As-Sajda 32:17

As-Sajda · from ayah 17

32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ ۚ— جَزَآءً بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِىَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ‌ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And no soul knows what has been hidden for them of comfort for eyes as reward for what they used to do.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah As-Sajda

All translations of 32:17

پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ کسی متنفس کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان ان کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو کسی کو معلوم نہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے، یہ ان (اَعمالِ صالحہ) کا بدلہ ہوگا جو وہ کرتے رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا کچھ چیزیں ان کے لئے چھپا رکھی گئی ہیں یہ ان کاموں کا بدلہ ہوگا جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کسی کو پتہ نہیں کہ ان لوگوں کے واسطے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک پوشیدہ ہے ! !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو کوئی نہیں جان سکتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان چھپا کر رکھا گیا ہے ان کے ان اعمال بدلے میں جو وہ (زندگی بھر) کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

سو کسی کو علم نہیں جو جو (سامان) آنکھوں کی ٹھنڈک کا ان کے لئے (خزانہ غیب میں) مخفی ہے یہ صلہ ہے ان کے (نیک) اعمال کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے ان کے اعمال کے بدلے کے طور پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

No one knows what delights of the eyes are kept hidden for them as a reward for their deeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, no one knows the delight of eyes that has been reserved for them in secret, as a reward of what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani

So, no one knows the delight of eyes that has been reserved for them in secret, as a reward of what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes as a reward for what they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

No soul knoweth what is kept hid for them of joy, as a reward for what they used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And no soul knows what has been hidden for them of comfort for eyes as reward for what they used to do.

— Saheeh International

No soul knows what delight awaits them as the reward for their deeds.

— Muhammad Sarwar

So no soul knows what is hidden for them of that which will refresh the eyes; a reward for what they did.

— Muhammad Habib Shakir

No soul knoweth that which is kept hidden for them of perfect comfort as a recompense for that which they have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

Now no person knows what delights of the eye are kept hidden (in reserve) for them - as a reward for their (good) deeds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 32:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–17

ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں ! سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے جیسے فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60؀) 40۔ غافر :60) یعنی میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة السَّجْدَة 29 بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد میں متعدد طریقوں سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قال اللہ تعالیٰ اعددت لعبادی الصالحین ما لا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علیٰ قلب بشرٍ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کبھی کسی کان نے سنا، نہ کوئی انسان کبھی اس کا تصور کرسکا ہے "۔ یہی مضمون تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری، حضرت مغیرہ بن شُعْبہ اور حضرت سہل بن سعد ساعدی نے بھی حضور ﷺ سے روایت کیا ہے جسے مسلم، احمد، ابن جریر اور ترمذی نے صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–20

(آیت) تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفاً وطمعاً ، سابقہ آیات میں کفار و مشرکین و منکرین قیامت کو تنبہات تھیں۔ اس کے بعد (انما یومن بایتنا) سے مومنین مخلصین کی خاص صفات اور ان کے لئے درجات عظیمہ کا ذکر ہے۔ ان مومنین کی ایک صفت آیت مذکورہ میں یہ بتلائی گئی ہے کہ ان کے پہلو اپنے بستروں سے الگ ہوجاتے ہیں، اور بستروں سے اٹھ کر اللہ کے ذکر اور دعا میں مشغول ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اللہ کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہیں، اور اس کی رحمت اور ثواب کے امیدوار رہتے ہیں۔ یہی امید وبیم کی ملی جلی حالت ان کو ذکر و دعاء کیلئے مضطرب رکھتی ہے۔ نماز تہجد بستروں سے اٹھ کر دعاء میں مشغول ہوجانے سے مراد جمہور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزاء بما کانوا یعلمون (17) یہ ان لوگوں کی شب بیداری اور انفاق کا صلہ بیان ہوا ہے کہ ان کے لئے اللہ نے آنکھوں کی جو ٹھنڈک چھپا رکھی ہے اس دنیا میں اس کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ ایک نادیدہ عالم کی زندگی کی خاطر ان لوگوں کی ان جانفشانیوں پر آج جو لوگ ہنس رہے ہیں وہ بھی اس کو دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے اور اہل ایمان بھی نہال جائیں گے کہ ان کی قربانیوں کا صلہ ان کے اندازوں اور قیاسوں سے کہیں بڑھ کر ملا۔ ’ جزاء بما کانو یعملون۔ یعنی یہ جو کچھ ان کو ملے گا ان کے اپنے ہی اعمال کا صلہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کی چند روزہ مساعی کا صلہ ایک ابدی بادشاہی کی صورت میں دے گا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17-1نفس نکرہ ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان نعمتوں کو جو اس نے مذکورہ اہل ایمان کے لیے چھپا کر رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ اس کی تفسیر میں نبی ﷺ نے یہ حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں کسی کان نے ان کو سنا نہیں نہ کسی انسان کے وہم و گمان میں ان کا گزر ہوا۔ 17-2اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لئے اعمال صالحہ کا اہتمام ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–20

9: یعنی خزانہ غیب میں ایسے نیک لوگوں کے لیے جو نعمتیں چھپی ہوئی ہیں وہ انسان کے تصور سے بھی بلند ہیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فلما تعلم نفس ۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (32: 17) ” “۔ یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ خفیہ تعلق ہوتا ہے اور اللہ نے بذات خود اپنے دوستوں کے لیے تحفے تیار کر رکھے ہیں ، ان کو خفیہ رکھا ہے اور اللہ نے ان کے بارے میں کسی کو کوئی اطلاع بھی نہیں دی تاکہ ان کو قیامت کے دن اچانک ظاہر کیا جائے۔ اب یہ ہونے والی ملاقات کس قدر باعث احترام ہے ، کس قدر اس کا انتظار ہے اور کس قدر شاندار ہے کہ اس میں اللہ اپنے دوستوں میں نادیدہ تحفے تقسیم کریں گے جو تیار ہوچکے ہیں اور اللہ اپنی موجودگی میں یہ تحفے تقسیم کریں گے۔ سبحان اللہ ! اپنے بندوں پر اللہ کے کیا کرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 جس طرح راتوں کی تاریکی میں لوگوں سے چھپ کر انہوں نے بےریا عبادت کی۔ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں چھپا رکھی ہیں ان کی پوری کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔ جس وقت دیکھیں گے آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ حدیث میں ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے جنت میں وہ چیز چھپا رکھی ہے جو نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی نہ کسی بشر کے دل میں گزری۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ج آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر عمومی طور پر قرآن میں ملتا ہے اور جن کے بارے میں ہم کسی حد تک اندازہ بھی کرسکتے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمانی نُزُل سے ہے ‘ جبکہ جنت کی اصل نعمتوں کا نہ تو کسی کو علم ہے اور نہ ہی ان کا تصور انسانی فہم و ادراک میں آسکتا ہے۔ اس آیت کی وضاحت حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ،…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 ایسے لوگ جو رات کی تاریکیوں میں، لوگوں سے چھپ کر، ریا کاری سے بچتے ہوئے اللہ کو یاد کرتے اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ تو ان کا بدلہ بھی ایسی چیزیں ہوں گی جو اللہ نے ان کے لئے چھپا رکھی ہیں۔ وہ نعمتیں کیا ہوں گی وہ ایسے لوگوں کے دلوں اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں گی۔ ان کی صفات بیان کرنے سے انسان کو اس دنیا میں سمجھ بھی نہیں آسکے گی۔ جس طرح اگر کسی شخص نے آم کبھی نہ کھایا ہو تو خواہ اس کے مزے کی تفصیل کتنی ہی بیان کی جائے۔ ایسے کبھی نہیں ہوسکتی۔ جیسے کوئی شخص آم کھا کر محسوس یا معلوم کرسکتا ہے۔ اور جنت کی نعمتوں کا تو یہ حال ہے کہ نہ کبھی کسی نے دیکھیں، نہ سنیں، نہ چکھیں حتیٰ کہ کسی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ حقیقۃ جنت کی نعمتوں کا پورا اندازہ انسان کو اپنے ان ناسوتی حواس کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے یہ جو حدیث قدسی مختلف طریقوں سے مروی ہوئی ہے۔ کہ قال اللہ اعددت لعبادی الصالحیں مالا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قبل بشر۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے وہ وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں۔ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے، اور جو نہ کسی انسان کے دل میں گذری ہیں۔ وہ گویا ٹھیک اسی آیت کی تفسیر ہے۔ (آیت) ” جزآء بما کانوا یعملون “۔ یہ کہہ کر کہ یہ انتہائی نعمتیں صلہ ہیں اعمال حسنہ کا، خاص ترغیب ان اعمال حسنہ کی دلائی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–22

آیت نمبر 12 تا 22 ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین کوئی نہیں جانتا کہ کیا کیا آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ نَفْسٌ یعنی نہ کوئی نبی مرسل ‘ نہ مقرب فرشتہ۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں ‘ نہ کسی کان نے ان کا ذکر سنا ‘ نہ کسی انسان کے دل میں ان کا تصور آیا۔ اگر تم چاہتے ہو تو پڑھو : فَلاَ تَعْلَمْ نَفْسٌ مَّآ اُْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ الخ (متفقہ علیہ) حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : یہ وہ نعمت ہے جس کی کوئی تشریح نہیں بیان کی گئی۔ جزآء بما کانوا یعملون . ان اعمال کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو ان کو خبر نہیں جو جنت میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے سامان اور ثواب و اعزاز خزانہ غیب میں موجود ہے یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ ہے جو انہوں نے دنیا میں کیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُن۔۔ : لفظ ”نَفْسٌ“ نکرہ ہے، جو عموم کا فائدہ دیتا ہے، یعنی کوئی نفس نہیں جانتا، خواہ انسان ہو یا جن یا فرشتہ، پھر خواہ ملک مقرب ہو یا نبی مرسل، غرض اللہ کے سوا کوئی ان نعمتوں کو نہیں جانتا جو اس نے مذکور اہل ایمان کے لیے چھپا کر رکھی ہیں، جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے ان اعمال کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (قَال اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ، قَالَ أَبُوْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حمزہ نے آیت مآ اخفی لھم کو یاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اس یا کو فتحہ دیا ہے۔ عبداللہ کی قراءت میں مانخفی نون مضموم کے ساتھ ہے۔ مفضل نے اعمش سے ما یخفی لھم یاء مضمومہ اور فاء مفتوحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے من قرات اعین پڑھا ہے جس نے ما اخفی کی یا کو سکون دیا ہے تو یہ فعل مضارع کا صیغہ ہوگا اس کا الف، متکلم کا الف ہوگا۔ ما، اخفی سے محل نصب میں ہوگا اور یہ استفہامیہ ہوگا اور جملہ محل نصب میں ہوگا کیونکہ یہ مفعولوں کے قائم مقام ہوگا اور ضمیر عائد محذوف ہوگی۔ جس نے یا کو فتحہ دیا تو یہ ماضی مجہول کا صیغہ ہوگا۔ ما یہ محل رفع میں مبتدا ہے اور اسکی خبر اخفی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

جنت کی لازوال نعمتیں 1۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین کوئی آدمی نہیں جانتا کہ کیا نعمتیں چھپائی گئی ہیں ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں ہے۔ 2۔ ابو عبیدہ نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وابن ابی حاتم وابن الانبار نے المصاحف میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کو یوں پڑھا آیت فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر ومحمد بن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم وصححہ والبیہقی فی البعث ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا پھر انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ [تو نہیں جانتی کوئی جان ] مَّآ اُخْفِيَ [اس کو جو پوشیدہ کیا گیا ] لَهُمْ [ان لوگوں کے لئے ] مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ [آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے ] جَزَاۗءًۢ بِمَا [بدلہ ہوتے ہوئے اس کا جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [یہ لوگ عمل کیا کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 17 ۔ کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کبھی کسی کان نے سنا اور نہ کوئی انسان کبھی اس کا تصور کرسکا ہے۔ (تفہیم القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جن حضرات کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں ان کا انعام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے لیے جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان پوشیدہ کیا ہوا ہے اسے کوئی شخص نہیں جانتا، اس میں اجمالی طور پر جنت کی نعمتوں کا مرتبہ بتایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے بندوں کے لیے وہ سامان تیار کیا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا گذر ہوا، اس کے بعد راوی حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو (فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) (صحیح بخاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ فلا تعلم الخ یہ ان مومنین کاملین کے لیے بشارت ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آرام و آسائش کا جو سامان عالم آخرت میں تیار کر رکھا ہے اس کی تفصیلات کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ سب کچھ ان کے ایمان خالص اور عمل صالح کی جزا ہے نعیم جنت کا اجمالی ذکر تو قرآن و حدیث میں موجود ہے اس لیے یہاں نفی علم سے علم علی سبیل التفصیل کی نفی مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–22

ربط آیات : پہلے اللہ نے مشرکین اور منکرین قیامت کا رڈ فرمایا اور ان کی جزا کا ذکر کیا اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کی تعریف فرمائی کہ جب ان کو اللہ کی آیتیں یا دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ، رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں وہ اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں ، ان کے دل خدا کے عذاب سے خوفزدہ اور وہ اس کی رحمت سے پر امید ہوتے ہیں ، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ خفیہ انعامات : اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ صفات کے حامل مومنین کے لئے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْيُنٍ۝ 0 ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 17 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( نس ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–17

(3) ومما رزقناھم ینفقون کہ اللہ کے دیے میں سے دیتے ہیں، یعنی خیرات بھی کرتے ہیں۔ پھر ان کے اجر کی بابت فرماتا ہے۔ فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین الخ کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی فرحت و سرور کی چیزیں جو کچھ ہم نے چھپا رکھی ہیں، ان کی پوری تعداد اور کیفیت کوئی نہیں جانتا ہے، یعنی وہ بےحساب چیزیں ہیں اور یہ ٹھیک ہے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم جنت اور اس کی کسی نعمت سے واقف نہیں۔ خصوصاً وہ کہ جن کو قرآن اور نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) نے بتادیا۔ جس نے یہ مطلب سمجھ کر نعمائِ جنت اور حور و قصور کا انکار کیا بڑی غلطی کی ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–17

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰ یٰـتِـنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَھُمْ لاَیَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ السجدۃ تَتَجَا فٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ز وَّمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّـآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (السجدۃ : 15 تا 17) (ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں جب یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ان کے پہلو بستروں سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–17

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے لوگ رات کے وقت اٹھ کر بھی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ نیک لوگوں کے اوصاف حمیدہ میں یہ وصف ضرور شامل ہوتا ہے کہ وہ ساری رات خراٹے لے کر نہیں سوتے جونہی سحری کا وقت قریب ہوتا ہے وہ نیند سے اچاٹ ہوتے ہیں اور اپنے نرم ونازک اور آرام دہ بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کے حضور خوف وطمع کی حالت میں فریادیں کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے قرار اور آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا جس کا کسی کے دل میں خیال بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔ یہ ان کے اچھے اعمال کا بدلہ ہوگا یہاں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مخفی عمل کا مخفی بدلہ : 17: فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ (پس کسی شخص کو معلوم نہیں جو جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے لئے خزا نہ غیب میں موجود ہے) ماؔ یہ الذی کے معنی میں ہے ای الذی۔ قراءت : اُخْفِیحکایت نفس کے طور پر حمزہ، یعقوب نے پڑھا ہے۔ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ (آنکھوں کی ٹھنڈک) کوئی نہیں جانتا کہ ان کیلئے کیا عظمت کی چیزیں ہیں۔ جَزَآ ئً (بدلہ کے طور پر ) نحو : یہ جو زوا مصدر کا مفعول ہے۔ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان اعمال کے بدلہ میں جو وہ کرتے تھے) حسن (رح) کا قول : جو لوگ دنیا میں اعمال سب سے چھپا کر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہ چھپارکھا ہے جو کسی آنکھ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 17۔ ، فلا تعلم نفس ما اخفی لھم، حمزہ اور یعقوب نے ، ا (رح) (رح) خفی لھم ، یاء ساکنہ کے ساتھ پڑھی ہے۔ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں (نخفی لھم) نون کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ، من قرۃ اعین، اس میں ان کی آنکھوں کے لیے ٹھندک ہے۔ ، جزاء بما کانوایعملون ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کررکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نی دیکھیں نہ کسی کان نے اس کا ذکر سنانہ کسی دل میں ان کا تصور آیا ۔ اگر تم چاہتے ہو تو پڑھو۔ ، فلا تعلم نفس مااخفی لھم من قرۃ اعین ، حضرت ابوہریرہ ؓ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

17۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 1 ؎ فرمایا کرتے تھے (1 ؎ تفسیر معالم التنزیل زیر تفسیر آیت ہذا۔ ) کہ یہ آیت قرآن شریف میں ایسی ہے جس کی تفسیر انسان سے نہیں ہوسکتی اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی تائید اس صحیح حدیث قدسی سے ہوتی ہے جس کو امام بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ کیا ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر (ص 460 ج 3) وغیرہ) جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے بعضے نیک بندوں کے لیے جنت وہ وہ نعمتیں رکھی ہیں جو کسی نے نہ آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل میں ان کا تصور گزر سکتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ جب یہ حدیث آنحضرت ﷺ سے روایت کیا کرتے تھے تو ساتھ اس کے اس آیت کو بھی پڑھا کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–17

آیت نمبر : 15 ۔ 17 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عذاب کا ذکر کرنے کے بعد ‘ جو اس نے اپنی آیتوں کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے ‘ اہل ایمان کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا وصف بیان کیا ‘ جو ان کے لیے تیار کیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (انما یؤمن بایتنا) یعنی جو ہماری آیتوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور جن میں ایمان کے شواہد پائے جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں (الذین اذا ذکروا) جن کے سامنے جب قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے ‘ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس نصیحتیں آتی ہیں ‘ انہیں یاد دہانی کرائی جاتی ہے تو وہ اسے غور سے سنتے ہیں ‘ ان کو قبول کرکے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور (خروا سجدا) اللہ تعالیٰ کی آیتوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–30

مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

25 اللہ والوں کی ایک خاص صفت ان کی شب بیداری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن کے پہلو دور رہتے ہیں انکے بستروں سے اپنے رب کی یاد میں "۔ اور اپنے رب کی یاد دلشاد ہی ان کے لئے اصل قوت اور حقیقی سرمایہ ہوتی ہے۔ اور اس کی رضا کا حصول ہی ان کی زندگی کا اصل مقصد اور نصب العین ہوتا ہے۔ اپنے اس ایمان و یقین کی بناء پر اور اس کی برکت سے جس سے وہ سرشار اور شاد کام ہوتے ہیں۔ سو ایمان و یقین سعادت دارین کی شاہ کلید ہے ۔ اللّھُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ آمین ثم آمین۔ سو آخرت کی بازپرس اور اپنے رب کے حضور پیشی کا خوف ان بندگان صدق و صفا پر ہمیشہ طاری رہتا ہے۔ اس لیے وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–22

روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–22

آیات 12 تا 22 اسرارومعارف اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔ اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد وہ نعمتیں ہیں جنہیں پا کر وہ بےحد خوش ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے متعدد اسانید کے ساتھ صحیحین اور سنن کی کتابوں میں مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔ اس مضمون کی احادیث دوسرے متعدد صحابہ ؓ سے بھی مروی ہے۔ ( شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(32:17) فلا تعلم نفس میں فاء فصیحت کے لئے ہے لا تعلم نفس نہیں جانتی کوئی جان۔ یعنی کوئی شخص نہیں جانتا۔ کسی کو علم نہیں۔ ما اخفی۔ میں ما موصولہ ہے اخفی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ صلہ جو کچھ چھپا رکھا ہے۔ جو کچھ چھپایا ہوا ہے۔ ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ کیا چھپا رکھا ہے۔ یاء کیا چھپایا ہوا ہے۔ فھم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہ مؤمنین ہیں جن کی صفت آیات 15-16 میں بیان ہوئی ہیں۔ قرۃ اعین۔ مضاف مضاف الیہ ۔ آنکھوں کی ٹھنڈک ۔ قرۃ قر سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ٹھنڈک کے ہیں ۔ مثلاً قرت لیلتنا۔ رات کا ٹھنڈا ہونا۔ قر فلان فلاں کو سردی لگ گئی۔ قرت عینہ آنکھ کا ٹھنڈا ہونا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–17

لغات القرآن آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ناکسوا (جھکانے والے) ۔ موقنون (یقین کرنے والے) ۔ حق القول (سچی بات ثابت ہونا) ۔ املٔن (میں ضرور بھردوں گا) ۔ ذوقوا (تم چکھو) ۔ نسیتم (تم نے بھلادیا) ۔ خروا (وہ گر پڑے) ۔ تتجافی (الگ رہتی ہے) ۔ جنوب (جنب) (پہلو) ۔ المضاجع (آرام کی جگہ) ۔ اخفی (چھپا دیا گیا) ۔ قرۃ (ٹھنڈک) ۔ اعین (عین) (آنکھیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ چیزوں میں اختیار دیا ہے اور کچھ چیزوں میں مجبور بنایا ہے۔ قیامت کے دن فیصلہ اس کے اختیار کئے ہوئے راستے اور اعمال پر ہوگا۔ اگر کسی نے ہدایت آنے کے باوجود غلط اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو قیامت کے دن جب وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ نے اپنے بعض نیک بندوں کے لیے جنت وہ نعمتیں رکھی ہیں جو کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی ، نہ کسی کے دل میں انکاتصورگزرسکتا ہے، امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عہنما نے یہ فرمایا جن نعمتوں کا اس آیت میں ذکر ہے اس کی تفسیر انسان کے اختیار سے باہر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[18] یعنی جس طرح رات کی تاریکی میں بھی لوگوں سے چھپ کر انہوں نے بےریا عبادت کی اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں چھپا رکھی ہیں ان کی کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–20

ف 3: یعنی جنت کی جن مسرتوں کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے ۔ وہ ان نامعلوم راحتوں اور روحانی آسائشوں کے مقابلہ میں کوئی حقیت ہی نہیں رکھتیں ۔ جن کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ اور جس کا اس دنیا میں سمجھنا ممکن ہی نہیں ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ وہاں روح کی بالیدگی کا پورا پوراسامان ہوگا ۔ جس کو پاکر دل اور آنکھیں اطمینان اور تسکین محسوس کریں گی ۔ حل لغات :۔ تتجافی ۔ جدا رہتے ہیں جنوبھم ۔ جنب کی جمع ہے ۔ پہلو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

17۔ سو ایسے لوگوں کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان پوشیدہ دھرا ہوا ہے اور خزانہ غیب میں اس کو کوئی شخص نہیں جانتا یہ ان کو ان کے ان اعمال نیک کا صلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے ۔ یعنی ایسے عبادت گزار لوگوں کے لئے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان چھپا دھرا ہے اس سامان کا کسی علم نہیں اور کوئی اس کو نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے مطلب یہ ہے کہ اس آنکھوں کی ٹھنڈک کے سامان کو نہ کوئی بشر جانتا ہے نہ اس کی خبر کسی ملک مقرب کو اور نہ اس کا علم کسی اولو العزم پیغمبر کو ہے ۔ یہاں نکرہ تحت النفی واقع ہے جو عموم افراد کو مستلزم ہے اب جبکہ مومنین اور منکرین کا انجام بیان ہوچکا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–21

ف 1۔ جیسے امراض و اسقام و مصائب۔ 2۔ پھر جو نہ باز آوے اس کے لئے عذاب اکبر ہے ہی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ہے اس کی اصل حقیقت کوئی نہیں جانتا : 17۔ قرآن کریم میں جو کچھ اہل جنت کو دیا جانے والا ہے اس کا ذکر بار بار کیا گیا ہے ۔ اہل جنت کی اقسام بتائی گئی ہیں ۔ ان کے درجات کی بحث ہے ان کو وہاں جو کچھ پیش آئے گا اس کی ایک ایک چیز واضح کی گئی ہے ۔ اہل جنت اور اہل دوزخ کا مکالمہ کرکے ایک دوسرے کو پہچاننے اور ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن کریم سے زیادہ سچی خبر اور کون دے سکتا ہے اور کہاں سے دے سکتا ہے لیکن ساری باتوں کے باوجود زیر نظر آیت میں کہا جا رہا ہے کہ ” پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–20

Before approaching verse 16: تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا (Their sides remain apart from their beds. They call their Lord with fear and hope - 16), it should be borne in mind that disbelievers, Mushriks and the deniers of the day of Qiyamah were warned in the verses previous to it. After that, starting from: اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا ! (Only those people believe in Our verses - 15) mentioned there are special attributes of sincere believers and the high ranks reserved for them. Pointed to in the cited verse is one such attribute of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

29 Bukhari, Muslim, Tirmidhi and Imam Ahmad have in different ways cited on the authority of Hadrat Abu Hurairah that the Holy Prophet said: "Allah says: I have got ready for My righteous servants that which has neither been seen by the eye, nor heard by the ear, nor ever conceived by any man. " The same thing has been reported with a little difference in wording by Hadrat Abu Sa' id Khudri, Mughirah bin Shu`bah and Sahl bin Sa'd as-Sai'di from the Holy Prophet and related with authentic links by Muslim. Ahmed, Ibn Jarir and Tirmidhi.

Read the full tafseer →