25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 25:35–44

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور کہا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی (جب تکذیب پر اڑے رہے) تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انھیں غرق کر ڈالا اور لوگوں کے لئے نشانی بنادیا اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح مینہ برسایا گیا تھا کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہونگے ؟ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اٹھنے کی امید ہی نہیں تھی

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو تمہاری ہنسی اڑاتے ہیں کیا یہی شخص ہے جس کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اگر ہم اپنے معبودوں کے بارے میں ثابت قدم نہ رہتے تو یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا (اور ان سے پھیر دیتا) اور یہ عنقریب معلوم کرلیں گے جب عذاب دیکھیں گے کہ سیدھے راستے سے کون بھٹکا ہوا ہے

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے ؟ تو کیا تم اس پر نگہبان ہوسکتے ہو ؟

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ (ن ہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں

آیت نمبر 35 تا 44 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی رسول تھے (یعنی بمنزلہ کئی رسولوں کے تھے) یا اس لئے (رُسُلْ جمع کا صیغہ استعمال کیا) کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کی تکذیب گویا کہ باقی رسولوں کی تکذیب ہے اس لئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں تو ہم نے ان کو غرق کردیا اور بعد کے لوگوں کے لئے نشانِ عبرت بنادیا اور ہم نے آخرت میں ظالموں کافروں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے یعنی تکلیف دہ، اس عذاب کے علاوہ جو دنیا میں ان پر نازل ہوگا اور ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا اور صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا اور اصحاب الرس کا تذکرہ کیجئے،۔ رَسْ ایک کنوئیں کا نام ہے اور ان کے نبی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ شعیب تھے اور کہا گیا ہے کہ ان کے علاوہ تھے، کنوئیں کے اطراف میں بودو باش رکھتے تھے وہ کنواں ان کے اور ان کے مکانوں کے ساتھ دھنس گیا اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی قوموں کا یعنی عاد اور اصحاب الرس کے درمیان اور ہم نے ہر ایک کے لئے عمدہ عمدہ مضامین بیان کئے ان پر حجت قائم کرنے کے لئے ہم نے ان کو تنبیہ کے بعد ہی ہلاک کیا، پھر ہم نے ہر ایک کو پوری طرح ہلاک کردیا، ان کے اپنے انبیاء کی تکذیب کرنے کی وجہ سے اور وہ یعنی کفار مکہ اس بستی کے پاس سے گزرتے ہیں جس پر بدترین بارش برسائی گئی السَوْء سَاءَ کا مصدر ہے یعنی پتھروں کی بارش برسائی گئی اور وہ بستی قوم لوط کی بستیوں میں سب سے بڑی بستی (سدوم) تھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں کو ان کی بدفعلی کی وجہ سے ہلاک کردیا تو کیا یہ لوگ اپنے شام کے سفر میں اس (بستی) کو نہیں دیکھتے کہ عبرت حاصل کریں اور استفہام تقریری ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا اندیشہ ہی نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ ایمان نہیں لاتے اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کا تمسخر کرنے لگتے ہیں یعنی آپ کا مذاق بناتے ہیں، کہتے ہیں کہ کیا یہی ہیں وہ صاحب جن کا اللہ نے بزعم خویش رسول بنا کر بھیجا ہے (مرتبۂ ) رسالت سے آپ کو کمتر سمجھتے ہوئے انْ ثقیلہ سے مخففہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے ای اَنَّہٗ اس شخص نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے تو یقیناً ہم ان سے پھرجاتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جلدی ہی ان کو معلوم ہوجائے گا جب وہ عذاب کو آخرت میں کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ کون شخص گمراہ تھے ؟ یعنی غلط راستہ پر تھا وہ یا مومنین ؟ کیا آپ نے اس شخص (کی حالت) دیکھی کہ جس نے خواہشات نفسانی یعنی پسند کی چیزوں کو اپنا معبود بنا لیا ؟ مفعول ثانی کو اہم ہونے کی وجہ سے مقدم کردیا گیا ہے اور مَنْ اِتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوَاہٗ جملہ ہو کر رأیْتُ کا مفعول اول ہے اور اَفَاَنْتَ تکونُ علیہِ وکیلاً مفعول ثانی ہے، کیا آپ ایسے شخص کے ضامن ہوسکتے ہیں ؟ یعنی کیا آپ ایسے ہوا پرست کی اتباع ہوا سے حفاظت کی ذمہ داری لے سکتے ہیں ؟ نہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سمجھنے کے لئے سنتے ہیں یا جو آپ ان سے کہتے ہیں اسے سمجھتے ہیں یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ ہے راہ میں یعنی جانوروں سے بھی ان کا برا حال ہے اس لئے کہ جو شخص ان (جانوروں) کی نگہداشت کرتا ہے اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور یہ اپنے مولائے محسن کی اطاعت نہیں کرتے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد وَلَقَدْ آتینا ای وباللہِ لَقَدْ آتینا وَزِیْرًا وِزٌرً صفت مشبہ، مددگار، ناصر، معین، قولہ : ای القبط القبط، القوم سے بدل ہونے کی وجہ سے مجرور ہے، فرعون و قومہٖ قبط کا بیان ہے۔ قولہ : فدمَّرْناھم کا عطف فَذَھَبَا الیھم محذوف پر ہے، جیسا کہ مفسر علام نے ارشاد فرمایا ہے، شارح (رح) نے قوم نوح کو اذکر فعل محذوف کا مفعول قرار دیا ہے، اور لمّا کو شرطیہ مان کر اغرقنٰھم کو جواب شرط قرار دیا ہے، اور اگر لمّا کو ظرفیہ مانا جائے تو یہ ما اضمر علی شریطۃ التفسیر کے قبیل سے بھی ہوسکتا ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی اغرقنا قوم نوح لمّا کذبوا الرُّسلَ اغرقنٰھم اگر لمّا کو شرطیہ مانیں تو ما اضمر کے قبیل سے نہیں ہوگا اسلئے کہ جواب لمّا کسی کے لئے مفسر نہیں ہوا کرتا۔ (جمل) قولہ : لطول لبثہٖ فیھم یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ کَذَّبُوْا الرُّسُلَ میں رُسُلُ کو جمع کیوں لائے ہیں حالانکہ نوح (علیہ السلام) تو ایک (واحد) ہے، شارح نے اس کے دو جواب دئیے ہیں اول یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا زمانہ اس قدر طویل ہے کہ اتنی مدت میں کئی نبی اور رسول آتے تو گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) زمانہ کے اعتبار سے کئی نبیوں کے قائم مقام ہیں، اور دوسرا جواب یہ دیا کہ تمام انبیاء توحید کے مسئلہ میں متفق ہیں اور توحید تمام انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے، لہٰذا ایک کی تکذیب وہ سب کی تکذیب ہے۔ قولہ : جَعْلنٰھم ای اغراقھم اَو قصَّتھم۔ قولہ : للظّٰلمِین وُضِعَ الظاھر موضع المضمر، تسجیلاً علیھم بوصف الظلم ورنہ تو عبارت یوں ہوتی وَاعْتَدْنَا لَھُم۔ قولہ : وکُلاًّ یہ عامل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے اور ما اضمر کے قبیل سے ہے اور ضربنا کے ہم معنی فعل کُلاًّ سے پہلے محذوف ہے، مثلاً اَنذرنا کُلاًّ ضربنَا لَہٗ الَامٌثالَ اَمثالَ ان قصص عجیبہ اور عمدہ مضامین کو کہتے ہیں جو غرابت میں امثال کے مانند ہوں۔ قولہ : مَرّوا شارح کا مقصد اس اضافہ سے ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے، اعتراض یہ ہے کہ اَتَوْا متعدی بنفسہٖ ہوتا ہے یا پھر اس کا صلہ الیٰ آتا ہے اور یہاں اس کا صلہ علیٰ استعمال ہوا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب یہ ہے کہ اَتَوٌا مَرُّوا کے معنی پر مشتمل ہے لہٰذا اس کا صلہ علیٰ لانا درست ہے، کما اشار الیہ الشارح۔ قولہ : مَطرَ السَّوء اُمْطِرت کا مفعول مطلق ہے معنی میں الامطار کے ہے، اصل عبارت یہ ہے اُمْطِرَتِ القومُ مَطَرَ السوءِ والسّوْء بمعنی حجارۃ ہے ای رُمِیَتْ بالحجارۃِ ۔ قولہ : مَھْزوًّا بہٖ یہ اشارہ ہے کہ ھُزُوًّا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ قولہ : لصَرَفنا عَنْھَا یہ لَوْلاَ کا جواب ہے جو محذوف ہے۔ قولہ : مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلاً ، مَن استفہامیہ مبتداء اَضَلُّ اس کی خبر اور سَبِیْلاً اس کی تمییز، یہ سب جملہ ہو کر قائم مقام یعلمون کے دو مفعولوں کے ہے یعلمون کو عمل سے معلق کردیا گیا ہے تاکہ من استفہامیہ کی صدارت باطل نہ ہوجائے، قولہ : أرَأیتَ اخْبِرْنِیْ مَنْ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوَاہ اہمیت کے پیش نظر مفعول ثانی کو مقدم کردیا گیا ہے، اصل عبارت یہ ہے مَنْ اِتَّخَذَ ھَوَاہُ اِلٰھًا کما تقول علمتُ منطقاً زیدًا اصل میں تھا علمت زیدًا منطلقاً ۔ تفسیر و تشریح قولہ : الذین۔۔۔ بایتنا اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ تم دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ کہ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے، یہاں تکذیب آیات سے کیا مراد ہے ؟ ظاہر ہے کہ آیات تورات تو مراد ہو نہیں سکتی، اس لئے کہ تورات کا نزول غرق فرعون کے بعد ہوا ہے، لہٰذا آیات سے مراد یا تو توحید کے دلائل عقلیہ ہیں جو پوری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں، جو ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق سمجھ میں آسکتے ہیں، ان میں غور نہ کرنے کو تکذیب آیات فرمایا، یا تکذیب سے مراد کتب سابقہ اور انبیاء سابقین کی تکذیب مراد ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول وقوم نوحٍ لَمّا کَذَّبُوْا الرُّسُلَ یہاں رُسُل سے مراد ایک توجیہ کے اعتبار سے انبیاء سابقین مراد ہیں جو کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے گذر چکے تھے جیسے کہ حضرت شیث (علیہ السلام) اور حضرت ادریس ( علیہ السلام) ، اسی طرح یہاں بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے انبیاء کی تکذیب مراد ہے، اور تکذیب سے مراد ان پر ایمان نہ لانا ہے۔ قومَ نوح۔۔۔۔ الرسل قوم نوح کا بہت رسولوں کو جھٹلانے سے مراد یہ ہے کہ قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے اصول دین مثلاً توحید، بعث بعد الموت و جزاء و سزاء کی تکذیب کی اور اصول دین چونکہ تمام انبیاء کے مشترک ہیں اس لئے ایک نبی کی تکذیب تمام انبیاء کی تکذیب ہے۔ اصحٰب الرس، رسّ کچے کنوئیں کو کہتے ہیں جس کی مَن پختہ نہ بنی ہو، اصحٰبُ الرس کے حالات کی تفصیل نہ تو قرآن میں مذکور ہے اور نہ صحیح احادیث میں ان کا تذکرہ ہے، اسرائیلی روایات اس میں مختلف ہیں، راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قوم ثمود کے کچھ باقی ماندہ لوگ تھے جو کسی کنوئیں کے اطراف آباد تھے اور بت پرستی کیا کرتے تھے، ان کی طرف، جس نبی کو مبعوث کیا گیا تھا ان کا نام بعض حضرات نے شعیب اور بعض نے حنظلہ بن صفوان بتایا ہے، ان کے نبی نے ان کو بہت اچھی طرح قسم قسم کی مثالیں دے کر سمجھایا مگر کسی نے نہ مانا اس کے برخلاف نبی کی ایذاء رسانی پر کمر بستہ ہوگئے جب یہ لوگ کسی طرح اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا تختہ الٹ دیا اور یہ سب کے سب مع مال و دولت اور مویشیوں کے زمین میں دھنسا دئیے گئے۔ یہ اہل مکہ ملک شام آتے جاتے قوم نوح عاد وثمود کی بستیوں کے کھنڈرات و خرابات پر ہو کر گذرتے ہیں مگر ان قوموں کے حالات سے عبرت حاصل نہیں کرتے، عبرت کہاں سے حاصل ہو ؟ جبکہ عبرت کی نظر سے ان خرابات کو دیکھتے ہی نہیں ہیں اور عبرت و نصیحت کی نظر سے تو وہ شخص دیکھتا ہے جس کو مرنے کے بعد آخرت کی زندگی کا تصور ہو، جس کے نزدیک مرنے کے بعد زندہ ہونے کا تصور ہی نہ ہو اس کو عبرت کیسے حاصل ہوسکتی ہے، عبرت حاصل کرنا تو دور کی بات ہے ان کا مشغلہ یہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں، چناچہ یہ لوگ آپ کو دیکھ کر استہزاء کرتے ہوئے کہتے ہیں کیا یہی وہ بزرگ ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ بھلا یہ حیثیت اور منصب رسالت ؟ کیا ساری خدائی میں یہی رسول بننے کے لئے رہ گئے تھے، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ان کی تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے، قوت فصاحت اور زور تقریر سے رنگ تو ایسا جمایا تھا کہ قریب تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ان کی تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے، قوت فصاحت اور زور تقریر سے رنگ تو ایسا جمایا تھا کہ قریب تھا کہ اس کی باتیں ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دیتیں وہ تو ہم پکے ایسے تھے کہ برابر جمے رہے اور ان کی کسی بات کا اثر قبول نہ کیا ورنہ یہ ہم سب کو بھی گمراہ کرکے چھوڑتے۔ (العیاذ باللہ) عذاب الٰہی کو جب یہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے تب ان کو معلوم ہوگا حقیقت میں کون گمراہ تھا ؟ آپ ایسے ہوا پرستوں کو راہ ہدایت پر لے آنے کی کیا ذمہ داری لے سکتے ہیں جن کا معبود ہی محض خواہش ہو جدھر خواہش لے گئی ادھع منہ اٹھا کر چل دئیے جو بات خواہش کے موافق ہوئی قبول کرلی اور جو مخالف ہوئی رد کردی آج ایک پتھر اچھا معلوم ہوا سے چوجنے لگے، کل دوسرا اس سے خوبصورت مل گیا پہلے کو پھینک دیا اور دوسرے کے آگے سرجھکانے لگے۔ اَمْ تحسبُ آپ انہیں کیسی ہی نصیحتیں سنائیے یہ تو جانور ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں انہیں سننے اور سمجھنے سے کیا واسطہ، بلکہ چوپائے تو بہرحال اپنی نگہداشت کرنے والے مالک کے سامنے گردن جھکا دیتے ہیں اور اپنے محسن کو پہچانتے ہیں اس کی آواز پر دھیان دیتے ہیں، لیکن ان بدبختوں کا حال یہ ہے کہ نہ اپنے خالق ومالک کا حق پہچانا اور نہ اس کے احسانات کو سمجھا، اگر ذرا عقل و فہم سے کام لیتے تو اس کارکانۂ قدرت میں بیشمار نشانیاں تھیں جو نہایت واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی توحید اور تنزیہ اور اصول دین کی صداقت و حقانیت کی طرف رہبری کر رہی ہیں جن میں سے بعض نشانیوں کا ذکر آئندہ آیات میں کیا گیا ہے۔
Ayahs 25:45–60

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

بھلا تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر کے پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو بےحرکت ٹھہرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنادیا ہے

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پردہ اور نیند کو آرام بنایا اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت ٹھہرایا

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت کے (مینہ کے) آگے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک (اور نتھرا ہوا) پانی برساتے ہیں

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ اس سے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کردیں اور پھر ہم اسے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو جو ہم نے پیدا کیے ہیں پلاتے ہیں

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح کے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتے

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس (قرآن) کے حکم کے مطابق بڑے شدو مد سے لڑو

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری چھاتی جلانے والا اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کی پرستش کرتے ہیں کہ جو نہ انکو فائدہ پہنچا سکے اور نہ ضرر اور کافر اپنے پروردگار کی مخالفت میں بڑا زور مارتا ہے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور (اے محمد) ہم نے آپ کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف (جانے کا) راستہ اختیار کرے

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح ہی کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمن (یعنی بڑا مہربان) ہے تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اسکے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک قرأت میں (الریاح کے بجائے) الریح ہے یعنی بارش سے پہلے پھیلتی ہوئی (ہوائیں) اور ایک قرأت میں نُشْرًا میں شین کے سکون کے ساتھ ہے تخفیف کے لئے اور ایک قرأت میں شین کے سکون اور نون کے فتحہ کے ساتھ ہے (نَشْرًا) مصدر ہے اور دوسری قرأت میں شین کے سکون اور نون کے بجائے با کے ضمہ کے ساتھ (یعنی بُشْرًا ہے خوشخبری دینے والی، (پہلی قرأۃ یعنی نُشُرًا) کا مقرر نشورٌ ہے، جیسا کہ رُسُلٌ کا واحد رَسُوْلٌ ہے (اور اسی طرح ثانی قرأۃ یعنی نُشْرًا) کا مفرد ہے، اور قرأت اخیرہ یعنی بُشْرًا کا واحد بشیرٌ ہے اور ہم آسمان سے پاک یعنی پاک کرنے والا پانی برساتے ہیں تاکہ ہم اس کے ذریعہ خشک زمین کو سرسبز اور شاداب کریں مَیْتًا تخفیف کے ساتھ ہے، بَلْدَۃً میں مذکر اور مؤنث دونوں برابر ہیں، یا بَلْدۃً کی صفت مَیْتًا کو اس لئے مذکر لایا گیا ہے کہ بلدۃ کو مکان کی تاویل میں کرلیا ہے اور ہم وہ پانی اپنی مخلوق میں سے (بہت سے) چوپایوں (مثلاً ) اونٹ، گائے، اور بکریوں کو اور بہت سے انسانوں کو پلاتے ہیں، اَنَاسیّ انسان کی جمع ہے اَناسِیّ کی اصل اَناسِین تھی نون کو یا سے بدلا اور یا لو یا میں ادغام کردیا اَناسِیٌّ اِنسِیٌّ کی جمع ہے اور ہم اس پانی کو مخلوق کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں تاکہ لوگ غور و فکر کریں یَذَّکَّرُوْا کی اصل یَتَذَکَّرُوا تھی تا کو ذال میں ادغام کردیا اور ایک قرأۃ میں لِیَذْکُرُوْا ذال کے سکون اور کاف کے ضمہ کے ساتھ ہے یعنی تاکہ بارش (پانی) کے سبب سے اللہ کی نعمتوں کو یاد کریں پھر اکثر لوگ ناشکری ہی کرتے رہے یعنی نعمت کے منکر رہے، اس طرح سے کہ وہ کہتے تھے کہ فلاں ستارے کے طلوع (یا غروب) ہونے کی وجہ سے ہم کو بارش دی گئی اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والا (پیغمبر) بھیج دیتے جو اس بستی والوں کو ڈراتا لیکن ہم نے آپ کو تمام بستی والوں کی جانب نذیر بنا کر بھیجا تاکہ آپ کا اجر زیادہ ہو لہٰذا آپ کافروں کا ان کی خواہشات میں اتباع نہ کریں اور آپ ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ پوری طاقت سے جہاد کریں اور وہ ایسا ہے کہ جس نے دو دریا ملا کر جاری کئے ہیں جن میں ایک میٹھا مزایدار یعنی نہایت شیریں ہے اور دوسرا نمکین اور کڑوا یعنی نہایت شور ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب آڑ ہے تاکہ ایک دوسرے سے نہ مل سکے اور قوی مانع رکھ دیا یعنی ایسا مانع کہ جس کی وجہ سے ان دونوں دریاؤں کا ملنا ممنوع ہوگیا وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے انسان کو اپنی یعنی منی سے پیدا کیا پھر اس کو صاحب نسب (خونی رشتہ والا) اور صاحب صہر (سسرالی رشتوں والا) بنایا بایں طور کہ وہ افزائش نسل کے لئے نکاح کرتا ہے مذکر ہو یا مؤنث، اور تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے جو وہ چاہے اس پر قادر ہے اور یہ لوگ یعنی کافر اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی بندگی کرتے ہیں کہ جو ان کی بندگی کی وجہ سے نہ ان کو نفع پہنچانے پر قادر ہیں اور نہ ترک بندگی پر نقصان پہنچانے پر قادر ہیں، اور وہ بت ہیں اور کافر تو اپنے رب کی مخالفت میں شیطان کا مددگار ہے ہی شیطان کی اطاعت کرکے اور ہم نے آپ کو صرف اس لئے بھیجا ہے کہ آپ جنت کی خوشخبری سنائیں اور نار جہنم سے ڈرائیں آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس چیز کی تبلیغ پر جس کو میں دیکر بھیجا گیا ہوں کوئی معاوضہ نہیں چاہتا مگر یہ کہ جو چاہے اپنے رب کی مرضیات میں مال خرچ کرکے اپنے رب تک (رسائی) کا راستہ اختیار کرے تو میں اس کو اس سے منع نہیں کرتا اور آپ اس حی لایموت پر توکل رکھئے اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کیجئے یعنی سبحان اللہ وبحمدہٖ کہئے، اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے بخوبی واقف ہے، بذنوب خبیراً سے متعلق ہے اور وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا دنیا کے دنوں کے حساب سے یعنی ان کی مقدار میں اس لئے کہ اس وقت سورج نہیں تھا، اور اگر وہ چاہتا تو ان کو ایک لمحہ میں پیدا کردیتا، اب رہا اپنی اس قدرت سے عدول تو یہ اپنی مخلوق کو جلدی نہ کرنے (اور نرمی) کی تعلیم کے لئے ہے پھر وہ عرش پر مستوی ہوگیا عرش لغت میں تخت شاہی کو کہتے ہیں وہ رحمٰن ہے رحمٰن استویٰ کی ضمیر سے بدل ہے، اور استویٰ سے وہ استویٰ مراد ہے جو اس کی شایان شان ہے تو رحمٰن (کی شان) کے بارے میں کسی واقف کار سے دریافت کر وہ تجھے اس کی صفات کے بارے میں بتائے گا اور جب کفار مکہ سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا چیز ہے ؟ کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کو تو سجدہ کرنے کا حکم دے رہا ہے تامرنا تا اور یا دونوں کے ساتھ ہے اور فاعل محمد ہیں، حال یہ ہے کہ ہم اس (رحمٰن) کو نہیں جانتے، ہم ایسا نہیں کریں گے، اس قول نے ان کو ایمان سے اور زیادہ نفرت کرنے والا بنادیا۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد اَلَمْ تَرَ تنظر، تَنْظُر سے رویت بصری کی طرف اشارہ ہے نیز اس کی تائید الیٰ سے بھی ہو رہی ہے اس لئے کہ رویت بصری کا صلہ الیٰ آتا ہے۔ قولہ : اِلیٰ ربکَ میں مضاف محذوف ہے اس لئے کہ ذات باری کی رویت دنیا میں ممکن نہیں ہے اس لئے تقدیر عبارت یہ ہوگی اَلَمْ تَرَ اِلیٰ صنِیْعِ رَبِّکَ اور بعض حضرات نے رویت سے رویت قلبی بھی مراد لی ہے اور اَلَمْ تَرَ معنی میں اَلَمْ تَعلَمْ کے لیا ہے اور مخاطب آنحضرت ﷺ اور ہر وہ شخص ہے جو کائنات عالم میں غور و فکر کی صلاحیت رکھتا ہو، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات میں اپنے منفرد بالا لوہیۃ ہونے پر پانچ دلیلیں از قبیل محسوسات بیان فرمائی ہیں (1) اَلَمْ تَرَ کیفَ مَدّ الظِّلَّ (2) ھو الَّذِیْ جَعَلَ لکُم اللَّیل لباسًا (3) ھو الَّذِی اَرْسلَ الرِّیاحَ (4) ھو الَّذِیْ مرجَ البحرینِ (5) ھو الَّذِی خَلَقَ من الماءِ بشرًا۔ قولہ : من وقت الاسفار الیٰ وقت طلوع الشمس مفسر (رح) کے لئے زیادہ مناسب تھا کہ ای من طلوع الفجر الیٰ طلوع الشمس کہتے اور اگر مطلق رکھتے اور کسی بھی قید کے ساتھ مقید نہ کرتے تو اور زیادہ بہتر ہوتا اس لئے کہ رات میں تو زمین کا ظل ہوتا ہے دن میں اشجار وغیرہ کا ظل ہوتا ہے، اسفار کو شاید سہانا وقت ہونے کی وجہ سے خاص کیا ہو، کَیْفَ مَدَّ الظِّلِّ کی تفسیر میں مفسرین کے تین قول ہیں (1) من الفجر الیٰ الشمس (2) من المغرب الیٰ طلوعِ الشمس (3) من طلوع الشمسِ الیٰ زوال الشمس صاحب بحر نے پہلے قول کو جمہور کا قول نقل کیا ہے، اور مفسر علام نے جو تفسیر فرمائی ہے وہ دیگر مفسرین کے موافق نہیں ہے (صاوی وجمل) ۔ قولہ : جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلَ لِبَاسًا اس میں لیل کو لباس سے تشبیہ دی ہے وجہ شبہ ساترہونا ہے حرف تشبیہ اور وجہ شبہ کی حذف کردیا ہے اس کو تشبیہ بلیغ کہتے ہیں، جیسے زیدٌا اسدٌ میں تشبیہ بلیغ ہے۔ قولہ : بُشْرًا اس میں چند قرأتیں ہیں، مفسر علام کے سامنے قرآن کریم کا وہ نسخہ ہے کہ جس میں بُشرًا کے بجائے نُشرًا ہے اس میں چار قرأتین ہیں نُشُرًا، نُشْرًا، نَشْرًا، نَشْرًا، بُشْرًا پہلی اور دوسری نَشُورٌ کی جمع ہیں جیسا کہ رسولٌ کی جمع رُسُلٌ اور رُسْلٌ آتی ہے اور تیسری یعنی نَشْرًا یہ مصدر ہے جس میں واحد اور جمع برابر ہیں اور چوتھی یعنی بُشْرًا بشیرٌ کی جمع ہے خوشخبری دینے والا۔ قولہ : مفرد الاولیٰ ای والثانیۃ یعنی مفسر علام کو اولیٰ کے ساتھ والثانیہ بھی کہنا چاہیے تھا اس لئے پہلی اور دوسری قرأت کا واحد ایک ہی ہے اور وہ ہے نشورٌ اور چوتھی قرأت یعنی بُشْرا کا واحد بشیرٌ ہے، قولہ : مَیْتًا مَیْت اور مَیّتْ میں فرق یہ ہے کہ میْت اس کو کہتے ہیں جو مرچکا ہو اور میت اسے کہتے ہیں جو مرنے والا ہو یا مرنے کے قریب ہو۔ قولہ : یستوی فیہ المذکر والمؤنث یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ بَلْدَۃً موصوف اور مَیْتًا اس کی صفت ہے مَیْتًا کے بجائے مَیْتَۃً ہونا چاہیے تھا تاکہ موصوف اور صفت میں مطابقت ہوجاتی، اس کا ایک جواب تو یہ دیا کہ مَیْت کا اطلاق مذکر اور مؤنث دونوں پر ہوتا ہے، دوسرا جواب وَذَکَّرَہٗ باعتبار المکان مفسر علام کو واؤ کے بجائے اَوْ کہنا چاہیے تھا تاکہ دوسرے جواب کی طرف اشارہ ہوجاتا، دوسرے جواب کا خلاصہ یہ ہے بَلْدۃ، مکان کی تاویل میں ہے لہٰذا میتًا لانا درست ہے۔ قولہ : ونُسْقیَہ اس کا عطف نجییْ پر ہے۔ قولہ : اَنْعَامًا یہ نُسْقِیَّۃٗ کا مفعول ثانی ہے اور خَلَقْنَا پر اَنْعامًا مقدم ہونے کی وجہ سے حال ہے ورنہ تو خَلَقْنَا اَنْعَامًا کی صفت ہے، قاعدہ ہے کہ موصوف اگر نکرہ ہو اور اس کی صفت کو مقدم کردیا گیا ہو تو وہ حال ہوجاتی ہے۔ قولہ : اَنَاسِیّ یہ انسانٌ کی جمع ہے یہ سیبویہ کا مذہب اور یہی راجح ہے اور بعض نے کہا ہے اِنسِیّ کی جمع ہے یہ فراء کا مذہب ہے اور یہ اعتراض سے خالی نہیں ہے اس لئے کہ اِنِسِیٍّ میں یا نسبتی ہے اور جس میں یا نسبتی ہوتی ہے اس کی جمع فعالِیٍّ کے وزن پر نہیں آتی، جیسا کہ ابن مالک نے فرمایا وَاجْعَلْ فَعَالِیٍّ لغیرِ ذِی نَسَبٍ ۔ قولہ : وَلَقَدْ صَرَّفْنَاہٗ ای وَاللہِ لقد صرّفناہٗ ای الماء مفسر علام نے صَرَّفناہٗ کی ہٗ ضمیر کا مرجع ماء قرار دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم نے بارش کو مختلف شہروں اور علاقوں میں مقدار کے اعتبار سے تقسیم کردیا اسی طرح صفت کے اعتبار سے بھی تقسیم کردیا کہیں موسلا دھار ہوتی ہے تو کہیں ہلکی، اسی طرح مختلف اوقات میں تقسیم کردیا، حضرت ابن عباس ؓ سے یہی تفسیر منقول ہے، بعض حضرات نے صَرّفناہٗ کی ہٗ ضمیر کا مرجع قرآن کو قرار دیا ہے اور اس کا قرینہ جاھِدھُمْ بہٖ کو قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے المطر کو مرجع قرار دیا ہے، صاحب جلالین نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، قرآن کو مرجع قرار دینے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے اس قرآن میں مختلف امثال و عنوان سے عمدہ عمدہ مضامین بیان کئے اور مختلف حجج وبراہین سے لوگوں کو سمجھایا تاکہ وہ غور و فکر کریں (صفوۃ التفاسیر ملخصاً ) ۔ قولہ : اَلنَّوْءُ اس کی جمع َنواء آتی ہے اس کے معنی مائل ہونے اور ساقط ہونے کے ہیں یقال نَاءَ بہٖ الجملُ ای اثقلہٗ واَمَالَہٗ بوجھ نے اس کو گراں بار کردیا اور جھکا دیا زمانہ جاہلیت میں عرب کواکب کو موثر حقیقی مانتے تھے اور سردی گرمی نیز بارش وغیرہ کی نسبت بعض نجوم کے طلوع یا غروب کی طرف کرتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ آخر شب میں جب ایک مخصوص تارہ جانب مغرب میں غروب ہوتا ہے اور اس کے بالمقابل مشرق میں اس کا حریف طلوع ہوتا ہے تو بارش ہوتی ہے، یہ لوگ اللہ کو مؤثر حقیقی نہ مان کر نجوم و کواکب کو مؤثر حقیقی مانتے تھے اسی لئے اس کو کفران سے تعبیر کیا ہے (روح البیان ملخصاً ) ۔ قولہ : مَرَجَ (ماضی باب نصر) مُرُوْجٌ آزاد چھوڑنا، جاری کرنا، فُرَات بہت شیریں خوش ذائقہ تسکین بخش (ک) الرَّحْمٰنُ رحمٰن کے مرفوع ہونے کی تین وجہ ہوسکتی ہیں (1) اَلَّذِیْ خَلَقَ الخ مبتداء کی خبر ہو (2) ھو مبتداء محذوف کی خبر ہو (3) استویٰ کی ضمیر سے بدل ہو مفسر (رح) نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ قولہ : فأسأل بہٖ خبیرًا بہٖ خبیرًا سے متعلق ہے، رعایت فواصل کی وجہ سے مقدم کردیا گیا ہے ای فسأل خبیرًا بہ یا اسئل سے متعلق ہے ای اِسئل عنہٗ خبیراً یعنی رحمٰن کی صفات کے بارے میں عالم سے معلوم کرلے۔ قولہ : یُخّبِرُکَ بِصِفَاتِہٖ یہ جواب امر ہے۔ تفسیر و تشریح الم تر۔۔۔۔ مد الظل یہاں اللہ تعالیٰ پھر توحید کے دلائل کا اغاز فرما رہے ہیں، صبح صادق کے بعد سے طلوع شمس تک سب جگہ سایہ رہتا ہے یعنی اس وقت دھوپ نہیں ہوتی اگر حق تعالیٰ سورج کو طولع نہ ہونے دیتا تو یہ سایہ ہی قائم رہتا، مگر اس نے اپنی قدرت سے سوج نکالا جس کی وجہ سے دھوپ پھیلنی شروع ہوئی اور سایہ بتدریج ایک طرف سمٹنے لگا اگر دھوپ نہ آتی تو ہم سایہ کو نہ سمجھ سکتے اس لئے کہ شئ اپنی ضد ہی سے پہچانی جاتی ہے اور ہمیشہ سایہ ہی قائم رہ جاتا ہے۔ وھو الذی ارسل الریح الخ یعنی رات کی تاریکی چادر کی طرح سب پر محیط ہوجاتی ہے جس میں لوگ کاروبار چھوڑ کر آرام کرتے ہیں، جب دن کا اجالا ہوجاتا ہے تو لوگ نیند سے اٹھ کر ادھر ادھر چلنے پھرنے لگتے ہیں، اسی طرح موت کی نیند کے بعد قیامت کی صبح آئے گی جس میں سارا جہاں اٹھ کھڑا ہوگا، اور یہی حالت اس وقت پیش آتی ہے جب انبیاء کرام وحی والہام کی روشنی سے دنیا میں اجالا کرتے ہیں تو جہل و غفلت کی نیند میں سوئی ہوئی مخلوق ایک دم آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ بیٹھتی ہے۔ ھو الذی ارسل الریح یعنی اول برساتی ہوئیں بارش کی خوشخبری لاتی ہیں پر آسمان کی طرف سے پانی برستا ہے جو کہ خود پاک اور دوسروں کو پاک کرنے والا ہے، پانی پڑتے ہی مردہ زمین میں جان پڑجاتی ہے کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور کتنے جانور اور انسان بارش کا پانی پی کر سیراب ہوتے ہیں۔ ولقد صرفناہ بعض نے صَرَّفْنَاہٗ میں ھا کا مرجع قرآن قرار دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن میں عمدہ اور اعلیٰ قسم کے مضامین اور ضرب الامثال اور نصیحتیں مختلف عنوان سے بار بار بیان فرمائی ہیں تاکہ اہل عقل و دانش اس میں غور کریں اور خدا کی توحید کے قائل ہوجائیں اور بعض حضرات نے ھا کا مرجع بارش کو قرار دیا ہے، جیسا کہ مفسر علام کی رائے بھی یہی ہے مطلب یہ ہے کہ بارش کو ہم پھیر پھیر کر برساتے ہیں یعنی کبھی ایک علاقہ میں اور کبھی دوسرے علاقہ میں حتی کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ شہر کے ایک حصہ میں بارش ہوتی ہے اور دوسرے حصہ میں نہیں ہوتی کبھی ایک علاقہ میں زیادہ ہوئی اور دوسرے علاقہ میں کم، اور کبھی اس کا برعکس ہوتا ہے، یہ سب اس کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتا ہے اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگ اس کی وحدت اور قدرت کے قائل ہوجائیں اور اس کی نعمت کے شکر گزار ہوں، لیکن بہت سے لوگ پھر بھی نہیں سمجھتے اور نعمت الٰہی کا شکریہ ادا نہیں کرتے، الٹے کفر اور ناشکری پر اتر آتے ہیں، مثلاً یہ کہ بارش کو مشیت الٰہی کے بجائے ستاروں کی گردش یا کسی ستارے کے غروب و طلوع کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جیسا کہ اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔ ولو شئنا لبعثنا الخ مطلب یہ ہے کہ نبی کا آنا کوئی تعجب کی بات نہیں اللہ اگر چاہے تو اب بھی نبیوں کی کثرت کر دے کہ ہر بستی میں علیحدہ علیحدہ نبی ہو مگر اس کو منظور ہی یہ ہوا کہ اب آخر میں سارے جہاں کے لئے اکیلئے محمد ﷺ کو نبی بنا کر بھیجے تاکہ تمام نبیوں کا اجر آپ ہی کو ملے سو آپ کافروں کی احمقانہ طعن وتشنیع اور سفیہانہ نکتہ چینیوں کی طرف التفات نہ کریں، اپنا کام پوری قوت اور تندہی سے انجام دئیے جائیں اللہ آپ کو کامیاب کرنے والا ہے۔ وھو الذی مرج البحرین لفظ مَرَجَ آزاد چھوڑنے کے معنی میں آتا ہے، اسی وجہ سے مَرَجْ چراگاہ کو کہتے ہیں جہاں جانور آزادی سے چل پھر کر چر سکیں، عَذْبٌ میٹھے پانی کو کہتے ہیں فرات خوش ذائقہ اور خوشگوار تسکین بخش کو کہتے ہیں مِلْحٌ نمکین کو کہتے ہیں اُجَاج تیز اور تلخ کو کہتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے اپنے فضل اور حکمت بالغہ سے دنیا میں دو قسم کے پانی پیدا فرمائے ہیں، بحر محیط جو کہ زمین کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں، زمین جو کہ کرۂ ارض کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے اور باقی تین حصہ پانی ہے بحرمحیط کا پانی بتقاضائے حکمت نہایت نمکین اور بدمزہ ہے زمین کے آباد حصہ پر بارش کے پانی کے چشمے، ندیاں، نہریں اور بڑے بڑے دریا ہیں یہ سب میٹھے خوشگوار اور خوش ذائقہ ہیں انسان کو اپنے پینے اور روزمرہ کے استعمال کے لئے شیریں پانی کی ضرورت ہے، جو حق تعالیٰ نے زمین کے آباد حصہ میں مختلف صورتوں میں مہیا فرمایا ہے، لیکن بحر محیط کا پانی اگر شیریں ہوتا تو پوری دنیا میں تعفن پیدا ہوجاتا اور تمام جاندار تعفن اور بدبو کی وجہ سے مرجاتے، اسلئے کہ میٹھے پانی کا خاصہ ہے کہ بہت جلد سڑ جاتا ہے خصوصاً سمندر کہ جس کی مخلوق خشکی کی مخلوق سے کہیں زیادہ ہیں جو سمندر ہی میں مرتے گلتے سڑتے ہیں اور تمام روئے زمین سے بہہ کر جانے والی گندگیاں سب سمندر میں جاکر مل جاتی ہیں اگر سمندر کا پانی میٹھا ہوتا تو دو چار روز ہی میں سڑ جاتا جس کی بدبو سے نہ صرف یہ کہ اہل زمین کو بدبو کی وجہ سے رہنا مشکل ہوجاتا بلکہ فضاء کی آلودگی کی وجہ سے کسی جاندار کا زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا، اس لئے حکمت خداوندی نے سمندری پانی کو اتنا نمکین اور کڑوا اور تیز بنادیا کہ دنیا بھر کی گندگیاں اس میں جاکر بھسم ہوجاتی ہیں خود اس میں رہنے والی مخلوق جو اسی میں مرتی ہیں وہ بھی سڑنے نہیں پاتیں۔ وجعل بینھما برزخا وہ ایسی قدرت والا ہے جس نے دو دریاؤں کو (صورۃً ) ملایا جن میں ایک کا پانی نہایت شیریں تسکین بخش ہے اور دوسرے کا نمکین اور کڑوا، اختلاط صوری کے باوجود اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے ایک حجاب اور قوی مانع رکھ دیا ہے، ان دو دریاؤں سے وہ مواقع مراد ہیں جہاں شیریں ندیاں سمندر میں جاکر گرتی ہیں، باوجود یکہ دونوں کی اوپری سطح ایک معلوم ہوتی ہے لیکن قدرت الٰہیہ نے ان کے درمیان ایک ایسی حد فاصل رکھ دی ہے کہ متقی کی ایک جانب اگر پانی لیا جائے تو شیریں اور دوسری جانب جو کہ اول جانب سے بالکل قریب ہے پانی لیا جائے تو تلخ دنیا میں جہاں بھی شیریں پانی کی ندیاں سمندر میں گرتی ہیں اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ میلوں دور تک شیریں اور کھارا پانی دور تک الگ الگ چلتے ہیں ان ہی مقامات میں سے ایک مقام آرکان اور چاٹگام تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کی دو جانبیں بالکل الگ الگ نوعیت کے دو دریا نظر آتے ہیں، ایک کا پانی سفید ہے اور ایک کا سیاہ، سیاہ میں سمندر تلاطم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے دونوں کے درمیان ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے جو دونوں کا ملتقی ہے (معارف القرآن ملخصاً ) نسب سے وہ رشتہ داریاں مراد ہیں جو باپ یا ماں کی طرف سے ہوتی ہیں اور صہر سے وہ قرابتداریاں مراد ہیں جو شادی کے بعد بیوی کی طرف سے ہوں جس کو عرف میں سسرالی رشتے کہتے ہیں۔ قل ما اسئلکم علیہ من اجر اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ ایمان کی دعوت اور اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے کا میں تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا اور نہ اس میں میرا کوئی ذاتی فائدہ ہے، اگر میرا کوئی فائدہ ہے تو یہ کہ تم رب کا راستہ اختیار کرلو، اور یہ بات ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص راہ مستقیم اختیار کرلے تو یہ اسی کا فائدہ ہے، اس فائدہ کو اپنا فائدہ قرار دینا یہ پیغمبرانہ شفقت کی طرف اشارہ ہے کہ میں تمہارے فائدہ کو اپنا فائدہ سمجھ رہا ہوں، اور یہ بھی احتمال ہے اس کو اپنا فائدہ اس لحاظ سے فرمایا ہو کہ اس کا اجر آپ ﷺ کو ملے گا جیسا کہ احادیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی کو نیک کاموں کی ہدایت کرتا ہے اور وہ اس کے کہنے کے مطابق نیک عمل کرے تو اس کے عمل کا ثواب خود کرنے والے کو بھی پورا پورا ملے گا اور اتنا ہی ثواب ہدایت کرنے والے شخص کو بھی۔ (مظہری) واذا قیل۔۔۔ للرحمن، رحمٰن اور رحیم اللہ کی صفات اور اسماء حسنیٰ میں سے ہیں لیکن عرب اللہ کو ان ناموں سے نہیں جانتے تھے، جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب نبی کریم ﷺ نے معاہدہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا تھا تو مشرکین مکہ نے کہا تھا کہ ہم رحمٰن و رحیم کو نہیں جانتے، باسمک اللہ لکھو۔