26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 26:105–122

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

تو قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس کام کا تم سے صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو رب العالمین ہی پر ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ ہوئے ہیں

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

(نوح نے) کہا مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کر دئیے جاؤ گے

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو تو میرے اور انکے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بڑھی ہوئی کشتی میں سوار تھے ان کو بچا لیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ڈبو دیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

آیت نمبر 105 تا 122 ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر یعنی اس کی تبلیغ پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا میرا اجر یعنی میرا ثواب تو صرف رب العالمین پر ہے اللہ سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت کرو بطور تاکید اس کو مکرر ذکر کیا ہے قوم نے جواب دیا کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں یعنی تیرے قول کی تصدیق کریں حالانکہ تیری اتباع رذیل لوگوں نے کی ہے یعنی کم حیثیت لوگوں نے مثلاً جولا ہوں اور موچیوں نے اور ایک قرأۃ میں اِتَّبَعَکَ کے بجائے اَتْباعُکَ ہے جو کہ تابع کی جمع ہے (اور) مبتداء ہے (اور ارذلون اس کی خبر ہے) حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب دیا مجھے ان کے پیشوں سے کیا غرض ؟ (یعنی مجھے ان کے پیشے سے کوئی مطلب نہیں خواہ ان کا پیشہ رذیل ہو یا شریف، اب رہا یہ احتمال کہ ان کا ایمان دل سے نہیں ہے تو اس کا حساب اللہ پر ہے) ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے سو وہی ان کو جزاء دے گا، اگر یہ حقیقت تمہاری سمجھ میں آجاتی تو تم عیب جوئی نہ کرتے ہیں ایمان والوں کو دھکا دینے والا نہیں میں تو صاف طور پر ڈرانے والا ہوں یعنی کھلم کھلا ڈرانے والا، وہ لوگ کہنے لگے اے نوح اگر تم باز نہ آئے ان باتوں سے جو تم ہم سے کہتے ہو تو یقیناً سنگسار کر دئیے جاؤ گے پتھروں کے ذریعہ یا گالی گلوچ کے ذریعہ (تو پھر مجبور ہوکر) نوح (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار میری قوم نے میری تکذیب کردی سو آپ میرے اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ کر دیجئے اور مجھے اور جو میرے ساتھ باایمان لوگ ہیں نجات دیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا چناچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں نجات دی، یعنی انسانوں اور حیوانوں اور پرندوں سے بھری ہوئی کشتی میں ان کو نجات دینے کے بعد اس کی قوم کے باقی لوگوں کو غرق کردیا یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں بیشک آپ کا پروردگار ہی زبر دست رحم کرنے والا ہے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : بتکذیبِھم لہٗ الخ اس اضافہ کا مقصد اس شبہ کی توجیہ ہے کہ نوح کے لئے مرسلین جمع کا صیغہ لانے کا کیا مقصد ہے حالانکہ وہ ایک فرد تھے، شارح نے اس کے دو جواب دئیے ہیں اول جواب کا خلاصہ یہ ہے تمام انبیاء ومرسلین اصول دین یعنی توحید و رسالت بعث بعد الموت اور آخرت میں جزاوسزا جیسے بنیادی امور میں متفق ہوتے ہیں لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب شمار ہوگی اَوْ لِاَنَّہٗ سے دوسرا جواب ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا زمانہ نہایت طویل ہے عام طور پر اتنی مدت میں کئی رسول مبعوث ہوسکتے تھے مگر تنہا حضرت نوح (علیہ السلام) ہی نے اس طویل زمانہ میں فرائض رسالت انجام دئیے اس لئے بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ متعدد رسولوں کے قائم مقام ہیں، جیسا کہ بجّو کو اس کے کئی افراد کے برابر کھانے کی وجہ سے حجاضر کہہ دیا جاتا ہے۔ قولہ : تانیث قوم کذّبت قوم نوحٍ میں قوم کو مؤنث مان کر فعل کو مؤنث لائے ہیں اس لئے کہ لفظ قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث اور لفظ کے اعتبار سے مذکر ہے قوم کی تصغیر قُوَیْمَۃٌ آتی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ لفظ قوم معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے، یہی حال ہر اس اسم جمع کا ہے جس کا واحد نہیں ہے جیسا رَھْطٌ و نَفْرٌ یہی وجہ ہے کہ ضمائر مثلا لھُمْ ، اَخُوْھُمْ ، تَتَّقُوْنَ میں معنی کی رعایت کی گئی ہے۔ قولہ : مِنْ اَجْرٍ من مفعول پر زائدہ ہے۔ قولہ : اتباعُکَ مبتداء ہے اَرْذَلُوْنَ خبر، جملہ ہو کر اَنُوْمِنُ کی ضمیر سے حال ہے مفسر علام جہاں وفی قرأۃ اخریٰ فرماتے ہیں اس سے قرأۃ سبعہ مراد ہوتی ہے مگر ان کا یہ طریقہ اغلبی ہے کلی نہیں، اس لئے کہ یہاں اتباعُکَ والی قرأۃ سبعیہ نہیں ہے یہ قرأۃ یعقوب کی ہے عشرہ میں سے اَلسَّفْلَۃُ سافِلَۃٌْکی جمع ہے، بےحیثیت یا کم حیثیت لوگ کہتے ہیں الحائک (نور باف) قال فی القاموس، حاک الثوبَ حوْکاً وحِیَاکًا نَسَجَہٗ فھُوَ حَائِکَ الاَ سَاکِفَۃ جمع اِسْکَافٍ کفش دوز (موچی) ۔ قولہ : وَمَا عِلْمِیْ اس میں دو صورتیں ہیں اول ما استفہامیہ انکاریہ مبتداء اور علمی خبر اور با علمی سے متعلق ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَیُّ شَیْیٍ عِلمی ؟ دوسری صورت ما نافیہ اس صورت میں بھی با علمی سے متعلق ہوگی، مفسر علام نے اَیُّ عِلِمٍ لی کہہ کر اول صورت کی طرف اشارہ کیا ہے عِلْمِیْ کی اصل عِلْمً بِیْ ہے تخفیفاً حذف کردیا گیا۔ قولہ : اَیْ اُحْکم اس عبارت کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے فَافْتَحْ انفتاحۃ سے مشتق ہے جس کے معنی حکومت کے ہیں الفتاح ای الحاکم، یفتحہ المغلق من الامور۔ تفسیر و تشریح کذبت۔۔۔۔ المرسلینَ قوم نوح نے اگرچہ صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی مگر چونکہ ایک رسول کی تکذیب تمام رسولوں کی تکذیب کے مترادف اور اس کو مستلزم ہے اس لئے فرمایا کہ قوم نوح (علیہ السلام) نے رسولوں کی تکذیب کی، حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کا بھائی اس لئے کہا کہ حضرت نوح اسی قوم کے ایک فرد تھے۔ طاعات پر اجرت لینے کا حکم : وَمَا اَسْئَلُکُمْ علیہِ مِن اجرٍ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم و تبلیغ پر اجرت لینا درست نہیں ہے اس لئے سلف صالحین نے تعلیم و تبلیغ وغیرہ دینی امور پر اجرت لینے کو ناجائز کہا ہے، لیکن متاخرین نے بحالت مجبوری اس کو جائز قرار دیا ہے۔ شرافت کا تعلق اعمال و اخلاق سے ہے نہ کہ نسب سے : قَالُوا اَنُوْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الاَرّذَلُوْنَ اَرْذلونَِ ارذا، کی جمع ہے، جاہ و مال نہ رکھنے والے اور اس کی وجہ سے معاشرہ میں کمتر سمجھے جانے والے اور ان ہی میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو عرف میں حقیر پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس آیت میں قوم نوح نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ چونکہ آپ پر ایمان لانے والے رذیل اور بےحیثیت لوگ ہیں ہم باعزت اور شریف لوگ ان کے ساتھ کیسے شامل ہوجائیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے جواب میں فرمایا مجھے ان کے پیشہ ورانہ کاموں سے کیا مطلب ؟ مطلب یہ کہ تم لوگ خاندانی شرافت یا مال و دولت کا شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو یہ غلط ہے بلکہ عزت و ذلت یا شرافت و رذالت کا دارومدار دراصل اعمال و اخلاق ہیں، تم نے جن پر یہ حکم لگایا ہے کہ یہ سب رذیل ہیں وہ تمہاری جہالت ہے چونکہ ہم ہر شخص کے اعمال و اخلاق کی حقیقت سے واقف نہیں، اس لئے ہم کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے کہ حقیقت میں کون رذیل اور کون شریف ہے ؟ وَمَا اَنَا بطارِدٍ المؤمنین یہ ان کی اس خواہش کا جواب ہے کہ اگر کمتر حیثیت کے لوگوں کو اپنے پاس سے الگ کردو تو ہم تمہاری جماعت میں شامل ہوجائیں گے، اس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا میں ایمان والوں کو جدا کرنے والا نہیں ہوں، قریش نے بھی اسی قسم کا سوال آنحضرت ﷺ کی خدمت میں موالی اور فقراء صحابہ کے بارے میں کیا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے باوجود ان کی قوم کے لوگ بد اخلاقی اور اعراض پر قائم رہے بالآخر مجبور ہو کر حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے لئے بددعاء کی جس کے نتیجہ میں اہل ایمان کے علاوہ سب غرق دریا ہوگئے حتی کہ بیوی اور بیٹے کو بھی جو ایمان نہیں لائے تھے غرق کردیا گیا۔
Ayahs 26:123–140

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب ان سے انکے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

بھلا تم جو ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں میں مدد دی جن کو تم جانتے ہو ڈرو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اس نے تمہیں چار پایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

آیت نمبر 123 تا 140 ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر کرتے ہو تو بغیر نرمی کے ظالموں کے مانند دار و گیر کرتے ہو اس معاملہ میں اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو جس چیز کا میں تم کو حکم کروں اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری مدد کی یعنی تمہارے اوپر ان چیزوں کا انعام فرمایا مویشیوں سے اور بیٹوں سے اور باغوں سے اور چشموں یعنی نہروں سے مجھے تو تمہارے بارے میں دنیا اور آخرت میں بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے اگر تم میری نافرمانی کرو گے تو ان لوگوں نے کہا ہمارے نزدیک سب برابر ہے خواہ آپ نصیحت کریں یا اصلا نصیحت نہ کریں، ہم تیرے وعظ کی وجہ سے باز نہیں آسکتے یہ بات جس سے تم ہم کو ڈراتے ہو محض پہلوں کی گھڑی ہوئی بات ہے اور ان کا کذب ہے اور ایک قرأۃ میں خا اور لام کے ضمہ کے ساتھ ہے، یعنی وہ عقیدہ جس پر ہم قائم ہیں وہ یہ کہ مر نے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے، گذشتہ لوگوں کی عادت اور ان کی طبیعت ہے اور ہم کو ہرگز عذاب نہیں دیا جائے گا، چناچہ ان لوگوں نے عذاب کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو آندھی کے ذریعہ دنیا میں ہلاک کردیا، بلاشبہ اس میں نشانی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ ماننے والے نہیں تھے بیشک آپ کا رب ہی غالب مہربان ہے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : کَذَّبَتْ عادٌ عاد قبیلہ کے معنی میں ہونے کی وجہ سے مؤنث ہے اسی لئے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے، عاد قوم عاد کے جد ابعد کا نام ہے اسی کی طرف یہ قوم منسوب ہے، عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کے صاحبزادے سام کی نسل سے تھے (جمل) ۔ قولہ : اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ ھُوْدٌ چونکہ ان کی نسل اور خاندان سے تعلق رکھتے تھے اسی وجہ سے ان کو اخوھم کہا ہے حضرت ہود (علیہ السلام) نہایت ہی حسین و جمیل اور پیشہ کے اعتبار سے تاجر تھے حضرت آدم (علیہ السلام) سے بہر زیادہ مشابہت رکھتے تھے چار سو چونسٹھ سال بقید حیات رہے (جمل) ۔ قولہ : بکل رِیْعٍ کسرہ اور فتح دونوں درست ہیں مکان مرتفع کو کہتے ہیں جیسے پہاڑ ٹیلہ وغیرہ، ابو عبید نے کہا ہے راستہ کو کہتے ہیں أتَبْنُوْنَ بِکُلِّ ریعٍ میں استفہام توبیخ کے لئے ہے اور محل توبیخ تُبْعَثُوْنَ جملہ حالیہ ہے، مطلب یہ ہے کہ اونچی جگہ پر عمارت بنانا مذموم نہیں ہے بلکہ بےفائدہ اور فضول بنانا مذموم ہے، وتتخذون کا عطف تبنونَ پر ہے اور اسی طرح واِذَا بَطَشتم کا بھی، مطلب یہ ہے کہ قوم ہود کو تین مذموم باتوں پر توبیخ کی گئی ہے۔ قولہ : فاتقوا اللہ فی ذٰلک الخ انہی تین باتوں کی طرف اشارہ ہے (1) البناء (2) الاتخاذ المذکور (3) التجبر۔ قولہ : امَدَّکُمْ بِاَنْعَامٍ وبنینَ اس میں دو صورتیں ہیں (1) جملہ ثانیہ جملہ اولیٰ کا بیان ہے۔ (2) بِاَنْعامٍ بما تعملونَ اعادہ فعل کے ساتھ بدل ہے جیسا کہ اتبِعُوْا المرسلینَ اتبعُوا من لا یسآلکم اجرًا میں اور بعض حضرات بدل کے بجائے تکرار قرار دیتے ہیں۔ قولہ : سَوَاءً عَلَیْنَا خبر مقدم ہے اور اَوْعَظْتَ بتاویل مفرد ہو کر مبتداء مؤخر ہے ای اَلْوَعْظُ وَعَدَمُہٗ سَوَاءٌ علَیْنَا نَرْعَوِی اِرْعَوَان سے بمعنی باز ماندن اِلاَّ مِن خُلُق الاولین مثلاً شیث (علیہ السلام) و نوح (علیہ السلام) اِنْ ھٰذا اِلاَّ خلُق الاوّلین یہ ماقبل کی علت ہے مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے وعظ و نصیحت کو اس لئے قبول نہیں کریں گے یہ گذشتہ لوگوں کی گڑھی ہوئی باتیں ہیں۔ تفسیر و تشریح کذبت عاد المرسلین، عاد ان کے جداعلیٰ کا نام تھا جن کے نام پر قوم کا نام پڑگیا یہاں عاد کو قبیلہ تصور کرکے کذّبتْ مؤنث کا صیغہ لایا گیا ہے ہود (علیہ السلام) کو بھی عاد کا بھائی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی قوم ہی کے ایک فرد تھے۔ اَتَبْنُوْنَ بکلِّ رِیْع تعبثُوْنَ رِیعٌ، ریعۃٌ کی جمع ہے ٹیلہ، بلند جگہ، پہاڑ، گھاٹی، راستہ کو کہتے ہیں، یہ ان گزرگاہوں یا بلند مقامات پر اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کرتے تھے لیکن ان کا مقصد ان میں رہنا نہیں ہوتا تھا بلکہ کھیل کود یا ایک دوسرے پر فخر ہوتا تھا حضرت ہود (علیہ السلام) نے منع فرمایا کہ یہ تم ایساکام کرتے ہو، جس میں وقت اور وسائل کا بھی ضیاع ہے اور اس کا مقصد بھی ایسا ہے کہ جس سے دین و دنیا کا کوئی مفاد وابستہ نہیں بلکہ اس کے بیکار محض اور عبث ہونے میں کوئی شک نہیں، اسی طرح وہ بڑی مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کرتے تھے جیسے وہ ہمیشہ ان ہی محلات میں رہیں گے۔ بلاضرورت عمارت بنانا مذموم ہے : اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ بغیر ضرورت کے مکان بنانا اور تعمیرات میں وسائل ضائع کرنا شرعاً برا ہے، اور یہی مطلب اس حدیث کا ہے جو امام ترمذی نے حضرت انس سے روایت کی ہے النفقۃ کُلُّھَا فی سبِیْلِ اللہِ الا النباء فلا خیر فیہ یعنی وہ عمارت جو بلا ضرورت بنائی گئی ہو اس میں کوئی بہتری اور بھلائی نہیں ان معنی کی تصدیق حضرت انس ؓ کی دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے اِنّ کلَّ بناءٍ وبالٌ علیٰ صاحبہٖ مالا یعنی اِلاَّ منہٗ (ابوداؤد) یعنی ہر تعمیر صاحب تعمیر کے لئے مصیبت ہے مگر وہ عمارت جو ضرورت کے لئے ہو وہ وبال نہیں ہے، روح المعانی میں فرمایا بغیر غرض صحیح کے بلند عمارت بنانا شریعت محمدیہ میں مذموم اور برا ہے۔