32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 32:1–11

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں ، یہ جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اسے (پیغمبر نے) گھڑ لیا ہے بلکہ وہ آپ کے پروردگار کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو (انجام بد سے) ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ یہ لوگ راہ پر آجائیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کو چھ روز میں پیدا فرمایا پھر عرش پر قائم ہوا۔ اس کے سوا تمہارا کوئی دوست نہیں ہے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ پھر کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے پھر ہر امر اسی کے حضور پہنچ جائے گا ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار برس کی ہوگی

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی (اللہ) ہے جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا زبردست (اور) رحمت والا

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے جو چیز بنائی بہت خوب بنائی اور انسان کی پیدائش مٹی سے شروع فرمائی

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل کو خلاصہ اخلاط (یعنی) ایک بےقدر پانی سے بنایا

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس (کے اعضاء) کو درست فرمایا اور اس میں اپنی روح پھونکی اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے (مگر) تم بہت کم شکر کرتے ہو

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم زمین میں نیست ونابود ہوگئے تو کیا ہم پھر نئے جنم میں آئیں گے۔ بلکہ وہ اپنے پروردگار کے ملنے سے ہی انکاری ہیں

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ تمہاری جان موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تم پر متعین ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا کر لائے جاؤ گے

سورة السجدہ آیات 1 تا 11 اسرارومعارف نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے : اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا : اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔ نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں : نازل کی گئی ہے کہ یہ راہ راست پر آئیں اور یوں ان کی وساطت سے یہ پیغام حق انسانیت تک پہنچے کہ عرب میں آپ ﷺ سے قبل عہد حضرت اسمعیل (علیہ السلام) تک مقامی طور پر کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا اور مذہب کی جو بات ان تک پہنچی وہ باہر ہی سے پہنچی یا پھر کچھ لوگ ابھی تک دین ابراہیمی کے عقیدہ توحید پر ضرور قائم تھے نیز قرآن حکیم کے مخاطب اول اور رب جلیل اور انسانیت کے درمیان واسطہ صحابہ کرام ہیں۔ اللہ وہ عظیم ذات ہے جس نے آسمانوں کو زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کو صرف چھ دنوں میں پیدا فرمایا یعنی اتنا عظیم کارخانہ ایک حسن ترتیب سے بنایا ورنہ تو آن واحد میں سب کچھ بن جاتا پھر اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ افروز ہوا کہ عالم کو ایک منظم طریق پر رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔ استوی علی العرش : استوی علی العرش سے مراد یہ ہے کہ نظام عالم کا مرکز یا سیکریٹریٹ عرش کو قرار دیا تو اس لحاط سے نظام عالم کے لیے اس کا دربار عرش پہ سجا ہے اسی لیے دعا میں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں اور دعائیں عرش کو جاتی ہیں یا ارواح پر پیش ہوتی ہیں فرشتوں کو احکام وہ ان سے ملتے ہیں ورنہ اس کی ذات ہر جگہ موجود ہے اس کے باوجود نظام عالم کو ایک نقطہ پر مرکوز کردیا ہے۔ لہذا اگر اس کی اطاعت میں تم لوگ کوتاہی کروگے یا کفر کر کے اس نظام کو خراب کرنے کی کوشش کروگے تو پھر کوئی ایسا بھی نہ ہوگا کہ وہ تمہای سفارش کرسکے یا دوست بن کر مدد کرسکے سوائے اسی کی ذات کے اور وہ کافر کی مدد نہ فرمائے گا کیا تم اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں سکتے ہو۔ نظام عالم کی تدابیر اور احکام آسمانوں سے زمین کی طرف نازل ہوتے ہیں اور اہل زمین کا کردار و جواب پھر آسمان ہی کی طرف پلٹتا ہے یا اللہ کی بارگاہ کی طرف پلٹتا ہے جہان آسمانی دنیا میں ایک دن زمین پر اور تمہارے شمار کے حساب سے ایک ہزار سال کے برابر ہے یہ ایک جھلک ہے اس کی عظمت اور تمام ظاہر اور پوشیدہ امور اشیاء سے آگاہ اور واقف ہونے کی اور اس کے غلبہ وقدرت اور اس کی رحمت کی وہ جس نے ہر شے کی پیدائش و تخلیق میں حسن سمو دیا ہے یعنی تمام جواہر و اعراض یا تمام وجود اور کیفیات میں حسن ہے خرابی ان کے غلط استعمال سے ہوتی ہے کہ تمام موذی جانور بھی اپنی جگہ ضروری اور حسین ہیں کہ کائنات میں کسی نہ کسی ضروری کام میں لگے ہیں مگر جب اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کو ایذا دیتے ہیں تو خراب لگتے ہیں ایسے ہی غصہ ضد وغیرہ بری عادات اپنی ذات میں بری نہیں ہیں بلکہ ضروری ہیں ہاں جب ان کا استعمال غلط مقام پر ہوتا ہے تو برا لگتا ہے پھر وہ ایسا قادر ہے کہ انسان کو مٹی سے بناتا ہے مگر مٹی کے ذرات کو بیشمار تبدیلیوں سے گزار کر نطفہ بنا دیتا ہے کہیں غذا کہیں دوا کہیں دودھ کہیں شکر یا گوشت مگر سب کچھ مٹی ہے پھر غذا معدہ میں پک کر الگ ہو کر نطفہ بن جاتی ہے وہ شکم مادر میں پہنچ کر تربیت پاتا ہے اور وجود بنتا ہے پھر اس میں روح پھونک کر اسے انسانی حواس عطا فرماتا ہے وہ سننے دیکھنے کی قوت پاتا ہے اور دل پاتا ہے جو آرزو کرسکتا ہے اتنے انعامات کے باوجود تم انسانوں میں ایسے بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں بلکہ اپنی اس ساری تخلیق اور اس کے مدارج پر نگاہ نہ کر کے الٹا یہ کہتے ہیں کہ جب ہم گل سڑ کر مٹی میں مل جائیں گے تو دوبارہ ہمیں بنایا جانا کیسے ممکن ہے بلکہ جب وہ دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں تو ہماری بارگاہ میں حاضری اور روز قیامت ہی کا انکار کردیتے ہیں۔ موت اور قبض روح : ان سے فرما دیجیے کہ اللہ کا نظام اور اس میں ترتیب ہے موت بھی یونہی نہیں بلکہ اس پر بھی اللہ نے فرشتہ مقرر فرما دیا ہے جو تمہاری روح قبض کرے گا اور پھر وہی جسم دوبارہ اسی روح کے ساتھ زندہ ہو کر تم سب کو اللہ ہی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا۔ موت روح کے تصررف کو بدن سے روک کر فرشتہ کے قبض کرلینے کا نام ہے مگر اس کے باوجود مومن کی روح کا رشتہ بدن سے کافر سے بہت اعلی درجے کا ہوتا ہے اور شہداء کا اس قدر کہ ابدان خراب تک نہیں ہوتے نیز یہ قبض ارواح صرف انسان کے ساتھ مختص ہے حیوان میں نہ ایسی روح ہے اور نہ فرشتہ قبض کرتا ہے بلکہ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ حیوان کی حیات اللہ کا ذکر ہے جب غافل ہوتا تو مر جاتا ہے۔
Ayahs 32:12–22

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور اگر آپ دیکھیں کہ جب یہ گنہگار لوگ اپنے پروردگار کے سامنے اپنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! بس ہماری آنکھیں اور ہمارے کان کھل گئے (ہم نے دیکھ سن لیا) تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دیجئے کہ ہم نیک عمل کریں بیشک ہم یقین لانے والے ہیں

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو اس کی راہ عطا فرماتے و لیکن ہماری یہ بات سچ ہوچکی ہے کہ ہم جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور بھریں گے

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو اب (اس کا مزہ) چکھو جیسا کہ تم اپنے اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے بیشک ہم نے تم کو بھلا دیا (یعنی تمہاری کوئی پرواہ نہیں کی) اور اپنے اعمال کی وجہ سے ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

پس ہماری آیتوں پر وہ لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان (آیات) سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کرنے لگتے ہیں اور وہ غرور نہیں کرتے

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں وہ اپنے پروردگار کا خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

پس کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا جو ایمان والا ہے وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ وہ (دونوں) برابر نہیں ہوسکتے

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے سو ان کے لئے رہنے کی جگہ جنتیں ہیں جو ان کے اعمال کے بدلہ میں بطور مہمانی کے ہیں

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی تو ان کے لئے رہنے کی جگہ دوزخ ہے۔ جب چاہیں گے کہ اس میں نکل جائیں (تو) اس میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کو قریب کا (یعنی دنیا کا) عذاب بھی اس بڑے عذاب سے پہلے چکھا دیں گے شاید یہ لوگ باز آجائیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کو اس کے پروردگار کی آیات سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے۔ بیشک ہم ایسے مجرموں سے بدلہ لیں گے

آیات 12 تا 22 اسرارومعارف اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔ اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر دیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم اس دن کو اور حساب کتاب کو بھولے ہوئے تھے اس کے منکر تھے اب اس کا مزہ چکھو آج ہم بھی تمہارے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو بھولی بسری چیزوں سے کیا جاتا ہے کہ ان کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی نہ کبھی خبر گیری کی جاتی ہے لہذا اپنے کفریہ اعمال کے باعث اب ہمیشہ ہمیشہ اسی جہنم میں رہو۔ بیشک اللہ کی باتوں پے یقین اور ایمان کی دولت تو ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جن کے دلوں میں اللہ کی عظمت پیدا ہوجائے کہ ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے یا اللہ کی اطاعت کو دعوت دی جائے تو سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اس کی تعریف اور حمد و ثنا کرتے ہیں اور ان میں ہرگز کوئی تکبر نہیں ہوتا بلکہ ان کے پہلو اپنے بستر سے جدا رہتے ہیں یعنی راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ تہجد : رات کو سو کر اٹھے اور نوافل ادا کرے تو اس کو تہجد کہا جاتا ہے اگر کوئی یہ سمجھے کہ وہ اٹھ نہ سکے گا اور تہجد پڑھ کر سوئے تو بھی درست ہے مگر افضل صورت یہ ہے کہ سو کو اٹھے اور ادا کرے اس کے بیشمار فضائل تمام کتب میں دیے گئے ہیں اور جو لوگ عشاء باجماعت ادا کر کے فجر باجماعت ادا کرنے کے لیے اٹھ جاتے ہیں وہ بھی اس نوید میں شامل ہیں اور یوں راتوں کو اٹھ اٹھ کو اللہ کی بخشش و عطا کی امید اور اپنی خطاؤں سے ڈرتے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ نیز جو نعمتیں اللہ نے بخشی ہیں انہیں اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتے ہیں۔ تو ان طاعات کا کس قدر اور کتنا اعلی بدلہ دیا جائے گا کہ اس سے آنکھیں ٹھنڈی ہوں یہ کوئی نہیں جانتا یعنی عقل کی رسائی اور انسانی علوم سے بالاتر ہے۔ مومن و فاسق : تو اب جب دونوں فریقوں کا انجام واضح ہوگیا تو اے مخاطب سمجھ لے کہ مومن اور نافرمان کبھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے یہاں ایمان کو فسق اور نافرمانی کے مقابل لایا گیا ہے جس سے مقصود ہے کہ مومن کبھی نافرمان نہیں ہوتا خطا ہوجانا اور بات ہے مگر توبہ کرتا ہے مسلسل برائی پہ نہیں جم رہتا بلکہ جو لوگ ایمان لائے عقیدہ درست کیا اور اعمال کی اصلاح کرلی نیک کام کیے ان کے لیے تو مہمانی ہوگی اور جنت میں ان کا قیام ہوگا کہ یہی ان کے اعمال کا صلہ ہے اور جن لوگوں نے دنیا میں نافرمانی کا راستہ اپنایا ان کا گھر جہنم میں ہوگا جہاں سے اگر نکلنا بھی چاہیں گے تو واپس دھکیل دیے جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ جس جہنم اور اس کی آگ کا انکار کرتے تھے اب اسی کا مزہ چکھو۔ دنیا میں مصیبت آئے اور بندہ توبہ کرلے تو وہ بھی انعام ہی کہلائے گی : اس عظیم عذاب سے قبل دنیا میں بھی انہیں چھوٹے موٹے عذاب دیے جاتے ہیں کہ وہ توبہ کرلیں گویا دنیا کی مصیبت میں بھی انہیں چھوٹے موٹے عذاب دیے جاتے ہیں کہ وہ توبہ کرلیں گویا دنیا کی مصیبت میں بھی اگر توبہ اور اصلاح نصیب ہوجائے تو وہ مصیبت بھی راحت اور رحمت ہے ورنہ عذاب الہی ہے اور اس سے بڑھ کر جرم کیا ہوگا کہ کسی کو اللہ کے احکام قبول کرنے کی نصیھت کی جائے اور وہ اس سے لاپرواہی کرے تو ہم ایسے مجرموں سے ضرور انتقام لیں گے گویا مجرم دنیا میں بھی کسی نہ کسی صورت عذاب پاتے ہیں اور آخرت میں تو یقینا پائیں گے۔
Ayahs 32:23–30

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تھی تو آپ اس کے ملنے میں کوئی شبہ نہ کریں اور ہم نے اس (تورات) کو بنی اسرائیل کے لئے موجب ہدایت بنایا تھا

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے۔ اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار ان سب باتوں میں جن میں یہ آپس میں اختلاف کرتے تھے ، قیامت کے دن فیصلہ فرمادے گا

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کے لئے یہ بات راہنمائی کا سبب نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی امتیں ہلاک کرچکے ہیں جن کے بسنے کے مقامات میں یہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ بیشک اس میں (صاف) نشانیاں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم خشک افتادہ زمین کی طرف پانی پہنچاتے ہیں پھر اس کے ذریعے سے کھیتی پیدا فرماتے ہیں جس سے ان کے مویشی اور وہ خود بھی کھاتے ہیں۔ تو وہ دیکھتے کیوں نہیں ؟

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا اور نہ اس کو مہلت دی جائے گی

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

سو ان سے رخ انور پھیر لیجئے اور انتظار کیجئے بیشک وہ بھی منتظر ہیں

آیات 23 تا 30 اسرارو معارف اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔ فی مریۃ من لقائہ : اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب معراج کو ہوئی اور جس طرھ وہ فرعون اور آل فرعون پر غالب آئے آپ بھی کفار پر غالب ہوں گے۔ امام کے اوصاف اور بنی اسرائیل سے ہم نے ائمہ ہدایت بنائے کہ اللہ کے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے جب انہوں نے صبر یعنی اتباع شریعت میں ثابت قدمی مشکلات تکالیف کے باوجود عمل میں استقامت اور اللہ کی آیات پہ یقین یعنی شریعت کا علم حاصل کیا کہ یہاں لفظ امام کے ساتھ ہدایت ارشاد فرما کر ہدایت یافتہ لوگوں کے پیشوا فرمایا ورنہ کفار کے پیشوا بھی امام کہلاتے ہیں نیز دو اوصاف کو شرط قرار دیا عمل اور علم جبکہ عادتا علم پہلے ہوتا ہے مگر یہاں عمل کو پہلے ارشاد فرما کر ظاہر فرمایا ہے کہ نغیر عمل کے علم کا اعتبار نہیں۔ اور آپ کا پروردگار قیامت کے روز لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کردیں گے یعنی جب مومن و کافر اپنے اپنے مقام پر پہنچیں گے تو جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ اور آج بھی کفار کو کفر کے انجام سے باخبر ہونے کے لیے اپنے سے پہلے کافروں کا انجام دیکھ لینا چاہیے کہ کتنی شادو آباد اقوام کفر کے باعث تباہ برباد کردی گئیں۔ دنیا کا نظام تخلیق آخرت پہ دلیل ہے : ان باتوں میں بہت واضح دلائل موجود ہیں کیا انہیں سنائی نہیں دیتا اور قدرت باری کو یہ اپنی روزمرہ زندگی میں نہیں دیکھتے کہ کس طرح بارش برسا کر اسے ندیوں نالوں اور دریاؤں میں چلا کر خشک زمین میں پہنچاتے ہیں تو زمین سے رنگا رنگ روئیدگی پیدا ہونے لگتی ہے جس سے ان کے جانور بھی پلتے ہیں اور خود وہ بھی غذا حاصل کرتے تو یہ ایک ایک ذرے کو حیات تقسیم کرنے والا قادر مطلق بھلا انہیں دوبارہ کیسے زندہ نہیں کرسکتا کیا یہ ان باتوں کو نہیں دیکھتے۔ پھر کہتے بھلا آپ کے غلبے کا یا قیامت کا وقت کونسا ہے کب ایسا ہوگا اگر آپ سچ کہتے ہیں تو پھر ایسا ہو کیوں نہیں جاتا تو فرما دیجیے کہ جب تمہاری تباہی کا وقت آئے گا تو تمہیں کوئی خوشی نہ ہوگی بلکہ بدر میں موت آئے یا قیامت قائم ہو عندالموت تو تمہاری توبہ بھی قبول نہ ہوگی اور جب آخرت سامنے آجائے گی تو تم بھی مان لوگے مگر اس وقت تمہارا وہ مان لینا بھی تمہارے کام نہ آئے گا اور نہ کفار کو مہلت دی جائے گی۔ آپ ان کی پرواہ مت کیجیے اور وقت کا انتظار فرمائیے جب ان کی تباہی ہوگی کہ یہ بھی اسی انتظار میں ہیں۔ سورة سجدہ تمام ہوئی