Ayahs 24:1–10بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور (اس کے احکام) کو مقرر کیا ہے تخفیف اور تشدید کے ساتھ (مشدد سے اشارہ کثرت احکام کی طرف ہے) اس لئے کہ اس سورت میں احکام کثرت سے ہیں اور ہم نے اس (سورت) میں صاف صاف احکام نازل کئے ہیں جو کہ واضح الدلالت ہیں تاکہ تم یاد رکھو تاثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد جو کہ شادی شدہ نہ ہو، اس لئے کہ شادی شدی مرد عورت کیلئے رجم ثابت ہے، اور الف لام (الزانیۃ اور الزانی) میں موصولہ (بمعنی الذی ہے) اور وہ مبتدا ہے اور اس کے مشابہ بالشرط ہونے کی وجہ سے اس پر فا داخل ہے اور وہ (خبر) فاجلدوا ہے ہر ایک کو ان میں سے سو سو کوڑے مارو یعنی کوڑے کی مار مارو کہا جاتا ہے جَلَدَہٗ ضَرَبَ جلدَہٗ اور زیادہ کیا جائے گا اس پر ایک سال کی جلاوطنی کو حدیث کی وجہ سے اور غلام کو مذکور (سزا) کی آدھی سزا ہے اور تم لوگوں کو ان دونوں پر اللہ کے معاملہ میں ذرا رحم نہ آنا چاہیے بایں طور کہ ان کی سزا میں سے کچھ چھوڑ دو اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو یعنی یوم بعث پر اس میں آمادہ کرنا ہے ماقبل شرط پر اور وہ جواب شرط ہے یا دال علی جواب الشرط ہے اور دونوں کی سزا کے وقت کوڑے لگاتے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہیے کہا گیا ہے کہ تین ہوں اور کہا گیا ہے چار ہوں جو کہ زنا کے گواہوں کی تعداد ہے، زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے اور سے عقد نکاح نہیں کرتا اور زانیہ بھی بجز زانی یا مشرک کے اور سے نکاح نہیں کرتی یعنی دونوں میں سے ہر ایک کے مناسب وہی ہے جو مذکور ہوا اور یہ یعنی زانیوں کا نکاح بھی مومنوں پر حرام کردیا گیا ہے یہ (حکم) اس وقت نازل ہوا جب فقراء مہاجرین نے یہ ارادہ کیا کہ زوانی مشرکات سے نکاح کریں حال یہ ہے کہ وہ مالدار تھیں تاکہ ان پر وہ خرچ کریں، کہا گیا ہے کہ تحریم انہیں کے ساتھ خاص ہے اور کہا گیا ہے کہ عام ہے (مگر) اللہ تعالیٰ کے قول وَانْکِحُوْا الاَیَامی منکم کے ذریعہ منسوخ کردی گئی اور جو لوگ تہمت لگائیں پاکدامن عورتوں پر زنا کی، اور ان کے زنا پر چشم دید چار گواہ نہ لاسکیں تو ماروان میں سے ہر ایک کو اسی کوڑے اور نہ قبول کرو ان کی شہادت کسی معاملہ میں کبھی بھی اور یہ لوگ فاسق ہیں، مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ کرلیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں، تو اللہ تعالیٰ ضرور مغفرت کرتے ہیں ان کے بہتان لگانے کو اور ان کے دل میں توبہ کا الہام کرکے رحمت کرنے والے ہیں سو اس توبہ کے ذریعہ ان کا فسق ختم ہوجائے گا اور ان کی شہادت قبول کی جائے گے اور کہا گیا ہے کہ قبول نہیں کی جائے گی، استثناء کو جملہ اخیرہ (یعنی اولئک ھم الفاسقون) کی طرف راجع کرتے ہوئے اور وہ لوگ جو اپنی بیبیوں کو زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس زنا پر اپنے سوا گواہ نہ ہوں، تو ایسے شخص کی گواہی کی یہ صورت ہے کہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کر یقیناً میں سچا ہوں اور قذف کا یہ معاملہ صحابہ کی ایک جماعت کو پیش آیا تھا شھادۃ احدھم مبتدا ہے (اربَعَ شَھاداتٍ ) مصدریہ (یعنی مفعول ہونے کی) وجہ سے منصوب ہے، اس تہمت زنا میں جو میں نے اپنی بیوی پر لگائی ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر خدا کی لعنت ہو اگر میں اس تہمت میں جھوٹا ہوں اور مبتداء کی خبر یَدْفَعُ عنہ حدَّ القذفِ (محذوف) ہے اور اس عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے یعنی وہ حد زنا جو اس کے شوہر کی شہادت سے ثابت ہوئی ہے کہ وہ چار مرتبہ قسم کھا کر کہے کہ بیشک یہ مرد اس تہمت لگانے میں سچا ہو اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل اور اس کا کرم ہے اس معاملہ میں پردہ پوشی کرکے اور یہ کہ اللہ اس معاملہ میں اور دیگر معاملوں میں توبہ کو قبول کرکے بہت زیادہ توبہ کا قبول کرنے والا (ورنہ تو تم بڑی مضرتوں میں پڑجاتے) اور حکمت والا ہے جو بھی اس نے اس معاملہ میں اور دیگر معاملات میں حکم صادر فرمایا ہے اس معاملہ میں حق کو بیان فرما دیا اور مستحق عقوبت کیلئے سزا میں جلدی فرمائی۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
ھذہ سورة ۔۔۔۔ وفرضناھا ھٰذِہٖ کی تقدیر سے اشارہ کردیا کہ سورة مبتداء محذوف کی خبر ہے ھٰذہ کا مرجع اگرچہ سابق میں مذکور نہیں ہے مگر چونکہ ذکر کے قریب ہے جو کہ حاضر کے حکم میں ہے لہٰذا اضمار قبل الذکر کا شبہ لازم نہیں آتا (جمل) اور یہ بھی صحیح ہے کہ سورة مبتداء ہو اور جملہ اَنْزَلْنَاھَا اس کی صفت اور اسی صفت کی وجہ سے نکرہ کا مبتداء بننا درست ہے، اس کی خبر میں دو صورتیں ہیں اول یہ کہ الزانیۃ والزانی جملہ ہو کر خبر ہو، جیسا کہ ابن عطیہ کا یہی خیال ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ خبر محذوف ہو ای فیما یتلیٰ علیکم بعد سورة ٌ، اَنْزَلْنَا کا تکرار کمال اہتمام اور غایت اعتناء کی وجہ سے ہے۔ قولہ : آیاتٍ بیناتٍ سے مراد دلائل وحدانیت ہیں، اس سورت کے شروع میں حدود اور چند احکام کا ذکر فرمایا ہے اور آخر سورت میں دلائل توحید ذکر فرمائے ہیں۔
قولہ : فَرَضْنَا سے احکام کی طرف اشارہ ہے اور قولہ : وانزلنا فیھا آیاتٍ بیناتٍ سے ادلہ کی طرف اشارہ ہے قولہ : یتذکرون اولاً تا کو قریب المخرج ہونے کی وجہ سے دال سے بدلا پھر دال کو ذال سے بدلا اور ذال کو ذال میں ادغام کردیا، یَذَّکَّرون ہوگیا، قولہ : الزانیۃ والزانی مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، ای فیما یتلیٰ علیکم بعد یا پھر فاجلدوا خبر ہے اور مبتداء کی متضمن بمعنی الشرط ہونے کی وجہ سے خبر پر فا داخل ہے الزانیۃ والزانی میں الف لام چونکہ بمعنی الذی اسم موصول ہے جس کی وجہ سے مبتداء متضمن بمعنی الشرط ہے جب مبتداء متضمن بمعنی الشرط ہو تو خبر متضمن بمعنی الجزاء ہوتی ہے جس کی وجہ سے خبر پر فا داخل ہوتی ہے۔ قولہ : فی ھٰذا تحریض علی ما قبل الشرط الخ اللہ تعالیٰ کے قول ان کنتم تومنون باللہ (الآیہ) اس آیت میں ماقبل شرط یعنی ولا تاخذ کم بھمارأفۃ پر آمادہ کرنا ہے یعنی اگر تمہارے اندر ایمان ہے تو اللہ کے احکام کے بارے میں کسی کی رعایت نہ کرو اور نہ کسی پر رحم و ترس کھاؤ، اہل کوفہ ولا تاخذکم بھما رأفۃ (الآیہ) کو جزاء مقدم مانتے ہیں اور اہل بصرہ جزاء کو محذوف مانتے ہیں اور مذکورہ آیت کو دال پر جزاء مانتے ہیں، جو الفاظ دال بر جزاء ہیں وہی جزاء محذوف ہوگی۔ قولہ : وَلِیشھَدْ امر ندب کیلئے ہے۔ قولہ : قیل ثلاثہ وقیل اربعۃ مذکورہ دونوں قول امام شافعی (رح) کے ہیں، یعنی کوڑے مارنے کے وقت تین یا چار اشخاص موجود رہیں امام مالک (رح) نے فرمایا کہ چار یا اس سے زیادہ ہونے چاہئیں، امام نخعی اور مجاہد نیز امام احمد رحمہم اللہ نے فرمایا کہ کم ازمکم دو آدمی ہونے چاہئیں۔
قولہ : المناسب لکل منھما یہ ان لوگوں کیلئے زجروتنبیہ ہے جو زوانی سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قولہ : الَایَامٰی اَیْمٌ کی جمع ہے غیر شوہر دار عورت کو کہتے ہیں خواہ باکرہ ہو یا ثیبہ اور غیر بیوی دار مرد کو کہتے ہیں۔ قولہ : والذین یَرْمون المحصنٰت مبتداء ہے، اس کی تین خبریں ہیں (1) فاجلدوھم ثمانین جَلٌدۃً (2) ولا تقبلوا لھم شھادۃً ابدًا (3) واولئک ھم الفٰسقون۔ قولہ : الا الذین تابو (الآیہ) امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ استثناء ماقبل کے دونوں جملوں یعنی لا تَقٌبَلُوا لھم شھادۃ اور اولئک ھم الفاسقون سے ہے لہٰذا اگر کسی عفیف یا عفیفہ کو زنا کی تہمت لگانے والا سچے دل سے توبہ کرلے اور آئندہ کیلئے اپنے اعمال کی اصلاح کرلے تو ان حضرات کے نزدیک اس شخص کی آئندہ شہادت بھی قبول کی جائے گی اور فسق بھی ختم ہوجائے گا، امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک استثناء جملہ اخیرہ یعنی اولٰئک ھم الفاسقون کی طرف راجع ہے، لہٰذا زنا کی تہمت لگانے والے کا فسق تو ختم ہوجائے گا مگر اس کی شہادت قبول نہ ہوگی، قولہ : وقع ذٰلک لجماعۃ من الصحابۃ یعنی بیوی کو زنا کی تہمت لگانے کا معاملہ تین صحابہ کے ساتھ پیش آیا تھا (1) ہلال بن امیہ (2) عویمر العجلانی (3) عاصم بن عدی (جمل) ۔
قولہ : فَشَھادَۃُ اَحَدِھِمْ اس کے مرفوع ہونے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں (1) یہ کہ مبتداء ہو اور اس کی خبر محذوف ہو خواہ مقدم جیسے فَعَلَیْھِمْ شھادَۃُ اَحَدِھِمْ یا مؤخر ہو جیسا کہ فَشَھَادَۃُ اَحَدِھِمْ کائنۃً (2) مبتداء محذوف کی خبر ہو ای فالوا جب شھادۃُ احدھم (3) فعل مقدر کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو، ای فَیَکْفِیْ شَھَادَۃُ اَحْدِھِمْ ایک چوتھی ترکیب مبتداء خبر ہونے کی وہ بھی ہے جس کو علامہ محلی نے اختیار کیا ہے یعنی فشھادۃُ احدِھم اربعُ شھاداتٍ مبتداء، تدفع عنہ حدَّ القذفِ اس کی خبر ہے، مگر قاضی ثناء اللہ نے اس صورت کو قیل سے ذکر فرمایا ہے جو کہ ضعف کی طرف اشارہ ہے، جمہور نے اَرْبَعَ کو مصدریت یعنی مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب پڑھا ہے اور عامل مصدر شھادۃ ہے اور اَرْبَعَ موصوف محذوف کی صفت ہے ای فشھادۃ احدِھم شھادۃً اربَعَ شھاداتٍ باللہِ ۔
خلاصہ : فَشَھَادَۃُ اَحْدِھِمْ مصدر اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے ای یَشْھد احدُھم اس کے مرفوع ہونے کی دو صورتیں ہیں (1) مبتداء محذوف کی خبر ہو، تقدیر عبارت یہ ہوگی فَالوَاجِبُ شَھَادَۃُ اَحدِھِمْ (2) فشھادۃُ اَحدِھم مبتداء اور اس کی خبر محذوف، ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی فَعَلَیْھم شھادۃُ احدھم۔ قولہ : اَرْبَعُ مبتداء کی خبر ہونے کی وجہ سے رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے فشھادۃُ احدِھم مبتداء اَرْبعُ شھاداتٍ باللہ اس کی خبر، اس صورت میں حذف کی ضرورت نہیں۔
جمہور کے نزدیک اَرْبَعَ نصب کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، ای اَنْ یشھد احدھم اربَعَ شَھَاداتٍ ۔ قولہ : باللہِ بصریین کی نزدیک شھاداتٍ سے متعلق ہے قرب کی وجہ سے اور کو فیین کے نزدیک شھادۃ سے متعلق ہے اس لئے کہ وہ مقدم ہے۔ قولہ : اِنَّہٗ یہ شہادۃ یا شہادات کا معمول ہے ای یشھد علیٰ اَنَّہٗ صادقٌ علیٰ کو حذف کردیا گیا اَنَّ کے فتحہ کو کسرہ سے بدل دیا گیا، اور عامل کو لام تاکید کی وجہ سے عمل سے روک دیا گیا۔ قولہ : وَالخَامِسَۃ مبتداء ہے اور ان لعنۃ اللہ علیہ اس کی خبر ہے تقدیر عبارت یہ ہے والشھادۃ الخامسۃ أن لعنۃ اللہِ علیہ۔ قولہ : أن تشھَدَ یہ یَدْرَءُ کا فاعل ہے۔ قولہ : لولا فضل اللہ لو لا کا جواب محذوف ہے ای لولا فضل اللہ لَفَضَحَکُمْ او لَھَلَکْتُمْ ۔
تفسیر و تشریح
اس سورة کی پہلی آیت تو بطور تمہید کے ہے جس سے اس سورة میں بیان کردہ احکام کا خاص اہتمام بیان کرنا مقصود ہے، بدکاری کی سزا ابتداء اسلام میں عبوری طور پر جو بیان کی گئی تھی وہ سورة نساء آیت 15 /16 میں بیان ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس کے لئے جب تک مستقل سزا مقررنہ کی جائے سردست ان بدکار عورتوں کو گھروں میں بند رکھو وَالّٰتِیْ یَاْ تِیْنَ الفَا حِشَۃََمِنْ نِّسَائِکُمْ (الآیہ) ان آیتوں میں ایک تو ثبوت زناکا خاص طریقہ چار مردوں کی شہادت کا ہونا بیان فرمایا ہے دوسرے بطور سزا عورت کو گھر میں قید رکھنا اور زانی وزانیہ کو ایذاء پہنچانا مزکور ہے اور ساتھ ہی اس میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ یہ حکم آخری نہیں ہے آئندہ کچھ اور حکم آنے والا ہے جس کی طرف او یَجْعَلَ اللہ لَھُنَّ سَبِیْلاً سے اشارہ فرمادیا، جب سورة نور کی یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا تھا اس کے مطابق زانی اور زانیہ کی مستقل سزا مقرر کردی گئی ہے وہ تم مجھ سے سیکھ لو اور وہ یہ ہے کنوارے مرد اور عورت کے لئے سو سو کوڑے اور شادی شدہ مرد عورت کے لئے سنگساری کے ذریعہ مار دینا ہے (صحیح مسلم کتاب الحدودباب حدالزنا)
چارجر موں کی سزا خود شارع نے متعین کی ہے قاضی یا حاکم کے حوالہ نہیں فرمایا : قرآن کریم اور احادیث متوارترہ نے چارجرائم کی سزا اور اس کا طریقہ خود متعین کردیا ہے جس قاضی یا امیر کی رائے پر نہیں چھوڑا انہیں متعینہ سزاؤں کو اصطلاح میں حدود کہا جاتا ہے، ان کے علاوہ جن سزاؤں کو قاضی یا امیر کی رائے پر چھوڑا ہے کہ مجرم کی حالت اور جرم کی حیثیت ماحول وغیرہ کے مجموعہ پر نظر رکھ کر جس قدرسزا دینے کو انسداد جرم کے لئے کا فی سمجھے وہ سزادے سکتا ہے ایسی سزاؤں کو شریعت کی اصطلاح میں تعزیرات کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم نے زانی اور زانیہ کی سزاکو اس طرح بیان فرمایا ہے الزانیہ الزانی فاجلد واکل واحد منھما مأۃ جلدۃ اس میں زانیہ کو مقدم اور زانی کو مؤخر رکھا گیا ہے عام قرآنی اسلوب یہ ہے کہ قرآن عام طور پر مردوں کو مخاطب کرتا ہے عورتیں اس میں خود مخود شامل ہوجاتی ہیں یااَیُّھا الذین آمنوا جیسے الفاظ سے بھی معلوم ہوتا ہے، مگر یہاں نہ صرف یہ کہ مردوں کو مخاطب نہیں کیا گیا بلکہ عورتوں کو مؤخر رکھا گیا ہے، شاید حکمت اس میں یہ ہو کہ فعل زنا ایک ایسی بےحیائی ہے جس کا صدور عورت کی طرف سے ہونا انتہائی بےباکی اور بےحیائی سے ہوسکتا ہے کیونکہ قدرت نے فطری طور پر اس کی فطرت میں ایک حیارکھی ہے اور اپنی عفت کی حفاظت کا ایک جذبہ رکھا ہے ایسی صورت میں اس کی طرف سے اس فعل کا صدوربہ نسبت مرد کے زیادہ اشد ہے۔
فاجلدوا یہ جِلْدٌ سے مشتق ہے اس کے معنی کوڑے مانا ہیں کوڑا چونکہ عموماً چمڑے سے بنایا جاتا ہے اس لئے اس کو جلدۃ کہتے ہیں، بعض مفسرین نے فرمایا کہ لفظ جَلد سے تعبیر کرنے میں اس طرح اشارہ ہے کہ کوڑوں کی ضرب کا اثر صرف جلد تک رہنا چاہیے گوشت تک نہ پہنچا جائے، خود رسول اللہ ﷺ نے کوڑے لگانے کی سزا میں توسط اور اعتدال کی تلقین فرمائی ہے کہ کوڑا نہ بہت سخت ہو جس سے گوشت تک ادھڑ جائے اور نہ بہت نرم ہو کہ اس سے کوئی خاص تکلیف ہی نہ پہنچے، سورة نور کی اس آیت نے مرد و عورت کی سزا سو کوڑے فرما دی، حضرت ابن عباس ؓ نے سو کوڑے مارنے کی سزا غیر شادہ شدہ مرد و عورت کے لئے مخصوص قرار دے کر فرمایا یعنی الرجم للثیب والجلد للبکر (صحیح بخاری کتاب التفسیر ص 657)
سورة نور کی مذکورہ آیت میں تو بغیر کسی تفصیل کے زنا کی سزا سو کوڑے مذکور ہے اس سزا کا غیر شادی شدہ مرد و عورت کے ساتھ مخصوص ہونا اور شادی شدہ کیلئے سنگساری کی سزا حدیث میں مذکور ہے، صحیح مسلم، مسند احمد، سنن نسائی، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ میں حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی روایت سے اس طرح منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لھُنَّ سبیلا البکر بالبکر جلد مأۃ وتغریب عام والثیب بالثیب جلد مأۃ والرجم۔
مجھ سے علم حاصل کرلو کہ اللہ تعالیٰ نے زانی مرد و زانی عورت کیلئے وہ سبیل جس کا وعدہ سورة نساء میں ہوا تھا اب سورة نور میں پورا فرما دیا وہ یہ ہے کہ غیر شادی شدہ مرد و عورت کیلئے سو کوڑے اور سال بھر جلا وطنی اور شادی شدہ مرد و عورت کیلئے سو کوڑے اور رجم۔
غیر شادی شدہ مرد و عورت کیلئے سورة نور میں جو سو کوڑوں کی سزا کا ذکر ہے ایک حدیث میں اس کے ساتھ ایک مزید سزا یعنی مرد کے لئے ایک سال کی جلاوطنی بھی مذکور ہے، فقہاء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ ایک سال کی جلاوطنی کی سزا سو کوڑوں کی طرح لازمی ہے یا پھر قاضی کی صواب دید پر موقوف ہے امام صاحب (رح) کے نزدیک قاضی کی صوابدید پر موقوف ہے، اس حدیث میں دوسری بات یہ بھی ہے کہ شادی شدہ مردو عورت کیلئے سنگساری سے پہلے سو کوڑوں کی سزا بھی مذکور ہے، مگر دوسری روایات حدیث اور نبی کریم ﷺ اور اکثر خلفاء راشدین کے تعامل سے ثابت یہ ہے کہ یہ دونوں سزائیں جمع نہیں ہوں گی شادی شدہ پر صرف سزائے سنگساری جاری کی جائے گی، مگر یہ حدیث چونکہ سورة نور کی آیت کی تفسیر ہے جس میں مذکورہ سزا اور مزید برآں ایک سال کی جلاوطنی اور شادی شدہ کیلئے رجم مذکور ہے لہٰذا یہ بھی وحی الٰہی کے ذریعہ سزا ہوگی لہٰذا آپ ﷺ سے براہ راست سننے والوں کیلئے وحی متلو اور غیر متلو دونوں کا ایک ہی حکم ہوگا خود رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کے مجمع عام میں اس پر عمل فرمایا، حضرت ماعزا سلمی اور غامد یہ پر سزائے رجم و سنگساری جاری فرمائی۔ (معارف)
ملاحظہ : شادی شدہ اور غیر شادی شدہ یہ الفاظ ایک آسان تعبیر کی حیثیت سے اختیار کئے گئے ہیں ورنہ اصلی شرعی اصطلاح محضن اور غیر محصن یا ثیب و بکر ہے، محصن کی تعریف اصل میں یہ ہے کہ جس شخص نے نکاح صحیح کے ساتھ اپنی بیوی سے مباشرت کرلی ہو اور عاقل وبالغ ہو۔
سزاء زنا میں تدریج : مذکورہ بالا روایات حدیث اور آیات قرآن میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء زنا کی سزا ہلکی رکھی گئی تھی کہ قاضی یا امیر اپنی صوابدید پر اس جرم کے مرتکب مرد یا عورت کو ایذا پہنچائے، اور عورت کو گھر میں مقید رکھا جائے جیسا کہ سورة نساء میں اس کا حکم آیا ہے دوسرا دور وہ ہے جو سورة نور کی اس آیت میں آیات ہے کہ دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں، تیسرا درجہ وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے آیت مذکورہ نازل ہونے کے بعد ارشاد فرمایا کہ سو کوڑوں کی سزا پر ان لوگوں کیلئے اکتفاء کیا جائے جو شادی شدہ نہ ہوں اور شادی شدہ مرد عورت اس کے مرتکب ہوں تو ان کی سزا رجم و سنگساری ہے۔ (معارف)
اسلامی قانون میں جس جرم کی سزا سخت ہے
اس کے ثبوت کیلئے شرائظ بھی سخت ہیں : زنا کی سزا اسلام میں سب جرائم کی سزاؤں سے زیادہ سخت ہے اس کے ساتھ اسلام میں اس کے ثبوت کے لئے شرائط بھی بہت زیادہ سخت ہیں جن میں ذرا بھی کمی رہے یا شبہ پیدا ہوجائے تو زنا کی انتہائی سزا جس کو حد کہتے ہیں وہ معاف ہوجاتی ہے صرف تعزیری سزا بقدر جرم باقی رہ جاتی ہے، زنا کی حد ضروری کرنے کے لئے چار مرد عادل گواہوں کی عینی شہادت جس میں کوئی التباس نہ ہو ضروری ہے، حالانکہ دیگر معاملات میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کافی ہوتی ہے دوسری احتیاط اور شدت اس شہادت میں یہ ہے کہ اگر زنا کی شہادت کسی شرط کے مفقود ہونے کی وجہ سے رد کی گئی تو پھر شہادت دینے والوں کی خیر نہیں، ان پر قذف یعنی زنا کی جھوٹی تہمت کا جرم عائد ہو کر حد قذف اسّی کوڑے لگائے جائیں گے، اس لئے ذرا بھی شبہ ہونے کی صورت میں کوئی شخص اس کی شہادت پر اقدام نہیں کرسکتا، البتہ جس صورت میں صریح زنا کا ثبوت نہ ہو مگر شہادت سے دو مرد و عورت کا غیر مشروع حالت میں دیکھنا ثابت ہوجائے تو قاضی ان کے جرم کی حیثیت کے مطابق تعزیری سزا کوڑے وغیرہ لگانے کی جاری کرسکتا ہے، زنا کی سزا کے مفصل احکام و شرائط کتب فقہ میں مذکور ہیں دیکھ لئے جائیں۔
قولہ : لا تاخذکُمْ بِھِمَا رأفۃً فِی دین اللہ رأفَۃً ترس، شفقت، رحمت، نرمی رأفَ یَرأفُ (ف) رأفۃً مصدر ہے، زنا کی سزا چونکہ بہت سخت ہے اور اس کا احتمال ہے کہ سزا جاری کرنے والوں کو ان پر رحم آجائے، سزا کو چھوڑ بیٹھیں یا کم کردیں اس لئے اس کے ساتھ یہ حکم بھی دیا گیا کہ دین کے اس اہم فریضہ کی ادائیگی میں مجرموں پر رحم اور ترس کھانا جائز نہیں، رأفت و رحمت اور عفو و کرم ہر جگہ محمود ہے مگر مجرموں پر رحم کھانے کا نتیجہ تمام مخلوق خدا کے ساتھ بےرحمی ہے اس لئے ممنوع اور ناجائز ہے۔
الزانی۔۔۔۔ مشرکۃ (الآیہ) زنا کے متعلق دوسرا حکم۔۔۔ ہیلا حکم زنا کی سزا سے متعلق تھا جو اس سے پہلی آیت میں بیان ہوچکا ہے، یہ دوسرا حکم زانی اور زانیہ سے نکاح کرنے کے متعلق ہے، اسی کے ساتھ مشرک مرد یا عورت سے نکاح کا بھی حکم ذکر کیا گیا ہے، اس آیت کی تفسیر میں ائمہ تفسیر کے اقوال بہت مختلف ہیں، ان سب میں آسان تر یہ ہے کہ آیت کے شروع حصہ میں کوئی شرعی حکم نہیں بلکہ ایک عام مشاہدہ اور تجربہ کا بیان ہے جس میں زنا کا فعل خبیث ہونا اور اس کے اثرات کی دور رس مضرتوں کا ذکر ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ زنا ایک اخلاقی زہر ہے اس کے زہریلے اثرات سے انسان کا اخلاقی مزاج ہی بگڑ جاتا ہے، اسے بھلے برے کی تمیز نہیں رہتی بلکہ برائی اور خباثت ہی مرغوب ہوجاتی ہے، لہٰذا جو مرد یا عورت اس خبیث عادت میں مبتلا ہیں وہ اس لائق نہیں رہتے کہ کسی عفیف مسلمان سے ان کا رشتہ ازدواج و ہمبستری قائم کیا جائے، ان کی پلید طبیعت اور میلان کے مناسب تو یہ ہے کہ ایسے ہی کسی بدکار تباہ حال مرد و عورت سے یا ان سے بھی بدتر مشرک و مشرکہ سے ان کا تعلق ہو کما قال اللہ تعالیٰ الَخبیثات للخبیثین (الآیہ) ان کی خبیث طبیعت کا اصلی تقاضہ تو یہی تھا یہ الگ بات ہے کہ حق تعالیٰ نے دوسری مصالح اور حکم کی بنا پر کسی
مسلمان کا مشرک و مشرکہ سے عقد جائز نہیں رکھا، یا مثلاً بدکار مرد کا پاکباز عورت سے نکاح ہوجائے تو اس کو باطل نہیں ٹھہرایا۔
قولہ : نَزَلَ ذٰلکَ لَمَّا ھمَّ فَقَراء المھاجِرِینَ انْ یَّتَزَوَّجُوْا بَغَایَا المشرکِیٌنَ مفسر علام نے اس عبارت سے مذکور آیت کے شان نزول کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : بَغَایَا جمع بَغِیٍّ زنا کار، بدکار عورت، تفسیر مظہری میں علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) نے اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں کئی واقعات نقل فرمائے ہیں۔
پہلا واقعہ : ابو داؤد، ترمذی، نسائی، حاکم کے حوالہ سے حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے نقل کیا ہے، جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ایک شخص جس کا نام مرثد ابن ابی مرثد الغنوی تھا وہ مکہ سے مدینہ لوگوں کو لانے لیجانے کا کام کرتا تھا مکہ میں عناق نامی ایک (بازاری) عورت تھی اس سے ان کے تعلقات تھے ان صاحب نے آنحضرت ﷺ سے اس عورت سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی آپ نے اس وقت کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ مذکورہ آیت نازل ہوئی، تو آپ ﷺ نے مرثد کو یہ آیت پڑھ کر سنائی۔
دوسرا واقعہ : نسائی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک عورت جس کا نام ام مہزول تھا جس کا بدکاری کا پیشہ تھا، اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے ایک شخص نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
تیسرا واقعہ : بغوی نے کہا ہے جب لوگ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو ان میں کچھ فقراء اور نادار قسم کے لوگ بھی تھے اور مدینہ میں ان کا کوئی عزیز یا رشتہ دار بھی نہیں تھا، اور مدینہ میں کچھ پیشہ ور عورتیں بھی تھیں اور ساتھ ہی خوشحال بھی تھیں، بعض فقراء نے ان سے نکاح کا ارادہ کیا تاکہ وہ ان کے مال سے فائدہ اٹھائیں، چناچہ ان حضرات نے آپ ﷺ سے ان سے نکاح کی اجازت طلب کی تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
والذین۔۔۔ المحصنت (الآیہ) اس آیت میں کسی اجنبی کو تہمت زنا لگانے کا بیان ہے اس لئے کہ اپنی بیوی کو تہمت زنا لگانے کا مسئلہ آئندہ آیت میں آرہا ہے، اور تہمت عام ہے خواہ مرد عورت کو لگائے یا عورت مرد کو یا عورت عورت کو یا مرد مرد کو سب کا حکم ایک ہی ہے، زنا کی تہمت کو اگر چار چشم دید گواہوں کے ذریعہ ثابت نہ کرسکے تو مقذوف کے مطالبہ پر قاذف کو اسی کوڑے لگائے جائیں اور آئندہ ہمیشہ کیلئے معاملات میں مردود الشہادت قرار دیا جائے، حنفیہ کے نزدیک توبہ کے بعد بھی اس کی شہادت معاملات میں قبول نہیں کی جاسکتی۔
والذین۔۔۔ ازواجھم (الآیہ) اس آیت میں مسئلہ لعان کو بیان کیا گیا ہے، لعان کے معنی ایک دوسرے پر لعنت کرنے اور غضب الٰہی کی بددعا کرنے کے ہیں اصطلاح شرع میں بیوی اور شوہر کو چند خاص قسم کی قسمیں دینے کو لعان کہا جاتا ہے جو بیوی پر تہمت زنا دو طریقہ سے لگائی جاسکتی ہے اول یہ کہ صراحتاً تہمت زنا لگائے اور چار عینی گواہوں سے ثابت نہ کرسکے، یا اپنے بچہ کے بارے میں کہے کہ یہ میرے نطفہ سے نہیں ہے، جو شخص اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اولاً اس سے چار گواہ طلب کئے جائیں، اگر پیش کر دے تو عورت پر حد زنا جاری کی جائے گی، اور اگر گواہ نہ لاسکے تو اس سے کہا جائے گا کہ چار مرتبہ قسم کھا کر بیان کرے کہ وہ اپنے دعوے میں سچا ہے اور آخر میں پانچویں مرتبہ یہ الفاظ کہنے ہوں گے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت اور پھٹکار، اگر شوہر مذکورہ بالا الفاظ کہنے سے انکار کرے تو حبس کردیا جائے گا اور حاکم اس کو مجبور کرے گا کہ یا تو اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرے، اور حد قذف کے لئے تیار ہوجائے یا پانچ مرتبہ وہی الفاظ کہے جو اوپر گذر چکے ہیں، اگر کہہ لے تو پھر عورت سے کہا جائے کہ وہ بھی چار مرتبہ قسم کھا کر بیان کرے کہ یہ مرد تہمت لگانے میں جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ میں یہ الفاظ کہے کہ اللہ کا غضب ہو اس پر اگر یہ مرد اپنے دعوے میں سچا ہوتا وقتیکہ عورت یہ الفاظ نہ کہے گی اس کو بھی قید میں رکھیں گے اور مجبور کریں گے کہ یا تو صاف طور پر مرد کے دعوے کی تصدیق کرے اگر تصدیق کر دے تو اس پر حد زنا جاری کردی جائے گی یا بالفاظ مذکورہ اس کی تکذیب کرے اگر عورت نے بھی مرد کی طرح یہ الفاظ کہہ دئیے اور لعان مکمل ہوگیا تو اس عورت سے جماع اور دواعی جماع سب حرام ہوجائیں گے، پھر اگر مرد نے اس کو طلاق دیدی تو فبہا ورنہ قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کر دے گا گو دونوں رضا مند نہ ہوں اور یہ تفریق طلاق بائن کے حکم میں ہوئی۔
Ayahs 24:11–20آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا کہ میں ایک غزوہ میں نزول حجاب کے بعد آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تھی، چناچہ جب آپ ﷺ غزوہ سے فارغ ہوگئے اور آپ ﷺ واپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچے اور رات کو کوچ کرنے کا اعلان کردیا تو میں قضائے حاجت کے لئے چلی گئی اور حاجت سے فراغت کے بعد کجاوہ کی طرف متوجہ ہوئی تو اچانک مجھے معلوم ہوا کہ میرا ہار ٹوٹ کر (کہیں) گرگیا ہے عِقْدٌ عین مہملہ کے کسرہ کے ساتھ ہار کو کہتے ہیں تو میں ہار تلاش کرنے کیلئے واپس چلی گئی، حال یہ ہے کہ لوگوں نے میرا ہودج یہ سمجھتے ہوئے کہ میں ہودج میں موجود ہوں میرے اونٹ پر رکھدیا، ہودج اس کجاوہ کو کہتے ہیں جس میں سوار ہوا جاتا ہے اور عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں اس لئے کہ کھانا کم کھاتی تھیں، عُلْقہ عین مہملہ کے ضمہ اور لام کے سکون کے ساتھ قلیل کھانے کو کہتے ہیں (ادھر یہ ہوا) کہ میرا ہار مل کیا، اور اہل قافلہ کے روانہ جانے کے بعد میں (اپنی جگہ) واپس آئی، چناچہ میں اسی جگہ (آکر) بیٹھ گئی جہاں تھی اور مجھے اس بات کا گمان غالب تھا کہ جب لوگ مجھ کو نہ پائیں گے تو میری طرف واپس آئیں گے، چناچہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوگیا جس کی وجہ سے میں سوگئی، اور صفوان ابن معطل لشکر کے پیچھے آخر شب میں قیام کرتے تھے چناچہ (صفوان) رات کے آخری حصہ میں روانہ ہوئے تو صبح کے وقت میری منزل پر پہنچے، قولہ : عَرَّسَ اور الدَّلَجَ را اور دال کے تشدید کے ساتھ ہے (عَرَّسَ کے معنی آخر شب میں استراحت کیلئے قیام کرنا اِدّلَجَ بمعنی روانہ ہونا) تو اس نے ایک سوتے ہوئے شخص کا جثہ دیکھا چناچہ مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا اس لئے کہ اس نے مجھے حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے دیکھا تھا، چناچہ مجھے پہچاننے کے وقت ان کے استرجاع یعنی اِنَّا للہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کی وجہ سے میں بیدا ہوئی تو میں نے اپنی چادر سے اپنا چہرہ چھپالیا، واللہ نہ تو اس نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے اس سے سوائے استرجاع کے کوئی بات سنی، اس نے اپنی اونٹنی بٹھا دی اور اس کا ہاتھ دبا لیا (تاکہ جلدی کھڑی نہ ہوجائے) جب میں اس پر سوار ہوگئی تو وہ میری اونٹنی کی نکیل پکڑ کرلیکر چلے حتی کہ ہم لشکر میں پہنچ گئے، بعد اس کے کہ وہ لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت شدید گرمی میں داخل ہوتے ہوئے فرد کش ہوچکے تھے موغرین اَوْغَرَ سے مشتق یعنی سخت گرمی کے وقت گرم جگہ میں فرد کش ہونے والے تھے، چناچہ میرے بارے میں جس کو ہلاک ہونا تھا ہلاک ہوا اور وہ شخص جس نے اس معاملہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا عبداللہ بن ابی بن سلول تھا، حضرت عائشہ ؓ کا کلام پورا ہوا، روایت کیا ہے اس کو شیخان نے، قال اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا کچھ اس نے اس معاملہ میں کیا اور اس شخص کیلئے جس نے ان میں سے (اس معاملہ میں) سب سے زیادہ حصہ لیا یعنی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بایں طور کہ اس معاملہ میں کھود کر ید کی اور اس کو شہرت دی، وہ عبد الہہ بن ابی ہے اس کے لئے بڑا عذاب ہے اور وہ آخرت میں آگ ہے جب لوگوں نے بہتان تراشی کو سنا تھا تو مسلمان مردوں اور عورتوں نے آپس میں ایک دوسرے کیلئے اچھا گمان کیوں نہ کیا ؟ اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح جھوٹ ہے ؟ اس میں خطاب سے (غیبت کی طرف) التفات ہے (ظن المؤمنون الخ) ظننتم وقلتم ایھا العصبۃ کے معنی میں ہے اور ان لوگوں نے اس بہتان پر چار گواہ عینی کیوں پیش نہیں کئے ؟ جب یہ لوگ گواہ پیش نہ کرسکے تو یہ لوگ اللہ کے نزدیک یعنی اس کے حکم میں اس معاملہ میں جھوٹے ہیں اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا دنیا و آخرت میں فضل و کرم نہ ہوتا تو جس شغل میں تم پڑے تھے یعنی کھود کرید کر رہے تھے اس کی وجہ سے تم کو آخرت میں سخت عذاب لاحق ہوتا جب کہ تم اس بہتان کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے یعنی ایک دوسرے سے روایت کر رہے تھے، فعل (یعنی تلقونہ) سے دو تاؤں میں سے ایک تا کو حذف کردیا گیا ہے اور اِذ مَسَّکُمْ یا اَفَضْتُمْ کی وجہ سے منصوب ہے اور تم اپنے منہ سے ایسی بات نکال رہے تھے کہ جس کے بارے میں تم کو مطلق علم نہیں تھا اور تم اس کو ایک معمولی بات کہ اس میں کوئی گناہ ہی نہ ہو سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک گناہ کے اعتبار سے بڑی بھاری بات تھی اور جب تم نے اس کو سنا تھا تو یوں نہ کہا کہ ہم کو زیبا نہیں کہ ایسی بات منہ سے بھی نکالیں معاذ اللہ یہ تو بڑا بہتان ہے سُبْحَانکَ تعجب کیلئے ہے، اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے یعنی منع کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسی حرکت مت کرنا اگر تم مومن ہو تو اس سے نصیحت قبول کرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے لئے امر و نہی کے ساف صاف احکام بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کا حکم کرتا ہے اور جس سے منع کرتا ہے اس کے بارے میں بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کا چرچا ہو اس بےحیائی کو ان کی طرف منسوب کرکے (اور ان چرچا کرنے والوں کی) ایک چھوٹی سی جماعت ہے، ان لوگوں کیلئے دنیا میں حد قذف کا اور آخرت میں نار کا حق اللہ ہونے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے اللہ تعالیٰ ان سے بےحیائی کے التفاء کو بخوبی جانتا ہے اور (اے تہمت لگانے والی) جماعت تم اس بےحیائی کے وجود کو ان میں نہیں جانتے اور اگر اے لوگو ! تم پر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو وہ حقیقت حال کو ظاہر کردیتا اور مستحق سزا پر مواخذہ کرنے میں جلدی کرتا بیشک اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں اور اس کے علاوہ میں توبہ قبول کرنے کی وجہ سے بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے اور اس حکم میں جو اس نے اس معاملہ میں اور اس کے علاوہ میں کیا حکمت والا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
ان الذین جاؤا بالإفک یہاں سے افک سے متعلق اٹھارہ آیتوں کا ذکر شروع ہو رہا ہے اِفْک لغت میں پلٹ دینے اور بدل دینے کو کہتے ہیں بدترین جھوٹ جو حق کو باطل سے اور باطل کو حق سے بدل دے، پاکباز متقی کو فاسق اور فاسق کو متقی و پرہیزگار بنا دے اسی جھوٹ کو افک کہتے ہیں عُصبۃ مختصر جماعت کو کہتے ہیں تعداد کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ قولہ : لاتحسبوہ اس کے مخاطب آپ ﷺ اور ابوبکر، عائشہ و صفوان ہیں مقصد ان حضرات کو تسلی دینا۔ قولہ : مَنْ جاء مِنہٗ مَنْ سے صفوان ابن معطل السمیِّ مراد ہیں اور مِنْہُ کی ض ﷺ یر کا مرجع افک ہے اور جار مجرور برأۃ سے متعلق ہے۔
قولہ : فی غزوۃٍ مراد غزوہ بنی مصطلق ہے جس کو مریسیع بھی کہا جاتا ہے صحیح اور راجح قول کے مطابق 5 ھ میں پیش آیا تھا۔
قولہ : بعد ما انزل الحجاب حجاب سے مراد آیت حجاب یعنی وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ متَاعًا فاسئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابِ ہے۔
قولہ : قد عَرَّسَ تعریس، النزول فی آخر اللیل للاستراحۃ۔ قولہ : اِدَّلَجَ واِدَّلاجً آخر شب میں سفر کرنا۔ قولہ : ھُما بتشدید الراءِ والدالِ عَرَّسَ وَاِدَّلَجَ کے بارے میں لف و نشر کے طور پر اشارہ کردیا کہ عَرَّس میں را اور اِدَّلَجَ میں دال دونوں مشدد ہیں۔
قولہ : ای نزل مِن آخر اللیل للاستراحۃ یہ عرّس کی تفسیر ہے اور قولہ : فَسَارَ منہ اِدّلَجَ کی تفسیر ہے مِنْہٗ ای آخر اللیل ادَّلَجَ مِنہ ای ساَر مِن آخر اللیل حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے الفاظ کی تشریح کیلئے مفسر علام نے درمیان میں تشریحی الفاظ کا اضافہ فرمایا ہے ورنہ تو اصل عبارت اس طرح ہے کان صفوان قد عَرَّس مِن وراء الجیش فادَّلَجَ منہٗ فاصبَحَ فی منزلی۔
قولہ : موغرینَ یہ وَغرٌ سے مشتق ہے وغرٌ شدید گرمی کو کہتے ہیں۔ قولہ : بالملأۃ وہ چادر جو جسم کو چھپالے مُوغِرِین ای داخلین فی شدۃ الحر۔ قولہ : فی نحر الظھیرۃ ٹھیک دوپہر کے وقت قولہ : سلُول یہ عبداللہ ابن اَبَیّ کی ماں کا نام ہے۔ قولہ : لکلِّ امرئ مفسر علام نے علیہ سے تفسیر کرکے اشارہ کردیا کہ لام بمعنی علیٰ ہے۔ قولہ : لَوْ لاَ ھَلاَّ اِذْ سَمِعْتمُوہ یہ لولا توبیخیہ ہے اس لئے کہ ماضی پر داخل ہے، لولا تین قسم کا ہوتا ہے (1) جب ماضی پر داخل ہو تو توبیخیہ ہوتا ہے اور جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو تحضیضیہ ہوتا ہے اور جب جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے تو امتناعیہ ہوتا ہے، یہاں لولا چھ جگہ استعمال ہوا ہے اول، ثانی اور رابع توبیخیہ ہے اس لئے جواب کی ضرورت نہیں اور تیسرا اور پانچواں اور چھٹا شرطیہ (امتناعیہ ہے) تیسرے اور چھٹے مقام پر جواب مذکور ہے اور پانچویں مقام پر جواب محذوف ہے (صاوی) ۔ قولہ : بانفسھم ای ابناء جنسھم فی الایمان یعنی اپنے ایمانی بھائیوں کے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں کیا ؟ فیہ التفات عن الخطاب الی الغیبۃ اِذ سمِعْتمُوہ کے مطابق ظنّ المومنون اور قالوا کے بجائے ظننتم اور قلتم ہونا چاہیے، مذکورہ دونوں صیغوں میں دو قسم کا التفات ہوا ہے اول تو حاضر سے غائب کی جانب اور دوسرے ضمیر سے اسم ظاہر کی جانب، اس التفات کا مقصد توبیخ میں مبالغہ کرنا ہے، اس طریقہ پر ایمان کا تقاضہ یہ تھا کہ تم اپنے بھائیوں کے بارے میں حسن ظن رکھتے ثہ جائیکہ تم لوگوں نے طعنہ زنی اور عیب چینی شروع کردی تم کو تو اپنے بھائیوں کا اسی طرح دفاع کرنا چاہیے تھا جس طرح تم خود اپنا دفاع کرتے ہو، تقدیر عبارت یہ ہے لولا اِذ سمعتُموہُ ظننتم ایّھا المومنوں والمومنات باخوانھم خیراً وھلاّ قلتُم ھٰذا افکٌ مبینٌ۔
قولہ : لولا ھلاَّ جاؤا علیہ (الآیہ) یہ کلام سابق کا تتمہ بھی ہوسکتا ہے یعنی مومنین اور مومنات نے افتراء کرنے والوں اے افتراء پر چار گواہوں کا مطالبہ کیوں نہیں کیا ؟ یعنی بہتان کو سننے کے بعد جس طرح آپس میں حسن ظن ضروری تھا اسی طرح افتراء پردازوں سے چار گواہوں کا مطالبہ ضروری تھا ای وقالوا ھلاَّ جاؤا الخائضون باریعۃ شھداء علی ما قالوا دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ لولا جاؤا (الآیہ) جملہ استینافیہ ہو، اس صورت میں قالوا محذوف ماننے کی ضرورت نہ ہوگی۔ قولہ : ای فی حکمہٖ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کا جواب ہے، شبہ یہ ہے کہ افتراء پردازوں کو عند اللہ اس لئے کاذب کہا گیا ہے کہ وہ چار عینی شاہد پیش نہیں کرسکے حالانکہ اگر وہ چار عینی شاہد پیش بھی کردیتے تب بھی کاذب ہی تھے، جواب یہ ہے کہ گواہ پیش نہ کرنے کی صورت میں کہ بحکم شرع کاذب تھے اور اگر وہ چار گواہ پیش کردیتے تو اس وقت حکم شرعی میں بظاہر صادق ہوتے، اللہ تعالیٰ کو چونکہ ان کی ظاہراً اور باطناً تکذیب منظور تھی اس لئے چار گواہوں کا مطالبہ کیا تاکہ ان کا کذب خوب ظاہر ہوجائے۔ قولہ : لولا فضل اللہ علیکم میں لولا امتناعیہ ہے اس کا جواب لمَسَّکُمْ ہے۔ قولہ : فیما اَفَضْتُمْ فی بمعنی سبب ہے ای بسبب ما اَفَضْتُمْ اور ما موصولہ ہے مراد حدیث افک ہے ای لَمَسَّکُمْ بسبب الذی خُضْتُمْ فیہ وھو الإفک اور ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ای لَمسَّکُمْ بسبب خوضکم فیہ ای الافک۔ قولہ : وَلَوْلاَ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ اِذْ ، قُلْتُمْ کا ظرف مقدم ہے، یعنی تمہارے لئے یہ مناسب تھا کہ بہتان کو سنتے ہی کہ دیتے کہ ایسی باتیں کرنا ہمارے لئے ہرگز مناسب نہیں۔
قولہ : یَنْھَاکُمْ اَنْ تَعُوْدُوْا الخ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یَعِظُکُم فعل متعدی بعن کے معنی کو متضمن ہے پھر عن کو حذف کردیا گیا ای یَنْھَاکُمْ عن العود أن مصدریہ ہے جس کی وجہ تَعُوْدُوْا بمعنی عَوْدٌ ہے۔ قولہ : تتعِظونَ بذٰلک یہ جملہ مومنین کی صفت ہے یعنی اگر تم نصیحت قبول کرنے والے مومن ہو تو ایسی حرکت دوبارہ نہ کرو گے، جواب شرط محذوف ہے ای ان کنتم مومنین فلا تعودوْا لمثلہٖ ۔ قولہ : باللسان اس کے اضافہ کا مقصد یہ ہے کہ افترا پردازوں کو یہ بات پسند تھی کہ فحش بات کا زبانی چرچا ہو نہ کہ حقیقت میں فحش کی اشاعت ہو۔ قولہ : بِنِسبتِھا الیھم، الیھم سے مراد حضرت عائشہ اور حضرت صفوان ہیں اور وھم عصبۃ مراد وہ لوگ جو فحش بات کی اشاعت پسند کرتے تھے۔ قولہ : لھم عذابٌ الیمٌ انّ کی خبر ہے۔ قولہ : وَانَّ اللہَ رَؤفٗ رَّحِیْمٌ کا عطف فضل اللہ پر ہے اور لَعَاجَلَکُمْ لولا کا جواب ہے، معطوف و معطوف علیہ سے ملکر مبتداء ہے اس کی خبر محذوف ہے اور وہ موجودان ہے۔
تفسیر و تشریح
ان الذین۔۔۔ (الآیہ) یہاں سے اس طوفان کا ذکر ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اٹھایا گیا تھا، واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اطلاع ملی کہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار نے مدینہ پر حملہ کرنے کے ارادہ سے بہت سی فوج جمع کی ہے، یہ غزوہ راجح قول کے مطابق 2 شعبان بروز دو شنبہ 5 ھ میں پیش آیا تھا (سیرۃ مصطفیٰ ) غزوہ بنی مصطلق کو غزوہ مریسیع بھی کہتے ہیں، آپ ﷺ نے اس خبر کی تصدیق کیلئے بریدہ بن حُصَیْب کو بھیجا، حضرت بریدہ نے آکر خبر کی تصدیق کی آپ نے صحابہ کو خروج کا حکم فرمایا مدینہ میں زید بن حارثہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا ازواج مطہرات میں سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ آپ کے ہمراہ تھیں، ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ بھی ساتھ تھیں، اس غزوہ میں بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا جن میں دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں شامل تھیں، دو گھرانے قید ہوئے قیدیوں میں بنی مصطلق کے سردار حارث بن ضرار کی صاحبزادی جویریہ بھی تھیں جو کہ تقسیم مال غنیمت کے وقت حضرت ثابت بن قیس ؓ کے حصہ میں آئیں، حضرت ثابت ؓ نے ان کو مکاتب بنادیا تھا، بدل کتابت کے سلسلہ میں جویریہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ ﷺ نے فرمایا میں تم کو اس سے بہتر چیز بتلاتا ہوں اگر تم پسند کرو، وہ یہ کہ میں تمہاری طرف سے بدل کتابت ادا کرکے تم کو آزاد کر دوں اور اپنی زوجیت میں لے لوں، جویریہ نے عرض کیا میں اس پر راضی ہوں چناچہ آپ ﷺ نے اپنی زوجیت میں لے لیا۔ (رواہ ابو داؤد)
واپسی پر آپ ایک منزل ہر فرد کش ہوئے، لشکر میں کوچ کرنے کا اعلان کرا دیا گیا تاکہ لوگ اپنی ضروریات سے فارغ ہوجائیں، چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بھی قضائے حاجت کیلئے لشکر سے دور چلی گئیں، جب واپس ہونے لگیں تو ہار ٹوٹ گیا جو یمانی نگینوں کا تھا، ان کے جمع کرنے میں دیر ہوگئی قافلہ تیار تھا، حجاب کا حکم چونکہ نازل ہوچکا تھا جس کی وجہ سے حضرت عائشہ ہودج میں سفر کر رہی تھیں اور ہودج پر پردے پڑے ہوئے تھے، ہودج برداروں نے یہ سمجھ کر کہ ام المومنین ہودج میں ہیں ہودج کو انٹ پر رکھ دیا اور اونٹ کو ہانک دیا، اس وقت عورتیں عموماً دبلی پتلی ہوتی تھیں خاص طور پر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ چونکہ صغیر السن تھیں اس وجہ سے بھی دبلی پتلی تھیں ادھر ہودج اٹھانے والے کئی افراد تھے جس کی وجہ سے ہودج کے خالی ہونے کا احساس نہ ہوسکا، حضرت عائشہ ؓ جب ہار لیکر لشکر گاہ واپس آئیں تو لشکر روانہ ہوچکا تھا وہاں کوئی نہیں تھا، یہ خیال کرکے کہ جب آئندہ مقام پر آپ ﷺ مجھے نہ پائیں گے تو اسی جگہ میری تلاش کیلئے کسی کو روانہ فرمائیں گے، اسی جگہ چادر لپیٹ کرلیٹ گئیں، اور نیند آگئی، حضرت صفوان بن معطل ؓ گرے پڑے کی خبر گیری کے لئے لشکر کے پیچھے رہا کرتے تھے، وہ صبح کے وقت اس مقام پر پہنچے جہاں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سو رہی تھیں دیکھا کہ کوئی پڑا سو رہا ہے جب قریب آکر دیکھا تو پہچان لیا کہ یہ تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہیں اور زور سے اِنَّا للہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا حضرت عائشہ ؓ کی اس آواز سے آنکھ کھل گئی اور چادر سے منہ ڈھانپ لیا، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں وَاللہِ ما کلمنی کلمۃ ولا سمعت منہ کلمۃ غیر استرجاعہٖ خدا کی قسم صفوان نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ان کی زبان سے سوائے اِنَّاللہِ کے میں نے کوئی کلمہ سنا، حضرت صفوان ؓ نے اپنا اونٹ قریب لاکر بٹھا دیا حضرت عائشہ ؓ اونٹ پر سوار ہوگئیں اور حضرت صفوان ؓ اونٹ کی نکیل پکڑ کر پاپیادہ روانہ ہوگئے اور ٹھیک دوپہر کے وقت قافلہ سے جا ملے، عبداللہ بن ابی بڑا خبیث بد باطن اور رسول اللہ ﷺ کا دشمن تھا، اسے ایک بات ہاتھ لگ لگئی اور بدبخت نے واہی تباہی بکنا شروع کردیا اور بعض بھولے بھالے مسلمان بھی مثلاً مردوں میں حضرت حسان حضرت مسطح اور عورتوں میں حضرت حمنہ بنت جحش منافقوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس قسم کے افسوس ناک تذکرے کرنے لگے، تمام مسلمانوں کو اور خود آنحضرت ﷺ کو ان چرچوں سے بیحد صدمہ تھا، تقریباً ایک مہینہ تک یہی چرچہ رہا، مگر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس سے بالکل بیخبر تھیں، اسی دوران حضرت عائشہ ؓ بیمار ہوگئیں، آپ ﷺ تشریف لاتے اور مزاج پرسی کرکے تشریف لے جاتے، رسول اللہ ﷺ کے اس تلطف میں کمی آجانے کی وجہ سے جو سابقہ بیماریوں میں مبذول رہی دل کو خلجان اور تردد تھا کہ کیا بات ہے کہ آپ گھر میں تشریف لاتے ہیں اور دوسروں سے میرا حال دریافت کرکے واپس تشریف لیجاتے ہیں مجھ سے دریافت نہیں فرماتے، آپ ﷺ کی اس بےالتفاتی کی وجہ سے میری تکلیف میں اور اضافہ ہوتا ہے، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک روز رات کو میں اور ام مسطح قضائے حاجت کیلئے جنگل کی طرف چلے، عرب کا قدیم دستور یہی تھا کہ بدبو کی وجہ سے گھروں میں بیت الخلاء نہیں بناتے تھے، راستہ میں ام مسطح کا پیر چادر میں الجھ گیا جس کی وجہ سے وہ گرگئیں اس وقت ام مسطح کے منہ سے نکلا تَعِسَ مسطح مسطح ہلاک ہو، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا آپ ایسے شخص کو کیوں برا کہتی ہیں جو بددری ہے، ام مسطح نے کہا اے بھولی بھالی لڑکی تم کو قصہ کی خبر نہیں حضرت عائشہ ؓ نے معلوم کیا کہ قصہ کیا ہے ؟ مسطح نے پورا سنایا یہ سنتے ہی مرض میں اور شدت آگئی رات دن روتی رہتی تھیں، ایک لمحہ کیلئے بھی آنسو نہ تھمتے تھے، ہشام بن عروہ کی روایت کے مطابق بغیر قضائے حاجت کے واپس آگئیں، حضرت عائشہ ؓ فرماتی کہ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت چاہی تاکہ ماں باپ کے ذریعہ اس واقعہ کی تحقیق کروں، آپ نے اجازت دیدی، میں اپنے والدین کے یہاں آگئی اور اپنی والدہ سے کہا اے اماں تم کو معلوم ہے کہ لوگ میری بابت کیا کہتے ہیں، ماں نے کہا اے بیٹی تو رنج نہ کر دنیا کا قاعدہ ہی یہ ہے کہ جو عورت خوبصورت اور خوب سیرت اور اپنے شوہر کے نزدیک بلند مرتبت ہوتی ہے تو حس کرنے والی عورتیں اس کے ضرر کے درپے ہوجاتی ہیں، جب نزول وحی میں تاخیر ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ اور اسامہ سے مشورہ کیا حضرت اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ آپ کے اہل ہیں جو آپ کی شایان شان اور منصب نبوت و رسالت کے مناسب ہیں ان کی عصمت و عفت کا پوچھنا ہی کیا ہے آپ کے حرم محترم کی طہارت و نزاہت تو اظہر من الشمس ہے اس میں رائے مشورہ کی کیا ضرورت ہے اور اگر آپ ہمارا ہی خیال معلوم کرنا چاہتے ہیں تو عرض یہ ہے وَمَا نعلم اِلاَّ خیراً ہمارے علم کے اعتبار سے آپ کے اہل میں خیر کے سوا کچھ نہیں۔
حضرت علی ؓ نھے آنحضرت ﷺ کے رنج و غم کے خیال سے یہ عرض کیا یَا رسُولَ اللہِ لَمْ یضیق اللہ علیک وَالنِّساء سواھا کثیرٌ واِنْ تسأل الجَاریَۃَ تصدقک یا رسول اللہ ! اللہ نے آپ پر تنگی نہیں فرمائی عورتیں اس کے سوا بہت ہیں آپ اگر گھر کی باندی سے دریافت فرمائیں تو وہ سچ سچ بتادے گی، غرض کہ آپ ﷺ نے حضرت بریرہ ؓ کو بلوایا اور صورت حال معلوم کی، حضرت بریرہ ؓ نے عرض کیا ” قوم اس ذات پاک کی جس نے آپ کو حق دیکر بھیجا میں نے عائشہ کی کوئی بات معیوب اور قابل گرفت کبھی نہیں دیکھی “ الاّ یہ کہ وہ ایک کمسن لڑکی ہے، آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر سو جاتی ہے بکری کا بچہ آکر اسے کھا جاتا ہے یعنی وہ تو اس قدر بیخبر اور بھولی بھالی ہے کہ اسے تو آٹے دال کی بھی خبر نہیں وہ دنیا کی ان چالاکیوں کو کیسے جان سکتی ہے۔
آپ ﷺ بریرہ ؓ کی بات سن کر مسجد میں تشریف لے گئے اور منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا اول خدا کی حمد بیان فرمائی بعد
ازاں عبداللہ بن ابی کا ذکر کرے یہ ارشاد فرمایا : ” اے گروہ مسلمین کون ہے جو میری اس شخص کے مقابلہ میں مدد کرے جس نے مجھ کو میرے اہل بیت کے بارے میں ایذاء پہنچائی ہے، خدا کی قسم میں نے اپنے اہل سے سوائے نیکی اور پاک دامنی کے کچھ نہیں دیکھا اور علیٰ ھٰذا جس شخص کا ان لوگوں نے نام لیا ہے اس سے بھی سوائے خیر کے کچھ نہیں دیکھا “ (سیرت مصطفیٰ ملخصاً )
آخر کار حضرت صدیقہ کی برأت میں خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سورة نور کی یہ آیتیں اِنَ الَّذِیْنَ جَاؤا بِالإفکِ الخ نازل فرمائیں جس پر حضرت عائشہ صدیقہ فخر کیا کرتے تھی مزید تفصیل کیلئے بخاری شریف کی طرف رجوع کریں۔
قولہ : لِکُلِّ امْرِءٍ مِنْھُمْ ای علیہ لکل میں لام بمعنی علی ہے جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کیا ہے یعنی تہمت لگانے والی جماعت کے ہر فرد کیلئے اس کے جرم کی مقدار سزا ملے گی اوپر کی آیت میں خائضین فی الإفک کا بیان تھا، اس آیت میں ان کو نو طریقہ سے تعبیر اور توبیخ فرمائی ہے، ان میں پہلا لَولَا اِذْ سمِعْتُمُوْہُ ہے اور نواں یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطٰنِ الخ ہے، لَوْ لاَ توبیخیہ ہے اور اِذْ ظَنَّ کا ظرف ہے۔ قولہ : ای ظَنَنْتُمْ اَیُّھَا العصبۃ وقلتم اس عبارت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ آیت میں خطاب سے غیبت کی جانب التفات ہے اور ظَنَّ بمعنی ظَنَنْتُمْ اور قالوا بمعنی قُلْتُمْ ہے۔ قولہ : لَوْ لاَ ھَلاَّ جاؤا اس میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ یہ جملہ مستانفہ ہے تب تو ماقبل سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا اور اگر یہ کلام ما قبل کا تتمہ ہے تو لولا کے تحت میں داخل ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ اس افتراء اور بہتان کو سنتے ہی بہتر گمان کرنا چاہیے تھا اور اس افتراء پر چار عینی شاہدوں کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔
قولہ : لَوْ لاَ فَضْلُ اللہِ علَیْکُمْ یعنی یہ طوفان تو ایسا اٹھا تھا کہ نہ معلوم کون کون اس طوفان کی زد میں آتے لیکن اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے تم میں سے تائبین کی توبہ کو قبول فرمایا اور بعض کو حد شرعی جاری کرکے پاک کیا اور جو زیادہ خبیث تھے ان کو ایک گونہ مہلت دی ان کیلئے آخرت میں شدید عذاب ہے۔