32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 32:1–4

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں، رب العالمین کی طرف سے ہے،

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس نے جھوٹ بنالیا ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ لوگ ہدایت پر آجائیں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا پھر عرش پر مستوی ہوا۔ تمہارے لیے اس کے سوا نہ کوئی ولی ہے نہ کوئی سفارشی، کیا تم نہیں سمجھتے ؟

قرآن مجید حق ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا یہاں سے سورة السجدہ شروع ہے، اوپر چند آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے ان میں سے الم تو متشابہات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ باقی آیات میں قرآن مجید کا حق ہونا اور اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت اور خالقیت بیان فرمائی ہے۔ مشرکین مکہ جو یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے خود سے بنالیا ہے اس کی تردید فرماتے ہوئے فرمایا (بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ) (بلکہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے) (لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ ) (تاکہ آپ ڈرائیں ان لوگوں کو جن کے پاس پہلے سے ڈرانے والا یعنی رسول اور نبی نہیں آیا) (لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ) (تاکہ وہ ہدایت پر آجائیں۔ ) اول تو یہ فرمایا کہ یہ قرآن اللہ جل مجدہٗ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے یہ کتاب آپ کی طرف اس لیے نازل کی گئی ہے کہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، ان لوگوں سے اہل مکہ مراد ہیں، ان کے پاس براہ راست کوئی رسول نہیں آیا تھا البتہ دوسرے انبیاء کرام کی بعثت کا انہیں علم تھا اور ان کی طرف سے دعوت توحید پہنچی تھی۔ یہ لوگ داعی توحید حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہی میں سے تھے، ان دونوں نے جو مکہ معظمہ میں کعبہ شریف بنایا تھا اس کا وجود ہی اشاعت توحید کے لیے تھا اور ان لوگوں کو اس کا علم بھی تھا کہ یہ حضرات داعی توحید تھے۔ لہٰذا یہ اشکال نہیں رہتا کہ ان کے پاس نبی نہیں آیا تو شرک کی وجہ سے ان کا مواخذہ کیوں کر صحیح ہوا ؟ سورة فاطر میں فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ) اس کا عموم ہر قوم اور ہر جماعت کو شامل ہے ضروری نہیں کہ نذیر (ڈرانے والا) رسول نبی ہو، ان حضرات کے نائبین نے بھی تبلیغ کی ہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا پھر وہ عرش پر مستوی ہوا، (اس کا بیان سورة اعراف رکوع نمبر 7 اور سورة فرقان رکوع نمبر 5 میں گزر چکا ہے) (مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ ) اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی ولی نہیں ہے (جو نافرمانی پر مواخذہ کرنے سے بچا سکے) اور کوئی سفارش کرنے والا بھی نہیں (جو اس کی اجازت کے بغیر اس کی بارگاہ میں سفارش کرے) (اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ ) (کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ )
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے لے کر زمین تک تدبیر کرتا ہے ہر امر اس کے حضور میں ایک ایسے دن میں پہنچ جائے گا جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال ہوگی۔

اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین تک تدبیر فرماتا ہے، ہر امر اس کے حضور میں ایسے دن میں پیش ہوگا جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے جو کچھ وجود میں آتا ہے، کائنات میں جو انقلاب ہوتے ہیں اور جو مخلوق کے احوال اور اعمال وجود میں آتے ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر کے موافق ہے، جو کچھ وجود میں آ رہا ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں قیامت کے دن پیش ہوگا، اس دن کی مقدار اس شمار کے مطابق جو دنیا میں گنتے ہیں ایک ہزار سال کی ہوگی۔ الفاظ آیت سے متبادر تو یہی ہے کہ (یَعْرُجُ ) میں جو ضمیر مرفوع ہے وہ (الْاَمْرَ ) کی طرف راجع ہے لیکن مفسرین نے اس میں متعدد احتمالات بیان کیے ہیں اسی طرح لفظ (اِلَیْہِ ) کے مرجع کے بارے میں بھی متعدد اقوال ہیں۔ (رجع تفسیر القرطبی جلد 14 ص 87، 88) صاحب روح المعانی نے آیت کی تفسیر میں لمبی بحث کی ہے (جلد 12 ص 121) یہاں سورة السجدہ میں قیامت کے دن کو ایک ہزار سال بتایا اور سورة المعارج میں پچاس ہزار سال کا بتایا۔ جب اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا (ھما یومان ذکر ھما اللّٰہ تعالیٰ فی کتابہ اللّٰہ تعالیٰ اعلم بھما واکرہ ان قول فی کتاب اللہ مالا اعلم) (یعنی ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا اللہ تعالیٰ ہی کو ان کا علم ہے) بعض حضرات نے یہ توجیہ کی ہے کہ احوال و اشخاص کے اعتبار سے کسی کا یہ دن بہت جلدی گزر جائے گا اور کسی کا بہت دیر میں گزرے گا، مومنین صالحین جلدی سے چھٹکارا پاجائیں گے، انہیں ایسا معلوم ہوگا جیسے ایک فرض نماز کا وقت گزرا ہو۔ (کما ورد فی الحدیث) اور فاسقین کے لیے بہت مصیبت کا دن ہوگا اور کافروں کے لیے تو بہت ہی زیادہ مصیبت در پیش ہوگی اور ان کے لیے یہ دن پچاس ہزار سال گزرنے کے برابر ہوگا۔ قال العبد الفقیر عفا اللّٰہ تعالیٰ عنہ : ان المفسرین الکرام ذکروا اقوالاً کثیرۃ فی تفسیر قولہ تعالیٰ : یُدَبِّرُ الْاَمْرَ (الآیۃ) واختاروا فی مرجع ضمیر الیہ ثم فی تطبیق قولہ تعالیٰ : الف سنۃٍ مما تعدون۔ وقولہ تعالیٰ : فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃً ۔ حتیٰ ان صاحب الروح جعل الآیۃ الکریمۃ من المتشابھات، والذی القی اللّٰہ تعالیٰ فی روعی ھو ان اللّٰہ تعالیٰ یدبر الامور التی تجری فی السماء والارض وما بینھما حسب ما قدرہ ویرجع الامور کلھا الیہ تعالیٰ فی یوم القیامۃ، والامور التکوینیۃ لیس لھا صلۃ بالعباد لا یثابون علیھا ولا یعاقبون، فاما الامور التشریعیۃ التی امروا بامتثالھا بعد عروجھا الیہ تعالیٰ فی یوم القیامۃ تعرض علی العبادلا یخفیٰ علیھم خافیۃ فیحاسبون فمنھم مثابون واٰخرون یعاقبون، فاما التوفیق بین الف سنۃ وخمسین فعلم بذٰلک تخفیفہ علی المؤمنین الذین یصلون، فاما العصاۃ من اھل الایمان احوالھم مختلفۃ فمن مقل من الذنوب ومکثر منھا فیھون او یصقب حسب حالھم فیمتد لبعضھم الٰی مقدار الف سنۃ، واما الامتداد الاکبر فھو علی الکفرۃ الفجرۃ اعنی خمسین الف سنۃ، ثم انہ لم یقید اللّٰہ تعالیٰ خمسین الف سنۃ بقولہ مما تعدون، وکذٰلک لم یقیدھا بذٰلک النبی فی ذکر تعذیب من لایؤدی زکوتہ کما رواہ مسلم، فیمکن ان یکون الف سنۃ مما تعدوا خمسین الف سنۃ باعتبار عدد آخر، ومن الاکابر من قال ان ھذا الاختلاف یمکن باعتبار اختلاف الآفاق کما ھو موجود فی ھذہ الدنیا فان ما یقع علیٰ خط الاستواء یتم فیہ الیل والنھار فی اربع وعشرون ساعۃ واما ما یقع علیٰ عرض التسعین فیمتد فیہ الیوم فی سنۃ واحدۃ وھذا یتم اذا کان فی ذٰلک الحین للسماء حرکۃ دولابیۃ وحویۃ ولم یثبت ذٰلک۔ اللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع المآب۔ بندہ عاجز عاشق الٰہی عفا عنہ کہتا ہے کہ مفسرین کرام نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد (یُدَبِّرُ الْاَمْرَ ) کی تفسیر میں بہت سارے اقوال ذکر کیے ہیں اور (اِلَیْہِ ) کی ضمیر کے مرجع میں بھی اپنی اپنی ترجیحات کا ذکر کیا ہے پھر اللہ تعالیٰ کے ارشاد (اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ) (تمہاری اپنی اپنی گنتی کے مطابق ہزار سال) اور (فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ ) (ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی) میں تطبیق کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہاں تک کہ تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) نے اس آیت کریمہ کو متشابہات میں شمار کیا ہے۔ وہ بات جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر کے مطابق آسمان و زمین اور ان کے درمیان کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور تمام امور قیامت کے دن اسی کی طرف لوٹیں گے۔ جو امور تکوینی ہیں ان کے ساتھ بندوں کا کوئی تعلق نہیں ہے نہ ان پر کسی کو ثواب ہوگا نہ عذاب لیکن شرعی امور جن پر عمل کرنے کا بندوں کو حکم دیا گیا ہے وہ امور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے بعد بندوں پر پیش کیے جائیں گے ان میں کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں رہے گا۔ پھر ان کا حساب ہوگا بعض کو ثواب ملے گا بعض کو عذاب۔ رہا مسئلہ ایک ہزار سال اور پچاس ہزار میں تطبیق کا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکوکار مومنوں پر قیامت کا دن ہلکا اور چھوٹا ہوگا مگر گناہ گار مومنوں کے احوال مختلف ہوں گے کئی تھوڑے گناہوں والے ہوں گے کئی زیادہ والے لہٰذا قیامت کا دن ان کے گناہوں اور نیکیوں کے مطابق ان کو ہلکا یا سخت معلوم ہوگا حتیٰ کہ بعض کے لیے وہ دن ہزار سال کا ہوجائے گا۔ اور اس دن کا سب سے زیادہ لمبا ہونا وہ کافروں کے لیے ہوگا زیادہ لمبے سے مراد پچاس ہزار سال کا دن ہے پھر یہ بھی ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے پچاس ہزار سال کے ساتھ بندوں کے شمار کی قید نہیں بتائی جیسا کہ مسلم میں روایت ہے۔ تو ہوسکتا ہے کہ مطلب یہ ہو کہ ہزار سال جسے تم دوسری گنتی کے مطابق پچاس ہزار سال شمار کرتے ہو اور بعض اکابر نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے یہ ہزار سال اور پچاس ہزار سال کا فرق مطالع کے اختلاف کی وجہ سے ہو جو کہ اس دنیا میں موجود ہے جو ممالک خط استواء پر واقع ہیں وہاں ایک دن رات چوبیس گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے اور جو علاقے 90 فیصد درجہ زاویہ پر واقع ہیں وہاں ایک دن ایک سال تک لمبا ہوجاتا ہے اور یہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب آسمان کی حرکت دولانی اور حویہ ہوتی ہے لیکن یہ توجیہ نصوص سے ثابت نہیں ہے۔
Ayahs 32:6–7

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے زبردست ہے رحمت والا ہے

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

اس نے جو چیز بنائی خوب بنائی، اور انسان کی پیدائش کی ابتدا مٹی سے کی،

انسان کی تخلیق اور تصویر کا تذکرہ اور منکرین بعث کی تردید جس ذات پاک کی صفات اوپر بیان ہوئیں وہ غیب اور شہادہ کا جاننے والا ہے یعنی جو کچھ بندوں سے غائب ہے اور جو کچھ آئندہ ہوگا اسے اس سب کا علم ہے اور جو کچھ موجود ہے اور بندوں کے سامنے ہے وہ اس سب کو جانتا ہے، (الْعَزِیْزُ ) (وہ سب پر غالب ہے) (الرَّحِیْمُ ) (وہ اپنی مخلوق پر رحم فرمانے والا ہے) (الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ ) (اس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اچھا بنایا) یعنی حکمت کے مطابق پیدا فرمایا اور حکمت کے مطابق اسے کام میں لگایا، ساری مخلوق خالق جل مجدہ کی حکمت کے مطابق وجود میں آئی ہے اور حکمت کے موافق اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے۔ حکمت کے مطابق پیدا فرمانا، کام میں لگانا یہ اللہ تعالیٰ کی صفت خاصہ ہے، اگر کوئی چیز فی نفسہ قبیح ہو تو یہ احسن الخلق کے منافی نہیں ہے کیونکہ احسن الخلق کا تعلق حکمت سے ہے۔ (وَبَدَ اَخَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ ) (اور اللہ نے انسان کی ابتدائی پیدائش مٹی سے فرمائی) اس کی تفسیر سورة حجر کے رکوع نمبر 3 میں گزر چکی ہے اور سورة ص کے آخری رکوع میں بھی اس کا تذکرہ فرمایا ہے،
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل کو ذلیل پانی سے نکالی ہوئی چیز بنایا، پھر اس کو ٹھیک طرح بنا دیا۔

(ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍ ) (پھر اس کی نسل کو ذلیل پانی سے نکالی ہوئی چیز بنا دی) یعنی مٹی سے ابتدائی تخلیق کے بعد جو انسان کی نسل چلائی اس کا سلسلہ اس طرح جاری فرمایا کہ نطفہ منی جو ایک (مَّآءٍ مَّھِیْنٍ ) یعنی ذلیل پانی ہے باپ کی پشت سے نکال کر ماں کے رحم میں جاتا ہے (جسے (سللۃ) سے تعبیر فرمایا ہے جو (سَلَّ یَسُلُّ ) سے (فُعَالَۃ) کا وزن ہے) یہ نطفہ رحم مادر میں قرار پاتا ہے پھر اس سے لڑکا یا لڑکی کی تخلیق ہوتی جاتی ہے۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

اور اس میں اپنی روح پھونک دی، اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دئیے، تم کم شکر ادا کرتے ہو۔

(ثُمَّ سَوّٰہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْءِدَۃَ ) (پھر اللہ نے اس کو ٹھیک طرح بنا دیا یعنی وہیں اندر اندر رحم مادر میں اس کی شکل و صورت بنا دی، اعضاء بنا دئیے پھر اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی، اس روح کے پھونکے جانے کے بعد جیتی جاگتی تصویر بن گئی، اس تصویر میں کان بھی بنا دئیے اور آنکھیں بھی اور دل بھی) اب جو بچہ باہر آیا تو وہ ہاتھ پاؤں کے اعتبار سے صحیح جاندار سننے اور دیکھنے والا اور اپنے دل کو ادراک اور فہم میں استعمال کرنے والا سامنے آگیا، گو یہ قویٰ اور ادراکات بتدریج نشوونما کے ساتھ ترقی پذیر ہوتے ہیں لیکن ابتداء ہی سے اس پیدا ہونے والے بچہ میں یہ چیزیں بطور ودیعت رکھ دی جاتی ہیں۔ (قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ ) انسانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کا شکر ادا کریں جس نے نطفہ سے رحم مادر میں اس کی تخلیق کی ابتداء کی اس کے اعضاء بنائے اور اس میں اپنی روح پھونکی اور اس میں قوت سامعہ و باصرہ ودیعت رکھی اور اس کے اندرون جسم دل بھی مرکب فرما دئیے جس کے دو کام ہیں، ایک تو رگوں میں خون کو برابر پھینکتے رہنا، دوسرے سوچنا سمجھنا، ان سب انعامات کا تقاضا یہ ہے کہ بنی آدم اپنے خالق کے شکر گزار ہوں لیکن شکر ادا کرنے ووالے کم ہیں اور جو شکر ادا کرنے والے ہیں وہ بھی بقدر استطاعت شکر ادا نہیں کرتے اور پورا شکر تو ادا ہو ہی نہیں سکتا۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کیا یہ واقعی بات ہے کہ جب ہم مٹی میں رل مل جائیں گے تو نئے طور پر پیدا ہوں گے، بلکہ بات یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔

اس کے بعد منکرین قیامت کا ذکر فرمایا (وَقَالُوْٓاءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ بَلْ ھُمْ بِِلِقَآئِ رَبِّھِمْ کٰفِرُوْنَ ) (اور ان لوگوں نے کہا کہ جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے تو کیا ہم نئے طور پر پیدا ہوں گے، بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں) وقوع قیامت کے منکرین جو باتیں کیا کرتے تھے ان باتوں میں سے ایک بات نقل فرمائی ہے، وہ یوں کہتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے زمین میں دفن ہوجائیں گے پھر ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور زمین میں ان کے ذرات رل مل جائیں گے اس وقت بھلا کیسے زندہ ہوسکتے ہیں ؟ ان کا یہ استبعاد دوسری آیات میں بھی ذکر فرمایا ہے، ان لوگوں کا یہ کہنا قیامت آنے کے انکار پر مبنی تھا اسی لیے فرمایا (بَلْ ھُمْ بِِلِقَآئِ رَبِّھِمْ کٰفِرُوْنَ ) (بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ )
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے ملک الموت تمہاری جانوں کو قبض کرتا ہے جو تم پر مقرر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

(قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے ملک الموت تمہاری جانوں کو قبض کرتا ہے جو تم پر مقرر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اس میں یہ بتایا کہ تمہیں مرنا بھی ضروری ہے اور زندہ ہو کر اپنے رب کی طرف لوٹنا بھی ضروری ہے اور موت واقع کرنے کا یہ طریقہ مقرر کیا گیا ہے کہ تم پر ملک الموت کو مسلط فرمایا ہے وہ تمہیں مقررہ وقت پر موت دے گا، جان کو رگ رگ سے نکالے گا، کافر کا عذاب اسی وقت سے شروع ہوجائے گا۔
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور اے مخاطب ! اگر تو اس موقعہ کو دیکھے جبکہ مجرم لوگ اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے تو عجیب منظر دیکھے گا۔ یہ لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا سو ہم کو واپس بھیج ہم نیک عمل کریں گے بلاشبہ ہمیں یقین آگیا۔

قیامت کے دن مجرمین کی بدحالی اور دنیا میں واپس ہونے کی درخواست کرنا یہ تین آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے، پہلی آیت میں مجرمین کی ایک حالت بتائی ہے کہ یہ لوگ دنیا میں وقوع قیامت کا انکار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے : (وَقَالُوْٓاءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ) جب یہ لوگ قیامت کے دن حاضر ہوں گے اور بارگاہ الٰہی میں پیشی ہوگی تو رسوائی اور ذلت کے مارے ہوئے سر جھکائے ہوں گے اور یوں کہیں گے کہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا جس بات کے منکر تھے وہ سمجھ میں آگئی لہٰذا ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیجیے اب واپس ہو کر اچھے عمل کریں گے، ہمیں پوری طرح ان باتوں کا یقین آگیا جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے نائبین سناتے اور سمجھاتے تھے۔ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات محقق ہوچکی ہے کہ دوزخ کو جنات سے اور انسانوں سے بھر دینا ہے، دونوں گروہ کے افراد کثیر تعداد میں دوزخ میں جائیں گے جنہوں نے دنیا میں کفر اختیار کیا یہ لوگ وہاں اکٹھے ہوں گے، یہ بات ازل سے طے شدہ ہے اور کافروں کے لیے مقدر ہے۔ جب ابلیس نے (لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) کہا تھا اس وقت اللہ جل شانہٗ نے فرما دیا تھا (لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ) (کہ اے ابلیس میں تجھ سے اور جو تیرا اتباع کرے گا ان سب سے دوزخ کو بھر دوں گا۔ ) ہدایت یعنی اراء ۃ الطریق تو سب ہی کے لیے ہے لیکن ہدایت بمعنی ایصال الی المطلوب سب کے لیے نہیں ہے، دوزخ کو بھی بھرنا ہے اور جنت کو بھی، اور جو شخص دوزخ میں جائے گا وہ اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنے کی وجہ سے جائے گا۔ اسے دنیا میں ایمان اور کفر کے دونوں راستے دکھا دئیے گئے، اسے اختیار دے دینے کی وجہ سے کسی کو ایمان یا کفر پر مجبور نہیں کیا گیا، جیسا کہ سورة کہف میں فرمایا (وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ ) (اور آپ فرما دیجیے کہ تمہاری طرف حق آچکا ہے سو تم میں سے جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے) بہرحال اللہ تعالیٰ نے اختیار بھی دیا ہے اور قضاء اور قدر کا فیصلہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ کافر ہوں گے اور بہت سے لوگ مومن ہوں گے اور کافر دوزخ میں جائیں گے اور اہل ایمان جنت میں۔ جو امر اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے اس کا وجود میں آنا ضروری ہے۔ کفار جو وہاں کہیں گے کہ ہمیں واپس کردیا جائے ہم نیک بنیں گے، ان کا یہ وعدہ غلط ہوگا، سورة انعام میں فرمایا (لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَانُھُوْا عَنْہُ وَاِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (اور اگر واپس کردئیے جائیں تو پھر لازم طور پر وہی کام کریں گے جن سے منع کیا گیا ہے اور بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں) اور سورة فاطر میں ہے کہ ان کے واپس لوٹا دئیے جانے کی درخواست کے جواب میں یوں ارشاد ہوگا : (اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَآءَ کُمُ النَّذِیْرُ ) (کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرلیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا۔ ) تیسری آیت میں فرمایا کہ مجرمین کی واپسی کی درخواست کے جواب میں ان سے کہا جائے کہ تم آج کے دن کی ملاقات کو جو بھول گئے تھے (اور اسی بھولنے کی وجہ سے نافرمانی پر تلے ہوئے تھے) اس بھولنے کی وجہ سے عذاب چکھ لو۔
Ayahs 32:13–15

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو جنات سے اور انسانوں سے بھر دوں گا جو اس میں اکٹھے ہوں گے،

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو تم آج کے دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے چکھ لو، بلاشبہ ہم نے تمہیں بھلا دیا اور تم جو اعمال کیا کرتے تھے ان کی وجہ سے ہمیشگی والا عذاب چکھ لو۔

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں جس کے ساتھ حمد بھی ہوتی ہے اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

اہل ایمان کی صفات، مومنین کا جنت میں داخلہ، اہل کفر کا دوزخ میں برا ٹھکانہ ان آیات میں مومنین صالحین کی بعض صفات اور ان کے انعامات بیان فرمائے ہیں اور کافرین فاسقین کا ٹھکانہ اور ان کی بدحالی بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو تذکیر اور نصیحت کا اثر لیتے ہیں، جب انہیں ہماری آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو انہیں سن کر سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور تحمید میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تکبر بھی نہیں کرتے۔ مزید فرمایا کہ ان کے پہلو اپنے لیٹنے کی جگہوں سے یعنی خوابگاہوں سے دور ہوجاتے ہیں وہ ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، اس میں نماز تہجد پڑھنے والوں کی فضیلت بتائی ہے کہ یہ لوگ سونے اور آرام کرنے کے لیے لیٹتے ہیں پھر تھوڑا سا آرام کرکے بستر کو چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور وضو کرکے نماز میں لگ جاتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگتے ہیں اور اس کے انعامات کی امید بھی رکھتے ہیں اور گرفت اور مواخذہ ہونے سے بھی ڈرتے ہیں۔ درحقیقت خوف اور طمع (ڈرنا اور نعمتوں اور مغفرتوں کی امید رکھنا) یہ دونوں مومن کی زندگی کے اہم جزو ہیں، مومن کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ رہنی چاہئیں یعنی گناہوں سے بچتا رہے اعمال صالح کرتا رہے اور عدم قبولیت کا خوف بھی لگا رہے، جیسا عمل چاہیے ویسا نہ ہونے کی وجہ سے مواخذہ سے بھی ڈرے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے اچھی امید بھی لگائے رکھے، جس کے دل سے خوف گیا وہ گناہ بھی کرے گا اعمال بھی ترک کرے گا اور فسق میں ترقی کرتا چلا جائے گا اور جس کے دل سے امید نکل گئی، اللہ کی طرف سے مغفرتوں اور نعمتوں کا امیدوار نہ رہا ایسا شخص دعا بھی نہ کرے گا، خوف اور طمع نہ ہو تو بندہ محرومی کے غار میں اترتا چلا جاتا ہے۔ جو شخص تہجد کا اہتمام کرے گا ظاہر ہے کہ فرائض و سنن کی ادائیگی کا اس سے زیادہ فکر مند ہوگا، لہٰذا اس میں نمازوں کا اہتمام کرنے والوں کی تعریف بیان فرما دی اور ساتھ ہی (وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) بھی فرما دیا کہ یہ لوگ نمازوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ بھی کرتے ہیں۔ لفظوں کا عموم زکوٰۃ اور نفلی صدقہ اور صدقہ واجبہ سب کو شامل ہے اور قلیل و کثیر سب کچھ اس میں آگیا، یعنی یہ جو فرمایا کہ ہم نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اس میں ایک پیسے سے لے کر لاکھوں خرچ کرنا سب داخل ہوگیا، اللہ کی رضا میں خرچ کرنے کے لیے مالدار ہونا ضروری نہیں جس کے پاس تھوڑا سامان ہو وہ اسی میں سے خرچ کرے، خرچ کرنے کا ذوق ہو تو زیادہ مالیت اور کم مالیت سے کچھ فرق نہیں پڑتا اور تھوڑا مال ہونا بھی خرچ سے مانع نہیں ہوتا، بعض صحابہ ؓ نے تو یہاں تک کیا کہ اپنے پاس کچھ نہ ہوا تو مزدوری کرکے کچھ حاصل کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو لیٹنے کی جگہوں سے جدا ہوتے ہیں، وہ ڈرتے ہوئے اور امید باندھتے ہوئے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

نماز تہجد کی فضیلت (تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ ) سے نماز تہجد مراد ہے جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا، صاحب معالم التنزیل (جلد 3) فرماتے ہیں کہ یہ اشہر الاقوال ہے اور اس کی تائید میں حضرت معاذ بن جبل ؓ سے ایک روایت بھی نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سفر میں ساتھ چلتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے ذریعہ جنت میں داخل ہوجاؤں اور دوزخ سے دور رہ سکوں، سید دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے بہت بڑی چیز کا سوال کیا اور حقیقت میں کچھ بڑی بھی نہیں، جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان فرما دیں، اس کے لیے بیشک ضرور آسان ہے، اس کے بعد فرمایا کہ (وہ عمل یہ ہے کہ) تو اللہ کی عبادت کر اور کسی کو اس کا شریک نہ بنا اور نماز قائم کر اور زکوٰۃ ادا کر اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کر، پھر فرمایا کہ کیا تم کو خیر کے دروازے نہ بتادوں ؟ (سنو ! ) روزہ ڈھال ہے (جو نفس کی شہوتوں کو توڑ کر شیطان کے حملہ سے بچاتا ہے) اور صدقہ گناہ کو بجھا دیتا ہے (یعنی گناہوں کی وجہ سے جو دوزخ کی آگ جلائی ہے اس سے محفوظ کردیتا ہے گویا کہ اس آگ کو بجھا دیتا ہے) اور انسان کا رات کے درمیان نماز پڑھنا (تہجد کے وقت) نیک بندوں کا امتیازی نشان ہے، اس کے بعد سرور کائنات ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (جس میں تہجد پڑھنے والوں کی تعریف کی گئی ہے) (تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآءً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (ان کی کروٹیں (بستر سے چھوڑ کر) لیٹنے کی جگہوں سے جدا ہوتی ہیں، وہ اپنے رب کو امید سے اور خوف سے پکارتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں سو کسی شخص کو خبر نہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے لیے چھپا دیا گیا ہے یہ خزانہ ان کو ان کے اعمال کا صلہ ملا ہے) پھر فرمایا کہ تم کو احکام الٰہیہ کی جڑ اور اس کا ستون اور اس کی چوٹی کا عمل نہ بتادوں ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے ! آپ ﷺ نے فرمایا احکام الٰہیہ کی جڑ فرمانبرداری ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور چوٹی کا عمل جہاد ہے۔ پھر فرمایا کیا تم کو ان سب کا جزو اصلی نہ بتادوں (جس کو عمل میں لانے سے ان سب چیزوں پر عمل کرسکو گے) میں نے عرض کیا یا نبی اللہ ضرور ارشاد فرمائیے ! آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا اسے قابو میں رکھ کر اپنی نجات کا سامان کرو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! جو باتیں ہم بولتے ہیں کیا ان پر بھی پکڑ ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! تم بھی عجیب آدمی ہو ! دوزخ میں منہ کے بل اوندھے کرکے جو چیز لوگوں کو دوزخ میں گرائے گی وہ ان کی زبان کی باتیں ہی تو ہوں گی۔ پھر فرمایا تم جب تک خاموش رہتے ہو محفوظ رہتے ہو اور جب بولتے ہو تو تمہارا بول تمہارے لیے ثواب یا عذاب کا سبب بنا کر لکھ دیا جاتا ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے یہ حدیث اپنی سند سے ذکر کی ہے اور صاحب مشکوٰۃ المصابیح نے ص 14 پر مسند احمد اور سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ سے نقل کی ہے، خوابگاہوں سے پہلو جدا ہوتے ہیں اس کا مصداق نماز تہجد بتا کر صاحب معالم التنزیل نے دیگر اقوال بھی نقل کیے ہیں، حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، یہ حضرات مغرب کی نماز پڑھ کر ٹھہر جاتے تھے اور جب تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز نہ پڑھ لیتے تھے گھروں کو نہیں جاتے تھے حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت ان صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی جو مغرب کی نماز کے بعد عشاء تک برابر نماز پڑھتے رہتے تھے، اور حضرت ابو الدرداء اور حضرت ابوذر اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت میں ان حضرات کی تعریف فرمائی ہے جو عشاء اور فجر جماعت سے پڑھتے ہیں۔ (معالم التنزیل جلد 3 ص 500) در حقیقت ان اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے البتہ صلوٰۃ اللیل یعنی نماز تہجد کا مصداق ہونا متبادر ہے اور حدیث شریف سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے، البتہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ جب نماز تہجد کے لیے خوابگاہ چھوڑنے کی فضیلت ہے جو نفل نماز ہے تو نماز فجر کے لیے گرمی اور سردی میں بستر چھوڑ کر نماز فجر ادا کرنے کی فضیلت کیوں نہ ہوگی جو فرض نماز ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر میں نماز فجر جماعت سے پڑھ لوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے جو پوری رات نماز میں کھڑا رہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح) حضرت اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک ہی میدان میں جمع کیا جائے گا (اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ایک منادی پکار کر کہے گا کہاں ہیں وہ لوگ جن کے پہلو خوابگاہوں سے جدا ہوجاتے تھے، یہ سن کر کچھ لوگ کھڑے ہوجائیں گے جن کی تعداد تھوڑی ہوگی یہ لوگ بغیر حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے، اس کے بعد باقی لوگوں کا حساب شروع کرنے کا حکم ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 487)
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

سو کسی شخص کو اس کا علم نہیں ہے جو ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے یہ ان اعمال کا بدلہ ہوگا جو دنیا میں کیا کرتے تھے۔

جن حضرات کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں ان کا انعام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے لیے جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان پوشیدہ کیا ہوا ہے اسے کوئی شخص نہیں جانتا، اس میں اجمالی طور پر جنت کی نعمتوں کا مرتبہ بتایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے بندوں کے لیے وہ سامان تیار کیا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا گذر ہوا، اس کے بعد راوی حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو (فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) (صحیح بخاری ج 2 ص 704) درحقیقت بات یہ ہے کہ جنت کی جن چیزوں کا قرآن و حدیث میں تذکرہ ہے اس میں کسی نعمت کی پوری کیفیت بیان نہیں کی گئی جو کچھ بیان فرمایا ہے وہاں کی نعمتیں اس سے بہت بلند ہیں اور بالا ہیں اس لیے فرما دیا کہ آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان اہل جنت کے لیے تیار کیا گیا ہے کوئی آنکھ تو دنیا میں اسے کیا دیکھ پاتی کسی کان نے اس کی کیفیت کو سنا تک نہیں اور کسی کے دل میں اس کا تصور تک نہیں آیا۔ جنت کے متعلق جو کچھ سن کر اور پڑھ کر سمجھ میں آتا ہے جب جنت میں جائیں گے تو اس سے بہت بلند وبالا پائیں گے، پھر جنت کی جن نعمتوں کا تذکرہ قرآن و حدیث میں موجود ہے وہاں ان کے علاوہ بہت زیادہ نعمتیں ہیں، نیز کسی چیز کے دیکھنے اور استعمال کرنے سے جو پوری واقفیت حاصل ہوتی ہے وہ محض سننے سے حاصل نہیں ہوتی لہٰذا اس دنیا میں رہتے ہوئے نعمائے جنت کی واقعی حقیقت و کیفیت کا ادراک نہیں ہوسکتا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر جنت کی نعمتوں میں سے اتنی تھوڑی سی کوئی چیز دنیا والوں پر ظاہر ہوجائے جسے ناخن پر اٹھا سکتے ہیں تو آسمان اور زمین کے کناروں میں جو کچھ ہے وہ سب مزین ہوجائے، اور اہل جنت میں سے کوئی شخص دنیا کی طرف جھانک لے جس سے اس کے کنگن ظاہر ہوجائیں تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو ختم کردے جیسا کہ سورج ستاروں کی روشنی کو ختم کردیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ ساری دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سب سے بہتر ہے۔ (رواہ البخاری) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی جنت میں نہیں ہے صرف ناموں کی مشابہت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کے تذکرہ میں جو سونا چاندی، موتی، ریشم، درخت، پھل ہیرے، تخت، گدے، کپڑے وغیرہ آئے ہیں یہ چیزیں وہاں کی چیزیں ہوں گی اور اسی عالم کے اعتبار سے ان کی خوبی اور بہتری ہوگی، دنیا کی کوئی بھی چیز جنت کی کسی چیز کے پاسنگ بھی نہیں ہے۔ تنبیہ : نیک بندوں کی تعریف فرماتے ہوئے (وَھُمْ لاَ یَسْتکْبِرُوْنَ ) بھی فرمایا ہے یہ سلبی صفت ہے دیگر صفات ایجابی ہیں۔ بات یہ ہے کہ تکبر بہت بری بلا ہے اپنی بڑائی بگھارنا، شہرت کا طالب ہونا، دوسروں کو حقیر جاننا دکھاوے کے لیے عبادت کرنا تاکہ لوگ معتقد ہوں، یہ سب تکبر کے شعبے ہیں۔ تکبر عبادات کا ناس کھو دیتا ہے، کیا کرایا سب مٹی میں مل جاتا ہے، ریا کاری کی وجہ سے اعمال باطل ہوجاتے ہیں اور وہ مستوجب سزا بھی ہے جیسا کہ احادیث شریفہ میں اس کا تذکرہ آیا ہے، مومن بندوں پر لازم ہے کہ تکبر سے دور رہیں، تواضع اختیار کریں، فرائض بھی ادا کریں، واجبات بھی پورے کریں، نوافل بھی پڑھیں، زکوٰۃ بھی دیں، صدقہ بھی کریں، سب سے اللہ کی رضا مقصود ہو، دکھاوا نہ کریں اور نہ بندوں سے تعریف کے خواہشمند ہوں۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

سو جو شخص مومن ہوگیا وہ فاسق کی طرح ہوسکتا ہے ؟ برابر نہیں ہیں

مومن اور فاسق برابر نہیں مومنین صالحین کا اجر و انعام بتانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا) کیا جو شخص مومن ہو وہ فاسق کی طرح ہوسکتا ہے ؟ پھر خود ہی جواب دے دیا (لَا یَسْتَوٗنَ ) (مومنین اور فاسقین برابر نہیں ہوسکتے) اس کے بعد دوبارہ اہل ایمان کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ہی کافروں کے عذاب کا بھی، ارشاد فرمایا (اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰی) (جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے باغ ہوں گے ٹھہرنے کی جگہوں میں) (نُزُلًا بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (یہ بطور مہمانی ان اعمال کا بدلہ ہوں گے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے) (وَاَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰھُمُ النَّارُ ) (اور جن لوگوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے) (کُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَآ اُعِیْدُوْا فِیْھَا) (جب بھی اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اس میں واپس لوٹا دئیے جائیں) (وَقِیْلَ لَھُمْ ذُوْقُوْا عَذَاب النَّارِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ) (اور ان سے کہا جائے گا کہ آگ کا عذاب چکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے) جب ایمان والوں اور نافرمانوں کے انجام میں فرق ہے کہ اہل ایمان ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں ہوں گے اور وہاں ان کے ساتھ مہمانوں جیسا برتاؤ ہوگا اور نافرمان دوزخ میں جائیں گے تو دونوں فریق برابر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اہل کفر کی ذلت کا یہ عالم ہوگا کہ جب اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں دھکیل دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم جھٹلانے والا عمل کیا کرتے تھے اس کی وجہ سے آگ کا عذاب چکھتے رہو۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ آیت کریمہ (اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا) حضرت علی ؓ اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی، دونوں میں کچھ گفتگو ہو رہی تھی ولید نے حضرت علی ؓ سے کہہ دیا کہ چپ ہوجا تو بچہ ہے اور میں بولنے میں تجھ سے بہتر ہوں اور نیزہ بھی زیادہ تیز ہے اور دل اور بھی تجھ سے زیادہ ہوں، اس پر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ چپ ہوجا تو فاسق ہے، اس پر آیت بالا نازل ہوئی (فی صحتہ کلام طویل ذکرہ صاحب الروح فراجعہ ان شئت، قال صاحب الروح وفی روایۃ اخریٰ انھا نزلت فی علی کرم اللّٰہ ورجل من قریش ولم یسمہ) (اس بات کے صحیح ہونے میں طویل کلام ہے جسے روح المعانی والے نے ذکر کیا ہے اگر آپ چاہیں تو اسے دیکھ لیں۔ روح المعانی کے مصنف (رح) نے کہا ہے کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ آیت حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ایک دوسرے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ دوسرے آدمی کا نام ذکر نہیں کیا۔ )
Ayahs 32:19–21

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے باغ ہوں گے ٹھہرنے کی جگہوں میں یہ بطور مہمانی ان اعمال کے بدلہ ہوں گے جو دنیا میں کیا کرتے تھے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے جب بھی اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اسی میں واپس لوٹا دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ آگ کا عذاب چکھ لو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ضرور ضرور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے قریب والا عذاب چکھا دیں گے تاکہ وہ باز آجائیں،

اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ) (اور ہم انہیں ضرور ضرور بڑے عذاب سے پہلے قریب والا عذاب چکھا دیں گے تاکہ وہ باز آجائیں) بڑے عذاب سے مراد آخرت کا عذاب اور قریب والے عذاب سے دنیا کا عذاب مراد ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اس کی تفسیر میں دو باتیں منقول ہیں، اول یہ کہ اہل مکہ کو جو چند سال قحط میں مبتلا کیا اس سے وہ عذاب مراد ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مشرکین مکہ کا غزوہ بدر میں مقتول ہونا اور شکست کھانا مراد ہے۔ اگر (وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ ) کی ضمیر منصوب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہو تو یہ دونوں تفسیر اس کے مناسب ہیں، اور اگر عمومی طور پر سب ہی کافر اس ضمیر کا مرجع قرار دئیے جائیں تو پھر دنیا کے مصائب اور امراض مراد ہوں گے، حضرت ابن عباس ؓ سے یہ تیسرا قول بھی مروی ہے۔ دنیا کا یہ عذاب ایمان کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہوتا ہے تاکہ تنبہ ہوجائے اور توبہ کی طرف رجوع کرلیں۔ (روح المعانی جلد 21 ص 134، 135)
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جسے اس کے رب کی آیات یاد دلائی جائیں پھر وہ ان سے اعراض کرے، بلاشبہ ہم مجرمین سے بدلہ لینے والے ہیں۔

آخر میں فرمایا (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْھَا) (اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جسے اس کے رب کی آیات یاد دلائی جائیں پھر وہ ان سے اعراض کرے) (اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ ) (اور بلاشبہ ہم مجرمین سے بدلہ لینے والے ہیں) اس میں مکذبین کے مستحق عذاب ہونے کی وجہ بتائی ہے کہ ہماری آیات کو جھٹلا کر بڑے ظالم بن گئے، نیز امام الانبیاء جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی تسلی ہے کہ یہ لوگ جو تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ہم ان سے بدلہ لے لیں گے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ پہلے ان حضرات کی تعریف فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر سجدے میں گرپڑتے ہیں اور ان آیات میں ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی جن کے سامنے اللہ کی آیات آئیں پھر وہ ان سے اعراض کریں۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی سو آپ اس کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجیے اور ہم نے ان کو بنی اسرائیل کے لیے موجب ہدایت بنایا تھا۔

جن چیزوں میں اختلاف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں قیامت کے دن فیصلہ فرما دے گا یہ تین آیات کا ترجمہ ہے، پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی (انہوں نے اس کی اشاعت میں تکلیفیں برداشت کیں) اور اب آپ کو یہ کتاب دی ہے یعنی قرآن مجید عطا فرمایا ہے آپ اس کتاب کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجیے یعنی آپ صاحب کتاب ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی آتی ہے، آپ کا بلند مرتبہ ہے، اس بلند مرتبہ کے ہوتے ہوئے اگر کج فہم آپ کی دعوت پر دھیان نہ دیں تو آپ غم نہ کریں، موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی وہ محنت کرتے رہے اور ایذا دینے والوں کی باتوں پر صبر کرتے رہے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ (فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآءِہٖ ) کا خطاب گو بظاہر حضور اکرم ﷺ کو ہے لیکن مقصود خطاب آپ ﷺ کی امت ہے اور وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن مجید کے بارے میں کتاب اللہ ہونے میں شک تھا۔ حضرت حسن نے فرمایا کہ (لِّقَآءِہٖ ) کی ضمیر مجرور شدت اور محنت کی طرف راجع ہے جو کلام سے مفہوم ہو رہی ہے (فکانہ قیل : ولقد اٰتینا موسیٰ ھذا العبء الذی انت بسبیلہٖ فلا تمترانک تلقی مالقی ھو من الشدۃ والمحنۃ بالنّاس) (ذکرہ صاحب روح) (گویا کہ کہا گیا ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہی مشقت دی ہے جس مشقت کے راستہ پر آپ چل رہے ہیں پس آپ گھبراہٹ میں نہ پڑیں لوگوں کی طرف سے جو تکالیف و پریشانیاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہنچیں وہ یقیناً آپ کو بھی پہنچیں گی) صاحب بیان القرآن نے اپنی تفسیر میں ضمیر کا مرجع تو کتاب ہی کو بتایا ہے البتہ شدت و محنت والی بات لے لی ہے ہم نے بھی ان کا اتباع کیا ہے اگرچہ صاحب روح المعانی آخر میں فرماتے ہیں : (ولا یخفی بعدہ) (اور اس توجیح کا بعید ہونا ظاہر ہے۔ ) (وَجَعَلْنٰہُ ھُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ) اور ہم نے اس کتاب کو (جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی تھی) بنی اسرائیل کے لیے سبب ہدایت بنایا تھا اسی طرح آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب بھی آپ کی امت کے لیے ہدایت کا سبب ہے۔
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے جبکہ انہوں نے صبر کیا، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔

دوسری آیت میں فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل میں پیشوا بنا دئیے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے جبکہ انہوں نے صبر کیا (اس سے معلوم ہوا ہدایت اور محنت کی کوشش میں صبر کرنا ضروری ہے لہٰذا آپ بھی صبر کریں) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے یہ یقین انہیں ہدایت اور دعوت کے کام پر ثابت قدم رکھتا تھا۔ (اَءِمَّۃً ) سے کون حضرات مراد ہیں ؟ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے انبیاء کرام (علیہ السلام) مراد ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی امت کے افراد مراد ہیں جو ہدایت اور دعوت کے کام میں لگے رہتے تھے، یہ دوسرا قول اقرب ہے کیونکہ (وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ ) حال کے مناسب ہے، حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تو اصحاب یقین تھے ہی (قال صاحب الروح ج 21 ص 138 والمراد کذالک لنجعلن الکتٰب الذی اتیناک اولنجعلنک ھدًی لامتک ولنجعلن منھم ائمۃ یھدون مثل تلک الھدایۃ) (تفسیر روح المعانی کے مصنف نے کہا ہے اور مراد یہ ہے کہ اسی طرح ہم نے آپ کو جو کتاب دی اسے یا خود آپ کو آپ کی امت کے لیے ہدایت کا سامان بنائیں گے اور ہم ضرور ان میں رہنما بنائیں گے جو اس ہدایت کے مطابق راہنمائی کریں۔ )
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان چیزوں میں فیصلے فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

تیسری آیت میں یہ فرمایا کہ قیامت کے دن آپ کا رب ان کے درمیان ان امور کے بارے میں فیصلہ فرما دے گا جن میں یہ لوگ آپس میں اختلاف کرتے تھے یعنی اہل ایمان کو جنت میں اور اہل کفر کو دوزخ میں داخل فرما دے گا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے کہ جو لوگ آپ کے مخالف ہو رہے ہیں اگر کفر ہی پر جمے رہے تو قیامت کے دن سزا مل ہی جائے گی۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اس چیز نے ہدایت نہیں دی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں، یہ لوگ ان کے رہنے کی جگہوں میں چلتے پھرتے ہیں، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں، کیا یہ لوگ نہیں سنتے،

ہلاک شدہ اقوام کے مساکن سے عبرت حاصل کرنے کی تاکید، کھیتیاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں جن سے بنی آدم اور مویشی کھاتے ہیں جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور اس تکذیب پر عذاب آجانے کی وعید سنتے تھے وہ عذاب آنے کی بھی تکذیب کرتے تھے اور یوں سمجھتے تھے کہ عذاب آنے والا نہیں یہ یوں ہی باتیں ہیں، ایسے لوگوں کو تنبیہ کے لیے فرمایا کہ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتیں ہلاک کردی ہیں، یہ خبریں ان تک پہنچائی ہوئی ہیں اور ان لوگوں کی ہلاکت کے واقعات انہوں نے سن رکھے ہیں اور صرف سنے ہی نہیں آنکھوں سے بھی ان کی تباہیوں کے آثار دیکھتے ہیں، جب اپنی تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں (خصوصاً اہل مکہ جو تجارت کے لیے شام جایا کرتے تھے) تو یہ لوگ بربادشدہ اقوام کے کھنڈرات پر گزرتے ہیں تو ان کے قلعے گرے ہوئے اور مکانات ٹوٹے ہوئے اور بیکار پڑے ہوئے کنویں نظروں سے دیکھتے ہیں، کیا یہ بات ان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے، اگر فکر کریں اور تھوڑا سا بھی سوچیں تو یہ نشانیاں ہدایت کا سبب بن سکتی ہیں، جب یہ چیزیں نظر کے سامنے ہیں تو کیوں ہدایت حاصل نہیں کرتے، سورة الحج میں فرمایا (فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا وَھِیَ ظَالِمَۃٌ فَھِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِھَا وَبِءْرٍ مُّعَطَّلَۃِ وَّقَصْرٍ مَّشَیْدٍ ) (سو کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا اور حال یہ ہے کہ ان کے رہنے والے ظلم کرنے والے تھے، سو وہ اپنی ہی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے ہی بےکار کنوئیں ہیں اور پختہ بنائے ہوئے محل ہیں جو ویران پڑے ہیں۔ ) پھر ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جو قیامت کے منکر تھے اور یوں کہتے تھے کہ دوبارہ زندہ ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آتا ان کے بارے میں فرمایا کیا یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ زمین خشک پڑی رہتی ہے، اس میں ذرا بھی ایک سبز پتہ کا نشان بھی نہیں ہوتا ہم اس زمین کی طرف پانی روانہ کرتے ہیں جو بادلوں سے برستا ہے اور نہروں اور کنوؤں سے بھی حاصل کیا جاتا ہے جب یہ پانی زمین میں اترتا ہے تو ہم اس سے کھیتی نکال دیتے ہیں، یہ کھیتی ان کے کام آتی ہے اس سے ان کے جانوروں کا چارہ بھی بنتا ہے اور خود بھی یہ لوگ اس میں سے کھاتے ہیں، یہ مردہ زمین کو زندہ کرنا انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی زندہ مثال ہے اگر سمجھنا چاہیں تو سمجھ سکتے ہیں یہ سب کچھ نظروں کے سامنے ہے کیوں نہیں دیکھتے ؟ سورة روم میں فرمایا (فَانْظُرْ الآی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ کَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (سو اے مخاطب اللہ کی رحمت کے آثار کو دیکھ لے وہ زمین کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ فرماتا ہے، بلاشبہ وہ ضرور مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ چیز پر قادر ہے۔ )
Ayahs 32:27–28

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم سوکھی زمین کی طرف پانی کو روانہ کرتے ہیں پھر اس کے ذریعہ کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے مویشی اور خود یہ لوگ کھاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ فتح کب ہوگی اگر تم سچے ہو،

فتح کے دن کافروں کا ایمان نفع نہ دے گا جب منکرین اور معاندین کے سامنے قیامت کے واقع ہونے اور وہاں فیصلے کیے جانے کا ذکر ہوتا تھا تو کافر لوگ بطور مذاق ہنسی اڑاتے ہوئے یوں کہتے تھے کہ فیصلہ کا دن کب ہوگا ؟ تم سچے ہو تو ہمیں اس کی تاریخ بتادو، ان کے جواب میں فرمایا کہ انکار کرنے اور جلدی مچانے سے اس دن کے عذاب سے خلاصی نہ پاؤ گے آنے والی آہی جائے گی دیر میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ آنی ہی نہیں ہے، وہ آئے گی ضرور آئے گی اور کافروں کو بہت بری مصیبت کا سامنا ہوگا اسے دیکھ کر ایمان لاؤ گے تو ایمان بھی معتبر نہ ہوگا اور اگر یوں کہیں کہ ہمیں مہلت دے دی جائے تو مہلت بھی نہیں دی جائے گی (قال صاحب الروح فکانہٗ قیل لھم : لا تسعجلوا بہ ولا تستھزؤا فکأنی باسم وقد حصلتم فی ذٰلک الیوم واٰمنتم فلم ینفعکم الایمان واستنظرتم فی ادراک العذاب فلم تنظروا، وھذا قریب من اسلوب الحکم) (تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں گویا کہ ان سے کہا گیا ہے تم قیامت کی جلدی نہ مچاؤ اور نہ مذاق اڑاؤ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ تم قیامت کے دن میں داخل ہوچکے ہو اور تم اس دن کو دیکھ کر ایمان لائے اور تمہیں اس وقت کے ایمان نے کوئی نفع نہیں دیا ہے۔ تم نے عذاب سے بچاؤ کے لیے مہلت مانگی ہے لیکن تمہیں مہلت نہیں ملی یہ مفہوم امر کے صیغہ سے حکم کے انداز میں بات کہنے کے قریب ہے۔ )
Ayahs 32:29–30

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ فتح کے دن کافروں کو ان کا ایمان نہ نفع دے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

سو آپ ان سے اعراض کیجیے اور انتظار کیجیے بیشک وہ بھی منتظر ہیں۔

(فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ ) (سو آپ ان سے اعراض فرمائیے) ان کی تکذیب اور استہزاء کا وبال انہی پر پڑے گا، ان کا سمجھنے کا ارادہ نہیں ہے اور افہام و تفہیم بھی ان کے حق میں مفید نہیں۔ (وَانْتَظِرْ اِنَّھُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ ) (آپ انتظار کیجیے وہ بھی انتظار کر رہے ہیں) آپ ہماری مدد کے منتظر رہیں وہ غیر شعوری طور پر عذاب کے منتظر ہیں۔ ولقد تم تفسیر سورة السجدۃ بحمد اللّٰہ تعالیٰ وحسن توفیقہ للیلۃ الثانی عشر من شھر شعبان المعظم من شھور السنۃ السادس عشرۃ بعد الف والربع ماء ۃ سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ