24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 24:35–40

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف و شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کیے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح و شام اسکی تسبیح کرتے رہیں

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خریدو فروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے اور جس کو چاہتا ہے خدا بیشمار رزق دیتا ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال (کی مثال ایسی ہے) جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اسکے پاس آئے تو اسے کچھ نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اس کا حساب پورا پورا چکا دے اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چلی آتی ہو اور اسکے اوپر اور لہر (آ رہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکا لے تو کچھ دیکھ نہ سکے اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی )

آیت نمبر 35 تا 40 ترجمہ : اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے یعنی ان دونوں کو شمس و قمر کے ذریعہ منور کرنے والا ہے اور اس کے نور کی مثال یعنی اس کی صفت قلب مومن میں ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہے زُجَاجَۃٌ بمعنی قندیل اور المصباح بمعنی چراغ یعنی جلتی ہوئی بتی (شعلہ) اور المشکوٰۃ بمعنی طاق جو آرپار نہ ہو یعنی قندیل کی نلکی (پائپ) اور وہ قندیل حال یہ کہ اس میں نور ہو ایسا ہے جیسا کہ روشن ستارہ دال کے کسرہ کے ساتھ اور دال کے ضمہ کے ساتھ (اس وقت) دَرْءٌ سے مشتق ہوگا اور معنی دفع کرنے کے ہوں گے اس کے تاریکی کو دفع کرنے کی وجہ سے، اور دال کے ضمہ اور یا کی تشدید کے ساتھ (دُرِّیٌ) دُرٌّ کی طرف منسوب ہوگا اور معنی ہوں گے موتی تَوَفَّدَ ماضی ۂتفعَّلَ ) ای تَوَفَّدَ المصباحُ اور ایک قرأۃ میں اَوْقَدَ سے مضارع مجہول ہے یُوْقَدُ (اس وقت نائب فاعل المصباح ہوگا) اور تیسری قرأۃ میں تا کے ساتھ ہے ای تُوْقَدُ اس وقت نائب فاعل الزجاجہ ہوگا، روشن کیا جاتا ہے وہ چراغ ایک مبارک درخت کے قیل سے جو کہ وہ زیتون کا ہے وہ درخت نہ شرقی اور نہ غربی بلکہ ان کے درمیان میں واقع ہے چناچہ وہ گرمی اور سردی اس (درخت) پر مضر ہو کر واقع نہیں ہوتی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل اپنی صفائی کی وجہ سے جل اٹھے گا اگرچہ اس کو آگ نہ چھوئے وہ زیت آگ کی وجہ سے نورٌ علیٰ نورٍ ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نور یعنی دین اسلام تک رہنمائی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کیلئے مثال بیان فرماتا ہے ان کی عقلوں سے قریب کرنے کیلئے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ایمان لائیں اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے اور اسی (علم) میں سے مثالیں بیان کرنا بھی ہے اور ان گھروں میں اس کی تسبیح بیان کی جاتی ہے جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کی توحید کے ساتھ اس کا نام لیا جائے فِی بُیُوتٍ آنے والے یُسبِّحُ کے متعلق ہے یُسبِّحُ کی یاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور یُسَبَّحُ کے معنی یُصَلّٰی کے ہیں صبح کے وقت الغُدُوُّ مصدر بمعنی غَدَوات کے ہے بمعنی تڑکے اور شام کے وقت زوال کے بعد رجالٌ یُسَبَحُ کا فاعل ہے با کے کسرہ کی صورت میں اور اگر با کے فتحہ کے ساتھ ہو تو لہٗ میں ہٗ ضمیر اس کا نائب فاعل ہوگی، اور رجالٌ فعل مقدر کا فاعل ہوگا، اور سوال مقدر کا جواب ہوگا، گویا کہ سوال کیا گیا کون تسبیح بیان کرے ؟ تو جواب دیا گیا، رِجَالٌ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کو اللہ کے ذکر سے اور اقامت صلوٰۃ سے اور اداء زکوٰۃ سے نہ خرید غفلت میں ڈالتی ہے اور نہ فروخت اقام کے آخر سے ۃ کو تخفیفاً حذف کردیا گیا ہے (اصل میں اقامۃ تھا) وہ ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس میں بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں خوف کی وجہ سے مضطرب ہوں گے، قلوب نجات اور ہلاک کے درمیان مضطرب ہوں گے اور آنکھیں دائیں بائیں جانب مضطرب ہوں گی اور وہ قیامت کا دن ہوگا (اور وہ) ایسا اس لئے کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا اچھا بدلہ عطا فرمائے، یعنی اعمال کا ثواب اور اَحَسَنَ بمعنی حسن ہے اور ان کو اپنے فضل سے اور بھی زیادہ دے گا اور اللہ جس کو چاہے بےحساب دیتا ہے کہا جاتا ہے فلاں بےحسان خرچ کرتا ہے یعنی خرچ میں اس قدر فراخی کرتا ہے گویا کہ وہ جو کچھ خرچ کرتا ہے اس کا حساب نہیں کرتا اور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت قِیعۃ جمع قاعٍ بِقِیعَۃٍ بمعنی فی فلاۃٍ ، فلاۃ بمعنی صحرا، چٹیل میدان سراب ان شعاعوں کو کہتے ہیں جو دوپہر کے وقت سخت گرمی میں بہتے ہوئے پانی کے مانند نظر آتی ہیں اور اس سراب کو پیاسا پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اس کو کچھ بھی نہ پایا جس کو وہ پانی سمجھتا تھا، اسی طرح کافر سمجھتا ہے کہ اس کا عمل مثلاً صدقہ اس کو نفع پہنچائے گا حتی کہ جب مرجائے گا اور اپنے رب کے پاس پہنچے گا تو اپنے عمل کو نہ پائے گا یعنی اس کا عمل اس کو کوئی نفع نہیں دے گا، اور اللہ کو اپنے عمل کے پاس پایا کہ اس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا یعنی (اللہ نے) اس (کافر) کے عمل کی جزا دنیا ہی میں پوری پوری دیدی، اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے والا ہے یعنی جلدی جزا دینے والا ہے یا کافروں کے اعمال سیئہ کی مثال ایسی ہے جیسا کہ گہرے سمندر کی تاریکی جس کو ایک بڑی موج نے ڈھانپ لیا ہو اور اس موج کے اوپر ایک اور موج ہو اور اس دوسری موج کے اوپر بادل ہو، یہ تاریکیاں تہہ بہ تہہ بہت سی تاریکیاں ہیں دریا کی تاریکی موج اول کی تاریکی موج ثانی کی تاریکی اور بادل کی تاریکی اگر دیکھنے والا ان تاریکیوں میں اپنا ہاتھ نکالے تو اس کو نہ دیکھ سکے، یعنی اس (ہاتھ) کے دیکھنے کا امکان ہی نہیں اور جس کو اللہ ہی نور نہ دے تو اسکو نور نہیں جس کو اللہ نے ہدایت نہ دی اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد اللہُ نُورُ السمٰوٰتِ وَالاَرْضِ یہ جملہ مستانفہ ماقبل کی تاکید کیلئے ہے اللہ مبتداء اور نور السمٰوات والارض اس کی خبر، نور کا حمل ذات باری پر یا تو مبالغۃً ہے، جیسا زیدٌ عدلٌ میں یا پھر مضاف محذوف ہے ای اللہ ذُوْ نُورِ السَّمٰوٰتِ وَالَارْضِ یا نُورٌ مصدر اسم فاعل مُنَوِّرٌ کے معنی میں ہے جیسا کہ علامہ محلی نے اختیار کیا ہے۔ قولہ : مَثَلُ نورہٖ بترکیب اضافی مبتداء کمشکوٰۃ فیھا مصباحٌ اس کی خبر، مشکوٰۃ سے پہلے نور مضاف محذوف ہے ای صفتہ نورہ تعالیٰ فی قلب المؤمن کنور مشکوٰۃ فیھا مصباحٌ۔ قولہ : زُجاجۃ بالتثلیث شیشہ، شیشہ کا برتن، قندیل بھی چونکہ شیشیہ کا ہوتا ہے لہٰذا قندیل کو بھی کہا جاسکتا ہے۔ قولہ : الموقودۃ صحیح المُوْقَدَۃُ ہے، قولہ : الاُنبوبۃ وہ نلکی جس میں بتی ہوتی ہے یہ مشکوٰۃ کی دوسری تفسیر ہے مناسب تھا کہ مفسر علام اور الانبوبۃ فرماتے۔ قولہ : توقد المصباحُ توقد میں تین قرأتیں ہیں (2) فعل ماضی تَوَفَّدَ بروزن تَفَعَّلَ ، المصباح اس کا فاعل ہے (2) یُوقَدُ اَوْقَدَ سے مضارع مجہول واحد مذکر غائب المصباح نائب فاعل (3) تُوْقَدُ بالتاء اَوْقَدَ سے مضارع مجہول، نائب فاعل الزجاجۃ حذف مضاف کے ساتھ ای فَتِیلَۃُ الزُجَاجَۃِ ۔ قولہ : زیتونۃٍ یہ شجرۃ سے بدل ہے یہی اظہر ہے یا عطف بیان ہے کو فیین کے نزدیک اس لئے کہ نکرات میں کو فیین عطف بیان کو جائز کہتے ہیں، شجرۃ موصوف مبارکۃ صفت موصوف صفت سے مل کر مبدل منہ زیتونۃ بدل، بدل مبدل منہ سے مل کر مضاف الیہ زیتٌ مضاف محذوف، مضاف مضاف الیہ سے مل کر مجرور جار مجرور سے مل کر متعلق ہوا توقد کے۔ قولہ : لاشرقیۃٍ ولا غربیۃٍ شجرۃٍ کی صفت ہے۔ قولہ : مُضِرَّیْنِ یہ جَرٌّ ولا بَرْدً سے حال ہے۔ قولہ : وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نارٌ شرط ہے اس کا جواب محذوف ہے ای لأضَاءَ نورٌ بہٖ ای بالزیت۔ قولہ : علیٰ نورٍ ای مع نورٍ ایمان خود ایک نور ہے، ایمان کے ساتھ ساتھ دیگر اعمال صالحہ کی توفیق و ہدایت یہ نورٌ علیٰ نور ہے، اللہ تعالیٰ تقریب الی الفھم کیلئے معقولات کو محسوسات کے ذریعہ مثال دے کر سمجھاتا ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ایمان لائیں۔ تنبیہ : آیت کریمہ مَثَلُ نُوْرِہٖ کِمِشْکٰوۃٍ (الآیہ) اس میں تشبیہ معقول بالمحسوس ہے، نور اللہ سے اَدِلَّہ یا قرآن، یا توحید والشرایع، یا ہدایت مراد ہیں اور یہ مشبہ ہے اور نور مشکوٰۃ مع اپنی صفات کے مشبہ بہ ہے، تشبیہ کیلئے مشبہ کا اشہر ہونا کافی ہے، اقوی ہونا ضروری نہیں ہے لہٰذا تشبیہ مذکور درست ہے، مشبہ بہ میں چونکہ اجزاء نہیں ہیں کہ جس سے وجہ شبہ کو متنزع کیا جائے اور اس کی وجہ سے تشبیہ کو مرکب یا مفرق (مفرد) کہا جائے۔ (روح المعانی) نیز بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر نورٌ بمعنی ہدایت ہو جس پر آیات مبینات دلالت کرتی ہیں تو اس صورت میں تشبیہ مرکب عقلی ہوگی اس لئے کہ اس صورت میں مشبہ سے ہیئت منتزعہ کو تشبیہ اس ہیئۃ منتزع سے ہے جو مشبہ بہ سے اتتزاع کی گئی ہے اس لئے کہ لفظ نور اگرچہ مفرد ہے مگر دال علی المتعدد ہے اس لئے کہ نور سے مراد متعدد چیزیں ہیں مثلاً ادلہ، قرآن، توحید و شرائع، ہدایت وغیرہ اسی طرح مشبہ بہ میں بھی متعدد چیزیں مراد ہیں، مشبہ بہ قلب مومن ہے جس کو اللہ نے نور ہدایت سے منور کیا ہے جو کہ علوم و معارف ہیں۔ (روح المعانی) قولہ : بل بینھما یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ درخت نہ انتہائی مشرق میں ہے اور نہ مغرب میں بلکہ درمیان میں ہے، جس کو مشرق و سطیٰ کہتے ہیں، ملک شام بھی اسی علاقہ میں واقع ہے مشرق وسطیٰ کی آب و ہوا چونکہ معتدل ہے نہ زیادہ گرم ہے اور نہ سرد، اس لئے زیتون کا تیل نہایت صاف شفاف ہوتا ہے بخلاف انتہائی مشرق و مغرب کے کہ ان میں گرمی سردی زیادہ ہوتی ہے جو کہ مضر ہیں۔ قولہ : فی بیوت اس کا تعلق آئندہ آنے والے یُسَبِحُ سے ہے اس صورت میں ظرف یعنی (فیہا) تاکید کیلئے مکرر ہوگا، مفسر علام کا بھی یہی مختار ہے، اور محذوف کے متعلق بھی ہوسکتا ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی سبحوا ربکم فی بیوت اس صورت میں علیمٌ پر وقف ہوگا، اور یہ بھی درست ہے کہ فی بیوت کائن وغیرہ محذوف کے متعلق ہو کر مشکوٰۃٌ یا مصباح یا زجاجۃ کی صفت ہو یا توقد کے متعلق ہو، ان چاروں صورتوں میں علیمٌ پر وقف نہ ہوگا، قولہ : اذِن اللہ أن ترفَعَ یہ جملہ بیوت کی صفت ہے اَنْ ترفع الخ بتاویل مصدر ہو کر باحرف جار مقدر کا مجرور ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَمَرَ اللہُ بِرَفْعِھَا یُسَبِّحُ کو اگر فتح باء کے ساتھ پڑھا جائے تو لہٗ نائب فاعل ہوگا، اور رجال فعل محذوف کا فاعل ہوگا اور وہ فعل مقدر سوال مقدر کا جواب ہوگا جب کہا گیا یُسَبِّحُ لہٗ تو سوال پیدا ہوا مَنْ یُّسَبِّحُ قال رجلٌ لاتلھیھم تجارۃ۔ قولہ : لیجزیھم میں لام عاقبیہ کا ہے ای عاقِبَۃُ امرھم الجزاءُ الحسن، یسبح سے بھی متعلق ہوسکتا ہے ای یُسَبِّحُوْنَ لاجل الجزاء اور محذوف کے متعلق بھی ہوسکتا ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی فَعَلُوْا ذٰلک لِیَجزیَھُم اللہ۔ قولہ وَالذیَن کفرُوْا اعمالُھُمْ کسَرابٍ بِقِیْعَۃٍ والذین کفروْا موصول صلہ سے مل کر مبتداء اول والذین کی خبر ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ اعمالُھم والَّذینَ کفرُوْا سے بدل الاشتمال ہو اور کسرابٍ ، الذین کی خبر۔ قولہ : بِقیْعَۃ باء جارہ ہے اور قیعۃٌ قاع کی جمع ہے چٹیل میدان کو کہتے ہیں۔ قولہ : ظمآن ظمآن کی شدت حاجت کی وجہ سے تخصیص کی گئی ہے ورنہ تو ظمآن اور غیر ظمآن سب کو دوپہر کے وقت ریت دھوپ میں سراب (جاری پانی) نظر آتا ہے اَوْ کظلماتٍ او تقسیم کے لئے ہے یعنی کافر کے اعمال دو قسم کے ہیں ایک وہ جو سراب کے مانند ہوں گے یہ ان کے وہ اعمال صالحہ ہوں گے جو انہوں نے دنیا میں صدقہ و خیرات یا صلہ رحمی کی شکل میں کئے ہوں گے یہ بظاہر اعمال صالحہ ہیں مگر آخرت میں چونکہ ان کا کوئی صلہ نہیں اس لئے کچھ نہیں دوسرے ان کے اعمال سیئہ ہوں گے ان کی مثال ظلمات کی سی ہے، ظلمات کا عطف کسرابٍ پر ہے حذف مضاف کے ساتھ، تقدیر عبارت یہ ہے او کذی ظلماتٍ ۔ تنبیہ : اَوْ کظُلُماتٍ الخ میں تشبیہ مرکب بالمرکب ہے آیت میں تین قسم کی ظلمتوں کو تین قسم کی ظلمتوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ظلمت اعتقاد، ظلمت قول، ظلمت فعل کو تشبیہ دی گئی ہے ظلمت بحر، ظلمت امواج، ظلمت سحاب کے ساتھ۔ تفسیر و تشریح اللہ نور السموت والارض، اس آیت کو اہل علم آیت نور لکھتے ہیں اس آیت میں نور ایمان اور ظلمت کفر کو بڑی تفصیل سے مثال کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے۔ نور کی تعریف : ایک تعریف تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان تحریر کی جا چکی ہے یہ دوسری تعریف ہے، امام غزالی نے نور کی تعریف اس طرح بیان فرمائی ہے النور الظاھر بنفسہٖ والمظھر لغیرہٖ یعنی خود اپنی ذات میں ظاہر اور روشن ہو اور دیگر اشیاء کو ظاہر اور روشن کرنے والا ہو، اور تفسیر مظہری میں ہے کہ نور دراصل اس کیفیت کا نام ہے جس کو انسان کی قوت باصرہ پہلے ادراک کرتی ہے اور پھر اس کے ذریعہ ان تمام چیزوں کا ادراک کرتی ہے جو آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں، جیسے آفتاب اور چاند کی شعائیں اپنے مقابل اجسام کثیفہ پر پڑ کر اول اس چیز کو روشن کردیتی ہیں پھر اس سے شعاعیں منعکس ہو کر دوسری چیزوں کو روشن کردیتی ہیں، اس سے معلوم ہوا لفظ نور کا اطلاق اپنے لغوی اور عرفی معنی کے اعتبار سے حق تعالیٰ شانہ کی ذات پر نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ جسم اور جسمانیات میں سے بری اور پاک ہے اس لئے آیت مذکورہ میں جو حق تعالیٰ کیلئے لفظ نور کا اطلاق ہوا ہے اس کے معنی باتفاق ائمہ تفسیر منور یعنی روشن کرنے والے کے ہیں یا پھر مبالغہ کے طور پر صاحب نور کو نور سے تعبیر کردیا گیا ہے جیسے صاحب عدل کو عدل کہہ دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کی تمام مخلوق کو منور کرنے والے، نور بخشنے والے ہیں اور نور سے نور ہدایت مراد ہے، ابن کثیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی تفسیر میں نقل کیا ہے ” اللہُ ھادی اھل السمٰوات والارض “۔ نور مؤمن : مثل نورہ کمشکوۃ (الآیہ) اللہ تعالیٰ کا نور ہدایت جو قلب مومن میں آتا ہے یہ اس کی ایک عجیب مثال ہے، ابن جریر نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے اس کی تفسیر میں نقل کیا ہے ھو المومن الذی جعل اللہ الایمان والقرآن فی صدرہ فَضَرَبَ اللہ مثلہ فقال اللہ نورُ السمٰوات والارض فبدأ بنور نفسہٖ ثمَّ ذکرَ نور المومنِ فقال مَثَلُ نور مَنْ آمَنَ بہٖ فکان ابی بن کعب یقرأھا مثَلُ نور مَنْ آمَنَ بہٖ ۔ (ابن کثیر) یعنی یہ مثال اس مومن کی ہے جس کے دل میں اللہ نے ایمان اور قرآن کا نور ہدایت ڈال دیا ہے اس آیت میں پہلے تو اللہ نے خود اپنے نور کا ذکر فرمایا اللہ نُورُ السَّمٰوات والارْضِ پھر قلب مومن کے نور کا ذکر فرمایا مَثَ نورہٖ اور اس آیت کی قرأت بھی حضرت ابی بن کعب کی مَثلُ نورہٖ کے بجائے مَثَلُ نور مَنْ آمَنَ بہٖ کی ہے، مَثَلُ نورہٖ کی ضمیر کے متعلق ائمہ تفسیر کے دو قول ہیں ایک یہ کہ یہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کا نور ہدایت جو مومن کے قلب میں فطرۃُ رکھا گیا ہے اس کی مثال کمشکٰوۃ الخ ہے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ضمیر مومن کی طرف راجع ہے جس پر سیاق کلام دلالت کر رہا ہے اس لئے حاصل اس مثال کا یہ ہے کہ مومن کا سینہ ایک طاق کی مثل ہے اس میں اس کا دل ایک قندیل کی مثل ہے اس میں نہایت شفاف روغن زیتون فطری نور ہدایت کی مثل ہے جو مومن کی فطرت میں ودیعت رکھا گیا ہے جس کا خاصہ خود بخود ہی قبول حق کا ہے پھر جس طرح روغن زیتون آگ کے شعلہ سے روشن ہو کر دوسروں کو روشن کرنے لگتا ہے اسی طرح فطری نور ہدایت جو قلب مومن میں رکھا گیا ہے جب وحی الٰہی اور علم الہٰی کے ساتھ اس کا اتصال ہوجاتا ہے تو روشن ہو کر عالم کو روشن کرنے لگتا ہے یہ نور ہدایت اگرچہ آغاز تخلیق میں ہر فرد کے قلب میں ودیعت رکھا گیا ہے، مومن کے ساتھ خاص نہیں ہے مگر چونکہ اس کا فائدہ مومن کو ہوتا ہے اس لئے مثال میں قلب مومن کو خاص فرمایا ہے، ایک حدیث سے بھی اس عموم کی تائید ہوتی ہے کل مولود یولد علی الفطرۃ یعنی ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اس کو فطرت کے تقاضوں سے ہٹا کر غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں، اس فطرت سے مراد ہدایت ایمان ہے۔ (معارف) نور نبی کریم ﷺ : امام بغوی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے کعب احبار جو توریت و انجیل کے بڑے مسلمان عالم تھے، انہوں نے فرمایا کہ یہ مثال رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی بیان کی گئی ہے مشکوٰۃ آپ کا سینہ ہے زجاجۃ (قندیل) آپ کے قلب مبارک ہے اور مصباح (چراغ) نبوت ہے، اور اس نور ہدایت کا خاصہ یہ ہے کہ نبوت کے اظہار و اعلان سے پہلے ہی اس میں لوگوں کیلئے روشنی کا سامان ہے پھر جب وحی الٰہی اور اس کے اعلان کا اس کے ساتھ اتصال ہوجاتا ہے تو یہ ایسا نور ہوتا ہے کہ سارے عالم کو روشن کرنے لگتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اظہار نبوت، بعثت بلکہ آپ کی پیدائش سے بھی پہلے جو بہت سے عجیب و غریب واقعات عالم میں ایسے پیش آئے جو آپ کی نبوت کی بشارت دینے والے تھے جن کو اصطلاح محدیثن میں ارہاصات کہا جاتا ہے، جن کو بہت سے علماء نے مستقل کتاب کے طور پر جمع کردیا ہے، شیخ جلال الدین سیوطی (رح) نے خصائص کبریٰ میں، اور ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں جمع کردیا ہے قولہ : فی بُیُوتٍ اَذِنَ اللہُ (الآیہ) سابقہ آیت میں حق تعالیٰ نے قلب مومن میں اپنا نور ہدایت ڈالنے کی ایک خاص مثال بیان فرمائی تھی، اور آخر میں یہ فرمایا تھا کہ اس نور سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ توفیق عطا فرماتے ہیں، اس آیت میں ایسے مومن کا محل اور مستقر بیان فرمایا گیا ہے کہ ایسے مومنین کا اصل مقام و مستقر جہاں وہ اکثر اوقات رہتے ہیں خصوصاً پانچ وقت نمازوں کے اوقات میں دیکھے جاتے ہیں وہ بیوت (مساجد) ہیں جن کیلئے اللہ کا حکم یہ ہے کہ ان کو بلندو الا رکھا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔ آیت کی اس تقریر کی بنا اس پر ہے کہ نحوی ترکیب میں فی بیوتٍ کا تعلق (یھدی اللہ لنورہٖ ) کے ساتھ ہو اَذِنَ اللہُ ان تُرفَعَ ، اَذِنَ اِذْنٌ سے مشتق ہے اس کے معنی اجازت دینے کے ہیں اور تُرْفَعَ رفعٌ سے مشتق ہے جس کے معنی بلند کرنا اور تعظیم کرنے کے ہیں آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ مساجد کی تعظیم کی جائے یعنی ان میں لغوکام اور لغوکلام کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) ۔ عکرمہ اور مجاہد امام تفسیر نے فرمایا، رفع سے مراد مسجد بنانا ہے جیسے بناء کعبہ کے متعلق قرآن میں آیا ہے اِذْ یَرفَعُ اِبْرَاھِیْمُ القَوَاعِدَ مِنَ البَیْتِ اس آیت میں رفع قواعد سے مراد بناء قواعد ہے اور حسن بصری (رح) نے فرمایا رفع مساجد سے مراد مساجد کی تعظیم ہے۔ یْسَبَّحُ لَہٗ فِیْھَا بِالغُدُوِّ وَالآصَالِ الغُدُوّ غداۃٌ کی جمع ہے یا مصدر ہے اس کا اطلاق وقت کیلئے ہوا ہے اور آصال اصیل کی جمع ہے جیسے شریف کی جمع اشراف ہے، ایک جماعت نے اس کو اختیار کیا ہے حالانکہ فعیل کی جمع افعال قیاسی نہیں ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مناسب اوقات میں خدا کو یاد کرتے ہیں، بعض مفسرین نے غُدُوٌ سے صبح کی نماز مراد لی ہے، اور آصال میں باقی چار نمازیں داخل کی ہیں اس لئے کہ اصیل زوال شمس سے صبح تک کے اوقات کو کہتے ہیں۔ قولہ : لا تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَلاَ بَیْعٌ عن ذِکْرِ اللہِ اس میں ان مومنین کی ایک خاص صفت بیان کی گئی ہے جو اللہ کے نور ہدایت کے خاص مقامات اور مساجد کو آباد رکھتے ہیں، اس میں رجال کی تعبیر میں اس طرف اشارہ ہے کہ مساجد کی حاضری دراصل مردوں ہی کے لئے ہے عورتوں کی نماز ان کے گھروں میں افضل ہے، مسند احمد اور بیہقی میں حضرت ام سلمہ ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خیر مساجِدِ النِّساءِ قَعْرَ بَیْتِھِنَّ یعنی عورتوں کی بہترین مساجد ان کے گھر کے تنگ و تاریک گوشے ہیں، اس آیت میں مومنین صالحین کی یہ صفت بھی بیان کی گئی ہے کہ ان کو تجارت خریدو فروخت اور لین دین کا مشغلہ اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت بازار والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان کے صاحبزادے حضرت سالم نے فرمایا کہ ایک روز حضرت عبداللہ بن عمر بازار سے گذرے تو نماز کا وقت ہوگیا تھا لوگوں کو دیکھا کہ دکانیں بند کرکے مسجد کی طرف جا رہے ہیں تو فرمایا انہی لوگوں کے بارے میں قرآن کا یہ ارشاد ہے رِجَالٌ لاتُلْھِیْھِمْ تِجارۃ ولاَبَیْعٌ عنْ ذِکْرِ اللہِ ۔ عہد رسالت میں دو صحابی تھے، ایک تجارت کرتے تھے اور دوسرے لوہار کا کام کرتے اور تلوار بنا کر بیچتے تھے، پہلے صحابی کی تجارت کا یہ حال تھا کہ اگر سودا تولنے کے وقت اذان کی آواز کان میں پڑگئی تو ترازو کو پٹک کر نماز کیلئے کھڑے ہوجاتے تھے، اور دوسرے بزرگ کا یہ عالم تھا کہ اگر گرم لوہے پر ہتھوڑے کی ضرب لگا رہے ہیں اور کان میں اذان کی آواز آگئی تو اگر ہتھوڑا مونڈھے پر اٹھائے ہوئے ہیں تو ہتھوڑا مونڈھے کے پیچھے ڈال کر نماز کو چل دیتے تھے، اٹھائے ہوئے ہتھوڑے کی ضرب سے کام لینا بھی گوارا نہیں تھا، ان کی مدح میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (قرطبی) یوما۔۔۔۔ والابصار اس آیت کا مطلب یہ ہے اس روز دل وہ باتیں سمجھ لیں گے جو ابھی تک نہیں سمجھتے تھے، اور آنکھیں وہ ہولناک واقعات دیکھیں گی جو کبھی نہ دیکھے تھے، یا مطلب یہ ہے کہ قلوب میں کبھی نجات کی توقع پیدا ہوگی اور کبھی ہلاکت اور خوف کا اندیشہ اور آنکھیں کبھی داہنی جانب دیکھیں گی اور کبھی بائیں جانب کہ کس طرف سے پکڑے جائیں ؟ یا اعمال نامے کس جانب سے ملتے ہیں ؟ دائیں جانب سے یا بائیں جانب سے ؟ والذین۔۔۔ کسراب (الآیہ) کافر دو قسم کے ہیں ایک وہ جو اپنے خیال اور عقیدے کے اعتبار سے کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد یہ کام آئیں گے، حالانکہ اگر کوئی کام بظاہر اچھا بھی ہو تو وہ کفر کی نحوست سے عند اللہ مقبول و معتبر نہیں، ان فریب خوردہ کافروں کی مثال ایسی سمجھو کہ دوپہر کے وقت جنگل میں ایک پیاسے کو دور سے پانی دکھائی دیا اور وہ حقیقت میں چمکتی ہوئی ریت تھی پیاسا شدت تشنگی سے بیتاب ہو کر وہاں پہنچا تو پانی وانی کچھ نہیں، ہاں ہلاکت کی گھڑی سامنے کھڑی تھی، اور اللہ تعالیٰ عمر بھر کا حساب لینے کیلئے وہاں موجود تھا چناچہ اضطراب و حسرت کے وقت اللہ تعالیٰ نے اس کا حساب ایک دم میں چکا دیا کیونکہ وہاں حساب کرتے کیا دیر لگتی ہے، کافر کی دوسری قسم وہ ہے جو سر سے پاؤں تک دنیا کے مزوں میں غرق اور کفر و جہل، ظلم و عصیان کی اندھیریوں میں پڑے گو طے کھا رہے ہیں ان کی مثال آگے بیان فرمائی، ان کے پاس روشنی کی اتنی بھی چمک نہیں جتنی کہ سراب سے دھوکا کھانے والے کو نظر آتی تھی، یہ لوگ خالص اندھیریوں میں اور تہہ بہ تہہ ظلمات میں بند ہیں کسی طرف سے روشنی کی شعاع اپنے تک نہیں پہنچنے دیتے، نعوذ باللہ منہا، کافروں کی اسی قسم کو اَوْ کظُلُمٰتٍ فی بحرٍ لُجِّیٍ (الآیہ) سے بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 24:41–50

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی اور اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے لئے ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اسکو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اسکی چمک آنکھوں کو (خیرہ کر کے بینائی کو) اچکے لئے جاتی ہے

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا تو ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے ؟ (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے یعنی نرمی سے چلاتا ہے پھر ان بادلوں کو باہم ملا دیتا ہے یعنی بعض کو بعض کے ساتھ ملا دیتا ہے چناچہ متفرق ٹکڑوں کو (ملا کر) ایک ٹکڑا کردیتا ہے پھر ان کو تہہ بہ تہہ کردیتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے اس کے درمیان سو راخوں سے نکلتی ہے اور بادل سے یعنی بادل کے پہاڑ جیسے (بڑے بڑے) ٹکڑوں سے کچھ اولے برساتا ہے فیھا ای فی السماء، فیھا اعادۂ جار کے ساتھ السماء سے بدل ہے اور مِنَ السَّماءِ میں من زائد ہے پھر ان کو جن پر چاہتا ہے گر اتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس کو ہٹا دیتا ہے اس بادل کی بجلی کی چمک سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی سلب کرلے گی چمک کو دیکھنے والی آنکھوں کی روشنی کو، یعنی اچک لے گی اور اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے یعنی ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کے بدلے میں لاتا ہے بلاشبہ اس ادل بدل میں اصحاب علم و دانش کیلئے اللہ کی قدرت پر دلالت ہے اور اللہ نے ہر چلنے والے یعنی جا ندار کو پانی یعنی نطفہ سے پیدا کیا تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیٹ کے بل سرکتے ہیں جیسا کہ سانپ اور حشرات الارض اور بعض ان میں سے چار پیروں پر چلتے ہیں جیسا کہ مویشی اور چوپائے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر شئ پر قادر ہے اور بلاشبہ ہم نے واضح کرنے والی آیات نازل کیں وہ قرآن ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے راہ مستقیم یعنی دین اسلام کی طرف ہدایت فرماتا ہے اور یہ منافقین دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر یعنی اس کی توحید اور اس کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لے آئے، یعنی (دل سے) تصدیق کی اور ان دونوں نے جو حکم کیا اس کی ہم نے اطاعت کی پھر اس کے بعد ان میں کی ایک جماعت اس (حکم) سے اعراض کرتی ہے اور یہ اعراض کرنے والے بالکل مومن نہیں ہیں یعنی ایسا عہد کرنے والے نہیں ہیں کہ جس میں ان کے قلب و لسان میں مطابقت ہو اور جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلاتا ہے وہ رسول جو خدا کی طرف سے مبلغ ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں کا ایک گروہ آپ کے پاس آنے سے اعراض کرتا ہے اور اگر ان کا (کسی پر) حق ہو تو فوراً سر تسلیم خم کئے ہوئے چلے آتے ہیں آیا ان کے دلوں میں مرض کفر ہے ؟ یا یہ آپ کی نبوت کے بارے میں شک میں پڑے ہیں، یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول فیصلے میں ان پر ظلم کرے گا ؟ یعنی ان پر فیصلے میں ظلم کیا جائے گا ؟ نہیں یہ بات نہیں بلکہ یہی ظالم ہوئے ہیں حکم سے اعراض کرکے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السّمٰواتِ وَالَارضِ ہمزہ تقریر کیلئے ہے اور رویت سے رویت قلبی مراد ہے اس لئے کہ تسبیح کا تعلق بصر و نظر سے نہیں ہے بلکہ قلب و بصیرت سے ہے، مطلب یہ ہے اے محمد ﷺ آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ آسمانوں اور زمین کی مخلوق اللہ کی تسبیح و تقدیر بیان کرتی ہے اور پرند بھی فضاء میں پر پھیلائے ہوئے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں مَنْ کا استعمال ذوالعقول کو غیر ذوالعقول پر غلبہ دینے کے اعتبار سے ہے ورنہ تو مخلوق میں دس حصوں میں سے ایک حصہ ذوالعقول ہیں جن میں انسان، جن، و ملائکہ سب داخل ہیں اور باقی غیر ذو العقول ہیں۔ قولہ : ومِن التَّسبیح صلوٰۃ کے اضافہ کا مقصد یہ ہے کہ تسبیح سے مراد انقیاد و خضوع ہے اور صلوٰۃ بھی منجملہ انقیاد و خضوع کے افراد سے ایک فرد ہے، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے قول کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاتَہٗ وتسبیحہٗ کیلئے تو طیہ و تمہید بھی ہے طَیْرٌ طائرٌ کی جمع ہے، جیسے رَکْبٌ رَاکِبٌ کی جمع ہے الطیرُ کا عطف مَنْ فی السَّمٰوٰتِ ومَن فی الارض پر ہے سوال : اس عطف سے عطف الشئ علیٰ نفسہٖ لازم آتا ہے، اس لئے کہ مَن فی السَّمٰوٰتِ ومَن فی الارض میں طیر بھی داخل ہیں، لہٰذا معطوف اور معطوف علیہ ایک ہی ہوئے بَینَ السَّمَاءِ والارضِ سے مذکورہ اعتراض کا جواب دینا مقصد ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ ایک نہیں ہیں بلکہ ان میں مغایرت ہے اسلئے کہ معطوف علیہ سے آسمانوں اور زمین کی مخلوق مراد ہے اور پرندے جب پر پھیلائے فضاء میں پرواز کرتے ہوئے ہوتے ہیں تو اس وقت وہ نہ زمین میں ہوتے ہیں اور نہ آسمان میں، لہٰذا عطف الشئ علیٰ نفسہٖ کا شبہ ختم ہوگیا۔ قولہ : صافَّاتٍ طیرٌ سے حال ہے، الطیرُ مَنْ پر عطف کی وجہ سے مرفوع ہے اور صافاتٍ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اس میں اور ترکیبیں بھی ہوسکتی ہیں مگر سہل ترین اور راجح یہی قول ہے) کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صلاتَہٗ وتسبیحہٗ ، عَلِمَ صلاَتَہ اور تسبیحہٗ تینوں کی ضمیروں میں اقوال مختلف ہیں، ایک قول یہ ہے کہ تینوں ضمیروں کا مرجع کلٌ ہے ای کُلٌّ عَلِمَ صلاتَہٗ وتسبیحَہٗ یہ صورت توافق ضمائر کی وجہ سے سب سے بہتر ہے، دوسرا قول عَلِمَ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہو اور صلاتہٗ و تسبیحَہٗ کی ضمیریں کلٌّ کی طرف راجع ہوں (جمل) ۔ قولہ : ثُمَّ یُؤَلِّفُ بینَہٗ یہاں یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ بَینَ متعدد کے درمیان استعمال ہوتا ہے، اور یہاں سحاب کے لئے استعمال ہوا ہے، حالانکہ سحاب واحد ہے مفسر علام نے اپنے قول یضم بعضہ الی بعض کا اضافہ کرکے مذکورہ اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کردیا، ای قِطَعَ سَحَابٍ یعنی مضاف محذوف ہے (قِطَعَ جمع قطعۃٍ ) خیال رہے کہ مذکورہ جواب کی ضرورت اس وقت پیش آئے گی جب سحاب کو مفرد مانا جائے اور اگر سحابٌ کو سَحَابَۃٌ کی جمع یا اسم جنس مان لیا جائے تو نہ کوئی اعتراض واقع ہوگا اور نہ کسی جواب کی ضرورت پڑے گی۔ قولہ : یُزْجِیْ ازجاءً سے مضارع واحد مذکر غائب ہے وہ نرمی کے ساتھ چلاتا ہے۔ قولہ : رُکامًا یہ اسم ہے بمعنی تہہ بہ تہہ یَخْرُجُ مِنْ خِلاَلِہٖ یہ جملہ الوَدَقُ سے حال ہے۔ قولہ : خِلاَلٌ کو بعض حضرات نے مفرد کہا ہے بروزن حِجَابٌ اور بعض حضرات نے جمع کہا ہے خلال جمع خلل بروزن جِبَالٌ جمع جبلٍ ، بمعنی سوراخ۔ قولہ : یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنَ الجِبَالِ فِیْھَا مِنْ بَرْدٍ مِنَ السَّمَاءِ مِن ابتدائیہ ہے ای مبتَدأ منَ السَّحابِ فَاِنَ کُلَّ مَا عَلَاکَ فَھُوَ سماءٌ۔ قولہ : مِنَ الجِبَالِ ای قِطَع عِظَامٍ تُشْبِہُ الجِبَالَ فی العَظْمِ ۔ قولہ : فِیھا ای فی السَّمآء والجاروالمجرور فی موضع الصفۃ۔ قولہ : مِنْ بردٍ میں من تبعیضیہ ہے، ای یُنَزِّلُ مُبتدَأ مِنَ السَّحابِ من جِبالٍ کائِنَۃٍ فیھا بعض بردٍ (او) بردًا۔ ترجمہ : پہاڑ جیسے بادلوں کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے اولے برساتا ہے جو کہ بادلوں میں ہوتے ہیں ای وینزل من السحاب الذی ھو کا مثال الجبال بردًا، مذکور آیت میں مِن تین مرتبہ استعمال ہوا ہے، پہلا یعنی من السماء میں یہ باتفاق مفسرین ابتدائیہ ہے، اور دوسرا مِنَ الجبال میں کہا گیا ہے زائدہ، کہا گیا ہے تبعیضیہ، کہا گیا ہے ابتدائیہ اور الجبالِ من السماء سے اعادۂ جار کے ساتھ بدل ہے اور تیسرا مِنْ برْدٍ میں، مذکور تینوں اقوال کے علاوہ ایک چوتھا قول بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ من بیانیہ ہے، یعنی بیان جنس کے لئے ہے، ای من جنس البرد کما یقال ھٰذا خاتمٌ فی یدی من حدیدٍ ای خاتم حدید فی یدی۔ قولہ : منھم مَنْ یَّمْشِیْ ھم ضمیر کل کی طرف راجع ہے باعتبار معنی کے، پیٹ کے بل سرکنے والے کو مشاکلت کے طور ماشی سے تعبیر کیا گیا ہے اس لئے کہ حقیقتاً ماشی کا ذکر بعد میں آرہا ہے، ورنہ تو پیٹ کے بل سرکنے والے کو زاحفٌ کہتے ہیں، قولہ : وَلَقَدْ انزلنا میں لام قسمیہ ہے، قسم محذوف ہے ای واللہِ لقَدْ انزلنا اَطَعْنَا کے بعد ھما ضمیر کا اضافہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اَطَعْنَا کا مفعول محذوف ہے، قولہ : عنہ ای عن القول۔ قولہ : المُبَلِّغُ عنہ یہ اس سوال مقدر کا جواب ہے کہ لِیَحْکُمَ میں ضمیر کو مفرد کیوں لائے ؟ جبکہ ماقبل میں اللہ اور رسول دو کا ذکر ہے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ حکم اگرچہ حقیقت میں اللہ ہی کا ہے مگر مباشر بالحکم اور مبلغ بالحکم رسول ہی ہے اللہ کا ذکر تو تفخیماً و تعظیماً ہے قولہ : اِذَافریقٌ منھم معر ضون اِذَامفاجاتیہ قائم مقام فاء کے ہے جو کہ جواب شرط کے ساتھ ربط دینے کیلئے ہے، یعنی اِذَادُعُوْا شرط ہے اور اِذَا فریقٌ منھم جزاء۔ قولہ : اِلَیْہٖ ای المبلِّغ یعنی اگر غیر کا حق ان کے اوپر ہوتا ہے تو آپ ﷺ کے پاس آنے سے اعراض کرتے ہیں، یہ آیت بشر نامی ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ اس کا ایک یہودی کے ساتھ زمین کے معاملہ میں نزاع ہوا تھا، یہودی چاہتا تھا کہ فیصلہ آپ ﷺ کے پاس لیجائے اور منافق چاہتا تھا کہ کعب بن اشرف کے پاس لیجائے اور منافق کہتا تھا کہ محمد ﷺ ہمارے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ قولہ : اَفی قلُوبِھِمْ مرضٌ (الآیہ) اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ منشاء اعرض مذکورہ تین چیزوں میں سے ایک ہے۔ تفسیر وتشریح اَلَمْ تَرَانَّ اللہَ یُسَبِّحُ لہٗ (الآیہ) اے محمد ﷺ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر مخلوق اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے اس تسبیح کا مفہوم حضرت سفیان ثوری نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر شئی آسمان، زمین، آفتاب، ماہتاب اور ستارے اور سیارے اور زمین کے عناصر آگ، پانی، مٹی، ہوا سب کو خاص خاص کا موں کے لئے پیدا کیا فرمایا ہے اور جس کو جس کام کے لئے پیدا فرمایا ہے وہ برابر اس کام پر لگا ہوا ہے اس سے سر موانحر اف نہیں کرتا، اسی طاعت وانقیاد کو ان چیزوں کی تسبیح فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ان کی تسبیح مقالی نہیں ہے بلکہ حالی ہے کہ ہم اللہ کو پاک اور برترسمجھ کر اس کی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ زمحشری اور دیگر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کے اندر اتنا فہم و شعور رکھا ہے جس سے وہ اپنے خالق اور مالک کو پہچانے اور اس میں بھی کوئی بعدی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص قسم کی گویائی عطا فرمائی ہو اور خاص قسم کی تسبیح و عبادت ان کو سکھائی ہو جیسا کہ مختلف حیوانات اپنے مافی الضمیر کو اپنے ہم جنسوں کو سمجھاتے ہیں جس کا رات دن مشاہدہ ہوتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر شئ کو اس کے حساب سے شعور عطا فرمایا ہو اور اسی حساب سے ان کو ان کی عبادت کا طریقہ بتایا ہو، کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتہٗ (الآیہ) میں اسی مضمون کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ قولہ : مِنَاالَّمَاءِمِنْ جِبَالٍ فِیْھَا یہا سماء سے مراد بادل ہیں اور جبال سے بڑے بڑے بادل مراد ہیں اور بردٌ اولے کو کہتے ہیں اس آیت کا ایک مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں اولوں کے پہاڑ ہیں جن سے وہ اولے برساتا ہے ( ابن کثیر) دوسرا مطلب یہ ہے کہ سماءٌ بلند کے معنی میں ہے اور جبال کے معنی ہیں پہاڑوں جیسے بڑے بڑے ٹکڑے یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں سے بارش ہی نہیں برساتا بلکہ بلندیوں سے جب چاہتا ہے برف کے ٹکڑے بھی نازل فرماتا ہے، یا پہاڑ جیسے بڑے بڑے بادلوں سے اولے برساتا ہے۔ ویقولون آمنا باللہ اس سے پہلی آیت میں ان لوگوں کو ذکر تھا جن کو اللہ نے ایمان کی توفیق اور کار خیر کی ہدایت فرمائی، اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو دولت ایمان سے محروم رہے اور نفاق کا طریقہ اختیار کیا۔ شان نزول : مقاتل نے کہا کہ یہ آیت بشر نامی ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی، حضرت ابن عباس ؓ کا بھی قول یہی ہے کہ یہ آیت بشر نامی منافق کے بارے میں نازل ہوئی تھی، واقعہ اس طرح تھا بشر اور ایک یہودی کے درمیان زمین کے معاملہ میں خصومت تھی بشر ناحق پر تھا اور یہودی حق پر، یہودی نے کہا فیصلے کے لئے محمد ﷺ کے پاس چلو مگر بشر منافق نے کہا کہ کعب بن اشرف کے پاس چلو (جو ایک یہودی سردار تھا) یہودی نے محمد ﷺ کے پاس جانے کے لئے اصرار کیا چناچہ دونوں آپ ﷺ کے پاس گئے آپ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا جب یہ دونوں آپ ﷺ کے پاس سے نکلے تو منافق نے کہا عمر ؓ کے پاس چلو ان سے فیصلہ کرائیں گے، چناچہ دونوں عمر ؓ کے پاس پہنچے، یہودی نے کہا ہم دونوں محمد ﷺ کے پاس گئے تھے آپ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ فرمایا مگر یہ شخص آپ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہیں ہے، اب یہ چاہتا ہے کہ آپ سے فیصلہ کرائے، حضرت عمر ؓ نے منافق سے فرمایا أکَذَالِکَ ؟ کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے کہا ” نعم “ ہاں، حضرت عمر ؓ نے دونوں سے فرمایا رویدا حتی اخرجَ الیکما میرے آنے تک انتظار کرو، چناچہ حضرت عمر ؓ گھر کے اندر گئے اور تلوار لیکر واپس تشریف لائے اور منافق کو ایک ہی وار میں ٹھنڈا کردیا، اور حضرت عمر ؓ نے فرمایا ھٰکذَا اقضِیْ بَیْنَ مَنْ لمْ یَرضَ بِقَضَاءِ اللہِ وقضَاءِ رسُولِہٖ جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرے میں اس کا فیصلہ اس طرح کرتا ہوں، تو یہ آیت نازل ہوئی وقال جبرائیل اِنَ عمر فرَّقَ بینَ الحَقِّ والباطل فسمٰی الفاروق حضرت جبرائیل نے فرمایا عمر نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا اور حضرت عمر کا نام فاروق رکھا۔ (جمل)
Ayahs 24:51–57

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) بیشک خدا تمہارے اعمال سے خبردار ہے

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور ایسا خیال نہ کرنا کہ کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

آیت نمبر 51 تا 57 ترجمہ : ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا (عملاً ) مان لینا، یعنی ایسا کہنا ہی مومنین کی شان کے لائق ہے اور ایسے ہی لوگ اس قول کی وجہ سے فلاح پائیں گے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ کا خوف رکھے اور اس (کے عذاب) سے ڈرے یَتَّقِہِ یا کے سکون اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی اس کی اطاعت کرے پس ایسے ہی لوگ جنت پاکر بامراد ہوں گے نہایت پختگی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم فرمائیں تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں، آپ کہہ دیجئے کہ قسمیں نہ کھاؤ معروف طریقہ سے نبی کی طاعت بہتر ہے تمہاری ایسی قسموں سے جن میں تم سچے ہو اللہ تعالیٰ تمہارے عمل سے جو کہ قولاً اطاعت اور عملاً مخالفت ہے بخوبی واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو پھر بھی اگر تم لوگ اس کی اطاعت سے روگردانی کرو گے تَوَلَّوْا میں ایک تا کے حذف کے ساتھ ان ہی کو خطاب ہے (تو اس کا کوئی نقصان نہیں) (یہ جواب شرط محذوف ہے) اس لئے کہ رسول کے ذمہ وہی تبلیغ کا کام ہے جو ان کے ذمہ رکھا گیا ہے اور تمہارے ذمہ وہ اطاعت ہے جو تمہارے اوپر لازم کی گئی ہے اور اگر تم نے اس کی اطاعت کی تو ہدایت پا جاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے کہ یقیناً ان کو کافروں کے بجائے زمین کا خلیفہ بنائے گا جس طرح ان کو خلیفہ بنایا جو ان سے پہلے تھے نبی اسرائیل میں سے ظالموں کے بدلے استخلَفَ معروف اور مجہول (دونوں ہیں) اور جس دین کو ان کے لئے پسند کیا ہے یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو قوت بخشے گا اور وہ اسلام ہے (اس طرح قوت بخشے گا) کہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے گا، اور ان کے لئے ملکوں میں وسعت دے گا تو وہ ان کے مالک ہوجائیں گے، اور کافروں سے ان کے اس خوف کے بعد اس (خوف) کو امن سے بدل دے گا لَیُبَدِّلَنَّھُمْ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنے مذکورہ وعدہ کو پورا فرما دیا اور ان کی اپنے قول یعبدوننی لایشرِکون بیْ شیئًا سے تعریف فرمائی اور یہ جملہ مستانفہ ہے علت کے حکم میں ہے اور ان میں جو شخص اس انعام کے بعد اس کی ناشکری کرے گا تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں اور سب سے پہلے جنہوں نے اس انعام کی ناشکری کی وہ قاتلین عثمان ؓ ہیں، چناچہ باوجود یکہ آپس میں بھائی بھائی تھے قتل و قتال کرنے لگے اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول کی اطاعت کیا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے یعنی رحمت کی امید رکھتے ہوئے آپ کافروں کی نسبت یہ خیال ہرگز نہ کرنا کہ زمین میں ہم سے بچ کر ہمیں ہرا دیں گے تحسَبَنَّ تا فوقانیہ اور یا تحتانیہ کے ساتھ ہے اور فاعل رسول اللہ ﷺ ہیں اور ان کا ٹھکانہ مرجع دوزخ ہے اور وہ (نہایت) برا ٹھکانہ مرجع ہے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد اِنَّمَا کَانَ قولَ المؤمنِینَ جمہور نے قول پر، کان کی خبر قرار دینے کی وجہ سے نصب پڑھا ہے اور اَنْ یَّقُوْلُوْا الخ، کو بتاویل مصدر کان کا اسم قرار دیا ہے، اور علی اور حسن اور ابن ابی اسحاق نے قول کو اسم کان قرار دے کر رفع پڑھا ہے اور اَنْ یَّقُوْلُوا کو بتاویل مصدر کان کی خبر قرار دیا ہے، اول قرأت کو جمہور نے راجح قرار دیا ہے۔ قولہ : اَنْ یَّقُوْلُوْا الخ اگرچہ جملہ خبریہ ہے مگر اس سے ادب شرعی کی تعلیم مقصود ہے اس لئے جملہ انشائیہ کے حکم میں ہے۔ قولہ : یَتَّقْہِ اصل میں یَتَّقِیْہِ تھا جزم کی وجہ سے یا حذف ہوگئی اور قاف کا کسرہ باقی رہ گیا پھر قاف کے کسرہ کو تخفیفاً خلاف قیاس حذف کردیا اس لئے کہ جو صیغہ فَعِلَ کے وزن پر ہو اس کے عین کلمہ کو ساکن کردیا جاتا ہے جیسے کتْفٌ، کتِفٌ میں۔ قولہ : جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ جَھْدَ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے غایَتَھا محذوف سے اسی کی طرف اشارہ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے یَجْھَدُوْنَ اَیْمَانِھِمِ جھدًا بعض حضرات نے حال ہونے کی وجہ سے منصوب کہا ہے ای مجتھدیِنَ فی اَیْمانِھِمْ ۔ قولہ : لَیَخْرُجُنَّ جواب قسم ہے۔ قولہ : طاعۃٌ معروفۃٌ بترکیب توصیفی مبتداء ہے اور خیرٌ الخ اس کی خبر ہے مفسر علام نے خیرٌ مقدر مان کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے، طاعۃ معروفۃ مبتدا محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے بھی مرفوع ہوسکتا ہے ای طاعتھُمْ طاعۃٌ معروفۃٌ۔ قولہ : اِنَّ اللہَ خبِیْرً بَمَا تَعْمَلُوْنَ یہ ما قبل کے جملہ کی علت ہے۔ قولہ : فَاِنْ تَوَلَّوْا میں مامورین کو خطاب ہے یعنی اطیعوا اللہ واطیعُوْا الرسولَ میں جو لوگ مخاطب ہیں وہی تَوَلَّوْا کے مخاطب ہیں، قُلْ اَطِیْعُوْا اللہَ الخ میں آنحضرت ﷺ کو خطاب تھا فَاِنْ تَوَلَّوْا میں مامورین کو خطاب ہے۔ قولہ : فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَا حُمِّلَ یہ جواب شرط ہے اور ایک قول میں جواب شرط محذوف ہے اور فَاِنَّمَا عَلَیْہِ ما حُمِّلَ اس جواب کی علت ہے جیسا کہ ترجمہ کے زیر عنوان بیان کیا گیا ہے۔ قولہ : ما علی الرسول الخ ما قبل جملہ کی تاکید ہے۔ قولہ : وَعَدَ اللہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُم اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَدَ کا مفعول اول ہے اور مفعول ثانی محذوف ہے اور وہ الاستخلاف فی الارض وتمکین دینھم و تبدیل خوفھم بالامن، یہ سب معطوفات مل کر وَعدَ کا مفعول ثانی ہے اور لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ قسم مقدر کا جواب ہے، تقدیر یہ ہے وَاللہِ لَیَسْتِخْلِفَنَّھُمْ اور یہ جواب قسم مفعول ثانی کے حذف پر دال ہے۔ قولہ : کام اِستَخْلَفَ میں ما مصدریہ ہے ای اِسْتَخلافًا کاِسْتَخْلافِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ۔ قولہ : بِمَا ذَکَرَ اس کا تعلق وعدہ سے ہے اور مَا ذکر سے امور ثلاثہ مذکور مراد ہیں۔ قولہ : یَعْبُدُوْنَنِیْ یہ جملہ مستانفہ ہے مفسر علام نے ھو مستانف کہہ کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے، اس میں مختلف تراکیب ہوسکتی ہیں مگر مفسر علام نے اسی کو راجح قرار دیا ہے، یہ جملہ گویا کہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، کہا گیا ما بالُھُمْ یَسْتَخْلِفُوْنَ ویؤمِنُوْنَ ، فاجیب یعبدونَنِیْ مذکورہ جملہ مبتداء محذوف کی خبر بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں بھی جملہ مستانفہ رہے گا، تقدیر یہ ہوگی ھم یعبُدُونَنِیْ ۔ قولہ : لا یشرکونَ بی شیئاً جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور یعبدوننی کی ضمیر فاعل سے حال بھی ہوسکتا ہے، ای یعبدوننی موَحِّدِیْنَ ۔ قولہ : منھُمْ یہ مَنْ سے حال ہے اور ھم ضمیر للذین آمنُوْا کی طرف راجع ہے قولہ بہٖ کی ضمیر انعام کی طرف راجع ہے، ای الانعام بما ذَکَرَ من الامور الثلٰثۃ اور کفر سے مراد کفران نعمت ہے نہ کہ ایمان کی ضد، اسی وجہ سے اِنَّ اُوْلٰئکَ ھم الفَاسِقُوْنَ کہا ہے، اولئک ھم الکافرون نہیں کہا، قولہ : واقیموا الصَّلٰوۃَ یہ جملہ مقدر پر عطف ہے جس کا سیاق تقاضہ کرتا ہے ای فآمنوا واقیموا الصَّلٰوۃَ الخ۔ قولہ : لاتحسبَنَّ اس کا فاعل الرسول ہے اور الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مفعول اول ہے اور معجزین مفعول ثانی ہے اور یَحْسَبَنَّ بالیاء کی صورت میں مفعول اول محذوف ہوگا ای لایَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کفرُوا اَنْفُسَھُمْ اور معجزین مفعول ثانی ہوگا، اور اَلَّذِیْنَ کفرُوْا لا یَحْسَبَنَّ کا فاعل ہوگا۔ قولہ : معجزینَ ای فاتنینَ یعنی بچ کر نکل جانا۔ تشریح و تفسیر انما کان قول المؤمنین (الآیہ) ما قبل کی آیت میں اہل کفر و نفاق کے کردار کا بیان تھا، یہاں سے اہل ایمان کے کردار و عمل کا بیان ہے، یعنی فلاح و کامرانی کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو اپنے تمام معاملات میں اللہ اور رسول کے فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں اور انہی کی اطاعت کرتے ہیں اور خشیت الٰہی اور تقویٰ کی صفت سے متصف ہیں، نہ کہ دوسرے لوگ جوان صفات سے محروم ہیں۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا کہ منافقین کی یہ عادت تھی کہ بڑی زور دار قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم ہرحال میں آپ کا ساتھ دیں گے اور ہر آڑے وقت میں کام آئیں گے اور آپ جہاں ہوں گے ہم بھی وہیں ہوں گے، اگر آپ نکلیں گے تو ہم بھی نکلیں گے اور آپ قیام کریں گے تو ہم بھی قیام کریں گے، اور اگر آپ ہم کو جہاد کا حکم فرمائیں گے تو ہم جہاد کریں گے، گویا کہ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ جہاں آپ کا پسینہ گرے گا ہم وہاں اپنا خون بہائیں گے، اور یہ سب زبانی جمع خرچ تھا۔ (مظہری) اس پر یہ آیت نازل ہوئی زیادہ قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ معروف طریقہ پر اطاعت بہتر ہے بغیر عملی اطاعت کے جھوٹی قسمیں کھانے سے، مطلب یہ ہے کہ تمہارا معاملہ طاعت معروفہ ہونا چاہیے، جس طرح مسلمان کرتے ہیں پس تم بھی ان کے مثل ہوجاؤ۔ (ابن کثیر) اور بعض حضرات نے یہ مطلب بیان کیا ہے جس طرح تم جھوٹی قسمیں کھاتے ہو تمہاری اطاعت بھی نفاق پر مبنی ہے۔ قل اطیعوا۔۔۔۔ الرسول، پیغمبر خدا پر خدا کی طرف سے تبلیغ کی ذمہ داری رکھی گئی تو اس نے اپنی ذمہ داری کو پوری طرح ادا کردیا، اور تم پر جو بات لازم کی گئی ہے وہ تصدیق اور قبول حق کی ہے اور یہ کہ اس کے حکم کے مطابق چلو، اگر تم اپنی ذمہ داری محسوس کرکے اس کے احکام کی تعمیل کرو گے تو دارین کی کامرانی و کامیابی تمہارے قدم چومے گی، ورنہ پیغمبر کا کچھ نقصان نہیں، تمہاری شرارت اور سرکشی کا خمیازہ تم ہی کو بھگتنا پڑے گا، پیغمبر تو اپنا فرض ادا کرکے عند اللہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے، آگے کی آیات میں رسول کی اطاعت کے بعض ثمرات کا بیان ہے، جن کا سلسلہ دنیا ہی میں شروع ہوجائے گا۔ (فوائد عثمانی) وعد اللہ الذین آمنوا (الآیہ) بعض حضرات نے اس وعدہ الٰہی کو صحابۂ کرام یا خلفاء راشدین کے ساتھ خاص قرار دیا ہے لیکن اس تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ہے الفاظ قرآنی عام ہیں اور ایمان و عمل صالح کے ساتھ مشروط ہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ عہد خلافت راشدہ اور خیر القرون میں اس وعدۂ الٰہی کا ظہور ہوا، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زمین میں غلبہ عطا فرمایا، اپنے پسندیدہ دین کو عروج دیا، اور مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دیا۔ ومن کفر۔۔۔۔۔۔۔ الفاسقون، یہاں کفر سے ناشکری مراد ہے نہ کہ ایمان کی ضد کفر، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دے، مسلمانوں کو حکومت قوت اور امن و اطمینان اور دین کو استحکام حاصل ہوجائے، اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص خدا کے انعامات کی ناشکری کرے کہ اسلامی حکومت کی اطاعت سے گریز کرے تو ایسے لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا کہ علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ قرآن کے اس جملہ کے سب سے پہلے مصداق وہ لوگ ہوئے جنہوں نے خلیفہ وقت حضرت عثمان غنی کو قتل کیا اور جب وہ اس جرم عظیم کے مرتکب ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے مذکورہ انعامات میں کمی آگئی، آپس کے قتل، و قتال سے خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے، بغوی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن سلام کا یہ خطبہ نقل کیا ہے جو انہوں نے حضرت عثمان غنی ؓ کے خلاف شورش کے وقت دیا تھا، خطبہ کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے : ” اللہ کے فرشتے تمہارے شہر کے گرد احاطہ کئے ہوئے حفاظت میں اس وقت سے مشغول ہیں جب سے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف فرما ہوئے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے خدا کی قسم اگر تم نے عثمان کو قتل کردیا تو یہ فرشتے واپس چلے جائیں گے اور پھر کبھی نہ لوٹیں گے، خدا کی قسم تم میں سے جو شخص ان کو قتل کرے گا وہ اللہ کے سامنے دست بریدہ حاصل ہوگا اس کے ہاتھ نہ ہوں گے اور سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی تلوار اب تک میان میں تھی، خدا کی قسم اگر وہ تلوار میان سے نکل آئی تو پھر کبھی میان میں داخل نہ ہوگی کیونکہ جب کوئی نبی قتل کیا جاتا ہے تو اس کے بدلے ستر ہزار آدمی قتل کئے جاتے ہیں اور جب کسی خلیفہ کو قتل کیا جاتا ہے تو پینتیس ہزار آدمی مارے جاتے ہیں (مظہری) چناچہ قتل عثمان سے جو باہمی خونریزی کا سلسلہ شروع ہوا تھا امت میں چلتا ہی رہا۔