Ayahs 25:1–9بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے، برکت والی برتر ہے وہ ذات جس نے فرقان یعنی قرآن اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا قرآن کو فرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، تاکہ عالم والوں یعنی انسانوں اور جنوں کے لئے نہ کہ فرشتوں کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہو ایسی ذات کہ اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے پھر اس کو اچھی طرح درست کیا اور کفار نے اللہ کو چھوڑ کر اس کے غیر کو معبود بنا لیا وہ بت ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور وہ خود اپنے لئے نہ کسی نقصان یعنی اس کو دفع کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی نفع کا یعنی اس کو حاصل کرنے کا اور نہ کسی کے مرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ جینے کا یعنی نہ کسی کو مارنے کا اور نہ کسی کو زندہ کرنے کا اور دوبارہ زندہ کرنے کا یعنی نہ مردوں کو زندہ کرنے کا اور کافر لوگ قرآن کے بارے میں یوں کہتے ہیں یہ قرآن کچھ بھی نہیں نرا جھوٹ ہے جس کو اس شخص محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس گھڑنے میں اس کی مدد کی ہے اور وہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ ہیں سو یہ لوگ بڑے ظالم اور جھوٹ کے مرتکب ہوئے کفر اور کذب کے، یعنی دونوں کا ارتکاب کیا اور یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن پہلے لوگوں کے خرافاتی قصے ہیں یعنی جھوٹ کا پلندہ ہے (اَسَاطیر) اُسْطُوْرَۃٌ بالضم کی جمع ہے ان خرافاتی قصوں کو اس قوم (یہود) سے کسی دوسرے کے ذریعہ نقل کرا لیتے ہیں پھر وہی خرافاتی قصے اس کو صبح و شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تاکہ ان کو محفوظ کرلے، ان پر رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہہ دیجئے اس (قرآن) کو تو اس ذات پاک نے نازل کیا ہے جس کو آسمانوں اور زمین کی مغیبات کا علم ہے واقعی اللہ تعالیٰ مومنین کے لئے غفور ان کے لئے رحیم ہے اور یہ کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا کہ وہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا ؟ وہ اس کے ساتھ رہ کر (لوگوں) کو ڈراتا اس کی نبوت کی تصدیق کرتا یا آسمان سے اس کے پاس کوئی خزانہ آپڑتا جس سے اس کو فائدہ ہوتا اور طلب معاش کے لئے بازاروں میں (مارا مارا) نہ پھرتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا کہ اس سے یعنی اس کے پھلوں کو کھاتا اور اس پر اکتفا کرتا، اور ایک قرأۃ میں (یَاْکُلُ ) کے بجائے نَاکُلُ نون کے ساتھ ہے یعنی ہم کھاتے، جس کی وجہ سے ہم پر اس کو ایک قسم کی فوقیت حاصل ہوتی اور یہ ظالم کافر مومنین سے یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ ایک سحر زدہ فریب خوردہ مغلوب العقل شخص کے پیچھے چل رہے ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھو تو سہی یہ لوگ آپ کے لئے کیسی عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں سحر زدہ ہونے کی، خرچہ کا محتاج ہونے کی اور فرشتہ کا محتاج ہونے کی تاکہ اس کے ساتھ ذمہ داری میں شریک ہو، اسی (ضرب الامثال کی وجہ سے) راہ ہدایت سے گمراہ ہوگئے کسی طرح راہ حق پر نہیں آسکتے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
سورة فرقان مکی ہے مگر تین آیتیں (یہ سورة ) ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی تمام سورتوں کے نام اور ان کی ترتیب اور آیات کی ترتیب توقیفی ہے البتہ آیات کی تعداد توقیفی نہیں ہے، یہ سورة توحید اور احوال معاد کے مضامین پر مشتمل ہے (جمل) ۔
قولہ : الیٰ رحیماً یہ کل تین آیتیں ہیں۔ قولہ : تاعلیٰ یہ تَبَارَکَ کی تفسیر ہے یعنی اللہ اپنی ذات وصفات اور افعال میں اپنے ماسوا سے برتر ہے تَبَارَکَ (تفاعل) کی ماضی ہے اس کا مصارع اسم فاعل اور مصدر مستعمل نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کے لئے مستعمل ہے، برکت کے معنی نمو اور زیادتی کے ہیں خواہ حساً ہو یا معنیً (جمل) ۔
قولہ : لأنَّہٗ فَرَّقَ بین الحق والباطل یہ قرآن کو فرقان کہنے کی علت ہے قرآن نے چونکہ حق و باطل کے درمیان فرق کردیا ہے اس لئے اس کا نام فرقان رکھا گیا ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ فرقان اس لئے کہا جاتا ہے کہ قرآن متفرق طور پر 23 سال کی مدت میں نازل ہوا ہے اسی وجہ سے قرآن کے بارے میں نَزَّلَ کہا گیا ہے جو کہ تکثیر تفریق پر دلالت کرتا ہے (جمل) ۔
قولہ : لِیَکونَ یہ نزول کی علت ہے اس کے اندر جو ضمیر ہے وہ عبدٌ کی طرف راجع ہے اس لئے کہ وہ قریب ہے، فرقان کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے اور منزل یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے۔ قولہ : للعلمین، نَذِیرًا کے متعلق ہے فواصل کی رعایت کی وجہ سے مقدم کردیا گیا۔ قولہ : مِن شانہٖ اَنْ یُّخلَقَ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ذات باری تعالیٰ کو مخلوق ہونے سے خارج کرنا ہے اس لئے کہ ذات باری تعالیٰ شئ ہے اس لئے کہ اگر شئ نہ مانا جائے تو لاشئ ماننا ہوگا ورنہ تو ارتفاع نقیضین لازم آئے گا لہٰذا شئ ماننا ضروری ہے جب ذات باری تعالیٰ کا شئ ہونا ثابت ہوگیا تو خَلَقَ کل شئ میں داخل ہوگیا اور جب خَلَقَ کل شئ میں داخل ہوگیا تو ذات باری کا مخلوق ہونا ثابت ہوگیا اور یہ محال ہے، اسی اعتراض کو دفع کرنے کے لئے مفسر علام نے مِن شانہٖ اَنْ یُخْلَقَ کا اضافہ فرمایا ہے۔
جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ تخلیق کہتے ہیں عدم سے وجود میں لانے کو اور عدم سے وجود میں وہ شئ آسکتی ہے جو معدوم ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان معدوم ہونا نہیں ہے، اس لئے کہ ذات باری پر کبھی بھی عدم طاری نہیں ہوا، لہٰذا ذات باری مخلوق ہونے سے خارج ہوگئی۔ قولہ : سَوَّاہ تَسْوِیَۃً اس عبارت کے اضافہ کا مقصد بھی ایک اعتراض کا دفعیہ ہے، اعتراض یہ ہے کہ وخَلُقَ کُلَّ شئ فقدَّرَہٗ تقدیراً میں قلب ہے اس لئے کہ اصل میں وَقَدَّرَہٗ فَخَلَقَ کُلَّ شئ ہونا چاہیے، اس لئے کہ تقدیر ازلی ہے اور تخلیق حادث ہے، اس لئے کہ تقدیر کے معنی مقدر کرنا اندازہ کرنا، پلاننگ کرنا اور خلق کے معنی بنانا، ظاہر ہے کہ تقدیر اور پلاننگ پہلے ہوتی ہے اور اس کے مطابق بعد میں تخلیق ہوتی ہے جیسے کہ مکان کا نقشہ پہلے بنتا ہے مکان بعد میں بنتا ہے، نہ یہ کہ مکان پہلے بنتا ہے اور نقشہ بعد میں، تو معلوم ہوا آیت میں رعایت فواصل کے لئے قلب ہوا ہے۔
جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آیت میں قلب نہیں ہے بلکہ قَدَّرَہٗ تقدیرًا سَوَّاہٗ تَسْوِیَۃً کے معنی میں ہے اور تَسْوِیَّۃَ کہتے ہیں کسی شئ
کے بنانے کے بعد درست کرنا کمی اور کجی کو دور کرنا، مضبوط کرنا، یعنی نوک پلک درست کرنا، اور یہ تخلیق کے بعد ہوتا ہے، لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : بِھمَا اس سے اشارہ ہے کہ ظلماً وزوراً بنزع الخافض منصوب ہے، تقدیر عبارت اس طرح تھی جَاؤُا بظلمٍ وزُوْرٍ حرف جار کو حذف کردیا جس کی وجہ سے منصوب ہوگیا، شارح (رح) نے اسی کو اختیار کیا ہے اور بعض حضرات کے نزدیک جاءَ واَتٰی متعدی بنفسہٖ بھی ہیں، اس صورت میں ظلماً وزوراً مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہوں گے۔
قولہ : ھُوَ اسَاطِیْرُ الَاوَّلِیْنَ اساطیر الاولین ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے جیسا کہ شارح نے اختیار کیا ہے اور اِکْتَتَبَھَا محل میں حال کے ہے، اور یہ بھی صحیح ہے کہ اَسَاطِیْرُ الاَوَلین مبتدا ہو اور اِکْتَتَبَھَا اس کی خبر، قولہ : مَال ھٰذا الرَّسول لِھٰذا کے لام کو الگ لکھا گیا ہے جو کہ عام عربی رسم الخط کے خلاف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا رسم الخط مصحف عثمانی کے مطابق ہے لہٰذا اس میں تغیر نہیں کیا جاتا۔ قولہ : فَیَکُوْنَ یہ چونکہ لولا بمعنی ھَلاَّ (جس کا حکم استفہام کا ہے) کا جواب ہے اس لئے منصوب ہے وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اسم ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو ان کی صفت ظلم کو اجاگر کرنے کے لئے لایا گیا ہے ورنہ تو وَقَالُوْا کہنا بھی کافی ہوتا۔
تفسیر و تشریح
فرقان کے معنی ہیں فیصلہ کن، فرقان قرآن کریم ہی کا لقب ہے، قرآن کریم حق و باطل میں فیصلہ کرنے والی آخری کتاب ہے، اور تمام جہاں کی ہدایت و اصلاح کی کفیل ہے اور ان کو خیر کثیر اور غیر منقطع برکت عطا کرنے کا سامان بہم پہنچانے والی ہے۔ قولہ : علیٰ عبدہٖ یہاں آپ کا نام لینے کے بجائے عبدہٖ فرمایا چونکہ آپ ﷺ اپنی صفت عبدیت میں کامل و اکمل تھے اس لئے گویا کہ عبداللہ آپ کا لقب ہی ہوگیا، قرآن کریم سارے جہاں کو کفر و عصیان کے انجام بد سے آگاہ کرنے والا ہے، چونکہ اس صورت میں مکذبین و معاندین کا ذکر بکثرت ہوا ہے شاید اسی لئے یہاں صفت نذیر کو بیان فرمایا، بشیر کا ذکر نہیں کیا۔
آپ ﷺ کی بعثت : قرآن کریم نے آپ ﷺ کی بعثت کو عالمین کے لئے فرمایا ہے، یہ بات تو متفق علیہ ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت انبیاء سابقین کے برخلاف سارے جہان کے لئے ہے انبیاء سابقین کی بعثت علاقائی یا قومی تھی مگر آپ ﷺ کی بعثت علاقائی یا قومی نہیں ہے بلکہ عالمگیر ہے، اور آپ تمام جنوں اور انسانوں کے لئے ہادی اور رہنما بنا کر بھیجے گئے ہیں، قرآن کریم میں سورة اعراف میں فرمایا گیا قُل یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّی رسُوْلُ اللہِ الیکُمْ جَمِیْعًا اور حدیث میں بھی فرمایا بُعِثتُ الی الاحمر والاسود (صحیح مسلم کتاب المساجد) مجھے احمر و اسود سب کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔
آپ کی بعثت ملائکہ کی طرف : اس میں تو کوئی اختلاف نہیں کہ آپ کی بعثت جن و انس کے لئے ہے اختلاف اس بات میں ہے کہ آپ کی بعثت ملائکہ کی طرف ہے یا نہیں، اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ آپ کی بعثت ملائکہ کی طرف نہیں ہے علامہ جلال الدین محلی کی بھی یہی رائے ہے جیسا کہ تفسیر سے ظاہر ہے، حلبی اور بیہقی نے بھی یہی فرمایا ہے، امام رازی نے اسی آیت کی تفسیر میں اسی رائے پر اجماع نقل کیا ہے، البتہ امام سبکی نے کہا ہے کہ عالم ما سوی اللہ کو کہتے ہیں جس میں جن و انس و ملائکہ سب داخل ہیں لہٰذا عالمین کا لفظ ملائکہ کو بھی شامل ہوگا، ملائکہ کو خارج کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ قولہ : ولَمْ یتخذہٗ ولدًا سے یہود و نصاریٰ پر رد ہے اور وَلَمْ یکُنْ لَہٗ شَرِیْکٌ فِی المُلْکِ سے مشرک اور بت پرستوں پر رد ہے فَقَدَّرَہٗ تقدیراً ہر شی کو ایک خاص اندازہ میں رکھا کہ اس سے وہی خواص و افعال ظاہر ہوتے ہیں جن کے لئے پیدا کی گئی ہے، اپنے دائرہ سے باہر قدم نہیں نکال سکتی اور نہ اپنی حدود میں عمل و تصرف کرنے سے قاصر رہتی ہے وَاتَّخذُوْا مِنْ دُوْنِہِ آلِھَۃً کس قدر ظلم اور تعجب و حیرت کا مقام ہے کہ ایسے قادر مطلق مالک الکل، حکیم علی الاطلاق کی زبردست ہستی کو کافی نہ سمجھ کر دوسرے معبود اور حاکم تجویز کر لئے گئے، حالانکہ ان بیچاروں کا خود اپنا وجود بھی اپنے گھر کا نہیں وہ ایک ذرہ کے پیدا کرنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے، اور نہ مارنا جلانا ان کے قبضہ میں ہے اور نہ اپنے مستقل اختیار سے کسی کو ادنیٰ نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں، ایسی عاجز اور مجبور ہستیوں کو خدا کا شریک ٹھہرانا کس قدر سفاہت اور بےحیائی ہے۔
ربط : یہ تو قرآن نازل کرنے والے کی صفات کا ذکر تھا اور اس کے متعلق مشرکین جو بےتمیزیاں کر رہے تھے ان کی تردید تھی، آگے خود قرآن اور حامل قرآن کی نسبت سفیہانہ نکتہ چینیوں کا جواب ہے، وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ ھٰذَا اِلاَّ اِفْکً اِفْتَرَاہٗ الآیۃ۔ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ کا یہ کہنا کہ یہ خدا کا نازل کردہ کلام ہے اور میں اس کا نبی ہوں سب کہنے کی باتیں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ محمد نے چند یہودیوں کی مدد سے ایک کلام تیار کرلیا ہے اور اس کو خدا کی طرف منسوب کردیا ہے اور کچھ لوگ اس کے ساتھ لگ گئے ہیں جنہوں نے اس کی تشہیر شروع کردی ہے اس قول کا قائل نضر بن حارث تھا، مشرکین کے اس قول کو رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اور ظلم و جھوٹ کیا ہوگا کہ ایسے کلام معجز کو کہ جس کی عظمت و صداقت آفتاب سے زیادہ روشن ہے کذب و افتراء کہا جائے، کیا چند یہودی غلاموں کی مدد سے ایسا کلام بنایا جاسکتا ہے جس کے مقابلہ سے تمام دنیا کے فصیح وبلیغ، عالم و حکیم بلکہ جن و انس ہمیشہ کے لئے عاجز ہوجائیں۔
مشرکین کا یہ بھی کہنا تھا محمد ﷺ نے اہل کتاب سے کچھ خرافاقی قصہ سن کر نوٹ کرا لئے ہیں وہی باتیں ان کے سامنے شب و روز پڑھی اور رٹی جاتی ہیں، نئے نئے اسلوب سے ان ہی کی الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے قل انزلہ الذی یَعْلَمُ السرّ الآیۃ یعنی آپ فرما دیجئے کہ یہ کتاب کسی ایک انسان یا کمیٹی کی بنائی ہوئی نہیں، بلکہ اس خدا کی اتاری ہوئی کتاب ہے جس کے احاطہ علمی سے زمین و آسمان کی کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ (فوائد عثمانی)
سابقہ آیات میں مشرکین کا وہ کلام ذکر کیا گیا ہے جو وہ قرآن کے بارے میں کہا کرتے تھے اور اب وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسول سے ان خرافات کا بیان ہے جو آپ ﷺ کی شان میں کہا کرتے تھے مشرکین کا یہ طعن آپ ﷺ کی بشریت پر ہے کیونکہ ان کے خیال میں بشریت عظمت رسالت کی متحمل نہیں تھی اسلئے انہوں نے کہا یہ کیسا رسول ہے یہ تو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں گھومتا پھرتا ہے اور ہمارے ہی جیسا بشر ہے یعنی ہم پر بھی اس کو کوئی فضیلت و فوقیت حاصل نہیں ہے مطلب یہ کہ نہ ملک ہے اور نہ ملِک، تو یہ رسول کیسے ہوسکتا ہے ؟
لَولا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ یعنی فرشتوں کی فوج نہ ہی کم از کم ایک فرشتہ ان کی نبوت کی شہادت دینے کے لئے ساتھ رہتا جسے دیکھ کر خواہ مخواہ لوگوں کو جھکنا پڑتا، یہ کیا کہ کس مپرسی کی حالت میں اکیلے ہی دعوائے نبوت کرتے پھر رہے ہیں، یا اگر فرشتہ بھی ہمرای نہ ہو تو کم از کم آسمان سے سونے چاندی کا کوئی غیبی خزانہ مل جاتا کہ لوگوں پر بےدریغ خرچ کرکے ہی اپنی طرف کھینچ لیا کرتے، اور خیر یہ بھی نہ سہی معمولی رئیسوں اور زمینداروں کی طرف انگوروں اور کھجوروں وغیرہ کا ایک باغ تو ان کی ملک میں ہوتا، دوسروں کو نہ دیتے مگر کم از کم خود تو بےفکری سے کھایا پیا کرتے جب اتنا بھی نہیں تو کس طرح یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے عہدہ جلیلہ کے لئے معاذ اللہ ایسی معمولی شخصیت کو منتخب کیا ہے ؟
قَالَ الظّٰلِمُوْنَ مطلب یہ ہے کہ میاں کی یہ یوزیشن اور حیثیت ؟ اور اتنے اونچے دعوے ؟ بجز اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ عقل کھوئی گئی ہے، یا کسی نے جادو کے زور سے عقل مختل کردی ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔ (العیاذ باللہ) (فوائد عثمانی)
اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الَامْثَالَ یعنی کبھی کہتے ہیں کہ یہ خدا پر افتراء ہے، کبھی کہتے ہیں کہ دوسروں سے پڑھ سیکھ کر لوگوں کو سناتے ہیں، اور کبھی آپ کو سحر زدہ کہتے ہیں اور کبھی ساحر اور کبھی کاہن تو کبھی شاعر تو کبھی مجنون، یہ اضطراب خود بتلا رہا ہے کہ ان میں سے کوئی بات آپ پر منطبق نہیں اور یہ محض الزام ہی الزام ہے، لہٰذا جو لوگ نبی کی شان میں گستاخیاں کرکے گمراہ ہوگئے ہیں ان کے راہ راست پر آنے کی کوئی توقع نہیں۔
Ayahs 25:10–20آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : اللہ کی ذات تو بڑی عالی شان ہے یعنی خیر کثیر والی ہے اگر وہ چاہے تو ان کے بیان کردہ باغ اور خزانہ سے بہتر باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں یعنی دنیا میں (عطا کردے) اس لئے کہ آخرت میں ایسے باغات آپ ﷺ کو عطا کرنا تو اس کی مشیت میں ہے ہی، اور آپ کو بہت سے محل (بھی) دیدے یَجْعَلْ لام کے جزم کے ساتھ اور ایک قرأۃ میں (یَجْعَلُ ) رفع کے ساتھ ہے، جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اور قیامت کو جھوٹ سمجھنے والوں کیلئے ہم نے دہکتی ہوئی شدید آگ تیار کر رکھی ہے جن ان کو وہ آگ دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ اس کا جوش خروش سنیں گے یعنی غضبناک کے مانند اس کا جوش جبکہ غضبناک کا سینہ غضب کی وجہ سے جوش مارے زَفِیْرًا شدید آواز کو کہتے ہیں یا غیض کو سننے سے مطلب اس کا دیکھنا اور جاننا ہے اور جب وہ اس (جہنم) کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈالدئیے جائیں گے ضیّقاً یا کی تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے اس طریقہ سے کہ وہ مکان ان پر تنگ ہوجائے گا اور مِنْھَا مکانًا سے حال ہے اس لئے کہ منھا اصل میں مکاناً کی صفت ہے مُقَرَّنِیْنَ بمعنی مُصَفَّدِیْنَ ایسے بندھے ہوئے کہ ان کے ہاتھوں کو ان کی گردن کے ساتھ طوق میں باندھ دیا گیا اور تشدید معنی کی کثرت کو بیان کرنے کے لئے ہے، تو وہاں موت کو پکاریں گے تو ان سے کہا جائے گا ایک موت کو نہ پکارو عذاب کی وجہ بہت سی موتوں کو پکارو آپ کہئے یہ وعید اور صفت نار کی حالت جس کا ذکر ہوا اچھی ہے ؟ یا ہمیشہ کی وہ جنت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ یہ (جنت الخلد) ان کے لئے اللہ کے علم میں جزاء ثواب (صلہ) ہے اور ان کا ٹھکانا ہے، اور ان کو وہاں وہ سب چیزیں ملیں گی جو وہ چاہیں گے وہ ہمیشہ رہیں گے (خٰلِدینَ ) حال لازمہ ہے، ان سے کیا ہوا مذکورہ وعدہ تیرے رب کا ذمہ ہے لہٰذا جس سے وعدہ کیا گیا ہے وہ اس سے مطالبہ کرسکتا ہے (یعنی سائل اپنے سوال میں کہہ سکتا ہے) رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلیٰ رُسُلِکَ اے ہمارے پروردگار تو ہم کو وہ چیز عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسول کی زبانی وعدہ فرمایا، یا اس وعدہ کے ایفاء کا، ان کے لئے فرشتے اس طرح سوال کریں گے ربنا واَدْخِلْھُمْ جَنّٰتِ عَدْنٍ التی وعدتھم اے ہمارے پروردگار تو ان کو قیام کے قابل اس جنت میں داخل فرما، جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جس روز اللہ تعالیٰ ان کو نحشرھم نون کے ساتھ اور یاء کے ساتھ ہے اور جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے تھے جمع کرے گا غیر اللہ سے مراد ملائکہ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور عزیر ( علیہ السلام) اور جن ہیں پھر معبودین سے عابدین پر حجت تام کرنے کے لئے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا ؟ ان کو اپنی عبادت کا حکم دے کر تم نے ان کو گمراہی میں ڈالا تھا ؟ یا وہ خود ہی راہ حق سے بھٹک گئے تھے ؟ فیَقُوْلُ یا اور نون کے ساتھ ہے ءَاَنْتُمْ دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کو الف سے بدل کر اور ثانی کی تسہیل اور مسہلہ اور دوسرے کے درمیان الف داخل کرکے اور ترک ادخال الف کرکے تو وہ عرض کریں گے معاذ اللہ تیرے لئے ہر چیز سے پاکی ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ہے ہمارے لئے یہ ہرگز درست نہیں تھا کہ ہم تیرے علاوہ کسی کو کو رساز بنائیں مِنْ اَوْلیاء مفعول اول ہے اور مِن زائدہ نفی کی تاکید کے لئے ہے اور اس کے ماقبل مفعول ثانی ہے تو پھر ہم کیسے اپنی عبادت کا حکم کرسکتے تھے ؟ لیکن آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں درازی عمر اور وسعت رزق کے ذریعہ آسودگی عطا فرمائی یہاں تک کہ یاد کو بھلا بیٹھے یعنی نصیحت اور قرآن پر ایمان کو ترک کردیا یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے اللہ تعالیٰ فرمائے گا لو انہوں نے تو تم کو تمہاری تمام باتوں میں جھٹلا دیا یعنی تمہارے معبودوں نے تمہاری تکذیب کردی، تقولون تائے فوقانیہ کے ساتھ (یعنی) تمہارے اس قول میں کہ وہ معبود ہیں اب نہ تو تم میں (اور نہ ان میں) عذاب کو دفع کرنے کی طاقت ہے اور نہ مدد کی یعنی اس عذاب سے اپنی مدد کرنے کی تم میں سے جس جس نے ظلم یعنی شرک کیا ہے ہم ان کو بڑا عذاب یعنی آخرت میں شدید عذاب چکھائیں گے اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے لہٰذا آپ ان ہی جیسے ہیں ان باتوں میں، اور آپ سے وہی سب کچھ کہا جا رہا ہے جو ان سے کہا گیا تھا اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا غنی کو فقیر کے ذریعہ آزمایا گیا اور تندرست کو مریض کے ذریعہ اور شریف کو رذیل کے ذریعہ، ثانی ہر بات میں کہتا ہے کیا وجہ ہے کہ میں ہر معاملہ میں اول جیسا نہیں ہوں ؟ کیا تم ان باتوں پر صبر کرو گے جن کو تم ان لوگوں سے سنتے ہو جن کے ذریعہ تم کو آزمایا گیا ہے استفہام بمعنی امر ہے یعنی صبر کرو، تیرا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے کون صبر کرتا ہے ؟ اور کون بےصبری کرتا ہے ؟
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : تبٰرَکَ تبارک ایسا وصف ہے جو تمام اوصاف کمال کو جامع اور تمام صفات نقص کی نفی کو مستلزم ہے اسی وجہ سے موقع کی مناسبت سے اس کی تفسیر مختلف کی گئی ہے، ابتداء سورت میں چونکہ مقام تنزیہ تھا لہٰذا وہاں تعالیٰ سے تفسیر کی گئی اور یہاں چونکہ مقام عطا ہے کثرت خیر سے تفسیر کی گئی اور آخر سورت میں چونکہ مقام عظمت و کبریاء ہے لہٰذا تَعَاظَمَ سے تفسیر کی گئی ہے۔
قولہ : تبَارَکَ فعل ماضی اَلَّذِیْ حذفِ مضاف کے ساتھ تبارک کا فاعل، ای تَبَارَکَ خَیْرُ الَّذِیْ ۔ قولہ : جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الَانْھٰر خیراً سے بدل ہے، اور خیر اور بہتر ہونے کی وجہ ظاہر ہے اس لئے مشرکین نے جس باغ کے بارے میں کہا تھا وہ مطلق تھا اس میں تعدد اور جریان انہار کی کسی کی قید نہیں تھی، اور بعض حضرات کے نزدیک خَیْرًا سے عطف بیان بھی ہوسکتا ہے، اور بعض حضرات نے اعنی مقدر کی وجہ سے جَنّٰتٍ کو منصوب قرار دیا ہے اور تَجْرِیْ مِنْ تَحتِھَا الَانْھَارُ ، جَنّٰتٍ کی صفت قرار دیا ہے۔ قولہ : لِاَنَّہٗ الخ مفسر علام لِاَنَّہٗ سے فی الدنیا کی قید کے ساتھ مقید کرنے کی علت بیان کر رہے ہیں، علت کا خلاصہ یہ ہے اِنْ شَاءَ جَعَلَ لَکَ خَیْرًا میں خیریت کو مشیئت پر معلق کرنا دنیا کے اعتبار ہی سے صحیح ہے، ورنہ تو آخرت میں تو محقق ہے ہی۔ قولہ : یَجْعَلْ جزم کے ساتھ جَعَلَ کے محل پر عطف کرتے ہوئے جو کہ شرط کی جزاء واقع ہے لہٰذا مجزوم پر جس کا عطف ہوگا وہ بھی مجزوم ہوگا وفی قرأۃ بالرفع جواب شرط پر عطف کرتے ہوئے جواب شرط کو استیناف کی وجہ سے مرفوع مانتے ہوئے شرط جب ماضی ہو تو جزاء میں رفع اور جزم دونوں جائز ہوتے ہیں، لہٰذا جزاء پر جو معطوف ہوگا اس میں بھی دونوں اعراب جائز ہوں گے اس لئے کہ شرط جب ماضی ہوتی ہے تو صرف شرط کی تاثیر جزاء میں کمزور ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے جزاء میں جزم اور رفع دونوں جائز ہوجاتے ہیں، ابن مالک نے کہا ہے وبعد ماض رفعُکَ الجزاء اَحْسَنُ جزم اور رفع کی دونوں قرأتیں سبعیہ ہیں۔ قولہ : غَلمیانا تَغَیُّظًا کی تفسیر غلیاناً سے کرنے کا مقصد ایک اعتراض کا جواب دینا ہے، اعتراض یہ ہے غیظ تو سننے کی چیز نہیں ہے وہ تو دیکھنے کی چیز ہے، جواب دیا یہاں غیظ سے مراد غلیان (جوش مارنا) جو سنا جاسکتا ہے لہٰذا اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : وسماع التغیظ رویتہ علمہٗ مذکور اعتراض کا یہ دوسرا جواب ہے، اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ سماع تغیظ سے مراد رویت اور علم ہے جو تغیظ میں ممکن ہے، بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ تقدیر عبارت اس طرح ہے سَمِعُوْا وَرَأوا تغیظًّا وزفیراً لہٰذا رَأوا کا تعلق تغیظ سے اور سمعوا کا تعلق زفیرًا سے ہوگا، بعض حضرات نے سماع مطلقاً ادراک کے معنی میں لیا ہے اس صورت میں سمِعُوْا کا تعلق تغیظ اور زفیر دونوں سے صحیح ہوگا (جمل) ۔
قولہ : القوا منھا مکاناً مِنْھَا مَکَانًا کی صفت ہے اور نکرہ کی صفت کو جب مقدم کردیا جاتا ہے تو وہ حال ہوجاتی ہے۔ قولہ : مُقَرّنِیْنَ اُلْقُوْا کی ضمیر سے حال ہے مُصَفَّسِیْنَ اور مُصْفَدِیْنَ (ض) دونوں درست ہیں اس کے معنی باندھنے جکڑنے، مشکیں کسنے کے ہیں، صَفَا بیڑی کو کہتے ہیں۔ قولہ : دَعَوْا ھُنَالِکَ اِذَا اُلْقُوْا کی جزاء ہے ھَنَالِکَ سے مراد مقام ضیق ہے۔ قولہ : ثبوراً فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے ای ثبرنا ثبورًا بعض حضرات نے کہا ہے دَعَوْا کا مفعول لہ ہے۔ قولہ : لِعذَابِکُمْ ای لاجل دوام عذابکم وکثرتہٖ ینبغی ان یکون دعائکم علی حسبہ یعنی جس طرح تمہارا عذاب دائمی اور متعدد قسم کا ہے اسی حساب سے تم اپنی ہلاکت کو پکارتے رہو، اور بعض نسخوں میں کعذابکم ہے، یہ کثرت میں تشبیہ ہے، اور دعاء ثبور سے مراد موت کی تمنا کرنا ہے۔ قولہ : ھَا صلہ چونکہ جملہ ہے اس لئے مفسر علام نے ھَا ضمیر کو مقدر مان کر رابط کی طرف اشارہ کردیا۔ قولہ : اَذٰلک خیزّ اَمْ جنۃُ الخلد وعید اور نار زیادہ بہتر ہے یا جنۃ الخلد، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نار میں بھی خیر ہے حالانکہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے، جواب قرآن کریم میں خیرٌ اسم تفضیل اکثر اسم فاعل کے معنی میں مستعمل ہے لہٰذا کوئی شبہ نہیں، دوسرا جواب یہ ایسا ہی ہے کہ سید اپنے غلام کو کچھ رقم دے جس کی وجہ سے غلام شرارت اور سرکشی شروع
کر دے، جس کے نتیجے میں سید غلام کو مارتے ہوئے کہے ھٰذا خیرٌ اَمْ ذَاک۔
سوال : جنۃ دار الخلد ہی کو کہتے ہیں تو پھر خلد کی قید کا کیا فائدہ ہے ؟
جواب : اضافت کبھی تو تبیین کے لئے ہوتی ہے، اور کبھی صفات کمال کے بیان کے لئے ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول الخالق الباری یہ اسی قبیل سے ہے۔ قولہ : فی علمہٖ تعالیٰ اس عبارت سے اس شبہ کا جواب مقصود ہے کہ جزاء اور مصیز آئندہ حشر و نشر کے بعد ہوں گے تو پھر ان کو ماضی کے صیغہ سے کیوں تعبیر کیا ہے ؟ اس کا ایک جواب مفسر (رح) نے فی علمہٖ تعالیٰ سے دیا ہے کہ اللہ کے علم میں چونکہ مقدر ہوچکا ہے اس لئے ماضی کے صیغہ سے تعبیر کردیا، دوسرا جواب کہ جس کا ہونا یقینی ہوتا ہے اس کو ماضی سے تعبیر کردیتے ہیں، قولہ : حالٌ لازمۃٌ خٰلِدِیْنَ لھُمْ کی ضمیر سے یا یشاءون کے واؤ سے حال ہے، حال لازمہ کا مطلب ہے کہ جو معنی ما سبق سے مفہوم ہو رہے ہیں اسی کی تاکید ہے، قولہ : وَعْدُھم کے اضافہ کا مقصد کان کے اسم کو ظاہر کرنا ہے یعنی وُعِدَ المتقون سے جو وَعْدٌ مفہوم ہوتا ہے۔ وھی کان کا اسم ہے، بعض حضرات نے ما یشاءون میں جو ما ہے اس کو کان کا اسم قرار دیا ہے۔ قولہ ویَوْمَ یحشرھم یہ اذکر فعل محذوف کا ظرف ہے اور قُلْ پر عطف ہے، نَحْشرُھُمْ کی مفعولی ضمیر سے غیر اللہ کی عبادت کرنے والے مراد ہیں اور وما یعبدون کا عطف ھم ضمیر پر ہے۔
قولہ : اِثْبَاتًا للحُجۃِ علی العابدین یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہے ماضی مستقبل اس کے لئے سب حال ہے تو پھر معبودین سے ءَاضْلَلْتُمْ ؟ کے ذریعہ سوال کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ جواب : یہ سوال برائے استفہام نہیں ہے بلکہ لاجواب اور ساکت کرنے کے لئے ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا جائے گا، أأنْتَ قلتَ للناس اتخذونی وامی الٰھَیْنِ مِنْ دُون اللہ اسی طرح وَاِذَا الموء ودت سئِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ میں بھی سوال تبکیت ولا جواب کرنے کے لئے ہے۔ قولہ : بُوْرًا جمع بائر بمعنی اھل کی ھَلِیْکً کی جمع ہے۔ قولہ : اِنّھُمْ آلِھَۃٌ یہ تقولون کا مقولہ ہے اور مَا سے بدل بھی ہوسکتا ہے فَمَا یَسْتَطِیْعُونَ میں چونکہ حاضر اور غائب دونوں قرأتیں ہیں اس لئے مفسر علام نے لاَھُمْ وَلاَ اَنْتُمْ فرمایا تاکہ دونوں قرأتوں کی رعایت ہوجائے۔
قولہ : اِلاَّ اِنَّھُمْ بقول ابن الانباری کے یہ جملہ حال ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے تقدیر عبارت یہ ہے اِلاَّ وَاِنَّھم اس کے نزدیک محذوف ہے، جمہور نے اِلاَّ اِنّھُمْ ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اَنَّ کی خبر پر لام داخل ہونے کی وجہ سے اگر أنّ کی خبر پر لام داخل ہوجائے تو جمہور کے نزدیک اِنَّ بکسر الہمزۃ متعین ہے، اگرچہ بعض حضرات نے اَنَّ بھی جائز کہا ہے، مگر یہ درست نہیں ہے۔ (فتح القدیر شوکانی)
تفسیر و تشریح
تبارک الذی۔۔۔ جعل (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ اللہ کے خزانہ میں کیا کمی ہے وہ چاہے تو ایک باغ کیا بہت سے باغ اس سے بہتر عنایت فرما دے جس کا یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں، بلکہ اس کو قدرت ہے کہ آخرت میں جو باغات اور نہریں اور حور و قصور ملنے والے ہیں وہ سب آپ کو ابھی دنیا میں عطا کر دے لیکن حکمت الٰہی ابھی اس کی مقتضی نہیں، اور بیشمار حکمتوں کا تقاضہ یہ ہے کہ انبیاء کی جماعت کو مادی اور دنیوی مال و دولت سے الگ ہی رکھا جائے اور خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے لئے اسی کو پسند فرمایا جیسا کہ ترمذی میں حضرت ابو امامہ باہلی کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے فرمایا کہ میں آپ کے لئے پورے بطحا اور اس کے پہاڑوں کو سونا بنا دیتا ہوں تو میں نے عرض کیا نہیں اے میرے پروردگار مجھے تو یہ پسند ہے کہ مجھے ایک روز پیٹ بھر کھانا ملے اور ایک روز بھوکا رہوں، آپ ﷺ کا یہ فقرہ احتیاج اختیاری تھا، اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر معاندین کے تمام مطالبات اور فرمائشیں بھی پوری کردی جائیں تب بھی یہ حق و صداقت کو قبول کرنے والے نہیں ہیں، باقی پیغمبر (علیہ السلام) کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے جو دلائل و معجزات پیش کئے گئے جا چکے ہیں، وہ کافی سے زیادہ ہیں، بَلْ کَذَّبُوْا بِالسَّاعَۃِ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن چیزوں کا مطالبہ کر رہے ہیں فی الحقیقت طلب حق کی نیت سے نہیں محض شرارت اور تنگ کرنے کے لئے ہے، اور شرارت کا سبب یہ ہے کہ انہیں ابھی تک قیامت اور سزاو جزا پر یقین نہیں آیا، سو یاد رکھنا چاہیے ان کے جھٹلانے سے کچھ نہیں ہوتا، قیامت آکر رہے گی اور ان مکذبین کے لئے آگ کا جو جیل خانہ تیار کیا گیا ہے اس میں ضرور رہنا پڑے گا، اِذَا رَأتْھُمْ مِنْ مکانٍ بَعِیْدٍ یعنی دوزخ کی آگ محشر میں جہنمیوں کو دور سے دیکھ کر جوش میں بھر جائے گی اور اس کی غضبناک آوازوں اور خوفناک پھنکاروں سے بڑے بڑے دلیروں کے پتے پانی ہوجائیں گے اور کافروں کو اپنے دامن میں لینے کیلئے چلائے گی اور جھنجلائے گی، جہنم کا دیکھنا اور چلانا حقیقت ہے مجاز یا استعارہ نہیں ہے، اللہ کیلئے اس کے اندر احساس و ادراک کی قوت پیدا کردینا مشکل نہیں اہل سنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے معتزلہ چونکہ رویت و تکلم چیخ و پکار حیات کا خاصہ قرار دیتے ہیں اس لئے مذکورہ صفات کے حقیقی معنی کا انکار کرتے ہیں اور مجاز و استعارہ پر محمول کرتے ہیں۔
وکان۔۔۔۔۔۔۔ مسئولا، یعنی ایسا وعدہ جو یقیناً پورا ہو کر رہے گا، اسی طرح اللہ نے اپنے ذمہ وعدہ واجب کرلیا ہے جس کا اہل ایمان اس سے مطالبہ کرسکتے ہیں، یہ محض اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کے لئے اس حسن جزاء کو اپنے لئے ضرور قرار دے لیا ہے، دنیا میں اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی رہی ہے، اور کی جاتی رہے گی، ان میں جمادات (پتھر، لوہا، لکڑی، سونا، چاندی اور دیگر دھاتوں سے بنی ہوئی مورتیاں) بھی ہیں، جو غیر عاقل ہیں اور اللہ کے نیک بندے بھی ہیں جو عاقل ہیں مثلاً حضرت عزیز حضرت مسیح (علیہا السلام) اور دیگر بہت سے نیک بندوں اسی طرح فرشتوں اور جنات کے پجاری بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ غیر عاقل جمادات کو بھی شعور و ادراک اور گویائی کی قوت عطا فرمائے گا اور ان سب معبودوں سے معلوم کرے گا، بتلاؤ تم نے میرے بندوں کو اپنی عبادت کا حکم دیا تھا یا یہ اپنی مرضی سے تمہاری بندگی کرکے گمراہ ہوئے تھے ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ جب ہم خود تیرے سوا کسی کو کارساز نہیں سمجھتے تھے تو پھر ہم اپنی بابت کس طرح لوگوں سے کہہ سکتے تھے کہ تم اللہ کے بجائے ہمیں اپنا ولی اور کارساز سمجھو۔
وجعلنا۔۔۔۔ فتنۃ، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ حق تعالیٰ کو قدرت تو سب کچھ تھی وہ سارے انسانوں کو یکساں مالدار بنا دیتا سب کو تندرست رکھتا، سب کو عزت و جاہ کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز کردیتا، کوئی ادنیٰ اور کوئی اعلیٰ نہ ہوتا مگر نظام عالم میں اس کی وجہ سے بڑے رخنے پیدا ہوتے اس لئے حق تعالیٰ نے کسی کو مالدار بنایا کسی کو غریب، کسی کو قوی کسی کو ضعف کسی کو تندرست، کسی کو بیمار، کسی کو صاحب عزت اور کسی کو گمنام، اس اختلاف میں ہر طبقہ کا امتحان اور آزمائش ہے غنی کے شکر کا غریب کے صبر کا امتحان ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ جب تمہاری نظر کسی ایسے شخص پر پڑے جو مال و دولت میں تم سے زیادہ ہو یا صحت و قوت اور عزت و جاہ میں تم سے بڑا ہو تو فوراً ایسے لوگوں پر نظر کرو جو ان چیزوں میں تم سے کم حیثیت رکھتے ہوں تاکہ تم حسد کے گناہ سے بھی بچ جاؤ اور اپنی موجودہ حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے کی توفیق ہو۔ (مظہری)
Ayahs 25:21–34آیت نمبر 21 تا 34
ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی کافروں کے لئے کوئی خوشخبری نہ ہوگی، بخلاف مؤمنین کے، ان کے لئے جنت کی خوشخبری ہوگی اور کہیں گے کہ پناہ ہے پناہ ہے (بچاؤ بچاؤ) اپنی عادت کے مطابق دنیا میں جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی، یعنی پناہ پناہ چلائیں گے اور ملائکہ سے پناہ چاہیں گے، اللہ تعالیٰ کہے گا، اور ہم ان کے ان اچھے کاموں کی طرف جو وہ دنیا میں کرچکے ہیں متوجہ ہوں گے، مثلاً صدقہ اور صلہ رحمی، مہمان نوازی اور مظلوم کی فریاد رسی تو ہم ان (اعمال) کو پراگندہ ذروں کی طرح کردیں گے ھَبَاءً منثوراً ان ذروں کو کہتے ہیں جو اس سوراخ میں نظر آتے ہیں جس پر دھوپ پڑتی ہے جیسا کہ منتشر غبار یعنی (ان کے اعمال کو) بےفائدہ ہونے میں غبار منتشر کے مانند کردیں گے، اس لئے کہ ان اعمال کا کوئی اجر نہ ہوگا، اجر کی شرط مفقود ہونے کی وجہ سے اور اس کی جزاء دنیا ہی میں دیدئیے جائیں گے، اہل جنت اس دن یعنی قیامت کے دن قیام گاہ میں بھی دنیا میں کافروں سے اچھے رہیں گے اور آرام گاہ میں بھی ان سے اچھے رہیں گے یعنی جنت میں قیلولہ (آرام) کرنے کی جگہ، اور قیلولہ دوپہر کو گرمی میں آرام کرنے کو کہتے ہیں اور اسی (احسن مقیلاً ) سے لیا گیا ہے کہ حساب دوپہر تک پورا ہوجائے گا جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے اور جس روز آسمان یعنی ہر آسمان مع بادل کے پھٹ جائے گا اور وہ سفید بادل ہے، اور ہر آسمان سے فرشتے بکثرت اتارے جائیں گے اور وہ دن قیامت کا دن ہوگا اور یوم اُذْکُرْ محذوف کی وجہ سے منصوب ہے، اور ایک قرأت میں تشَّقَّقُ کی شین کی تشدید کے ساتھ، اصل میں (یعنی تا کو شین سے بدلنے اور شین کو شین میں ادغام کرنے سے پہلے) تائے ثانیہ کو شین میں ادغام کرکے، اور دوسری قرأت میں نُنزِلُ دونوں کے ساتھ، دوسرا نون ساکن اور لام کے ضمہ کے ساتھ اور ملائکہ کے نصب کے ساتھ اس روز حقیقی حکومت رحمن کی ہوگی اس دن اس کا کوئی شریک نہ ہوگا اور وہ دن کافروں کے لئے بڑا سخت ہوگا بخلاف مومنین کے اور جس روز ظالم مشرک عقبہ بن ابی معیط جس نے شہادتین کا اقرار کرلیا تھا اور پھر ابی بن خلف کو خوش کرنے کے لئے پھر گیا، اپنے ہاتھوں کو ندامت اور حسرت کے ساتھ قیامت کے دن کاٹ کھائے گا اور کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ میں رسول محمد ﷺ کے ساتھ ہدایت کے راستہ پر لگ لیتا ہائے میری مبختی وَیْتَاا کا الف یائے اضافت کے عوض میں ہے (اصل میں) وَیْلَتِیْ تھا اور اس کے معنی میری ہلاکت کے ہیں کاش میں فلاں یعنی ابی بن خلف کو درست نہ بناتا اس نے مجھے نصیحت یعنی قرآن سے اس کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا اس طریقہ سے کہ اس پر ایمان لانے کے بعد مجھے واپس کردیا، اور شیطان تو کافر انسان کو (وقت پر) دھوکا دینے ہی والا ہے اس طریقہ پر کہ مصیبت کے وقت اس کو چھوڑ دیتا ہے اور اس سے اظہار بیزاری کردیتا ہے اور رسول یعنی محمد ﷺ کہیں گے اے میرے پروردگار میری قوم قریش نے اس قرآن کو متروک کردیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اسی طرح تیری قوم کے مشرکوں کو تیرا دشمن بنادیا تم سے پہلے ہر نبی کا بعض مجرمین مشرکین کو دشمن بنادیا لہٰذا جس طرح انہوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو، آپ کی رہنمائی کرنے اور مدد کرنے کے لئے تیرا رب کافی ہے یعنی تیرے دشمنوں کے خلاف تیری مدد کرنے کے لئے کافی ہے اور کافروں نے کہا اس پر پورا قرآن ایک ساتھ کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ جس طرح کہ تورات اور انجیل اور زبور اتاری گئیں اور اس طرح یعنی متفرق نزول اس لئے ہے کہ ہم اس کے ذریعہ آپ کے قلب کو قوی کریں گے اور ہم نے اس کو بہت ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے، یعنی ہم نے اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے وقفہ اور آہستگی کے ساتھ اتارا ہے تاکہ اس کا سمجھنا اور یاد کرنا آسان ہو اور یہ لوگ کیسا ہی عجیب سوال آپ کے معاملہ کو باطل کرنے کے لئے آپ کے سامنے پیش کریں مگر ہم ٹھیک جواب جو اس سوال کو دفع کرنے والا ہو اور بیان کے اعتبار سے خوب واضح ہو عنایت کردیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے یہ لوگ مکان کے اعتبار سے بھی بدترین ہیں اور وہ (مکان) جہنم ہے اور طریقہ میں بھی سب سے زیادہ گمراہ ہیں یعنی دوسروں سے زیادہ گمراہ ہیں اور وہ (طریقہ) ان کا کفر ہے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : لاَ یخافون یہ تَھَامَہ کی لغت میں لاَ یَرْجون کی تفسیر ہے، لاَ یَرْجونَ کو اپنے حقیقی معنی میں استعمال کرنا اولیٰ ہے، اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا لاَ یَامَلُوْنَ لِقَاءَ مَا وَعَدَنَا علیٰ الطَّاعۃِ من الثَّوابِ اور یہ بات ظاہر ہے کہ جو ثواب کی امید نہیں رکھتا وہ عذاب سے بھی نہیں ڈرتا لقد استکبر میں لام قسمیہ ہے۔ قولہ : وعتَوْا علیٰ اصلہ عَتَوْا اپنی اصل پر ہے واؤ یا سے تبدیل کئے بغیر، بخلاف سورة مریم کے کہ وہاں فواصل کی رعایت کی وجہ سے واؤ یا سے بدل دیا گیا ہے (مزید تحقیق سورؤ مریم میں دیکھ لی جائے) ۔ قولہ : لا بشری یہ جملہ قول مضمر کا معمول ہے، ای یَرَوْنَ الملائکۃ یقولون لا بشریٰ ۔ قولہ : حِجْرًا مصدر بمعنی استعاذہ ہے اور مَحْجُوْرًا اس کی تاکید ہے جیسا کہ عرب کہتے ہیں حرام مُحرَّم یا کہتے ہیں المحرم الحرام۔ قولہ عمدنا قدمنا کی تفسیر عمدنا سے کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قدوم کا اطلاق اللہ پر درست نہیں ہے اس لئے کہ قدوم جسمانیات کی صفت ہے۔ قولہ : ملھوف مظلوم فریاد خواہ کو کہتے ہیں۔ قولہ : کُویٰ کاف کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، اس سوراخ کو کہتے ہیں جس سے سورج کی روشنی داخل ہوتی ہو۔ قولہ : ھَبَاءً ان ذرات کو کہتے ہیں جو سوراخ سے آنے والی روشنی میں اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں اگر کوئی ان کو ہاتھ میں پکڑنا چاہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ قولہ : خیرٌ مستقراً من الکافرین یعنی مومنین کا مستقر جنت میں دنیا میں کافروں کے مستقر سے بہتر ہے، یہاں اسم تفضیل خیرٌ اپنے معنی میں ہے من الکافرین فی الدنیا کہہ کر مفسر (رح) نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے گویا کہ یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اہل نار کے مستقر (جہنم) میں کوئی خیر نہیں ہے مگر خیر اسم تفضیل سے معلوم ہو رہا ہے کہ کافروں کے مستقر میں بھی خیر ہے مگر اہل جنت کے مستقر سے کم خیر ہے اور یہ مطلب بھی صحیح ہے کہ مستقر سے دونوں فریقوں کا آخرت میں مستقر مراد ہو اس صورت خیرٌ سے اسم تفضیل کے معنی مراد نہ ہوں بلکہ کفار کی محض تقریع وتوبیخ مراد ہوگی اور یہ عرب کے قول (العَسلُ اَحْلیٰ من الخَلَ ) کے قبیل سے ہوا حالانکہ خل میں کوئی حلاوۃ نہیں ہوتی، اس سے معلوم ہوتا ہے اسم تفضیل کے لئے مفضل منہ کا ہمیشہ ہونا ضروری نہیں، لہٰذا اعتراض دفع ہوگیا۔
قولہ : اُخِذَ من ذٰلک الخ یعنی احسن مقیلاً سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے میدان محشر میں حساب کتاب نصف النہار سے قبل ہی ختم ہوجائے گا اس لئے کہ جنت کے آرام کے لئے مقیلا کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے معنی دوپہر کو قیلولہ کرنے کے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حساب کتاب سے فراغت دوپہر سے قبل ہی ہوجائے گی، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ قیامت کے روز اہل جنت جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں قیلولہ کریں گے، گو یہ نصف یوم مومنین کے لئے بقدر ایک نماز کے معلوم ہوگا اور کافروں کو بہت طویل عرصہ معلوم ہوگا۔ قولہ : یَوْمَ تَشَقَّقُ السماءُ یومَ اُذکر محذوف کی وجہ سے منصوب ہے کل سماء سے اشارہ اس بات کی جانب ہے کہ السماء میں الف لام استغراق اور مَعَہٗ سے اشارہ با بمعنی مع ہے با سببیہ اور بمعنی عن بھی ہوسکتی ہے۔ قولہ : اَلْمُلکُ یَؤمَئِذٍ الحقُّ للرحمٰن الملکُ مبتداء ہے الحق اس کی صفت للرحمن خبر، ای الملک الثابتُ الذی لایزول للرحمن یومئذٍ مفسر علام نے ظالم کی تفسیر مشرک عقبہ بن ابی معیط سے کرکے اشارہ کردیا ہے کہ یہ آیت ایک خاص مشرک کے بارے میں نازل ہوئی جس کا نام عقبہ بن ابی معیط تھا۔ قولہ : یقول یَالَیْتَنی جملہ یَعُضُّ کی ضمیر سے حال ہے یَالَیْتَنِیْ میں یا تنبیہ کے لئے ہے نہ کہ ندا کے لئے اس لئے کہ منادیٰ کے لئے اسم ہونا شرط ہے اور اگر یا کو ندا کے لئے مانیں تو منادیٰ محذوف ماننا ہوگا ای یا قوم۔
قولہ : لَقَدْ اَضَلَّنِیْ میں لام قسمیہ ہے اَیْ واللہ لَقَدْ اَضَلَّنِیٰ ۔ قولہ : قال تعالیٰ سے اشارہ ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہے ظالم کا کلام اِذْ جاءَنِیْ پر پورا ہوگیا۔ قولہ : لَوْ لا نُزِّلَ القرآنَ جملۃ واحدۃً یہاں نُزِّل بمعنی اُنْزِلَ ہے اسلئے کہ نُزِّل کے معنی ہیں تھوڑا تھوڑا اتارنا اور اُنْزِلَ کے معنی ہیں ایک ساتھ اتارنا لہٰذا نُزِّل اور جملۃً واحدۃً میں تعارض ہوگا اسلئے کہا جائے گا نُزِّلَ کے ہے نَزّلْنَا کذٰلِکَ نَزَّلنا محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ کذٰلِکَ فعل محذوف کا مفعول ہے اور لنِثَبِّتَ بہٖ سے قرآن کو متفرق طور پر اتارنے کی تین حکمتوں کا بیان ہے۔ قولہ : وَاَحْسَنَ کا عطف الحق پر ہے، احسن محلاً مجرور ہے، قولہ : اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ ، ھُمْ مبتداء محذوف کی خبر ہے جیسا کہ مفسر (رح) نے ظاہر کردیا
تفسیر و تشریح
وقال۔۔۔۔ لقائنا (الآیہ) رَجَا کے معنی عام طور پر کسی محبوب و مرغوب چیز کی امید کرنے کے آتے ہیں اور کبھی یہ لفظ خوف کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں لکھا ہے، اس جگہ بھی یہی خوف کے معنی زیادہ واضح ہیں، یعنی وہ لوگ جو ہمارے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے حِجْرًا مَحْجورًا حِجْر کے لفظی معنی محفوظ جگہ کے ہیں اور محجور اس کی تاکید ہے یہ لفظ محاورہ عرب میں اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی مصیبت سامنے ہو اس سے بچنے کے لئے لوگوں سے کہتے تھے کہ پناہ ہے پناہ ہے یعنی ہمیں اس مصیبت سے پناہ دو قیامت کے روز بھی جب کفار فرشتوں کو سامان عذاب لاتا ہوا دیکھیں گے تو دنیا کی عادت کے مطابق یہ لفظ کہیں گے، اور حضرت ابن عباس ؓ سے اس لفظ کے معنی حَرَامًا مَحْرمًا منقول ہیں اور مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز جب یہ لوگ فرشتوں کو عذاب کے ساتھ دیکھیں گے اور ان سے معاف کرنے اور جنت میں جانے کی درخواست کریں گے تو فرشتے ان کے جواب میں کہیں گے حِجْرًا مَحْجُورًا یعنی جنت کافروں پر حرام اور ممنوع ہے۔ (مظہری)
وقدمنا۔۔۔ عملوا یہاں کا رخیر سے وہ کار خیر مراد ہیں جن کا وجود نیت پر موقوف نہیں ہے جیسے مہمان نوازی، صلہ رحمی، حسن معاشرت، مظلوم کی مدد اور فریاد رسی، اس قسم کے اعمال خیر کا بدلہ، دنیا ہی میں مثلاً صحت و تندرستی، مالداری، خوشحالی، حسن و خوبصورتی، عقل و دانشمندی کے صورت میں دیدیا جاتا ہے، کافروں نے بزعم خویش دنیا میں اعمال کئے ہونگے اور آخرت میں ان کے اجر کی توقع رکھتے ہونگے وہ قیامت کے دن ذروں کے مانند کہ جو سورج کی کرنوں میں محسوس کرتے ہیں بےحیثیت ہوں گے، یہاں کافروں کے اعمال خیر کو جس طرح بےحیثیت ذروں کے مثل کہا گیا ہے، اسی طرح دوسرے مقامات پر کہیں راکھ سے، کہیں سراب سے اور کہیں صاف چکنے پتھر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
تشقق۔۔۔۔ الغمام معنی یہ ہیں کہ آسمان شق ہو کر اس میں سے ایک رقیق بادل اترے گا جس میں فرشتے ہوں گے، یہ ابر بشکل سائبان آسمان سے آئے گا اور اس میں حق تعالیٰ کی تجلی ہوگی اور اس کے گرداگرد ملائکہ ہوں گے، یہ حساب شروع ہونے کا وقت ہوگا اور اس وقت آسمان کا پھٹنا صرف کھلنے کے طور پر ہوگا، اس لئے کہ یہ نزول غمام جس کا ذکر آیت میں ہے نفخۂ ثانیہ کے بعد ہوگا جب کہ سب زمین و آسمان درست ہوچکے ہوں گے۔
یقول۔۔۔۔ خلیلاً یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے مگر حکم عام ہے، واقعہ یہ تھا کہ عقبہ ابن معیط مکہ کے مشرک سرداروں میں سے تھا اس کی عادت تھی کہ جب کسی سفر سے واپس آتا تو شہر کے معزز لوگوں کی دعوت کرتا تھا اور رسول اللہ ﷺ سے اس کے تعلقات تھے ایک مرتبہ اس نے حسب عادت معززین شہر کی دعوت کی اور رسول اللہ ﷺ کو بھی بلایا جب اس نے آپ کے سامنے کھانا رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارا کھانا اس وقت تک نہیں کھا سکتا جب تک تم اس کی گواہی نہ دو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، عقبہ نے یہ کلمہ پڑھ لیا اور آپ ﷺ نے شرط کے مطابق کھانا تناول فرما لیا۔
عقبہ کا ایک جگری دوست تھا اس کا نام ابی بن خلف تھا جب اس کو معلوم ہوا کہ عقبہ مسلمان ہوگیا تو بہت برہم ہوا، عقبہ نے عذر کیا کہ قریش کے معزز مہمان محمد ﷺ میرے گھر پر آئے تھے اگر وہ بغیر کھانا کھائے میرے گھر سے واپس چلے جاتے تو میرے لئے بڑی رسوائی کی بات تھی اس لئے میں نے ان کی خاطر یہ کلمہ پڑھ لیا، ابی بن خلف نے کہا میں تیری ایسی باتوں کو قبول نہیں کروں گا جب تک تو جا کر ان کے منہ پر نہ تھوکے، یہ کمبخت دوست کے کہنے سے اس گستاخی پر آمادہ ہوگیا اور کر گذرا، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی ان دونوں کو ذلیل کیا کہ غزوہ بدر میں دونوں مارے گئے (بغوی) اور آخرت میں ان کے لئے عذاب کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے کہ جب آخرت کا عذاب سامنے دیکھے گا تو اس وقت ندامت و افسوس سے اپنے ہاتھ کاٹنے لگے گا اور کہے گا کاش میں فلاں یعنی ابی بن خلف کو دوست نہ بناتا۔ (مظہری)
نکتہ : آنحضرت ﷺ کے کھانا کھانے کے لئے کلمہ پڑھنے کی شرط لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کام کے لئے اخلاقی دباؤ ڈالنا درست ہے جیسا کہ بعض اوقات مبلغین حضرات دعوت قبول کرنے کے لئے خدا کے راستہ میں نکلنے کی شرط لگا دیتے ہیں۔ اس واقعہ سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ برے شخص کی دوستی اور صحبت سے بھی اجتناب کرنا چاہیے اس لئے کہ بری صحبت کا اثر جلدی ہوتا ہے، مسند احمد، ترمذی وغیرہ نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لاً تُصَاحِبْ اِلاَّ مُؤْمِنًا وَلاَ یَاکُلُ مَا لَکَ الاتقی غیر مومن کو اپنا دوست نہ بناؤ اور تمہارا مال (بطور دوستی) صرف متقی آدمی کھائے یعنی غیر متقی سے دوستی نہ کرو اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا المرءُ علیٰ دین خلِیْلِہٖ فلینظُرْ من یخالل ہر آدمی (عادۃ) اپنے دوست کے طریقہ پر چلا کرتا ہے اسلئے دوست بنانے سے پہلے خوب غور کرلیا کرو کہ کس کو دوست بنا رہے ہو۔
وقال الرسول۔۔۔۔۔ مھجوراً یعنی آپ ﷺ اپنے پروردگار سے شکایت کریں گے اے میرے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو مہجور متروک کردیا، آنحضرت ﷺ کی یہ شکایت قیامت کے روز ہوگی یا اسی دنیا میں اس میں مفسرین کا اختلاف ہے احتمال دونوں ہیں اگلی آیت بظاہر اس کا قرینہ ہے کہ یہ شکایت دنیا ہی میں پیش فرمائی تھی جس کے جواب میں آپ کو تسلی دینے کے لئے اگلی آیت میں فرمایا کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لکلِّ نبِّیٍ (الآیۃ)
وقال۔۔۔ نزل (الآیۃ) اللہ اور رسول کے دشمن لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے بےسروپا اور نہایت غیر معقول اعتراض کرتے تھے، کہتے تھے کہ صاحب دوسری کتابوں کی طرح پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا ؟ برسوں میں جو تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا، کیا اللہ کو کچھ سوچنا پڑتا ہے ؟ اس سے تو شبہ ہوتا ہے کہ خود محمد ﷺ سوچ سوچ کر بناتے ہیں پھر موقع مناسب دیکھ کر تھوڑا تھوڑا سناتے رہتے ہیں۔
قرآن کو بتدریج نازل کرنے کی حکمت : اول حکمت تو یہ بیان فرمائی کہ بتدریج نازل کرنے میں یہ حکمت ہے کہ وقتاً فوقتاً قرآن کے نزول سے آپ کے قلب کو تقویت رہے اور دربار خداوندی سے مسلسل رابطہ رہے، دوم یہ کہ بتدریج نزول کی وجہ سے یاد کرنے میں آسانی ہو، تیسرے یہ کہ اگر کفار آپ پر کوئی نیا اعتراض کریں تو اس کا جواب بروقت نازل کردیا جائے اور آپ کو تسلی بھی دیدی جائے، اور اگر پورا قرآن ایک ہی دفعہ آگیا ہوتا اور اس خاص اعتراض کا جواب اور آپ کے لئے تسلی نازل ہو بھی گئی ہوتی تو بہرحال اس کو قرآن میں تلاش کرنے کی ضرورت پڑتی اور بروقت اس کی طرف ذہن کا متوجہ ہونا بھی ضروری نہیں، ان حکمتوں کے علاوہ بھی حکمتیں ہوسکتی ہیں ان میں انحصار ضروری نہیں۔