Explained with ayahs 18–22
نیک وبد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے
اللہ تعالیٰ کے عدل وکرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکاربرابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21) 45۔ الجاثية :21) یعنی کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کردیں گے ؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة السَّجْدَة 32
یعنی وہ جنتیں ان کی سیر گاہیں نہیں ہوں گی بلکہ وہی ان کی قیام گاہیں بھی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
(آیت) تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفاً وطمعاً ، سابقہ آیات میں کفار و مشرکین و منکرین قیامت کو تنبہات تھیں۔ اس کے بعد (انما یومن بایتنا) سے مومنین مخلصین کی خاص صفات اور ان کے لئے درجات عظیمہ کا ذکر ہے۔ ان مومنین کی ایک صفت آیت مذکورہ میں یہ بتلائی گئی ہے کہ ان کے پہلو اپنے بستروں سے الگ ہوجاتے ہیں، اور بستروں سے اٹھ کر اللہ کے ذکر اور دعا میں مشغول ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اللہ کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہیں، اور اس کی رحمت اور ثواب کے امیدوار رہتے ہیں۔ یہی امید وبیم کی ملی جلی حالت ان کو ذکر و دعاء کیلئے مضطرب رکھتی ہے۔
نماز تہجد
بستروں سے اٹھ کر دعاء میں مشغول ہوجانے سے مراد جمہور…
Read the full tafseer →واما الذین امنوا وعملوا الصلحت فلھم جنت الماوی نذلا بما کانو یعلمون (19)
یہ اس جزا اور سزا کی تفصیل بیان فرمائی کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کری گے ان کے لئے راحت کے باغ ہوں گے جو ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں اولین سامان میزبانی کی حیثیت سے ملیں گے۔ نزل اس سامانِ ضیافت کو کہتے ہیں جو مہمان کے سامنے اس کے مرکب سے اترتے ہی پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ جنات الماوی ‘ سے مراد وہ جنتیں ہیں جن میں یہ اہل ایمان اول اول اتارے جائیں گے۔ وہاں ان کی ابتدائی ضیافت ہوگی اور پھر وہ اصل جنت میں بھیجے جائیں گے۔ گویا ان باغوں کی حیثیت اہل جنت کے لئے (Rest House) کی ہوگی اور اس کے جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18-1یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ کے ہاں مومن اور کافر برابر نہیں ہیں بلکہ ان کے درمیان بڑا فرق و تفاوت ہوگا مومن اللہ کے مہمان ہوں گے۔ اور اعزازو کرام کے مستحق اور فاسق و کافر تعزیر و عقوبت کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم کی آگ میں جھلسیں گے۔ اس مضمون کو دوسرے مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ) 45۔ الجاثیہ :21) (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
9: یعنی خزانہ غیب میں ایسے نیک لوگوں کے لیے جو نعمتیں چھپی ہوئی ہیں وہ انسان کے تصور سے بھی بلند ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے…
Read the full tafseer →6 یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے عمل جنت کی مہمانی کا سبب بن جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
آیت 19 اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰی ز
لغوی اعتبار سے نُزُلکا تعلق نازل ہونے یا اترنے سے ہے۔ جو کوئی مہمان آپ کے دروازے پر آیا اور اپنی سواری سے اترا وہ نَزِیل ہے اور آپ نے موسم اور رواج کے مطابق فوری طور پر جو کچھ اس کو پیش کیا وہ نُزُل ابتدائی مہمان نوازی ہے۔ جبکہ باقاعدہ مہمان نوازی کے لیے لفظ ضیافت استعمال ہوتا ہے جو نُزُل کے بعد کا مرحلہ ہے۔ ضیافت کا لفظ ضیف مہمان سے بنا ہے۔ یعنی جب آپ اپنے مہمان کے لیے باقاعدہ قیام کا بندوبست کریں گے اور اس کے آرام و طعام کا اہتمام کریں گے ‘ تب وہ ضیف کے درجے میں آئے گا۔ اس مرحلے میں آپ اس کی مہمان نوازی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
22 برے عذاب سے مراد قیامت کے دن جہنم کا عذاب ہے اور عذاب الادبی سے مراد دنیا میں پہنچنے والے مصائب ہیں۔ جو انفرادی طور پر بھی ہر انسان کو دیکھنا پڑے ہیں۔ مثلاً بیماریاں، مالی نقصان، عزیز و اقرباء کی موت یا کئی دوسرے حادثے اور اجتماعی زندگی کے مصائب الگ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مثلاً قحط، زلزلے، وبا، فسادات اور لڑائیاں جن سے بیک وقت ہزاروں انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ہلکے ہلکے عذاب ہیں نہیں بلکہ تنبیہات بھی ہیں کہ وہ بروقت سنبھل جائیں اور انھیں معلوم ہوجائے کہ ان سے بالاتر کوئی ہستی موجود ہے جو ان کی بداعمالیوں پر ان پر گرفت کرسکتی ہے۔ اور اس سے انھیں اپنا عقیدہ اور عمل درست کرنے میں…
Read the full tafseer →25۔ حسن اعمال کی ترغیب وتشویق ابھی (آیت) ” جزآء بما کانوا یعملون “۔ سے ہوچکی ہے۔ اب (آیت) ” نزلا لا کر اہل جنت کا مزید اعزاز واکرام کیا گیا ہے۔ یعنی اشارہ اوپر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ تو حق تعالیٰ کے مہمان ہوں گے۔ اور انہیں نعمتیں جو بھی ملیں گی، اعزاز واکرام وقدر کے ساتھ ملیں گی، نہ کہ ناقدری وبے وقعتی کے ساتھ جیسے کہ سائل و محتاج کو دی جاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیت نمبر 12 تا 22
ترجمہ : اور اگر آپ دیکھیں جبکہ گنہگار لوگ یعنی کافر اہنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے یعنی ندامت کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو دیکھ لیا جس کے ہم منکر تھے، اور تیری جانب سے رسولوں کی ان باتوں کی تصدیق سن لی جن باتوں میں ہم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے اب تو ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دے ہم دنیا میں جاکر نیک اعمال کریں گے اب ہم کو یقین آگیا ان کو ان کا (یہ اقرار ویقین) کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ان کو دنیا میں واپس لوٹا یا جائے گا، اور لو کا جواب لَرَأیْتَ اَمْرًا فظیعًامحذوف ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو ہدایت نصیب فرمادیتے تو وہ ایمان…
Read the full tafseer →اما الذین امنوا وعملوا الصلحت فلھم جنت الماوی نزلاً بما کانوا یعملون جو لوگ ایمان
لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے سو ان کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانہ جنتیں ہیں جو ان کے اعمال کے بدلہ میں بطور ان کی مہمان کے ہیں۔
Read the full tafseer →اب پھر اللہ تعالیٰ ان دونوں جماعتوں کا مرنے کے بعد کیا ٹھکانا ہوگا اس کو یوں بیان فرما رہا ہے کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ان کے دنیاوی نیک اعمال کے صلہ میں ان کو آخرت میں ٹھہرے اور قیام کرنے کے لیے جنتیں ملیں گی۔
Read the full tafseer →اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰي : ”الماوی“ ”أَوٰی یَأْوِيْ“ (ض) (جگہ پکڑنا، پناہ لینا، رہنا) سے ظرف یا مصدر میمی ہے، رہنے کی جگہ یا رہائش۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے صالح عمل کیے ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، دنیا کی طرح نہیں جو دار زوال ہے اور نہ ہی جہنم کی طرح جو جائے فرار ہے۔
نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : ”نُزُلًۢا“ مہمان کی آمد پر اس کی خاطر تواضع کے لیے جو کچھ پیش کیا جائے۔ جب مہمانی کا یہ عالم ہے تو مزید عنایتوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کا کچھ اندازہ اس سے پہلی آیت : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آخرت میں دونوں فریقوں کا جو ٹھکانا ہوگا اس کے بارے میں خبر دی مومنین کے لیے جنات الماوی ہے وہ جنتوں کو ٹھکانہ بنائیں گے۔ جنات کو ماوی کی طرف مضاف کیا کیونکہ جگہ جگہ جنات کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ نزلا کا معنی ضیافت ہے۔ نزل اسے کہتے ہیں جو آنے والے اور مہمان کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ سورة آل عمران کے آخر میں یہ بحث گزرچکی ہے یہ جنات سے حال کے طور پر منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی لھم الجنات معدۃ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مفعول لہ ہو۔ جو ایمان سے کفر کی طرف نکلے ان کا مقام جہنم میں ہوگا۔ جب آگ کا شعلہ انہیں بلندی کی طرف لے جائے گا تو انہیں پھر جہنم میں ان کی جگہ کی طرف لوٹادیا جائے گا کیونکہ وہ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
1۔ ابوالفرج الاصفہانی فی کتاب الاغانی والواحدی وابن عدی وابن مردویہ والخطیب وابن عساکر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن عقبہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے کہا کہ میں تجھ سے زیادہ جنگجو تم سے زیادہ فصیح اور تم سے زیادہ لشکروں کا سہارا ہوں۔ علی ؓ نے اس سے فرمایا خاموش رہو تو فاسق ہے تو یہ آیت آجمن کان مومنا کمن کان فاسقا سو کیا جو مومن ہے وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کافر ہے۔
2۔ ابن اسحاق وابن جریر نے علی بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں علی بن ابی طالب اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے درمیان اترا ولید اور علی کے درمیان گفتگو ہوئی ولید بن عقبہ نے کہا میں تجھ سے زیادہ فصیح زیادہ جنگجو…
Read the full tafseer →اَمَّا الَّذِيْنَ [وہ جو لوگ ہیں جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [نیکیوں کے ] فَلَهُمْ [تو ان کے لئے ] جَنّٰتُ الْمَاْوٰي ۡ [بسنے کے باغات ہیں ] نُزُلًۢا [مہمان نوازی ہوتے ہوئے ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [یہ لوگ عمل کیا کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ) (اور ہم انہیں ضرور ضرور بڑے عذاب سے پہلے قریب والا عذاب چکھا دیں گے تاکہ وہ باز آجائیں) بڑے عذاب سے مراد آخرت کا عذاب اور قریب والے عذاب سے دنیا کا عذاب مراد ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اس کی تفسیر میں دو باتیں منقول ہیں، اول یہ کہ اہل مکہ کو جو چند سال قحط میں مبتلا کیا اس سے وہ عذاب مراد ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مشرکین مکہ کا غزوہ بدر میں مقتول ہونا اور شکست کھانا مراد ہے۔ اگر (وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ ) کی ضمیر منصوب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہو تو یہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال
قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ…
Read the full tafseer →17:۔ اما الذین امنوا الخ۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ یہ فریقین کے مراتب اخرویہ کی تفصیل ہے نسخ میں مراتب الفریقین بعد نفی استوائہما (روح ج 21 ص 133) ۔ مومنین کاملین دنیا کے آرام و آسائش کو عبادت الٰہی پر قربانی کرتے ہیں اس لیے اس کے بدلے اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں جنت الماوی عطا فرمائے گا جس میں ہر قسم کی راحت اور آسائش میسر ہوگی اور وہ اس میں معزز مہمانوں کی طرح رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ربط آیات :
پہلے اللہ نے مشرکین اور منکرین قیامت کا رڈ فرمایا اور ان کی جزا کا ذکر کیا اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کی تعریف فرمائی کہ جب ان کو اللہ
کی آیتیں یا دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ، رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں وہ اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں ، ان کے دل خدا کے عذاب سے خوفزدہ اور وہ اس کی رحمت سے پر امید ہوتے ہیں ، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔
خفیہ انعامات :
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ صفات کے حامل مومنین کے لئے…
Read the full tafseer →اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰي 0 ۡنُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 19
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
واما الذین فسقوا اور وہ جو فاسق ہوگئے یعنی خدا کے حکم سے نافرمان ہوگئے۔ یہ عام ہے کفر و معصیت دونوں فسق ہیں۔ فماوھم النار ان کا ٹھکانا آگ ہے۔ دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ ان کا گھر ہے۔ یہ دنیا کے عمدہ محل اور نفیس باغ تو چند روز کے لیے ہیں۔ دنیا میں شہوت کی آگ میں مبتلا تھے، وہی آتش شہوت نار جہنم پہنچادے گی۔ کلما ارادوا ان یخرجوا منہا اعیدوا فیہا جب وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو پھر وہیں دھکے دے کر پہنچا دیے جائیں گی، یعنی نکلنے نہ پاویں گے کس لیے کہ وہ دنیا میں اس آگ سے نہ نکلے تھے۔ وقیل لھم الخ اور ان سے کہہ دیا جاوے گا کہ آج اس آتش کے عذاب کا مزہ چکھو کہ جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے۔ جب…
Read the full tafseer →اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰی ز نُزُلاً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (السجدۃ : 19)
(جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے باغ ہیں رہنے کے، مہمانی ان کاموں کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے۔ )
نُزُلٌ… اس ضیافت اور مہمانی کو کہتے ہیں جو مہمان کو سب سے پہلے ہلکی پھلکی پیش کی جاتی ہے جبکہ اصل کھانا اور دیگر لوازمات ابھی پیش کرنا باقی ہوتے ہیں۔
صاحبِ ایمان و عمل کی جزاء
اس سے پہلے ارشاد فرمایا کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہیں۔ دنیا میں بعض دفعہ دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اور آرام و راحت اور دولت و ثروت کے لحاظ سے بعض دفعہ فاسق مومن سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : آیت 10 تا 17 میں تابعدار اور نافرمانوں کے کردار اور انجام کا ذکر ہوا ہے اب کھلے الفاظ میں اعلان ہوتا ہے کہ تابعدار اور نافرمان برابر نہیں ہوسکتے۔
اس سے پہلی آیات میں نافرمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے بنا کر اس کو کان، آنکھیں اور دل دیا تاکہ یہ اپنے وجود اور ” اللہ “ کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر اس کا شکر گزار بننے کی کوشش کرے اس کے شکر کی حقیقی صورت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرے اور آخرت میں کامیاب ٹھہرے۔ لیکن نافرمان اور قیامت کے منکر کہتے ہیں کیا ہمیں مرنے کے بعد پھر اٹھایا جائے گا ؟ ایسے لوگوں کے انجام کا…
Read the full tafseer →مومن کا بدلہ :
19: اَمَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ جَنّٰتُ (جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے پس ان کے لئے ہمیشہ کاٹھکانہ) الْمَاْوٰی (جنتیں ہیں) جنت الماویؔ یہ جنت کی ایک قسم ہے جہاں ارواح شہداء قیام پذیرہوتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے۔ یہ عرش کی دائیں جانب ہے۔ نُزُلًا بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (ان کے اعمال کے بدلہ میں بطور مہمانی) یہ عطیہ ان کے اعمال کے بدلہ میں ہوگا۔ النزلؔ اول تو یہ مہمان کو پیش کیا جانے والا عطیہ تھا پھر اس کا استعمال عام عطیہ کیلئے ہونے لگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19، اماالذین امنواوعملوالصالحات فلھم جنات الماوی ، جس کی طر مؤمنین ٹھکانا حاصل کرتے ہیں ۔ ، نزلا بماکانو ایعملون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
18 تا۔ 20۔ اس آیت شریف میں اللہ تعالیٰ اپنے عدل اور انصارف سے آگاہ فرماتا ہے کہ کیا وہ شخص جو خدا کی آیتوں کی تصدیق اور رسولوں کی فرمانبرداری کرتا ہے قیامت کے روز مانند اس شخص کے ہے جو کہ خدا کا نافرمان ہے ہرگز دونوں برابر نہیں ہوسکتے کیوں کہ جنہوں نے اچھے کام کئے ان کے لیے باغ رہنے کے لیے ہیں جن میں بالا خانے ہیں بہ سبب کہ اس کا بدلہ ہے وہ دنیا میں نیک عمل کرتے تھے اسی طرح جن لوگوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے پھر جب وہ اس آگ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو اسی کے اندر پھر ڈال دئے جاویں گے ‘ اور ان سے کہا جائے گا کہ وہی آگ ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلاتے تھے اس لیے اب اسی اس کا مز چکھو ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر : 20 ۔ 18
اللہ تبارک و تعالیٰ ‘ دو متفاوت اور متباین چیزوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں عقل انسانی کو متنبہ کرتا ہے ‘ جن کے درمیان عدم مساوات متحقق ہے۔ نیز آگاہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان عدم مساوات اس کی حکمت کا تقاضا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (افمن کان مؤمنا) ” کیا وہ جو مومن ہو “ یعنی جس کا قلب نور ایمان سے منور اور اس کے جوارح شریعت کے تابع ہیں ‘ نیز اس کا ایمان اپنے آثار اور ان امور کو ترک کرنے کے موجب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہیں جن کا وجود ایمان کے لیے ضرر رساں ہے۔ (کمن کان فاسقا) ” اس کی مثل ہے جو فاسق ہے “ جس کا قلب غیر آباد اور ایمان سے خالی ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا
قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
30 ذریعہء نجات صرف ایمان اور عمل صالح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے انہی کے لیے ہیں جنت کی وہ سدا بہار نعمتیں اور وہاں کی ابدی بادشاہی "۔ وہی بات جو پہلے بھی بارہا گزری کہ نجات ایمان اور عمل صالح پر موقوف ہے اور عمل صالح وہ معتبر ہے جو قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق ہو اور جو ایمان پر مرتب ہو۔ اور ایمان وہ ہو جس کی تصدیق عمل صالح سے ہو۔ سو باعث نجات صرف ایمان و عمل ہے۔ محض زبانی کلامی دعو وں یا گروہی اور نسلی تفاخر وغیرہ سے کچھ نہیں بنتا۔ پس جو لوگ شخصی یا نسلی اور گروہی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ایمان وعمل کی اس راہ سے پہلو تہی کرتے اور غفلت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر
تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
آیات 12 تا 22
اسرارومعارف
اور اے مخاطب مجرموں کو اللہ کی پیشی میں دیکھے یعنی ضرور دیکھے گا کہ ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ فریاد کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے حقیقت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا اب مہربانی فرما کر ہمیں پھر سے دنیا میں واپس کر دے کہ اب جاکر ہم نیک اعمال کرسکیں۔
اب ہمیں ان تمام باتوں پر اعتبار آگیا ہے اگر اللہ چاہتے تو سب انسانوں کو ہی راہ راست دکھا دیتے اور سب درست راستے پر چلتے مگر اللہ نے اس کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا اور اللہ کی بات سچی ہوگئی کہ جنوں اور انسانوں میں ان کی اپنی پسند سے اس قدر لوگ بےراہ ہوں گے کہ اللہ ان سے جہنم کو بھر…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کے اچھے کام آخرت میں اس مہمانی کا سبب بن جائیں گے۔
Read the full tafseer →(32:19) اما۔ لیکن ، سو۔ یہاں بطور حرف شرط آیا ہے اس صورت میں اما الذین امنوا وعملوا الصلحت شرط۔ اور فہم جنت الماوی جواب شرط ہے۔ اس کی مثال ہے فاما الذین امنوا فیعلمون انہ الحق من ربہم (2:26) اما کے حرف شرط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے۔
جنت الماوی۔ مضاف مضاف الیہ۔ جنت جمع جنۃ کی۔ الماوی اسم ظرف۔ مقام سکونت۔ ٹھکانا۔ ال تعریف کا ہے۔ لانھا المسکن الحقیقی کیونکہ حقیقی ٹھکانہ وہی ہے بعض کے نزدیک جنت عدن کی طرح مخصوص نام ہے۔ واحد کے صیغہ کے ساتھ بھی آیا ہے مثلاً عندھا جنۃ الماوی (53:15) اس کے پاس رہنے کی بہشت ہے۔ یا فلان الجنۃ ہی الماوی (79: 41) اس کا ٹھکانا بہشت ہے۔
لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 22) ۔
لا یستون (وہ برابر نہیں ہیں) ۔ الماوی (ٹھکانا) ۔ نزلا (مہمان داری۔ مہمان نوازی) ۔ اعیدوا (لوٹا دیئے گئے) ۔ نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) ۔ الادنی (چھوٹا۔ گھٹیا) ۔ ذکر (یاد دلایا گیا) ۔ اعرض (اس نے منہ پھیرلیا) ۔ منتقمون (انتقام لینے والے۔ بدلہ لینے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (18 تا 22) ۔ ” مومن وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات اور دین کی ہر سچائی کو دل سے قبول کر کے عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے۔ اس کے بر خلاف فاسق وہ نافرمان شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے خلاف چلتا ہے۔ جب اس کے سامنے دین کی سچائی اور روشنی آتی ہے تو وہ اس کا انکار کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
( ٖف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کافروں کے لیے دنیا میں دکھ ، بیماری تنگی ، قحط سالی یہ طرح طرح کے عذاب ہیں تاکہ وہ اپنے کفر سے باز آویں ۔ اس پر بھی جو لوگ اپنے کفر سے باز نہ آئیں گے اور کفر کی حالت میں مرجائیں گے توعقبی میں ان کو طرح طرح کا عذاب ہے جس عذاب سے نہ ان کو موت ہے نہ کہیں بھاگنے کا موقع ہے، کس لیے کہ ان مجرموں کو اللہ کے کلام سے نصیحت کی باتیں سناتے ہیں تو یہ لوگ مکڑائیاں کرتے ہیں، مرنے کے بعد ان کی مکڑائیوں کا بدلہ ان کو اچھی طرح مل جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[19] قریب کے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے۔
[20] مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گناہوں پر متنبہ کرنے کے لئے دنیا میں کم درجے کا عذاب بھیجتا ہے مثلاً بیماریاں، قحط، سیلاب وغیرہ تاکہ وہ اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور آخرت کے بڑے عذاب سے نجات پائیں۔ انبیائ، اولیا اور مومنین پر جو آفات و مصائب آتے ہیں تو وہ ان کے امتحان اور امتحان کے ذریعے رفع درجات کے لئے ہوتے ہیں اور پہچان اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو امراض و آفات کے وقت بھی ایک قسم کا قلبی سکون اور اطمینان میسر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ف 3: یعنی جنت کی جن مسرتوں کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے ۔ وہ ان نامعلوم راحتوں اور روحانی آسائشوں کے مقابلہ میں کوئی حقیت ہی نہیں رکھتیں ۔ جن کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ اور جس کا اس دنیا میں سمجھنا ممکن ہی نہیں ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ وہاں روح کی بالیدگی کا پورا پوراسامان ہوگا ۔ جس کو پاکر دل اور آنکھیں اطمینان اور تسکین محسوس کریں گی ۔
حل لغات :۔ تتجافی ۔ جدا رہتے ہیں جنوبھم ۔ جنب کی جمع ہے ۔ پہلو ۔
Read the full tafseer →19۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کا ٹھکانہ باغ ہیں یہ باغ ان کے ان اعمال نیک کے بدلے میں بطورمہمانی کے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی ایمان والوں کو جو نیک اعمال کے پابند رہے ان کو باغوں میں ٹھکانہ دیا جائے گا وہ باغ بطور مہمانی کے ہوں گے جو ان کو ان اعمال کے بدلے میں عطا ہوں گے جو وہ کیا کرتے تھے ان کی مہمانی ان باغوں میں یعنی جنتوں میں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ف 1۔ جیسے امراض و اسقام و مصائب۔
2۔ پھر جو نہ باز آوے اس کے لئے عذاب اکبر ہے ہی۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کے اعمال کا بدلہ جنت ہے جہاں ان کی خوب مہمانی ہوگی :
19۔ غور کرو کہ دعوت کرنے والے دعوت کرتے رہتے ہیں اور جن کی دعوت کی جائے وہ دعوت کو قبول کرتے رہتے ہیں لیکن ہر دعوت کرنے والا وقتی طور پر دعوت پر مدعو کرتا ہے اور دعوت کھلا کر رخصت کردیتا ہے لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی دعوت کا منظر بڑا عجیب ہے جو اس جگہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی مہمانی کرے گا تو وہ ان کو جنت میں دعوت دے گا اور مہمانوں کی طرح ان کی ضیافت کا خوب انتظام ہوگا ، ضیافت کا انتظام بلاشبہ ضیافت کرنے والے کے اپنے معیار پر منحصر ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے کون بڑا ہے جس کی ضیافت کا انتظام بڑا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
Before approaching verse 16: تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا (Their sides remain apart from their beds. They call their Lord with fear and hope - 16), it should be borne in mind that disbelievers, Mushriks and the deniers of the day of Qiyamah were warned in the verses previous to it. After that, starting from: اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا ! (Only those people believe in Our verses - 15) mentioned there are special attributes of sincere believers and the high ranks reserved for them. Pointed to in the cited verse is one such attribute of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
32 That is, "The Gardens will not merely be a means of entertainment for them, but the same will be their dwelling-places in which they will live for ever. "
Read the full tafseer →