Explained with ayahs 12–14
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے۔ اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہوگئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لئے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہوجائیں گے۔ سب اندھا و بہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہوگیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 25
یعنی دنیا کے عیش میں گم ہو کر تم نے اس بات کو بالکل بھلا دیا کہ کبھی اپنے رب کے سامنے بھی جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
معارف و مسائل
(آیت) قل یتو فکم ملک الموت الذی وکل بکم، اس سے پہلی آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ اور ان کے اس استعجاب کا جواب تھا کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے، اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ اپنی موت پر دھیان دو اور غور کرو تو وہ خود حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر ہے، تم اپنی غفلت و جہل سے سمجھتے ہو کہ انسان کی موت خود بخود آجاتی ہے، بات یہ نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک تمہاری موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور اس کے لئے فرشتوں کا ایک خاص نظام ہے۔ جن میں بڑے عزرائیل ؑ ہیں کہ ساری دنیا کی موت ان کے انتظام میں دی گئی ہے۔ جس شخص کی جس وقت، جس جگہ موت مقدر ہے ٹھیک اسی وقت وہ اس…
Read the full tafseer →فذوقا بما نسی لقاء یومکم ھذا انا نسینکم و ذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون (14)
’ نسی ‘ کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، نظر انداز کرنے اور ٹالنے کے بھی آتے ہیں۔ یہاں یہ نظر انداز کرنے ہی کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب کسی سوال و درخواست کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ جس طرح تم نے اس دن کو نظر انداز کیے رکھا آج ہم نے تم کو نظر انداز کیا۔ اب تمہاری کوئی درخواست والتجا ہمارے نزدیک درخور اعتنا نہیں رہی۔ اب اپنے اعمال کو پاداش میں ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ یعنی یہ تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہے بلکہ عمر بھر جس فصل کی تم نے کاشت کی ہے یہ اسی کا حاصل تمہارے سامنے آیا ہے۔
Read the full tafseer →14-1یعنی جس طرح تم ہمیں دنیا میں بھلائے رہے، آج ہم بھی تم سے ایسا ہی معاملہ کریں گے ورنہ ظاہر بات ہے کہ اللہ تو بھولنے والا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
5: یعنی اگر اللہ تعالیٰ زبردستی لوگوں کو ہدایت پر لانا چاہتے تو وہ ضرور ایسا کرسکتے تھے، لیکن اس صورت میں وہ آزمائش نہ ہوتی جو انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے، انسان کی آزمائش تو اسی میں تھی کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر پیغمبروں کی بات پر ایمان لائے، جنت اور جہنم کا آنکھ سے نظارہ کرلینے کے بعد اس پر زبردستی ایمان لانے میں کوئی آزمائش نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اس آزمائش کی خاطر انسان کو پیدا کرکے ازل ہی میں یہ طے کرلیا تھا کہ جو لوگ عقل سے کام لے کر پیغمبروں کی اطاعت نہیں کریں گے ؛ بلکہ ان کو جھٹلائیں گے، ان سے میں جہنم کو بھردوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ولو تری اذ المجرمون ۔۔۔۔۔۔ بما کنتم تعلمون (12 – 14)
یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں منکرین قیامت نہایت ہی شرمندگی کے ساتھ اعتراف کر رہے ہیں۔ اب وہ اس سچائی کو مان رہے ہیں جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ وہ یہ درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک بار پھر زمین پر لوٹا دیا جائے اور وہ اب کی بار اس کمی کو پورا کردیں گے جو پہلی بار ہوگئی۔ یہاں شرمندگی کی وجہ سے وہ سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اب یہ لوگ اپنے اس رب کے پاس (عند ربھم) ہوں گے جس کے پاس حاضر ہونے کا وہ انکار کرتے تھے۔ لیکن ان کی یہ سب باتیں بعد از وقت ہوں گی اور اب اعتراف اور اعلان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ قبل اس کے کہ ان کی اس شرمندگی پر کوئی تبصرہ کیا جائے ، یہ…
Read the full tafseer →11 ہم نے بھی تم کو بھلا دیا۔ یعنی کبھی رحمت سے یاد نہیں کئے جاؤ گے۔ آگے مجرمین کے مقابلہ میں مومنین کا حال و مآل بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 14 فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا ج۔
نظر انداز کرنے کی اس کیفیت کا یبان سورة المؤمنون میں اس طرح ہوا ہے : قَالَ اخْسَءُوْا فِیْہَا وَلَا تُکَلِّمُوْنِ اللہ فرمائے گا : اب تم ذلیل و خوار ہو کر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔
Read the full tafseer →16 یعنی تم دنیا کی دلفریبیوں میں اس قدر منہمک ہوئے کہ ہمیں کبھی بھولے سے بھی یاد نہ کیا۔ اور ساری عمر اللہ کی نافرمانیوں اور سرکشی میں گسار دی۔ اب جہنم میں پڑے رہو اور اپنے اعمال کی سزا بھگتو۔ ہماری طرف سے کسی طرح کے رحم اور مہربانی کی توقع نہ رکھو۔ ہم بھی تمہیں ابدالاباء تک یہیں جہنم میں پڑا رہنے دیں گے اور اسی طرح تمہیں بھلا دیں گے جیسے دنیا میں تم نے ہمیں بھلا رکھا تھا۔
Read the full tafseer →21۔ یعنی اپنی رحمت سے تمہیں محروم کردیا۔ اللہ کا کسی کو بھلادینا ہمیشہ اسی مجازی معنی میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیت نمبر 12 تا 22
ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…
Read the full tafseer →فذوقوا بما نسیتم لقاء یومکم ھذا . پس تم چونکہ اس دن کے سامنے آنے کو بھول گئے تھے اس لئے عذاب
کا مزہ چکھو ‘ ہم نے بھی (آج) تم کو بھولا بسرا کردیا۔ بھولنے سے مراد ہے رحمت سے محروم کردینا یا عذاب میں اس طرح چھوڑ دینا جیسے کوئی چیز بھولی بسری ہوجاتی ہے۔
لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا سے مراد ہے قبروں سے اٹھ کر اللہ کی طرف یعنی مقام حساب کی طرف جانا۔
انا نسینکم وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون . ہم نے تم کو بھلا دیا اور اپنے کرتوت کی پاداش
میں دوامی عذاب کا مزہ چکھو۔
امر کی تکرار مفید تاکید ہے۔ اس آیت میں کفر و معاصی کو ذوق عذاب کا سبب قرار دیا ہے اور گزشتہ سابقہ آیات میں ذوق عذاب کا سبب نسیاں قیامت و…
Read the full tafseer →اب اپنی اس بھول کا مزہ چکھو جس کی وجہ سے تم نے اقرار و عمل سب کو چھوڑ دیا تھا۔
ہم نے اب تمہیں دوزخ میں ڈال دیا اب اپنے کفر کی وجہ سے دائمی عذاب کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا : یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا کہ دنیا کے عیش میں گم ہو کر تم نے اس بات کو بالکل بھلا دیا کہ کبھی اپنے رب سے ملاقات بھی ہونی ہے، اب اس بھولنے کا مزا چکھو۔ آیت کے آخر میں اس مزے کی صراحت فرما دی کہ اپنے عمل کی وجہ سے ہمیشگی کا عذاب چکھو۔
اِنَّا نَسِيْنٰكُمْ : یعنی جس طرح تم نے ہمیں بھلائے رکھا، آج ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا۔ انھیں ہمیشہ عذاب میں چھوڑے رکھنے کو نسیان کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بھولنا ممکن ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (لا یضل ربی ولا ینسی) [ طٰہٰ : 52 ] ”میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ اور…
Read the full tafseer →آیت فذوقوبما نسیتم لقاء یومکم ھذا اس میں دو قول ہیں : (1) یہ اس نسیان سے ماخوذ ہے جس کے ساتھ کوئی یاد نہ ہو۔ یعنی انہوں نے اس دن کے لیے کوئی عمل نہ کیا تو وہ بھولنے والوں کے قائم مقام ہوگئے۔ (2) جو تم چھوڑآئے اس کو تم نے بھلا دیا۔ اسی طرح انا نسینکم ہے۔ محمد بن یزید نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت ولقد عھدنا الی ادم من قبل فنسی (طہ : 115) سے استدلال کیا ہے۔ کہا : اس امر پر دلیل کہ یہ ترک کے معنی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں بتایا فرمایا : آیت ما نھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین (الاعراف (رح) : 20) اگر حضرت آدم (علیہ السلام) بھول گئے تھے تو شیطان نے تو آپ کو یاد دلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو ترایٰ اذ المجرمون ناکسوا رؤ و سہم عند ربہم ربنا ابصرنا ومعنا اور اگر آپ دیکھیں گے جب کہ مجرم اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا ہے یعنی وہ دیکھیں گے جب ان کو دیکھنا ان کو نفع نہیں دے گا اور سنیں گے جبکہ ان کا سننا ان کو نفع نہیں دے گا آیت ولو شئنا لاٰتینا کل نفس ہد ہا اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو سب لوگوں کو یہ ہدایتدیتے ہیں اور اگر اللہ چاہتے تو ان کے اوپر آسمان سے کوئی نچانی نازل فرماتے آتی فظلت اعناقہم لہا خضعین تو اس کی گردنیں اس کو اپنی طرف کھینچتیں یعنی وہ اللہ کا حکم مان…
Read the full tafseer →فَذُوْقُوْا [تو چکھو ] بِمَا [اس کو جو ] نَسِيْتُمْ [تم لوگوں نے بھلا دیا ] لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا ۚ [تمہاری اس دن کی ملاقات کو ] اِنَّا نَسِيْنٰكُمْ [بیشک ہم نے بھلا دیا تم کو ] وَذُوْقُوْا [اور تم لوگ چکھو ] عَذَابَ الْخُلْدِ [ہمیشگی کے عذاب کو ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کیا کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اہل ایمان کی صفات، مومنین کا جنت میں داخلہ، اہل کفر کا دوزخ میں برا ٹھکانہ
ان آیات میں مومنین صالحین کی بعض صفات اور ان کے انعامات بیان فرمائے ہیں اور کافرین فاسقین کا ٹھکانہ اور ان کی بدحالی بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو تذکیر اور نصیحت کا اثر لیتے ہیں، جب انہیں ہماری آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو انہیں سن کر سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور تحمید میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تکبر بھی نہیں کرتے۔ مزید فرمایا کہ ان کے پہلو اپنے لیٹنے کی جگہوں سے یعنی خوابگاہوں سے دور ہوجاتے ہیں وہ ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال
قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…
Read the full tafseer →12:۔ فذوقوا الخ۔ چونکہ تم نے قیامت کے دن کو اور اس کے حساب کتاب اور جزا وسزا کو بھلا دیا تھا اور توحید اور اعمال صالحہ سے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ اس لیے آج ہم نے بھی تمہیں عذاب میں چھوڑ دیا ہے۔ لہذا اب اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے دائمی عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کا تذکرہ ہوا ۔ تو حید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ، رسالت کا بیان ہوا ۔ اور ساتھ ساتھ قیامت اور جزائے عمل کا تذکرہ ہو۔ پھر تخلیق انسان کا مسئلہ بیان ہوا ۔ پھر اس کی ناشکر گزاری کا شکوہ ہوا ۔ پھر وقوع قیامت کے متعلق کفارومشرکین کے انکار کا ذکر ہوا۔ کہ وہ کہتے ہیں ۔ کہ جب ہم مرکزی مٹی میں رل مل جائیں گے تو پھر ہمارا دوبارہ زندہ ہونا کیسے ممکن ہوگا ؟ اللہ نیف رمایا کہ دراصل یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں ۔ درمیان میں اختصار کے ساتھ پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب کیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہاری جانوں کو ملک…
Read the full tafseer →فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا 0ۚ اِنَّا نَسِيْنٰكُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 14
ذوق
الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له :
الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56]
( ذ و ق ) الذاق ( ن )
کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ترکیب : ولو تریٰ ھو من رویۃ العین و المفعول محذوف ای ولو تری المجرمین۔ و اغنی عن ذکرہ المبتداء۔ واذ ھنا یرا دبھا المستقبل والتقدیر یقولون ربنا و موضع المحذوف حال والعامل فیھا ناکسوا۔ فذوقوا بما ای فذوقو العذاب ویجوزان یکون مفعول فذوقوا اللقاء علی مذہب الکوفیین فی اعمال الاول۔ ویجوزان یکون ھذا۔ تتجافیٰ موضع الحال و جواب لو محذوف ای لریت امر افظیعا ویکن ان یکون لو للتمنی خوفا وطمعا مفعول لہ والعامل یدعون۔ مابمعنی الذی ویجوزان یکون للاستفہام۔
تفسیر : ولوتری یہاں سے وہ حال بیان کرتا ہے جو خدا کے پاس رجوع ہونے کے بعد یعنی اس کے پاس جانے کے بعد ظہور میں آئے گا کہ اے محمد ﷺ یا اے ہر شخص مخاطب ! اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
وَلَوْ شِئْنَا لَاٰ تَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھُدٰھَا وَلٰـکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَـآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا ج اِنَّا نَسِیْنٰـکُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِبِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (السجدۃ : 13، 14)
(جواب میں ارشاد ہوگا) اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن میری طرف سے یہ بات متحقق ہوچکی ہے، میں جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھر دوں گا۔ تو اب چکھو مزہ اس بات کا کہ تم نے اس دن کی پیشی کو بھلائے رکھا، اب ہم نے بھی تم کو نظرانداز کردیا ہے، تو چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کی درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا حکم۔
مجرموں کو مزید احساس دلانے اور ذلیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے لیکن میرا فرمان سچ ثابت ہوا کہ میں جہنم کو بہت سے جنوں اور انسانوں سے بھروں گا لہٰذا اب جہنم کا عذاب چکھو اس لیے کہ تم میری ملاقات کو فراموش کرچکے تھے لہٰذا ہم نے بھی تمہیں فراموش کردیا ہے بس اب تم اپنے کیے کے بدلے میں ہمیشہ کا عذاب سہتے رہو۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تین ارشادات فرمائے ہیں۔
1 اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام جنوں اور انسانوں کو ہدایت سے سرفراز کردیتا چاہنے سے مراد جبراً ہدایت دینا ہے اللہ…
Read the full tafseer →14: فَذُوْقُوْا (پس تم چکھو) عذاب کو بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآ ئَ (اس وجہ سے کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا) اس وجہ سے کہ تم نے ملاقات کے اعمال کو ترک کردیا۔ یَوْمِکُمْ ھٰذَا (وہ عمل ایمان ہے جس کو بھلایا) ۔ اِنَّا نَسِیْنٰکُمْ (بیشک ہم نے تمہیں بھلا دیا) یعنی بھلائے ہوئے کی طرح عذاب میں چھوڑ دیا۔ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ (تم ہمیشہ کا عذاب چکھو) دائمی عذاب جو منقطع نہ ہوگا۔ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (اپنے اعمال کی وجہ سے) وہ کفر اور دیگرمعاصی ہیں۔
Read the full tafseer →14، فذوقوابما نسیتم لقاء یومکم حذا، تم ایمان کو دنیا میں چھوڑدیا۔ ، انا نسینا کم ، ہم تمہیں چھوڑدیں گے۔ ، وذوقواعذاب الخلد بما کنتم تعملون، بسبب تمہارے کفر اور حق کو جھٹلانے کے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12 تا 15۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا اس وقت کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیرو ذلیل ہو کر کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو نیچا کر کے زبان سے کہیں گے کہ اے پروردگار ہمارے ہم نے اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا اور رسولوں کے بیان کی صداقت یا اللہ خود تیری زبان سے بالمشافہ سن لی پھر کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
آیت نمبر : 14 ۔ 12
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد ‘ اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ولو تری اذالمجرمون) ” اور اگر آپ دیکھیں ‘ جب کہ گناہ گار “ جنہوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا (ناکسوا رء وسھم عند ربھم) خشوع و خضوع اور انکساری کے ساتھ سرنگوں ہوکر ‘ اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے ‘ واپس لوٹائے جانے کی درخواست کرکے عرض کریں گے : (ربنآ ابصرنا وسمعنا) ” اے ہمارے رب ! ہمنے دیکھ لیا اور سن لیا۔ “ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہوگیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ (فارجعنا نعمل صالحاً…
Read the full tafseer →21 مجرموں سے خطاب ان کی تقریع و توبیخ کیلئے : سو اس وقت ایسوں کو خطاب کر کے اس طرح کہا جائے گا اور اس وقت ان بدبختوں سے ایساکہنا ان کی توبیخ و تقریع کے لئے ہوگا۔ تاکہ باہر کی آگ کے ساتھ ساتھ ان کے قلوب و بواطن بھی حسرت و افسوس کی اس اندرونی آگ سے جلیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس طرح جنتیوں کو جنت کی ظاہر نعمتوں کے ساتھ ساتھ خوش کن باتیں بھی سننے کو ملیں گی تاکہ ان کا سرور دوبالا ہو۔ اسی طرح دوزخیوں کو دوزخ کے ظاہری اور ہولناک عذابوں کے ساتھ ساتھ باتیں بھی اسی طرح سننے کو ملیں گی جس سے دل بھی جلیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا کس قدر بڑا فضل و کرم اور احسان ہے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر
تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیات 12 تا 22
اسرارومعارف
اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔
اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 3 یعنی انہیں سنا کر نصیحت کی جاتی ہے۔4 یعنی خوف و خشیت اور خشوع و خضوع سے سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔ زبان سے ( سبحان اللہ وبحمدہ یا سبحان ربی الا علی) کہتے ہیں اور دل میں کبر و غرور اور بڑائی کی بات نہیں رکھتے کہ نصیحت قبول کرنے سے مانع ہو۔ اس مقام پر پڑھنے والے اور سننے والے دونوں کے لیے سجدہ کرنا مسنون ہے۔ ( قرطبی) ۔
Read the full tafseer →(32:14) ذوقوا (ای یقول لہم اللہ۔ اللہ تعالیٰ سن سے کہیگا) ۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ذوق مصدر (باب نصر) چکھنا۔ العذاب۔ عذاب بھگتنا۔ فذوقوا۔ پس (اب) چکھو (سزا) ۔
بما نسیتم لقاء یومکم ھذا۔ میں ب سببیہ ہے ما مصدریہ ہے ھذا یوم کی صفت ہے ذوقوا کا مفعول (العذاب) محذوف ای فذوقوا العذاب بسبب نسیانکم لقاء ھذا الیوم۔ یعنی آج کے دن کی ملاقات بھلا کر سبب سے عذاب کا مزہ چکھو۔
نسینکم۔ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ نسیان بھلا دینا۔ فراموش کردینا۔ یا ترک کردینا اور نظر انداز کردینا۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو ترک کرنے اور نظر انداز کرنے کے معنہ میں آئیگا کیونکہ بھولنا ایک انسانی عیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
لغات القرآن آیت نمبر (12 تا 17) ۔
ناکسوا (جھکانے والے) ۔ موقنون (یقین کرنے والے) ۔ حق القول (سچی بات ثابت ہونا) ۔ املٔن (میں ضرور بھردوں گا) ۔ ذوقوا (تم چکھو) ۔ نسیتم (تم نے بھلادیا) ۔ خروا (وہ گر پڑے) ۔ تتجافی (الگ رہتی ہے) ۔ جنوب (جنب) (پہلو) ۔ المضاجع (آرام کی جگہ) ۔ اخفی (چھپا دیا گیا) ۔ قرۃ (ٹھنڈک) ۔ اعین (عین) (آنکھیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ چیزوں میں اختیار دیا ہے اور کچھ چیزوں میں مجبور بنایا ہے۔ قیامت کے دن فیصلہ اس کے اختیار کئے ہوئے راستے اور اعمال پر ہوگا۔ اگر کسی نے ہدایت آنے کے باوجود غلط اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو قیامت کے دن جب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(ف 1) شان نزول۔
یہ آیت تہجد کے بارہ میں اتری، نبی ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ سے چند نیک کاموں کا ذکر کرکے فرمایا کہ تہجد کی نماز ایک ایسی چیز ہے جس کے ثواب کا کچھ بیان نہیں ہوسکتا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ ترمذی کی روایت جو انس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت عشاء کی نماز کے بارے میں نازل ہوئی ان دونوں روایتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کچھ لوگوں پر تھکان اور نیند کے سبب سے عشاء کی نماز بھی شاق ہی ہوتی ہے اس لیے عشاء کی نماز کی شان میں بھی اس آیت کا مطلب پایاجاتا ہے اوپر جن ایماندار لوگوں کا ذکر تھا وہ قرآن کی نصیحت کو کان لگاسنتے ہیں اور احکام الٰہی کے تابع ہیں یہ انہی کا ذکر فرمایا کہ جب اور لوگ آرام سے سورت…
Read the full tafseer →[16] یعنی تمہیں اپنی رحمت سے محروم کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ف 1: جب یہ مجرم سرجھکائے ہوئے اللہ کے حضور میں پیش ہونگے اس وقت انہیں احساس ہوگا ۔ کہ ہم نے خدا کی نافرمانی کرکے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ اس لئے وہ خواہش کریں گے کہ خدایا ہمیں ایک بار اور دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح ہم تیرے نیک اور پاک باز بندے بن جاتے ہیں ۔ جواب ملے گا کہ کائنات کا نظام پہلے سے مقدر اور متعین ہے ۔ اس میں کوئی ترمیم اور تنسیخ نہیں ہوسکتی اگر منظور ہوتا کہ کوئی شخص گمراہ نہ ہو ۔ تو ہم سب کو دنیا ہی میں ہدایت سے بہرور کردیتے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ اس دنیا کی زینت کا اختلاف اور بوقلمونی سے ہے جب میں نے کہہ دیا تھا ۔ کہ جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا ۔ وہ…
Read the full tafseer →14۔ سو جس طرح تم اپنے اس دن کے آنے کو بھولے رہے آج اس بھولنے کا مزہ چکھو ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا اور اپنے ان اعمال کی بدولت جو تم کیا کرتے تھے ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ یعنی تم نے اس دن کی ملاقات اور قیامت کے دن کی پیشی کو بالکل فراموش کر رکھا تھا لہٰذا اب تم اس بھلانے کا مزہ چکھو ہم نے تم کو اپنی رحمت سے دورکر دیا اور ہم تم سے ایسا برتائوں کرینگے جسے کوئی بھولے ہوئے شخص کے ساتھ کرتا ہے۔
انا نسینکم بطور مجاز فرمایا ورنہ ظاہر ہے کہ حضرت حق نسیاں سے پاک ہیں اور جو اعمال اور بدکرداریاں کرتے رہے ہو اس کے سبب سے عذاب دائم اور ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ آگے مومنین کا ذکر اور ان کے نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 3۔ یعنی رحمت سے محروم کردیا۔
Read the full tafseer →دارالعمل سے نکل کر جب وہ دارالجزا میں جائیں گے تو بدلہ پر مجبور محض ہوں گے :
14۔ اس دارالعمل سے نکل کر جب وہ دارا الجزاء میں داخل ہوں گے تو بلاشبہ وہ ان اعمال کا بدلہ پانے کے لئے مجبور محض ہوں گے اور ان کی وہ آزادی جو ان کو دارالعمل میں دی گئی تھی یقینا سلب کرلی جائے گی کیونکہ ہر انسان اپنے عمل کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے جن لوگوں نے آخرت کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور وہ دنیا ہی کے ہو کر رہ گئے تھے بلاشبہ اب ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہوگا اور جس طرح انہوں نے آخرت کو بھلا دیا تھا آج آخرت میں بلاشبہ ان کو بھی بھلا دیا جائے گا گویا انہوں نے دنیا میں ہماری ہدایت کی کوئی پروا نہ کی تھی اور آج ہم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
Commentary
In verse 11, it was said: قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ (Say, "The angel of death who has been assigned for you will take you in full" -11). In the verse previous to it, the deniers of the Qiyamah were warned and an answer was given to their wondering as to how would they be brought back to life once again after they had died and become dust. In the verse cited above, such people are being reminded, 'Think of your death which is, in itself, a great manifestation of the perfect power of Allah Ta’ ala. Your heedlessness and ignorance make you think that…
Read the full tafseer →25 That is, "You became so absorbed in pleasure-seeking in the world that you totally forgot that you had to meet your Lord on this Day."
Read the full tafseer →