32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 32:1–2

الٓمّٓۚ Open ayah 32:1 in the Quran reader

الف، لام، میم

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

یہ نازل کی ہوئی کتاب اس کے اندر کوئی اشتباہ نہیں، عالموں کے پروردگار کی طرف سے ہے،1۔

1۔ آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اس کتاب کے کتاب الہی ہونے میں اصلا شک وشبہ کی گنجائش نہیں، لیکن (آیت) ” لاریب فیہ “۔ کا ایک ذرا باریک پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ ریب وارتیاب، شک و اشتباہ، ترودوتذبذب کا اس کتاب کے اندر کہیں گزر نہیں، اس کے مضامین تو سرتا سر تسکین وخزانہ سکون ہیں، یقین و اطمینان اسی کتاب کے اندر ملے گا۔ ملا حظہ ہو۔ شروع سورة البقرہ کا حاشیہ (آیت) ” ذلک الکتب لاریب فیہ “۔ پر۔ نیز ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے اسے گڑھ لیا ہے۔2۔ بلکہ یہ حق ہے آپ کے پروردگار کی طرف سے (اترا ہوا) تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے پاس آپ سے قبل کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا، شاید کہ وہ لوگ راہ پر آجائیں،3۔

2۔ یعنی کیا ان بدبخت منکرین کا یہ دعوی ہے کہ یہ کتاب جو معنوی اور ادبی ہر حیثیت سے بےنظیر وعدیم المثال ہے ایک انسان کی جو اپنے کو پیغمبر کہتے ہیں۔ گڑھی ہوئی ہے اور کسی انسانی دماغ کی پیداوار ہے۔ ؟ 3۔ یعنی ان کی ہدایت یابی کا ایک متوقع ذریعہ تو یہ قرآن ہے، اب آگے چاہے وہ اس پر ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ (آیت) ” قوما ..... قبلک “۔ قوم قریش اسمعیلی تھی، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسمعیل (علیہ السلام) کا پیغمبر ان برحق ہونا ظاہر ہے پھر اس ارشاد سے کیا مراد ہے کہ اس قوم کے پاس اس سے قبل کوئی نذیر نہیں آیا تھا ؟۔ مراد یہ ہے کہ دین ابراہیمی واسمعیلی کے چھوڑنے کے بعد جب سے یہ قوم، عرب میں آباد ہو کر کفر وشرک میں مبتلا ہوگئی تھی اس وقت سے کو پیغمبر ان میں نہیں آیا تھا۔ امام المفسرین امام رازی (رح) سے یہی تفسیر منقول ہے۔ اے بعد الضلال الذی کان بعد الھدایۃ لم یأتھم نذیر (کبیر) اور بعض ائمہ نے یہ قید لگادی ہے کہ بعثت عیسوی وبعثت محمدی کے درمیانی زمانہ فترت میں کوئی نبی عربوں کے درمیان نہیں آیا۔ وقال ابن عباس ومقاتل ذاک فی الفترۃ التی کانت بین عیسیٰ وبین محمد ﷺ (معالم) قیل المراد بالقوم اھل الفترۃ بین عیسیٰ ومحمد علیھما السلام (قرطبی)
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پیدا کردیا چھ دنوں میں پھر وہ قائم ہوا تخت (شاہی) پر،4۔ اس کے سوا کوئی نہ تمہارا مددگار ہے اور نہ سفارشی سو کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟ ،5۔

4۔ یعنی اپنے تصرفات نازل کرنے لگا، اپنے احکام نافذ کرنے لگا۔ (آیت) ” خلق ...... العرش “۔ چھ دن کی مدت خلقت آسمان و زمین پر، نیز استواء علی العرش پر حاشیے (پ 8) سورة الاعراف میں گزر چکے۔ 5۔ (کہ ایسی ذات کا شریک کوئی بھی نہیں ہوسکتا) مراد یہ ہے اللہ کے سوا کوئی بھی مستقلا نہ مددگار ہے نہ شافع، جیسا کہ تمام مشرکانہ مذہبوں نے سمجھ رکھا تھا۔ اسلام سے قبل تقریبا تمام مذاہب نے اللہ کے علاوہ مستقلا کچھ حمایتی اور کچھ شفیع ٹھہرا لیے تھے۔ اور جزا وسزا کا تعلق خدائے تعالیٰ سے، بس محض برائے نام ہی رکھا تھا۔ اسلام نے آکر اس کی تردید کی، اور باربار بتلایا کہ حکم نافذ کرنے والا، فیصلہ صادر کرنے والا دنیا کی طرح آخرت میں بھی صرف اللہ ہی ہے۔ البتہ (آیت) ” الا باذنہ “۔ کی قید لگا کر دوسری جگہ یہ بتادیا ہے کہ وہ خود ہی جس طرح دنیا میں سلسلہ اسباب ووسائط پھیلائے ہوئے ہے، آخرت میں بھی، اپنے ایماء سے ملائکہ کو، انبیاء کو اولیاء کو، صالحین کو، اطفال معصوم کو سفارش کے لیے اٹھا کھڑا کرے گا، اور فساق مومنین کی مغفرت کا ذریعہ انہیں بنادے گا۔ (آیت) ” من دونہ “۔ کی قید بہت قابل لحاظ ہے۔ اللہ کے مقابل کی حیثیت سے قطعا کوئی بھی شفیع وناصر نہیں۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

آسمان سے زمین تک وہی ہر امر کی تدبیر کرتا ہے،6۔ پھر (یہ امر) اس کے پاس پہنچ جائے گا،7۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کی ہوگی،8۔

6۔ چھوٹی بڑی ہر چیز کی تربیت، تدبیر، انتظام سب اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ نہیں کہ اس نے ایک بار پیدا کرکے کارخانہ کائنات کو یوں ہی معلق چھوڑ دیا ہے، بلکہ ہر آن اس کا دخل و تصرف بھی جاری رہتا ہے۔ (آیت) ” یدبر الامر “۔ تدبیر کے ایک معنی انجام کار کے سوچنے کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ یہاں مراد نہیں ہوسکتے۔ یہاں مراد کارسازی، انتظام ونفاذ احکام ہی ہوسکتے ہیں۔ قال ابن عباس ینزل القضاء والقدر (قرطبی) اے یحکم الامر وینزل القضاء والقدر (معالم) (آیت) ” من السمآء الی الارض “۔ یعنی سارے نظام کائنات کی۔ 7۔ یہ پہنچ جانے والی چیز وہی امر ہوگا جس کا ذکر ابھی یدبر الامر میں آچکا ہے۔ وقیل اے یرجع ذلک الامر والتدبیر الیہ بعد انقضاء الدنیا (قرطبی) 8۔ (اور وہ دن قیامت کا ہوگا، جب چھوٹا بڑا ہر عمل اللہ کے روبرو پیش ہوگا) والمراد بیوم مقدارہ کذا یوم القیامۃ (روح) اسی دن کا طول بعض کو اشتداد کی بناء پر ہزار نہیں پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ ملاحظہ ہو سورة المعارج (پ 29) کی (آیت) ” فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ “۔
Ayahs 32:6–7

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا زبردست ہے رحیم ہے

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

وہی جس نے جو چیز بنائی خوب ہی بنائی،9۔ اور انسان کی پیدائش گارے سے شروع کی

9۔ یعنی جس کو جس مصلحت کے لیے پیدا کیا، ٹھیک اسی کے مناسب حال اس کی ساخت و فطرت رکھی، مامن شیء خلقہ الا وھو مرتب ماتقتضیہ الحکمۃ (بحر) یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کی چیزیں الہام فطری سے واضح کردی گئیں۔ قال الفراء لھم کل شیء خلقہ فی ما یحتاجون الیہ (بحر) (آیت) ” ذلک “۔ ذلک یہاں انا کے معنی میں بھی لیا گیا ہے، و ذلک بمعنی انا (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ہر ہر مخلوق اپنی اپنی جگہ پر خوب اور حسن ہی ہے۔ یہاں تک کہ صفات کبر وبخل بھی اپنے محل استعمال میں خوب ہیں : ع : اے بسا امساک کزانفاق بہ مال حق راجز بامر حق مدہ ! ضرر صرف سوء استعمال سے پیدا ہوجاتا ہے۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر چلائی اس کی نسل نچڑے ہوئے بےقدر پانی سے،10۔

10۔ یعنی نطفہ سے جو عرف عام میں ایک گندی چیز سمجھی جاتی ہے۔ (آیت) ” من مآء “ میں من بیانیہ ہے۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسے درست کیا،11۔ اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی،12۔ اور تم کو کان اور آنکھ اور دل دیئے تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو،13۔

11۔ یعنی اس کے اعضاء وقوی ماں کے رحم میں درست کیے۔ اے عدلہ تکمیل اعضاۂ فی الرحم (روح) 12۔ (آیت) ” روحہ “۔ میں اضافت تشریفی ہے، اظہار تعظیم کے لیے، جیسے بیت اللہ میں گھر کی اضافت اللہ کی طرف۔ یہ مراد نہیں، کہ نعوذ باللہ، اللہ کی بھی کوئی روح ہے، اور اس کا کوئی جزوانسان کے اندر پھونک دیا گیا۔ مراد صرف یہ ہے کہ وہ روح جسے اللہ نے معزز ومکرم بنایا ہے، اپنی خلافت سے۔ واضافۃ الروح الی نفسہ کا ضافۃ البیت الیہ لتشریف (کبیر) بعض نے اضافت تملی کی قرار دی ہے۔ یعنی وہ روح جو اللہ کی مملوک ہے اے الروح التیھی ملکہ (کبیر) وھی اضافۃ ملک الی مالک وخلق الی خالق تعالیٰ (بحر) 13۔ یعنی ہر طرح کے حواس ظاہری وباطنی عطا کیے۔ اس کا مقتضایہ تھا کہ سب کو اسی محسن اعظم کے کام میں لگاتے، کان سے آیات تنزیلی کو شوق کے ساتھ سنتے، آنکھوں سے آیات تکوینی کو بنظر امعان دیکھتے، دل سے دونوں پر غور کرتے، لیکن منکرین کا یہ حال ہے کہ توحید تک سے انہیں انکار ہے ! (آیت) ” لکم “۔ میں ل تخصیص کا ہے۔ یعنی جس کلیت اور وسعت و کمال کے ساتھ انسان میں حواس ظاہری کے ساتھ ادراک باطنی جمع کردیا گیا ہے وہ انسان کے حق میں ایک انعام عظیم ہے اور مستحق صدمنت وشکر۔ (آیت) ” السمع والابصار والافئدۃ “۔ سمع کے واحد اور ابصار وافدہ کے بصیغہ جمع لانے میں امام رازی (رح) نے نکتہ یہ لکھا ہے سماعت ایک آن میں مختلف ومتعدد جہات کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتی۔ ہر حال میں حکم وحدت میں ہے۔ بخلاف اس کے بصارت، اور ادراک قلب، وقت واحد میں متعدد امور پر حاوی ہوسکتا ہے۔ اس لیے یہاں صیغہ جمع ہی لانا مناسب ہوا۔ (آیت) ” ماتشکرون “۔ میں مازائدہ موکدہ ہے (جلالین) (آیت) ” جعل لکم “۔ ابتک انسان کا ذکر صیغہ غائب میں چلا آرہا تھا۔ (آیت) ” جعل نسلہ۔ سوہ۔ نفخ فیہ “۔ گویا انسان اب تک بےجان تھا۔ لیکن اب نفخ روح سے اس میں جان پڑگئی۔ اور اب معاخطاب براہ راست ہونے لگا۔ اور صیغہ بجائے غائب کے حاضر کا ہوگیا۔ (آیت) ” نفخ فیہ من روحہ “۔ سے نصرانیوں کی بھی تردید نکل آئی جو مسیح (علیہ السلام) کو روح اللہ ہونے کی بنا پر ابن اللہ اور جزء خدا مان رہے ہیں۔ روح اللہ قرآن نے جس معنی میں حضرت مسیح کو کہا ہے اس طرح تو ہر انسان کو کہا ہے۔ (آیت) ” نفخ فیہ من روحہ “۔ نفخ روح سے مراد نفخ مجازی ہی لیا گیا ہے۔ یعنی روح کو بدن سے متعلق کردیا گیا۔ ونفخ الروح قیل مجاز عن جعلھا متعلقۃ بالبدن (روح) امام غزالی (رح) اور بعض متکلمین وفلاسفہ نے روح کو مجرد وغیر مادی قرار دیا ہے۔ بخلاف اس کے ابن قیم شد ومد کے ساتھ روح کے مجرد نہیں بلکہ جسم لطیف ہونے کے قائل ہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تسویہ کے معنی اجزاء کے متساوی کرنے کے ہیں۔ جو خواص جسم میں سے ہے۔ اس کے بعد ہی نفخ روح کے ذکر سے ظاہرا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روح جسم نہیں، چناچہ امام غزالی (رح) کا بھی یہی مذہب ہے۔ لیکن جمہور نے جسم لطیف کہا ہے۔ تو ان دونوں بیانات میں کوئی تناقض نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس مجرد کا تعلق بدن کے ساتھ اسی جسم لطیف کے واسطہ سے ہو۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ بھلا جب ہم زمین میں نیست ونابود ہوگئے تو کیا کہیں پھر ہم نئے جنم میں آئیں گے ؟ ،14۔ بات یہ ہے کہ لوگ اپنے پروردگار سے ملنے ہی کے منکر ہیں،15۔

14۔ منکرین قیامت کا ذکر ہے کہ وہ استعجاب کے لہجہ میں کہتے ہیں کہ بھلا ایسا بھی کہیں ممکن ہے کہ جب ہمارے جسم خاک میں رل مل جائیں۔ خاک میں مل کر خود بھی خاک بن جائیں تو وہ جسم دوبارہ زندگی پائیں ؟ عرب میں دین کے نام سے جو نظام عقائد رائج تھا، اس کا ایک اہم جزء معاد وآخرت سے انکار تھا۔ یونان وروما میں بہت سے فلسفی مادہ پرست ہوچکے تھے، اور آج بھی مہذب دنیا پر عملا یہی مذہب مادیین چھایا ہوا ہے جس کے نزدیک موت نام ہے معدومیت حیات کا اور بس۔ (آیت) ” ء انا “۔ انکار میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہے۔ المراد تاکید الانکار (روح) 15۔ مطلب یہ ہے کہ محض حیرت واستعجاب ہی نہیں، ان منکرین کو تو سرے سے انکار ہی عقیدۂ حشر سے ہے۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے تمہاری جان موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تم پر متعین کردیا گیا ہے، پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے،16۔

16۔ سابقہ تو کو اللہ ہی سے آکر پڑے گا۔ (آیت) ” ملک ...... بکم “۔ فرشتہ موت کوئی فاعل مختار نہیں، محض ایک درمیانی واسطہ ہے اور اللہ ہی کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اس میں ان مشرک، جاہلی قوموں کا رد آگیا جن کے ہاں موت کا دیوتا ایک مستقل و متصرف حاکم ہے۔ اسی مضمون کی تائید میں ابن کثیر نے ایک طویل حدیث ابن ابی حاتم کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ اس میں ملک الموت خود رسول اللہ ﷺ سے کہتے ہیں۔ واللہ یا محمد لوانی اردت ان قبض روح بعوضۃ ماقدرت علی ذلک حتی یکون اللہ ھو الامر بقبضھا “۔ قسم ہے اللہ کی کہ اگر میں ایک مچھر کی جان بھی اپنے ارادہ سے لینا چاہوں تو نہیں لے سکتا جب تک اللہ ہی کے ہاں سے اس کا حکم نہ ہو۔
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور اگر آپ دیکھیں تو عجب حال دیکھیں کہ جب کہ مجرم لوگ آپنے پروردگار کے سامنے سرجھکائے ہوئے ہوں گے اے ہمارے پروردگار (بس اب) ہمارے آنکھ کان ہوگئے،17۔ تو تو ہم کو پھر بھیج دے ہم نیک کام کیا کریں گے ہم کو پورا یقین آگیا،18۔

17۔ (اور پیغمبروں کے قول کی پوری تصدیق ہوگئی) (آیت) ” ناکسوا ....... ربھم “ ‘۔ یہ سرغایت انفعال سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ 18۔ یعنی اب ہم کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ ہوگیا۔ اب ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیجیئے تو ہم ضرورہی ایمان لے آئیں گے۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم کو (یہی) منظور ہوتا تو ہم ہر ایک کو اس کی (راہ) ہدایت دے ہی دیتے،19۔ لیکن میری یہ بات محقق ہوچکی ہے کہ میں دوزخ کو بھر کر رہوں گا جنات اور انسان سب سے،20۔

19۔ (اور یہ عالم عالم ابتلاء رکھا ہی نہ جاتا۔ ہر ایک ہدایت پر مضطر ومجبول ہی ہوتا) 20۔ یعنی اگر ہم کو ہر ایک کو خواہ مخواہ راہ پر لے آنا ہی تکوینی حیثیت سے مطلوب ہوتا تو یہ درخواست منظور بھی ہوسکتی تھی، بلکہ اس کی نوبت ہی کیوں آتی۔ شروع ہی سے ہر شخص کو ہدایت اضطرارا مل ہی نہ جاتی ؟ لیکن ہماری مشیت تکوینی کو تو ہدایت کو ارادہ واختیار پر مرتب کرانا مقصود ہے۔ اس لیے مشاہدہ کے بعد اضطرار ایمان لانے کا سوال ہی نہیں باقی رہتا۔ جو ارادۃ راہ کفر وضلال اختیار کریں گے، انہیں نتائج بھی بھگتنے ہوں گے۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سولواب اس کا مزہ چکھو کہ تم اپنے اس دن کے آنے کو بھولے رہے تھے، ہمنے تمہیں بھلائے میں ڈال دیا،21۔ اور اپنے کرتوتوں کے بدلہ ابدی عذاب کا مزہ چکھو

21۔ یعنی اپنی رحمت سے تمہیں محروم کردیا۔ اللہ کا کسی کو بھلادینا ہمیشہ اسی مجازی معنی میں ہوگا۔
Ayahs 32:15–16

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر ایمان تو بس وہی لوگ لاتے ہیں کہ جن کو جب وہ یاد دلائی جاتی ہیں، تو وہ سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد وتسبیح کرنے لگتے ہیں، اور وہ لوگ تکبر نہیں کرتے

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو خواب گاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں، اپنے پروردگار کو وہ پکارے رہتے ہیں خوف سے اور امید سے اور جو کچھ ہم نے دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں،22۔

22۔ اللہ کی رضا جوئی کے کاموں میں) دونوں آیتوں میں ایمان اور کمال ایمان دونوں کے صفات بیان کردیئے ہیں۔ (آیت) ” تتجافی جنوبھم عن المضاجع “۔ پہلوؤں کے خواب گاہوں سے علیحدہ رہنے کے معنی یہ ہیں۔ کہ راتوں کو اپنے بستر چھوڑ چھورڑ عبادتوں میں لگے رہتے ہیں۔ (آیت) ” یدعون ..... طمعا “۔ یہ لوگ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں، خوف عذاب کی راہ سے بھی اور امید وثواب کی راہ سے بھی۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

سو کسی کو علم نہیں جو جو (سامان) آنکھوں کی ٹھنڈک کا ان کے لئے (خزانہ غیب میں) مخفی ہے یہ صلہ ہے ان کے (نیک) اعمال کا،23۔

23۔ حقیقۃ جنت کی نعمتوں کا پورا اندازہ انسان کو اپنے ان ناسوتی حواس کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے یہ جو حدیث قدسی مختلف طریقوں سے مروی ہوئی ہے۔ کہ قال اللہ اعددت لعبادی الصالحیں مالا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قبل بشر۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے وہ وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں۔ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے، اور جو نہ کسی انسان کے دل میں گذری ہیں۔ وہ گویا ٹھیک اسی آیت کی تفسیر ہے۔ (آیت) ” جزآء بما کانوا یعملون “۔ یہ کہہ کر کہ یہ انتہائی نعمتیں صلہ ہیں اعمال حسنہ کا، خاص ترغیب ان اعمال حسنہ کی دلائی ہے۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

تو کیا جو کوئی مومن ہے وہ اس جیسا ہے جو نافرمان ہے ؟ (نہیں) یکساں نہیں ہوسکتے،24۔

24۔ مومن اور فاسق کے تقابل سے صاف ظاہر ہے کہ فاسق یہاں اصطلاح فقہی میں نہیں، بلکہ لغوی میں آیا ہے، اور مراد اس سے کافر مکذب ہے۔ ھذا الکافر مکذب بوعد اللہ (ابن جریر) اے خارجا عن طاعۃ ربہ مکذبا لرسل اللہ الیہ (ابن کثیر) (آیت) ” مومن ا “۔ فاسقا “۔ دونوں سے مراد طبقہ مومنین وطبقہ کفار ہے نہ کہ کوئی فرد۔ انما ارید بہ جمیع الفساق و جمیع ال مومنین (ابن جریر)
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے، سو ان کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانا جنتیں ہیں جو ان کے (نیک) اعمال پر بطور مہمانی کے ہیں،25۔

25۔ حسن اعمال کی ترغیب وتشویق ابھی (آیت) ” جزآء بما کانوا یعملون “۔ سے ہوچکی ہے۔ اب (آیت) ” نزلا لا کر اہل جنت کا مزید اعزاز واکرام کیا گیا ہے۔ یعنی اشارہ اوپر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ تو حق تعالیٰ کے مہمان ہوں گے۔ اور انہیں نعمتیں جو بھی ملیں گی، اعزاز واکرام وقدر کے ساتھ ملیں گی، نہ کہ ناقدری وبے وقعتی کے ساتھ جیسے کہ سائل و محتاج کو دی جاتی ہیں۔
Ayahs 32:20–21

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جو لوگ نافرمان رہے سو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب بھی وہ لوگ اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں ڈھکیل دیئے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا دوزخ کا وہ عذاب چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم انہیں قریب کا عذاب بھی علاوہ اس بڑے عذاب کے چکھا کر رہیں گے شاید کہ یہ لوگ باز آجائیں،26۔

26۔ (اپنے کفر وشرک سے) (آیت) ” لعلھم “۔ متعلق ہے۔ (آیت) ” لنذیقنھم “۔ سے، گویا مقصود اس عذاب الادنی سے ان کافروں کی اصلاح ہی ہے۔ (آیت) ” عذاب الادنی “۔ سے مراد اسی دنیا کا عذاب ہے۔ اے بلاء الدنیا (ابن عباس ؓ قال الحسن وابو العالیہ والضحاک وابی بن کعب وابراھیم النخعی العذاب الادنی مصائب الدنیا واسقامھا فیما یبتلی بہ العبید حتی یتوبوا (قرطبی) مثلا قحط، قتل، قید، شکست وبا، وغیرہ، جو کفار مکہ کے حق میں تو بالکل پورا اترا۔ (آیت) ” عذاب الادنی “۔ کی تفسیر عذاب الاصغر یا ہلکے عذاب سے بھی کی گئی ہے۔ وقیل الاقل (روح) اور ظاہر ہے کہ دنیا کا عذاب ہر صورت میں عذاب آخرت سے ہلکا ہی ہے۔ ذکر یہاں دو مختلف عذابوں کا ہے۔ ایک (آیت) ” عذاب الادنی۔ دوسرا۔ عذاب الاکبر “۔ لیکن تقابل کے لئے ہم وزن الفاظ یا تو عذاب الاقصی۔ پھر آخر قرآن مجید نے بجائے ان کے مقابلہ کے لئے ایک طرف صفت ادنی (بمعنی قریب) اور دوسری طرف صفت اکبر کو کیوں رکھا ؟ امام رازی (رح) نے سوال پیدا کرکے حسب معمول نکتہ سنجی سے جواب دیا کہ ذکر عذاب سے مقصود تخویف ہے۔ اور یہ اثر پیدا نہیں ہوسکتا ہے اگر دنیا کے عذاب کو ” ہلکا عذاب “ یا آخرت کے عذاب کو ” دور کا عذاب “ کہہ کر پیش کیا جائے کہ اس صورت میں ایک عذاب کا ہلکا پن اور دوسرے عذاب کی دوری گہرے اثر تخویف کے منافی ہیں۔ اے لئے قرآن نے بکمال بلاغت دونوں عذابوں کے وہی خصوصیات چن لئے جو اثر تخویف کو بڑھانے والے ہیں۔ یعنی دنیوی عذاب گونسبتا ہلکا ہو لیکن قریب کتنا ہے، اسے بس آیا ہی سمجھو۔ اسی طرح عذاب آخرت گوبجائے آج کے ” کل “ آئے گا لیکن اس سے کس قدر شدید ! ایک میں قرب کا خیال رکھا دوسرے میں شدت کا ..... اللہ امام (رح) کی تربت کو رحمت کے پھولوں سے بھر دے۔ (آیت) ” دون “۔ دون کے معنی قبل کے بھی کئے گئے ہیں۔ اے قبل العذاب الاکبر (ابن جریر) یعنی قبل عذاب الاخرۃ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض صوفیہ کے نزدیک عذاب ادنی سے مراد حرص دنیوی ہے، اور عذاب اکبر سے اس حرص کی سزا۔
Ayahs 32:22–23

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جسے اس کے پروردگار کی نشانیاں یاد دلا دی جائیں اور پھر وہ ان سے منہ پھیرے رہے ہم مجرموں سے بدلہ لے کر رہیں گے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب دی تھی سو آپ اس (کتاب) کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجیے،27۔ اور ہم نے اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا تھا،28۔

27۔ (بلکہ ان کی نظیر سے، اور انہیں راہ تبلیغ و اشاعت دین میں جو جو مصیبتیں اٹھانی پڑیں۔ ان سے صبر کا سبق حاصل کیجئے) (آیت) ” لقآۂ “۔ ضمیر ” ہ “۔ (آیت) ” الکتب “۔ کی طرف ہے۔ اے من لقائک الکتاب (بیضاوی) اے لقائک ذلک الجنس (روح) (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد جنس کتاب ہے۔ اے جنس الکتاب (روح) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کی تخصیص شاید اس لئے ہو کہ آپ ﷺ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بہت وجوہ مشابہت جمع تھے۔ 28۔ (اسی طرح آپ ﷺ کی کتاب سے ابتداء اور اصلا قوم عرب کی اصلاح ہوگی، اور پھر بتدریج سارے عالم کی)
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں جب کہ انہوں نے صبر کیا پیشوا بنادیئے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے اور وہ لوگ ہماری آیتوں کا یقین رکھتے تھے،29۔

29۔ اور اسی لئے ان کی اشاعت اور خلق کی ہدایت میں مشقت گوارا کرتے تھے) اس میں مومنین کی تسلی ہے کہ تم لوگ صبر کرو اور جب تم صاحب یقین ہو اور یقین کا مقتضی صبر کرنا ہے تو تم کو صبر ضرور ہے۔ اس وقت ہم تم کو بھی ائمہ دین بنا دیں گے (تھانوی (رح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں شیخ کامل کی علامتیں ہیں، اور جو بغیر ان علامتوں کے مرشد ہونے کا مدعی ہو وہ ضال ومضل ہے۔
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار ان (سب) کے درمیان فیصلہ قیامت کے دن ان امور میں کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہتے تھے،30۔

30۔ قیامت کے روز کے فیصلہ سے مراد عملی فیصلہ ہے ورنہ دلائل و شواہد کے لحاظ سے تو فیصلہ جیسا کہ پہلے ہی کئی بار گزر چکا ہے۔ اس وقت بھی موجود ہے۔ وہ عملی فیصلہ بھی ہوگا کہ مومن جنت میں بھیج دیئے جائیں گے اور کافر دوزخ میں۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا یہ ان کی ہدایت کے لئے کافی نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی امتیں ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ آتے جاتے ہیں ان کے اندر (صاف) نشانیاں ہیں تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ؟ ،31۔

31۔ (ان مبغوض وہلاک شدہ قوموں کے قصبوں کو جو معروف ومشہور ہیں، اور تاریخوں میں مذکور) (آیت) ” یمشون فی مسکنھم “۔ یعنی یہ عرب اپنے سفر شام ویمن کے سلسلہ میں، ان مغضوب قوموں، عاد وثمود وغیرہ کے عبرت زار کھنڈروں سے گزرتے ہیں، اور پھر بھی عبرت نہیں حاصل کرتے۔ (آیت) ” ان فی ذلک لایت “۔ یعنی جس طرح یہ اپنے زمانہ کی بڑی ” ترقی یافتہ ومہذب “ قومیں قہر خدا سے نیست ونابود ہوگئی ہیں وہ خود اس امر کی دلیل ہے کہ وہ قومیں گمراہ اور مغضوب تھیں، (آیت) ” فی ذلک “۔ یعنی ان گمراہ قوموں کی ہلاکت میں۔ اے فی ذھاب اولئک القوم ودمارھم وما حل بھم بسبب تکذیبھم الرسل (معالم)
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم خشک افتادہ زمین کی طرف پانی پہنچاتے رہتے ہیں پھر اس کے ذریعہ سے کھیتی پیدا کردیتے ہیں جس سے ان کے مواشی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ؟ ،32۔

32۔ (ہماری ربوبیت، خالقیت، مالکیت اور احیاء اموات کی ان پر روز پیش آنے والی مثالوں کو) قرآن مجید آثار تاریخی، جغرافی اور روز مرہ کی تصرفات تکوینی سب سے سبق وہی توحید ہی کا دینا چاہتا ہے۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ (آخر) یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو،33۔

33۔ منکر قیامت مشرکین، قیامت کی خبریں سن سن کر مسلمانوں سے بطور انکار، استہزاء واستبعاد پوچھتے تھے کہ آخر وہ دن کبھی آبھی چکے گا ؟
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے (اس) فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا (ذرا بھی) نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی،34۔

34۔ ایمان مقبول ونافع صرف وہی ہے جو اس دنیا میں عالم ناسوت میں لایا جائے کہ یہ خود اختیاری ہے، ورنہ قیامت کے دن کشف حقائق کے وقت تو ایمان لانے پر بڑے سے بڑا کافر معاند بھی مجبور ومضطر ہوجائے گا۔ (آیت) ” ولا ھم ینظرون “۔ یعنی نہ انہیں اس کی مہلت دی جائے گی کہ دنیا میں بھیج کر ان کا ایمان قبول کیا جائے۔ لایمھلون بالاعادۃ الی الدنیا لیؤمنوا (کبیر)
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

سو آپ ان کی باتوں کا خیال نہ کیجیے اور آپ انتظار کیجیے یہ بھی منتظر ہیں،35۔

35۔ اعراض۔ کا حکم رسول اللہ کے تسلیہ کے لئے ہے۔ منکروں اور کافروں کی دل آزار باتوں کا خیال کرتے رہنے سے خواہ مخواہ غم ہی بڑھتا تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو لوگ عارفین اور سالکین کے کمالات کے منکر ہوں، اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے ہوں، جب انہیں فہمائش نافع نہ ہو تو ان سے اعراض مناسب ہے، اور انتظار کرے کہ ان پر وبال نازل ہونے والا ہے :۔