As-Sajda 32:18

As-Sajda · from ayah 18

32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا ؔؕ— لَا یَسْتَوٗنَ ۟اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا‌ ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then is one who was a believer like one who was defiantly disobedient? They are not equal.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah As-Sajda

All translations of 32:18

بھلا کہیں یہ ہو سکتا ہے کہ جو شخص مومن ہو وہ اُس شخص کی طرح ہو جائے جو فاسق ہو؟ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا بتاؤ کہ جو شخص مومن ہو، کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے جو فاسق ہے ؟ (ظاہر ہے کہ) وہ برابر نہیں ہوسکتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بے حکم ہے یہ برابر نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا وہ شخص جو صاحبِ ایمان ہو اس کی مثل ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو، (نہیں) یہ (دونوں) برابر نہیں ہو سکتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا وہ شخص جو مومن ہو وہ اس کی طرح ہے جو نافرمان ہو ؟ برابر نہیں ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا مومن ایسے ہی ہوتا ہے جیسے فاسق یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کیا وہ جو مومن ہے اس شخص کے مانند ہوجائے گا جو نافرمان ہے ! دونوں یکساں نہیں ہوسکتے ! !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا جو شخص مومن ہو وہ اس جیسا ہوسکتا ہے جو فاسق ہو یہ دونوں کبھی باہم برابر نہیں ہوسکتے

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا جو کوئی مومن ہے وہ اس جیسا ہے جو نافرمان ہے ؟ (نہیں) یکساں نہیں ہوسکتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو بھلا جو کوئی مؤمن ہے کیا وہ اس کی مانند ہوجائے گا جو فاسق ہے ! وہ (دونوں) ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Would a true believer be like him who was an evil-doer? Surely they are not equal.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, can one who is a believer become like one who is a sinner? They cannot become equal.

— Muhammad Taqi Usmani

So, can one who is a believer become like one who is a sinner? They cannot become equal.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is then he who is a believer like him who is rebellious Not equal are they.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is he who is a believer like unto him who is an evil-liver? They are not alike.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then is one who was a believer like one who was defiantly disobedient? They are not equal.

— Saheeh International

Is a believer equal to an evil-doer? They are not equal at all.

— Muhammad Sarwar

Is he then who is a believer like him who is a transgressor? They are not equal.

— Muhammad Habib Shakir

Shall he, therefore, who is a believer, be like unto him who is a transgressor? They are not equal.

— Abdul Majid Daryabadi

Is then the man who believes no better than the man who is rebellious and wicked? Not equal are they.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 32:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–22

نیک وبد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ کے عدل وکرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکاربرابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21؀) 45۔ الجاثية :21) یعنی کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کردیں گے ؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة السَّجْدَة 30 یہاں مومن اور فاسق کی دو متقابل اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں۔ مومن سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب واحد مان کر اس قانون کی اطاعت اختیار کرلے جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجا ہے۔ اس کے برعکس فاسق وہ ہے جو فسق (خروج از طاعت، یا با الفاظ دیگر بغاوت، خود مختاری اور اطاعت غیر اللہ) کا رویہ اختیار کرے۔ سورة السَّجْدَة 31 یعنی نہ دنیا میں ان کا طرز فکر و طرز حیات یکساں ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں ان کے ساتھ خدا کا معاملہ یکساں ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–20

(آیت) تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفاً وطمعاً ، سابقہ آیات میں کفار و مشرکین و منکرین قیامت کو تنبہات تھیں۔ اس کے بعد (انما یومن بایتنا) سے مومنین مخلصین کی خاص صفات اور ان کے لئے درجات عظیمہ کا ذکر ہے۔ ان مومنین کی ایک صفت آیت مذکورہ میں یہ بتلائی گئی ہے کہ ان کے پہلو اپنے بستروں سے الگ ہوجاتے ہیں، اور بستروں سے اٹھ کر اللہ کے ذکر اور دعا میں مشغول ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اللہ کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہیں، اور اس کی رحمت اور ثواب کے امیدوار رہتے ہیں۔ یہی امید وبیم کی ملی جلی حالت ان کو ذکر و دعاء کیلئے مضطرب رکھتی ہے۔ نماز تہجد بستروں سے اٹھ کر دعاء میں مشغول ہوجانے سے مراد جمہور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لایستوی (18) یہ اوپر والی بات کی دلیل ارشد ہوئی ہے کہ یہ جو کچھ کہا گیا ہے اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ایسا ہی ہوگا اور ایساہ ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دنیا کے خالق کے نزدیک مومن اور فاسق دونوں یکساں ہیں اور وہ اپنے وفادار بندوں اور اپنے باغیوں اور غداروں میں کوئی فرق نہیں کرے گا۔ ایسا سمجھنا اس کارخانہ کائنات کے مبنی بر حکمت ہونے کی نفی اور اس کے خالق کے عادل، رحیم اور حکیم ہونے کا انکار ہے اس وجہ سے یہ بات صریحاً باطل ہے۔ دونوں خدا کے نزدیک یکساں نہیں ہوسکتے پس ضروری ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں خدا کے وفادار بندے اپنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 18–19

18-1یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ کے ہاں مومن اور کافر برابر نہیں ہیں بلکہ ان کے درمیان بڑا فرق و تفاوت ہوگا مومن اللہ کے مہمان ہوں گے۔ اور اعزازو کرام کے مستحق اور فاسق و کافر تعزیر و عقوبت کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم کی آگ میں جھلسیں گے۔ اس مضمون کو دوسرے مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ) 45۔ الجاثیہ :21) (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–20

9: یعنی خزانہ غیب میں ایسے نیک لوگوں کے لیے جو نعمتیں چھپی ہوئی ہیں وہ انسان کے تصور سے بھی بلند ہیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 18–22

افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 اگر ایک ایماندار اور بےایمان کا انجام برابر ہوجائے تو سمجھو خدا کے ہاں بالکل اندھیر ہے۔ (العیاذ باللہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

آیت 19 اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰی ز لغوی اعتبار سے نُزُلکا تعلق نازل ہونے یا اترنے سے ہے۔ جو کوئی مہمان آپ کے دروازے پر آیا اور اپنی سواری سے اترا وہ نَزِیل ہے اور آپ نے موسم اور رواج کے مطابق فوری طور پر جو کچھ اس کو پیش کیا وہ نُزُل ابتدائی مہمان نوازی ہے۔ جبکہ باقاعدہ مہمان نوازی کے لیے لفظ ضیافت استعمال ہوتا ہے جو نُزُل کے بعد کا مرحلہ ہے۔ ضیافت کا لفظ ضیف مہمان سے بنا ہے۔ یعنی جب آپ اپنے مہمان کے لیے باقاعدہ قیام کا بندوبست کریں گے اور اس کے آرام و طعام کا اہتمام کریں گے ‘ تب وہ ضیف کے درجے میں آئے گا۔ اس مرحلے میں آپ اس کی مہمان نوازی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فاسق کو مومن کی عین ضد کے طور پر بیان فرمایا، یعنی مومن اور فاسق برابر کیا ہوں گے یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جیسے دن کے مقابلہ میں رات ہوتی ہے، یعنی مومن اگر ایماندار ہے تو فاسق بےایمان ہوگا۔ مومن اگر اللہ کا مطیع فرمان ہے تو فاسق اللہ کا باغی ہوگا۔ تو جس طرح یہ اپنے اعمال کے لحاظ سے ایک دوسرے کی عین ضد ہیں۔ اس طرح اخروی اجر کے لحاظ سے بھی ان کا معاملہ ایسا ہی ہوگا۔ چناچہ اگلی دو آیات میں انہی دونوں قسم کے لوگوں کا انجام اور ان کو ملنے والی جزاء و سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ مومن اور فاسق کے تقابل سے صاف ظاہر ہے کہ فاسق یہاں اصطلاح فقہی میں نہیں، بلکہ لغوی میں آیا ہے، اور مراد اس سے کافر مکذب ہے۔ ھذا الکافر مکذب بوعد اللہ (ابن جریر) اے خارجا عن طاعۃ ربہ مکذبا لرسل اللہ الیہ (ابن کثیر) (آیت) ” مومن ا “۔ فاسقا “۔ دونوں سے مراد طبقہ مومنین وطبقہ کفار ہے نہ کہ کوئی فرد۔ انما ارید بہ جمیع الفساق و جمیع ال مومنین (ابن جریر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–22

آیت نمبر 12 تا 22 ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افمن کان مومنا کمن کان فاسقا . سو کیا جو مؤمن ہے ‘ وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کافر ہے ؟ ابن جریر نے عطاء بن یسار کی رویت سے بھی واحدی اور ابن عساکر کی روایت کی طرح تخریج کی ہے۔ خطیب نے تاریخ میں نیز ابن عدی نے بوساطت کلبی از ابو صالح حضرت ابن عباس کا بیان اسی طرح نقل کیا ہے۔ خطیب اور ابن عساکر نے بوساطت ابن لہیعہ بحوالہ عمر و بن دینار حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت علی اور عقبہ بن ابی معیط کے حق میں ہوا اور دونوں میں کچھ گالم گلوچ ہوگئی تھی۔ فَاسِقًا سے مراد ہے خارج از ایمان یعنی کافر۔ لا یستون . یہ سب (شوق اور ثواب میں) برابر نہیں ہیں۔ عدم استواء کی تفصیل آئندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

لہذا اب بتا کہ جو شخص سچا مسلمان ہوگیا یعنی حضرت علی تو کیا وہ منافق یعنی ولید بن عقبہ بن ابی محی جیسا ہوجائے گا۔ شان نزول : اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا (الخ) واحدی اور ابن عساکر نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ولید بن عقبہ بن معیط نے حضرت علی سے کہا کہ میں آپ سے ہتھیار کے اعتبار سے بھی تیز اور زبان کے اعتبار سے بڑھ کر اور لشکر کے اعتبار سے بھی بڑا ہوں۔ حضرت علی نے اس سے فرمایا خاموش ہوجا تو فاسق ہے اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن عدی اور خطیب نے اپنی تاریخ میں کلبی اور ابو صالح کے واسطے سے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور خطیب…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا۔۔ : ”فِسْقٌ“ کا لفظ ”فَسَقَتِ الثَّمَرَۃُ“ سے نکلا ہے، جب پھل پھٹ کر چھلکے سے نکل جائے، پھر اطاعت سے نکل جانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یہ لفظ نافرمان مومن پر بھی بولا جاتا ہے اور کافر پر بھی، جیسا کہ فرمایا : (وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ) [ النور : 55 ] ”جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“ اس آیت میں فاسق سے مراد کافر و مشرک ہے، کیونکہ مومن کے مقابلے میں آ رہا ہے۔ کفار کے لیے عذاب کی وعید اور مومنوں کے لیے نعمتوں کی نوید کا ذکر آیا تو اس پر کوئی کج بحث کہہ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ آیت افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لایستون یعنی مومن فاسق کی طرح نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے ہم نے ان مومنوں کو ثواب عظیم عطا فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عطار بن یسار نے کہا : یہ آیت حضرت علی شیر خدا اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ دونوں میں گفتگو ہوئی۔ ولید نے آپ سے کہا : میں تم سے اچھی گفتگو کرنے والا، تلوار چلانے میں ماہر اور جسمانی قوت کے اعتبار سے پورے لشکر کا منہ موڑنے والا ہوں۔ اردالکتیبۃ کی جگہ املا فی الکتیبۃ کے الفاظ ہیں، پورے لشکر میں امید کی کرن ہوں ( ستارہ) ۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے اسے منع فرمایا : خاموش…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–20

1۔ ابوالفرج الاصفہانی فی کتاب الاغانی والواحدی وابن عدی وابن مردویہ والخطیب وابن عساکر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن عقبہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے کہا کہ میں تجھ سے زیادہ جنگجو تم سے زیادہ فصیح اور تم سے زیادہ لشکروں کا سہارا ہوں۔ علی ؓ نے اس سے فرمایا خاموش رہو تو فاسق ہے تو یہ آیت آجمن کان مومنا کمن کان فاسقا سو کیا جو مومن ہے وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کافر ہے۔ 2۔ ابن اسحاق وابن جریر نے علی بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں علی بن ابی طالب اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے درمیان اترا ولید اور علی کے درمیان گفتگو ہوئی ولید بن عقبہ نے کہا میں تجھ سے زیادہ فصیح زیادہ جنگجو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَمَنْ كَانَ [تو کیا وہ جو تھا ] مُؤْمِنًا [ایمان لانے والا ] كَمَنْ كَانَ [اس کے مانند ہے جو تھا ] فَاسِقًا ڼ [نافرمانی کرنے والا ] لَا يَسْـتَوٗنَ [یہ لوگ برابر نہیں ہوں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مومن اور فاسق برابر نہیں مومنین صالحین کا اجر و انعام بتانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا) کیا جو شخص مومن ہو وہ فاسق کی طرح ہوسکتا ہے ؟ پھر خود ہی جواب دے دیا (لَا یَسْتَوٗنَ ) (مومنین اور فاسقین برابر نہیں ہوسکتے) اس کے بعد دوبارہ اہل ایمان کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ہی کافروں کے عذاب کا بھی، ارشاد فرمایا (اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰی) (جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے باغ ہوں گے ٹھہرنے کی جگہوں میں) (نُزُلًا بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (یہ بطور مہمانی ان اعمال کا بدلہ ہوں گے جو وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ افمن کان الخ یہ لف و نشر غیر مرتب کے طریق پر تخویف و بشارت کے اجمالی اعادہ ہے جس طرح صفات بالا میں مومن و فاسق برابر نہیں اسی طرح جزاء آخرت میں بھی وہ برابر نہیں ہوں گے مومنین الطاف ربانیہ کے مستحق اور فساق غضب خداوندی کے مورد ٹھہریں گے آگے فریقین کی جزاء تفصیل مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–22

ربط آیات : پہلے اللہ نے مشرکین اور منکرین قیامت کا رڈ فرمایا اور ان کی جزا کا ذکر کیا اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کی تعریف فرمائی کہ جب ان کو اللہ کی آیتیں یا دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ، رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں وہ اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں ، ان کے دل خدا کے عذاب سے خوفزدہ اور وہ اس کی رحمت سے پر امید ہوتے ہیں ، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ خفیہ انعامات : اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ صفات کے حامل مومنین کے لئے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا۝ 0 ۭؔ لَا يَسْـتَوٗنَ۝ 18۬ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : افمن الاستفہام للانکار ای لیس المومن کالکافر، لایستون تاکید لماتضمنہ الاستفہام و الجمع لرعایۃ معنی وھو مفرد لفظا جمع معنی۔ اما الذین الخ ھذا التفصیل تقریر لایستون جنت الماوی ای التی فیھا المساکن والدور والغرف العالیۃ (ابن کثیر) الماویٰ مایاوی الیہ وقیل الماوی اسم للجنۃ۔ تفسیر : مومنوں کے درجاتِ آخرت سن کر ایک خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ اللہ کے مومن و کافر نیک و بد سب بندے برابر ہیں۔ اس کو نہ نیک سے فائدہ نہ بد سے نقصان پھر نیکوں کے لیے یہ کچھ درجات ‘ بدوں کے واسطے یہ مصائب اس کے عدل و انصاف کے خلاف ہے اور کچھ عجیب نہیں کہ کفار بھی اپنی بت پرستی اور دیگر کوششوں پر اپنے تئیں ان نعمتوں کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا ط لاَ یَسْتَوٗنَ ۔ (السجدۃ : 18) (بھلا وہ شخص جو مومن ہے اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو فاسق ہے، دونوں یکساں نہیں ہوسکتے۔ ) مومن اور فاسق کا مفہوم اور ان میں عدم مساوات مومن سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اوصاف اوپر کی آیات میں بیان کیے گئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب اور معبودِواحد مان کر اس قانون کی اطاعت کو زندگی کا رویہ بنا لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتے اور ہر وقت اس کے احکام کے سامنے گردن جھکائے رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں رزق دیتا ہے تو وہ استطاعت کے مطابق اس کے راستے میں خرچ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–20

فہم القرآن ربط کلام : آیت 10 تا 17 میں تابعدار اور نافرمانوں کے کردار اور انجام کا ذکر ہوا ہے اب کھلے الفاظ میں اعلان ہوتا ہے کہ تابعدار اور نافرمان برابر نہیں ہوسکتے۔ اس سے پہلی آیات میں نافرمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے بنا کر اس کو کان، آنکھیں اور دل دیا تاکہ یہ اپنے وجود اور ” اللہ “ کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر اس کا شکر گزار بننے کی کوشش کرے اس کے شکر کی حقیقی صورت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرے اور آخرت میں کامیاب ٹھہرے۔ لیکن نافرمان اور قیامت کے منکر کہتے ہیں کیا ہمیں مرنے کے بعد پھر اٹھایا جائے گا ؟ ایسے لوگوں کے انجام کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کافرو مومن میں فرق : 18: پھر بیان کیا کہ جو نور ایمان وطاعت کے ساتھ ہے وہ اس کے برابر نہیں جو کفروعصیان کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے فرمایا : اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا (تو جو شخص مومن ہوگیا وہ اس شخص جیسا ہوجائے گا جو کافر ہے) فاسقؔ یہاں کافر کے معنی میں ہے کیونکہ دونوں منؔ پر محمول ہیں اور ایمان کا مقابل کفر ہوتا ہے۔ لَا یَسْتَوٗنَ (وہ آپس میں برابر نہیں ہوسکتے) معنوی اعتبار سے اس کی دلیل اگلے ارشاد میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18، افمن کان مئومن کان فاسقا لایستون، اس آیت کا نزول علی بن ابی طالب ولیدبن عقبہ بن ابی معیط یہ حضرت عثمان ؓ کے ماں شریک بھائی تھے، ان کے درمیان کوئی جھگڑاتنازع تھا اور کسی چیز کے بارے میں باتیں ہورہی تھیں ۔ اس پر ولید بن عقبہ نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ آپ چپ ہوجاؤ۔ کیونکہ آپ بچے ہو اور خدا کی قسم میں تجھ سے زیادہ تیززبان اور لشکر ی پہلوان ہوں ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا چب رہ تو اللہ کانا فرمان ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ، لا یستو یان ، نہیں فرمایا کہ ایک مؤمن ایک فاسق کے برابر نہیں ہوسکتا بلکہ تمام مؤمنین تمام فاسقین برابر نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–20

18 تا۔ 20۔ اس آیت شریف میں اللہ تعالیٰ اپنے عدل اور انصارف سے آگاہ فرماتا ہے کہ کیا وہ شخص جو خدا کی آیتوں کی تصدیق اور رسولوں کی فرمانبرداری کرتا ہے قیامت کے روز مانند اس شخص کے ہے جو کہ خدا کا نافرمان ہے ہرگز دونوں برابر نہیں ہوسکتے کیوں کہ جنہوں نے اچھے کام کئے ان کے لیے باغ رہنے کے لیے ہیں جن میں بالا خانے ہیں بہ سبب کہ اس کا بدلہ ہے وہ دنیا میں نیک عمل کرتے تھے اسی طرح جن لوگوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے پھر جب وہ اس آگ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو اسی کے اندر پھر ڈال دئے جاویں گے ‘ اور ان سے کہا جائے گا کہ وہی آگ ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلاتے تھے اس لیے اب اسی اس کا مز چکھو ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–20

آیت نمبر : 20 ۔ 18 اللہ تبارک و تعالیٰ ‘ دو متفاوت اور متباین چیزوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں عقل انسانی کو متنبہ کرتا ہے ‘ جن کے درمیان عدم مساوات متحقق ہے۔ نیز آگاہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان عدم مساوات اس کی حکمت کا تقاضا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (افمن کان مؤمنا) ” کیا وہ جو مومن ہو “ یعنی جس کا قلب نور ایمان سے منور اور اس کے جوارح شریعت کے تابع ہیں ‘ نیز اس کا ایمان اپنے آثار اور ان امور کو ترک کرنے کے موجب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہیں جن کا وجود ایمان کے لیے ضرر رساں ہے۔ (کمن کان فاسقا) ” اس کی مثل ہے جو فاسق ہے “ جس کا قلب غیر آباد اور ایمان سے خالی ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–30

مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 مومن و کافر برابر نہیں ہوسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا مومن اور فاسق برابر ہوسکتے ہیں ؟۔ یعنی ظاہری لحاظ سے اور نفس انسان ہونے کے اعتبار سے اگرچہ سب برابر ہیں مگر مرتبہ و مقام اور مآل و انجام کے اعتبار سے یہ دونوں باہم برابر نہیں ہوسکتے۔ اور دنیا میں ان کا یہ فرق ظاہر ہو نہیں رہا بلکہ یہاں تو الٹا بارہا فاسق انسان مزے اڑاتا نظر آتا ہے اور مومن تکلیف اٹھاتا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ کوئی اور ایسا جہان آنے والا ہے، اور ضرور آنے والا ہے، جہاں ان دونوں کے درمیان عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے اور علی وجہ الکمال والتمام پورے کیے جائیں گے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–22

روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–22

آیات 12 تا 22 اسرارومعارف اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔ اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی قیامت کے روز دونوں کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا۔ ( نیز دیکھئے حاشیہ 21، حشر : 20) اور یہ آخرت کے ثواب و عقاب کی نہایت عمدہ دلیل ہے کیونکہ اگر اس دنیا کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو تو نیک اور بد سب یکساں ہوجائیں اور نیک و بد کا یکساں ہوجانا پروردگار عالم کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت حضرت علی ؓ اور ولید بن عتبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(32:18) مومنا وفاسقا بوجہ خبر کان منصوب ہیں۔ فاسق فسق یفسق (ضرب) وفسق یفسق (نصر) اور فسق یفسق (کرن) فسق و فسوق سے اسم فاعل واحد مذکر ہے (لیکن مؤمنا وفاسقا سے یہاں مراد طبقہ مومنین و طبقہ فاسقین ہے) ۔ فسق فلان کے معنی کسی شخص کے دائرہ شریعت سے نکل جانے کے ہیں۔ یہ فسق الرطب (کھجور پک کر اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی) سے ماخوذ ہے۔ شرعا فسق کا مفہوم کفر سے اعجم ہے کیونکہ فسق کا لفظ چھوٹے اور بڑے ہر قسم کے گناہ کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اگرچہ عرف میں بڑے گناہوں کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے ۔ اور عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام و اقرار کرنے کے بعد تمام یا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–22

لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 22) ۔ لا یستون (وہ برابر نہیں ہیں) ۔ الماوی (ٹھکانا) ۔ نزلا (مہمان داری۔ مہمان نوازی) ۔ اعیدوا (لوٹا دیئے گئے) ۔ نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) ۔ الادنی (چھوٹا۔ گھٹیا) ۔ ذکر (یاد دلایا گیا) ۔ اعرض (اس نے منہ پھیرلیا) ۔ منتقمون (انتقام لینے والے۔ بدلہ لینے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر (18 تا 22) ۔ ” مومن وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات اور دین کی ہر سچائی کو دل سے قبول کر کے عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے۔ اس کے بر خلاف فاسق وہ نافرمان شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے خلاف چلتا ہے۔ جب اس کے سامنے دین کی سچائی اور روشنی آتی ہے تو وہ اس کا انکار کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) شان نزول : ایک روز حضرت علی سے اور ایک شخص مشرک مکہ سے جس کا نام ولید بن عقبہ تھا تکرار ہوگئی۔ ولید نے حضرت علی سے کہا، تم میرے سامنے کے بچے ہو میں تم کو کیا سمجھتا ہوں، حضرت علی نے ولید بن عقبہ کو جواب دیا تو اللہ کا منکر کافر ہے میں تجھ کو کیا سمجھتا ہوں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–21

[19] قریب کے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے۔ [20] مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گناہوں پر متنبہ کرنے کے لئے دنیا میں کم درجے کا عذاب بھیجتا ہے مثلاً بیماریاں، قحط، سیلاب وغیرہ تاکہ وہ اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور آخرت کے بڑے عذاب سے نجات پائیں۔ انبیائ، اولیا اور مومنین پر جو آفات و مصائب آتے ہیں تو وہ ان کے امتحان اور امتحان کے ذریعے رفع درجات کے لئے ہوتے ہیں اور پہچان اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو امراض و آفات کے وقت بھی ایک قسم کا قلبی سکون اور اطمینان میسر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–20

ف 3: یعنی جنت کی جن مسرتوں کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے ۔ وہ ان نامعلوم راحتوں اور روحانی آسائشوں کے مقابلہ میں کوئی حقیت ہی نہیں رکھتیں ۔ جن کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ اور جس کا اس دنیا میں سمجھنا ممکن ہی نہیں ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ وہاں روح کی بالیدگی کا پورا پوراسامان ہوگا ۔ جس کو پاکر دل اور آنکھیں اطمینان اور تسکین محسوس کریں گی ۔ حل لغات :۔ تتجافی ۔ جدا رہتے ہیں جنوبھم ۔ جنب کی جمع ہے ۔ پہلو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

18۔ کیا بھلا وہ شخص جو مومن اور ایمان دار ہے اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو بےحکم اور نافرمان ہے یہ دونوں فریق برابر نہیں ہوسکتے۔ یعنی ایک مومن کامل ہے ایک فاسق یعنی کافر ہے دونوں برابر نہیں ہوسکتے کہتے ہیں ولید نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مقابلے میں کہا تھا کہ میری تلوار اور میری زبان اور تیر ی تلوار اور زبان سے زیادہ تیز ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا تو فاسق ہے میں مومن ہوں تیری میری برابر نہیں ہوسکتی اس پر یہ آیت نازل ہوئی مومن سے مراد حضرت علی ؓ ہیں اور فاسق سے مراد ولید ہے اسی قسم کے تمام افراد کو ملا کر لا یستون فرمایا اور جمع کا استعمال کیا آگے عدم تساوی کی تفصیل بیان فرمائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–21

ف 1۔ جیسے امراض و اسقام و مصائب۔ 2۔ پھر جو نہ باز آوے اس کے لئے عذاب اکبر ہے ہی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا مومن بھی کبھی فاسق کی طرح ہوتا ہے کہ دونوں برابر ہوجائیں ؟ : 18۔ گزشتہ آیت میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا ذکر کیا گیا ہے اور آنکھوں کی ٹھنڈک کن لوگوں کے لئے ہوگی ؟ ظاہر ہے کہ انہی لوگوں کے لئے جو مومن ہیں اور دنیا میں نیک اعمال کرتے رہتے ہیں اور آج ان کے نیک اعمال کی جزا حاصل کرنے کا دن ہے اور یہ بدلہ یقینا ہر نیک عمل اور بدعمل کا ہوگا اس لئے زیر نظر آیت میں وضاحت فرما دی کہ کیا مومن اور فاسق دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ دونوں کے اعمال برابر نہیں ہو سکتے مومن کے اعمال اچھے ہوں گے اور فاسق کے برے ‘ اس لئے دونوں کو ایک جیسی جزا بھی نہیں دی جاسکتی ظاہر ہے کہ فاسق سے اس جگہ مراد وہی لوگ ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–20

Before approaching verse 16: تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا (Their sides remain apart from their beds. They call their Lord with fear and hope - 16), it should be borne in mind that disbelievers, Mushriks and the deniers of the day of Qiyamah were warned in the verses previous to it. After that, starting from: اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا ! (Only those people believe in Our verses - 15) mentioned there are special attributes of sincere believers and the high ranks reserved for them. Pointed to in the cited verse is one such attribute of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30 Here mu min (believer) and Fasiq (sinner) have been used as two contrasting terms. Mu 'min is he who believes in Allah as his Lord and the One and only Deity and adopts obedience of the Law which AIlah has sent down through His Prophets. Contrary to this, Fasiq is he who adopts the attitude of fisq (disobedience, rebellion, independence and obedience to others than Allah). 31 That is, "They can neither have the same way of thinking and life in the world nor can they be treated alike by God in the Hereafter."

Read the full tafseer →