32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 32:1–4

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں رب العالمین کی طرف سے ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس نے جھوٹ بنالیا ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے وال انہیں آیا تاکہ وہ لوگ ہدایت پر آجائیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا پھر عرش پر مستوی ہوا تمہارے لیے اس کے سوا نہ کوئی ولی ہے نہ کوئی سفارشی، کیا تم نہیں سمجھتے ؟

1۔ ابن المنذر نے ابن جریر ؓ سے روایت کیا کہ آیت لتنذر قوما تاکہ ڈارئیں قریش کو بتایا کہ قوم سے مرا دقریش ہے ان کی طرف اور ان کے آباء و اجداد کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی رسول نہیں آیا۔
Ayahs 32:5–6

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر امر کی تدبیر کرتا ہے پھر ہر امر اس کے حضور میں ایک ایسے دن میں پہنچ جائے گا جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال ہوگی

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے زبردست ہے رحمت والا ہے

1۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی یدبر الامر یعنی نیچے اترتا ہے آتی یدبر الامر من السماء الی الارض آسمان سے زمین کی طرف اور بلدن ہوتا ہے زمین سے آسمان کی طرف ایسی ایسے دن میں کہ اس کی مقدار ہزار سال ہے۔ پانچ سو سال اترتے وقت اور پانچ سو سال اوپر چرھتے تھے وقت۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آتی یدبر الامر سے مراد ہے امر آسمان کی طرف سے نازل ہوتا ہے بلند ترین زمین کی طرف پھر ایک دن میں بلند ہوجاتا ہے اور اتنی مسافت لوگ آنے جانے میں چلیں تو ایک ہزار سال تک چلتے رہیں۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یدبر الامر دنیا میں ہوگا اور اسے ایک دن بلند ہوں گے جس کی تقدیر ہزار سال ہے۔ 4۔ عبدبن حمید وابن المنذر نے ابوبکر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یدبر الامر سے مراد ہے کہ فرشتے چڑھیں گے اور نیچے اتریں گے اس دن میں جس کی مقدار ہزار سال ہوگی۔ 5۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ ابن عباس ؓ سے یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ کے بارے میں فرمایا کہ ان چھ دنوں میں جس میں اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا۔ قیامت کے دن کی درازی 6۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے المصاحف میں والحاکم وصححہ عبداللہ بن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت میں ابن عباس کے پاس حاضر ہوا اور میرے ساتھ عبداللہ بن فیروز عثمان بن عفان کے آزاد کردہ غلام تھے۔ فیروز نے کہا اے عباس اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے آیت یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ وہ وہ ہر امر کی تدبیر کرتا ہے آسمان سے زمین تک پھر ہر امر چڑھ جاتا ہے اس کی طرف ایسے دن میں جس کی مقدار ایک ہزار برس ہے ابن عباس ان پر تہمت لگاتے رہے تھے کہ کوئی ایسادن نہیں ہے کہ اس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ فیروز نے کہا ہم نے آپ سے سوال کیا ہے تاکہ آپ کو ہم بتائیں تو ابن عباس نے فرمایا کہ یہ دونوں ایسے دنوں سے ہیں کہ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمادیا ہے ان دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی کتاب میں وہ بات کہوں جو میں نہیں جانتا زمانے نے کئی مصیبتیں مجھ پر لازم کردیں یہاں تک کہ میں ابن المسیب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ایک انسان نے سوال کیا مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور کچھ جانتا بھی نہیں میں نے کہا میں تم کو نہ بتاؤں وہ بات جو ابن عباس کو پیش آئی فرمایا بتادیں میں نے اسے بتایا تو آپ نے سائل سے کہا انہوں نے اس میں کچھ کہنے سے انکار کردیا جبکہ یہ مجھ سے زیادہ عالم ہیں۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ کے بارے میں فرمایا اس روز دنیا کے دنوں میں ایک دن ابھی ابو نصف تک نہیں پہنچے گا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کردے گا اور جنت والوں کا جنت میں دوزخ والوں کا دوزخ میں ٹھکانہ دے دے گا اگر (یہ کام کسی غیر کے سپرد ہوتا تو وہ اس کام سے فارغ نہ ہوتا پچاس ہزار سال تک) ۔ 8۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ “ سے مراد ہے کسی اور کا نازل ہونا آسمان سے زمین کی طرف اور زمین سے آسمان کی طرف ایک دن میں ہوگا اور یہ ایک ہزار سال کا ہوگا کیونکہ آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ 9۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے سفر کی مقدار اس دن میں کان مقدارہ الف سنۃ اس کے اترنے کے اور پان سو سال اس کے چڑھنے کے ہیں اور یہ کل ایک ہزار سال ہے۔ 10۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ روایت کیا کہ ثم یعرج الیہ فی یوم کے بارے میں روایت کیا کہ پھر وہ اس دن میں بلند ہوگا اور تمہارے ان دنوں جیسا ہوگا اور آسمان اور زمین کے درمیان کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔ 11۔ ابن جریر نے روایت کیا کہ الف سنۃ مما تعدون یعنی جو تم دنیا کے دن شمار کرتے ہو اللہ اعلم۔
Ayahs 32:7–10

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

اس نے جو چیز بنائی خوب بنائی اور انسان کی پیدائش کی ابتداء مٹی سے کی

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل کو ذلیل پانی سے نکالی ہوئی چیز بنایا

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کو ٹھیک طرح بنادیا اور اس میں اپنی روح پھونک دی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنادئیے تم کم شکر ادا کرتے ہو

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کیا یہ واقعی بات ہے کہ جب ہم مٹی میں رل مل جائیں گے تو نئے طور پر پیدا ہوں گے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

1۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ اس آیت کی تلاوت کرتے آیت الذی احسن کل شیء خلقہ پھر فرمایا کیا تو نے بندر کی طرف تو نہیں دیکاھ کہ وہ خوبصورت نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں فرمایا خبردار بندر کی سرین خوبصورت نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی صورت کو خوبصورت بنایا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں فرمایا کہ کتے کو بھی اپنی پیدائش میں خوبصورت بنادیا۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے الذی احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز بدصورت ہو یا خوبصورت سانپ ہو یا بچو ہر چیز جسے بنایا سب کی صورتوں کو اچھا بنایا۔ اس کا غیر کوئی بھی خوبصورت نہیں۔ 6۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت احسن کل شیء خلقہ میں احسن سے مراد ہے مضبوط کرنا اللہ تعالیٰ انسان کو گدھے کی صورت میں اور گدھے کو انسان کی صورت میں نہیں بنایا۔ 7۔ الطبرانی نے ابو امامہ (رح) سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اچانک عمرو بن زرارہ آکر ملے انہوں نے جبے کو ڈھیلا چھوڑا ہوا تھا انہوں نے اس کے کپڑے کو ایک جانب سے پکڑا ہوا تو اس نے کہا یا رسول اللہ میری پنڈلیاں باریک ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمر بن زرارہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس پیدائش سے خوبصورت بنایا اے عمرو بن زرارہ اللہ تعالیٰ اپنے لباس کو ٹخنوں کو نیچے لٹکانے والوں کو پسند نہیں فرمایا۔ 8۔ احمد والطبرانی نے شرید بن سوید ؓ نے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنی چادر کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے تھے آپ نے اس سے فرمایا اپنی چادر کو اونچا کر اس نے کہا یارسول اللہ میں احنف ہوں میرے گھٹنے آپس میں ٹکراتے ہیں آپ نے فرمایا اپنی چادر کو اونچا کر ہر چیز کو اللہ نے خوبصورت بنایا۔ 9۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وبدأ الخلق الانسان من طین کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا اس نے آدم (علیہ السلام) اور ثم جعل نسلہ پھر فرمایا اس کی نسل کو یعنی اس کی اولاد کو من سلسلۃ یعنی آدم کی اولاد میں سے یعنی ضعیف چیز سے جو آدمی کا نطفہ ہے۔ 10۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایات کیا کہ آیت من سلسلۃ اور وہ ان کے اعضا کو ٹھیک کیا یعنی اس کی اولاد کو۔ 11۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من سلسلۃ سے مراد وہ پانی جو مرد سے نکلتا ہے یعنی کمزور۔ 12۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا ضللنا ہم ہلاک ہوگئے۔ 13۔ ابن المنذر نے ابن جریج نے روایت کیا اور انہوں نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس کو آیت الذی احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ ابی بن خلف کہا کرتا تھا کہ ہم کو یہ کیسا لوٹایا جائے گا اور کیسے ہم پہلے کی طرح لوٹیں گے۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے ملک الموت تمہاری جانوں کو قبض کرتا ہے جو تم پر مقرر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے

ملک الموت کا ذکر 1۔ ابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابن ابی حاتم وابو الشیخ فی العظمۃ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ سے دو آدمیوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان کی موت ایک ہی وقت میں ہوگی پلک جھپکنے میں ایک مشرق میں ایک مغرب میں ملک الموت کو ان دونوں پر کیسے قدرت ہوئی فرمایا ملک الموت کو قدرت حاصل ہے مشرق والوں مغرب والوں اور ظلمات میں ہواؤں میں سمندروں میں موجود افراد پر اس طرح پر جیسے ایک آدمی ہو جس کے سامنے دسترخوان پڑا ہو تو وہ جہاں سے چاہے کھائے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے زہیر بن محمد ؓ سے روایت کیا پوچھا گیا یا رسول اللہ ! ملک الموت اور دو لشکر آپس میں ملتے ہیں یعنی جنگ کرتے ہیں مشرق اور مغرب میں اور ان کے درمیان بھی انسان گرتے ہیں اور مرتے ہیں تو سب کی ان کے لیے قبض کرتے ہیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو جمع کردیا ہے ملک الموت کے لیے یہاں تک کہ اس کو بنادیا ایک طشت کی طرف جو تم میں سے کسی کے آگے ہو پھر کوئی چیز اس آدمی کی دسترس سے باہر ہوتی ہے ؟ 3۔ ابن جریر نے الکلبی سے اور انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ملک الموت جو ساری روحوں کو قبض کرتا ہے تمام زمین میں جو کچھ ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو یوں مسلط کردیا ہے جیسے تم میں سے کوئی اس چیز پر تسلط جمائے ہوئے ہوتا ہے جو اس کی ہتھیلی میں ہو اور اسکے ساتھ رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور فرشتے بھی جب وہ کسی پاکیزہ روح کو قبض کرتا ہے تو اس کو رحمت والے فرشتے کے حوالے کردیتا ہے۔ 4۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر الموت میں ابن سعد اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا ملک الموت نے اپنے رب سے سوال کیا مجھے اجازت دیجیے کہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی خوشخبری دے دوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اجازت دیدی وہ آیاتو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھ کو دکھادے کس طرح کفارجانوں پر قبضہ کرتا ہے ملک الموت نے کہا آپ اس کی طاقت پوچھتے کفار کہ تو کفار کی روح کیسے قبض کرتا ہے ؟ ابراہیم نے فرمایا کیوں نہیں میں اس کی طاقت راوی نے کہا کہ ابراہیم اس کے منہ سے آگ کا گولہ نکلا اس کے جسم کے ہر بال سے ایک انسان کی صورت تھی جس کے منہ اور کانوں کے سوراخوں سے آگ کے لپٹ نکل رہی تھی یہ دیکھ کر بیہوشی طاری ہوگئی اے ملک الموت اگر علم کی ملک الموت سے سفارش 5۔ الطبرانی وابو نعیم وابن مندہ کلاہما فی الصحابۃ خزرج ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے ملک الموت کو انصار میں سے ایک صحابی کے سر کے پاس دیکھا تو اس سے فرمایا اے ملک الموت میرے ساتھی کے ساتھ نرمی کرے کیونکہ وہ مومن ہے تو ملک الموت نے فرمایا آپ خوش ہوجائیں اور آنکھیں ٹھنڈی رکھیے اور آپ جان لیں کہ بلاشبہ میں ہر مومن کے ساتھ نرمی کرنے والا ہوں اور آپ جن لیں اے محمد ﷺ جب میں آدم کے بیٹے کی روح قبض کرتا ہوں تو جب ایک چیخنے وال اچیختا ہے تو میں گھر میں کھڑا ہوتا ہوں اور میرے پاس کی روح ہوتی ہے اور کہتا ہوں کہ یہ کیوں چیخ رہا ہے اللہ کی قسم اس پر ظلم نہیں کیا اور ہم اس کے وقت مقررہ سے پہلے نہیں آئے اور نہ ہم نے اس کے قدر کو جلدی کیا اور ہمارے لیے اس کے قبض کرنے میں کوئی گناہ نہیں اگر تم اس بات پر راضی ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے تو تم کو اجر دیا جائے گا اور اگر تم نے ناراضگی کا اظہار کیا تو تم گناہ گار ہوگے اور تم پر بوجھ ہوگا ہم تمہارے پاس بار بار آئیں گے پس ڈرو تم ڈرو تم کوئی خیمہ نہیں نہ مٹی کا گھر ہے اور نہ کوئی نیک اور نہ کوئی بدکار نہ کوئی میدانی علاقہ ہے اور نہ پہاڑی علاقہ مگر میں ان سے ہر روز رات اور دن مصافحہ کرتا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے چھوٹے بڑے کو جانتا ہوں اللہ کی قسم اگر میں ارادہ کروں کہ میں ایک مچھر کی روح قبض کروں کہ میں اس پر قادر نہیں ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کے قبض کرنے کی اجازت دیں گے۔ 6۔ ابن ابی الدنیا وابو الشیخ نے العظمہ میں اشعث بن شعیب ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم ملک الموت سے سوال کیا اور ان کا نام ہے عزرائیل ہے اس کے چہرے میں دو آنکھیں ہیں اور دو گدی کی جانب ہیں فرمایا اے ملک الموت تو کیسے کرتا جبکہ ایک نفس مشرق میں ہو اور ایک نفس مغرب میں اور زمین میں وبا پھوٹ پڑے اور جب دو لشکر آپس میں لڑنے لگیں تو تو اس وقت کیا کرے گا ملک الموت نے فرمایا میں روحوں کو اللہ کے حکم سے بلاتا ہوں تو وہ میری ان دوانگلیوں کے درمیان ہوتی ہے۔ 7۔ ابن ابی الدنیا وابوالشیخ وابو نعیم فی الحلیہ شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ ملک الموت بیٹھے ہوئے ہیں اور دنیا ان کے گھٹنوں کے درمیان ہوتی ہے وہ لوح جس میں انسانوں کی موتیں لکھی ہوئی ہیں ان کے درمیان ہوتی ہیں۔ جب کسی بندے کی موت آتی ہے وہ کہتا ہے اس کو قبض کرلو۔ 8۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں خیثمہ ؓ سے روایت کیا کہ ملک الموت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آئے وہ ان کے دوست تھے سلیمان نے ان سے فرمایا تجھے کیا ہوا کہ اگر ایک گروہ کے پاس آتا ہے ان سب کی روحوں کو قبض کرلیتا ہے اور اس کے پہلوؤں میں ایک گھر کو چھوڑدیتا ہے۔ ان میں سے کسی کی روح کو قبض نہیں کرتا کہا نبی کی روحوں کو میں قبض کرتا ہوں میں تو ان کو بھی نہیں جانتا میں عرش کے نیچے ہوتا ہوں اور میری طرف ایک خط ڈالا جاتا ہے جس میں ان لوگوں کے نام ہوتے ہیں۔ 9۔ ابن ابی الدنیا نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ملک الموت سے کہا جاتا ہے کہ فلاں کو فلاں دن اور فلاں وقت میں روح قبض کرلو۔ 10۔ سعید بن منصور واحمد فی الزہد وابوالشیخ نے عطیہ بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ کوئی گھر والا ایسا نہیں کہ ملک الموت جس سے پانچ مرتبہ مصافحہ نہ کرتے ہو ان میں سے کوئی ایسا نہیں کہ جس کی روح کو قبض کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔ 11۔ جویبر نے ضحاک ؓ سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدمیوں کی روح قبض کرنے پر ملک الموت کو مقرر کیا گیا اور وہ ذمہ دار ہوتے ہیں ان کی روحوں کے قبض کرنے میں اور ایک فرشتہ جنات میں ہے اور ایک فرشتہ شیاطین میں ہے اور ایک فرشتہ جانوروں میں اور درندوں میں اور مچھلیوں میں اور چینٹیوں میں ہے اور چار فرشتے ہیں اور سارے فرشتے پہلے ان کی روحوں کے قبض کرنے پر مقرر کیا ہے صعقہ میں مرجاتے ہیں۔ لیکن بحری شہسوار کی شہداء اللہ تعالیٰ ان کی روحیں قبض کرنے کا ذمہ دار ہے ان کے اکرام کی وجہ سے۔ 12۔ ابن ماجہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو روحوں کے قبض کرنے پر مقرر کیا ہے مگر شہداء کی روحوں کو اللہ تعالیٰ ہی قبض فرماتے ہیں۔ 13۔ ابن ابی الدنیا والمروزی فی الجائز وابو الشیخ نے ابی الشعثاء سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ملک الموت ہماری بغیر بیماری کے روحوں کو قبض کرے تھے تو لوگ اس کو گالیاں دیتے تھے اور اس کو لعنت کرتے تھے تو ملک الموت نے اپنے رب کے پاس اس کی شکایت کی اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں درد رکھ دئیے تو لوگ ملک الموت کو بھول گئے۔ 14۔ ابو نعیم الحلیہ میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ ملک الموت نے شکایت کی اس میں اللہ تعالیٰ نے بیماری کو اتارہ اور موت کو خفیہ کردیا۔ 15۔ ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ملک الموت کا ایک قدم مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔ 16۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابو داوٗد سے روایت کیا اور انہوں نے محمد علی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ انصار میں سے ایک آدمی کے پاس تشریف لائے اور اس کی عیادت فرمائی تو ملک الموت اس کے سر کے پاس تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے مالک الموت ! میرے ساتھی کے ساتھ نرمی کر کیونکہ مون ہے ملک الموت نے کہا اے محمد ﷺ نے فرمایا اے ملک الموت ! میرے ساتھ کے ساتھ نرمی کر کیونکہ مون ہے ملک الموت نے کہا اے محمد ﷺ خوش ہوجائیے میں مومن کے ساتھ نرمیک کرنے والا ہوں اور اے محمد آپ جان لیں میں آدم کے بیٹے کی روح قبض کرتا ہوں تو اس کے گھر والے چیختے اور چلاتے ہیں میں گھر کے ایک جانب کھڑا ہو کر کہتا ہوں اللہ کی قسم میرے لی کوئی گناہ نہیں بیشک میرا تو آنا جانا لگا رہتا ہے اس لیے محتاط رہو محتاط رہو اور اللہ تعالیٰ نے کسی گھر والے کچے مکان والے بکری کے بالوں کے خیمے والے اونٹ کے بالوں کے خیمے میں یا سمندر میں پیدا نہیں کیا۔ مگر میں دن میں پانچ مرتبہ مصافحہ کرتا ہوں یہاں تک کہ میں ان میں سے ہر چھوٹے اور بڑے کو اس کی ذات کے حوالے سے جانتا ہوں اللہ کی قسم اے محمد ﷺ میں ایک مچھر کی روح کے قبض کرنے پر بھی قادر نہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے قبض کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ 17۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل یتوفٰکم ملک الموت سے مراد ہے کہ ملک الموت تم کو فوت کرتے ہیں اور فرشتوں میں سے ان کے مددگار ہیں۔ 18۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) نے آیت قل یتوفٰکم ملک الموت کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے زمین جمع کردی گئی۔ ان کے لیے ایک طشت کی طرح بنادیا گیا جہاں سے چاہتے لے لیتے ہیں۔
Ayahs 32:12–15

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور اے مخاطب اگر تو اس موقع کو دیکھے جبکہ مجرم لوگ اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے تو عجیب منظر دیکھے گا یہ لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا سو ہم کو واپس بھیج ہم نیک عمل کریں گے بلاشبہ ہمیں یقین آگیا

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو جنات سے اور انسانوں سے بھردوں گا جو اس میں اکٹھے ہوں گے

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو تم آج کے دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے چکھ لو بلاشبہ ہم نے تمہیں بھلادیا اور تم جو اعمال کیا کرتے تھے ان کی وجہ سے ہمیشگی والا عذاب چکھ لو

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو آیات ید دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں جس کے ساتھ حمد بھی ہوتی ہے اور وہ تکبر نہیں کرتے

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو ترایٰ اذ المجرمون ناکسوا رؤ و سہم عند ربہم ربنا ابصرنا ومعنا اور اگر آپ دیکھیں گے جب کہ مجرم اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا ہے یعنی وہ دیکھیں گے جب ان کو دیکھنا ان کو نفع نہیں دے گا اور سنیں گے جبکہ ان کا سننا ان کو نفع نہیں دے گا آیت ولو شئنا لاٰتینا کل نفس ہد ہا اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو سب لوگوں کو یہ ہدایتدیتے ہیں اور اگر اللہ چاہتے تو ان کے اوپر آسمان سے کوئی نچانی نازل فرماتے آتی فظلت اعناقہم لہا خضعین تو اس کی گردنیں اس کو اپنی طرف کھینچتیں یعنی وہ اللہ کا حکم مان لیتے۔ 2۔ الحکیم الترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کی طرف تین عذر پیش کریں گے فرمائیں گے اے آدم اگر نہ ہوتی یہ بات کہ میں نے لعنت نہ کی ہوتی جھوٹ بولنے والوں پر اور میں نے اور میں نے بغض نہ کیا ہوتا جھوٹ اور وعدہ خلافی کرنے والوں سے اور اس پر عذاب نہ دیا ہوتا تو میں آج تیری اولاد پر رحم کرتا اس سختی کے بجائے جو میں نے ان کیلیے عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لیکن میں نے یہ اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ جس نے میرے رسولوں کو جھٹلایا ہے ان کے حکم کی نافرمانی کی۔ آتی لأ ملئن جہنم من الجنۃ والناس اجمعین کہ میں ان سب سے ضرور جہنم کو بھروں گا اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے آدم کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو جہنم میں داخل نہ کرتا اور ان میں سے کسی کو جہنم کے عذاب میں متبلا نہ کرتا مگر مجھے پہلے ہی علم تھا کہ اگر میں ان کو دنیا کی طرف بھیجتا ہوں تو وہ اس سے بھی بدتر حالت میں ہوتا جس میں وہ اب ہے نہ وہ اس سے رجوع کرتا اور نہ اس پر عتاب کرتا اور اللہ تعالیٰ ان سے لڑیں گے اے آدم میں نے آج کے دن تجھ کو ثالث بنایا ہے اپنے اور تیری اولاد کے درمیان میزان کے پاس کھڑا ہوجا اور دیکھ کہ ان کے اعمال تیرے سامنے کیسے بلند ہوتے ہیں سو ان میں سے جس کی خیر وزنی ہوجائے اس کی برائی پر رائی کے دانے کے برابر تو اس کے لیے جنت ہوگی یہاں تک کہ تو جان لے گا کہ میں آج کے دن ان میں سے کسی کو دوزخ میں داخل نہیں کروں گا مگر ظالم کو۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے سعدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فذوقوا بما نسیتم لقاء یومکم ہذا پس چکھو تم جو تم اس دن کی ملاقات کو تم بھول گئے یعنی تم نے اس دن کے لیے اعمال کرنا چھوڑ دئیے تھے۔ 4۔ ابن ابی الدنیا نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت فذواقوا بما نسیتم لقاء یومکم ہذا پس چکھو تم جو تم اس دن کی ملاقات کو تم بھول گئے یعی تم نے اس دن کے لیے اعمال کرنا چھوڑ دئیے تھے۔ 4۔ ابن ابی الدنیا نے جحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت فذوقوا بما نسیتم یعنی آج کے دن ہم تجھے آگ میں چھوڑ دیں گے جیسے تم نے چھوڑدیا میرے حکم کو۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بما نسیتم سے مراد ہے کہ ہم نے تم کو چھوڑ دیا۔ 6۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت پانچ نمازوں کے بارے میں نازل ہوئی آیت انما یومن باٰیتنا الذین اذا ذکروا بہا خروا سجدا کہ وہ لوگ کہ جب ذکر کیا جائے اس کے ساتھ تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گرپڑتے ہیں یعنی ان نمازوں کو پڑھتے ہیں کہ وہ ایمان لاتے ہیں ہماری آیات کے ساتھ آیت وسبحوا یعنی ان نمازوں کو پڑھتے ہیں ہمارے حکم کے ساتھ آیت وہم لایستکبرون اور وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے تکبر نہیں کرتے۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو لیٹنے کی جگہوں سے جدا ہوتے ہیں وہ ڈرتے ہوئے اور امید باندھتے ہوئے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

نمازوں کے انتظار میں بیٹھنا بھی نماز کی طرح اجر رکھتا ہے 1۔ الترمذی وصھیح وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وعبد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع نماز کے انتظار کے بارے میں نازل ہوئی جسے عشاء کی نماز کہتے ہیں۔ 2۔ الفریابی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع کے وہ لوگ یعنی صحابہ کرام بھی نہیں سوتے تھے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھتے تھے۔ 3۔ البخاری نے اپنی تاریخ میں وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع عشاء کی نماز کے بارے میں نازل ہوئی۔ 4۔ ابن ابی شیبہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عشاء کی نماز سے پہلے ہم اپنے بستروں سے اجتناب کرتے۔ 5۔ محمد بن نصر وابن جریر نے ابو سلمی ؓ سے روایت کیا کہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع عشاء کی نماز کے عشاء کی نماز کے بارے میں نازل ہوئی۔ 6۔ عبدالرزاق نے المصنف میں وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عشاء کی نماز سے پہلے لیٹنا اور عشاء کے بعد فوراً بعد باتیں کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور بلاشبہ یہ آیت تتجافی جنوہم عن المضاجع اس نماز کے بارے میں نازل ہوئی۔ 7۔ ابن مردویہ نے انس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت ہم انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی ہم مغرب کی نماز پڑھتے تھے تو ہم اپنے گھروں کی طرف نہیں لوٹتے تھے یہاں تک کہ ہم عشاء پڑھتے نبی ﷺ کے ساتھ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت تتجافی جنوہم عن المضاجع کہ ان کے پہلؤں کی خوابگاہوں سے دور رہتے ہیں۔ 8۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے تتجافی جنوبہم عن المضاجع کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو عشاء سے پہلے نہیں سوتے اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی جب یہ بات ذکر کی گئی تو آدمی نے اپنے بستر سے الگ ہونا شروع کیا ڈرتے ہوئے اس بات سے کہ کہیں اس کی آنکھوں میں نیند کا غلب ہوجائے اس کا وقت چھوٹے بچے کے سلانے اور بوڑھے سے سست ہونے سے پہلے کا ہے۔ 9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت عشاء کی نماز کے بارے میں نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نہیں سوتے تھے یہاں تک کہ اس کو پڑھتے تھے۔ 10۔ ابن ابی شیبہ وابو داوٗد ومحمد بن نصر وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ان سؓ سیروایت کیا کہ آتی تتجافی جنوبہم عن المضاجع کے بارے میں فرمایا کہ صحابہ کرام ؓ عشاء کی نماز کا انتظار کرتے اور مغرب اور عشاء کی نماز کے درمیان نماز پڑھتے۔ مغرب کے بعد عشاء کی نماز کے انتظار میں بیٹھنا 11۔ عبداللہ بن احمد حنبل فی زوائد الزہد وابن عدی وابن مردویہ نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب مہاجرین اولین میں سے مغرب کی نماز پڑھتے تھے اور اس کے بعد عشاء کی نماز تک پڑھتے رہتے تھے تو یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ 12۔ البزار وابن امردویہ نے بلال ؓ سے روایت کیا کہ ایک مجلس میں بیٹھے تھے اور کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے مغرب کی نماز سے عشاء تک نماز پڑھتے رہتے تھے۔ تو یہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ 13۔ محمد بن نصر والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن المنکدر اور ابو حازم ؓ دونوں نے فرمایا آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع سے مغرب اور عشاء کے درمیان اوابین کے نوفل مراد ہیں۔ 14۔ محمد بن نصر نے عبداللہ بن عیسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ انصار میں سے کچھ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے رہتے تھے تو ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ 15۔ احمد وابن جریر وابن مردویہ نے معاذ بن جبل سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تتجافی جنوبہم عن المضاجع سے رات کو بندے کا قیام کرنا یعنی تہجد پڑھنا مراد ہے۔ 16۔ احمد والترمذی وصححہ والنسائی وابن ماجہ وابن نصر فی کتاب الہدی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ میں ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا ایک دن آپ کے قریب ہوا اور ہم چل رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی کوئی مجھے ایسا عمل فرمادیجیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور دوزخ سے دور رکھے۔ فرمایا تو نے مجھ سے بڑے عمل کے بارے میں پوچھا مگر یہ اس آدمی کے لیے آسان ہے جس پر اللہ تعالیٰ اسے آسان کر دے۔ تو اللہ کے لیے عبادت کر اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نماز قائم کر زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر فرمایا کیا راہنمائی بھلائی کے دروازوں پر نہ رکوں فرمایا روزہ ڈھال ہے صدقہ کیا کرو آدھی رات میں آدمی کی نماز بھی خیر کا دروازہ ہے اس کے بعد آپ نے یہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع پڑھی پھر فرمایا میں تجھے امور کے سرداروں ان کے ستون اور ان کی چوٹی کے بارے میں نہ بتاؤں میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا امور کا سردار اسلام اور اسکا ستون نماز ہے اور اس کے کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر فرمایا کیا میں تجھ کو ان تمام چیزوں کے جوہر کے بارے میں نہ بتاؤں کہا کیوں نہیں انہوں نے زبان پکڑی اور فرمایا : اس کی حفاظت کرو میں نے کہا اے اللہ کے رسول جو باتیں ہم کرتے ہیں کیا ان پر ہماری پکڑ ہوگی فرمایا معاذ تیری ماں تجھے گم کردے لوگ جہنم میں اپنے منہ کے بل اور اپنی زبانوں کے کاٹنے کی وجہ سے گریں گے۔ 17۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے قیام کا ذکر فرمایا آپ کی آنکھیں بہہ پڑی یہاں تک کہ آپ کے آنسو نیچے گرنے لگے آپ نے یہ آیت پڑھی آتی تتجافی جنوہم عن المضاجع کہ ان کے پہلو خوابگاہوں سے دور رہتے ہیں۔ 18۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا کہ یارسول اللہ جنت والوں کا عمل مجھے بتائیں آپ نے فرمایا تو نے عطیم کام کے بارے میں پوچھا جبکہ یہ اس پر آسان ہے جس پر اللہ تعالیٰ آسان کردے۔ تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور فرض نماز کو ادا کر اور میں نہیں جانتا کہ آپ نے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا یعنی اگر تو چاہے تو میں تجھ کو امور کے سردار اور اس کا ستون اور اس کے کوہان کی چوٹی نہ بتاؤں پھر آپ نے فرمایا اس کا سر اسلام ہے جو اسلام لایاسلامت رہا اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے اور روزہ ڈھال ہے۔ دوزخ میں اور صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اور آدھی رات میں آدمی کا نماز پڑھنا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع۔ 19۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے آیت تتجافی جنوہم عن المضاجع کے بارے میں فرمایا کیا ان پر یعنی صحابہ کرام پر کوئی رات نہ گزرتی تھی مگر وہ اس رات میں سے کچھ حصہ لے لیتے تھے یعنی تہجد ادا کرتے۔ 20۔ الفریابی وابن ابی شیبہ ومحمد بن نصر وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع سے مراد ہے کہ وہ لوگ رات کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ 21۔ ابن نصر وابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع سے رات کا قیام مراد ہے۔ 22۔ عبداللہ بن احمد فی الزوائد الزہد من طریق ابی عبداللہ الجدلی نے عبادۃ بن الصامت سے روایت کیا کہ اور انہوں نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا ایک آواز دینے والا آواز دے گا وہ لوگ کہا ہیں آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع جن کے پہلو خوابگاہوں سے دور رہتے ہیں پھر وہ لوگ کہاں ہیں آیت الذین یذکرون اللہ قیما وقعود وعلی جنوبہم (آل عمران آیت 191) (جو اللہ کو یاد کو یاد کرتے تھے کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور کروٹوں پر لیٹے ہوئے) پھر ایک گردن جہنم میں سے نکلے گی اور کہے گی مجھے تین آدمیوں کو حکم دیا گیا ہے۔ جس نے اللہ کے سوا کسی کو شریک بنایا اور ہر سخت دل اور جاب رکے لیے اور ہر حد سے تجاوز کرنے والا ہے میں آدمی یعنی والد کو بچے کے ساتھ اور بچے کو والد کے ساتھ جانتا ہوں۔ اور غریب مسلمان کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اور ان کو روکا جاتا ہے تو کہتے ہیں تم ہم سے حساب لینا چاہتے ہو جبکہ ہمارے پاس نہ احوال تھے اور نہ ہم امراء تھے لوگوں میں سے۔ 23۔ محمد بن نصر وابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع ان کے پہلو خوابگاہوں سے دور رہتے ہیں اور وہ ایک ہی رب کو پکارتے ہیں خوف اور امید کرتے ہیں کہ اس سے وہ قوم مراد ہے جو ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں نماز میں رات کو قیام میں بیٹھے ہوئے اور وہ قوم جو برابر اللہ کے ذکر میں لگی رہتی ہے۔ 24۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ربیعہ جرشی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن مخلوق کو جمع فرمائے گا اور وہ وہاں رہیں گے جتنی مدت اللہ چاہیں گے۔ ایک آواز دینے والا آواز دے گا عنقریب سب ایمان لے آئیں گے کہ آج کس کے لیے عزت واکرام ہے۔ چاہیے کہ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع جس کے پہلو خوابگاہوں سے دور رہتے تھے۔ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع جو اپنے رب کو خوف اور امید میں پکارتے تھے وہ لوگ کھڑے ہوں گے ان کی بہت تھوڑی تعداد ہوگی پھر وہ آواز لگانے والا ٹھہرا رہے گا۔ جتنا اللہ تعالیٰ چاہیں گے پھر لوٹے گا اور آواز دے گا کہ عنقریب جان لیں گے جمع ہونے والے کس کے لیے عزت ہے اور یہ لوگ کھڑے ہوجائیں آیت رجال لا تلھیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ وہ لوگ جن کو خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے ان کو غفلت میں نہیں ڈالتی ہے۔ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اور پہلے والوں سے وہاں ہوں گے پھر وہ آواز لگاتے رہے۔ اور ٹھہرا رہے گا پھر وہ لوٹے گا اور آواز دے گا کہ عنقریب جمع ہونے والے لوگ جان جائیں گے کہ آج کس کے لیے عزت اور اکرام ہے وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے جو اللہ کی حمد بیان کرنے والے تو وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے پہلے والوں سے زیادہ ہوں گے۔ 25۔ ابن جریر نے ابو سعد ؓ سے روایت کیا کہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع جو اپنے پہلو کو خوابگاہوں سے دور رکھتے ہیں جب بھی وہ جاگتے ہیں تو اللہ کا ذکر کرتے ہیں چاہے نماز میں چاہے قیام میں یا بیٹھے ہوئے یا اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے وہ لوگ برابر اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

سو کسی شخص کو اس کا علم نہیں ہو جو ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے یہ ان اعمال کا بدلہ ہوگا جو دنیا میں کیا کرتے تھے

جنت کی لازوال نعمتیں 1۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین کوئی آدمی نہیں جانتا کہ کیا نعمتیں چھپائی گئی ہیں ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں ہے۔ 2۔ ابو عبیدہ نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وابن ابی حاتم وابن الانبار نے المصاحف میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کو یوں پڑھا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر ومحمد بن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم وصححہ والبیہقی فی البعث ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا پھر انہوں نے اپنے لیے جنت بنائی پھر اس کے نیچے دوسری جنت بنائی پھر ان دونوں کو ایک موتی سے ڈھانپ دیا پھر فرمایا ان دونوں کے نیچے دو جنتیں ہیں مخلوق نہیں جانتی کہ ان دونوں میں کیا ہے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین جزاء بما کانوا یعملون اس میں ہر دن ان کے پاس ایک تحفہ آتا ہے۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تورات میں لکھا ہوا ہے البتہ تحقیق تیار کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے جن کے پہلو خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں ایسی نعمتیں کہ کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا نہ کسی آدمی کے دل میں کھٹکی ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے اور نہ کوئی نبی مرسل جانتا ہے بلاشبہ وہ قرآن میں ہے آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین۔ 5۔ ابن ابی شیبہ واحمد وہنا وکلاہما فی الزہد والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن الانباری ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے بندوں کے یے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں کسی کان نہیں سنیں اور کسی آدمی کے دل پر یہ نہیں کھٹکی ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین جنت میں مزید کی حقیقت 6۔ ابن ابی حاتم نے عامر بن عبدالواحد (رح) سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی اہل جنت میں اپنے مکان میں ستر سال ٹھہرے گا۔ پھر وہ متوجہ ہوگا اچانک وہ ایک بہت خوبصورت عورت کے پاس ہوگا ان عورتوں میں سے وہ عورت اس سے کہے گی اب تیرے لیے وہ وقت آچکا ہے کہ ہمارا تجھ سے حصہ ہو وہ کہے گا تو کون ہے وہ کہے گا میں مزید ہوں وہ جنتی اس کے ساتھ ستر سال ٹھہرے گا اور پھر متوجہ ہوگا تو اچانک وہ ایک بہت خوبصورت عورت ہوگی ان عورتوں میں سے جس میں وہ تھا وہ کہے گی اب تیرے لیے وقت آچکا ہے کہ ہمارا تجھ سے حصہ ہو۔ وہ کہے تو تو کون ہے ؟ وہ کہے گی میں وہ ہوں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین کوئی نہیں جانتا کہ کیا کیا آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیدہ رکھی گئی۔ 7۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ ایک آدمی اہل جنت میں سے البتہ لایا جائے گا اس کے اوپر سے عورتیں اس کو جھانکیں گی اور وہ کہیں گی اے فلاں بن فلاں جب تو ہمارے پاس سے نکلا تھا تو ہم سے بڑھ کر تیرا کوئی حقدار نہ تھا وہ کہے گا تم کون ہو ؟ وہ کہیں گی ہم ان میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین، جزاء بما کانوا یعملون، کوئی نہیں جانتا کہ کیا کیا آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیدہ رکھ گئیں، یہ بدلہ ہے ان اعمال کا جو وہ کیا کرتے تھے۔ 8۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ فرشتے داخل ہوں گے ان پر دنیا کے دنوں میں سے ہر دن کی تعداد پر تین مرتبہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عدن کی جنتوں سے تحفے ہوں گے جو ان کی اپنی جنتوں میں نہ ہوں گی اور اسی کو فرمایا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے فرمایا عنقریب میں تمہارے لیے اہل جنت میں سے ایک جنتی کا مرتبہ بیان کروں گا جو دنیا میں حلال تلاش کرتا تھا اور حلال کھاتا تھا یہاں تک کہ وہ اسی حال پر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا اس کو قیامت کے دن ایک ہی موتی کا محل دیا جائے گا نہ اس میں شگاف ہوگا اور نہ جوڑ ہوگا اس میں ستر ہزار بالا خانے ہوں گے ان بالاخانوں کے نیچے ستر ہزار کمرے ہوں گے ہر کمرے کی چھت سونے اور چاندی کی منزلوں کی ہوں گی جن میں کوئی جوڑ نہ ہوگا اگر اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھنا اس کے لیے مسخر نہ کیا ہوتا تو اس کے نور سے اس کی آنکھ کی روشنی جاتی رہتی باغ کی چوڑائی بارہ میل ہوگی اور اس کی لمبائی آسمان کی جانب ستر میل ہوگی کمرے میں ستر ہزار دروازے ہوں گے کہ جس میں وہ داخل ہوگا ہر کمرے میں ہر دروازے پر ستر ہزار خادم ہوں گے جو اس کمرے پر ہوگا وہ ان کو نہیں دیکھے گا اور نہ ہی باہر والا خام اندر والوں کو دیکھے گا۔ جب وہ اپنے محل سے نکلے گا تو اس کے ملک میں دنیا جیسی آبادی ہوگی جو اس کے ملک میں اس کے دائیں بائیں اور پیچھے چلے گی اور اس کی بیویاں اس کے ساتھ ہوں گی اور اس کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی مرد نہیں ہوگا اور جو اس کے سامنے فرشتے ہوں گے جو اس کے تابع فرمان ہوں گے ان کے اور اس کی بیویوں کے درمیان پردہ ہوگا اور اس کے سامنے بھی پردہ ہوگا اور خدام اور خادمائیں سمجھ لیں گے کہ وہ اور اس کی بیویاں کیا خواہش کریں گی وہ خود اس کی بیویاں اور اس کے خادم کبھی بھی فوت نہ ہوں گے ان کی نعمتیں بڑھتی جائیں گی کہ جبکہ پہلے والی نعمت بوسیدہ نہ ہوگی۔ اور آنکھوں کی ٹھنڈک کبھی ختم نہ ہوگی اور کبھی بھی اس جنت میں اس جنتی پر کبھی خوف داخل نہ ہوگا۔ جنت کی نعمتیں غیر فانی ہیں 10۔ ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر جنت والوں میں سے آخری درجہ کا جنتی آدمی آدم (علیہ السلام) اور دوسروں کی ضیافت کرے وہ اس کے سامنے کھانا شراب رکھے یہاں تک کہ وہ اس کے پاس کھانا کھاکر نکلیں گے کہ کچھ بھی اس میں سے کم نہ ہوگا ان چیزوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا فرمائیں۔ 11۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم والطبرانی وابن جریر والحاکم وصححہ وابن مردویہ ومحمد بن نصر فی کتاب الصلاۃ من طریق ابی صخر عن ابی حازم سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے پاس تھے اور آپ جنت کی صفت بیان فرما رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے گفتگو اس امر پر ختم کی اس میں ایسی چیزیں ہیں کہ کسی آنکھ نے ان کو نہیں دیکھا اور کسی کان نہیں سنا اور کسی آدمی کے دل میں ان کا خیال نہیں گزرا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین۔ ابو صخر نے کہا میں نے قرظی کو یہ بات بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے اعمال کو مخفی رکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ثواب کو مخفی رکھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوئے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں۔ 12۔ ابن جریر نے ابو یمان ہذلی ؓ سے روایت کیا کہ جنت میں سو درجے ہیں اس کا پہلا درجہ چاندی کا ہے اور اس کی زمین چاندی کی ہے اور اس کے برتن چاندی کے ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے اور دوسرا درجہ سونے کا ہے اور اس کے مکانات سونے کے ہیں اور اس کے برتن سونے کے ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے اور تیسرا درجہ موتی کا ہے اس کی زمین موتی کی ہے اس کی رہنے کی جگہیں موتی کی ہیں اور اس کے برتن موتی کے ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے اور اس کے بعد ستانوے درجے وہ ہیں جن کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا کسی کان نے نہیں سنا اور کسی آدمی کے دل میں یہ خیال نہیں گزرا اور آپ نے یہ آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین۔ 13۔ ابن جریر والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان من طریق الحاکم بن ابان بن عطریف سے روایت کیا ہے اور انہوں نے جابر بن زید سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کی طرف سے یہ بیان فرمایا کہ بندے کی نیکیاں اور برائیں لائی جائیں گی۔ اس کی بعض برائیوں کو بعض نیکیوں سے حساب برابر کیا جائے گا اگر ایک نیکی بھی بچ جائے گی تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کردیں گے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں یزد انکے پاس آیا تو انہوں نے اسطرح بیان کیا کہ میں نے کہا اگر نیکیاں ختم ہوگئیں تو فرمایا اولئک الذین نتقبل عنہم احسن ما عملوا ونتجاوز عن سیاٰ تہم (الاحکاف آیت 16) یعنی یہی لوگ ہیں کہ ہم نے ان سے نیک اعمال کو قبول کیا اور ان کی برائیں سے درگزر کیا میں نے کہا کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین تو فرمایا اس آیت میں اس آدمی کا ذکر ہے جو چھپے ہوئے عمل کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں چھپا دیتا ہے جس کے بارے میں لوگ نہیں جانتے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک چھپا رکھتا ہے آیت قرۃ اعین یعنی ایسا ثواب جو آنکھوں کی ٹھندک ہوگا۔ ادنی درجہ کے جنتی کا مقام 14۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت میں سے سب سے کم درجہ وہ لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں جل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو جہنم میں سے اپنی رحمت سے نکالیں گے۔ رب تعالیٰ ان کی اس بات سے خوش ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتے ان کو ایک چٹیل میدان میں پھینک دیا جائے گا۔ وہ ایسے اگیں جیسے سبزی اگتی ہے یہاں تک کہ جب روحیں ان کے جسموں کی طرف لوٹیں گی تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب آپ نے ہم کو آگے سے نکالا اور روحوں کو ہمارے جسموں کی طرف لوٹایا ہمارے چہروں کو جہنم سے پھیر دیجیے تو ان کے چہروں کو جہنم سے پھیر دیا جائے گا اور ان کیل یے ایک سایہ دار درخت لگایا جائے گا اور وہ کہیں گے اے اہمارے رب جیسے آپ نے ہم کو آگ سے نکالا ہم کو اس درخت کے سایہ کی طرف منتقل فرمادیں تو ان کو اس درخت کے سائے کی طرف منتقل کردیا جائے گا وہ جنت کے دروازوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے اہمارے رب جس طرح آپ نے ہم کو آگ سے نکالا اس طرح ہم کو جنت کے دروازوں کی طرف منتقل کردیجیے تو ایسا کردیا جائے گا۔ جب وہ جنت میں خیر و برکت کو دیکھیں گے پھر ابوہریرہ نے یہ آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین پڑھی پھر وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے رب جس طرح آپ نے ہم کو آگ سے نکالا ہم کو جنت میں داخل کردیجیے تو ان کو جنت میں داخل کردیا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا تم کوئی تمنا کرو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو عطا فرمایہاں تک کہ وہ یہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو کافی ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ تمہارے لیے ہے اور اس کا دس گنا پھر تمہارے لیے ہے 15۔ ابن ابی شیبہ ومسلم والترمذی وابن جریر والطبرانی وابو الشیخ فی العظمۃ وابن مردویہ والبیہقی نے الاسماء والصفات مغیر بہ بن شعبہ ؓ سے روایت کیا اور وہ نبی ﷺ سے ایک مرفوع روایت کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا اور عرض کیا اے ہمارے رب اہل جنت میں سے کم درجے والے کون ہیں فرمایا وہ آدمی جو جنت والوں کی جنت میں داخل ہونے کے بعد لوٹے گا اس سے کہا جائے گا داخل ہوجا وہ کہے گا میں کیسے داخل ہوں جبکہ سبلوگ اپنی منزلوں میں پہنچ چکے ہیں اور اپنے حصے لے لیے ہیں اس سے کہا جائے گا کیا تو راضی ہے کہ تیرے لیے وہ کچھ ہو جو دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس ہوتا ہے وہ کہے گا ہاں اے میرے رب میں راضی ہوں اس سے کہا جائے گا یہ تیرے لیے ہے اور اس کے ساتھ دس گنا اور بھی ہے وہ کہے گا اے میرے رب میں راضی ہوں اس سے کہا جائے گا موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب اہل جنت میں سے سب سے بلند مرتبہ کون ہے فرمایا تو نے اس کا ارادہ کیا اور میں ضرور ان کے بارے میں بیان کروں گا کہ میں نے ان کی عزت واکرام کو اپنے دست قدرت سے گاڑا اس پر بذات خود مہر لگائی جو کسی آنکھ نہیں دیکھا کسی کان نے نہیں سنا اور کسی انسانی دل میں ان کا خیال گزرا پھر آپ نے فرمایا کہ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین۔
Ayahs 32:18–20

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

سو جو شخص مومن ہو کیا وہ فاسق کی طرح ہوسکتا ہے، برابر نہیں

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ا کے لیے باغ ہوں گے ٹھہرنے کی گجہوں میں یہ بطور مہمانی ان اعمال کے بدلہ ہوں گے جو دنیا میں کیا کرتے تھے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے جب بھی اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اسی میں واپس لوٹادئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ آگ کا عذاب چکھ لو جس کو تم جھٹلاتے تھے

1۔ ابوالفرج الاصفہانی فی کتاب الاغانی والواحدی وابن عدی وابن مردویہ والخطیب وابن عساکر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن عقبہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے کہا کہ میں تجھ سے زیادہ جنگجو تم سے زیادہ فصیح اور تم سے زیادہ لشکروں کا سہارا ہوں۔ علی ؓ نے اس سے فرمایا خاموش رہو تو فاسق ہے تو یہ آیت آجمن کان مومنا کمن کان فاسقا سو کیا جو مومن ہے وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کافر ہے۔ 2۔ ابن اسحاق وابن جریر نے علی بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں علی بن ابی طالب اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے درمیان اترا ولید اور علی کے درمیان گفتگو ہوئی ولید بن عقبہ نے کہا میں تجھ سے زیادہ فصیح زیادہ جنگجو اور لشکر کو بھگانے والا ہوں۔ علی ؓ نے فرمایا خاموش رہ تو فاسق ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لایستون 3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس طرح روایت کیا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے عبدالرحمن بن ابی (رح) سے روایت کیا کہ آیت افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لایستوٗن علی بن ابی طالب ؓ اور ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 5۔ ابن مردویہ والخطیب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لایستون علی بن ابی طالب ؓ اور ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 5۔ ابن مردویہ والخطیب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت افمن کان مومنا کمن کان فاسقا کے بارے میں فرمایا کہ مومن سے مراد ہے علی بن ابی طالب ؓ اور فاسق سے مراد ہے عقبہ بن ابی معیط اور یہ اس وجہ سے فرمایا کہ دونوں میں گالی گلوچ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 6۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت افمن کان مومنا کمن کان فاسقا سے مراد ہے کہ مومن اور فاسق نہ دنیا میں اور نہ موت کے وقت اور نہ آخرت میں برابر ہوں گے آیت واما الذین فسقوا فماوہم النار سے وہ مراد ہے جنہوں نے شرک کیا آیت کنتم بہ تکذبون یعنی وہ لوگ جھٹلاتے تھے جیسا کہ تم دیکھتے تھے۔
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ضرور ضرور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے قریب والا عذاب چکھا دیں گے تاکہ وہ باز آجائیں

1۔ الفریابی وابن منیع وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والخطیب والبیہقی نے ادلائل میں ابن مسعود رضیا للہ عنہ سے روایت کیا کہ آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی اور ہم چکھائیں گے ان کو دنیا کے عذاب اور وہ غزوہ بدر کا عذاب ہے آیت دون العذاب الاکبر یعنی قیامت کے دن کا عذاب آیت لعلہم یرجعون جو ان میں سے باقی بچ گئے شاید کہ وہ ایمان کی طرف لوٹ آئیں۔ 2۔ ابن ابی شیبہ والنسائی وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی سے مراد ہے قحط جو ان کو پہنچا آیت لعلہم یرجعون شاید کہ وہ توبہ کرلیں۔ گناہ گاروں پر دنیا کا عذاب 3۔ مسلم و عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں وابوعوانہ نے اپنی صحیح میں ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی فی شعب الایمان میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی سے مراد ہے دنیا کے مصائب غزوہ بدر کی مصیبت پکڑ اور وہ دھواں ہے۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابو ادریس خولانی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عبادہ بن صامت ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ نے فرمایا اس سے مراد ہے تکلیفیں جو بیماریاں اور تھکاوٹ دنیا میں اسراف کرنے والوں کا عذاب آکرت سے کم ہوتا ہے میں نے عرض کیا یارسولو اللہ ہمارے لیے یہ تکلیفیں کیسی ہیں فرمایا یہ ہمارے لیے پاکیزگی اور طہارت کا ذریعہ ہیں گناہوں سے۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فرمایا آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی میں عذاب ادنی سے مراد دنیا کی مصیبتیں اور اس کی بیماریاں اور اس کی آزمائشیں ہیں کہ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بندوں کو آزمائش میں ڈالتے ہیں شاید کہ وہ توبہ کرلیں۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر میں عذاب ادنی سے مراد ایسی تکلیفیں ہیں جن کے ذریعہ دنیا میں تکلیفیں دئیے جاتے ہیں آیت لعلہم یرجعون شاید وہ توبہ کرلیں۔ 7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر میں عذاب ادنی سے مراد حدود ہیں جو ان پر جاری کی جاتی ہیں آیت لعلہم یرجعون شاید وہ توبہ کرلیں۔ 8۔ الفریابی ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آتی ولنذیقنہم من العذاب الادنی سے مراد ہے دنیا کا عذاب اور قبر کا عذاب۔ 9۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی سے مراد ہے قیرش کے لیے دنیا میں قتل ہونا بھوکا مرنا اور بڑا عذاب قیامت کے دن آخرت میں ہوگا۔ 10۔ ہناد نے ابو عبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی سے مراد ہے قبر کا عذاب
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جسے اس کے رب کی آیات یاد دلائی جائیں پھر وہ ان سے اعراض کرے، بلاشبہ ہم مجرمین سے بدلہ لینے والے ہیں

1۔ معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تین کام جس نے کیے اس نے رم کیا جس نے ناحق جھنڈا باندھا یا اپنے والدین کی نافرمانی کی یا کسی ظالم کے ساتھ چلا تاکہ اس کی مدد کرے تو یقینی بات ہے اس نے جرم کیا اللہ عز وجل فرماتے ہیں آیت انا من المجرمین منتقمون۔ ہم مجرمین سے انتقام لینے والا ہیں۔
Ayahs 32:23–26

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی سو آپ اس کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجیے اور ہم نے ان کو بنی اسرائیل کے لیے موجب ہدایت بنایا تھا

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے جبکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان چیزوں میں فیصلے فرمائے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اس چیز نے ہدایت نہیں دی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں یہ لوگ ان کے رہنے کی جگہوں میں چلتے پھرتے ہیں بلاشبہ اس میں شنایاں ہیں کیا یہ لوگ نہیں سنتے

1۔ عبد بن حمید والبخاری ومسلم وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل قتادہ کے طریق سے ابو العالیہ سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے معراج کی رات میں موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں میں تھے گویا کہ وہ شنوأہ قبیلہ کے مردوں میں سے ہیں اور میں نے عیس بن مریم (علیہ السلام) کو دیکھا لوگوں میں میانہ قد کے مالک اور دجال کو دیکھا ان نشانیوں میں جو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھائیں آیت فلا تکن فی مریۃ من لقاۂ سو آپ اس کے ملنے میں شک نہ کیجئے۔ قتادہ نے اس کی تفسیر کی کہ نبی ﷺ نے موسیٰ سے ملاقات کی آیت وجعلنہ ہدی لبنی اسرائیل یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کا ذریعہ بنادیا بنی اسرائیل کے لیے۔ 2۔ الطبرانی وابن مردویہ والضیاء فی المختارہ صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت فلاتکن فی مریۃ من لقاء ہ یعنی موسیٰ کی اپنے رب سے ملاقات پر شک نہ کیجیے آیت وجعلنہ ہدی لبنی اسرائیل یعنی موسیٰ کو ہدایت کا ذریعہ بنادیا بنی اسرائیل کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) سے یقینی ملاقات 3۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ سے روایت کیا کہ آیت فلاتکن فی مریۃ من لقاء ہ یعنی موسیٰ کی ملاقات سے شک نہ کیجیے کہا گیا کیا آپ نے موسیٰ سے ملاقات کی فرمایا ہاں کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو نہیں دیکھا آیت وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا (الزخرف آیت 45) اور سوال کیا جس کو ہم نے بھیجا تھا تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا تکن فی مریۃ من لقاء ہ یعنی اس بات سک نہ کیجیے کہ موسیٰ نے اپنے رب سے ملاقات کی۔ 5۔ الحاکم نے مالک (رح) سے روایت کیا کہ آپ نے آیت وجعلنا منہم ائمۃ یہدون بامرنا لما صبرو کی تلاوت کی اور ہم نے ان میں کچھ لیڈر بنائے وہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے جب انہوں نے مصیبتوں پر صبر کیا اور فرمایا مجھے زہری نے بیان کیا کہ عطا بن یزید نے ان کو بیان کیا کہ ابوہریرہ نے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ صبر سے بڑھ کر کسی بندے کو کوئی بھلائی عطا نہیں کی گئی۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلنا منہم ائمۃ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو بھلائی سے مسردار بنادیا انبیاء کے علاوہ آیت یہدون بامرنا لما صبرو یعنی جب انہوں نے صبر کیا دنیا کے چھوڑنے پر واللہ اعلم۔