32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsسراج البیان

Ayah 32:1
Ayah 32:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

کتاب کا اتارنا اس میں شک نہیں کہ جہان کے رب کی طرف سے ہے

Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں ! کہ اس کو وہ باندھ لایا ۔ کوئی نہیں بلکہ وہ تو تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ تو اس قوم (عرب) کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے (ف 1) پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں نہیں آیا ۔ شاید وہ راہ پائیں

ف 1: سورة لقمان میں زیادہ تر توحید کے مسائل کو بیان فرمایا تھا ۔ سورة سجدہ کا آغاز رسالت سے کیا ہے ۔ ارشاد ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ۔ غیر مشکوک ہے ۔ اس میں وہ تخیل ہے ۔ جو بتلانا ہے ۔ کہ اس کو بھیجنے والا تمام کائنات انسانی کا رب ہے ۔ اس میں ہر ذوق اور ہر قابلیت کے انسان کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ اس میں ہر ملک اور ہر قوم کے لئے برابر برکات اور سعادتیں ہیں ۔ یہ ہر زمانے میں لوگوں کی راہ نمائی کرتی ہے ۔ اس لئے اس کے متعلق یہ ظن کہ شاید یہ حضور ﷺ کا افتراء ہو ۔ محض سوء ظن ہے ۔ یہ حق وصداقت ہے ۔ واقعات اور فطرت کے مطابق ہے ۔ اور عقل و دانش کے قرین ہے ۔ ما اتھم من نذیر سے مراد یہ نہیں ہے کہ قریش مکہ پہلے کسی پیغام سے آشنا نہیں تھے ۔ اور پہلی دفعہ انہوں نے سچائی کی آواز کو سنا ۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کی گمراہی کے بعد یہ موقع ہے ۔ کہ انہیں رشدوہدایت سے نوازا گیا ہے ۔ اور ان میں حضور ﷺ کو تبلیغ و اشاعت کے لئے بھیجا ہے ۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ (ف 2) دن میں پیدا کیا ۔ پھر تخت پر قرار پکڑا ۔ اس کے سوا تمہارے لئے کوئی دوست اور سفارشی نہیں ہے ۔ پھر کیا تم نصیحت پذیر نہیں ہوتے ؟

مسئلہ استواء 2: ایام سے مراد بارہ گھنٹے کے دن نہیں ہیں ۔ بلکہ لغۃ طویل مدتیں اور فرصتیں مقصود ہیں ۔ جن میں کئی قرنوں اور صدیوں کی سمائی ہوسکتی ہے ۔ غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ایک دم پیدا نہیں کیا ۔ بلکہ بتدریج پیدا کیا ہے ۔ جس میں کئی قرن صرف ہوئے ہیں ۔ اور اس ساری مدت کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ استوا علی العرش کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے ۔ کہ پہلے اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیا جائے ۔ کہ خدا کی تنزیہ ہر لحاظ سے مقدم ہے ۔ اور اصل عقیدہ ہے سلف سے لے کر خلف تک سب کا ایمان ہے ۔ کہ ہمارا خدا زمان ومکان کی قیود سے بےنیاز ہے ۔ اس کا تعلق کائنات سے قومیت کا ہے ۔ احتیاج کا نہیں ہے ۔ اس کے بعد اب ظاہر ہے ۔ کہ استواء کے دو معنے ہونگے ۔ جو کسی طرح بھی اس کی شان حمدیت اور ذات احدیت پر اثرانداز نہ ہوں اور وہ یہ ہیں ۔ کہ عرش حکومت پر استواء سے مراد تدبیرات کو فی کو اپنے احاطہ اختیار میں لینا ہے ۔ اور آسمان سے ان امور کو ساری دنیا میں بلکہ تمام عوالم میں نافذ کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بطور تفسیر کے فرماتا ہے یدبر الافرمن السماء انی الارض ۔ یعنی وہی آسمان بلند سے زمین تک اپنے اوامر کو بھیجتا ہے ۔ جس طرح کہ انسان کا دل یا دماغ یا جس شاعرہ ان کے ارادہ وامر کا مرکز یا بڑا دفتر ہے ۔ کہ یہیں سے تمام اعضاء وجوارح کو احساس ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ خود اس کا تعلق اس مرکز سے صرف اتنا ہے کہ وہ اس کا ایک حصہ ہے ۔ اسی طرح کائنات میں عرش کو مثل دل کے مقام حاصل ہے ۔ کہ تمام تدبیریں اسی بڑے دفتر سے نافذ ہوتی ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ یہ دل کائنات کا حصہ ہے ۔ خدا کا حصہ نہیں ہے ۔ خدا تو اس سارے نظام کو پیدا کرنے والا ہے ۔ یہ مثال ناقص ہے ! اور مسئلہ استواء کو سمجھانے کے لئے کوئی مثال بھی ایسی نہیں ملتی جو ناقص نہ ہو ، مگر اس مسئلہ پر اس مثال سے ایک گونہ ضرور روشنی پڑتی ہے حل لغات :۔ مقدارہ انف سنۃ ۔ مقصد یہ ہے کہ اعمال واوامر کو وہ بقضائے حکمت ایک دن میں اپنے حضور تک پہنچادیتا ہے حالانکہ تمہارے اندازے کے مطابق ان کو ایک ہزار سال میں کہیں پہنچنا چاہیے علم الغیب ۔ یعنی جو باتیں تم سے اوجھل ہیں وہ ان کو بھی جانتا ہے دوحہ ۔ اضافت محض تشریف وتفضل کے لئے ہے
Ayahs 32:5–9

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

آسمان سے زمین تک کام کا انتظام (ف 1) کرتا ہے پھر وہ کام ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے حساب سے ہزار برس کی ہے اس کی طرف چڑھتا ہے

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

چھپے اور کھلے کا جاننے والا غالب مہربان

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے جو شئے بنائی خوب بنائی اور انسان کی پیدائش ایک گارے سے شروع کی

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل بےقدر پانی (نطفہ) کے خلاصہ سے بنائی

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کئے تم تھوڑا شکر کرتے ہو

ملک الموت 1: مکہ والوں کو دو عقیدوں سے بہت زیادہ اختلاف تھا ۔ ایک تو یہ کہ خدا ایک ہے اور سب انسانوں کو اس ایک خدا کے سامنے جھکنا چاہیے ، دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد ہر شخص پھر زندہ ہوگا ۔ اور اللہ کے حضور میں پیش کیا جائے گا ۔ چناچہ قرآن حکیم کہتا ہے ۔ بل ھم یھا ی ربھم کفرون ۔ کہ یہ لوگ پروردگار کے سامنے جانے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ کہ یہ ناممکن ہے ۔ اس آیت میں ان کی اس غلط فہمی کو دور فرمایا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ فرشتہ موت وقت مقررہ پر ضرور تمہاری روحوں کو قبض کریگا ۔ مگر پھر تم رب ذوالجلال کی طرف ضرور لوٹوگے ۔ اور اپنے اعمال کے متعلق جواب دوگے ۔ یہ یاد رہے کہ موت کے ظاہری اسباب و طبعی وجہ ہیں ۔ وہاں فوق الادراک اسباب بھی ہیں ، جن کو ہم محسوس نہیں کرتے اور باطنی اسباب یا عقل و شعور سے بالاسباب خدا کا ارادہ اور ملائکہ موت کا تصرف ہے ۔ یہی وجہ ہے بعض دفعہ وہ مریض جو مہلک ترین مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس کے جان بر ہونے کی بظاہر کوئی توقع نہیں ہوتی ۔ وہ یکایک صحت یاب اور تندرست ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ خدا کا ارادہ یہ نہ تھا کہ وہ مرے اور بعض دفعہ وہ شخص جس کی رگوں میں شباب وصحت کا خون دوڑرہا ہوتا ہے ۔ جو تنومند ہوتا ہے اور ڈاکٹر جس کی صحت کی کامل تصدیق کرتا ہے ۔ وہ فوراً حرکت قلب بند ہوجانے سے مرجاتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ گو صحت و توانائی کے سباب موجود ہیں مگر اللہ کا ارادہ ان اسباب کا ساتھ نہیں دیتا ہے ۔ لہٰذا وہ مرجاتا ہے ۔ اس وقت یورپ کے مادیسین حکماء اس کوشش میں ہیں کہ جس ترح بادوبرق کو انہوں نے مسخر کرلیا ہے ۔ اسی طرح نفس موت وحیات پر بھی اقتدار حاصل کرلیں ۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ ابھی تک وہ یہ بھی نہیں جان پائے کہ زندگی بذات خود چیز کیا ہے ؟ اور شاید یہ کبھی بھی معلوم نہ کرسکیں گے ۔ اس لئے ان کی کوششوں کا بارآور ہونا قطعی محال ہے ! اور اب تو مادیت کا طلسم ٹوٹ رہا ہے اور علم الحیات کے ماہرین اس طرف ڈبلک رہے ہیں کہ زندگی کوئی بسیط جوہر ہے جسم کی ساخت یا اسباب طبعی کے ساتھ اس کا بہت زیادہ تعلق نہیں ہے ۔ اس لحاظ سے وہ قرآن کے پیش کردہ نقطہ نگاہ کے قریب آرہے ہیں ۔ حل لغات :۔ یتوفکم ۔ قبض روح ۔
Ayahs 32:10–16

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی میں رل جائینگے تو کیا ہم نئی پیدائش میں ہوں گے ؟ بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

تو کہہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے تمہیں قبض کریگا پھر تم اپنے پھر جاؤ گے

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور کاش تو دیکھے ۔ جب مجرم اپنے رب کے سامنے اپنے سر نیچے کئے ہونگے اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہمیں (دنیا میں) پھر بھیج کہ ہم نیکی کریں ۔ اب ہمیں یقین آگیا

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر جی کو اس کے راہ ہدایت کرتے لیکن میرا قول پورا ہوا کہ میں ضرور دوزخ کو سب (نافرمان) جنوں اور آدمیوں سے بھروں گا

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

پس تم مزہ چکھو اس لئے کہ تم اپنے اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا اور جو تم کرتے تھے اس کے بدلے میں ہمیشہ کا عذاب چکھو

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر صرف وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں ہماری آیتوں سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ فوراً سجدہ میں گر پڑتے ہیں ۔ اور اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے اور وہ تکبر نہیں کرتے

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کی کروٹیں بچھونوں سے الگ رہتی ہیں خوف اور طمع سے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں

ف 1: جب یہ مجرم سرجھکائے ہوئے اللہ کے حضور میں پیش ہونگے اس وقت انہیں احساس ہوگا ۔ کہ ہم نے خدا کی نافرمانی کرکے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ اس لئے وہ خواہش کریں گے کہ خدایا ہمیں ایک بار اور دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح ہم تیرے نیک اور پاک باز بندے بن جاتے ہیں ۔ جواب ملے گا کہ کائنات کا نظام پہلے سے مقدر اور متعین ہے ۔ اس میں کوئی ترمیم اور تنسیخ نہیں ہوسکتی اگر منظور ہوتا کہ کوئی شخص گمراہ نہ ہو ۔ تو ہم سب کو دنیا ہی میں ہدایت سے بہرور کردیتے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ اس دنیا کی زینت کا اختلاف اور بوقلمونی سے ہے جب میں نے کہہ دیا تھا ۔ کہ جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا ۔ وہ ضرور جہنم میں جائے گا ۔ لاملئن جھنم منک و ممن تبعک تو اس قول کو پورا ہونا چاہیے ۔ اور بقضائے انصاف تم لوگوں کو جہنم میں جانا چاہیے ۔ جاؤ۔ اور جہنم کا عذاب چکھو ۔ تم نے دنیا میں ہمیں بھلا رکھا تھا ۔ آج ہم تم سے اس طرح کا معاملہ کریں گے ۔ کہ گویا ہم تم کو بھول گئے ہیں ۔ 2: ان آیتوں میں صحابہ کرام کے مرتبہ ایمان کا ذکر ہے ۔ کہ کیونکر وہ خدا کے احکام سن کر کس طرح ان پر رقت طاری ہوجاتی ہے ۔ یہ کہ اس محبت کا تذکرہ ہے ۔ جو ان کو خدا کے ساتھ ہے ۔ کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر مولا کی یاد میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں ۔ خدا سے ڈرتے ہیں ۔ اور اس کی رحمتوں کے امیدوار رہتے ہیں ۔ اور جو کچھ خدا نے انہیں دے رکھا ہے ۔ اس کو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔
Ayahs 32:17–20

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے بدلے میں ان (ف 3) کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک سے پوشیدہ رکھا گیا ہے

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا جو شخص مومن ہے کیا اس کی برابر ہوجائے گا جو فاسق ہے ؟ ہرگز برابر نہیں ہوسکتے

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

سو وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے اعمال کے بدلے مہمانی میں رہنے کے باغ ملیں گے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جو فاسق ہیں ان کا ٹھکانا آگ ہے ۔ جب وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے ۔ تھر اسی میں لوٹائے جائینگے اور ان سے کہا جائے گا کہ آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے

ف 3: یعنی جنت کی جن مسرتوں کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے ۔ وہ ان نامعلوم راحتوں اور روحانی آسائشوں کے مقابلہ میں کوئی حقیت ہی نہیں رکھتیں ۔ جن کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ اور جس کا اس دنیا میں سمجھنا ممکن ہی نہیں ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ وہاں روح کی بالیدگی کا پورا پوراسامان ہوگا ۔ جس کو پاکر دل اور آنکھیں اطمینان اور تسکین محسوس کریں گی ۔ حل لغات :۔ تتجافی ۔ جدا رہتے ہیں جنوبھم ۔ جنب کی جمع ہے ۔ پہلو ۔
Ayahs 32:21–26

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور بڑے عذاب سے ہم ضرور انہیں تھوڑا عذاب بھی چکھائیں گے شاید وہ پھریں (ف 1)

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے کہ اس کو اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی ۔ پھر ان سے منہ موڑا ہمیں ان مجرموں سے ضرور بدلا لینا ہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ۔ پس تو بھی اس (قرآن) کے ملنے سے شک میں نہ رہ اور ہم نے موسیٰ کی کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت ٹھہرایا تھا

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل میں سردار کئے تھے کہ ہمارے علم سے ہدایت کرتے تھے جب وہ ثابت قدم رہے تھے اور ہماری نشانیوں پر یقین رکھتے تھے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

تیرا رب جو ہے وہی ان میں قیامت کے دن ان کی اختلافی باتوں کے درمیان فیصلہ کرے گا

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا انہیں اس سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے کتنی امتیں اس سے پہلے ہلاک کی ہیں ۔ جو اپنے گھروں میں چلتے پھرتے تھے ۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں کیا وہ سنتے نہیں ؟

ایمان کی مخالفت فسق وفجور ہے 1: مومن کے مقابلہ میں فاسق کو رکھا ہے ۔ اور فرمایا ہے کہ مومن اور فاسق درجہ میں برابر نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن اس حقیقت کو پیش کرنا چاہتا ہے ۔ کہ دنیا میں اگر نیکی اور تقویٰ کی روح پھیل سکتی ہے تو صرف ایمان سے یہ تسلیم کرلینے سے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ایک احکم الحاکمین خدا ہے ۔ اور موت کے بعد محاسبہ قطعی ہوگا ۔ اور ظالم سے ظالموں کی نسبت باز پرس کی جائے گی ۔ اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں ۔ اور ان کا پیغام آخری پیغام ہے اگر ان حقائق کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ تو انسان میں کبھی سچی ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا اور کبھی وہ صحیح معنوں میں اپنے دل میں تقوی اور پاکبازی کے جذبات بلند کو نہیں پاسکتا ممکن ہے دہریت سائنس کو ارتفاء بخشے ۔ مادیت کو فروغ دے ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ اس انکار سے اخلاق حسنہ کی تعمیر ہوسکے ۔ روح ترقی کے منازل طے کرسکے ۔ باطن صاف ستھرا اور پاکیزہ ہوسکے ۔ کیونکہ اخلاق کے ارتقاء اور روحانیت کی بلندی کے لئے جن عناصر کی ضرورت ہے ۔ وہ دہریت میں قطعی مفقود ہیں ۔ آج یورپ میں کیا کچھ نہیں ہے ۔ قوت ہے ۔ علم و حکمت ہے ۔ دولت ہے ۔ اور ہر قسم کی آسودگی مہیا ہے جو مادی دنیا میں متصور ہوسکتی ہے ۔ مگر اس سارے شور ترقی اور غوفائے ارتقاء میں کہیں ذرہ بھر اخلاق کا پتہ نہیں ملتا ؟ وہ اخلاق نہیں جسے ایٹی کیٹ (فوائد رسمیہ) سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ظاہری نشست وبرخاست کے قاعدے اور قوانین نہیں ۔ بلکہ وہ پاکیزگی ۔ تقوی ۔ اللہ کا ڈر ۔ عفاف صداقت شعاری اور ایسی چیزیں جن کی طرف ایمان بالخصوص دعوت دیتا ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ اس برق وہوا کی دنیا میں ان چیزوں کا کہیں شائبہ تک نہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ ایمان کو چھوڑ چکے ہیں ۔ اندریں حالات فسق وفجور کا ارتکاب لازم ہے ۔ ایمان سے دوری اور بعد کا منطقی نتیجہ خصفاں وبدکرداری ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح یہ لوگ اعمال کے لحاظ سے برابر نہیں ہوسکتے ۔ جو لوگ ایمان کی نعمت سے بہرہ ور ہیں ۔ جن کے دل روشن ہیں ۔ اور خدا کی نظر میں نیک اور پارسا ہیں ۔ وہ جنت میں مہمانی کے لطف اٹھائیں گے ۔ اور حسین اعمال کی حسین ترین جزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔ اور جو فاسق ہیں ۔ جن کے دل کفر کی وجہ سے تاریک ہیں جو صداقت سے محروم ہیں ۔ ان کا ٹھکانا آگ ہے ۔ وہ گھرا کر اس سے نکلنے کی کوشش کریں گے ۔ مگر کامیاب نہ ہوں گے ۔ ان سے کہا جائے گا ۔ کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ اس کے مزے چکھو ۔ اور مزید براں تمہیں دنیا میں بھی فسق وفجور کی سزا مل کرر ہے گی ۔ اور اس بڑے عذاب سے پہلے پہلے تم اس قریب کے عذاب کو بھی دیکھ لو گے ۔ فطرت کی گرفت سے بچنا محال ہے ۔ اس دنیا میں خوب سمجھ سوچ لو اور عارضی لذات کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کو اختیار نہ کرو ۔ حل لغات :۔ نزلا ۔ مہمانی ۔ جنت کی نعمتوں کو ضیافت کے ساتھ اس لئے تعبیر کیا ہے کہ مہمان کی خاطر داری زیادہ کی جاتی ہے ۔ گویا اہل جنت تکلفات اور آسودگی کے لحاظ سے یوں رہیں گے جس طرح مہمان دون ال عذاب الاکبر ۔ دون کے معنے سیوا کے بھی ہوتے اور درے اور پہلے کے بھی ۔ یہاں دوسرے معنے مراد ہیں یعنی عذاب اکبر سے قبل ۔ حل لغات : منتقمون ۔ انتقام کے معنے عربی میں سزا دینے کے ہیں ۔ انتقام کے لئے نہیں ۔ کیونکہ اللہ کی ذات کو گناہوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا کہ وہ اس نقصان اور خسارے کا بدلہ لے ۔ البتہ یہ گناہ خود انسانوں کو ضرور نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کو ان کی پاداش میں وہ سزا دیتا ہے ۔
Ayahs 32:27–28

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا اور انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے وہ اور ان کے چوپائے کھاتے ہیں ۔ پھر کیا وہ دیکھتے (ف 1) نہیں ؟

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ فتح کب ہوگی اگر تم سچے ہو ؟

ف 1: قرآن حکیم بار بار لوگوں کو اس جانب متوجہ کرتا ہے ۔ کہ وہ مظاہرین فطرت کو بوقت نظر دیکھیں اور غور کریں کہ ان میں کتنی حکمتیں پوشیدہ اور ممعتتر ہیں ۔ یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں ۔ کہ آخر اس کارگاہ حیات کو پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ فطرت کی کتاب بہت وسیع اور ضحیم ہے ۔ اس کا ایک صفحہ صداقت اور حکمت کے صدہادفر اتنے اندر پنہاں رکھتا ہے ۔ اور قرآن اس لئے اس کے مطالعے کو اہمیت دیتا ہے کہ ہر شخص آزادی کے ساتھ فیصلہ کرسکے ۔ کہ ان دونوں صحیفوں میں کس درجہ تطابق ہے ۔ کتاب فطرت ، اور الہام خاطر میں یعنی اس کتاب میں جو کائنات کے ذرہ ذرہ پر لکھی ہوتی ہے ۔ اور اس کتاب میں جو لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے ، کیا فرق ہے ۔ فرماتا ہے کہ دیکھو ہم کیونکر خشک اور بےآب وگیاہ زمین کو پانی کی برکات سے سر سبز او شاداب کردیتے ہیں ۔ اور سا طرح حیوانوں اور انسانوں کے لئے چارہ اور غذا کا سامان مہیا کرتے ہیں ؟ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ۔ کہ دلوں کی دنیا جب خشک ہوجائے ۔ اس میں ایمان ویقین کے پھول نہ کھلیں ۔ تو اس وقت آب رحمت کی ضرورت ہوتی ہے کیا اب بھی تمہیں حضور کی نبوت سے انکار ہے : کیا تمہاری یہ رائے ہے ۔ کہ ایسی تعلیمات کی تم کو ضرورت نہیں ہے ۔ جو تمہارے دلوں کو شگفتہ وشادات بنادے ۔ پھر اسی مظہر فطرت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ۔ کہ حشراجساد کا عقیدہ عقلاً محال ہیں ہے ۔ جب مردہ اور خشک زمین لہلہلا اٹھتی ہے ۔ اور پانی اس میں زندگی پیدا کرسکتا ہے ۔ تو پھر تم لوگ مرنے کے بعد کیوں زندہ نہیں ہوسکو گے ؟ اس میں کیا اسعباد ہے ؟ پھر اسی مثال سے یہ بھی واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اور ہر وقت وہ ان کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے وہ ان کے کھیتوں اور باغوں کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتا ہے ۔ ان کے چوپایوں کے لئے چارہ پیدا کرتا ہے اور ان کی توقعات کے خلاف غیر آباد قطعات اراضی کو شاداب ترین زمین بنا دیتا ہے ۔ تو اس کی مہربانی اور فضل و عنایت کا کوئی مقصد نہیں ، کیا یونہی بلا کسی غرض وغایت کے انسان کے لئے اتنی نعمتیں پیدا کی گئی ہیں ؟ یہ سب باتیں سوچنے اور سمجھنے کی ہیں ۔ افلایبصرون ؟ حل لغات :۔ الجرز ۔ بےآب وگیاہ زمین انفتر ۔ فیصلہ
Ayahs 32:29–30

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

تو کہہ فتح کے دن کافروں کو ان کا ایمان نفع نہ دیگا اور نہ انہیں مہلت ملے گی

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

سو تو ان سے منہ موڑ اور منتظر رہ وہ بھی منتظر ہیں

ف 1: مکہ والے چونکہ قیامت کے منکر تھے ۔ اس لئے وہ ازراہ طنز حضور ﷺ سے پوچھتے تھے ۔ کہ قیامت کب آئیگی فیصہ کا دن کس وقت آئے گا ؟ قرآن کہتا ہے کہ وہ جب بھی آئے گا ۔ آئے گا ۔ مگر تم یاد رکھو کہ اس وقت کا ایمان سود مندنہ ہوگا ۔ اور نہ اس وقت تمہیں پھر دوبارہ مہلت دی جائینگی کہ دنیا میں جاؤ۔ اور اپنے اعمال سنوار لو ۔ وہ مکافات کا دن ہے ۔ اس وقت اعمال منقطع ہوجائیں گے ۔