Ayahs 26:34–51آیت نمبر 34 تا 51
ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ کیا تم جمع ہوجاؤ گے ؟ تاکہ ہم جادوگروں کی اتباع کریں اگر وہ غالب رہیں، استفہام اجتماع پر آمادہ کرنے کے لئے ہے، اور ترجی جادوگروں کے غلبہ کی صورت میں ان کے دین پر قائم رہنے کیلئے ہے تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا اتباع نہ کریں، چناچہ جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہم کو کوئی بڑا انعام ملے گا ؟ أئِنَّ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان الف داخل کرکے، فرعون نے کہا ضرور، اور تم اس صورت میں مقربین میں داخل ہوگئے، موسیٰ (علیہ السلام) نے بعد اس کے کہ جادو گروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا آیا آپ پہلے وار کریں گے یا ہم پہلے وار کریں ان سے کہا جو تمہیں ڈالنا ہے ڈالو موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے (القاء) کا حکم ان کے پہلے ڈالنے کی اجازت کیلئے ہے تاکہ اجازت اظہار حق کا ذریعہ ہو چناچہ جادوگروں نے اپنی رسیوں اور لکڑیوں کو ڈال دیا اور پکار اٹھے فرعون کی عزت کی قسم یقیناً ہم ہی غالب رہیں گے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈالدیا تو ڈالتے ہی ان کے بناؤٹی کرتب کو نگلنا شروع کردیا تَلْقَفُ میں اصل سے دو تاؤں میں سے ایک تاء کو حذف کرکے اور وہ ان چیزوں کو اپنی نظر بندی کے ذریعہ بدل رہے تھے اور لوگ ان کی رسیوں اور لکڑیوں کو دوڑتے ہوئے سانپ محسوس کر رہے تھے یہ دیکھتے ہی جادوگر بےاختیار سجدہ میں گرگئے (جادوگروں نے صاف) کہہ دیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے (یعنی) موسیٰ و ہارون کے رب پر ان کے اس بات سے واقف ہوجانے کی وجہ سے کہ انہوں نے عصا سے جو کچھ مشاہدہ کیا ہے وہ جادو کے ذریعہ نہیں ہوسکتا، فرعون نے کہا کیا تم میری اجازت کے بغیر اس پر یعنی موسیٰ پر ایمان لے آئے ؟ ءَآمنتم میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے سے بدل کر یقیناً یہی تم سب کا گرو ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے چناچہ تم کو جادو کا کچھ حصہ سکھا دیا اور دوسرے کے ذریعہ (جس کو تم سے چھپا کر رکھا) تم پر غالب آگیا، ابھی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ میری طرف سے تم کو کیا پیش آتا ہے میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا یعنی ہر ایک کا داہنا ہاتھ اور بایاں پیر اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا سب نے جواب دیا کچھ حرج نہیں ہمارا اس میں کوئی نقصان نہیں ہے ہم تو مرنے کے بعد جس طرح بھی موت آئے اپنے رب کے پاس آخرت میں جا پہنچیں گے ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ ہمارا رب ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے گا اس سبب سے کہ ہم اپنے زمانہ میں سب سے پہلے ایمان لے آئے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
اَلْمَلَاُ اسم جنس ہے سرداروں کی جماعت (جمع) اَمْلاءُ ، اَرْجہْ اِرْجَاءٌ سے امر کا واحد مذکر حاضر ہے، ہٗ ضمیر مفعولی ہے ڈھیل دے، مہلت سے۔ قولہ : تَاْمُرُوْنَ اصل میں تَاْمُرُوْنَنِیْ تھا۔ قولہ : یَاْتُوْکَ جواب امر کی وجہ سے مجزوم ہے، قولہ : واِذ خالِ اَلفٍ بَیْنَھُمَا علیٰ الوجھین یہاں مناسب تھا وعلیٰ الادخال علیٰ الوجھین بھی فرماتے تاکہ چار قرأتیں ہوجاتیں۔
قولہ : فالاَمرُ فیہ الخ یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اَلْقُوْا ما اَنتُمْ مُلْقُوْنَ کہہ کر جادو یعنی ایک قبیح اور کفر یہ عمل کا حکم فرمایا اس لئے کہ جادو کفر اور عمل قبیح ہے اور نبی کے لئے یہ ہرگز مناسب نہیں کہ کسی کو کفریہ عمل کرنے کا حکم دے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حکم نہیں تھا بلکہ بصورت امر اجازت تھی اس لئے کہ جادوگروں نے کہا تھا کہ اول تم وار کرو یا ہم کو اجازت دو کہ ہم وار کریں موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اول وار کرنے کی اَلْقُوا مَا اَنْتُمْ مُلقُوْنَ کہہ کر اجازت دیدی، لہٰذا اعتراض کی کوئی بات نہیں ہے، مگر اس جواب پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ کفر یہ عمل کی اجازت بھی رضا پر دلالت کرتی ہے اور رضا بالکفر کفر ہے لہٰذا اجازت دینا بھی مناسب نہیں تھا، اس شبہ کا جواب بھی اسی عبارت میں موجود ہے کہ اظہار حق کیلئے ضروری تھا کہ جادو گروں کو اجازت دیدی جائے تاکہ وہ اپنا کرتب دکھائیں اور عصاء معجزہ کے ذریعہ اژدہا بن کر ان کے اس باطل اور بناوٹی کرتب کو حاضرین کے روبرونگل جائے اور لوگوں پر حق و باطل میں فرق واضح ہوجائے جیسا کہ حق ظاہر ہوگیا یہ ایسا ہی ہے کہ مسجد کو منہدم کرنا اگرچہ قبیح ہے مگر تعمیر نو کے لئے انہدام قبیح نہیں بلکہ مستحسن ہے لہٰذا یہ تخریب برائے تعمیر تھی نہ کہ تخریب برائے تخریب۔
قولہ : وَابِدال الثانیۃ الفًا والصحیح ابدال الثالثۃ الفًا اس لئے کہ تیسرا ہمزہ ہی الف سے بدلا ہوا ہے، قولہ : ربِّ موسیٰ وھارونَ یہ رب العالمین سے بدل ہے۔ قولہ : یَاْفِکُوْنَ اِفکً (ض) سے جمع مذکر غائب پلٹ رہے تھے، فَاُلْقِیَ السَّحَرۃُ یعنی بےاختیار سجدہ میں گرپڑے۔
تفسیر و تشریح
قَالَ لِلملأِ حَوْلَہٗ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ فرعون بجائے اس کے کہ ان معجزات کو دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرتا اور ایمان لاتا اس نے تکذیب اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور حضرت موسیٰ کی بابت کہا یہ تو کوئی بڑا فنکار جادوگر ہے، نیز اپنی قوم کو بھڑکانے کے لئے کہا کہ وہ ان شعبدے بازیوں کے ذریعہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال کر خود اس پر قابض ہونا چاہتے ہیں، اب بتلاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ یعنی اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ قوم کے سرداروں نے یہ مشورہ دیا کہ ان دونوں کو فی الحال اپنے حال پر چھوڑ دو اور تمام شہروں سے تمام جادوگروں کو جمع کرکے ان کا باہمی مقاملہ کرایا جائے تاکہ ان کے کرتب اور شعبدے بازی کا جواب دیا جائے، چناچہ جادوگروں کی ایک بہت بڑی تعداد مصر کے اطراف و جوانب سے جمع کرلی گئی، ان کی تعداد میں مختلف اقوال ہیں، 12 ہزار، 17 ہزار، 19 ہزار، 30 ہزار، 80 ہزار اصل تعداد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کسی مستند ماخذ میں تعداد کا ذکر نہیں ہے، بہر حال مقابلہ کا دن اور وقت طے ہوگیا، اور عوام کو بھی تاکیدی حکم جاری کردیا گیا کہ سب کو معرکہ دیکھنے کے لئے ضرور آنا ہے، جب دونوں فریق آمنے سامنے آگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم ہی پہلے اپنا کرتب دکھاؤ قَالَ لَھُمْ موسیٰ اَلْقُوْا مَا اَنْتُمْ مُلْقُوْنَ اس پر بادی النظر میں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جادو کا حکم دے رہے ہیں جو کہ فعل قبیح کا حکم ہے اور یہ نبی کی شان سے بعید ہے، اس شبہ کا جواب تحقیق کے زیر عنوان تفصیل سے گزر چکا ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے، تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے، کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے جادو دکھانے کا حکم نہیں تھا بلکہ جو کچھ وہ کرنے والے تھے اس کا ابطال مقصود تھا مگر اس کو باطل کرنا بغیر اس کے ظاہر کرنے کے لئے ناممکن تھا اس لئے آپ نے ان کو جادو کے اظہار کا حکم دیا۔
چناچہ جادو گروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں ڈالدیں جو لوگوں کو نظربندی کی وجہ سے دوڑتے بھاگتے سانپ معلوم ہونے لگے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی طبعی طور پر خوف محسوس کیا جس کو قرآن کریم نے فاوجَسَ فی نفسہٖ موسیٰ خیفۃً سے تعبیر کیا ہے (طٰہٓ 67) چناچہ ان جادوگروں کو اپنی کامیابی اور برتری کا پورا یقین تھا جیسا کہ ان کے قول قالوا لفرعون اَئِنَّ لَنا لَاَجْرًا اِن کنّا نحنُ الغٰلبِینَ سے معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ذرا اپنی لاٹھی زمین پر ڈالدو اور پھر دیکھو چناچہ لاٹھی کا زمین پر ڈالنا تھا کہ اس نے ایک خوفناک اژد ہے کہ شکل اختیار کرلی اور ایک ایک کرکے ان کے سارے کرتبوں کو نگل گیا جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
فرعون کے لئے یہ واقعہ بڑا عجیب اور حیرت ناک تھا جن جادوگروں کے ذریعہ وہ فتح اور غلبے کی آس لگائے بیٹھا تھا وہی نہ صرف یہ کہ مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی سب کے سامنے رب العالمین پر ایمان لے آئے، لیکن بجائے اس کے کہ فرعون خود بھی غور و فکر سے کام لیتا اس نے مکا برہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اور کہا کہ تم سب اسی کے شاگرد معلوم ہوتے ہو اور تمہارا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعہ تم ہمیں یہاں سے بےدخل کردو۔
Ayahs 26:52–68آیت نمبر 52 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون کو بنی اسرائیل کے رات کو چلے جانے کی خبر دی گئی تو فرعون نے شہروں میں لشکر کو جمع کرنے والے بھیج دئیے بیان کیا گیا ہے کہ اس کے زیر تسلط ایک ہزار شہر اور بارہ ہزار دیہات تھے، یہ کہتے ہوئے کہ ان لوگوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ہے کہا گیا ہے ان کی تعداد چھ لاکھ اور ستر ہزار تھی، اور اس کے مقد الجیش کی تعداد سات لاکھ تھی، اپنے لشکر کی کثرت کے مقابلہ میں بنی اسرائیل کو قلیل قرار دیا (ورنہ توفی نفسہٖ وہ کثیر تھے) اور یہ کہ ان لوگوں نے ہم کو غصہ دلایا ہے یعنی ایسی حرکت کی ہے جس نے ہم کو غضبناک کردیا ہے بلاشبہ ہم سب چوکنے ہیں یعنی بیدار مغز ہیں (غافل نہیں ہیں) اور ایک قرأۃ حاذرونَ ہے یعنی مستعد ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا چناچہ ان کو یعنی فرعون اور اس کے لشکر کو مصر کے باغوں سے جو کہ (دریائے) نیل کے دونوں کناروں پر تھے اور چشموں سے یعنی ان نہروں سے جو نیل سے ان کے گھروں میں جاری تھیں، اور خزانوں سے یعنی سونے چاندی کے اموال ظاہرہ سے اور کنز کو کنز اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کیا گیا اور امراء اور وزراء کی عمدہ مجلسوں سے کہ جن مجلسوں کو ان کے خدام گھیرے ہوئے تھے نکال لائے، بیان کردہ طریقہ کے مطابق ہمارا نکالنا ہوا، فرعون اور اس کی قوم کے غرق ہونے کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان تمام چیزوں کا وارث بنادیا چناچہ قبطی طلوع شمس کے وقت اسرائیلیوں سے جا ملے، پس جب دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی کہنے لگے ہم تو پکڑے گئے یعنی فرعون کے لشکر نے ہم کو پکڑ لیا اور ہم میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہرگز نہیں یعنی وہ ہم کو ہرگز نہیں پکڑ سکتے (اس لئے) کہ یقین مانو میرے رب کی نصرت میرے ساتھ ہے، وہ عنقریب مجھ کو نجات کا راستہ بتادے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی دریا پر ماریں چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی ماری، اسی وقت دریا بارہ حصوں میں منقسم ہوگیا ہر حصہ عظیم پہاڑ کے مانند تھا اور ان بارہ حصوں کے درمیان راستے تھے جن میں وہ چلتے تھے اور بارہ قبیلوں میں سے نہ کسی سوار کے گھوڑے کی رین تر ہوئی اور نہ نمدہ، اور ہم نے دوسروں یعنی فرعون اور اس کی قوم کو اس موقعہ کے قریب پہنچا دیا حتی کہ وہ بھی ان کے راستوں میں داخل ہوگئے اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہیئت مذکورہ کے ساتھ دریا سے نکال کر نجات دیدی، بعد ازاں دوسروں کو غرق کردیا یعنی فرعون اور اس کی قوم کو جب دریا میں ان کا دخول اور اسرائیلیوں کا دریا سے خروج مکمل ہوگیا تو ان پر دریا کو ملا کر غرق کردیا بلاشبہ اس میں یعنی فرعون اور اس کی قوم کے غرق کرنے میں بعد والوں کے لئے عبرت کی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں لائے یعنی فرعون کی بیوی آسیہ اور آل فرعون کا ایک فرد جز قیل اور مریم بنت ناموسیٰ جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کی نشاندہی کی تھی، کے علاوہ کوئی ایمان نہیں لایا اور بلاشبہ آپ کا رب غالب ہے چناچہ کافروں سے ان کو غرق کرکے انتقام لے لیا اور مومنین پر بڑا مہربان ہے چناچہ ان کو غرق سے بچا لیا۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : شِرْذَمۃ چھوٹی جماعت (جمع) شِرَاذِم لشرذمۃ قلیلون قیاس کا تقاضہ یہ تھا کہ لشرذمۃ قلیلۃ ہوتا، اس لئے کہ قلیلۃ شرذمۃ کی صفت ہے مگر چونکہ شرذمۃ اسباط پر مشتمل تھا اور ہر سبط ان میں سے قلیل تھا اس لئے جمع کو مذکر جمع لایا گیا۔ (روح المعانی) اور قلیلون، اِنّ کی خبر ثانی بھی ہوسکتی ہے۔ قولہ : لجمیعٌ بمعنی جمعٌ ای جماعۃ یہ کلمہ الفاظ تاکید میں سے نہیں ہے کہ یہ اعتراض ہو سکے کہ حرف تاکید تابع ہو کر ہی استعمال ہوتا ہے اور یہاں تابع ہو کر استعمال نہیں ہوا۔ جواب کا ماحصل یہ ہے کہ کلمات تاکید میں سے نہیں بلکہ جماعت کے معنی میں ہیں لہٰذا کوئی اعتراض نہیں ہے۔
قولہ : وفی قرأۃ حاذرون ابو عبید نے کہا ہے حذِرُون اور حَاذرُون دونوں کے ایک ہی معنی ہیں ہوشیار، بیدار مغز، چوکنا، بعض حضرات نے یہ فرق بیان کیا ہے کہ حَذِرُون اس مخلوق کو کہتے ہیں جو پیدائشی طور پر چوکنے ہوتے ہیں جیسے کوا، اور حاذر اس کو کہتے ہیں کہ جو پیدائشی طور پر تو چوکنا نہ ہو مگر بعد میں چالاک و ہوشیار ہوگیا ہو۔ قولہ : مقام کریم مقام کریم سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، بعض حضرات نے عمدہ مکانات مراد لئے ہیں، اور بعض نے امراء و رؤساء کی مجالس مراد لی ہیں، جیسا کہ علامہ محلی نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔
قولہ : کذٰلک محل نصب میں بھی ہوسکتا ہے تقدیر یہ ہوگی اخر جناھم مثل ذٰلک الاخراج الذی وصفنا اور مقام کریم کی صفت ہونے کی وجہ سے محل جر میں بھی ہوسکتا ہے ای مقام کریم مثلٌ ذٰلک المقام الذی کان لھم اور مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع بھی ہوسکتا ہے ای الامر کذٰلک۔ قولہ : واَوْرَثناھا کا عطف فاخرجنا پر ہے۔ قولہ : وَمَا کان اکثرھم مومنین اکثرھم ان لوگوں کا اکثر مراد نہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں گئے تھے اس لئے کہ وہ تو سب کے سب غرق کر دئیے گئے بلکہ اکثر سے وہ لوگ مراد ہیں جو فرعون کے مسلک اور اس کے عقیدہ پر تھے اور فرعون کی طرف منسوب تھے، ان میں سے بعض لوگ ایمان بھی لائے تھے، جیسا کہ حز قیل اور فرعون کی بیٹی، اس کی بیوی آسیہ اور بنت ناموسیٰ جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر کی نشاندہی کی تھی اور سیویہ نے کان کو زائدہ کہا ہے۔
تفسیر و تشریح
وَاَوْحَیْنَا اِلیٰ مُوْسٰی جب بلاد مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قیام طویل ہوگیا اور ہر طرح سے انہوں نے فرعون اور اس کے درباریوں پر حجت قائم کردی لیکن اس کے باوجود وہ ایمان لانے کے لئے آمادہ نہیں ہوئے تو اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ انہیں عذاب و نکال سے دو چار کرکے سامان عبرت بنادیا جائے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو یہاں سے لیکر نکل جائیں اور فرمایا کہ فرعون تمہارے پیچھے آئے گا گھبرانا نہیں۔
اسرائیلیوں کو فرعون نے شِرْذَمَۃٌ قلیلونَ تحقیر کے لئے کہا تھا ورنہ ان کی تعداد چھ لاکھ سے بھی زیادہ تھی وَاِنَّھُمْ لنا غَائِظُوْنَ ، لَنا کی تقدیم حصر اور رعایت فواصل کیلئے ہے، اصل میں انھم غائظون لنا ہے، یعنی اول تو یہ میری اجازت کے بغیر چلے گئے، دوسری بات یہ ہے کہ قبطیوں کے زیورات دھوکے سے لے گئے یہ دونوں حرکتیں ایسی ہیں کہ جس نے ہم کو غیض و غضب میں مبتلا کردیا ہے
فاخرجناھم من جنّٰتٍ وعیون یعنی فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں کیا نکلا کہ پھر پلٹ کر اپنے گھروں اور باغات میں آنا ہی نصیب نہ ہوا، یوں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور مشیئت سے انہیں تمام نعمتوں سے محروم کرکے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا، بعض حضرات نے اَوْرَثْنٰھَا بنِی اِسْرَائِیْلَ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہم نے مصر جیسا اقتدار اور دنیوی جاہ و جلال بنی اسرائیل کو بھی عطا کیا، کیونکہ بنی اسرائیل مصر سے نکل جانے کے بعد مصر واپس نہیں آئے نیز سورة دخان میں فرمایا گیا ہے وَاَوْثْنٰھَا قوماً آخرین کہ ہم نے اس کا وارث کسی دوسری قوم کو بنادیا (ایسر التفاسیر) بعض اہل علم یہ کہتے ہے کہ قومًا آخرین میں قوم کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں یعنی سورة شعراء میں جب بنی اسرائیل کو وارث بنانے کی صراحت موجود ہے تو اس سے مراد بھی قوم بنی اسرائیل ہی ہوگی، مگر قرآن کی صراحت کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل کو ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا اور ان کے انکار پر چالیس سال کے لئے یہ داخلہ مؤخر کرکے میدان تیہ میں بٹھکایا گیا پھر وہ ارض مقدس میں داخل ہوئے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر حدیث اسراء کے مطابق بیت المقدس کے قریب ہی ہے، اس لئے صحیح معنی یہی ہیں کہ جیسی نعمتیں آل فرعون کو مصر میں حاصل تھیں ویسی ہی نعمتیں اب بنو اسرائیل کو عطا کی گئیں، لیکن مصر میں نہیں فلسطین میں۔ (واللہ اعلم بالصواب)
جب صبح کو فرعون کو معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل یہاں سے رواتوں رات نکل گئے ہیں تو اس کے پندار اقتدار کو بڑی ٹھیس پہنچی اور سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا، جب فرعونی لشکر بالکل قریب آگیا تو پوری قوم بنی اسرائیل چلا ٹھی انا لمدرکون ہم تو یقیناً پکڑے گئے اور پکڑے جانے میں شبہ ہی کیا تھا آگے سمندر ہے اور پیچھے لشکر فرعون اور یہ صورت حال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی پوشیدہ نہیں تھی مگر وہ کوہ استقامت اللہ کے وعدہ پر یقین کئے ہوئے تھے اس وقت بڑی خود اعتمادی کے ساتھ فرمایا کَلاَّ ہرگز ہم پکڑے نہیں جاسکتے، اور اس کی وجہ یہ بتلائی کہ اِنّ معیَ رَبِّی سیھدیِن میرے ساتھ میرا پروردگار ہے جو مجھے عنقریب راستہ دے گا، ایمان کا امتحان ایسے ہی موقعوں میں ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ذرا بھی خوف وہر اس نہیں تھا وہ گویا کہ بچنے کا راستہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، بعینہٖ اسی طرح کا واقعہ ہجرت کے وقت غار ثور میں چھپنے کے وقت رسول کریم ﷺ کو پیش آیا تھا کہ دشمن جو آپ کے تعاقب میں تھے اس غار کے دہانے پر آکھڑے ہوئے ذرا نیچے نظریں کریں تو آپ پر ان کی نظریں پڑجائیں، اس وقت ابوبکر صدیق کو گھبراہٹ ہوئی تو آپ نے بعینہٖ یہی جواب دیا لاَتَحْزَنْ اِنّ اللہَ مَعَنَا غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہی ان دونوں واقعات میں ایک خاص بات یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دینے کے لئے اِنّ مَعِیَ رَبِّی فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے اِنّ اللہَ معَنَا فرمایا، یہ امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ اس کے افراد بھی اپنے رسول کے ساتھ معیت الٰہیہ سے سرفراز ہیں۔ چناچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس طرح رہنمائی فرمائی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو حضرت موسیٰ علیہ نے لاٹھی ماری تو پانی دونوں طرف رک گیا اور ان دونوں کے بیچ میں بارہ قبیلوں کے اعتبار سے بارہ راستے بن گئے، غرضیکہ فرعون معنہ اپنے لشکر کے غرق دریا ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع اپنی قوم کے نجات پاگئے، یہ سب کچھ تائید الٰہی سے ہوا تائید الٰہی کے بغیر ممکن نہ تھا، اس واقعہ میں یقیناً بڑی عبرت ہے مگر پھر بھی اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔