As-Sajda 32:16

As-Sajda · from ayah 16

32:16

تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ؗ— وَّمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ۟تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ

اُن کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They arise from [their] beds; they supplicate their Lord in fear and aspiration, and from what We have provided them, they spend.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah As-Sajda

All translations of 32:16

اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُنہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اُن کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا ہوتے ہیں وہ اپنے پروردگار کو ڈر اور امید (کے ملے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، وہ اس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں ہسے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کے پہلو اُن کی خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے پہلو بستروں سے کنارہ کس رہتے ہیں۔ وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں خوف اور طمع سے اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن کے پہلو دور رہتے ہیں اپنے بستروں سے (اپنے رب کی یاد دلشاد اور اس کی رضا کے لئے اور) وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہوتا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

ان کے پہلو خواب گاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں اپنے پروردگار کو وہ پکارے رہتے ہیں خوف سے اور امید سے اور جو کچھ ہم نے دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(راتوں کو) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں وہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں خوف اور امید کی کیفیت میں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (ہماری رضا جوئی کے لیے) خرچ کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Their sides forsake their beds, and they call upon their Lord in fear and hope, and expend (in charity) out of the sustenance We have granted them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Their sides remain apart from their beds. They call their Lord with fear and hope, and spend (in charity) out of what We have given to them.

— Muhammad Taqi Usmani

Their sides remain apart from their beds. They call their Lord with fear and hope, and spend (in charity) out of what We have given to them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Their sides forsake their beds, to invoke their Lord in fear and hope, and they spend out of what We have bestowed on them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who forsake their beds to cry unto their Lord in fear and hope, and spend of that We have bestowed on them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They arise from [their] beds; they supplicate their Lord in fear and aspiration, and from what We have provided them, they spend.

— Saheeh International

Their sides give-up rest in beds in order to pray before their Lord in fear and hope. They spend for the cause of God out of what we have given them.

— Muhammad Sarwar

Their sides draw away from (their) beds, they call upon their Lord in fear and in hope, and they spend (benevolently) out of what We have given them.

— Muhammad Habib Shakir

Their sides leave off the couches calling upon their Lord in fear and in desire, and of that wherewith We have provided them they expend.

— Abdul Majid Daryabadi

Their limbs do forsake their beds of sleep, the while they call on their Lord, in Fear and Hope: and they spend (in charity) out of the sustenance which We have bestowed on them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 32:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–17

ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں ! سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے جیسے فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60؀) 40۔ غافر :60) یعنی میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة السَّجْدَة 27 یعنی راتوں کو داد عیش دیتے پھرنے کے بجائے وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کا حال ان دنیا پرستوں کا سا نہیں ہے جنہیں دن کی محنتوں کی کلفت دور کرنے کے لیے راتوں کو ناچ گانے اور شراب نوشی اور کھیل تماشوں کی تفریحات درکار ہوتی ہیں۔ اس کے بجائے ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ دن بھر اپنے فرائض انجام دے کر جب وہ فارغ ہوتے ہیں تو اپنے رب کے حضور کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کی یاد میں راتیں گزارتے ہیں۔ اس کے خوف سے کانپتے ہیں اور اسی سے اپنی ساری امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ بستروں سے پیٹھیں الگ رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ راتوں کو سوتے ہی نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ راتوں کا ایک حصہ خدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–20

(آیت) تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفاً وطمعاً ، سابقہ آیات میں کفار و مشرکین و منکرین قیامت کو تنبہات تھیں۔ اس کے بعد (انما یومن بایتنا) سے مومنین مخلصین کی خاص صفات اور ان کے لئے درجات عظیمہ کا ذکر ہے۔ ان مومنین کی ایک صفت آیت مذکورہ میں یہ بتلائی گئی ہے کہ ان کے پہلو اپنے بستروں سے الگ ہوجاتے ہیں، اور بستروں سے اٹھ کر اللہ کے ذکر اور دعا میں مشغول ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اللہ کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہیں، اور اس کی رحمت اور ثواب کے امیدوار رہتے ہیں۔ یہی امید وبیم کی ملی جلی حالت ان کو ذکر و دعاء کیلئے مضطرب رکھتی ہے۔ نماز تہجد بستروں سے اٹھ کر دعاء میں مشغول ہوجانے سے مراد جمہور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تنجانی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوف وطمعا ومما رزقنھم ینفقون (16) یعنی ان لوگوں پر خدا کے حضور پیشی اور آخرت کے باز پس کو خوف چونکہ ہر وقت طاری رہتا ہے اس وجہ سے وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اور بستروں کی لذت و راحت سے اپنے کو محروم رکھ کر اپنے رب کو پکارتے اور اس کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ یہ ڈرتے بھی اسی سے ہیں اور امید بھی اس سے رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ خدا نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خد ا کی راہ میں وہ خرچ کرتے ہیں۔ اس آیت میں دو چیزوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک نماز، دوسری انفاق۔ ایمان کے بعد یہی دو چیزیں اس کے اولین مظاہر کی حیثیت رکھتی ہیں اور پھر انہی دو پر پورے دین کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اس مسئلہ پر ہم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16-1یعنی راتوں کو اٹھ کر نوافل (تہجد) پڑھتے توبہ استغفار، تسبیح تحمید اور دعا الحاح وزاری کرتے ہیں۔ 16-2یعنی اس کی رحمت اور فضل و کرم کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس کے عتاب و غضب اور مؤاخذہ و عذاب سے ڈرتے بھی ہیں۔ محض امید ہی امید نہیں رکھتے کہ عمل سے بےپرواہ ہوجائیں جیسے بےعمل اور بدعمل لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ عذاب کا اتنا خوف طاری کرلیتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے ہی مایوس ہوجائیں کہ یہ مایوسی بھی کفر و ضلالت ہے۔ 16-3یعنی انفاق میں صدقات واجبہ (زکوٰۃ) اور عام صدقہ و خیرات دونوں شامل ہیں، اہل ایمان دونوں کا حسب استطاعت اہتمام کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: یعنی رات کے وقت وہ نمازیں پڑھتے ہیں۔ اس میں عشاء کی نماز بھی داخل ہے جو فرض ہے اور تہجد کی نماز بھی جو سنت ہے۔ 8: وہ اس بات سے ڈرتے بھی ہیں کہ ان کی عبادت میں جو قصور ہوا ہے، کہیں وہ نامنظور نہ ہوجائے، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ اسے قبول فرما کر اجر وثواب عطا فرمائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–16

انما یؤمن بایتنا ۔۔۔۔۔ جزاء بما کانوا یعملون (15 – 17) پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے “۔ یہ اہل ایمان کی نہایت ہی خوبصورت اور روشن تصویر ہے۔ یہ نہایت ہی لطیف اور شفاف اور حساس لوگ ہیں۔ ان کے دل خوف خدا سے کانپتے ہیں اور وہ نہایت ہی پر امید انداز سے اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ نہ وہ اللہ کے مقابلے میں بڑائی اور تکبر کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ہی دراصل اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے ہیں۔ یہ لوگ کی آیات کو تیز احساس ، بیدار دل اور روشن ضمیر کے ساتھ لیتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی میٹھی نیند اور نرم بستروں کو چھوڑ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ مراد تہجد کی نماز ہوئی جیسا کہ حدیث صحیح میں مذکور ہے۔ اور بعض نے صبح کی یا عشاء کی نماز یا مغرب و عشاء کے درمیان کی نوافل مراد لیے ہیں۔ گو الفاظ میں اس کی گنجائش ہے لیکن راجح وہ ہی پہلی تفسیر ہے۔ واللہ اعلم۔ 3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اللہ سے لالچ اور ڈر برا نہیں، دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ اور اس واسطے بندگی کرے تو قبول ہے۔ ہاں اگر کسی اور کے خوف ورجاء سے بندگی کرے تو ریاء ہے کچھ قبول نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

آیت 16 تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورۃ الفرقان میں اللہ کے نیک بندوں کے اس خاص معمول کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے : وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔ یعنی ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو ساری ساری رات غفلت کی نیند سوتے رہتے ہیں اور دوسری طرف اللہ کے یہ بندے ہیں جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں ‘ کبھی اس کے حضور قیام کر کے اور کبھی سجدے میں گر کر۔ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًاز ایک طرف تو وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے بارے میں پر امید ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف اپنی کوتاہیوں پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ساری رات سوتے ہی نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ جس طرح دنیا دار لوگ دن بھر محنت کرکے رات کو دادعیش دیتے ہیں۔ رقص و سرود کی محفلیں قائم کرتے ہیں۔ شراب نوشی کے دور چلتے ہیں۔ سینما اور کلب گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو ٹیوی پر ہی اپنا دل بہلا لیتے ہیں۔ اللہ کے بندے ان کے برعکس اپنا وقت اللہ کی یاد میں گزارتے ہیں۔ یہی ان کی تفریح طبع ہوتی ہے۔ وہ راتوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور جتنا وقت دنیا دار اللہ کی نافرمانیوں میں گزارتے ہیں اللہ کے بندے اس کی فرمانبرداری اور عبادت میں گزارتے ہیں۔ وہ عذاب جہنم سے ڈر کر اور جنت کی امید رکھ کر اللہ کو پکارتے ہیں یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–16

22۔ اللہ کی رضا جوئی کے کاموں میں) دونوں آیتوں میں ایمان اور کمال ایمان دونوں کے صفات بیان کردیئے ہیں۔ (آیت) ” تتجافی جنوبھم عن المضاجع “۔ پہلوؤں کے خواب گاہوں سے علیحدہ رہنے کے معنی یہ ہیں۔ کہ راتوں کو اپنے بستر چھوڑ چھورڑ عبادتوں میں لگے رہتے ہیں۔ (آیت) ” یدعون ..... طمعا “۔ یہ لوگ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں، خوف عذاب کی راہ سے بھی اور امید وثواب کی راہ سے بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–22

آیت نمبر 12 تا 22 ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تتجافی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعا . ان کے پہلو خواب گاہوں سے دور رہتے ہیں وہ اپنے رب (کے عذاب و ناراضگی) کے خوف سے اور (رحمت وثواب کی) امید رکھتے ہوئے اس کو پکارتے ہیں۔ خواب گاہوں سے پہلو دور رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں۔ حضرت اسماء بنت یزید راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ ایک ہموار میدان میں لوگوں کو جمع کرے گا۔ پکارنے والے کی آواز سب کو (ایک جیسی) سنائی دے گی اور چونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہیں ہوگی اور نشیب و فراز نہیں ہوگا اس لئے نظر سب کے پار جائے گی۔ منادی پکارے گا : کہاں ہیں وہ لوگ جو دکھ سکھ میں اللہ کی حمد کرتے تھے ؟ یہ آواز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان کے پہلو رات میں سونے کے بعد تہجد کی نماز کے لیے خواب گاہوں سے علیحدہ ہوتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کی پانچوں نمازوں کے ذریعے عبادت کرتے ہیں اور اس کی رحمت کی امید سے اور اس کے عذاب کے خوف سے یا یہ مطلب ہے کہ جب تک یہ حضرات عشاء کی نماز نہیں پڑھ لیتے ان کے پہلو بستروں سے علیحدہ رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے اس میں سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔ شان نزول : تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (الخ) بزاز نے بلال سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے تھے اور کچھ صحابہ کرام مغرب کی نماز کے بعد سے عشاء تک نماز پڑھنے میں مصروف رہتے تھے تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اس…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ۔۔ : یعنی وہ نماز اور ذکر الٰہی کی خاطر اپنے آرام دہ بستر اور لذیذ نیند چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا اعلیٰ درجہ تہجد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ اٰخِذِيْنَ مَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَ كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ) [ الذاریات : 15 تا 18 ] ”بیشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انھیں دے گا، یقیناً وہ اس سے پہلے نیکی کرنے والے تھے۔ وہ رات کے بہت تھوڑے حصے میں سوتے تھے۔ اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت تتجافی جنوبھم عن المضاجع بستروں سے ان کے پہلو جدا اور دور رہتے ہیں۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہے یعنی متجا فیہ جنوبھم، مضاجع یہ مضجع کی جمع ہے۔ اس سے مراد نیند کی جگہیں ہیں۔ اس سے مراد لیٹنے کے اوقات بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ مجاز ہے حقیقی معنی اولی ہے (3) ۔ اسی معنی میں حضرت عبداللہ بن رواحہ کے اشعار ہیں : وفینا رسول اللہ یتلو کتاب ہذا انشق معروفمن الصبحساطع (4) یبیتیجافی جنبہ عن فراشہ اذا استثقلت بالمشرکین المضاجع ہمارے درمیان اللہ کا رسول ہے جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے جب معروف یعنی صبح پھیلتی ہے وہ رات گذارتا ہے جب کہ آپ کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے جب مشرکوں کے بستر ان سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

نمازوں کے انتظار میں بیٹھنا بھی نماز کی طرح اجر رکھتا ہے 1۔ الترمذی وصھیح وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وعبد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع نماز کے انتظار کے بارے میں نازل ہوئی جسے عشاء کی نماز کہتے ہیں۔ 2۔ الفریابی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع کے وہ لوگ یعنی صحابہ کرام بھی نہیں سوتے تھے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھتے تھے۔ 3۔ البخاری نے اپنی تاریخ میں وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت تتجافی جنوبہم عن المضاجع عشاء کی نماز کے بارے میں نازل ہوئی۔ 4۔ ابن ابی شیبہ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَـتَجَافٰى [الگ ہوتے ہیں ] جُنُوْبُهُمْ [ان کے پہلو ] عَنِ الْمَضَاجِعِ [لیٹنے کی جگہوں سے ] يَدْعُوْنَ [وہ لوگ پکارتے ہیں ] رَبَّهُمْ [اپنے رب کو ] خَوْفًا [ڈرتے ہوئے ] وَّطَمَعًا ۡ [اور آرزو کرتے ہوئے ] وَّمِـمَّا [اور اس سے جو ] رَزَقْنٰهُمْ [ہم نے دیا ان کو ] يُنْفِقُوْنَ [خرچ کرتے ہیں ] ۔ جو (ن) جفوا اعراض کرنا۔ (تفاعل) تجافی کسی جگہ سے الگ ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

نماز تہجد کی فضیلت (تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ ) سے نماز تہجد مراد ہے جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا، صاحب معالم التنزیل (جلد 3) فرماتے ہیں کہ یہ اشہر الاقوال ہے اور اس کی تائید میں حضرت معاذ بن جبل ؓ سے ایک روایت بھی نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سفر میں ساتھ چلتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے ذریعہ جنت میں داخل ہوجاؤں اور دوزخ سے دور رہ سکوں، سید دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے بہت بڑی چیز کا سوال کیا اور حقیقت میں کچھ بڑی بھی نہیں، جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان فرما دیں، اس کے لیے بیشک ضرور آسان ہے، اس کے بعد فرمایا کہ (وہ عمل یہ ہے کہ) تو اللہ کی عبادت کر اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ تتجافی الخ۔ یہ بھی ان مومنین کاملین کی صفت ہے کہ وہ میٹھی اور پرسکون نیند پر اللہ کی عبادت کو ترجیح دیتے ہیں۔ جمہور کے نزدیک اس سے نماز تہجد مراد ہے۔ التنفل باللیل قالہ الجمہور من المفسرین وعلیہ اکثر الناس (ایضا ص 100) ۔ یدعون ربھم الخ، ان کاملین کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر اور اس کی رحمت کی امید میں دن رات اپنی حاجات و مشکلات میں صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی دولت میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–16

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کا تذکرہ ہوا ۔ تو حید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ، رسالت کا بیان ہوا ۔ اور ساتھ ساتھ قیامت اور جزائے عمل کا تذکرہ ہو۔ پھر تخلیق انسان کا مسئلہ بیان ہوا ۔ پھر اس کی ناشکر گزاری کا شکوہ ہوا ۔ پھر وقوع قیامت کے متعلق کفارومشرکین کے انکار کا ذکر ہوا۔ کہ وہ کہتے ہیں ۔ کہ جب ہم مرکزی مٹی میں رل مل جائیں گے تو پھر ہمارا دوبارہ زندہ ہونا کیسے ممکن ہوگا ؟ اللہ نیف رمایا کہ دراصل یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں ۔ درمیان میں اختصار کے ساتھ پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب کیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہاری جانوں کو ملک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا۝ 0 ۡوَّمِـمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ۝ 16 تتجافی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ تجافی ( تفاعل) مصدر سے جس کے معنی جگہ سے دور ہونے کے ہیں ۔ جگہ سے علیحدہ ہونا۔ الگ ہونا۔ کہتے ہیں۔ تجافی السرج عن ظھر الفرس۔ زین گھوڑے کی پیٹھ سے ہٹ گئی۔ تجافی جنبہ عن الفراش اس کا پہلو بستر ست دور رہا۔ جنب أصل الجَنْب : الجارحة، وجمعه : جُنُوب، قال اللہ عزّ وجل : فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] ، وقال تعالی: تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ، وقال عزّ وجلّ : قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–17

(3) ومما رزقناھم ینفقون کہ اللہ کے دیے میں سے دیتے ہیں، یعنی خیرات بھی کرتے ہیں۔ پھر ان کے اجر کی بابت فرماتا ہے۔ فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین الخ کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی فرحت و سرور کی چیزیں جو کچھ ہم نے چھپا رکھی ہیں، ان کی پوری تعداد اور کیفیت کوئی نہیں جانتا ہے، یعنی وہ بےحساب چیزیں ہیں اور یہ ٹھیک ہے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم جنت اور اس کی کسی نعمت سے واقف نہیں۔ خصوصاً وہ کہ جن کو قرآن اور نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) نے بتادیا۔ جس نے یہ مطلب سمجھ کر نعمائِ جنت اور حور و قصور کا انکار کیا بڑی غلطی کی ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–17

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰ یٰـتِـنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَھُمْ لاَیَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ السجدۃ تَتَجَا فٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ز وَّمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّـآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (السجدۃ : 15 تا 17) (ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں جب یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ان کے پہلو بستروں سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–17

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے لوگ رات کے وقت اٹھ کر بھی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ نیک لوگوں کے اوصاف حمیدہ میں یہ وصف ضرور شامل ہوتا ہے کہ وہ ساری رات خراٹے لے کر نہیں سوتے جونہی سحری کا وقت قریب ہوتا ہے وہ نیند سے اچاٹ ہوتے ہیں اور اپنے نرم ونازک اور آرام دہ بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کے حضور خوف وطمع کی حالت میں فریادیں کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے قرار اور آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا جس کا کسی کے دل میں خیال بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔ یہ ان کے اچھے اعمال کا بدلہ ہوگا یہاں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16: تَتَجَافٰی (اور علیحدہ رہتے ہیں) دور اور الگ رہتے ہیں جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (ان کے پہلو خواب گاہوں سے) مضاجعؔ بستر اور سونے کے مقامات۔ سہل (رح) کا قول : ایک جماعت کو اس نے ایک عطیہ دیا اور وہ یہ ہے کہ ان کو اپنے سے مناجات کی اجازت دی اور ان کو اپنے وسیلہ میں سے قرار دیا۔ پھر اس پر ان کی تعریف و مدح کی اور فرمایا تتجا فی جنوبہم عن المضاجع۔ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ (وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں) اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔ خَوْفًا وَّطَمَعًا (امیدوخوف سے) یہ مفعول لہ ہے مطلب یہ ہے لاجل خوفہم من سخطہ و طمعہم فی رحمتہ وھم المتھجّدون اس کی ناراضی کے خوف اور اس کی رحمت کی طمع میں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16، تتجافی، دوررہتے ہیں ۔ ، جنوبھم عن المضاجع، مضاجع، مضجع کی جمع ہے وہ جگہ جہاں پر سوتے ہیں پھر وہ رات کے آخری پہر میں عبادت کرتے ہیں اور نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ تتجافی جنوبھم سے کون سے لوگ مراد ہیں اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی ، ہم مغرب کی نماز پڑھ کر گھروں کو نہیں لوٹتے تھے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کرتے تھے۔ حضرت انس ؓ ہی کی روایت ہے کہ اس آیت کا نزول کچھ صحابہ کے متعلق ہوا تھا جو مغرب کی نماز پڑھ کر عشاء کی نماز تک مسجد میں رہتے تھے۔ ابن ابی حازم اور منکدر کی روایت ہے کہ ان دونوں بزرگوں کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

16۔ جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت تہجد کی نماز کی شان میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور اس قول کی تائید بھی حضرت معاذبن جبل کی اس روایت سے ہوتی ہے جس کو امام احمد ترمذی نسائی ابن ماجہ حاکم بیہقی نے روایت کیا ہے ترمذی اور حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 459 ج 3 و تفسیر الدر النثور ص 175 ج 5۔ ) حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ؓ معاذ بن جبل سے چند نیک کاموں کا ذکر فرما کر پھر فرمایا کہ تہجد کی نماز تو ایسی چیز ہے جس کے ثواب کا بیان نہیں ہوسکتا اور پھر آپ نے یہ آیت پڑھی تفسیر ابن مردو یہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت بھی حضرت معاذبن جبل ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–17

آیت نمبر : 15 ۔ 17 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عذاب کا ذکر کرنے کے بعد ‘ جو اس نے اپنی آیتوں کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے ‘ اہل ایمان کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا وصف بیان کیا ‘ جو ان کے لیے تیار کیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (انما یؤمن بایتنا) یعنی جو ہماری آیتوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور جن میں ایمان کے شواہد پائے جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں (الذین اذا ذکروا) جن کے سامنے جب قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے ‘ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس نصیحتیں آتی ہیں ‘ انہیں یاد دہانی کرائی جاتی ہے تو وہ اسے غور سے سنتے ہیں ‘ ان کو قبول کرکے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور (خروا سجدا) اللہ تعالیٰ کی آیتوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–30

مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

25 اللہ والوں کی ایک خاص صفت ان کی شب بیداری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن کے پہلو دور رہتے ہیں انکے بستروں سے اپنے رب کی یاد میں "۔ اور اپنے رب کی یاد دلشاد ہی ان کے لئے اصل قوت اور حقیقی سرمایہ ہوتی ہے۔ اور اس کی رضا کا حصول ہی ان کی زندگی کا اصل مقصد اور نصب العین ہوتا ہے۔ اپنے اس ایمان و یقین کی بناء پر اور اس کی برکت سے جس سے وہ سرشار اور شاد کام ہوتے ہیں۔ سو ایمان و یقین سعادت دارین کی شاہ کلید ہے ۔ اللّھُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ آمین ثم آمین۔ سو آخرت کی بازپرس اور اپنے رب کے حضور پیشی کا خوف ان بندگان صدق و صفا پر ہمیشہ طاری رہتا ہے۔ اس لیے وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–22

روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–22

آیات 12 تا 22 اسرارومعارف اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔ اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی رات کو بیدار ہو کر یا رہ کر وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ جمہور مفسرین (رح) نے اس سے رات کا قیام مراد لیا ہے اور علمائے تفسیر (رح) نے اس سے نماز عشاء اور تہجد بھی مراد لی ہے۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت نماز عشاء کے بارے میں نازل ہوئی اور ہم عشاء کی نماز سے پہلے لیٹنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ میں نے آنحضرت ﷺ کو کبھی عشاء سے پہلے لیٹے اور عشاء کے بعد باتیں کرتے نہیں دیکھا اور ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے آدھی رات کے قیام کو خیر کا دروازہ قرار دیا ہے۔ ( ابن کثیر، شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(32:16) تتجافی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ تجافی (تفاعل) مصدر سے جس کے معنی جگہ سے دور ہونے کے ہیں ۔ جگہ سے علیحدہ ہونا۔ الگ ہونا۔ کہتے ہیں۔ تجافی السرج عن ظھر الفرس۔ زین گھوڑے کی پیٹھ سے ہٹ گئی۔ تجافی جنبہ عن الفراش اس کا پہلو بستر ست دور رہا۔ جنوبھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ جنوب، جنب کی جمع۔ ان کے پہلو۔ المضاھع۔ اسم ظرف مکان جمع۔ المضجع واحد ۔ خوابگا ہیں۔ بستر۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع۔ ان کے پہلو اپنے بستروں سے دور رہتے ہیں۔ بمصداق ؎ بہ نیم سب کہ ہمہ مست خواب خوش باشد من و خیال تو و نالہ ہائے درد آلود یدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب دعاء و دعوۃ مصدر۔ دعا یدعوا۔ باب نصر، وہ پکارتے ہیں۔ ضمیر جنوبھم سے حال…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–17

لغات القرآن آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ناکسوا (جھکانے والے) ۔ موقنون (یقین کرنے والے) ۔ حق القول (سچی بات ثابت ہونا) ۔ املٔن (میں ضرور بھردوں گا) ۔ ذوقوا (تم چکھو) ۔ نسیتم (تم نے بھلادیا) ۔ خروا (وہ گر پڑے) ۔ تتجافی (الگ رہتی ہے) ۔ جنوب (جنب) (پہلو) ۔ المضاجع (آرام کی جگہ) ۔ اخفی (چھپا دیا گیا) ۔ قرۃ (ٹھنڈک) ۔ اعین (عین) (آنکھیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ چیزوں میں اختیار دیا ہے اور کچھ چیزوں میں مجبور بنایا ہے۔ قیامت کے دن فیصلہ اس کے اختیار کئے ہوئے راستے اور اعمال پر ہوگا۔ اگر کسی نے ہدایت آنے کے باوجود غلط اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو قیامت کے دن جب وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–16

(ف 1) شان نزول۔ یہ آیت تہجد کے بارہ میں اتری، نبی ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ سے چند نیک کاموں کا ذکر کرکے فرمایا کہ تہجد کی نماز ایک ایسی چیز ہے جس کے ثواب کا کچھ بیان نہیں ہوسکتا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ ترمذی کی روایت جو انس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت عشاء کی نماز کے بارے میں نازل ہوئی ان دونوں روایتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کچھ لوگوں پر تھکان اور نیند کے سبب سے عشاء کی نماز بھی شاق ہی ہوتی ہے اس لیے عشاء کی نماز کی شان میں بھی اس آیت کا مطلب پایاجاتا ہے اوپر جن ایماندار لوگوں کا ذکر تھا وہ قرآن کی نصیحت کو کان لگاسنتے ہیں اور احکام الٰہی کے تابع ہیں یہ انہی کا ذکر فرمایا کہ جب اور لوگ آرام سے سورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–16

[17] یعنی رات کا ایک حصہ اللہ کی عبادت میں گزارتے ہیں۔ مراد تہجد کی نماز ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–16

ف 1: جب یہ مجرم سرجھکائے ہوئے اللہ کے حضور میں پیش ہونگے اس وقت انہیں احساس ہوگا ۔ کہ ہم نے خدا کی نافرمانی کرکے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ اس لئے وہ خواہش کریں گے کہ خدایا ہمیں ایک بار اور دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح ہم تیرے نیک اور پاک باز بندے بن جاتے ہیں ۔ جواب ملے گا کہ کائنات کا نظام پہلے سے مقدر اور متعین ہے ۔ اس میں کوئی ترمیم اور تنسیخ نہیں ہوسکتی اگر منظور ہوتا کہ کوئی شخص گمراہ نہ ہو ۔ تو ہم سب کو دنیا ہی میں ہدایت سے بہرور کردیتے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ۔ اس دنیا کی زینت کا اختلاف اور بوقلمونی سے ہے جب میں نے کہہ دیا تھا ۔ کہ جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا ۔ وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

16۔ ان کے پہلو اپنی خواب گاہوں سے اس طور پر علیحدہ رہتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار کو عذاب کے ڈر سے اور رحمت کی امید سے پکارتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خیرات کیا کرتے ہیں ۔ یعنی وہ مخلص مومن رات کے حصے میں اپنے بچھونوں اور خواب گاہوں کو چھوڑ کر عبادت میں مصروف ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے خوف یعنی اس کے عذاب کے خوف سے اور اس کی رحمت اور ثواب کی امید اور لالچ سے اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اس سے مراد عشاء اور صبح کی نماز ہے یا تہجد کی نماز ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے انفاق فی سبیل اللہ کیا کرتے ہیں ۔ سونے کی جگہ کو مضجع کہتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ نرم بچھونوں کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

ف 4۔ مطلب یہ کہ ایمان لانے والوں کی یہ صفات ہیں جن میں بعض تو نفس ایمان کا موقوف علیہ ہے اور بعض کمال ایمان کا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان لانے والوں اور فرمانبرداروں کے نشانات کا مزید ذکر کیا جا رہا ہے : 16۔ سچے ایمان داروں کے مزید نشانات ذکر کئے جا رہے ہیں تاکہ ان کی پہچان آسان ہوجائے ۔ اس جگہ ان کی پہلی صفت جو گزشتہ صفات سے زائد ہے وہ یہ ہے کہ راتوں کو کچھ ہی دیر آرام کرنے کے بعد ان کی کروٹیں ان کے بستروں سے الگ ہوجاتی ہیں پھر چونکہ کروٹوں کا بستروں سے الگ ہونا اپنے اندر ایک سے زائد مفہوم رکھتا تھا اس لئے فرمایا کہ جو وہ اپنے کروٹوں کو بستروں سے الگ کرتے ہیں تو اس کی محض وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی یاد میں مصروف ہوتے ہیں اور جب دوسرے لوگ نرم و گداز بستروں پر محو استراحت ہوتے ہیں اور گہری اور میٹھی نیند کے مزے لوٹتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–20

Before approaching verse 16: تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا (Their sides remain apart from their beds. They call their Lord with fear and hope - 16), it should be borne in mind that disbelievers, Mushriks and the deniers of the day of Qiyamah were warned in the verses previous to it. After that, starting from: اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا ! (Only those people believe in Our verses - 15) mentioned there are special attributes of sincere believers and the high ranks reserved for them. Pointed to in the cited verse is one such attribute of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

27 That is, "They worship their Lord instead of enjoying sensuous pleasures at night. They are not like the world-worshippers, who seek entertainments in music and dancing, drinking and merry-making, in the night in order to get relief from the day's fatigue and labour and toil. Instead, when they are free from their day's work and duties, they devote themselves to the adoration of their Lord, spend their nights in His remembrance, tremble out of fear of Him, and pin all their hopes on Him." "Who forsake their beds" dces not mean that they do not sleep at all at night, but that they spend a…

Read the full tafseer →