32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 32:1

الٓمّٓۚ Open ayah 32:1 in the Quran reader

الف۔ لا ... م می ... م

الف لا۔۔۔۔۔ م می ۔۔۔۔۔ م حروف مقطعات میں سے ہیں ‘ اس نام کی یہ آخری سورت ہے : 1۔ حروف مقطعات کی بحث عروۃ الوثقی جلد اول کی سورت البقرہ کی پہلی آیت میں کردی گئی اگر تفصیل یاد نہ رہی ہو تو ایک بار پھر اس مقام کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ حروف مقطعات کل 29 سورتوں کے شروع میں آئے ہیں اور قبل ازیں سترہ سورتوں پر بیان کیے جا چکے ہیں اور زیر نظر آیت اٹھارویں صورت ہے جس کے شروع میں حروف مقطعات بیان ہوئے ہیں ۔ اور (الم) اس جگہ چھٹی بار آیا ہے اس سے قبل البقرہ ‘ آل عمران ‘ العنکبوت ‘ الروم ‘ لقمان پر یہ گزر چکا ہے اور زیر نظر سورت السجدہ پر چھٹی بار آیا ہے اور یہ آخری سورت ہے اس کے بعد (الم) کسی سورت پر نہیں آیا جن سورتوں پر یہ تینوں حروف آئے ہیں ان کا مضمون تقریبا یکساں ہے اور ان میں باقی مضامین کے ساتھ توحید باری تعالیٰ قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے کے دلائل اور آخرت کے وقوع کا ذکر اور اس کے دلائل تینوں مضمون ضروری بیان ہوئے ہیں جیسا کہ ان سورتوں کے مضمون سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔
Ayah 32:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے

ال کتاب یعنی قرآن کریم کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے : 2۔ اس کتاب کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام ہونے کے لئے یہ شرط لازم ہے کہ اس میں تضاد نام کی کوئی چیز نہیں اور یہی اس بات کی روشن دلیل ہے ۔ غور کرو کہ قرآن کریم ایک دو یا چار چھ دنوں میں نازل نہیں ہوا بلکہ مسلسل 23 سال نازل ہوتا رہا ۔ اس کے زمانہ نزول کے دوران کئی طرح کے حالات بدلتے رہے ، مکی زندگی کے تیرہ سالوں میں بھی حالات میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہا اور ہجرت کے بعد تو بالکل ہی حالات مختلف ہوگئے ، مدنی زندگی کے پہلے سالوں اور آخری سالوں میں بھی بہت فرق تھا جب لوگ دین اسلام میں جوق در جوق داخل ہونا شروع ہوئے اور خصوصا مکہ فتح ہوگیا تو حالات میں بہت بڑی تبدیلی آئی ، شروع شروع مکی زندگی میں صرف توحید الہی اور قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے کے دلائل اور آخرت کی زندگی کے لزوم پر زور دیا گیا تھا اور ہجرت کے بعد احکامات ‘ عبادات ‘ معاملات اور معاشرتی زندگی کی ضروریات کا ان میں اضافہ ہوا اور خصوصا میدان جنگ میں برسرپیکار ہونے کے آداب واحکامات کی تفصیل بیان کی گئی ہے لیکن کسی ایک جگہ بھی ان احکامات میں اور دوسرے سارے مذکورہ مضامین کے بیان میں تضاد نظر نہیں آتا بلکہ قرآن کریم نے اس بات کا چیلنج بھی کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ” کیا یہ لوگ قرآن کریم کے مطابق میں غور وفکر نہیں کرتے ؟ اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی سمجھ بوجھ سے کام نہیں لیتے ؟ اگر یہ کسی دوسرے کی طرف سے ہوتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو ضروری تھا کہ وہ اس کی بہت سی باتوں میں اختلاف پاتے حالانکہ وہ اپنی ساری باتوں میں اول سے لے کر آخر تک کامل طور پر ہم آہنگ اور یکساں ہے ۔ “ (النساء 4 : 82) بلاشبہ جو شخص قرآن کریم میں تدبر کرتا ہے اس پر یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے یہ کسی فلسفی ‘ کسی مؤرخ یا کسی ادیب کا شاہکار نہیں ہے اور نہ ہی کسی شاعر رنگین نوا کی طبع رسانی کا کرشمہ ہے بلکہ یہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا کلام ہے جو پروردگار عالمین ہے ‘ جو کائنات کے ذرہ ذرہ کا خالق بھی ہے اور مالک بھی ‘ جس نے ہرچیز کو اس کی استعداد کے مطابق بےپناہ صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں پھر ان کی نشو ونما کے مرتبہ کمال تک ان کو پہنچایا ہے اس کا نازل کرنے والا اپنی قدرت میں ہمہ گیر ‘ اپنی حکمت میں بےمثال اور اپنی شان ربوبیت کے اظہار میں بڑا فیاض اور کریم ہے اس لئے یہ کتاب ہر لحاظ سے جامع اور مکمل ہے ، مزید وضاحت آپ کو عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 114 جلد پنجم ‘ سورة الاسراء کی آیت 106 میں اور جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 192 میں ملے گی وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (اللہ کے رسول) نے اسے خود بنا لیا ہے ، نہیں وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جن کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا کہ شاید وہ ہدایت پائیں

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود اس کو گھڑا ہے حالانکہ وہ حق ہے تیرے رب سے : 3۔ بدبخت منکرین قرآن کا یہ دعوی قرآن کریم نے کئی بار نقل کیا ہے اور پھر اس کا ہر بار مسکت جواب دیا ہے مثلا عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس کی آیت 38 ‘ سورة ہود کی آیت 13 اور آیت 38 جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 5 ‘ سورة الفرقان کی آیت 4 میں یہ مضمون نہایت مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے اور ہر بار ان کو یہ چیلنج بھی کیا گیا ہے کہ تم جو بار بار یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو گھڑ لاو ہے تو تم بھی اس جیسا کلام گھڑ کر پیش کر دو تاکہ تمہاری اس بات میں کوئی وزن پیدا ہوجائے اور پھر ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اچھا صرف دس سورتیں ہی اس جیسی گھڑ کرلے آؤ لیکن وہ ایسے بوکھلائے کہ نہ تو کوئی جواب دے سکے اور نہ ہی انہوں نے اس چیلنج کو قبول کرنے کی ہمت کی اور کر بھی کیونکر سکتے تھے وہ تو صرف ایک بات تھی جو انہوں نے بےسوچے سمجھے زبان سے نکال دی اور اب جب وہ اسلام کے اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے تو ان سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا گیا کیونکہ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ ایک بڑ ہے جو وہ نہایت ڈھیٹ ہو کر منہ سے بک دیتے ہیں تو اس طرح بھاگنے والوں کا پیچھا نہیں کیا گیا کہ یہ بھی کوئی اخلاقی چیز نہیں ہے کہ بھاگنے والوں کا پیچھا ہی نہ چھوڑا جائے اس لئے اس جگہ ان کو اس طرھ کی کوئی بات نہیں کہی گئی بلکہ ان کو کہا گیا تو یہ کہ ہم نے تو اس قرآن کریم کو بطور حق نازل کیا ہے اور اس کے حق ہونے کی دلیل بھی تم کو ایک بار نہیں کئی بار دی جا چکی ہے پھر اس کی غرض وغایت یہ ہے کہ اس سے ان لوگوں کو حق کے قبول نہ کرنے کی پاداش سے ڈرایا جائے خصوصا ہو لوگ جن کے پاس بہت بڑی مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد قریش مکہ ہی ہیں جن کے پاس سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی ورسول نہیں بھیجا گیا تھا اور ان کے مقابلہ میں بنی اسرائیل یعنی اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد بھی جن کے پاس بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں نبی اور دہائیوں میں رسول مبعوث ہوچکے تھے اور ان میں سے اکثر کا ذکر خود قرآن کریم نے بھی کیا ہے ۔ اس سے جو ہدایت ہم کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ جس نظریہ کا بطلان اظہر من الشمس ہو اور اس پر ایک بار دلائل کے انبار لگا دیئے گئے ہوں اور مخالف ایک بار بھاگ نکلا ہو اس کا ذکر بار بار کرنا اور انہیں مسائل میں قوم کو الجھائے رکھنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں بلکہ اس معاملہ میں سرسری نظر سے جواب دے کر آگے گزر جانا ہی عقل مندی ہے لیکن افسوس کہ یہی بات ہے جو آج ہمارے مختلف مکاتب فکر کے علماء گرامی قدر کے ذہنوں میں نہیں آرہی ہے بلکہ انہوں نے چند باتیں مخالفین کو زک کرنے کی رٹ لی ہیں اور انہیں کو ساری عمر رٹتے رہنا انہوں نے اپنا پیشہ بنا لیا ہے اور اسی پیشہ کے باعث وہ قوم کو لوٹتے چلے جا رہے ہیں ۔ اس وقت اسلام میں جتنے معروف مکاتب فکر ہیں ان سب کا یہی حال ہے کہ ہر مکتب فکر کے ملاؤں کے پاس چار پانچ یا چھ ساتھ اختلافی مسائل ہیں اور انہی مسائل کے لئے وہ ایک دوسرے کو للکارتے نظر آتے ہیں اور دن رات سپیکر کھول کر گلے پھاڑ پھاڑ کر قوم کے امن کو غارت کر رہے ہیں اور اپنی اپنی کمین گاہوں میں گویا یہ شیر ہیں جو گرج اور دھاڑ رہے ہیں اور کوئی نہیں جو ان کو تفہیم کرائے کہ تم اس طرح اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر رہے بلکہ اسلام کو منہدم کرنے کے تم مجرم ہو اور جس چیز کو تم نے آج کاروبار بنا لیا ہے یہی چیز کل تم کو میدان حشر میں ذلیل ورسوا کر دے گی ، غور کرو کہ آج قوم مسلم میں وہ کونسی بیماری ہے جو گزشتہ قوموں میں تھی اور ہم میں وہ موجود نہیں حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ قوموں کی ساری بیماریوں کا مجموعہ آج ہم قوم مسلم میں ہے اور انہی بیماریوں نے ہم کو مردے ‘ اپاہج اور کوڑھی بنا کر رکھ دیا ہے اور انہیں مردوں ‘ اپاہجوں اور کوڑھیوں کو علمائے اسلام لوٹنے اور ان کا مال سمیٹنے میں مصروف ہیں ۔ پھر جتنے بڑے عالم ہیں اتنے ہی بڑے ان کے پاس مردے ‘ اپاہج اور کوڑھی ہیں اور اتنا ہی زیادہ مال وہ اکٹھا کر رہے ہیں اگر آپ برا نہ مانیں تو اس وقت ہمارا وہ طبقہ جو برسر اقتدار ہے یا حزب اختلاف بننے کے قابل ہے وہ سب کے سب یہی مردے ‘ اپاہج اور کوڑھی ہیں اور جو علمائے اسلام ان کے ساتھ ہیں خواہ کس مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہیں وہ وہی ہیں جو ان سے اپنی ذات کے لئے مال اکٹھا کر رہے ہیں اور ان کے نام تم کو سب اچھی طرح یاد ہیں اس لئے مجھے آپ کے سامنے ان کے نام پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ قرآن کریم کے نزول کی جو غرض خود اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ہم کو بتائی ہے وہ کیا ہے ؟ اور جو کام ہم اس سے لے رہے ہیں وہ کیا ہے ؟ یہ بات بھی تم سے اس وقت کوئی مخفی نہیں اس وقت مکہ کے لوگ جس ضلالت میں بھٹک رہے تھے اور اپنے نفس کی رذیل خواہشات کی تکمیل کے بغیر ان کے سامنے زندگی کا کوئی مقصد نہیں تھا ‘ وہ اپنے انجام سے بیخبر فسق وفجور کا ارتکاب کر رہے تھے اور ان کو ایک عرصہ دراز سے کسی نے آکر ان کاموں سے ٹوکا نہیں تھا اور یہ حالت ان کے عوام کی تھی لیکن آج بلاشبہ جو حالت اس وقت ان کے عوام کی تھی وہ اس وقت ہمارے خواص کی ہوچکی ہے اور وہی قرآن کریم جو ان کی اصلاح کے لئے اس وقت آیا تھا بلاریب اس نے ان کی اصلاح کر بھی دی تھی آج وہ ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ‘ گھروں میں موجود ہے اور اس قرآن کریم کی ہم دن رات تلاوت کر رہے ہیں لیکن نہیں سمجھتے کہ اس میں ہماری ساری بیماریوں کا علاج موجود ہے ۔ ہمارے زمانہ کے طبیبوں اور ڈاکٹروں اور حکیم الامتوں اور علاموں نے ہر بیماری کا نسخہ ہمیں یاد کرا دیا ہے اور وہ ہمیں اس کی تلقین کرتے چلے جا رہے ہیں کہ بس اس نسخہ کی تلاوت کرتے رہو یہی تمہارا علاج ہے اور اگر تم کو صحت نہ ہوئی تو کیا ہوگا ؟ یہی کہ تم اسی بیماری میں مبتلا مر جاؤ گے اگر ایسا ہوا تو ہم موجود ہیں ہم اس نسخہ کو تمہاری قبر پر پڑھیں گے ‘ ہر جمعرات کو پڑھیں گے ‘ ہر جمعہ کو پڑھیں گے اور جب تک تمہارے لوگوں نے ہماری پذیرائی جاری رکھی ہم پڑھتے ہی رہیں گے اور یہ بات تم کو معلوم ہے کہ قرآن کریم سے زیادہ شفا کسی اور چیز میں نہیں ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ تم شفایاب نہ ہو گے اگر زندگی میں نہیں تو مرنے کے بعد سہی بہرحال شفا کلی آپ کو حاصل ہوگی صرف اس بات پر ایمان شرط ہے اور کوئی نہیں پوچھتا کہ صاحب جن اول بیماریوں کے لئے یہ نسخہ اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے نازل کیا تھا اور جس ڈاکٹر ‘ طبیب اور حکیم حاذق محمد رسول اللہ ﷺ نے ان کا اس سے علاج کیا تھا اس کا طریقہ کیا تھا ۔ لاریب اگر آج بھی وہ طریقہ اختیار کیا جائے تو اس بیمار قوم کو کلی صحت حاصل ہو سکتی ہے۔ اے ہمارے رب ! اے ہمارے قادر وقدیر اور مالک وملیک خدا ہمیں اس نسخہ کیمیا کو صحیح طریقہ سے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرما اور قوم مسلم کی بیماریوں کا ازالہ فرما دے ‘ تجھے تیری الوہیت اور ربوبیت کا واسطہ ہماری حالت پر رحم فرما ۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا پھر تخت پر متمکن ہوا ( نظام دنیا چلایا) اس کے علاوہ تمہارا کوئی دوست اور سفارش کرنے والا نہیں کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے (کیا تم اتنی سمجھ بھی نہیں رکھتے)

اللہ وہ ذات ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کو چھ ادوار میں پیدا کیا : 4۔ زیر نظر آیت کریمہ کے مضمون کو اس سے پہلے قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر بیان کیا گیا ہے اور ہم نے اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 54 جلد چہارم سورة یونس کی آیت 3 ‘ سورة ہود کی آیت 5 ‘ جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 59 میں کردی ہے اس مضمون کے بار بار بیان کرنے کی ضرورت اس طرح ہوئی کہ مشرکین اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر اپنے مزعومہ ولیوں اور دوستوں اور بزرگوں کے بت بنا کر ان کی شبیہوں کو سامنے رکھ کر عبادت کرتے تاکہ ان بزرگوں کی یاد تازہ رہے ان کے سامنے اپنی حاجت پیش کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے حاجت روا اور مشکل کشا ہیں بعینہ جس طرح آج کل ہماری قوم مسلم کی اکثریت کر رہی ہے فرق ہے تو صرف یہ کہ وہ مرے ہوئے بزرگوں کے بت بناتے تھے اور آج کل کے مسلمان مشرک بتوں کی بجائے ان کی قبریں بناتے ہیں ۔ ان مشرکوں کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ غور کرو کہ اتنے بڑے آسمان و زمین کے اندر مختلف اجرام سماوی موجود ہیں اور اسی طرح اتنی بڑی زمین جس میں اتنے اتنے بڑے سمندر ‘ دریا اور پہاڑ موجود ہیں جس کے اندر دفینوں اور باہر کی مخلوق کو اگر تم شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے اتنی اتنی بڑی چیزوں کا پیدا کرنے والا ‘ ان کی حفاظت کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے اور ان ساری چیزوں میں سے ایک بھی نہیں جو اس سے منہ پھیرنے والی ہو آخر تم انسان ہی ایسے گئے گزرے ہو کہ تمہاری حاجت روائی اور مشکل کشائی وہ نہیں کرسکتا تم اس کی ذات بےپایاں کو چھوڑ کر اس کی مخلوق پر انحصار کرتے ہو حالانکہ تم صاحب عقل و دانش ہو کیا صاحب عقل و دانش ہونے کا یہی اعزاز ہے جو تم کو دیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات کو چھوڑ کر غیروں کے دروازوں پر دھکے کھا رہے ہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس صاحب عرش کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ ہی کوئی سفارشی ہے کیونکہ کس کی مجال ہے جو اس کے سامنے اپنی مرضی سے اپنی دوستی یا سفارش کا صرف اظہار ہی کرسکے کیا اتنی سی بات کو بھی نہیں سمجھ سکتے اور اس کائنات کے نظام کو دیکھ کر بھی تم نصیحت نہیں پکڑ سکتے ۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہی (ہے جو) آسمان و زمین تک ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے پھر (ہر) کام اس کے پاس پہنچ جائے گا ایک ایسے دن میں جو تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کا ہوگا (ایک لمبے زمانے کو بھی ” دن “ ہی کہا جاتا ہے)

آسمان و زمین اور ہرچیز کی تدبیر اس کے ہاتھ میں ہے ہر کام اس کی طرف لوٹے گا : 5۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام وہ ذات ہے کہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر وہ کرتا ہے اور اس تدبیر کی رو داد پوری پوری اس کے حضور پہنچتی ہے لیکن تم اتنے جلد باز ہو کہ تمہارے مطالبات ہر وقت ہتھیلی پر سرسوں جمانے ہی کے ہوتے ہیں حالانکہ اس کے ہاں جو کچھ ہے اس میں تدریج وامہال ضروری ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ جس طرح مادیات میں ہر حالت بہ تدریج وامہال ضروری ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ جس طرح مادیات میں ہر حالت بہ تدریج نشو ونما پاتی ہے اور ہر نتیجہ کے ظہور کے لئے ایک خاص مقدار ‘ ایک خاص مدت اور ایک خاص وقت مقرر کردیا گیا ہے ٹھیک اسی طرح اعمال کے نتائج کے لئے بھی مقدار و اوقات کے احکام مقرر ہیں اور ضروری ہے کہ ہر نتیجہ ایک خاص مدت کے بعد اور ایک خاص مقدار کی نشو ونما کے بعد ظہور میں آئے ، غور کرو کہ فطرت کا یہ قانون ہے کہ اگر پانی آگ پر رکھا جائے تو وہ گرم ہو کر کھولنے لگے گا لیکن پانی کے گرم ہونے اور بالآخر کھولنے کے لئے حرارت کی ایک خاص مقدار ضروری ہے اور اس کے ظہور وتکمیل کے لئے ضروری ہے کہ ایک مقررہ وقت تک انتظار کیا جائے ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم پانی چولہے پر رکھو اور وہ فورا کھولنے لگے وہ یقینا کھولنے لگے گا لیکن اس وقت جب حرارت کی مقررہ مقدار بہ تدریج تکمیل ضرور ہے کہ جب تک اعمال کے اثرات ایک خاص مقررہ مقدار تک نہ پہنچ جائیں نتایج کے ظہور کا انتظار کیا جائے اس لئے زیر نظر آیت میں فرمایا کہ بلاشبہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ہرچیز کی تدیبر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاتھ میں ہے اور ہر کام اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم اپنی جگہ عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہو اور از راہ شرارت کہتے ہو کہ اگر سچ مچ کو بدعملیوں کا برا نتیجہ پیش آنے والا ہے تو کیوں نہیں آچکتا ؟ لیکن تم یہ نہیں جانتے کہ فطرت کائنات کی اوقات شماری کا وہ حساب نہیں جو دنیا کے لوگوں نے بنا رکھا ہے اس کی گھڑی کا کاٹنا تمہارے لحاظ سے بہت دیر میں چلتا ہے تمہاری تقویم میں ہزار برس گزر جائیں تو اس کی تقویم کا بہ مشکل ایک دن گزرتا ہے اس لئے ظہور نتائج کا فیصلہ اپنی صبح وشام دیکھ کر نہ کرلیا کرو ٹھہرو اور انتظار کرو ابھی تو تم کو ایک دن کی مقدار تمہارے حساب کے مطابق ایک ہزار برس کی تم کو بتائی گئی ہے حالانکہ اس کے ہاں ایک دن پچاس ہزار سال کا بھی شمار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے اوپر چھ دن کو چھ ادوار سے موسوم کیا ہے کہ کیا تم خود اور کیا تمہارا یہ دن گویا یہ تو وہی بات ہوئی کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ اس کی وضاحت پیچھے بھی کی جا چکی ہے اس لئے زیادہ تفصیل چاہتے ہو تو عروۃ الوثقی جلد ششم سورة الحج کی آیت 47 کی تفسیر بھی دیکھ لیں ۔
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی ہر حاضر و غائب (ظاہر و باطن ، کھلے اور چھپے) کا جاننے والا ہے وہ (ہر چیز پر) غالب اور بہت پیار کرنے والا ہے

وہی حاضر و غائب کا جاننے والا ہے جو ہرچیز پر غالب ہے ‘ پیار کرنے والا : 6۔ غور کرو کہ کون ہے جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا غیب و حاضر ہر ایک چیز سے واقف اور ہرچیز کا جاننے والا ہے ؟ بلاشبہ کوئی ایک بھی نہیں نہ فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ ‘ نہ جنوں میں سے کوئی جن ‘ نہ نبیوں اور رسولوں میں سے کوئی نبی ورسول بلاشبہ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو سب کچھ جاننے والا ہو یہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے کہ اس پر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے جو کچھ گزرا ہے اور جو کچھ ابھی آنا ہے اس پر اسی طرح عیاں ہے جس طرح ظاہر چیز عیاں ہے اسی طرح وہ ہرچیز پر غالب ہے اور کوئی نہیں جو اس کے ارادے میں مزاحم ہو سکے اور اس کے حکم کو نافذ ہونے سے روک سکے ، ہرچیز اس کے سامنے مغلوب ہے اور کوئی نہیں جو اس کے مقابلہ کی طاقت رکھے ۔ لیکن اس ساری طاقت وقوت اور غلبے واقتدار کے باوجود وہ اپنی مخلوق پر بہت ہی رحم کرنے والا ہے جس طرح بڑے چھوٹوں پر شفقت و پیار کرتے ہیں ۔
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

وہی (اللہ) ہے جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی اور انسان کی تخلیق کی ابتدا اس نے گارے (سے کی ہرچیز کی تدریجی ترقی کی ابتدائ) مٹی ہی سے کی

بلاشبہ اس نے ہرچیز ہی خوب بنائی لیکن انسان کو گارے سے بنا دکھایا : 7۔ اس کائنات میں جو کچھ اس نے پیدا فرمایا اگر کوئی شخص ان کا گننا چاہے تو گن نہیں سکتا اور نہ ہی آج تک مخلوق خداوندی کا احصاء ہوسکا ہے اور بلاشبہ اس کا شمار ممکن بھی نہیں پھر جو کچھ پیدا کیا اس میں سے جن جن اشیاء پر آپ کی نگاہ پہنچ سکتی ہے اس اس کو دیکھو اور خوب غور وخوض سے دیکھو ہر ایک چیز کا ایک اپنا حسن ہے اور ہرچیز ازحد حسین و جمیل ہے کسی ایک چیز سے بھی تم نقص نہیں نکال سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ چیز اس طرح کی بجائے اگر اس طرح ہوتی تو زیادہ اچھی نظر آتی اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہرچیز کو اس نے کامل اور مکمل پیدا کیا ‘ پھول ہو یا خار ‘ مچھر ہو یا شاہین ‘ چیونٹی ہو یا ہاتھی ہر ایک اپنی اپنی جگہ خوب بنایا گیا ہے اعضاء ترکیبی جن سے ہر ایک چیز مرکب ہے ان میں سے بلاشبہ ہر ایک چیز کی جنس ایک دوسرے سے مختلف ہے لیکن اس اختلاف کے باوجود جو اختلاف اس جنس کے لئے رکھا گیا اس میں ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں نکل سکتی چاہے آپ جتنا بھی غور کریں اور جس ذہن کے مطابق بھی اس کو دیکھیں اس کا نقص آپ نہیں بتا سکتے پھر ہرچیز کو جس طرح بنایا وہ اپنے جسم وجان کے لحاظ سے اپنے اندر نہایت موزوں ہے انسان غور کرے کہ اگر ہاتھی کی سونڈ اس کو عطا کی جاتی تو کیسا لگتا ذرا تصور کرکے تو دیکھو لیکن اگر یہی ناک ہاتھی کے منہ پر لگائی جائے تو کیا سجتی نظر آئے گی ؟ پھر غور کرو کہ انسان سے لے کر حیوان تک جو جو آلہ جس جس مقصد کے لئے اللہ نے عطا فرمایا اس کے لئے وہ کتنا حسین نظر آتا ہے لیکن اگر ان کو ایک دوسرے سے بدل دیا جائے تو کسی ایک کو کسی دوسرے سے بدل کر ذہن میں لاؤ تو تم خود ہی کھسیانے ہو کر رہ جاؤ پھر ساری مخلوق میں سے اشرف المخلوقات کا شرف حاصل کرنے والا انسان اپنی اصلیت پر ہی ذرا غور کرکے دیکھے کہ آخر وہ بھی تو اس مٹی سے بنایا گیا ہے جو مدتوں تک گلتی سڑتی رہی اور اس پر کئی ایک تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس کے بعد جو کچھ بھی ہے بلاشبہ سب کی سب مٹی ہی سے ہے اور اس مٹی میں ہر ایک چیز کی خوراک رکھ دی اور اس مٹی میں اس کو انجام کار چھپا دیا گیا اور اس مٹی کو ایسی طاقت اور قوت بخشی کی اس کو ہضم کرتے بھی دیر نہیں لگتی اور پیدا کرنے کا وقت آتا ہے تو بھی وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہری بھری ہوجاتی ہے ۔ انسان براہ راست زمین سے اس ڈھانچے کے ساتھ پیدا ہوا یا مختلف صورتوں میں پیدا ہوتے ہوتے اس صورت تک پہنچا یہ بحث یہاں مناسب نہیں کیونکہ دونوں صورتوں میں انسان تو اس کو اس وقت کہا گیا جب وہ اس موجودہ صورت وہیئت میں آیا ، چونکہ اس وقت بھی انسان کئی ایک مختلف صورتیں بدلتا ہے لیکن انسان یا بشر کا اطلاق اس پر اسی وقت ہی ہوتا ہے جب وہ اس صورت میں نظر آنے لگتا ہے ۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل کو ایک حقیر پانی کی بوند (نطفہ) سے پیدا کردیا (جو ساری غذاؤں کا خلاصہ ہے)

نسل انسانی کو ایک حقیر بوند پانی سے پیدا کردیا جو ایک خلاصہ ہے : 8۔ گزشتہ آیت میں اصل انسانی کی بات کی جا رہی تھی اور زیر نظر آیت میں نسل انسانی کی بات کی جا رہی ہے (سلالۃ) کی اصل س ل ل ہے جس کے معنی کسی چیز کو کسی چیز سے کھینچنے ‘ سوتنے اور نچوڑنے کے ہیں (سلالۃ) چنی ہوئی چیز ‘ نچوڑی ہوئی چیز یا خلاصہ اور ست بھی اس کو کہا جاسکتا ہے ۔ انسان کے جسم میں جو غذا جاتی ہے اسی سے انسان کی نسل کو نچوڑ کر ‘ چن کر بطور خلاصہ کے حاصل کرلیا جاتا ہے جو صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کا کام ہے اس کو آج تک نہ تو کوئی انسان ترتیب و تخلیق دے سکا اور نہ ہی آئندہ دے سکے گا ، اس کی وضاحت ویسے تو کئی ایک مقامات پر گزر چکی ہے لیکن زیادہ بحث عروۃ الوثقی جلد ششم سورة الحج کی آیت 5 میں اور سورة المومنون کی آیت 13 ‘ 14 میں کی گئی ہے وہیں سے ملاحظہ کرلیں ۔ اس کے بار بار بیان کرنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ انسان اگر صرف اپنی تخلیق اصل پر نظر دوڑائے اور اسی طرح اپنی تخلیق نسل کو دیکھے تو بلاشبہ وہ شرک کا مرتکب ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ نہ اس کی تخلیق اصل میں کوئی شریک تھا اور نہ ہی تخلیق نسل میں پھر جب اس مشکل ترین کام کو وہ اکیلا کرتا ہے اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ تو اس سے آسان کام کیا وہ نہیں کرسکتا جس نے اس مشکل کو کیا ۔ پہلے تو انسانوں میں معاملات میں غور وفکر سے کام لے گا ، دین کا معاملہ ایسا ہے کہ اس میں دین کے ٹھیکہ داروں نے ہر کہ ومہ کو یہ بات بتا دی ہے کہ دین کے کاموں میں عقل وفکر سے کام نہیں لیا جاسکتا جو عقل وفکر سے کام لیں وہ دین کے کام کے نہیں رہتے ۔ بہرحال ٹھیکہ دار کچھ ہی کیوں نہ کہیں دین اسلام اور عقل وفکر کا نہایت گہرا تعلق ہے کیونکہ دین اسلام کی کوئی بات بھی ایسی نہیں جو عقل وفکر کے خلاف ہو بلکہ جو عقل و فکر کے خلاف ہو وہ دین اسلام کی بات ہو ہی نہیں سکتی ۔ تخلیق انسان ہی کا مسئلہ لے لو اور غور وفکر کرو تو تم یقینا اس نتیجہ پر پہنچو گے اگر کسی کی عقل وفکر کی قوتیں اپاہج نہ ہوچکی ہو تو اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ تخلیق انسان کے متعلق جو حقیقت قرآن کریم نے بیان کی ہے وہی فطرت انسانی کے مطابق اصل چیز ہے ‘ وہ کیا ہے ؟ وہی جو اس کی افزائش نسل کا انتظام کردیا گیا ہے اور وہ طبعی عوامل کے باعث خود بخود اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے نئی نسل کی پیدائش اور تربیت کے لئے جتنے روح فرسا خطرات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اپنے عیش و آرام ‘ اپنی صحت و دولت اور وقت کی جو گراں قدر قربانیاں دینا پڑتی ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں اور خصوصا ہر ماں اور باپ سے تو وہ کسی حال بھی پوشیدہ نہیں ہیں لیکن اس نے اپنی حکمت کاملہ سے ان تمام چیزوں کو ایسی زبردست لذت سے وابستہ کردیا ہے کہ انسان اس کے حصول کی خاطر یہ ساری قربانیاں خوشی سے دینے کے لئے تیار بلکہ بےقرار ہوجاتا ہے پھر غیر طبعی طریقوں سے اگر اس لذت سے انسان کو الگ کردیا گیا تو باقی کیا رہ گیا ؟ خود ہی غور کرلو اشارہ میں نے کردیا ہے ۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس (انسان) کو درست کیا اور اس میں اپنی (مخلوق کردہ) جان اس میں پھونکی اور تمہارے لیے کان ، آنکھیں اور دل بنائے (لیکن) تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو (کم ہی لوگ ہیں جو شکر گزار ہیں)

قدرت کی کرشمہ سازیوں کا ذکر کہ کس طرح اس میں سماعت و بصارت رکھ دی : 9۔ تخلیق نسل انسانی کی ابتداء کیا تھی ؟ (ماء مھین) تھا جو خود کمزور ہے اور انسان کو کمزور کرتا ہے جو خود ذلیل ہے اور انسان کو ذلیل کرتا ہے ‘ جو خود رسوا ہے اور انسان کو رسوا کرتا ہے پھر کیا شان خداوندی ہے کہ اس نے اسی پانی سے انسان کو درست کردیا فطری طور پر اس کا رحم مادر تک پہنچنا تھا کہ اس پر عجیب قسم کا فطری عمل شروع ہوگیا اور اس میں عجیب و غریب تبدیلیاں وقوع پذیر ہونا شروع ہوگئیں اور یہ نہ دکھائی دینے والا جرثومہ چند دنوں میں ایک لوتھڑے کی شکل اختیار کر گیا ‘ وہ کیا تھا ایک تھرتھراتا ہوا پانی اور خون کا آمیزہ جو ایک جھلی کے اندر بےشکل خاکستری رنگ لئے ہوئے پڑا تھا کیا اس کو غیر فطری طریقہ سے اس شکل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ؟ ان سائنس دانوں سے پوچھو جن کو غیر فطری طریقہ سے اس کو اس جگہ پر رکھنے میں مہارت حاصل کرنے کے باعث تم نے اللہ کا شریک بنا لیا ‘ ان کا آخر کمال کیا ہے کہ ایک ایسا کام جو ایک مجذوب اپنی صلاحتیی کمزوریوں کے باوجود فطری طور پر سرانجام دے سکتا ہے اور اس پر کچھ خرچ بھی نہیں کرنا پڑتا وہی کام اس سائنس دان نے غیر فطری طور پر کروڑوں روپیہ خرچ کرکے کیا تو وہ انعام کا مستحق قرار پایا حالانکہ اس کی افزائش اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے بتائے ہوئے قانون نے اس فطری طریقہ پر مکمل کی اگر غور کرو تو تم کو معلوم ہو کہ اس سارے عمل میں اصل چیز تو وہی افزائش تھی نہ کہ سیل رکھنے کا غرت فطری طریقہ ہاں ! اگر ان لوگوں کو اتنا زعم تھا تو پھر وہ اسی سیل کو کسی ششہا کے جار میں رکھ کر اس پر عمل نہ کرتے بلکہ اس سیل کو جو اصل بنیاد ہے اس کو پیدا کر کے بتاتے یہ تو آج بھی اسی طرح ناممکن ہے جس طرح پہلے تھا پھر آخر ان کو ناز کس بات پر ہے ؟ اور وہ کارنامہ کیا ہے جو انہوں نے انجام دیا ۔ اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا پیدا کردہ ہے پھر ان اشیاء سے جو مخلوق خداوندی ہیں کہ ترتیب دینے اور ان پر تجدید عمل کرنے ہی کے لئے انسان کو بنایا گیا مطلب یہ ہے کہ یہی تو وہ صلاحیتیں ہیں جو اس میں رکھی گئی ہیں جن کی بنا پر اس کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا بدقسمتی سے اس کام کو مسلمان کہلانے والوں نے پس پشت ڈال دیا حالانکہ اصل حق ان کا تھا پھر جب دوسرے انسانوں نے اس پر کوشش کی اور جو یندہ یا بندہ کے تحت انہوں نے اس کو انہیں صلاحیتوں کے باعث انجام دے دیا تو تم نے ان کو ایک طرف تو ماوراء انسایت کچھ سمجھ لیا اور دوسری طرف ان پر کفر کا فتوی داغ دیا تاکہ جن لوگوں کو اس وقت تک اس کی ہمت نہیں ہوئی وہ آئندہ بھی کبھی اس معاملہ میں ہمت نہ کریں اور اس طرح قوم مسلم پر وہ ظلم کیا جو غیر مسلم بھی نہ کرسکے ۔ بات اس تھرتھراتے ہوئے لوتھڑے پر پہنچی تھی جو اپنی جگہ اصل پر پڑا تھا اور ہم دور نکل گئے اب جب اس کی طرف خیال گیا تو اتنی دیر میں وہ ایک گوشت کا ٹکڑا نظرآنے لگا لیکن یہ صورت حال اس کی بظاہر شکل و صورت کے باعث تھی فی الواقع وہ گوشت کا ٹکڑا نہیں تھا بلکہ اس میں مزید کچھ بننے کی صلاحیت موجود تھی اور بلاشبہ یہ صلاحیت اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی رکھی ہوئی تھی اور اس جگہ عمل بدستور جاری تھا اور اللہ تعالیٰ نے جو اس میں صلاحتیں رکھی تھیں اور جس ماحول میں وہ صلاحتیں اجاگر ہو سکتی تھیں اسی ماحول میں رہ کر وہ اپنے وقت پر ہڈیوں گوشت اور ترکیب اعضاء وغیرہ بننے شروع ہوگئے اور اس کے اندر رگیں ‘ پٹھے اور شریانیں سب کی سب بنا دی گئیں اور وہ سارے نظام اس کے اندر قائم ہوگئے جو ہر ایک انسان کے اندر قائم کئے گئے ہیں اور بلاشبہ انسان ہی ہے جو عالم صغیر کہلاتا ہے جو کچھ عالم کبیر میں ہے وہ سب کا سب اس کے اندر موجود ہے جو ظاہر ہوا ہے وہ بھی اور جو ظاہر ہو رہا ہے وہ بھی اور جو ابھی ظاہر ہوگا وہ سب اس کے اندر موجود ہے یعنی اس کی صلاحتیں اس کے اندر موجود ہیں اور پھر جو شخص جس صلاحیت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کو وہ حاصل ہوجاتی ہے اور دوسرا اس سے محروم رہتا ہے ، غور کرو وہ ترقیاں جو اس وقت معرض وجود میں آرہی ہیں وہ سب کی سب اس انسان کے اندر روز ازل سے موجود تھیں لیکن ان کے نکلنے کا وقت اب آیا کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو نکالنے کی اب ہی کوشش کی گئی اور ابھی کتنی چیزیں ہیں جو اس کے اندر ودیعت ہیں کوئی نہیں بیان کرسکتا جوں جوں وہ مشاہدہ میں آئیں گی تو ان کی تصدیق ہوتی جائے گی اگر ایک مسلم کا دل ان کو دیکھے گا تو اس کا ایمان تازہ ہوجائے گا کہ اس کے سامنے وہ چیز مشاہدہ میں آگئی جس پر وہ آج تک ایمان بالغیب رکھتا تھا اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب بھی کوئی نئی چیز اس کی نظر کے سامنے آئے گی تو وہ اس نئی چیز کو دیکھ کر اس میں گم نہیں ہوگا بلکہ اس ذات خداوندی کی طرف اس کا ذہن منتقل ہوجائے گا اور اس کا دیکھنا بلاشبہ اس کے لئے ایک فائدہ سے خالی نہ رہا اور فائدہ یہ ہوا کہ اس کو دیکھتے ہی ایمان میں مزید پختگی آئی اور وہ حیران و ششدر ہونے کی بجائے اللہ کی تعریف میں لگ گیا جس نے اس میں ایسا ہونے کی صلاحیت ودیعت کی ۔ کاش کہ مسلم قوم کے علماء گرامی قدر اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور وہ قرآن کریم کو مردوں پر استعمال کرنے کی بجائے زندوں پر اس کو استعمال کرتے جس سے ان کی اپنی روح زندہ ہوتی اور قوم ترقی کی منزل کی طرف بڑھتی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد وتعریف میں وہ فی الحقیقت اضافہ کا باعث ہوتا اور اس طرح ایک انسان سے دوسرے انسان کو پیدا ہوتا دیکھ کر صرف ظاہری طور پر ہی خوش نہ ہوتا بلکہ وہ اس کی ایک ایک نس میں غور وفکر کرتا ‘ اس کی سماعت ‘ اس کی بصارت اور اس کی دل کی دھڑکن اور ان ساری چیزوں کے نتائج اور ان سے جن چیزوں کا صدور ہوتا ہے اس کی طرف اس کی نگاہ اٹھتی اور اس ڈھانچے پر جس کی بحث اس نے پیچھے پڑھی اچانک زندگی کے آجانے پر وہ ایک بار پھر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف اپنے ذہن کو منتقل کرتا کہ جس نے اس طرح اچانک زندگی پیدا کردی وہ اس کے مرنے کے بعد دوبارہ اسی طرح زندگی کیوں نہیں پیدا کرسکے گا ۔ غور کرو کہ یہ روح کہیں خارج سے نہیں آئی تھی بلکہ یہ اسی سیل کے اندر موجود تھی ‘ اس زندگی کے باعث اس پر یہ تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں اور اس طرح جوں جوں اس جسم کی حیثیت وکیفیت بڑھتی رہی اس کی وہ روح بھی ساتھ ساتھ بڑھتی رہی تا آنکہ جسم کی ساخت مکمل ہونے کے ساتھ ہی وہ روح اپنی اصل معراج تک پہنچ گئی اسی باطن کی تکمیل کے بعد اس بچہ نے عالم شہود میں قدم رکھا اس کی جنس سے تم واقف ہوئے اور بجائے اس کے کہ اس کے نقش ونگار اس کی جسمانی ساخت اور اس کے اندر وہ ساری صلاحتیں ہیں جو تمہارے اندر موجود ہیں لیکن ان میں سے ابھی کسی ایک کا بھی اظہار ناممکن ہونا سوائے اس کے کہ اس کے اندر رونے اور منہ کے قریب جانے والی چزک پر منہ رکھ کر اس کو چوسنے کی ‘ بغیر پہچان کے دیکھنے اور بغیر مفہوم کے سننے کی صلاحیتیں معمولی صورت میں نظر آئیں لیکن ابھی اس کی دنیوی زندگی کی پہلی منزل شروع ہوئی تو عالم شہود سے تعلق رکھتی ہے ‘ ابھی اس کے جسم اور اس کی ساری صلاحیتوں کو ایک حد تک پہنچنے کے لئے وقت درکار ہے پھر جوں جوں وقت گزرے گا یہ کچھ سے کچھ ہوتا جائے گا ۔ لیکن تعجب ہے اس انسان پر کہ اس کو کس ذات باری کا شکر گزار ہونا چاہئے تھا اور اس نے کن کی طرف توجہ کرنا شروع کردی اور کن کی شکرگزاری کا دم بھرنے لگا اور اس نے کتنی جلدی بھلا دیا کہ (آیت) ” فتبارک اللہ احسن الخالقین “۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور (کچھ لوگ) کہتے ہیں کہ جب زمین میں مل جائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا کیے جائیں گے ، حقیقت یہ ہے کہ (ایسا کہنے والے) اپنے پروردگار کی ملاقات (یعنی اس نظام الٰہی) سے انکاری ہیں

تعجب ہے ان پر جن کو دوبارہ اٹھائے جانے کی زندگی پر ابھی یقین نہیں آیا : 10۔ پیدائش انسانی کی اگر پہلی صورت آنکھوں سے اوجھل ہوچکی تھی تو یہ دوسری پیدائش جو نسل انسانی کی پیدائش سے معروف ہے یہ تو ہر وقت اور ہر آن آنکھوں کے سامنے موجود ہے ۔ اس کے عالم پردہ میں ہونے کے وقت سے ہم جانتے ہیں اور پھر جب عالم شہود میں اس نے قدم رکھا ہے اور اس کی شکل و صورت اور اس کی جنس کی مکمل وضاحت ہم کو ہوگئی ہے اور اس کو کیا سے کیا بنا دیا گیا ہے پھر یہ سب کچھ ہونے کے باوجود ہم اس کام کے کرنے والے کو نہ پہچانیں تو کتنے ناشکرے ٹھہرے لیکن آخر ہم میں سے کتنے ہیں جو اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں ‘ کتنے ہیں جن کا اس کی نیرنگیوں کو دیکھ کر اس کی ذات کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے اور کتنے ہیں جو غروں کا شکریہ ادا کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اچھا اس حقیر جسم کے اندر بلاشبہ سب کچھ ودیعت ہے لیکن ابھی اس کی حالت ظاہری کیا ہے ۔ آپ نے اس ظاہری صورت حال پر کبھی غور کیا کہ ابھی اس کو کیا سے کیا ہونا ہے ؟ اور یہ کہ جو کچھ اس وقت وہ ہے کبھی تم بھی یہی کچھ تھے ہاں ہاں ! اس کو دیکھو اور ذرا اپنی طرف نگاہ دوڑاؤ تم وہی ہو جو اس شکل و صورت میں اور اسی حالت میں اس دنیا میں آئے تھے لیکن اس وقت تم کیا ہو یقین جانو کہ اگر اللہ نے چاہا تو وہ تمام مراحل طے کر کے اس سٹیج پر یہ پہنچ جائے گا جس پر اس وقت تم ہو اور تمہاری حالت اگر تم زندہ رہے تو یقینا اس سے مختلف ہوگی پھر یہ اتنی تبدیلیاں جو روزانہ تم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہو تف ہے تم پر کہ تم کو یہ تبدیلیاں اتنا بھی باور نہیں کرا سکیں کہ یہ تبدیلیاں لانے والا بلاشبہ قادر ہے کہ ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دے کیونکہ یہ زندگی جو تم کو اس جگہ عطا ہوئی اس کو ابھی فنا ہی کب ملی ہے ‘ فنا تو صرف اس جسم کو حاصل ہوئی جو پہلے معدوم تھا اور بعد میں عدم سے وجود میں آیا ۔ ذرا غور کرو کہ اگر اس وقت تمہاری عمر تیس سال ہے اور نو ماہ تم نے ماں کے بطن میں گزارے لیکن تیس سال 9 ماہ پہلے تم کہاں تھے ؟ تمہارا یہ جسم اور ڈھانچہ پہلے کہاں تھا ؟ تو تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے تمہاری آنکھوں کے سامنے تم اس جسم میں آگئے لیکن جب تم کو یہ کہا گیا کہ اس جسم کے معدوم کرنے کے بعد دوبارہ اس کو لایا جائے گا تو تم سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور تم نے یہ فیصلہ کیا کہ ” کیسے ممکن ہے کہ جب ہم زمین میں مل جائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا کئے جائیں گے ۔ “ تم کو کس نہج پر سوچنا چاہئے تھا اور کس پر تم نے سوچنا شروع کردیا تھا ‘ تمہاری مت کیوں ماری گئی ‘ تمہارا ذہن کس طرف منتقل ہوا ؟ اس طرف کہ جب ہم خاک میں مل جائیں گے اور ہوائیں ہماری خاک کے ذروں کو یکجا کرکے انہیں پھر زندہ کردیا جائے حالانکہ ان ذروں کا سراغ لگانا ہی محال ہے اور اگر سراغ لگ بھی گیا تو ان کو یکجا کرنا اور انہیں دوبارہ زندہ بنا دینا بالکل بعید از عقل ہے اور جو دین ایسی باتوں کو تسلیم کرنے کے لئے کہتا ہے اور ان پر ایمان لانا ضروری قرار دیتا ہے وہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے حالانکہ تمہاری اس طرح کی سوچ نے تم کو خواہ مخواہ پریشان کردیا اگر تمہاری سوچ سیدھی ہوتی تو تم غور کرتے کہ جس جسم کے خیال نے ہم کو خبطی کیا یہ جسم تو اب بھی ہر آن مبدل ہے اور اس کی تبدیلی اس کو یہی جسم کب رہنے دیتی ہے یہ تو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے وہ جوانی کا عالم جب اپنے کندھوں پر نظر ڈال کر بات کی جاتی تھی اور زندگی ایک ایسے جسم میں پائی جاتی تھی جو نہایت ہی تروتازہ اٹھارہ ہاتھ چھلانگ لگایا کرتا تھا ‘ وہ جسم جو منوں وزن اٹھاتا اور اکھاڑے میں اتر کر دوسروں کو اترنے کی دعوت دیتا تھا آج ستر سال کی عمر میں وہ جسم کہاں ؟ یہ تو وہ جسم ہے جو بغیر سہارے کھڑا بھی نہیں ہوتا اور قضائے حاجت کے لئے بھی اگر بیت الخلا میں سہارے سے اٹھ بیٹھ سکے تو اس کو غنیمت جانتا ہے کیا یہ وہی جسم ہے ؟ بلاشبہ یہ وہ جسم نہیں ہے ہاں اس جسم کے اندر روح اب بھی وہی ہے جس نے کبھی کھڑی دیواروں کو دھکے دیئے تھے لہذا اب اگر ان گناہوں کی سزا ہوگی تو یقینا اس جسم کو نہیں ہوگی جس جسم نے یہ گناہ کیا تھا تو تم کو معلوم ہوجاتا کہ سزا کا تعلق محض روح سے ہے جسم کی وہاں کوئی بحث نہیں اور قادر مطلق نے جس طرح ہم کو پہلے ایک جسم دیا اسی طرح ہم کو ایک جسم عطا ہوگا اس جسم کے ملنے کے لئے ہم ایک قانون کے پابند تھے اور وہ جسم ملنے کے لئے بھی ہم ایک قانون کے پابند ہیں پھر اس قالب کے ساتھ جب اس روح کا تعلق قائم ہوگا تو اس روح کو جو سزا ہوگی اس کا اعتبار ہوگا تو اس طرح کم از کم تمہاری سوچ تم کو ذروں کے بکھرنے اور پھر ان کے جمع کرنے کی طرف نہ لے جاتی بلکہ تمہاری سوچ کا زاویہ ہی مختلف ہوتا اور شاید تمہارے ذہن میں یہ بات جلدی بیٹھ جاتی تم نے وہ راستہ اختیار کیا جو بالکل ٹیڑھا تھا اور تمہاری نظر سیدھا راستے کی طرف منتقل نہ ہوئی ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ تم اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہو اور یہی وجہ ہے کہ تم ان یا دہ گوئیوں میں پھنس کر رہ گئے جو تمہارے اپنے ہی ذہن کی اختراع تھیں اور تم نے اپنے رب کو وہ حیثیت دی جو تم زیادہ سے زیادہ کسی انسان کو دے سکتے تھے گویا تم نے اپنے خلق حقیقی کو اپنے دہ ‘ گاؤں اور اپنے شہر اور اپنے ملک کا ایک انسان ہی سمجھا اور تم نے اتنی بات کو سمجھنے کی کوشش بھی نہ کی کہ تم کو یہ نسل زندگی جس نے دی تھی وہ تو کوئی ایسا انسان نہیں تھا اس طرح گویا تمہاری مت تمہارے کفر ہی نے مار دی اور اس پر تعجب یہ کہ تم اپنے آپ کو سچے مسلمان ہی سمجھتے رہے اور ملاؤں نے جو تمہارے اسلام کی رسوم تم کو بتائی تھیں ان کو ادا کرنے کے باعث تم یہ دھوکا کھا گئے ۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ فرما دیجئے کہ جو موت کا فرشتہ تم پر مقرر ہے وہ تمہاری روحوں کو قبض کرے گا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف واپس لوٹائے جاؤ گے (کہ یہ اعلان شدہ نظام الٰہی کا حصہ ہے)

قانون الہی پر تمہاری روح کو قبض کرنے اور اللہ کی طرف لوٹانے کی ذمہ داری ہے : 11۔ گزشتہ آیت میں کفار کے تعجب کی اصل وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ کہتے ہیں جب ہم اس زمین میں مل کر گم ہوجائیں گے اور ہمارا نام ونشان باقی نہیں رہے گا گویا ان کو جتنا تعجب تھا وہ سارے کا سارا اس جسم کے گم ہونے پر تھا کہ یہ گم شدہ جسم دوبارہ واپس کیونکر اٹھ سکتا ہے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم اس جسم کی بحث میں مبتلا ہو اور رہو گے لیکن ملک الموت جو تمہاری روح کو قبض کرنے کے لئے مؤکل کیا گیا ہے وہ تمہاری روح کو قبض کر کے تمہارے رب کی طرف اس کو لوٹا دے گا تو اس وقت تم کو معلوم ہوگا کہ ہم جس بحث میں مبتلا رہے وہ تو سراسر ایک خبط تھا ۔ تمہارا مثالی جسم تو عالم مثال یا عالم برزخ میں موجود تھا جب تمہاری روح یہاں سے رخصت ہوئی تو اس کا رابطہ اسی مثالی جسم کے ساتھ جڑ گیا اور اب جتنے عوارضات پیش آنے والے تھے ان کا سلسلہ شروع ہوگیا اس طرح جس چیز کا تم کو یقین نہیں آرہا تھا وہی چیز تم کو سب سے پہلے در پیش آئی اور تمہارے طوطے اڑ گئے کہ ہم کیا سمجھتے رہے اور جس کو ہونا تھا وہ کس طرح ہوگیا ۔ غور کرو کہ اب جس کو مار پڑ رہی ہے وہ کون ہے ؟ وہ تم ہی تو ہو اگرچہ تم اس وقت شرمندہ ہو لیکن اس شرمندگی کا فائدہ ؟ یہی کہ جس چیز پر تم کو یقین نہیں آرہا تھا اس سے تم کو واسطہ پیش آگیا اور جس کو تم ایک خیال سمجھتے تھے وہ حقیقت بن کر تمہارے سامنے آگیا اور تمہاری حالت یہ ہوئی کہ ” پائے رفتن نہ جائے ماندن۔ “
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اگر آپ گنہگاروں کو دیکھیں کہ جب وہ اپنے پروردگار کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے (اس وقت کہیں گے) اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا ، پس تو ہم کو ایک بار پھر (دُنیا میں) بھیج دے ، ہم نیک عمل کریں گے (اس لیے کہ اب) ہم کو پورا یقین آگیا ہے

گنہگاروں کی التجابدرگاہ رب ذوالجلال والاکرام : 12۔ یہ گنہگار کون ہیں ؟ گناہ تو کئی اقسام کے ہیں لیکن اس جگہ جن گنہگاروں کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ وہی ہیں جو آخرت اور آخرت کی زندگی کو مانتے ہی نہیں تھے اور جس بات سے وہ انکاری تھے جاتے ہی ان کا رابطہ اسی چیز سے ہوگیا تو ظاہر ہے کہ اب ان کی گردن جھک ہی جانا چاہئے تھے کیونکہ ان کی حالت ایسی ہی ہوئی جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا یہ گویا انکار کرتے ہی قابوا آگئے اور اسی بات سے دوچار ہوگئے جس بات پر وہ یقین کرنے کے لئے تیار ہی نہیں تھے کیا اب یقین آیا یا کہ نہیں آیا ؟ کیوں نہیں ‘ یقین آیا اور ایسا آیا کہ وہ پکار پکار کر کہنے لگے کہ ” اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ہم نے اپنے کانوں سے سن لیا۔ “ کیا یقین کے سر پر سینگ ہوتے ہیں بلاشبہ ان کو یقین آیا اور اب پکارنے لگے اے اللہ ! ” ایک بار ہم کو واپس دنیا میں بھیج دے ہمیں یقین آگیا اور اب ہم نیک عمل کریں گے ۔ “ یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ وہی تو ہیں جو فخر و غرور سے دندناتے پھرتے تھے ‘ حق کو سننے اور حق کو ماننے سے انکاری تھے ‘ اب کیا ہوا ؟ یہی کہ جس چیز سے وہ انکاری تھے اس کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ان کو بدرگاہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام میں لا کر کھڑا کردیا اور اب ان کے فرط ندامت سے سر جھک گئے اور شرم کے مارے اب وہ پانی پانی ہوگئے آنکھیں بند کرلیں اور منہ سے بولنے لگے ” اے ہمارے رب ! تیرے رسول نے جن حقائق کے متعلق ہمیں خبردار کیا تھا اور دنیا میں جن کو تسلیم کرنے سے ہم انکار کرتے رہے تھے آج ہم نے ان حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اپنے کانوں سے سن لیا ‘ اب ہم غفلت کی نیند سے بیدار ہوگئے ہیں اور تیرے حضور پکا وعدہ کرتے ہیں کہ تیری نافرمانی نہیں کریں گے ‘ تو بڑا کریم ہے ایک مرتبہ ہمیں موقع دے تاکہ ہم اپنی بندگی کا اظہار کرسکیں اور تیری اطاعت وفرمانبرداری کرکے سابقہ نافرمانیوں کے داغ دور کرسکیں ۔ “ یہی وہ لوگ ہیں جن کو فورا جواب سنا دیا جائے گا (آیت) ” کلا انھا کلمۃ ھو قائلھا ومن ورآء ھم برزخ الی یوم یبعثون “۔ ” حکم ہوگا ‘ ہرگز نہیں ۔ یہ محض ایک کہنے کی بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے اب ایسا ہونے والا نہیں ‘ ان لوگوں کے پیچھے ایک آڑ ہے جو اس دن تک رہے گی کہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ (المومنون 23 : 100) گویا ان کی یہ عرضداشت ٹھکرا دی جائے گی ۔ یہی لوگ ہیں جن کو مخاطب کرکے دانائے شیراز نے کہا ہے : سراز جیب غفلت برآورکنوں کہ فردا نہ ماند تو بخجلت نگوں : اب غفلت کے گریبان سے سر کو اٹھاؤ تاکہ کل ندامت وخجالت کے باعث وہ جھک نہ جائے ۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ) اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو (مجبور محض بنا کر) اس کو راہ ہدایت دکھاتے لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پا چکی ہے کہ (میں مجبور محض نہیں بناؤں گا بلکہ) جنوں اور انسانوں سب سے (جو باغی ہوں گے) دوزخ کو بھر دوں گا

ہم چاہتے تو سب انسانوں کو ہدایت پر مجبور کردیتے لیکن ہمارے قانون میں یہ فیصلہ نہیں ہوا : 13۔ غور کرو کہ اس کائنات میں کتنی کتنی بڑی مخلوق آپ کو نظر آتی ہے کیا ان میں کوئی ہے جو اطاعت رب کریم سے سر پھیر رہا ہے ؟ نہیں اور بلاشبہ نہیں پھر اگر ہمارے قانون میں یہ طے ہوتا کہ انسان کو بھی اسی طرح مجبور محض بنانا ہے تو یقینا وہ اطاعت سے منہ نہ پھیرتا بلکہ انہی کی طرح وہ بھی مطیع وفرمانبردار ہوتا لیکن اگر ایسا ہوتا تو کیا مکلف ہوتا ؟ نہیں اور ہرگز نہیں انسان کو اس اختیار نے جو اس کو دیا گیا اور اس کی عقل وفکر نے اس کو مکلف بنایا اور مشیت ایزدی کا فیصلہ یہ ہوا کہ اس کو کسی بات اور کسی کام پر مجبور محض نہ بنا دیا جائے اور اب اس فیصلہ کے مطابق اس کو ہدایت پر مجبور محض بنا کر نہیں لگایا جاسکتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جو فیصلہ ایک دفعہ کردیا جائے اس کو بدلا نہیں جاتا لہذا اب اس فیصلہ کے تحت اس کو جو اختیار دیا گیا ہے وہ اس سے واپس نہیں لیا جائے گا بلکہ قانون کے مطابق اگر وہ خود نیک عمل کرے گا اور اپنے اختیار سے کام لیتے ہوئے اپنی اصلاح کرے گا تو اس کو جنت کا وارث بنا دیا جائے گا اور اگر اس نے شیطان کی پیروی کی اور سیدھی راہ چلنے کی بجائے الٹی راہ چلی تو یقینا اس کو اور اس کی ساری جماعت کو دوزخ میں پہنچا دیا جائے گا ۔ خیال رہے کہ ہماری مشیت کا جو فیصلہ ہوا ہے اسی کے مطابق عمل ہوگا بلاشبہ اگر ہم اس کو ہدایت پر مجبور محض کردیتے تو کوئی شخص بھی گمراہ نہ ہوتا لیکن جب ہماری مشیت کا فیصلہ یہ نہیں ہوا اور اس کی تخلیق سے ہمارا مقصد ہی یہ ہے کہ اسے عقل اور فہم کا نور بخش دیا جائے اور حق و باطل کی راہیں اس کے سامنے واضح کردی جائیں تو وہ ہم نے کردیا اب اس نے اپنی مرضی کے مطابق جو راہ اختیار کرنا ہے کرے چاہے وہ سیدھی راہ اختیار کرکے اپنی دنیا کے ساتھ اپنی آخرت کو بھی سنوار لے اور چاہے دنیا کے کاموں میں منہمک رہ کر اپنی آخرت کو برباد کرلے ہماری طرف سے جس قاعدہ کا اعلان ہوچکا ہے وہ حتمی ہے اور اعلان یہ ہے کہ (آیت) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر) (الکہف 18 : 29) میری ہدایت اس تک پہنچا دی گئی اور اس کو اختیار بھی دے دیا گیا ہے اب اس کی مرضی ہے ” چاہے صحیح معنوں میں ایمان لائے اور چاہے کفر کی راہ اختیار کرے ۔ “ لہذا اس کو دعوت حق دے دی گئی ہے ۔ حق و باطل میں امتیاز کردیا گیا ہے اب جس کا جی چاہے وہ ایمان لائے اور جس کا جی چاہے وہ کفر اختیار کرے ہمارا وعدہ یہ ہے کہ جو بھی نافرمانی کریں گے وہ جنوں میں ہوں یا انسانوں میں ان کو دوزخ رسید کردیا جائے گا اور کوئی نہیں جو ہم کو ایسا کرنے سے باز رکھ سکے یا ہمارے سامنے ٹانگ اڑا سکے ۔ یہ دارالعمل ہے اس میں ہم اس کو مجبور کرکے عمل پر نہیں لگائیں گے اور جب دارالجزاء آئے گا تو ان اعمال کے نتیجہ پانے پر اس کو مجبور کردیا جائے گا اور یقینا وہ اس نتیجہ سے دو چار ہو کر رہے گا خواہ وہ کون ہوا۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) چونکہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (اس کی پروا نہیں کی تھی) تو اب اس کا مزہ چکھو (آج) ہم نے بھی تم کو بھلا دیا (تمہاری پروا نہیں کی) اور اپنے اعمال کے عوض دائمی عذاب کا مزہ چکھو

دارالعمل سے نکل کر جب وہ دارالجزا میں جائیں گے تو بدلہ پر مجبور محض ہوں گے : 14۔ اس دارالعمل سے نکل کر جب وہ دارا الجزاء میں داخل ہوں گے تو بلاشبہ وہ ان اعمال کا بدلہ پانے کے لئے مجبور محض ہوں گے اور ان کی وہ آزادی جو ان کو دارالعمل میں دی گئی تھی یقینا سلب کرلی جائے گی کیونکہ ہر انسان اپنے عمل کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے جن لوگوں نے آخرت کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور وہ دنیا ہی کے ہو کر رہ گئے تھے بلاشبہ اب ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہوگا اور جس طرح انہوں نے آخرت کو بھلا دیا تھا آج آخرت میں بلاشبہ ان کو بھی بھلا دیا جائے گا گویا انہوں نے دنیا میں ہماری ہدایت کی کوئی پروا نہ کی تھی اور آج ہم ان کی کوئی پذیرائی نہیں کریں گے اور اس طرح گویا وہ ہماری طرف سے بھلا دیئے جائیں گے ۔ خیال رہے کہ یہ بھلا دینا محاورہ کے طور پر ہے اور ہر زبان میں محاورتا اس کا استعمال ہوتا ہے اور اسی رنگ میں اس کا استعمال اس جگہ بھی کیا گیا ہے اس سے کوئی اس بھول میں نہ پڑجائے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام بھی بھول جایا کرتا ہے ۔ اس وقت ہماری طرف سے یہ اعلان کیا جائے گا کہ ہماری یاد کو بھلا دینے والے اور اپنی من مانیاں کرنے والے خواہ وہ کہاں تھے اور کون تھے ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کے لئے تیار ہوجائیں ۔ ہاں ! یاد رہے کہ ان کا عذاب میں داخل کیا جانا ہماری طرف سے ظلم کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ ان کو ان کے اعمال کے نتیجہ ہی سے دوچار ہونا ہے اور وہ بہرحال لازم ہے ۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جن کو وہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو (غور و فکر کرتے ہوئے) سجدہ میں گر کر اپنے پروردگار کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اور وہ (کبھی) تکبر نہیں کرتے

ہماری آیتوں پر تو وہی ایمان لاتے ہیں جو فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے : 15۔ گزشتہ آیت میں نافرمانوں کا انجام ذکر کیا گیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ فرمانبرداروں کی بھی پذیرائی کی جانے کا ذکر کیا جاتا اس لئے زیر نظر آیت میں ان کا ذکر کیا گیا ہے فرمایا جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے ان کے سامنے جب ہماری آیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حضور سجدوں میں گر پڑتے ہیں اور اس کے حمد کے گیت گاتے ہیں اور وہ اپنے رب کریم کے سامنے کبھی اور کسی حال میں بھی غرور وتکبر نہیں کرتے ۔ اہل ایمان کے یہ وہ نشانات ہیں جو فی الواقع آج بھی ان کی پہچان ہیں کہ وہ جھکتے ہیں تو صرف اللہ کے سامنے اور وہ سجدہ ریز ہوتے ہیں تو بھی صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے دنیا میں وہ کسی دنیا دار کی طاقت وعزت کے سامنے نہیں جھکتے حق بات کے کہنے سے وہ ہرگز نہیں ٹلتے اور وہ بڑے بڑے دنیا داروں اور کھاتے پیتے لوگوں کی تعریف کے خوشامدی بن کر ان کی تعریف کے پل نہیں باندھتے اور وہ جب جھکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی اور اچھی تعریف بیان کرتے ہیں تو ہر حال میں اس رب کریم کی ان کو غیر اللہ کے سامنے جھکنا اور سجدہ ریز ہونا بالکل نہیں آتا بلکہ وہ اس سے کلی طور پر نفرت کرتے ہیں اور شرک سے اس قدر بیزار ہیں کہ اس کی بو کو بھی وہ قریب نہیں آنے دیتے اور اسی طرح عاجزی اور فروتنی ان کا شیوہ ہے اس لئے وہ تکبر کی گردن کو اپنی عاجزی ہی سے توڑ دیتے ہیں ‘ ان لوگوں کی یہ عادت اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو اس قدر پسند آئی کہ اس سجدہ پر نبی کریم ﷺ کو سجدہ کا حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ بھی سجدہ کریں اور اپنی امت کے لوگوں کو بھی اس جگہ سجدہ تلاوت کا حکم دیں ۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

(یہ وہی لوگ ہیں کہ) ان کے نرم بچھونوں سے ان کے پہلو جدا رہتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے پکارتے ہیں ور اس سے جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں

ایمان لانے والوں اور فرمانبرداروں کے نشانات کا مزید ذکر کیا جا رہا ہے : 16۔ سچے ایمان داروں کے مزید نشانات ذکر کئے جا رہے ہیں تاکہ ان کی پہچان آسان ہوجائے ۔ اس جگہ ان کی پہلی صفت جو گزشتہ صفات سے زائد ہے وہ یہ ہے کہ راتوں کو کچھ ہی دیر آرام کرنے کے بعد ان کی کروٹیں ان کے بستروں سے الگ ہوجاتی ہیں پھر چونکہ کروٹوں کا بستروں سے الگ ہونا اپنے اندر ایک سے زائد مفہوم رکھتا تھا اس لئے فرمایا کہ جو وہ اپنے کروٹوں کو بستروں سے الگ کرتے ہیں تو اس کی محض وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی یاد میں مصروف ہوتے ہیں اور جب دوسرے لوگ نرم و گداز بستروں پر محو استراحت ہوتے ہیں اور گہری اور میٹھی نیند کے مزے لوٹتے ہیں تو یہ درد محبت کے مارے اپنے پہلوؤں کو بستروں سے الگ کرتے ہیں اور اپنے مالک حقیقی اور اپنے خالق حقیقی کے دربار میں درست بستہ کھڑے ہوجاتے ہیں پھر کبھی قیام میں ہیں تو کبھی رکوع میں کبھی قومہ میں ہیں تو کبھی سجدہ ریز ہوگئے ہیں اور ان کا قیام ‘ رکوع ‘ قومہ اور سجدہ اس قدر ہوتا ہے کہ ان کی ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے میں ایک وقت لگتا ہے جس حالت میں وہ ہوتے ہیں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ ان کو اس بات کی خبر بھی نہیں رہتی کہ ان کی حالت کیا ہے کیونکہ وہ جس حالت میں بھی ہوتے ہیں ان کی زبان اسی ذات اقدس کی پاکیزگی سے تر ہوتی ہے اور ان کے دلوں میں اگر ڈر ہوتا ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کا ہوتا ہے ان کو معلوم ہے کہ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایمان خوف ورجا کے درمیان ہے اسی لئے وہ دل میں خوف رکھتے ہیں تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا اور امید رکھتے ہیں تو صرف اور صرف اسی سے ۔ زیر نظر آیت میں ان کی تیسری نشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اس رزق سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ملا ہے اللہ تعالیٰ ہی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں گویا انکی کمائی ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اور کمائی کے خرچ کرنے کا وقت آتا ہے تو بھی وہ اسی کی رضا کے متلاشی ہوتے ہیں کہ ہر اس جگہ وہ خرچ کریں جہاں خرچ کرنے کا ان کو ان کے رب کی طرف سے حکم ملا ہے اور اس طرح وہ اپنے خالق ومالک کے رضا کے ہر حال میں طالب رہتے ہیں اور بلاشبہ یہ اس وقت بھی ایمان کی نشانی تھی اور آج بھی ایمان کی نشانی ہے ‘ اس وقت بھی اس کا خیال انہی لوگوں کو تھا جن کے دلوں میں ایمان موجود تھا اور آج بھی یہ حالت ان ہی لوگوں کی ہے جن کے دلوں میں ایمان موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو بھی ایمان کی حلاوت اور مٹھاس سے وافر حصہ عطا فرمائے اور ہم بھی راتوں کو اٹھ کر اس کی یاد میں مصروف ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو۔