30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 30:41–53

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا انکو انکے بعض عملوں کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ہے ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آ کر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے راستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس شخص نے کفر کیا تو اسکے کفر کا ضرر اسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو ایسے لوگ اپنے ہی لئے آرام گاہ درست کرتے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا اپنے فضل سے بدلا دے گا بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو اور عجب نہیں تم شکر کرو

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلا لیکر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلنے لگتا ہے پھر جب وہ اپنے بندوں میں جن پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور پیشتر تو وہ مینہ کے اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو (اے دیکھنے والے) خدا کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اسکے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اسکے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

تو تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں آواز سنا سکتے ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو تم تو انھیں لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں

آیت نمبر 41 تا 53 ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے (یصّدَعون) میں اصل میں تا کا صاد میں ادغام ہے (یعنی) حساب کے بعد جنت یا دوزخ کی طرف متفرق ہوجائیں گے کفر کرنے والوں پر ان کے کفر کا وبال پڑے گا وہ دوزخ ہے اور نیک عمل کرنے والے اپنے لئے آرام گاہ بنوا رہے ہوں گے یعنی جنت میں اپنے گھر بنارے ہوں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اپنے فضل سے اجر دے لِیَجْزِیَ ، یَصَّدَّعُوْنَ کے متعلق ہے بلاشبہ وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا یعنی ان کو سزا دے گا اور اللہ تعالیٰ کی (قدرت) کی نشانیوں میں بارش کی خوشخبری دینے والی ہواؤں کا چلانا بھی ہے اور مُبَشِّرَاتٍ ، لِتُبَشِّرَکُمْ کے معنی میں ہے تاکہ تم کو ہواؤں کے ذریعہ اپنی رحمت یعنی بارش اور شادابی کے ذریعہ لطف انداز کرے اور اس لئے کہ اس کے حکم ارادہ سے ہواؤں کے ذیعہ کشتیاں چلیں اور اس لئے کہ تم اس کا فضل یعنی روزی دریائی سفر کے ذریعہ تجارت کرکے تلاش کرو اور اس لئے تاکہ اے مکہ والو ! تم ان نعمتوں کا شکرادا کرو پھر اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور ہم نے آپ سے پہلے بھی اپنے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس ان کی طرف رسول ہونے کے بارے میں اپنی صداقت کی واضح دلیلیں لے آئے پھر بھی ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی پھر ہم نے مجرموں سے انتقام لیا یعنی جن لوگوں نے ان کی تکذیت کی ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ہم پر کافروں کے مقابلہ میں مومنین کی مدد کرنا لازم ہے کافروں کو ہلاک کرکے اور مومنین کو نجات دے کر اللہ وہ ذات ہے جو ہوائیں چلاتا ہے وہ بادل کو اٹھاتی ہیں حرکت دیتی ہیں پھر وہ اپنی منشاء کے مطابق آسمان میں کم یا زیادہ پھیلا دیتا ہے پھر اس کو متفرق کردیتا ہے (کِسْفًا) سین کے فتحہ اور اس کے سکون کے ساتھ الگ الگ ٹکڑے کرنا پھر اے مخاطب تو بارش کو دیکھے گا کہ وہ بادل کے درمیان سے نکلتی ہے پھر وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے وہ بارش پہنچا دیتا ہے تو وہ خوشیاں کرنے لگتے ہیں یعنی بارش سے خوش ہوجاتے ہیں، یقین ماننا کہ ان پر بارش برسنے سے پہلے تو وہ بارش سے ناامید ہورہے تھے قَبْل پہلے قبل کی تاکید ہے پھر آپ رحمت الہٰی کے آثار دیکھیں یعنی اس نعمت کو بارش کی صورت میں ایک قراءت میں آثارٌ ہے کہ وہ زمین کو مردہ ہونے یعنی اس کے خشک ہونے کے بعد کس طرح زندہ کرتا ہے بایں معنی کہ وہ اگانے لگتی ہے یقیناً یہی زمین کو زندہ کرنے والی ذات مردوں کو زندہ کرے گی اور وہ ہر شئ پر قادر ہے اور قسم ہے اگر ہم ان کی کھیتوں پر مضر ہوا چلادیں تو وہ کھیتی کو زرد دیکھیں تو وہ اس کے زرد ہونے کے بعد نعمت باراں کی ناشکری کرنے لگیں اور وَلَئِنْ میں لام قسم ہے بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چلدیں (ءَاِذَا) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے ہمزہ کے بین بین اور اسی طرح آپ اندھوں کو ان کی بےراہی سے راہ پر نہیں لاسکتے آپ تو بس فہم و قبول کا سنانا اسی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر قرآن پر ایمان رکھتا ہو لہٰذا اللہ کی توحید میں یہی لوگ مخلص ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل وتفسیری فوائد قولہ : قِفار قَفْرٌ کی جمع ہے چٹیل میدان، قَفَار قاف کے فتحہ کے ساتھ وہ روٹی کہ جس کے ساتھ سالن نہ ہو بِمَا کَسَبَتْ باسببیہ اور مَا مصدریہ ہے ای بسبب کسبھم لِنُذِیْقَھُمْ میں لام عاقبت کا ہے اور ظَھَرَ الفساد سے متعلق ہے۔ قولہ : ای عقوبتَہٗ سے حذف مضاف کی طرف اشارہ کیا ہے اَی عُقُوبَۃََ مَا عَمِلُوْا مجازاً سبب کا اطلاق مسبب پر کیا ہے، چونکہ اعمال بد عقوبت کا سبب ہیں لہٰذا سبب بول کر مسبب مراد لیا ہے۔ قولہ : من اللہ کا تعلق یأتی سے ہے۔ قولہ : یَوْمئِذٍ ، یَوْمئذٍ کی تنوین جملہ کے عوض میں ہے، ای یوم اذیاتی ھٰذا الیوم . قولہ : یَصَّدَّعُوْنَ مضارع جمع مذکر غائب اصل میں یَتَصَدَّعونَ تھا تاکہ صاد کیا اور صاد کو صاد میں ادغام کردیا تَفَعُّلٌ سے تَصَدُّعٌ مصدر ہے منتشر ہونا، کسی سخت چیز کا پھٹنا وبال کُفْرِہٖ کا اضافہ کرکے حذف مضاف کی طرف اشارہ کردیا۔ قولہ : یُوَطِّئُوْنَ وہ آراستہ کرتے ہیں سنوارتے ہیں بناتے ہیں وَطَّاَتَوطِئَۃً درست کرنا بچھانا لِیَجْزِیَ یَصَّدَّعُوْنَ سے متعلق ہے، ای یَصَّدَّعونَ لِیجزِْیَھم وہ الگ الگ ہوجائیں گے تاکہ ان کو اللہ جزاء دے۔ قولہ : یُثِیْبَھُمْ لِیجزیَ کی تفسیر ہے۔ قولہ : بمعنی لتُبَشِّرَکم اس اضافہ کا مقصد سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ لِیُذِیْقَکُمْ کا عطف مبشرات پر ہے اور یہ درست نہیں ہے اسلئے کہ یہ فعل کا اسم پر عطف ہے شارح (رح) تعالیٰ نے اسکا جواب دیا کہ مُبَشِّر بمعنی تُبَشِّر ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔ قولہ : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ (الآیۃ) یہ آیت، آیت مُفَصَّلَہ یعنی ومِن آیاتِہٖ اَن یرسِل (الآیۃ) اور آیت مفَصِّلہ یعنی اللہ الذیْ یُرسِلُ الرِّیَاحَ (الآیۃ) کے درمیان معترضہ ہے، مطلب یہ کہ ومِن آیاتہِ الخ مفصل ہے اور اللہ الذی اس کی تفصل ہے اور ولقد ارسلنا من قبلک الخ آیت معترضہ ہے اور مقصد اس کا آپ ﷺ کی تسلی ہے۔ قولہ : فانتقمناکا عطف محذوف پر ہے شارح نے فکذبوا سے معطوف علیہ محذوف کی جانب اشارہ کردیا ہے۔ قولہ : وکان حقَّا عَلَیْنَا نصر المؤمنین کان فعل ناقص حَقًّا اس کی خبر مقدم اور نصر المؤمنین اسم مؤخر، اور علینا حقًّا کے متعلق ہے۔ قولہ : وَاِن وَقَدْ شارح (رح) تعالیٰ نے انْ کی تفسیر قَدْ کے ساتھ بغوی کی اتباع میں کی ہے اس صورت میں واو حالیہ ہے، اور دیگر حضرات نے اِنْ کو مخففہ عن المثقلہ قرار دیا ہے اور اس کا اسم ھُمْ ضمیر شان محذوف مانی ہے اور جملہ کو اِنّ کی خبر قرار دیا ہے اور لمبلسِین میں لام فارقہ ہے۔ قولہ : لَظَلُّوْا جواب قسم ہے کہ جواب شرط کے بھی قائم مقام ہے، اس لئے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جب شرط اور قسم دونوں جمع ہوجائیں تو ان میں سے پہلے کا جواب مذکورہ ہوتا ہے اور دوسرے کا محذوف اور پہلے کا جواب ہی دوسرے کے جواب کی قائم مقامی کرتا ہے یہاں لَئِنْ میں قسم اور شرط دونوں جمع ہیں۔ تفسیر وتشریح ظَھَرَ الفَسَادُ فی البَرِّ وَالبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ ایدی الناس بحروبر میں فساد پھیلنے کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا میں فساد نمودار ہوگیا، مفسرین نے ” فساد “ کے مختلف معنی مراد لئے ہیں، بعض حضرات نے قحط اور وبائی امراض اور ہر شئ سے خیروبرکت کا اٹھ جانا مراد لیا ہے، نیز مذکورہ آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آفات کا سبب انسانوں کے اعمال بد ہیں جن میں شرک وکفر سب سے زیادہ شدید ہے اور یہی دیگر آیات سے بھی معلوم ہوتا ہے مثلاً وَمَا اَصَابَکُمْ من مُصِیبَۃٍ فبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ ویعفوا عن کثیرٍ. ایک شبہ اور اس کا جواب : احادیث صحیحہ میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی موجود ہے کہ دنیا مومن کیلئے جیل خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت، اور یہ کہ کافر کو اس کے نیک اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں مال و دولت اور صحت کی صورت میں دیدیا جاتا ہے اور مومن کے اعمال کا بدلہ آخرت کیلئے محفوظ کردیا جاتا ہے، اور یہ کہ اشد الناس بلاء ً الانبیاء ثمّ الأمثل فالأمثل یعنی دنیا میں سب سے زیادہ مصیبتیں انبیاء پر آتی ہیں پھر جو ان سے قریب ہو، مذکورہ احادیث اس آیت کے مضمون سے مختلف ہیں اور عام دنیا کے مشاہدات بھی بتلاتے ہیں کہ دنیا میں عام پر مومن تنگی اور تکلیف میں اور کفار و فجاز عیش و عشرت میں رہتے ہیں، اگر آیت مذکورہ کے مطابق دنیا کے مصائب اور تکلیفیں گناہوں کی وجہ سے ہوتیں تو معاملہ برعکس ہوتا۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں گناہوں کو آفات و مصائب کا سبب ضرور بتایا گیا ہے مگر علت تامہ نہیں فرمایا کہ جب کسی پر مصیبت آئے تو گناہوں کے ہی سبب سے آئے گی اور جس پر اگر کوئی مصیبت آئے تو اس کا گنہگار ہونا ضروری ہو، بلکہ عام اسباب کا وجود میں دستور ہے کہ سبب واقع ہونے کے بعد اس کا مسبب اکثر واقع ہوجاتا ہے اور اگر کبھی کوئی دوسرا سبب اس کے اثر کے ظاہر ہونے سے مانع ہوجاتا ہے تو اس سبب کا اثر ظاہر نہیں ہوتا، جیسے کہ کوئی شخص کسی دست آور دوا کے متعلق یہ کہے کہ اس سے اسہال ہوں گے، تو یہ اپنی جگہ صحیح ہے مگر بعض اوقات کسی عارض کی وجہ سے دست آور دوا سے اسہال نہیں آتے اور کبھی اسہال بغیر کسی دست آور دوا کھائے بھی آجاتے ہیں، اس لئے آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ گناہوں کا اصل خاصہ یہ ہے کہ ان سے مصائب و آفات آئیں لیکن بعض اوقات دوسرے کچھ اسباب اس کے منافی جمع ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے مصائب کا ظہور نہیں ہوتا، اور بعض صورتوں میں بغیر کسی گناہ کے کسی مصیبت اور آفت کا آجانا بھی اس کے منافی نہیں کیونکہ آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ بغیر گناہ کے کسی کو کوئی تکلیف یا مصیبت پیش نہیں آتی، بلکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو کوئی مصیبت و آفت کسی دوسرے سبب سے پیش آجائے، جیسے انبیاء واولیاء کو جو مصیبتیں اور تکلیفیں پیش آتی ہیں ان کا سبب گناہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی آزمائش اور آزمائش کے ذریعہ ان کے درجات کی ترقی اس کا سبب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن نے جن مصائب و آلام کا گناہوں کو سبب قرار دیا ہے اس سے مراد وہ آفات و مصائب ہیں جو عمومی ہوں اور پوری دنیا یا پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، ذاتی اور شخصی آفات و مصائب مراد نہیں ہیں۔ فانک۔۔۔ الموتٰی اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آپ مردوں کو سنا نہیں سکتے رہا یہ معاملہ کہ مردوں میں سننے کی صلاحیت ہے یا نہیں اور عام مردے زندوں کا کلام سنتے ہیں یا نہیں اس مسئلہ کی تحقیق سورة نحل کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔
Ayahs 30:54–60

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے اسی طرح وہ (راستہ سے) الٹے جاتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو اور یہ قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہیں تھا

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر تم ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں

آیت نمبر 54 تا 60 ترجمہ : اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے تم کو ضعف (یعنی) بےوقعت پانی سے پیدا کیا پھر ضعف آخر یعنی ضعف طفولیت کے بعد توانائی بخشی یعنی قوت شباب پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا دیا یعنی کلاں سالی کی کمزوری اور بڑھاپے کی سفیدی اور (لفظ ضعف) تینوں جگہ ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے (اور) وہ ضعف وقوت جوانی اور بڑھاپا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ اپنی مخلوق کی تدبیر سے باخبر اور جو چاہے اس پر قادر ہے اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو یہ مجرم کافر قسمیں کھائیں گے کہ وہ قبروں میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح یہ حق یعنی بعث بعد الموت سے (دنیا) میں الٹے چلا کرتے تھے جیسا کہ مدت بعث کے بارے میں سچی حقیقت سے الٹے چل رہے ہیں اور جن ملائکہ وغیرہ کو علم و ایمان عطا کیا گیا وہ کہیں گے تم تو نوشتۂ خداوندی کے مطابق جو کہ اس کے علم ازلی میں ہے قیامت کے دن تک ٹھہرے رہے یہ (دن) یوم بعث ہی ہے جس کا تم انکار کرتے رہے لیکن تم تو اس کے وقوع کا یقین ہی نہیں کرتے تھے، غرض یہ کہ اس دن ظالموں کو بعث کے انکار کے بارے میں معذرت کرنا کوئی فائدہ نہیں دے گا تنفعُ میں یا اور تا دونوں صحیح ہیں اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا یعنی نہ ان سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کہا جائے گا اور ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ان کو تنبیہ کرنے کے لئے ہر قسم کے عمدہ مضامین بیان کئے ہیں اور قسم ہے اے محمد اگر آپ ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضاء جیسے معجزے لے آئیں تو بھی ان میں جو کافر ہیں یہی کہیں گے کہ تم اور تمہارے ساتھی نرے اہل باطل ہو جو لوگ توحید کا علم (یقین) نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ ان کے قلوب پر مہر لگا دی لہٰذا آپ صبر کیجئے بلاشبہ ان کے مقابلہ میں اللہ کا وعدہ آپ کی نصرت کا سچا ہے اور بعث بعد الموت کا یقین نہ رکھنے والے یہ لوگ (کہیں) آپ کو ورغلاکر جلد بازی اور غصہ پر مجبور نہ کردیں یعنی ہرگز آپ کے ہاتھ سے دامن صبر چھوٹنے نہ پائے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : ماءٍ مھِیْنٍ یہ ضُعْفٍ کی تفسیر ہے اس تفسیر کا مقصد ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے، اعتراض یہ ہے کہ ضُعْف صفت ہے اس سے کسی چیز کی تخلیق نہیں ہوسکتی۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ضعف سے مراد اصل ضعیف ہے جیسا کہ نطفہ اصل ضعیف ہے یعنی ضعف مصدر ذو ضعفٍ کے معنی میں ہے۔ قولہ : اللہ الذی خَلَقَکُمْ جملہ مبتداء وخبر ہے۔ قولہ : شَیْبَۃ بالوں کی سفیدی جو عام طور پر تینتالیس سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے، اور یہی کہولت کی ابتداء ہوتی ہے۔ قولہ : من الضعفِ والقوۃ، ما، کا بیان ہے۔ قولہ : من الملائکۃ وغیر ھم ای الانبیاء المؤمنون . قولہ : وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (استفعال) سے استعتاب مصدر ہے، ان سے (اللہ کو) رضا مند کرنے کی خواہش نہیں کی جائے گی، بعض مفسرین نے ترجمہ کیا ہے، ان کے عذر قبول نہیں کئے جائیں گے، علامہ محلی نے اس لفظ کی تشریح میں فرمایا لا یُطْلَبُ منھم العتبٰی ای الرجوع الی مَا یرضی اللہ ان ظالموں سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا یعنی ایسے عمل کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہا جائے گا جس سے اللہ راضی ہو، امام بغوی نے معالم میں لکھا ہے لایکلفون اَن یَرْضَوْا ربَّھُمْ لأن الآخرۃَ لیست بدار التکلیف قیامت کے دن وہ اللہ کو رضا مند کرنے کے مکّف نہ ہوں گے کیونکہ دارآخرت دار تکلیف نہیں ہے بلکہ دار جزا ہے، صاوی نے کہا ہے العُتْبٰی، الرُجْعٰی کے مانند ہے وزن اور معنی میں، اور لاَ یُستَعْتَبُوْنَ کے معنی ہیں دنیا میں واپس جانے کی ان کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی، دیگر آیات میں بھی اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ کفار و مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ ہم کو دنیا میں واپس بھیج کر ایک موقع دیا جائے تاکہ تلافی مافات کرسکیں۔ قولہ : لَیَقُوْلَنَّ اس کے بعد کی عبارت شارح کے قلم کی سبقت ہے غالبًا جمع مذکر غائب کا صیغہ سمجھ کر مذکورہ تعلیل کی ہے، ورنہ باتفاق قراء لیقولَنَّ میں لام مفتوح ہے اور الذین کفروا اس کا فاعل ہے۔ قولہ : فاصبِرْ شرط محذوف کی جزاء ہے، ای اِذَاعَلِمتَ حالَھم انَّھم لایؤمنون فاصْبِرْ ۔ تفسیر وتشریح اس سورت کا بڑا حصہ منکرین قیامت کے شبہات کے ازالہ سے متعلق ہے، جس کے لئے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی بہت سی آیات اور نشانیاں دکھلا کر غافل انسان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کا سامان کیا گیا ہے، مذکورہ الصدر آیت میں قوت و ضعف کے اعتبار سے انسانی وجود کا ایک مکمل خاکہ پیش کیا گیا ہے، جس میں دکھلایا گیا ہے کہ انسان کی ابتداء بھی کمزور اور انتہا بھی درمیان میں بہت تھوڑے دنوں کے لئے اس کو قوت ملتی ہے عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ اس چند روزہ قوت کے زمانہ میں اپنی پہلی کمزوری اور آنے والی کمزوری سے غافل نہ ہو۔ خلقکم۔۔ ضعفٍ انسان کو یہی سبق دیا گیا ہے کہ اپنی اصل بنیاد کو دیکھ کہ کس قدر ضعیف بلکہ عین ضعف ہے کہ قطرۂ بےشعور بےجان ہے کہ کسی قدرت و حکمت نے اس حقیر اور ناپاک قطرے کو مختلف اطوار و حالات سے گذار کر ایک عاقل وباشعور، باعزت وبا وقار انسان کا وجود بخشا۔ کمزوری سے مراد کہولت کی عمر ہے جس میں عقلی اور جسمانی قوتوں میں نقصان کا آغاز ہوجاتا ہے اور بڑھاپے سے مراد شیخوخت کا دور ہے جس میں ضعف بڑھ جاتا ہے، ہمت پست، ہاتھ پیروں کی حرکت اور گرفت کمزور، بال سفید اور تمام ظاہری و باطنی صفات متغیر ہوجاتی ہیں۔ ویوم۔۔۔ ساعۃ یعنی جس روز قیامت قائم ہوگی تو منکرین قیامت وہاں کی ہولناکی اور شدائد کو دیکھ کر قسمیں کھانے لگیں گے کہ ہمارا قیام تو ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہا، اس قیام سے مراد ہوسکتا ہے کہ دنیا کا قیام ہو کیونکہ ان کی دنیا عیش و آرام سے گذری تھی اور اب یہاں مصائب و شدائد سامنے آئے تو انسانی عادت اور فطرت کے مطابق انسان آرام و راحت کے زمانہ کو بہت مختصر سمجھتا ہے اس لئے قسمیں کھائیں گے کہ دنیا میں تو ہمارا قیام بہت ہی مختصر صرف ایک گھڑی کا تھا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس قیام سے قبر اور برزخ کا قیام مراد ہو اور ” بہت قلیل مدت “ کے قیام سے برزخ کا قیام مراد ہو یہ انسانی فطرت ہے کہ مصائب کے وقت پچھلی راحت کو بہت مختصر سمجھنے لگتا ہے، اور کافروں کو اگرچہ قبر و برزخ میں بھی عذاب ہوگا مگر قیامت کے عذاب کے مقابلہ میں وہ بھی راحت محسوس ہونے لگے گا اور اس زمانہ کو مختصر سمجھ کر قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا قیام قبر میں بہت مختصر تھا۔ ولا۔۔۔ یستعتبون اس کا مطلب یہ ہے کہ مجرموں سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم توبہ کرکے یا نیک اعمال کرکے خدا کو راضی کرلو کیونکہ قیامت کا دن دارلجزاء ہے، دارالعمل نہیں ہے، صاحب جلالین نے یہی مطلب بیان کیا، ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا کہ مجرمین اللہ تبارک و تعالیٰ سے دنیا میں واپس بھیجے جانے کی درخواست کریں گے تاکہ دنیا میں نیک عمل کرکے تلافی مافات کرسکیں مگر ان کی یہ درخواست قبول نہیں کی جائے گی، تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان اس کی مزید تفصیل گذرچ کی ہے دیکھ لیا جائے۔ تم بحمد اللہ