرنے والے سے یہ کہنے والا کہ ایک طرف راستہ سے ہٹ کر کرلو، بڑا نیک اور صالح سمجھا جائے گا۔