Ayah 32:2تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العلمین یہ (کتاب) رب العالمین کی طرف سے اتاری ہوئی
کتاب ہے اس میں کوئی شک (کی بات) نہیں ہے۔
Ayah 32:3ام یقولون افتراہ بل ھو الحق من ربک . کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ اپنے دل سے بنا لیا
ہے ؟ ایسا نہیں ہے) بلکہ یہ سچی (کتاب) ہے آپ کے رب کی طرف سے۔
بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ کلام سابق کی تاکید ہے ‘ مضمون آیت کی ترتیب اس طرح ہوئی کہ پہلے ا آآ فرما کر قرآن کے معجزہ ہونے کی طرف اشارہ کیا (یعنی قرآن مجید کی ہر آیت اور عبارت کی ساخت انہی حروف سے ہے جو عام لغت عربی کی بنیاد ہیں لیکن سلوب ادا اور طرز ترکیب ایسا ہے کہ کوئی مخلوق ایسا کلام نہیں بنا سکتی۔ معلوم ہوا کہ ایسا کلام بناناطاقت بشری سے خاری ہے ‘ اسی کا نام معجزہ ہے۔ مترجم) جب اعجاز کی طرف اشارہ کردیا تو لازمی یہ نتیجہ نکلا کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ منزل من اللہ ہونے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس کے اندر کوئی قابل شک چیز نہیں۔ اس سے آگے کلام کا رخ بدل کر بطور انکار تعجبی کے کافروں کا قول نقل کیا جو قرآن کو رسول اللہ کا خود ساختہ قرار دیتے تھے ‘ پھر کافروں کے اس قول پر تعجب آمیز انکار کے بعد قرآن کی حقانیت اور منزل من اللہ ہونے کی صراحت فرما دی ‘ اس سے آگے کی آیت میں غرض تنزیل بیان فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا :
لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعلھم یھتدون . کہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس
آپ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں آیا تاکہ (آپ کے ڈرانے سے) وہ ہدایت پالیں۔
حضرت عیسیٰ کے بعد رسول اللہ کی بعثت تک ( عرب میں) کوئی پیغمبر نہیں آیا ‘ یہ دور فترت کا دور کہلاتا ہے۔
Ayah 32:4اللہ الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام اللہ وہی تو ہے جس نے آسمان و زمین
اور ان دونوں کے درمیان کی کائنات چھ روز میں پیدا کی۔ اتوار کے دن آغاز تخلیق کیا اور جمعہ کے دن فراغت۔
ثم استوی علی العرش . پھر تخت پر قائم ہوا۔
سورۂ یونس اور سورة اعراف میں اِسْتَوَاء عَلَی الْعَرْشِ کی مکمل تشریح کردی گئی ہے۔
مالکم من دونہ من ولی ولا شفیع . اس کے بغیر نہ تمہارا کوئی دوست ہوگا ‘ نہ سفارشی۔ یعنی جب تم اللہ کی مرضی کو چھوڑ دو گے اور رضائے الٰہی سے ہٹ جاؤ گے تو ضرورت ‘ مدد کے مقام پر کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا ‘ نہ سفارشی۔
افلا تتذکرون . سو کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟
حرف عطف ہے ‘ اس کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : اَلاَ تَتَفَکَّرُوْنَ فَلَا تَتَذَکُّرُوْنَکیا تم غور نہیں کرتے اور سمجھتے نہیں۔
Ayah 32:5یدبر الامر . وہ ہر امر کی تدبیر کرتا ہے۔ امر سے مراد ہے امر دنیا (یعنی دنیوی انتظامات) ۔
یعنی اسباب سماویہ کے ذریعہ سے جن کی تاثیرات زمین کی طرف اترتی ہیں۔
ثم یعرج الیہ . پھر ہر امر اسی کے حضور میں پہنچ جائے گا۔
فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون . ایک ایسے دن جس کی مقدار تمہاری گنتی کے ایک ہزار برس
کے برابر ہوگی۔
ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ ‘ حضرت مفسر نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا : ہر امر اس کی طرف چڑھتا ہے اور اس کے علم میں موجود رہتا ہے۔
یُدَبِّرُ الْاَمْرَ (کا معنی ایک تو وہ ہے جو اوپر ذکر کیا گیا ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ) وہ حکم دیتا ہے ‘ جبرئیل کے ذریعہ سے وحی نازل کرتا ہے یا خدمت پر مامور فرشتے کے ذریعہ سے حکم قضاء آسمان سے زمین کی طرف اتارتا ہے ‘ پھر جبرئیل یا مامور فرشتہ چڑھ جاتا ہے اللہ کی طرف یعنی اس مقام کی طرف جو اللہ کی مرضی میں ہوتا ہے۔
کَانَ مِقْدَارُہٗ یعنی اس کے عروج و نزول کی مدت تمہاری گنتی کے ہزار برس کے برابر ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ اگر کوئی آدمی اس مسافت کو طے کرے تو ہزار برس سے کم میں طے نہیں کر پائے گا لیکن اللہ کی قدرت کے کمال کے زیر اثر اس کا عروج وزوال پل بھر میں ہوجاتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت میں آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ملائکہ کے عروج و نزول کا بیان ہے۔ لیکن دوسری آیت میں جو آیا ہے : تَعْرُجُ الْمَلآءِکَۃُ وَالرَّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃً تو اس میں زمین سے سدرۃ المنتہیٰ تک کی مسافت کا اظہار کیا گیا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ ہی جبرئیل کا مقام ہے۔ اس تفسیر پر اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جبرئیل اپنے مقامی ساتھی ملائکہ کو ہمرا لے کر سدرۃ المنتہیٰ سے زمین تک کی مسافت بہت ہی تھوڑے وقت میں طے کرلیتے ہیں جو تمہاری رفتار کی گنتی کے پچاس ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن اتنی بڑی مسافت جبرئیل مع ملائکہ آن کی آن میں طے کرلیتے ہیں۔ یہ ساری تشریح حسب تفسیر مجاہد و ضحاک ہے۔ میرے نزدیک دونوں آیتوں میں زمین سے سدرۃ المنتہیٰ تک کی مسافت مراد ہوسکتی ہے لیکن ایک ہزار اور پچاس ہزار کی گنتی کا اختلاف چلنے والوں کی رفتار کی بناء پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ ترمذی نے حضرت عباس بن مطلب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : زمین اور آسمان کے درمیان کی مسافت اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی راہ کے برابر ہے۔ نیز ترمذی اور احمد نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : زمین و آسمان کے درمیان اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برس کی راہ ہے۔ یہاں بھی اختلاف مدت محض چلنے ولوں کی رفتار کے تفاوت کی بناء پر ظاہر کیا گیا ہے ‘ وا اللہ اعلم۔
بعض اہل علم نے یہ مطلب بھی بیان کیا کہ اللہ دنیوی امور کا انتظام سماوی اسباب یعنی ملائکہ وغیرہ کے ذریعہ سے کرتا ہے جن کے آثار زمین تک آتے ہیں ‘ پھر جب دنیا فنا ہوجائے گی ‘ حاکموں کا حکم اور اقتدار والوں کا اقتدار ختم ہوجائے گا تو ہر حکم و انتظام کا رجوع (براہ راست) اللہ کی طرف ہوجائے گا اور یہ اس روز ہوگا جس کی مقدار ہزار برس کے برابر ہوگی یعنی ایسا قیامت کے دن ہوگا۔ اس تفسیر کی تائید حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ اس حدیث سے ہوتی ہے جو ترمذی نے نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : نادار لوگ مالداروں سے پانچ سو برس اور آدھے دن پہلے (یعنی قیامت کے آدھے دن کی بقدر پہلے) جنت میں داخل ہوں گے۔ رہی آیت تَعْرُجُ الْمَلآءِکَۃُ وَالرَّوْحُ الخ تو اس میں بھی قیامت ہی کا دن مراد ہے۔ لیکن بخاری و مسلم نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو خزانہ والا اپنے خزانہ کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا ‘ اس کا خزانہ جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا ‘ پھر اس کی چٹانیں بنائی جائیں گی اور چٹانوں سے اس شخص کے دونوں پہلوؤں اور پیشانی پر داغ لگائے جائیں گے (اور ایسا) اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک اللہ اپنے بندوں کا فیصلہ اس دن کرے گا جس کی مقدار پچاس ہزار برس کی مدت کے برابر ہوگی (اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ قیامت ہی کا دن پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا ‘ لیکن ترمذی کی روایت مندرجۂ صدر اور اس روایت میں مدت کا اختلاف ہے۔ اول روایت میں ایک ہزار اور اس روایت میں پچاس ہزار برس کے برابر قیامت کے دن میں مدت بیان کی گئی ہے) دونوں حدیثوں کے تعارض کو دور کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ مدت کا اختلاف اشخاص کے تاثر کے اختلاف پر مبنی ہے۔ بعض لوگوں کے لئے وہ پچاس ہزار برس کا دن ہوگا اور بعض کے لئے ایک ہزار برس کا اور بعض لوگوں کیلئے دنیا کے اس دن سے بھی کم مدت محسوس ہوگی۔ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مرفوعاً اور موقوفاً بیان کیا ہے کہ مؤمنوں کے لئے قیامت کے دن کا طول اتنا ہوگا جتنی مدت ظہر اور عصر کے درمیان ہوتی ہے۔
بغوی نے ابراہیم تیمی کا قول بھی یہی نقل کیا ہے اور ابویعلی و ابن حبان و بیہقی نے حسن سند کے ساتھ حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ سے اس دن کے متعلق دریافت کیا گیا جس کی مدت پچاس ہزار برس کی ہوگی اور عرض کیا گیا : یہ تو بڑا لمبا دن ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مؤمن کے لئے تو وہ اس فرض نماز سے بھی زیادہ خفیف ہوگا جو دنیا میں وہ پڑھا کرتا تھا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ابن ابی ملکیہ نے بیان کیا : میں اور حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ بن فیروز حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس آیت نیز خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنْۃَ والی آیت کی بابت دریافت کیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جن ایام کا اللہ نے ذکر کیا ہے ‘ مجھے ان کی بابت کچھ معلوم نہیں اور بغیر جانے اللہ کے کلام کے متعلق کچھ کہنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔
جلال الدین محلی نے اپنی تفسیر میں اسی روایت کو پسند کیا ہے۔ بعض علماء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ (یکدم) ایک ہزار تک ہونے والے امور کے فیصلے اللہ ایک وقت میں کردیتا ہے۔ فرشتہ اس فیصلہ کو لے کر اترتا ہے ‘ پھر ہزار برس گزرنے کے بعد دوبارہ آنے والے ہزار کے فیصلے حاصل کرنے کے لئے اوپر کو چڑھتا ہے۔
Ayah 32:6ذلک علم الغیب والشھادۃ . یہ ہی (خالق مدبر عالم) مخلوق سے پوشیدہ امور کو اور ان امور کو بھی جو مخلوق
کے سامنے حاضر ہیں ‘ جاننے والا ہے۔ اور اپنی حکمت کے موافق تمام امور کا انتظام کرتا ہے۔
اَلْغَالب (اپنے امر پر) غالب ہے۔
العزیز الرحیم . اپنی تدبیر و انتظام میں بندوں پر (زبردست) بہت مہربان ہے۔
اس لفظ میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ اپنی مہربانی اور عنایت سے مصالح عباد کا لحاظ رکھتا ہے۔
Ayah 32:7الذی احسن کلی شیء خلقہ . (ا اللہ) جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی۔ یعنی ہر چیز کی استعداد اور قابلیت
کے مطابق اللہ نے اس کی تخلق باحسن وجوہ کی۔ قتادہ نے یہی مطلب بیان کیا ‘ لیکن حضرت ابن عباس نے اَحْسَنَ کا ترجمہ اَحْکَم وَاَتْقَن کیا یعنی اللہ نے ہر چیز کو محکم بنایا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : بندروں کے سرینوں کا شگاف اللہ نے خوبصورت نہیں بنایا ‘ بلکہ محکم بنایا ہے۔ مقاتل نے اَحْسَنَ کا ترجمہ علم کیا یعنی اللہ جانتا ہے کہ ہر چیز کو وہ کس طرح پیدا کرتا ہے۔ عرب کہتے ہیں : فلاں یحسن کذا فلاں شخص خوب جانتا ہے کہ ایسا کام کس طرح کرے۔
وبداخلق الانسان من طین . اور آدمی کی ابتدائی پیدائش مٹی سے کی۔ اَ لْاِنْسَانِ سے مراد حضرت آدم ہیں۔
Ayah 32:8ثم جعل نسلہ من سللۃ من ماء مھین . پھر اس کی نسل کو ایک خلاصہ سے یعنی حقیر پانی سے بنایا۔ نسل کا لغوی معنی ہے جدا ہونا ‘ آنے والی اولاد بھی باپ ہی کا جدا شدہ حصہ ہوتی ہے۔ سُلاَلَۃٍ سے مراد ہے نفطہ (سل کا معنی ہے کھینچنا) نفطہ انسان (کے بدن) سے کھینچ کر آتا ہے اسی لئے اس کو سلالہ کہا گیا۔
Ayah 32:9ثم سوں ہ . پھر اس کو (اعضاء کی شکل دے کر) ٹھیک کیا۔
ونفک فیہ من روحہ . اور اس میں اپنی روح پھونکی۔
مِنْ رَوْحِہٖ میں اضافت تخلیق انسانی کی عزت و بزرگی کو بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ انسان کی تخلیق ایسی عظیم الشان ہے جس کی نسبت ایسی چیز کی طرف ہے جس کی نہ کوئی نظیر ہے نہ کوئی کیفیت۔
وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ . اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔
یعنی پہلے تم نطفہ بےجان تھے ‘ پھر اللہ نے سننے کے لئے کان ‘ دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سمجھنے کے لے دل تم کو عطا کئے تاکہ تم سنو ‘ دیکھو اور سمجھو۔
قلیلا ما تشکرون . تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ یعنی تھوڑا شکر کرتے ہو یا تھوڑے وقت شکر کرتے ہو۔
مَا (زائد ہے) قلّت کے معنی کی تاکید کر رہا ہے۔ مطلب یہ کہ تم ان نعمتیں عطا کرنے والا کا شکر بہت کم ادا کرتے ہو ‘ اس کی توحید کا اقرار کم کرتے ہو اور اس کی عبادت کم کرتے ہو۔
Ayah 32:10وقالوا اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید . اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں نیست
و نابود ہوگئے تو کیا ہم پھر نئے جنم میں آئیں گے ؟ یعنی جب ہم زمین میں غائب ہوجائیں گے اور مٹی بن کر مٹی میں مل جائیں گے ‘ زمین کی خاک میں اور ہماری خاک میں کوئی فرق نہیں رہے گا تو کیا ہم کو دوبارہ ازسرنو زندہ کیا جائے گا۔ ضل الماء فی اللبن عرب کا محاورہ ہے ‘ یعنی دودھ میں پانی اس طرح مل کر کھو گیا کہ کوئی امتیاز باقی نہ رہا۔
یہ قول ابی بن خلف کا تھا لیکن اور سب لوگ اس کے موید تھے ‘ اس لئے سب کی طرف قول کی نسبت کردی۔ استفہام انکاری ہے ‘ محض سوالیہ نہیں ہے۔
بل ھم یلقائ ربھم کفرون . (یہ لوگ صرف دوسری زندگی ہی کا انکار نہیں کرتے) بلکہ اپنے رب کی پیشی کے
منکر ہیں۔ یعنی آخرت میں ہونے والی ہر جزا و سزا کے منکر ہیں۔
Ayah 32:11قل یتوفیکم ملک الموت الذی وکل بکم . آپ کہہ دیجئے کہ موت کا وہ فرشتہ تمہاری جانیں قبض کر
لے گا جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے۔
یَتَوَفّٰیِ بمعنی یستوفٰی ہے ‘ باب تفعل اور استفعال باہم ایک دوسرے کی جگہ استعمال کر لئے جاتے ہیں۔ جیسے تَقَصَّیتُہ اور استقصَیتُہ ‘ تَعَجَّلتُہ اور اِسَتعَجَلْتُہ یعنی موت کا فرشتہ تمہاری جانوں کو پورا پورا لے لے گا ‘ جان کا کوئی حصہ نہیں چھوڑے گا ‘ یا کسی کو نہیں چھوڑے گا۔
موت کے فرشتہ سے مراد عزرائیل ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ عکرمہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : تمام درد دکھ موت کے قاصد ہیں۔ جب وقت مقرر آجاتا ہے تو موت کا فرشتہ آ پہنچتا ہے اور کہتا ہے : اے بندے ! کتنی ہی خبروں کے بعد خبریں آتی رہیں ‘ قاصدوں کے بعد قاصد اور پیاموں کے بعد پیام بھی آتے رہے۔ اب میں آخری خبر ہوں ‘ میرے بعد (تیرے پاس) کوئی خبر نہیں آئے گی۔ میں (آخری) قاصد ہوں ‘ میرے بعد کوئی قاصد نہیں آئے گا۔ اب چارو ناچار حکم رب پر تجھے لبیک کہنا ہے۔ جب موت کا فرشتہ روح قبض کرلیتا ہے اور (اقرباء اعزہ) اس پر چیختے پیٹتے ہیں تو موت کا فرشتہ کہتا ہے : تم کس پر چیختے ہو ‘ کس پر رو رہے ہو ؟ خدا کی قسم ! میں نے اس کی مدت حیات میں کوئی کمی نہیں کی ‘ نہ میں نے اس کا رزق کھایا ‘ بلکہ اس کے رب نے اس کو بلا لیا ہے ‘ رونے والا اپنے اوپر روئے۔ خدا کی قسم ! میرے بار بار لوٹ لوٹ کر پھیرے ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ میں تم میں سے کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔
اَلَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ یعنی موت کا مقرر فرشتہ۔ ملک الموت کے مددگار اور بہت سے ملائکہ ہیں ‘ سورة انعام کی آیت حَتّٰی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمْ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنا الخ کی تفسیر کے ذیل میں ملک الموت اور اس کے مددگاروں کے متعلق جو احادیث ہیں ‘ ان کا ہم ذکر کرچکے ہیں۔
مسئلہ : ملک الموت کو کسی کے مرنے کا مقرر وقت معلوم نہیں۔ جب کسی کی روح قبض کرنے کا اس کو حکم ہوتا ہے ‘ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے۔
ابن ابی الدنیا نے ابن جریج کا قول نقل کیا ہے کہ ہم تک یہ بات یعنی حدیث پہنچی ہے کہ ملک الموت سے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کی روح فلاں وقت ‘ فلاں دن قبض کرلے۔
مسئلہ : موت کا فرشتہ مؤمن کے سامنے مرنے کے وقت خوبصورت ترین شکل میں آتا ہے اور کافر کے سامنے بدترین شکل میں۔ ابن ابی الدنیا کا بیان ہے کہ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب اللہ نے ابراہیم کو اپنا خلیل چن لیا تو ملک الموت نے (بارگاہ الٰہی میں) درخواست کی کہ مجھے اجازت عطا فرمائی جائے کہ میں ابراہیم کو جا کر یہ بشارت دے دوں ‘ اللہ تعالیٰ نے اجازت عطا فرما دی۔ ملک الموت نے جا کر حضرت ابراہیم کو یہ بشارت سنائی ‘ حضرت ابراہیم نے فرمایا : الحمد اللہ۔ پھر فرمایا : اے فرشتہ موت ! مجھے دکھا دے تو کافروں کی روحیں کیسے قبض کرتا ہے۔ ملک الموت نے کہا : آپ اس کی تاب نہیں لاسکتے۔ حضرت ابراہیم نے کہا : کیوں نہیں۔ فرشتہ موت نے اپنا منہ ابراہیم کی طرف سے پھیرلیا اور پھر حضرت ابراہیم کی طرف رخ کیا تو حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ ایک سیاہ فام شخص سامنے کھڑا ہے جس کا سر آسمان کو چھو رہا ہے اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم بےہوش ہوگئے۔ کچھ دیر کے بعد ہوش میں آئے تو دیکھا کہ ملک الموت اپنی پہلی شکل میں آچکا تھا۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا : اے ملک الموت ! اگر (مرنے کے وقت) کوئی کافر سوائے آپ کی اس (ہیبت ناک) صورت کے کسی اور مصیبت و غم سے دوچار نہ بھی ہو ‘ تب بھی (اس کی مصیبت و غم کے لئے) یہ صورت ہی کافی ہے۔ اچھا ! اب بتائیے کہ آپ مؤمنوں کی روحیں کیسے قبض کرتے ہیں۔ ملک الموت نے اپنا منہ پھیرلیا اور پھر فوراً دوبارہ حضرت ابراہیم کی طرف رخ موڑا تو حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ وہ نہایت حسین جوان مرد تھے ‘ خوشبو پاکیزہ مہک رہی تھی اور لباس سفید تھا۔ حضرت ابراہیم نے کہا : اے فرشتہ موت ! اگر مرنے کے وقت مؤمن آپ کی اس (حسین پاکیزہ) صورت کے سوا کوئی اور چشم نواز خنکی اور عزت نہ بھی دیکھے ‘ تب بھی اس کے لئے یہی حسین صورت کافی ہوگی۔
حضرت کعب کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم کو ملک الموت نے اپنی وہ حسین صورت دکھائی جو مؤمن کی روح قبض کرتے وقت ان کی ہوتی ہے تو ان کی صورت پر ایسی چمک دمک اور رونق دیکھی جس کی کیفیت سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا اور کافروں ‘ فاجروں کی روح قبض کرنے کے وقت جو صورت ان کی ہوتی ہے ‘ جب وہ دکھائی تو حضرت ابراہیم خوف زدہ ہوگئے ‘ یہاں تک کہ آپ کے شانے لرزنے لگے اور پیٹ زمین کو لگا دیا ‘ قریب تھا کہ آن کی جان نکل جائے۔
مسئلہ : جانوروں کی موت کس طرح ہوتی ہے ؟ ابو الشیخ اور دیلمی نے اور عقیلی نے الصنعاء میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : چوپایوں اور زمین کے کیڑوں مکوڑوں کی مدت زندگی اللہ کی پاکی بیان کرنے سے رہتی ہے۔ جب ان کی تسبیح ختم ہوجاتی ہے تو اللہ خود ان کی جانیں قبض کرلیتا ہے ‘ موت کے فرشتہ کو اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ ایک اور سند سے حضرت ابن عمر کی روایت سے خطیب نے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ ابن عطیہ اور قرضی نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک الموت کے دخل کے بغیر اللہ خود ان کی زندگیاں ختم کردیتا ہے۔
میں کہتا ہوں : آدمیوں کی روحیں قبض کرنے کے لئے ملک الموت اور اس کے مددگاروں کی وساطت مؤمنوں کی عزت افزائی اور کافروں کی توہین و سزا کے لئے قائم کی گئی ہے۔
خطیب نے اپنی تفسیر میں بوساطت ضحاک حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ملک الموت کو آدمیوں کی روحیں قبض کرنے لئے مقرر کیا گیا ہے اور ایک فرشتہ جنات کے لئے مقرر ہے اور ایک فرشتہ شیاطین کی موت پر اور ایک فرشتہ چرندوں ‘ پرندوں ‘ درندوں ‘ مچھلیوں اور چیونٹیوں کی موت کے لئے مقرر ہے۔ یہ چار فرشتے ہیں (تمام) فرشتے پہلی بےہوشی میں (یعنی پہلا صورت پھونکتے ہی) مرجائیں گے۔ ملک الموت ان کی روحیں قبض کرنے پر مقرر ہے ‘ پھر ملک الموت (خود) مرجائے گا لیکن (جہاد پر جانے والے) وہ لوگ جو سمندر میں شہید ہوتے ہیں ‘ اللہ ان کی روحیں خود قبض کرتا ہے ‘ ان کی عزت افزائی کے پیش نظر ملک الموت کو ان کا معاملہ سپرد نہیں کرتا۔ وہ راہ خدا میں نکلنے والے ہوتے ہیں ‘ جو سمندر میں شہید ہوجاتے ہیں۔ اس روایت کی سند میں جو بیر انتہائی ضعیف راوی ہیں ‘ پھر ضحاک کا حضرت ابن عباس سے انقطاع بھی ہے ‘ البتہ اثر مذکور کے آخری حصہ کا ایک شاہد مرفوع ہے۔
ابن ماجہ نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ نے ملک الموت کو سوائے شہداء بحر کے سب کی روحیں قبض کرنے پر مقرر فرمایا ہے۔ شہداء بحر کی روحیں قبض کرنے کی ذمہ داری اللہ نے خود (اپنے ہاتھ میں) لی ہے۔۔ میں کہتا ہوں : عشق و معرفت کے سمندر میں ڈوبنے والے تو اس عزت افزائی کے زیادہ مستحق ہیں۔ وا اللہ اعلم۔
ثم الی ربکم ترجعون . پھر تم سب اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
یعنی مرنے کے بعد مؤمن کی روح کو رحمت کے فرشتے آسمانوں پر چڑھا لے جائیں گے یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ دیں گے ‘ اور کافروں کی روح کو عذاب کے فرشتے لے کر چڑھیں گے اور جب پہلے ہی آسمان تک پہنچ کر (دروازہ) کھلوانا چاہیں گے تو کافر کی روح کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جائے گا ‘ بلکہ اوپر سے اس کو پھینک دیا جائے گا (کہ وہ مقام سجین میں پہنچ جائے گی) پوری حدیث سورة انعام میں نقل کی جا چکی ہے۔
یا یہ مطلب ہے کہ قبروں سے اٹھا کر زندہ کر کے تم کو مقام حساب تک لے جایا جائے گا اور حساب کے بعد ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ حشر کے بعد کیا حال ہوگا ؟ اس کا ذکر اللہ نے اگلی آیت میں فرمایا ہے۔
Ayah 32:12ولو تری اذا لمجرمون ناکسوا رء وسھم عند ربھم اور (اے محمد ﷺ ! ) اگر آپ (وہ منظر) دیکھیں گے
(تو بڑا ہیبت ناک منظر آپ کو دکھائی دے گا) جب کہ مجرم (یعنی وہ مشرک جو کہا کرے تھے کہ جب ہم خاک میں مل جائیں گے تو کیا نئے جنم میں اٹھ سکیں گے ؟ ندامت اور غم کے مارے) اپنے رب کے سامنے سر جھکائے حاضر ہوں گے۔
ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون (کہیں گے کہ) اے ہمارے مالک ! ہم نے
یکھ لیا اور سن لیا ‘ اب ہم کو (دنیا کی طرف) لوٹا دے ہم نیک کام کریں گے اب ہم کو یقین آگیا۔
اَبْصَرْنَا یعنی تو نے جو ہم کو وعید سنائی تھی اور ہم اس کی تکذیب کرتے تھے ‘ وہ وعید آج ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔
سَمِعْنَا یعنی تو نے اپنے پیغمبروں کی تصدیق کردی جن کو ہم جھوٹا کہتے تھے۔ ہم نے آج تیری طرف سے تصدیق سن لی۔ اَبْصَرْنَا اور سَمِعْنَا کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے اپنے گناہ دیکھ لئے اور ہمارے متعلق جو کہا گیا ‘ ہم نے سن لیا۔
اِنَّا مُوْقِنُوْنَ یعنی جس چیز میں ہم کو پہلے شک تھا ‘ آج اس کا یقین آگیا۔
Ayah 32:13ولو شئنا لاتینا کل نفس ھدھا ولکن حق القول منی لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس
اجمعین . اور اگر ہم چاہتے تو جن و انس میں سے ہر شخص کو اس کی ہدایت دیتے (یعنی ایسی چیز دے دیتے جس کے ذریعہ سے وہ قطعی ہدایت یاب ہوجاتا) لیکن میری طرف سے (جو) بات (طے ہوچکی تھی وہ) پوری ہوگئی کہ میں دوزخ کو جنات اور انسانوں سے سب سے بھر دوں گا۔
اَلْجِنَّۃِ اور النَّاس میں الف لام عہدی ہے ‘ اس سے مراد ہیں مجرم لوگ۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ نے کچھ لوگوں کو پیدائشی جنتی بنایا ‘ جب وہ اپنے آباء کی پشت میں تھے ‘ اسی وقت ان کو جنت کے لئے بنا دیا تھا اور کچھ لوگوں کو پیدائشی دوزخی بنایا ‘ جب وہ پشت پدر میں تھے ‘ اسی وقت ان کو دوزخ کے لئے بنا دیا تھا۔ رواہ مسلم۔
حضرت علی راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک کے لئے دوزخ میں ٹھکانا یا جنت میں ٹھکانا (پہلے سے) لکھ دیا گیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! پھر ہم اس تحریر پر بھروسہ کیوں نہ کرلیں اور کیوں نہ عمل ترک کردیں ؟ فرمایا : عمل کئے جاؤ ‘ ہر ایک کو اسی کام کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لئے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ جو خوش نصیب لکھ دئیے گئے ہیں ‘ ان کے لئے اہل سعادت کے عمل آسان کر دئیے جاتے ہیں اور جو بدبخت لکھ دئیے گئے ہیں ‘ ان کو بدنصیبوں کے اعمال کی توفیق دی جاتی ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے آیت فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بالْحُسْنٰی الخ تلاوت فرمائی۔ رواہ البخاری و مسلم۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ دست مبارک میں دو تحریریں لئے برآمد ہوئے اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ دونوں تحریریں کیسی ہیں ؟ ہم نے عرض کیا : ہم کو کچھ علم نہیں۔ حضور ﷺ نے دائیں ہاتھ والی تحریر کے متعلق فرمایا : یہ رب العالمین کی تحریر ہے ‘ اس میں تمام جنتیوں کے نام مع ان کے آباء و قبائل کے لکھے ہوئے ہیں ‘ پھر اس کو بند کردیا گیا ہے ‘ آئندہ کبھی اس میں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی اور بائیں ہاتھ والی تحریر کے متعلق فرمایا : یہ تحریر بھی رب العالمین کی ہے ‘ اس میں دوزخیوں کے نام ان کے آباء و قبائل سمیت لکھے ہوئے ہیں ‘ پھر آخر اس کو بند کردیا گیا ‘ آئندہ کبھی اس میں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! جب معاملہ طے ہوچکا ہے تو پھر عمل کس غرض سے کیا جائے ؟ فرمایا : سیدھی چال چلتے رہو اور لگے لگے چلو۔ جنتی کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوتا ہے ‘ خواہ زندگی میں اس نے کوئی عمل بھی کیا ہو اور دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوتا ہے ‘ خواہ زندگی میں اس نے کچھ بھی کیا ہو۔ پھر حضور ﷺ نے تحریروں کی طرف اشارہ کر کے پھینک دیا (یعنی ایسا اشارہ کیا جیسا کوئی پھینکنے والا کرتا ہے اور وہ تحریریں غائب ہوگئیں) پھر فرمایا : تمہارا رب بندوں (کے فیصلے) سے فارغ ہوچکا ہے۔ ایک فریق جنتی اور دوسرا فریق دوزخی ہے۔ رواہ الترمذی۔
لَاَ مْلَءَنَّ جَھَنَّمَ الخ ‘ اَلْقَوْلکا بیان ہے۔ مقابل نے کہا : اَلْقَوْل سے مراد ہے اللہ کا یہ قول جس میں ابلیس سے خطاب کر کے فرمایا ہے : لَأَمْلَاَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِغَکَ مِنْھُمْ اَجْجَعِیْنَ ۔
آیت میں صراحت ہے کہ لوگوں کا ایمان نہ لانا اللہ کی مشیت کے زیر اثر ہے۔ حَقَّ الْقَوْلُ عدم مشیت کی تاکید ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ میری ہی مشیت سے ان کا کافر ہونا اور جہنم میں داخل ہونا ہے۔
یا لَاَ مْلَءَنَّ جَھَنَّمَ الخ میں ایک سابق تقدیری فیصلہ کا اظہار کیا گیا ہے جو عدم مشیت ایمان کی علت ہے۔ عذاب کا مزہ چکھنے کا سبب نسیان قیامت کو اگلی آیت میں قرار دیا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تقدیری فیصلہ علت سابقہ نہ ہو۔
Ayah 32:14فذوقوا بما نسیتم لقاء یومکم ھذا . پس تم چونکہ اس دن کے سامنے آنے کو بھول گئے تھے اس لئے عذاب
کا مزہ چکھو ‘ ہم نے بھی (آج) تم کو بھولا بسرا کردیا۔ بھولنے سے مراد ہے رحمت سے محروم کردینا یا عذاب میں اس طرح چھوڑ دینا جیسے کوئی چیز بھولی بسری ہوجاتی ہے۔
لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا سے مراد ہے قبروں سے اٹھ کر اللہ کی طرف یعنی مقام حساب کی طرف جانا۔
انا نسینکم وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون . ہم نے تم کو بھلا دیا اور اپنے کرتوت کی پاداش
میں دوامی عذاب کا مزہ چکھو۔
امر کی تکرار مفید تاکید ہے۔ اس آیت میں کفر و معاصی کو ذوق عذاب کا سبب قرار دیا ہے اور گزشتہ سابقہ آیات میں ذوق عذاب کا سبب نسیاں قیامت و حساب اور انجام پر عدم تفکر و تدبر کو قرار دیا ہے۔ گویا اس سے اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ نسیان قیامت اور ارتکاب سیِّاٰت دونوں موجب عذاب ہیں۔
اس آیت میں جبریہ اور قدریہ کے مسلک کے خلاف دلیل موجود ہے (یبریہ انسان کو مجبور محض پتھر کی طرح خیال کرتے ہیں اور قدریہ انسان کو اپنے اعمال کا خود خالق قرار دیتے ہیں ‘ مترجم) بِمَا نَسِیْتُمْسے جبریہ فرقہ کی تردید ہو رہی ہے۔ اللہ نے نسیان قیامت کو موجب عذاب قرار دیا ہے ‘ معلوم ہوتا ہے کہ تدبر و تفکر کو چھوڑنا اور ایمان کو ترک کرنا اور معاصی کا ارتکاب کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ قدریہ قائل ہیں کہ اللہ بندوں سے ایمان اور نیک اعمال چاہتا ہے مگر انسان خود اپنی مشیت و اختیار سے ایمان اور اعمال صالحہ کو ترک کرتا ہے اور اپنی بداعمالی کا خود خال ہے۔ اس کی تردید آیت وَلَوْ شِءْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھَدٰٰں ھَا سے ہو رہی ہے اور ثابت ہو رہا ہے کہ انسان کا کوئی عمل اللہ کی مشیت کے بغیر نہیں ہوتا۔ پس نہ کامل جبر کا قول صحیح ہے ‘ نہ تفویض مطلق کا ‘ بلکہ دونوں کے بیچ کی راہ سیدی ہے (یعنی کا سب بندہ ہے اور خالق اللہ ہے۔ انسان کفر و معاصی اللہ کے حکم کے خلاف کرتا ہے ‘ مشیت خداوندی کے خلاف نہیں کرسکتا۔ مترجم) ۔
Ayah 32:15انما یؤمن بایتنا الذین اذا ذکروا بھا خروا سجدا وسبحوا بحمد ربھم وھم لا یستکبرون
پس ہماری آیتوں پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو وہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرنے لگتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
ذُکِّرُوْا یعنی ان کو نصیحت کی جاتی ہے۔ خَرُّوْا منہ کے بل گرپڑتے ہیں اللہ کے عذاب کے خوف سے۔
سَبِّحُوْا ہر نامناسب بات سے اللہ کے پاک ہونے کا اعتراف کرتے ہیں (ا اللہ ہر عیب ‘ نقصان ‘ عجز و جہالت سے پاک ہے) ۔
بِحَمْدِ رَبِّھِمْ اللہ کی حمد کرتے ہوئے یعنی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کو ایمان کی توفیق دی اور ہدایت نصیب کی۔ مطلب یہ کہ وہ (دل کی شہادت کے ساتھ زبانوں سے) سبحان اللہ وبحمدہ کہتے ہیں۔
لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ اور ایمان و اطاعت سے غرور نہیں کرتے۔
Ayah 32:16تتجافی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعا . ان کے پہلو خواب گاہوں سے دور
رہتے ہیں وہ اپنے رب (کے عذاب و ناراضگی) کے خوف سے اور (رحمت وثواب کی) امید رکھتے ہوئے اس کو پکارتے ہیں۔
خواب گاہوں سے پہلو دور رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں۔ حضرت اسماء بنت یزید راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ ایک ہموار میدان میں لوگوں کو جمع کرے گا۔ پکارنے والے کی آواز سب کو (ایک جیسی) سنائی دے گی اور چونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہیں ہوگی اور نشیب و فراز نہیں ہوگا اس لئے نظر سب کے پار جائے گی۔ منادی پکارے گا : کہاں ہیں وہ لوگ جو دکھ سکھ میں اللہ کی حمد کرتے تھے ؟ یہ آواز سن کر کچھ تھوڑے سے لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور بلاحساب جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ پھر منادی پکارے گا : کہاں ہیں وہ لوگ جن کے پہلو خواب گاہوں سے الگ رہتے تھے ؟ یہ آواز سن کر کچھ توڑے سے لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور بلاحساب کے جنت میں چلے جائیں گے۔ اس کے بعد باقی مخلوق اٹھے گی اور ان سے حساب لیا جائے گا (ہناد) ابن راہویہ اور ابویعلی نے اپنی مسندوں میں بھی حضرت اسماء کی روایت سے حدیث مذکورہ اسی طرح بیان کی ہے ‘ اس روایت میں اتنا تغیر ہے کہ منادی اول ایسی آواز سے جو سب لوگوں کو سنائی دے گی ‘ یہ الفاظ پکار کر کہے گا۔ اس سے مجمع والوں کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ کرم کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے۔
حسن بصری ‘ مجاہد ‘ امام مالک ‘ اوزاعی اور علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ آیت تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْمیں تہجد گزار لوگ مراد ہیں جو تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے ہیں۔
امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ ابی ابی شیبہ ‘ ابن راہویہ اور حاکم نے حضرت معاذ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت معاذ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے ‘ دوزخ سے دور رکھے۔ فرمایا : تو نے بڑی بات دریافت کی اور اللہ جس کو توفیق دے اس کے لئے دشوار بھی نہیں۔ تو اللہ (ہی) کی عبادت کر ‘ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ قرار دے۔ نماز قائم کر ‘ زکوٰۃ ادا کر ‘ رمضان کے روزے رکھ اور کعبہ کا حج کر۔ پھر فرمایا : کیا میں تجھے خیر کے دروازے نہ بتادوں ؟ (سن ! ) روزہ ڈھال ہے ( گناہوں سے اور دوزخ سے بچانے والا ‘ مترجم) خیرات گناہوں کو اس طرح بجھا دیتی ہے جیسے پانی آگ کو اور وسط رات میں نماز پڑھنا بھی خیر (کا دروازہ) ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے آیت تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ ۔۔ یَعْمَلُوْنَ تک تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا : کیا میں تجھے امر (دین ‘ مترجم) کا سر اور ستون اور کوہان کی چوٹی نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں۔ فرمایا : امر (دین) کا سر اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کے کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔ اس کے بعد فرمایا : کیا میں تجھے اس سب کی جڑ نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں۔ حضور ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا : اس کو روکے رکھ۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا زبان سے بات کرنے پر بھی ہماری پکڑ ہوگی۔ فرمایا : معاذ ! تجھے تیری ماں روئے ! منہ کے بل یا ناک کے بل لوگوں کو دوزخ میں ڈالنے والے کی زبانوں کے نتائج (یعنی الفاظ) ہی تو ہوں گے۔
حضرت ابو مالک اشعری راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جنت میں کچھ بالا خانے ایسے ہیں جن کا اندرون باہر سے اور بیرون اندر سے نظر آتا ہے۔ اللہ نے یہ ان لوگوں کے لئے تیار کئے ہیں جو کلام میں نرم اختیار کرتے ہیں ‘ حاجت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں ‘ بلاناغہ روزے رکھتے ہیں اور رات میں ایسے وقت نمازیں پڑھتے ہیں جب دوسرے لوگ سوئے ہوتے ہیں۔ راوہ البیہقی فی شعب الایمان۔ ترمذی نے یہ حدیث اسی طرح حضرت علی کی روایت سے بیان کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : رمضان کے بعد سب سے افضل روزے خدا کے مہینے یعنی محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔ رواہ مسلم۔
امام احمد کی روایت میں حدیث کے آخری جملہ میں اتنا تغیر ہے کہ فرض کے بعد سب سے افضل نماز جوف شب کی نماز ہے۔
بغوی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ دو آمیوں کو بہت پسند فرماتا ہے : ایک تو وہ جو اپنے بستر و لحاف میں سے نکل کر ‘ محبوب بیوی بچوں کو چھوڑ کر نماز کو اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اللہ ملائکہ سے فرماتا ہے : میرے بندے کو دیکھو جو اپنے بستر و لحاف کے اندر سے نکل کر ‘ محبوب بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر میرے ثواب کا امیدوار ہو کر اور میرے عذاب سے ڈر کر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ دوسرا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں لڑتا ہے ‘ پھر شکست پا کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوتا ہے ‘ پھر فرار کی حالت میں اس کو خیال آتا ہے کہ جہاد سے بھاگنا کتنا بڑا جرم ہے اور لوٹ کر جہاد میں شرک ہونا کتنی بڑی نیکی ہے ‘ یہ خیال آتے ہی وہ لوٹ پڑتا ہے (جہاد میں جا کر شریک ہوتا ہے) آخر اس کا خون بہا دیا جاتا ہے یعنی شہید ہوجاتا ہے۔ اللہ ملائکہ سے فرماتا ہے کہ میرے بندے کو دیکھو کہ کس طرح ہو میرے ثواب کی طلب میں اور میرے عذاب سے ڈر کر (جہاد کی طرف) لوٹ پڑا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔
بغوی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے حضرت عبد اللہ ابن رواحہ (خزرجی انصاری صحابی) کے یہ شعر نقل کئے ہیں :
وفینا رسول اللہ یتلو کتابہ
اذا انشق معروف من الفجر ساطع
ارانا الھدی بعد العمی فقلوبنا
بہ موقنات ان ماقال واقع
یبیت یجافی جنبہ عن فراشہ
اذا اسثقلت بالکافرین المضاجع
ہم میں اللہ کے رسول ﷺ ہیں کہ صبح کو پو پھٹنے کے وقت وہ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں۔ ہمارے اندھے پن کے بعد انہوں نے ہمیں راستہ دکھایا۔ ہمارے دلوں کو یقین ہے کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا ‘ وہ سچ ہے۔ وہ رات کو اپنا پہلو بستر سے جدا رکھتے ہیں ‘ جب کہ کافروں کے بستر کافروں (کے بار) سے بوجھل پڑے ہوتے ہیں۔
سورۂ مزمل کی تفسیر میں ہم نے نماز تہجد کی فضیلت کو ظاہر کرنے والی حدیثیں ذکر کردی ہیں۔
ترمذی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے اور اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے کہ آیت تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو (مغرب کی نماز پڑھ کر) عَتَمہ یعنی عشاء کی نماز کے انتظار میں رہتے ہیں۔
بغوی نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت انس نے فرمایا : یہ آیت ہمارے گروہ انصار کی بابت نازل ہوئی۔ ہم مغرب کی نماز پڑھ کر گھروں کو نہیں لوٹتے تھے (اور مسجد میں انتظار کرتے رہتے تھے) یہاں تک کہ رسول اللہ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کرتے تھے (پھر گھروں کو لوٹتے تھے) ۔
یہ بھی حضرت انس ہی کی روایت ہے کہ اس آیت کا نزول کچھ صحابہ کے متعلق ہوا تھا جو مغرب کی نماز پڑھ کر عشاء کی نماز تک مسجد میں رہتے تھے۔ یہ روایت ابن مردویہ نے نقل کی ہے ‘ اس کی اصل سنن ابو داؤ میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم اور محمد بن منکدر کا بھی یہی قول ہے۔ ان دونوں بزرگوں کا قول ہے کہ (آیت میں جس نماز کا ذکر ہے) وہ صلوٰۃ اوابین ہے۔
بزار نے کمزور سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت بلال نے فرمایا : ہم مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے اور کچھ صحابی مغرب سے عشاء تک نماز پڑھتے رہتے تھے ‘ اس پر آیت مذکور نازل ہوئی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابو درداء ‘ حضرت ابوذر اور حضرت عبادہ بن صامت عشاء اور فجر کی نماز رسول اللہ کے ساتھ جماعت سے پڑھتے تھے۔ مسلم اور امام احمد نے حضرت عثمان کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی ‘ اس نے آدھی رات نماز پڑھی اور جس نے فجر کی نماز جماعت سے پڑھی ‘ اس نے گویا پوری رات نماز میں گزاری۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اگر لوگ اذان دینے اور پہلی صف میں شریک ہونے کا ثواب جانتے اور پھر بغیر قرعہ اندازی اذان دینا اور پہلی صف میں شریک ہونا ان کو میسر نہ آتا تو وہ ضرور قرعہ اندازی کرتے۔ اور اگر ظہر کی (باجماعت) نماز کا ثواب ان کو معلوم ہوجائے تو دوڑتے ہوئے پہلے پہنچنے کی کوشش کریں اور اگر باجماعت عشاء اور فجر کی نمازوں کے ثواب سے واقف ہوجائیں تو سرنیوں کے بل گھسیٹ کر بھی پہنچیں (رواہ الشیخان فی الصحیحین واحمد والنسائی) ۔
ومما رزقنھم ینفقون . اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے کچھ راہ خدا میں صرف کرتے ہیں۔
بعض اہل علم نے کہا : اس سے مراد فرض زکوٰۃ ہے۔ بعض کے نزدیک ہر صرف خیر مراد ہے۔
Ayah 32:17فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین کوئی نہیں جانتا کہ کیا کیا آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ
رکھی گئی ہے۔
نَفْسٌ یعنی نہ کوئی نبی مرسل ‘ نہ مقرب فرشتہ۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں ‘ نہ کسی کان نے ان کا ذکر سنا ‘ نہ کسی انسان کے دل میں ان کا تصور آیا۔ اگر تم چاہتے ہو تو پڑھو : فَلاَ تَعْلَمْ نَفْسٌ مَّآ اُْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ الخ (متفقہ علیہ) حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : یہ وہ نعمت ہے جس کی کوئی تشریح نہیں بیان کی گئی۔
جزآء بما کانوا یعملون . ان اعمال کے بدلے میں جو انہوں نے کئے تھے۔
واحدی اور ابن عساکر نے سعید بن جبیر کی وساطت سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت علی اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے درمیان کسی بات پر کچھ جھگڑا اور کلام کا رد و بدل ہوا۔ ولید نے حضرت علی سے کہا : تو بچہ ہے اور خدا کی قسم ! میں تجھ سے زیادہ تیز زبان اور جیوٹ اور لشکری پہلوان ہوں۔ حضرت علی نے فرمایا : چپ رہ ‘ تو اللہ کا نافرمان ہے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 32:18افمن کان مومنا کمن کان فاسقا . سو کیا جو مؤمن ہے ‘ وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کافر ہے ؟
ابن جریر نے عطاء بن یسار کی رویت سے بھی واحدی اور ابن عساکر کی روایت کی طرح تخریج کی ہے۔ خطیب نے تاریخ میں نیز ابن عدی نے بوساطت کلبی از ابو صالح حضرت ابن عباس کا بیان اسی طرح نقل کیا ہے۔ خطیب اور ابن عساکر نے بوساطت ابن لہیعہ بحوالہ عمر و بن دینار حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت علی اور عقبہ بن ابی معیط کے حق میں ہوا اور دونوں میں کچھ گالم گلوچ ہوگئی تھی۔
فَاسِقًا سے مراد ہے خارج از ایمان یعنی کافر۔
لا یستون . یہ سب (شوق اور ثواب میں) برابر نہیں ہیں۔ عدم استواء کی تفصیل آئندہ آیات میں مذکور ہے۔
Ayah 32:19اما الذین امنوا وعملوا الصلحت فلھم جنت الماوی نزلاً بما کانوا یعملون جو لوگ ایمان
لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے سو ان کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانہ جنتیں ہیں جو ان کے اعمال کے بدلہ میں بطور ان کی مہمان کے ہیں۔
Ayah 32:20واما الذین فسقوا فماوھم النار کلما ارادوا ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا وقیل لھم ذوقوا
عذاب النار الذی کنتم بہ تکذبون . اور جنہوں نے کفر کیا ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا ‘ جب اس سے نکلنا چاہیں گے تو دوبارہ اسی میں لوٹا دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جس عذاب آتش کی تم تکذیب کرتے تھے (آج) اس کا مزہ چکھو۔
اصل قیام گاہ جنت ہے ‘ دنیا تو رہ گزر ہے۔ مؤمنوں کا ٹھکانہ جنت میں ہی ہوگا اور کافروں نے چونکہ شرک اختیار کیا ہے اس لئے گویا جنت میں داخل ہونے سے منکر ہوگئے اور دوزخ کو جنت کے بدلہ میں لے لیا۔
أُعِیْدُوْا فِیْھَا سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
وَقِیْلَ لَھُمْ الخ یعنی کافروں کو ذلیل کرنے اور شدت غضب میں مبتلا کرنے کے لئے ان سے یہ بات کہی جائے گی۔
Ayah 32:21فلنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون . اور بڑے عذاب (یعنی
عذاب آخرت) سے پہلے ہم ان کو کچھ عذاب دنیا چکھائیں گے تاکہ وہ (ایمان کی طرف) لوٹ آئیں۔
حضرت ابی بن کعب ‘ ضحاک ‘ حسن اور ابراہیم نے کہا : عذاب دنیا سے مراد ہیں دنیاوی مصائب اور بیماریاں۔ والبی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔ عکرمہ نے کہا : حدود مراد ہیں۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد وہ ہفت سالہ قحط ہے جس میں اہل مکہ مبتلا کئے گئے تھے یہاں تک کہ مردار اور ہڈیاں اور کتوں تک کو کھا گئے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : بدر کے دن کافروں کا مارا جانا مراد ہے۔ قتادہ اور سدی کا بھی یہی قول مروی ہے۔
ایمان کی طرف لوٹ آنے کا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ قحط اور بدر میں مارنے جانے سے بچ رہے ‘ وہ شاید ایمان لے آئیں۔
Ayah 32:22ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ ثم اعرض عنھا انا من المجرمین منتقمون . اور اس شخص
سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس کو اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی گئی ‘ پھر اس نے آیات کی طرف سے رخ موٹ لیا ؟ ہم مجرموں سے ضرور انتقام لیں گے۔
رخ موڑ لیا ‘ یعنی آیات رب پر غور نہیں کیا۔ ثُمَّ (تراخی زمانہ کے لئے نہیں ہے بلکہ) اس بات پر تعجب کرنے کے لئے ہے کہ آیات کھلی ہوئی ہیں اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ بتارہی ہیں ‘ پھر بھی یہ ظالم ان کی طرف سے کتراتا اور ان پر غور نہیں کرتا۔
مِنَ الْمُجَُرِمِیْنَ یعنی ہم تو ہر مجرم سے انتقام لینے والے ہیں ‘ پھر یہ شخض تو سب سے بڑا مجرم ہے اس کو بغیر انتقام کے کیسے چھوڑ دیں گے۔
Ayah 32:23ولقد اتینا موسیٰ الکتب . اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی۔ یعنی جس طرح آپ کا قرآن عطا کیا اسی طرح
موسیٰ کو توریت عطا کی تھی۔
فلا تکن فی مریۃ مہ لقاۂ . سو آپ اس کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجئے۔
یعنی قرآن کا نزول کوئی نئی بات نہیں ‘ اس سے پہلے کتاب نازل کی جا چکی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ موسیٰ نے توریت اپنی رضامندی سے قبول کی تھی ‘ آپ کو اس بات میں شک نہ کرنا چاہئے۔ سدی نے یہی مطلب بیان کیا ہے۔ طبرانی نے اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن عباس کی روایت سے رسول اللہ کا فرمان گرامی نقل کیا ہے : تم شک نہ کرو کہ موسیٰ اپنے رب سے ملے تھے (یعنی طور پر حضرت موسیٰ اپنے رب سے بلاشبہ ملے تھے ‘ مترجم) بعض نے کہا : اس بات میں کوئی شک نہ کرے کہ آپ ﷺ شب معراج میں موسیٰ سے ملے تھے۔ اس تشریح کی نسبت بعض روایات میں حضرت ابن عباس کی طرف کی گئی ہے۔ شیخین نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : شب معراج میں میں نے موسیٰ کو دیکھا۔ گندی رنگ ‘ دراز قامت ‘ گھونگریالے بال ‘ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ (قبیلہ ازد) شنواہ کے ایک مرد ہیں۔ میں نے عیسیٰ کو بھی متوسط القامت ‘ سرخی سفیدی مائل رنگ اور سیدھے بالوں والا پایا۔ میں نے منجملہ دوسری آیات قدرت کے جو اللہ نے مجھے دکھائیں ‘ دوزخ کے داروغہ مالک کو اور دجال کو بھی دیکھا۔ فَلاَ تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآءِہٖ یہ آیت حضور ﷺ نے بیان مذکور کے بعد تلاوت فرمائی۔
حضرت ابن عو اس کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ کے ہمرکاب ایک سفر میں چلے۔ ایک وادی کی طرف سے ہمارا گزر ہوا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ کونسی وادی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : وادی ارزق ہے۔ فرمایا : وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا کہ میں (شب معراج) اس وادی سے گزر رہا تھا تو موسیٰ میری نظر کے سامنے دونوں کانوں میں انگلیاں دئیے لبیک کہہ رہے تھے اور اللہ کو پکار رہے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : پھر ہم آگے چلتے چلتے ایک گھاٹی پر پہنچے تو حضور ﷺ نے فرمایا : یہ کونسی گھاٹی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : مرشا۔ فرمایا : وہ سین میری نظروں کے سامنے ہے کہ حضرت یونس سرخ اونٹنی پر سوار چغہ پہنے اونٹنی کی مہار پکڑے اس وادی میں لبیک کہتے ہوئے گزر رہے تھے۔ رواہ مسلم) ۔
سورۂ بنی اسرائیل میں حدیث معراج کے بیان میں ذکر کردیا گیا ہے کہ رسول اللہ نے حضرت موسیٰ کو چھٹے آسمان میں دیکھا اور نماز کی (تخفیف کی) بابت گفتگو کی تھی۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب مجھے رات کو آسمان کی طرف لے جایا گیا تو (اثناء راہ میں) میں نے موسیٰ کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔ وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل . اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لئے راہ نما بنایا۔
یعنی جو کتاب موسیٰ پر نازل کی ‘ اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنمائی کا ذریعہ قرار دیا۔ قتادہ نے کہا : مفعول کی ضمیر موسیٰ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی ہم نے موسیٰ کو بنی اسرائیل کا ہادی بنایا۔ طبرانی نے حضرت ابن عباس کی طرف سے بھی اسی قوم کی نسبت کی ہے۔ بروایت طبرانی ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ہم نے موسیٰ کو بنی اسرائیل کے لئے راہنما بنا دیا۔
Ayah 32:24وجعلنا منھم ائمۃ . اور ہم نے (بنی اسرائیل) میں سے کچھ لیڈر بنائے (یعنی انبیاء اور بقول قتادہ انبیاء کے پیرو)
جن کی ہر بھلائی میں اقتدا کی جاتی تھی۔
یھدون بامرنا . وہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے یا ہماری دی ہوئی توفیق سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے۔
لما صبروا . جب کہ انہوں نے اپنے دین پر اور مصر کی سکونت کی حالت میں دشمن کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں
پر صبر کیا تھا۔ اس لفظ سے ثابت ہو رہا ہے کہ صبر موجب امامت ہے (شدائد و مصائب پر صبر کرنے والے لوگوں کے پیشوا بن جاتے ہیں) ۔
وکانوا بایتنا یوقنون . اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے آیات الٰہیہ کا مطالعہ گہری نظر
سے کیا تھا۔
Ayah 32:25ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیمہ . کوئی شبہ نہیں کہ آپ کا رب قیامت کے دن ان کے درمیان عملی فیصلہ کر دے گا۔ یعنی اہل حق کو اہل باطل سے جدا کر دے گا۔
فیما کانوا فیہ یختلفون . جن (دینی) امور میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے (ان کا عملی فیصلہ قیامت کے دن اللہ
کر دے گا) ۔
Ayah 32:26اولم یھدلھم کم اھلکنا من قبلھم من القرون . کیا اس بات سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی کہ ان سے
پہلے گزری ہوئی کتنی ہی امتوں کو ہم نے (ان کے کفر و عصیان کی وجہ سے) تباہ کردیا ؟
یمشون فی مسکنھم . جن کے مکانوں میں یہ لوگ (یعنی مکہ والے اپنے سفر کے دوران) چلتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت افلا یستمعون . بیشک اس میں (یعنی گزشتہ اقوام کی تباہی میں) بہت نشانیاں ہیں
(جن سے ان قوموں کے کفر و معاصی کی ہلاکت آفرینی اور اللہ کی قدرت کی ہمہ گیری اور انتقامی طاقت ثابت ہوتی ہے) کیا یہ لوگ (نصیحت پذیر کانوں سے) نہیں سنتے ؟
Ayah 32:27اولم یروا انا نسوق الماء الی الارض الجرز . کیا انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی کیا ان کو معلوم نہیں) ہم
سوکھی زمین کی طرف پانی کو چلاتے ہیں۔
اَلْجُرُزِ وہ زمین جس کی سرسبزی کٹ گئی ہو ‘ جاتی رہی ہو (لغت عربی میں جُرُز کا معنی ہے کاٹنا۔ اس جگہ مراد ہے سرسبزی کا کٹ جانا ‘ یعنی خشک ہوجانا۔ مترجم) ۔
فنخرج بہ زرعا تاکل منہ انعامھ وانفسھم . پھر پانی سے ہم کھیتی پیدا کرتے ہیں جس (کے بھوسے اور
پتوں وغیرہ) کو ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور (غلہ پھل وغیرہ کو) یہ خود کھاتے ہیں۔
افلا یبصرون کیا ان کو (یہ سامنے کی بات بھی) نہیں سوجھتی ؟ (مردہ زمین کو زندہ کرنا ‘ پھر اس سے جانوروں اور آدمیوں
کا رزق پیدا کرنا دلالت کررہا ہے کہ اللہ کی قدرت ہمہ گیر ہے ‘ اس کا فضل وسیع ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے پر وہ قادر ہے) ۔
ابن جریر نے قتادہ کی روایت نقل کی ہے جس کو بغوی نے بھی ذکر کیا ہے کہ صحابہ نے مشرکوں سے کہا تھا : عنقریب ہم سکھ پائیں گے ‘ مزے اڑائیں گے۔ اللہ ہمارے تمہارے دمیان (عملی) فیصلہ کر دے گا۔
میں کہتا ہوں : صحابہ کی مراد یہ تھی کہ اللہ قیامت کے دن بندوں کا فیصلہ کر دے گا۔ کلبی نے کہا : صحابہ کی عنقریب فیصلہ کردینے سے مراد تھی مکہ کی فتح۔ سدی نے کہا : بدر کی لڑائی مراد تھی۔ صحابہ کہا کرتے تھے کہ اللہ ہمارا مددگار ہے ‘ وہ ہم کو تم پر غلبہ عنایت فرئے گا۔ کافر بطور مذاق کہتے تھے کہ ایسا کب ہوگا۔ اس کے متعلق آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 32:28ویقولون متی ھذا الفتح ان کنتم صدقین . اور وہ (کفار مکہ) کہتے ہیں (یعنی بطور استہزاء کہتے ہیں)
کہ تمہاری یہ فتح کب ہوگی اگر سچے ہو (تو اس کا وقت کھول کر بتاؤ) ۔
Ayah 32:29قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانھم . اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ جنہوں نے (ساری زندگی)
کفر کیا ان کو فتح کے دین ایمان لے آنا مفید نہ ہوگا۔
اس آیت سے بظاہر یہی سمجھا جاتا ہے کہ یَوْمَ الْفَتْحِ سے مراد ہے قیامت کا دن کیونکہ قیامت ہی کے دن کافروں کا ایمان لانا مفید نہیں ہوگا۔ جو علماء کہتے ہیں کہ یوم الفتح سے مراد فتح مکہ کا یا جنگ بدر کا دن ہے۔ انہوں نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جو لوگ کفر کی حالت میں مرگئے یا مارے گئے تو مرنے کے بعد جب ان کے سامنے عذاب آئے گا تو اس وقت ایمان لانے اور مان لینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
ولا ھم ینظرون . اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔
سوال تھا یوم الفتح کی تعیین کا اور جواب دیا گیا یوم الفتح میں ایمان کے غیر مفید ہونے کا۔ بظاہر سوال جواب میں کوئی مطابقت نہیں ہے ‘ اس کی توجیہ اس طرح کی جائے گی کہ کافروں کا سوال درحقیقت طلب علم کے لئے نہیں تھا بلکہ بطور استہزاء تھا ‘ وہ تو یوم الفتح کو مانتے ہی نہیں تھے اس لئے جواب کا رنگ بھی وہی اختیار کیا گیا جو غرض سوال کے مطابق تھا ‘ گویا جواب یہ ہوگا کہ عذاب کے لئے جلدی نہ مچاؤ ‘ جلد آنے کی طلب نہ کرو۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ یوم الفتح آگیا اور اس کو دیکھ کر تم ایمان لے آئے اور اس وقت ایمان لانا تمہارے لئے سودمند نہ ہوا ‘ پھر تم نے مہلت طلب کی تو مہلت بھی تم کو نہیں ملی۔