As-Sajda 32:13

As-Sajda · from ayah 13

32:13

وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۟وَ لَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدٰٮهَا وَلٰـكِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّىۡ لَاَمۡلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ‏

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔ لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if We had willed, We could have given every soul its guidance, but the word from Me will come into effect [that] "I will surely fill Hell with jinn and people all together.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah As-Sajda

All translations of 32:13

(جواب میں ارشاد ہو گا) "اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پُوری ہو گئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنّم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔ لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب فرما دیتے، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کردوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو (پہلے ہی) اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن وہ بات جو میری طرف سے کہی گئی تھی، طے ہوچکی ہے کہ : میں جہنم کو جنات اور انسانوں سب سے ضرور بھر دوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جِنوں اور آدمیوں سب سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر ہم چاہتے تو ہم ہر نفس کو اس کی ہدایت (اَز خود ہی) عطا کر دیتے لیکن میری طرف سے (یہ) فرمان ثابت ہو چکا ہے کہ میں ضرور سب (مُنکر) جنّات اور انسانوں سے دوزخ کو بھر دوں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہوچکی کہ یقینا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر ہم چاہتے تو (پہلے ہی) ہر شخص کو ہدایت دے دیتے لیکن میری بات پوری ہو کے رہی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو اس کی ہدایت خود ہی دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات متحقق ہوچکی ہے کہ میں جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھر کے چھوڑوں گا ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حالانکہ اگر ہمیں (مشاہدہ اضطرار کا ایسا ایمان) منظور ہوتا تو ہم ہر شخص کو اس کی ہدایت کبھی کے دے چکے ہوتے مگر اب تو (ان پر) پکی ہوگئی میری بات کہ میں نے ضرور بھرنا ہے جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ہم کو (یہی) منظور ہوتا تو ہم ہر ایک کو اس کی (راہ) ہدایت دے ہی دیتے۔ لیکن میری یہ بات محقق ہوچکی ہے کہ میں دوزخ کو بھر کر رہوں گا جنات اور انسان سب سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ فیصلہ صادر ہوچکا ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور آدمیوں سب سے بھر کر رہوں گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شحض کو ہدایت دے دیتے، مگر میری طرف سے یہ بات قرار پا چکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(They will be told): “If We had so willed, We could have bestowed guidance on every person. But the Word from Me that I will fill Hell with men and jinn, all together, has been fulfilled.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if We had so willed, We would have led everybody to his right path (by force), but the word from Me had come to pass: :I will certainly fill the Jahannam with jinn and human beings together.

— Muhammad Taqi Usmani

And if We had so willed, We would have led everybody to his right path (by force), but the word from Me had come to pass: :I will certainly fill the Jahannam with jinn and human beings together.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if We had willed, surely We would have given every person his guidance, but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if We had so willed, We could have given every soul its guidance, but the word from Me concerning evildoers took effect: that I will fill hell with the jinn and mankind together.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if We had willed, We could have given every soul its guidance, but the word from Me will come into effect [that] "I will surely fill Hell with jinn and people all together.

— Saheeh International

Had We wanted, We could have given guidance to every soul, but My decree, that hell will be filled-up with jinn and people, has already been executed.

— Muhammad Sarwar

And if We had pleased We would certainly have given to every soul its guidance, but the word (which had gone forth) from Me was just: I will certainly fill hell with the jinn and men together.

— Muhammad Habib Shakir

And had We listed surely We could have given every soul its guidance; but true must be the word from Me; I shall surely fill Hell with the Jinn and mankind together.

— Abdul Majid Daryabadi

If We had so willed, We could certainly have brought every soul its true guidance: but the Word from Me will come true, "I will fill Hell with Jinns and men all together."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 32:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–14

ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے۔ اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہوگئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لئے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہوجائیں گے۔ سب اندھا و بہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہوگیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة السَّجْدَة 23 یعنی اس طرح حقیقت کا مشاہدہ اور تجربہ کرا کر ہی لوگوں کو ہدایت دینا ہمارے پیش نظر ہوتا تو دنیا کی زندگی میں اتنے بڑے امتحان سے گزار کر تم کو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی ‘ ایسی ہدایت تو ہم پہلے ہی تم کو دے سکتے تھے لیکن تمہارے لیے تو آغاز ہی سے ہماری اسکیم یہ نہ تھی ہم تو حقیقت کو نگاہوں سے اوجھل اور حواس سے مخفی رکھ کر تمہارا امتحان لینا چاہتے تھے کہ تم براہ راست اس کو بےنقاب دیکھنے کے بجائے کائنات میں اور خود اپنے نفس میں اس کی علامات دیکھ کر اپنی عقل سے اس کو پہچانتے ہو یا نہیں، ہم اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے اس حقیقت شناسی میں تمہاری جو مدد کرتے ہیں اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–15

معارف و مسائل (آیت) قل یتو فکم ملک الموت الذی وکل بکم، اس سے پہلی آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ اور ان کے اس استعجاب کا جواب تھا کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے، اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ اپنی موت پر دھیان دو اور غور کرو تو وہ خود حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر ہے، تم اپنی غفلت و جہل سے سمجھتے ہو کہ انسان کی موت خود بخود آجاتی ہے، بات یہ نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک تمہاری موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور اس کے لئے فرشتوں کا ایک خاص نظام ہے۔ جن میں بڑے عزرائیل ؑ ہیں کہ ساری دنیا کی موت ان کے انتظام میں دی گئی ہے۔ جس شخص کی جس وقت، جس جگہ موت مقدر ہے ٹھیک اسی وقت وہ اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دلو شئنا لا تینا کل نفس ھذلھا ولکن حق القول منی لاملنئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین (13) یہ ان کے اعترا اور ان کی درخواست کا جواب ہے جو برسر موقع ان کو دیا جائے گا کہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد تمہارا یہ اقرار و ایمان بالکل بےسود ہے۔ اگر اللہ کو اس طرح کا مجبورانہ ایمان پسند ہوتا تو وہ ہر شخص کو ایمان و ہدایت پر ہی پیدا کرتا۔ یہ اس کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا کہ بلکہ ہدایت کے معاملے میں اس نے لوگوں کو اختیار دیا کہ وہ امتحان کرے کہ کون اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کی پیروی میں شیطان کی راہ پسند کرتا ہے۔ ولکن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13-1یعنی دنیا میں، لیکن یہ ہدایت جبری ہوتی، جس میں امتحان کی گنجائش نہ ہوتی۔ 13-2یعنی انسانوں کی دو قسموں میں سے جو جہنم میں جانے والے ہیں، ان سے جہنم کو بھرنے والی میری بات سچ ثابت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–14

5: یعنی اگر اللہ تعالیٰ زبردستی لوگوں کو ہدایت پر لانا چاہتے تو وہ ضرور ایسا کرسکتے تھے، لیکن اس صورت میں وہ آزمائش نہ ہوتی جو انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے، انسان کی آزمائش تو اسی میں تھی کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر پیغمبروں کی بات پر ایمان لائے، جنت اور جہنم کا آنکھ سے نظارہ کرلینے کے بعد اس پر زبردستی ایمان لانے میں کوئی آزمائش نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اس آزمائش کی خاطر انسان کو پیدا کرکے ازل ہی میں یہ طے کرلیا تھا کہ جو لوگ عقل سے کام لے کر پیغمبروں کی اطاعت نہیں کریں گے ؛ بلکہ ان کو جھٹلائیں گے، ان سے میں جہنم کو بھردوں گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–14

ولو تری اذ المجرمون ۔۔۔۔۔۔ بما کنتم تعلمون (12 – 14) یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں منکرین قیامت نہایت ہی شرمندگی کے ساتھ اعتراف کر رہے ہیں۔ اب وہ اس سچائی کو مان رہے ہیں جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ وہ یہ درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک بار پھر زمین پر لوٹا دیا جائے اور وہ اب کی بار اس کمی کو پورا کردیں گے جو پہلی بار ہوگئی۔ یہاں شرمندگی کی وجہ سے وہ سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اب یہ لوگ اپنے اس رب کے پاس (عند ربھم) ہوں گے جس کے پاس حاضر ہونے کا وہ انکار کرتے تھے۔ لیکن ان کی یہ سب باتیں بعد از وقت ہوں گی اور اب اعتراف اور اعلان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ قبل اس کے کہ ان کی اس شرمندگی پر کوئی تبصرہ کیا جائے ، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 دوسری جگہ فرمایا۔ (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :28) یعنی جھوٹے ہیں اگر دنیا کی طرف لوٹائے جائیں پھر وہ ہی شرارتیں کریں۔ ان کی طبیعت کی افتاد ہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ شیطان کے اغواء کو قبول کرلیں اور اللہ کی رحمت سے دور بھاگیں۔ بیشک ہم کو قدرت تھی چاہتے تو ایک طرف سے تمام آدمیوں کو زبردست اسی راہ ہدایت پر قائم رکھتے جس کی طرف انسان کا دل فطرۃً راہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اس طرح سب کو ایک ہی طورو طریق اختیار کرنے کے لئے مضطر کردینا حکمت کے خلاف تھا جس کا بیان کئی جگہ پہلے ہوچکا ہے۔ لہذا وہ بات پوری ہوئی تھی جو ابلیس کے دعوے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 وَلَوْ شِءْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ہُدٰٹہَا اگر ہمیں اسی طرح آخرت کے پردے اٹھا کر اور عالم غیب کا مشاہدہ کروا کر لوگوں کو ہدایت دینا مقصود ہوتا تو ہم یہ کام دنیا میں ہی کردیتے اور اس طرح تمام انسانوں کو راہ ہدایت پر لے آتے۔ بہر حال ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب انہیں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یقین آجائے گا تو اس وقت انہیں اس ایمان اور یقین کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ‘ کیونکہ اس وقت ان کی امتحانی مہلت ختم ہوچکی ہوگی۔ وَلٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَءَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ والنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی ہمارے باغی ہیں وہ سب ضرور جہنم کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 یعنی ہمیں انسان کے اضطراری ایمان کی ضرورت نہیں۔ اس صورت میں انسان کو اختیار دینا بالکل عبث تھا۔ اب چونکہ اسے اچھے یا برے راستہ کی تمیز بھی اسے بخش دے گئی ہے اور ان میں سے کسی ایک راہ کے انتخاب کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ لہذا اب اللہ کا کام یہ نہیں کہ ہر ایک کو ہدایت کی راہ پر لانے پر مجبور کردے۔ بلکہ یہ ہے کہ جس راہ پر کوئی چلتا ہے۔ اسی راستہ کے لئے اسے توفیق دے دے۔ 15 اللہ تعالیٰ کی تمام جاندار مخلوق میں سے جن اور انسان دو نوع ایسی ہیں۔ جن کو اللہ نے قوت تمیز اور قوت ارادہ و اختیار بخشی ہے۔ اور یہی دو انواع شریعت الٰہی کی مکلف ہیں۔ انھیں کے لئے یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ انسانوں سے پہلے جنات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ (اور یہ عالم عالم ابتلاء رکھا ہی نہ جاتا۔ ہر ایک ہدایت پر مضطر ومجبول ہی ہوتا) 20۔ یعنی اگر ہم کو ہر ایک کو خواہ مخواہ راہ پر لے آنا ہی تکوینی حیثیت سے مطلوب ہوتا تو یہ درخواست منظور بھی ہوسکتی تھی، بلکہ اس کی نوبت ہی کیوں آتی۔ شروع ہی سے ہر شخص کو ہدایت اضطرارا مل ہی نہ جاتی ؟ لیکن ہماری مشیت تکوینی کو تو ہدایت کو ارادہ واختیار پر مرتب کرانا مقصود ہے۔ اس لیے مشاہدہ کے بعد اضطرار ایمان لانے کا سوال ہی نہیں باقی رہتا۔ جو ارادۃ راہ کفر وضلال اختیار کریں گے، انہیں نتائج بھی بھگتنے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–22

آیت نمبر 12 تا 22 ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو شئنا لاتینا کل نفس ھدھا ولکن حق القول منی لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین . اور اگر ہم چاہتے تو جن و انس میں سے ہر شخص کو اس کی ہدایت دیتے (یعنی ایسی چیز دے دیتے جس کے ذریعہ سے وہ قطعی ہدایت یاب ہوجاتا) لیکن میری طرف سے (جو) بات (طے ہوچکی تھی وہ) پوری ہوگئی کہ میں دوزخ کو جنات اور انسانوں سے سب سے بھر دوں گا۔ اَلْجِنَّۃِ اور النَّاس میں الف لام عہدی ہے ‘ اس سے مراد ہیں مجرم لوگ۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ نے کچھ لوگوں کو پیدائشی جنتی بنایا ‘ جب وہ اپنے آباء کی پشت میں تھے ‘ اسی وقت ان کو جنت کے لئے بنا دیا تھا اور کچھ لوگوں کو پیدائشی دوزخی بنایا ‘ جب وہ پشت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

مگر اگر ہمیں یہ منظور ہوتا تو ہر ایک شخص کو اس کی نجات کا راستہ عطا فرماتے لیکن میری بات محقق ہوچکی کہ میں جہنم کو جن و انس میں سے جو کافر ہیں سب سے بھروں گا اور اگر یہ نہ ہوتا تو پھر میں ہر ایک شخص کو معرفت و توحید سے سرفراز فرماتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا۔۔ : یعنی یہ کیا بات ہوئی کہ اب تم حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لے آؤ اور ہم تمہاری سزا موقوف کردیں، یا تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں۔ اس طرح کی جبری ہدایت تو ہم تمہیں پہلے ہی دے سکتے تھے، مگر اس سے قیامت کی جزا و سزا بےنتیجہ ہو کر رہ جاتی اور امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا۔ اب تو ضروری ہے کہ میرا وہ قول پورا ہو جو میں نے ابلیس کے آدم کو سجدے سے انکار کے وقت اسے مخاطب کر کے فرمایا تھا : (قَالَ فَالْحَقُّ ۡ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ) [ ص : 84، 85 ] ”فرمایا پھر حق یہی ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

محمد بن کعب قرظی نے کہا، جب انہوں نے کہا : آیت ربناابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون تو اس قول کے ساتھ اس کا رد فرمایا : آیت ولو شئنا لا تینا کل نفس ھداھا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اگر میں چاہتا تو سب لوگوں کو ھدایت عطا فرما دیتا ان میں سے کوئی بھی ھدایت سے پیچھے نہ رہتا۔ آیت ولکن حق القول منی ابن مبارک نے رقائق میں طویل حدیث ذکر کی ہے ہم نے اس کا ذکر ” التذکرہ “ میں کیا (2) ۔ نحاس نے کہا : آیت ولو شئنا لاتینا کل نفس ھد ھا کے معنی میں دو قول ہیں : (1) دنیا میں (2) سیاق کلام دلالت کرتا ہے کہ یہ آخرت میں ہوگا۔ اگر ہم چاہتے کہ ہم انہیں دنیا اور امتحان کی طرف لوٹا دیتے جس طرح انہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–15

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو ترایٰ اذ المجرمون ناکسوا رؤ و سہم عند ربہم ربنا ابصرنا ومعنا اور اگر آپ دیکھیں گے جب کہ مجرم اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا ہے یعنی وہ دیکھیں گے جب ان کو دیکھنا ان کو نفع نہیں دے گا اور سنیں گے جبکہ ان کا سننا ان کو نفع نہیں دے گا آیت ولو شئنا لاٰتینا کل نفس ہد ہا اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو سب لوگوں کو یہ ہدایتدیتے ہیں اور اگر اللہ چاہتے تو ان کے اوپر آسمان سے کوئی نچانی نازل فرماتے آتی فظلت اعناقہم لہا خضعین تو اس کی گردنیں اس کو اپنی طرف کھینچتیں یعنی وہ اللہ کا حکم مان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ [اور اگر ] شِئْنَا [ہم چاہتے ] لَاٰتَيْنَا [تو ہم ضرور دیتے ] كُلَّ نَفْسٍ [ہر نفس کو ] هُدٰىهَا [اس کی ہدایت ] وَلٰكِنْ حَقَّ [اور لیکن مقصد کے مطابق ہوئی ] الْقَوْلُ [وہ بات ] مِنِّيْ [میری طرف سے ] لَاَمْلَئَنَّ [(کہ) میں لازما بھر دوں گا ] جَهَنَّمَ [جہنم کو ] مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [جنوں اور انسانوں سے ] اَجْمَعِيْنَ [سب سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–15

اہل ایمان کی صفات، مومنین کا جنت میں داخلہ، اہل کفر کا دوزخ میں برا ٹھکانہ ان آیات میں مومنین صالحین کی بعض صفات اور ان کے انعامات بیان فرمائے ہیں اور کافرین فاسقین کا ٹھکانہ اور ان کی بدحالی بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو تذکیر اور نصیحت کا اثر لیتے ہیں، جب انہیں ہماری آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو انہیں سن کر سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور تحمید میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تکبر بھی نہیں کرتے۔ مزید فرمایا کہ ان کے پہلو اپنے لیٹنے کی جگہوں سے یعنی خوابگاہوں سے دور ہوجاتے ہیں وہ ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جو کچھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ ولو شئنا الخ۔ یہ مشرکین کے قول فارجعنا کا جواب ہے حاصل یہ ہے کہ اگر انہیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے کیونکہ انہوں نے ضد اور عناد اور سوء اختیار سے گمراہی کا راستہ اختیار کیا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو زبردستی ہر انسان کو راہ ہدایت پر جمع کردیتے۔ لیکن یہ حکمت ابتلاء کے خلاف تھا نیز ہم فیصلہ کرچکے ہیں کہ شیطان کی پیروی کرنے والے انسانوں اور جنوں سے جہنم کو بھرنا ہے اس لیے یہ ناممکن ہے کہ یہ کفار و مشرکین دوبارہ دنیا میں جا کر راہ ہدایت اختیار کریں فموجب ذالک القول نشا اعطاء الھدی علی العموم بل منعناہ من اتباع ابلیس الذین انتم من جملتہم حیث صرفتم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–16

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کا تذکرہ ہوا ۔ تو حید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ، رسالت کا بیان ہوا ۔ اور ساتھ ساتھ قیامت اور جزائے عمل کا تذکرہ ہو۔ پھر تخلیق انسان کا مسئلہ بیان ہوا ۔ پھر اس کی ناشکر گزاری کا شکوہ ہوا ۔ پھر وقوع قیامت کے متعلق کفارومشرکین کے انکار کا ذکر ہوا۔ کہ وہ کہتے ہیں ۔ کہ جب ہم مرکزی مٹی میں رل مل جائیں گے تو پھر ہمارا دوبارہ زندہ ہونا کیسے ممکن ہوگا ؟ اللہ نیف رمایا کہ دراصل یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں ۔ درمیان میں اختصار کے ساتھ پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب کیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہاری جانوں کو ملک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ ہُدٰىہَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَــَٔــنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۝ 13 شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–14

ترکیب : ولو تریٰ ھو من رویۃ العین و المفعول محذوف ای ولو تری المجرمین۔ و اغنی عن ذکرہ المبتداء۔ واذ ھنا یرا دبھا المستقبل والتقدیر یقولون ربنا و موضع المحذوف حال والعامل فیھا ناکسوا۔ فذوقوا بما ای فذوقو العذاب ویجوزان یکون مفعول فذوقوا اللقاء علی مذہب الکوفیین فی اعمال الاول۔ ویجوزان یکون ھذا۔ تتجافیٰ موضع الحال و جواب لو محذوف ای لریت امر افظیعا ویکن ان یکون لو للتمنی خوفا وطمعا مفعول لہ والعامل یدعون۔ مابمعنی الذی ویجوزان یکون للاستفہام۔ تفسیر : ولوتری یہاں سے وہ حال بیان کرتا ہے جو خدا کے پاس رجوع ہونے کے بعد یعنی اس کے پاس جانے کے بعد ظہور میں آئے گا کہ اے محمد ﷺ یا اے ہر شخص مخاطب ! اگر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

وَلَوْ شِئْنَا لَاٰ تَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھُدٰھَا وَلٰـکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَـآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا ج اِنَّا نَسِیْنٰـکُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِبِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (السجدۃ : 13، 14) (جواب میں ارشاد ہوگا) اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن میری طرف سے یہ بات متحقق ہوچکی ہے، میں جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھر دوں گا۔ تو اب چکھو مزہ اس بات کا کہ تم نے اس دن کی پیشی کو بھلائے رکھا، اب ہم نے بھی تم کو نظرانداز کردیا ہے، تو چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–14

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کی درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا حکم۔ مجرموں کو مزید احساس دلانے اور ذلیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے لیکن میرا فرمان سچ ثابت ہوا کہ میں جہنم کو بہت سے جنوں اور انسانوں سے بھروں گا لہٰذا اب جہنم کا عذاب چکھو اس لیے کہ تم میری ملاقات کو فراموش کرچکے تھے لہٰذا ہم نے بھی تمہیں فراموش کردیا ہے بس اب تم اپنے کیے کے بدلے میں ہمیشہ کا عذاب سہتے رہو۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تین ارشادات فرمائے ہیں۔ 1 اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام جنوں اور انسانوں کو ہدایت سے سرفراز کردیتا چاہنے سے مراد جبراً ہدایت دینا ہے اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13: وَلَوْشِئْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ (اگر ہمیں منظورہوتا تو ہم ہر نفس کو) دنیا میں ھُدٰھَا (اس کا راستہ عطاء فرماتے) یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو وہ مہربانی جو ہمارے پاس ہے وہ دے دیتے جس کو اگر وہ اختیار کرلیتے تو ہدایت پا جاتے لیکن ہم نے ان کو وہ مہربانی عنایت نہ کی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ کفر کو اختیار کریں گے اور وہ اس کو ترجیح دیں گے۔ ردِمعتزلہ : کیونکہ معتزلہ کے ہاں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ہر نفس کو وہ چیز دے جس سے وہ ہدایت پائے اور اس نے دے بھی دی لیکن اس نے ہدایت نہ پائی۔ معتزلہ نے اس آیت کی تاویل مشیئت ِجبر سے کی ہے اور یہ فاسد تاویل ہے جیسا کہ دلائل سے معلوم ہوچکا۔ وَلٰکِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13، ولو شئنا لا تینا کل نفس ھداھا، اگر ہم چاہتے تو ہم اپنی تو فیق سے اس کے ایمان کے بقدر ہدایت دے دیتے ۔ ، ولکن حق، لیکن یہ بات طے ہوچکی ہے۔ ، القول منی لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین، یہ قول ابلیس کے لیے ہے کہ ، لا ملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین، پھر یہی دوزخیوں کو خطاب کیا جائے گا۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جب دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو ان کو دوزخ کے فرشتے کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–15

12 تا 15۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا اس وقت کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیرو ذلیل ہو کر کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو نیچا کر کے زبان سے کہیں گے کہ اے پروردگار ہمارے ہم نے اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا اور رسولوں کے بیان کی صداقت یا اللہ خود تیری زبان سے بالمشافہ سن لی پھر کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–14

آیت نمبر : 14 ۔ 12 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد ‘ اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ولو تری اذالمجرمون) ” اور اگر آپ دیکھیں ‘ جب کہ گناہ گار “ جنہوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا (ناکسوا رء وسھم عند ربھم) خشوع و خضوع اور انکساری کے ساتھ سرنگوں ہوکر ‘ اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے ‘ واپس لوٹائے جانے کی درخواست کرکے عرض کریں گے : (ربنآ ابصرنا وسمعنا) ” اے ہمارے رب ! ہمنے دیکھ لیا اور سن لیا۔ “ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہوگیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ (فارجعنا نعمل صالحاً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–13

81 منکرین کی قیامت کے دن کی حسرت کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم کسی طرح اس وقت کا حال دیکھ سکو جبکہ مجرم لوگ اپنے رب کے حضور اپنے سروں کو جھکائے کھڑے ہوں گے اور نہایت حسرت اور لجاجت کے ساتھ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب اب ہم نے خوب دیکھ اور سن لیا۔ پس تو ہمیں واپس دنیا میں بھیج دے تاکہ ہم نیک کام کریں کہ اب تو ہمیں پورا یقین آگیا "۔ کہ اب تو ہم نے عالم غیب اور آخرت کے ان تمام حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جن کی خبرحضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ دیا کرتے تھے۔ مگر ایسا ایمان و یقین جو کہ مشاھدہ کے بعد حاصل ہو، ہمارے یہاں مطلوب و مقبول ہی نہیں۔ یہاں تو مطلوب وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–22

روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–22

آیات 12 تا 22 اسرارومعارف اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔ اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی یہ کیا بات ہوئی کہ اب تم حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لے آئو اور ہم تمہاری سزا موقوف کردیں یا تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں، اس طرح کی جبری ہدایت تو تمہیں پہلے ہی دے سکتے تھے مگر اس سے قیامت یک دن کی جزا سزا بےنتیجہ ہو کر رہ جاتی اور امتحان کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ اب تو ضروری ہے کہ میرا وہ قول پورا جو میں نے تخلیق آدم کے وقت ابلیس کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا یعنی ( فالحق والحق اقول لا ملان جھنم منک وممن تبعک منعم اجمعین) (ھی : 85) پس حق یہ ہے کہ میں حق بات ہی کہتا ہوں کہ میں جہنم کو تجھ سے اور تیری پیروی کرنے والوں سب سے بھروں گا ( قرطبی، ابن کثیر)2 یعنی دنیا کے عیش و آرام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(32:13) ولو شئنا۔ میں نا ضمیر جمع متکلم اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ شئنا ماضی جمع متکلم شاء یشاء (سمع) شاء اصل میں شیء تھا۔ ی متحرک ما قبل مفتوح ہے اسلئے ی کو الف سے بدلا گیا۔ شائہوگیا اس کا مصدر مشیئۃ (چاہنا) ۔ ولو شئنا۔ اور اگر ہم چاہتے لاتینا۔ میں لام تاکید لو کا جواب میں ہے۔ اتینا۔ ماضی جمع متکلم ہم نے دیا۔ ہم نے بخشاء ایتاء (افعال) مصدر۔ (اگر ہم چاہتے) تو ہم عطا کردیتے۔ ھدھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی ہدایت۔ اس کی (راہ) ہدایت۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ حق۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس کا فاعل القول ہے۔ حق یحق حق وحقۃ (باب ضرب) سے ثابت ہونا۔ یقینی ہونا یعنی میرا یہ قول یقینی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–17

لغات القرآن آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ناکسوا (جھکانے والے) ۔ موقنون (یقین کرنے والے) ۔ حق القول (سچی بات ثابت ہونا) ۔ املٔن (میں ضرور بھردوں گا) ۔ ذوقوا (تم چکھو) ۔ نسیتم (تم نے بھلادیا) ۔ خروا (وہ گر پڑے) ۔ تتجافی (الگ رہتی ہے) ۔ جنوب (جنب) (پہلو) ۔ المضاجع (آرام کی جگہ) ۔ اخفی (چھپا دیا گیا) ۔ قرۃ (ٹھنڈک) ۔ اعین (عین) (آنکھیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ چیزوں میں اختیار دیا ہے اور کچھ چیزوں میں مجبور بنایا ہے۔ قیامت کے دن فیصلہ اس کے اختیار کئے ہوئے راستے اور اعمال پر ہوگا۔ اگر کسی نے ہدایت آنے کے باوجود غلط اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو قیامت کے دن جب وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

کفار کے عذاب اور مومن کی شان کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا گر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت کرتے اور ایمان دار نیک کردار کردیتے مگر ان میں صلاحیت نہ تھی ان کو رسولوں اور ہماری کتاب نے بہت کچھ سمجھایا پر انہوں نے نہ مانا لیکن میرا نوشتہ ازلی پورا ہولیا، ہم تو قول کے سچے ہیں اور بات کو پورا کردکھاتے ہیں اور وہ قول یہ ہے کہ ضروردوزخ کو آدمیوں اور جنات سے بھردیں گے اور جب کافر دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو محافظان دوزخ ان سے کہیں گے کہ ذرا اپنے اس دن کے بھول جانے کا مزہ چکھو، ہم بھی تم کو اس عذاب میں چھوڑ کر بھول جائیں گے اپنی بدکرداری، بےایمانی کا ہمیشہ کا عذاب تو چکھو، فرمایا کہ یہ بدنصیب کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[41] یعنی ہم چاہتے تو دنیا میں ہر شخص کو جبراً ہدایت پر قائم رکھتے اور وہ کوئی گناہ نہ کرتا۔ لیکن اس طرح کی جبری ہدایت ہماری اسکیم میں نہ تھی۔ ہم نے تو تمہیں پیدا ہی امتحان کے لئے کیا تھا کہ حقیقت کا مشاہدہ کئے بغیر کائنات میں اور خود اپنے نفس میں اس کی علامات دیکھ کر اپنی عقل سے اسے پہچانتے ہو یا نہیں اور انبیاء اور کتب الٰہی کے ذریعے سے جو اس حقیقت شناسی میں تمہاری مدد کرتے ہیں فائدہ اٹھاتے ہو یا نہیں۔ اس امتحان میں تم ناکام ہوچکے ہو۔ اب اگر دوبارہ امتحان کے لئے تمہیں دنیا میں بھیجا جائے اور تمہیں وہ سب کچھ یاد ہو جو تم نے یہاں دیکھا اور سنا ہے تو یہ کوئی امتحان نہ ہوگا۔ اور اگر تمہیں خالی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–16

ف 1: جب یہ مجرم سرجھکائے ہوئے اللہ کے حضور میں پیش ہونگے اس وقت انہیں احساس ہوگا ۔ کہ ہم نے خدا کی نافرمانی کرکے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ اس لئے وہ خواہش کریں گے کہ خدایا ہمیں ایک بار اور دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح ہم تیرے نیک اور پاک باز بندے بن جاتے ہیں ۔ جواب ملے گا کہ کائنات کا نظام پہلے سے مقدر اور متعین ہے ۔ اس میں کوئی ترمیم اور تنسیخ نہیں ہوسکتی اگر منظور ہوتا کہ کوئی شخص گمراہ نہ ہو ۔ تو ہم سب کو دنیا ہی میں ہدایت سے بہرور کردیتے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ اس دنیا کی زینت کا اختلاف اور بوقلمونی سے ہے جب میں نے کہہ دیا تھا ۔ کہ جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا ۔ وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

13۔ اور اگر ہم چاہے تو ہر شخص کو اس کی صحیح راہ عنایت کردیتے لیکن میرا و ہ وعدہ اور میری وہ کہی بات محقق اور پوری ہو کر رہی کہ میں جنات اور انسان دونوں سے جہنم کو بھردوں گا ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم کسی کو مجبور اور مضطر کر کے اگر ہدایت دینا چاہتے تو سب کو راہ راست پر لگا دیتے لیکن ہماری مصلحت اور حکمت مقتضی نہ تھی کہ سب کو بجبر واکراہ اس ہدایت پر زبردستی قائم کیا جائے جس کو موصول الی المطلوب کہتے ہیں اور جس طرح اس ہدایت سے نوازا جس کو ارادۃ الطریق کہتے ہیں اسی طرح ان کو ہدایت بمعنی ایصال الی المطلوب سے با لجبر نواز سکتے تھے مگر ایسا اکراہ ہم نے پسند نہیں کیا اور وہ قول اور وعدہ پورا اور محقق ہو کر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم چاہتے تو سب انسانوں کو ہدایت پر مجبور کردیتے لیکن ہمارے قانون میں یہ فیصلہ نہیں ہوا : 13۔ غور کرو کہ اس کائنات میں کتنی کتنی بڑی مخلوق آپ کو نظر آتی ہے کیا ان میں کوئی ہے جو اطاعت رب کریم سے سر پھیر رہا ہے ؟ نہیں اور بلاشبہ نہیں پھر اگر ہمارے قانون میں یہ طے ہوتا کہ انسان کو بھی اسی طرح مجبور محض بنانا ہے تو یقینا وہ اطاعت سے منہ نہ پھیرتا بلکہ انہی کی طرح وہ بھی مطیع وفرمانبردار ہوتا لیکن اگر ایسا ہوتا تو کیا مکلف ہوتا ؟ نہیں اور ہرگز نہیں انسان کو اس اختیار نے جو اس کو دیا گیا اور اس کی عقل وفکر نے اس کو مکلف بنایا اور مشیت ایزدی کا فیصلہ یہ ہوا کہ اس کو کسی بات اور کسی کام پر مجبور محض…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–15

Commentary In verse 11, it was said: قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ (Say, "The angel of death who has been assigned for you will take you in full" -11). In the verse previous to it, the deniers of the Qiyamah were warned and an answer was given to their wondering as to how would they be brought back to life once again after they had died and become dust. In the verse cited above, such people are being reminded, 'Think of your death which is, in itself, a great manifestation of the perfect power of Allah Ta’ ala. Your heedlessness and ignorance make you think that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 That is, "Had it been Our will w give guidance to the people after having made them observe and experience the reality, We would not have brought you here after making you undergo this hard test in the world. We could have given you such guidance even before. But We had a different scheme for you from the very beginning. We wanted to test you by keeping the reality hidden from your eyes and senses in order to see whether you could recognize it by your intellect after perceiving its signs in the universe and in your own selves or not, whether you could take advantage of the help that We…

Read the full tafseer →