Explained with ayahs 15–17
ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں !
سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے جیسے فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) یعنی میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 26
بالفاظ دیگر وہ اپنے غلط خیالات کو چھوڑ کر اللہ کی بات مان لینے اور اللہ کی بندگی اختیار کر کے اس کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی بات مان لینے اور اللہ کی بندگی اختیار کر کے اس کی عبادت بجا لانے اپنی شان سے گری ہوئی بات نہیں سمجھتے نفس کی کبریائی انہیں قبول حق اور اطاعت رب سے مانع نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
معارف و مسائل
(آیت) قل یتو فکم ملک الموت الذی وکل بکم، اس سے پہلی آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ اور ان کے اس استعجاب کا جواب تھا کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے، اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ اپنی موت پر دھیان دو اور غور کرو تو وہ خود حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر ہے، تم اپنی غفلت و جہل سے سمجھتے ہو کہ انسان کی موت خود بخود آجاتی ہے، بات یہ نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک تمہاری موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور اس کے لئے فرشتوں کا ایک خاص نظام ہے۔ جن میں بڑے عزرائیل ؑ ہیں کہ ساری دنیا کی موت ان کے انتظام میں دی گئی ہے۔ جس شخص کی جس وقت، جس جگہ موت مقدر ہے ٹھیک اسی وقت وہ اس…
Read the full tafseer →2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 15۔ 22
اوپر کی آیات سے واضح ہوا کہ جو لوگ قرآن پر ایمان لانے سے گریز کر رہے تھے ان کے گریز کے اسباب کیا تھے۔ اب آگے کی آیات میں یہ بتایا ہے کہ کس قسم کے لوگ ہیں جو اس کتاب پر ایمان لا رہے ہیں یا لائیں گے اور ان کے لئے خدا کے ہاں کیا اجرو ثواب اور کیا مرتبہ و مقام ہے اور جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کس انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
انما یومن بایتنا الذی اذ ذکروا بھا خروا سجد وسبحوا بعمد ربھم وھم لا یستکرون (15)
یہ آیت نبی ﷺ کے لئے تسلی کے سیاق میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی دنیوی…
Read the full tafseer →15-1یعنی تصدیق کرتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
15-2یعنی اللہ کی آیات کی تعظیم اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔
15-3یعنی رب کو ان چیزوں سے پاک قرار دیتے ہیں جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں اور اس کے ساتھ اس کی نعمتوں پر اس کی حمد کرتے ہیں جن میں سے سب سے بڑی اور کامل نعمت ایمان کی ہدایت ہے۔ یعنی وہ اپنے سجدوں میں، سُبْحَان اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ ، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعٰلٰی وَ بَحَمْدِہٖ وغیرہ کلمات پڑھتے ہیں۔
15-4یعنی اطاعت وانقیاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جاہلوں اور کافروں کی طرح تکبر نہیں کرتے۔ اس لیے کہ اللہ کی عبادت سے تکبر کرنا، جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ اس لیے اہل ایمان کا معاملہ ان کے…
Read the full tafseer →6: یہ سجدہ کی آیت ہے جس کی تلاوت کرنے یا سننے سے سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
انما یؤمن بایتنا ۔۔۔۔۔ جزاء بما کانوا یعملون (15 – 17)
پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے “۔
یہ اہل ایمان کی نہایت ہی خوبصورت اور روشن تصویر ہے۔ یہ نہایت ہی لطیف اور شفاف اور حساس لوگ ہیں۔ ان کے دل خوف خدا سے کانپتے ہیں اور وہ نہایت ہی پر امید انداز سے اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ نہ وہ اللہ کے مقابلے میں بڑائی اور تکبر کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ہی دراصل اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے ہیں۔ یہ لوگ کی آیات کو تیز احساس ، بیدار دل اور روشن ضمیر کے ساتھ لیتے…
Read the full tafseer →1 یعنی خوف و خشیت اور خشوع و خضوع سے سجدہ میں گرپڑتے ہیں، زبان سے اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں، دل میں کبرو غرور اور بڑائی کی بات نہیں رکھتے جو آیات اللہ کے سامنے جھکنے سے مانع ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت 16 تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
سورۃ الفرقان میں اللہ کے نیک بندوں کے اس خاص معمول کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے : وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔ یعنی ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو ساری ساری رات غفلت کی نیند سوتے رہتے ہیں اور دوسری طرف اللہ کے یہ بندے ہیں جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں ‘ کبھی اس کے حضور قیام کر کے اور کبھی سجدے میں گر کر۔
یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًاز
ایک طرف تو وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے بارے میں پر امید ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف اپنی کوتاہیوں پر…
Read the full tafseer →17 ایمان لانے والوں کی صفات انکار کرنے والوں سے بالکل جداگانہ ہوتی ہیں۔ ان کے دلوں میں ضد، ہٹ دھرمی اور عناد نہیں ہوتا، ان کی طبیعتیں اتنی سلیم ہوتی ہیں کہ حق بات کو قبول کرنے پر فوراً آمادہ ہوجاتی ہیں۔ ان میں تکبر اور غرور نام کو نہیں ہوتا۔ بلکہ انھیں جب اللہ تعالیٰ کے عجائبات اور کارنامے بتلائے جاتے ہیں تو اللہ کی عظمت سے ان کے دل فوراً دہل جاتے ہیں وہ قبول حق پر فوراً آمادہ ہوجاتے ہیں پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح و تقدیس جاری ہوجاتی ہے۔
اس آیت پر سجدہ ہے۔ اس کو پڑھنے اور سننے والوں کو یہاں سجدہ کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی ان صفات میں شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
22۔ اللہ کی رضا جوئی کے کاموں میں) دونوں آیتوں میں ایمان اور کمال ایمان دونوں کے صفات بیان کردیئے ہیں۔ (آیت) ” تتجافی جنوبھم عن المضاجع “۔ پہلوؤں کے خواب گاہوں سے علیحدہ رہنے کے معنی یہ ہیں۔ کہ راتوں کو اپنے بستر چھوڑ چھورڑ عبادتوں میں لگے رہتے ہیں۔ (آیت) ” یدعون ..... طمعا “۔ یہ لوگ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں، خوف عذاب کی راہ سے بھی اور امید وثواب کی راہ سے بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیت نمبر 12 تا 22
ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…
Read the full tafseer →انما یؤمن بایتنا الذین اذا ذکروا بھا خروا سجدا وسبحوا بحمد ربھم وھم لا یستکبرون
پس ہماری آیتوں پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو وہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرنے لگتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
ذُکِّرُوْا یعنی ان کو نصیحت کی جاتی ہے۔ خَرُّوْا منہ کے بل گرپڑتے ہیں اللہ کے عذاب کے خوف سے۔
سَبِّحُوْا ہر نامناسب بات سے اللہ کے پاک ہونے کا اعتراف کرتے ہیں (ا اللہ ہر عیب ‘ نقصان ‘ عجز و جہالت سے پاک ہے) ۔
بِحَمْدِ رَبِّھِمْ اللہ کی حمد کرتے ہوئے یعنی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کو ایمان کی توفیق دی اور ہدایت نصیب کی۔ مطلب یہ کہ وہ…
Read the full tafseer →رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کی تو وہی لوگ تصدیق کرتے ہیں کہ جب ان کو اذان و اقامت کے ذریعے پانچوں نمازوں کے لیے بلایا جاتا ہے تو فوراً تواضع و خاکساری کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں اور اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل کے لیے نماز پڑھتے ہیں اور وہ لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے اور پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے سے تکبر نہیں کرتے۔ یہ آیت منافقین کی حالت بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی کیونکہ وہ نمازوں کو مجبوری و سستی کے ساتھ ادا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا۔۔ : یعنی وہ لوگ جو تکبر کرتے ہوئے ہماری ملاقات ہی کو بھول گئے، وہ ہماری آیات پر کبھی ایمان نہیں لاتے۔ ہماری آیات پر تو صرف وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جن کی صفات اپنے رب کی ملاقات کو بھول جانے والوں سے بالکل جدا ہوتی ہیں۔ ان کے دلوں میں ضد، ہٹ دھرمی اور عناد نہیں ہوتا۔ ان کی طبیعت اتنی سلیم ہوتی ہے کہ جب انھیں آیات الٰہی کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ فوراً حق قبول کرتے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ان کے نفس کی کبریائی انھیں حق قبول کرنے اور اللہ اور…
Read the full tafseer →یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے یعنی وہ کفر سے محبت کی بنا پر تم پر ایمان نہیں رکھتے۔ تجھ پر اور قرآن پر وہ لوگ ایمان لائیں گے جو تدبر کرنے والے ہوں گے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے والے ہوں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جب ان پر قرآن پڑھا جائے گا تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ آیت خرواسجدا کا معنی ہے رکعا۔ مہدوی نے کہا : یہ اس کے نقطہ نظر کے مطابق ہے جو سجدہ تلاوت رکوع میں کرنے کو جائز سمجھتا ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے۔ آیت وخر راکعاواناب (ص) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد سجدہ ہے ؛ اکثر علماء کی یہی رائے ہے۔ وہ اپنے مونہوں کے بل سجدہ میں گر پڑے وجہ آیت کی تعظیم اور اس کے سطوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو ترایٰ اذ المجرمون ناکسوا رؤ و سہم عند ربہم ربنا ابصرنا ومعنا اور اگر آپ دیکھیں گے جب کہ مجرم اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا ہے یعنی وہ دیکھیں گے جب ان کو دیکھنا ان کو نفع نہیں دے گا اور سنیں گے جبکہ ان کا سننا ان کو نفع نہیں دے گا آیت ولو شئنا لاٰتینا کل نفس ہد ہا اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو سب لوگوں کو یہ ہدایتدیتے ہیں اور اگر اللہ چاہتے تو ان کے اوپر آسمان سے کوئی نچانی نازل فرماتے آتی فظلت اعناقہم لہا خضعین تو اس کی گردنیں اس کو اپنی طرف کھینچتیں یعنی وہ اللہ کا حکم مان…
Read the full tafseer →اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [يُؤْمِنُ : ایمان لاتے ہیں ] [بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں پر ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو (ہیں کہ)] اِذَا ذُكِّرُوْا [جب ان کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے ] بِهَا [ان (نشانیوں) کے ذریعہ سے ] خَرُّوْا [تو وہ گرپڑتے ہیں ] سُجَّدًا [سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ] وَّسَبَّحُوْا [اور تسبیح کرتے ہیں ] بِحَمْدِ رَبِّهِمْ [اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ [اور وہ لوگ بڑے نہیں بنتے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اہل ایمان کی صفات، مومنین کا جنت میں داخلہ، اہل کفر کا دوزخ میں برا ٹھکانہ
ان آیات میں مومنین صالحین کی بعض صفات اور ان کے انعامات بیان فرمائے ہیں اور کافرین فاسقین کا ٹھکانہ اور ان کی بدحالی بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو تذکیر اور نصیحت کا اثر لیتے ہیں، جب انہیں ہماری آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو انہیں سن کر سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور تحمید میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تکبر بھی نہیں کرتے۔ مزید فرمایا کہ ان کے پہلو اپنے لیٹنے کی جگہوں سے یعنی خوابگاہوں سے دور ہوجاتے ہیں وہ ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال
قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…
Read the full tafseer →13:۔ انما یومن الخ مشرکین کے مقابلے میں مومنین کی صفات کا ذکر۔ ایمان صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن کے دلوں میں انابت ہو۔ وہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ فورًا ایمان لے آتے ہیں۔ اور جب انہیں آیات خداوندی سنائی جاتی ہیں تو وہ اللہ کے خوف سے سراپا عجز و نیاز بن جاتے ہیں وسبحو بحمد ربھم، وہ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے شریکوں سے پاک اور منزہ سمجھتے اور اس کو تمام صفات کارسازی سے متصف مانتے ہیں قرآن مجید ہر جگہ لفظ تسبیح سے نفی عن الشریک اور حمد سے صفات کارسازی مراد ہیں یعنی اللہ تعالیی ہر شریک سے پاک اور تمام صفات کارسازی سے متصف ہے لہذا سارے عالم میں وہی متصرف و مختار اور کارساز ہے ای نزھوہ و حمدوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کا تذکرہ ہوا ۔ تو حید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ، رسالت کا بیان ہوا ۔ اور ساتھ ساتھ قیامت اور جزائے عمل کا تذکرہ ہو۔ پھر تخلیق انسان کا مسئلہ بیان ہوا ۔ پھر اس کی ناشکر گزاری کا شکوہ ہوا ۔ پھر وقوع قیامت کے متعلق کفارومشرکین کے انکار کا ذکر ہوا۔ کہ وہ کہتے ہیں ۔ کہ جب ہم مرکزی مٹی میں رل مل جائیں گے تو پھر ہمارا دوبارہ زندہ ہونا کیسے ممکن ہوگا ؟ اللہ نیف رمایا کہ دراصل یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں ۔ درمیان میں اختصار کے ساتھ پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب کیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہاری جانوں کو ملک…
Read the full tafseer →اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِہَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَہُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 15۞
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک…
Read the full tafseer →انما یؤمن الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ بدنصیب کیا ایمان لا ویں گے۔ ایمان لانا آیات الٰہی پر تو ازلی نیک بختوں کا کام ہے، پھر ان کے علامات اور عادات حمیدہ بیان فرماتا ہے۔ (1) کہ جب ان کو آیات الٰہی سناکر سمجھایا جاتا ہے تو خوفِ الٰہی کے مارے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں۔ سبحان اللہ بحمدہ کہتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے، نہ تو دنیا میں کسی سے بتکبر پیش آتے ہیں نہ اللہ کے رسولوں اور اس کے احکام سے تکبر کرکے سرتابی کرتے ہیں، یعنی ان میں کمال صلاحیت ہے۔ اس آیت کو پڑھ کر یا سن کر سجدہ کرنا لازم ہے۔
(2) نماز تہجد : تتجا فی جنوبھم عن المضاجع اے ترتفع و تتنحی لحن الفرش و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰ یٰـتِـنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَھُمْ لاَیَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ السجدۃ تَتَجَا فٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ز وَّمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّـآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (السجدۃ : 15 تا 17)
(ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں جب یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ان کے پہلو بستروں سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کے احکام اور قیامت کو فراموش کردینے والوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے اور قیامت پر یقین رکھنے والوں کا کردار۔
” اللہ “ کے باغیوں اور قیامت کے منکروں کے سامنے باربار نصیحت کرنے کا کچھ اثر نہیں ہوتا ان کے مقابلے میں جو لوگ اپنے رب پر ایمان رکھتے ہیں اور قیامت کے دن پر یقین کرتے ہیں۔ ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب بھی انہیں دین کی کوئی بات سمجھائی جائے یا ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا حکم آئے جس پر فوری طور پر سرجھکا نامقصود ہو تو وہ اپنے رب کے حضور سجدے میں پڑ کر اس کی حمدو ثناء کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی تکبر کرنے والے نہیں ہوتے۔ ان میں یہ بات…
Read the full tafseer →ایمان والوں کی صفات :
15: اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا (تو ہماری آیات پر وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جب ان کو وہ آیتیں یاد دلائی جائیں) یعنی ان آیات کے ساتھ نصیحت کی جائے خَرُّوْا سُجَّدًا (وہ سجدہ میں گرپڑتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تواضع اور خشوع سے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اسلام کی نعمت عنایت ہونے پر شکریہ میں سجدہ کرتے ہیں۔ وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّھِمْ (اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں) تسبیحؔ اللہ تعالیٰ کو ان باتوں سے جو اس کی ذات کے لائق نہیں پاک قرار دیتے ہیں۔ حمدؔ اس کی حمدو ثناء بیان کرتے ہیں۔ وَھُمْ لَایَسْتَکْبِرُوْنَ (اور وہ تکبر نہیں…
Read the full tafseer →تفسیر 15۔ ، انما یئومن بایاتنا الذین اذا ذکروابھا، جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے۔ ، خرواسجدا، منہ کے بل گرپڑتے ہیں اللہ کے عذاب کے خوف سے ۔ ، وسبحوابحمد ربھم ، بعض کا قول ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم سے نماز پڑھتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ سبحان اللہ وبحمدہ کہیں گے۔ وھم لا یستکبرون، اور وہ ایمان و اطاعت سے غرور نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12 تا 15۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا اس وقت کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیرو ذلیل ہو کر کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو نیچا کر کے زبان سے کہیں گے کہ اے پروردگار ہمارے ہم نے اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا اور رسولوں کے بیان کی صداقت یا اللہ خود تیری زبان سے بالمشافہ سن لی پھر کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت نمبر : 15 ۔ 17
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عذاب کا ذکر کرنے کے بعد ‘ جو اس نے اپنی آیتوں کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے ‘ اہل ایمان کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا وصف بیان کیا ‘ جو ان کے لیے تیار کیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (انما یؤمن بایتنا) یعنی جو ہماری آیتوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور جن میں ایمان کے شواہد پائے جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں (الذین اذا ذکروا) جن کے سامنے جب قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے ‘ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس نصیحتیں آتی ہیں ‘ انہیں یاد دہانی کرائی جاتی ہے تو وہ اسے غور سے سنتے ہیں ‘ ان کو قبول کرکے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور (خروا سجدا) اللہ تعالیٰ کی آیتوں…
Read the full tafseer →24 اللہ والوں کی شان عجز و انکسار اور خشیت و خشوع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو جب آیات خداوندی کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ فورا اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر گرپڑتے ہیں اور وہ تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ۔ اور وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتے اور اسی شان تواضع کے باعث اور اس کے نتیجے میں ان کو سچی اور حقیقی عزت و عظمت نصیب ہوتی ہے۔ سو یہ ہوتی ہے شان اللہ والوں کی کہ جب ان کو اللہ کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح کرتے ہوئے اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور کسی طرح کے عجب و استکبار میں مبتلا نہیں ہوتے۔ یہاں سجدہ کرنا واجب ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر
تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیات 12 تا 22
اسرارومعارف
اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔
اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 3 یعنی انہیں سنا کر نصیحت کی جاتی ہے۔4 یعنی خوف و خشیت اور خشوع و خضوع سے سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔ زبان سے ( سبحان اللہ وبحمدہ یا سبحان ربی الا علی) کہتے ہیں اور دل میں کبر و غرور اور بڑائی کی بات نہیں رکھتے کہ نصیحت قبول کرنے سے مانع ہو۔ اس مقام پر پڑھنے والے اور سننے والے دونوں کے لیے سجدہ کرنا مسنون ہے۔ ( قرطبی) ۔
Read the full tafseer →(32:15) ذکروا۔ بما ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ تذکیر (تفعیل) مصدر سے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اتینا کی طرف راجع ہے (جب ان کو ہماری آیات یاد کرائی جاتی ہیں یا سمجھائی جاتی ہیں۔
خروا۔ ماضی مجہول (بمعنی حال) جمع مذکر غائب۔ خر یخر (ضرب) خر مصدر سے وہ گرپڑتے ہیں۔ خر کا اصل معنی کسی چیز کا آواز کے ساتھ نیچے گرنا ہے۔ یہاں خروا کا لفظ دو معنوں پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی :۔ (1) گرنا۔ (2) ان سے تبیح کی آواز کا آنا۔ اور اس کے بعد وسبحوا بحمد ربہم سے تنبیہ کی ہے کہ ان کا سجدہ ریز ہونا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ ہوتا ہے نہ کسی اور امر کے ساتھ۔
سجدا : ساجد کی جمع ہے حالت نصب۔ سجدہ کرنے والے۔ نصب بوجہ حال ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
لغات القرآن آیت نمبر (12 تا 17) ۔
ناکسوا (جھکانے والے) ۔ موقنون (یقین کرنے والے) ۔ حق القول (سچی بات ثابت ہونا) ۔ املٔن (میں ضرور بھردوں گا) ۔ ذوقوا (تم چکھو) ۔ نسیتم (تم نے بھلادیا) ۔ خروا (وہ گر پڑے) ۔ تتجافی (الگ رہتی ہے) ۔ جنوب (جنب) (پہلو) ۔ المضاجع (آرام کی جگہ) ۔ اخفی (چھپا دیا گیا) ۔ قرۃ (ٹھنڈک) ۔ اعین (عین) (آنکھیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ چیزوں میں اختیار دیا ہے اور کچھ چیزوں میں مجبور بنایا ہے۔ قیامت کے دن فیصلہ اس کے اختیار کئے ہوئے راستے اور اعمال پر ہوگا۔ اگر کسی نے ہدایت آنے کے باوجود غلط اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو قیامت کے دن جب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(ف 1) شان نزول۔
یہ آیت تہجد کے بارہ میں اتری، نبی ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ سے چند نیک کاموں کا ذکر کرکے فرمایا کہ تہجد کی نماز ایک ایسی چیز ہے جس کے ثواب کا کچھ بیان نہیں ہوسکتا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ ترمذی کی روایت جو انس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت عشاء کی نماز کے بارے میں نازل ہوئی ان دونوں روایتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کچھ لوگوں پر تھکان اور نیند کے سبب سے عشاء کی نماز بھی شاق ہی ہوتی ہے اس لیے عشاء کی نماز کی شان میں بھی اس آیت کا مطلب پایاجاتا ہے اوپر جن ایماندار لوگوں کا ذکر تھا وہ قرآن کی نصیحت کو کان لگاسنتے ہیں اور احکام الٰہی کے تابع ہیں یہ انہی کا ذکر فرمایا کہ جب اور لوگ آرام سے سورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
[17] یعنی رات کا ایک حصہ اللہ کی عبادت میں گزارتے ہیں۔ مراد تہجد کی نماز ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ف 1: جب یہ مجرم سرجھکائے ہوئے اللہ کے حضور میں پیش ہونگے اس وقت انہیں احساس ہوگا ۔ کہ ہم نے خدا کی نافرمانی کرکے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ اس لئے وہ خواہش کریں گے کہ خدایا ہمیں ایک بار اور دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح ہم تیرے نیک اور پاک باز بندے بن جاتے ہیں ۔ جواب ملے گا کہ کائنات کا نظام پہلے سے مقدر اور متعین ہے ۔ اس میں کوئی ترمیم اور تنسیخ نہیں ہوسکتی اگر منظور ہوتا کہ کوئی شخص گمراہ نہ ہو ۔ تو ہم سب کو دنیا ہی میں ہدایت سے بہرور کردیتے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ اس دنیا کی زینت کا اختلاف اور بوقلمونی سے ہے جب میں نے کہہ دیا تھا ۔ کہ جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا ۔ وہ…
Read the full tafseer →15۔ ہماری آیتوں پر تو بس وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان آیات کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے اور ان کو یہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ لوگ ایمان لانے اور سجدہ کرنے سے تکبر نہیں کرتے۔
اوپر سورة لقمان میں کافروں کا حا ل بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ولی مستکبرا ً یعنی وہ آیات الٰہی کو سن کر ان آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور تکبر کے ساتھ پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے لیکن مومنین کا یہ حال نہیں ہے وہ آیات کو سن کر ان پر ایمان لاتے ہیں اور جب ان کو وہ آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور سجدے میں گرپڑتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 4۔ مطلب یہ کہ ایمان لانے والوں کی یہ صفات ہیں جن میں بعض تو نفس ایمان کا موقوف علیہ ہے اور بعض کمال ایمان کا۔
Read the full tafseer →ہماری آیتوں پر تو وہی ایمان لاتے ہیں جو فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے :
15۔ گزشتہ آیت میں نافرمانوں کا انجام ذکر کیا گیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ فرمانبرداروں کی بھی پذیرائی کی جانے کا ذکر کیا جاتا اس لئے زیر نظر آیت میں ان کا ذکر کیا گیا ہے فرمایا جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے ان کے سامنے جب ہماری آیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حضور سجدوں میں گر پڑتے ہیں اور اس کے حمد کے گیت گاتے ہیں اور وہ اپنے رب کریم کے سامنے کبھی اور کسی حال میں بھی غرور وتکبر نہیں کرتے ۔ اہل ایمان کے یہ وہ نشانات ہیں جو فی الواقع آج بھی ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
Commentary
In verse 11, it was said: قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ (Say, "The angel of death who has been assigned for you will take you in full" -11). In the verse previous to it, the deniers of the Qiyamah were warned and an answer was given to their wondering as to how would they be brought back to life once again after they had died and become dust. In the verse cited above, such people are being reminded, 'Think of your death which is, in itself, a great manifestation of the perfect power of Allah Ta’ ala. Your heedlessness and ignorance make you think that…
Read the full tafseer →26 In other words, they do not regard it as below their dignity to give up their false notions and believe in Allah's Revelations and adopt His service and obedience.Their conceit dces not hinder them from accepting the truth and obeying their Lord.
Read the full tafseer →